ؑ*حاج مھدی رسولی تسبیحات حضرت زہراء |Milad e Hazrat Ali Ibne Abi Talib as |
11/01/2023
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻
💐شخصیت_میں_تبدیلی
🌼اللہ تعالیٰ نے اس اشرف المخلوقات کی صفت سے متصف مخلوق حضرت انسان کو کمال پذیر خلق فرمایا ہے.
👈 یعنی ہر لمحہ اس کی خام روح کی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے۔
✍اللہ نے مختلف قوتیں عطا کی ہیں جو اس انسان کو ضلالت و گمراہی کی عمیق وتاریک وادیوں سے نور و ہدایت کی مدد سے رشد و کمال کی بلندیوں تک لے جاتی ہیں.
✍فطرتاً ہر لمحہ انسان کی شخصیت میں تبدیلی واقع ہورہی ہوتی ہے
🌸اسکول، کالج، دوست و احباب، گھر، پڑوسی اور میڈیا ہر لمحہ انسان کی شخصیت کی تعمیر و تخریب میں کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔
👈یعنی شخصیت میں تبدیلی ممکن ہے۔
▪ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ محرک کتنا مضبوط ہےکہ جس کی بنیاد پر تبدیلی ہوی ہے۔
👈 اگر تبدیلی کا محرک مضبوط و قوی ہے تو تبدیلی کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح خود قوت ارادہ بھی شخصیت میں تبدیلی کے لیے بنیادی اور کلیدی عنصر کا کردار ادا کرتی ہے
♦مضبوط قوت ارادہ انسان کو کچھ بھی کرنے کی قوت عطا کرتی ہے وہ عامل جو کہ تبدیلی کا محرک ہے اس کی مضبوطی اور قوت ارادہ کا مستحکم ہونا تبدیلی کے لیے بنیادی شرط ثابت ہوسکتا ہے
♦اکثر اوقات دوسرے کو تبدیل ہونے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے حالانکہ اپنے اندر تبدیلی کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں.
♣ اور اگر اپنی شخصیت میں تغیر پیدا کرکے مضبوط کرلیا جائے تو یہ سامنے والے کی شخصیت میں تبدیلی کے لیے مضبوط محرک ثابت ہوسکتا ہے
✍اس لیے خود شناسی کے بعد خود سازی کی بدولت ہر تعلق میں لذت اور مضبوطی کو لمس کیا جاسکتا ہے.
♦اپنی شخصیت کی تعمیر کی بدولت جذابیت کو پیدا کیا جاسکتا ہے اور جتنی شخصیت میں جذابیت ہوگی سامنے والے کی شخصیت میں تبدیلی کے لیے طاقتور محرک کا کردار ادا کرسکتی ہے
♦کبھی بھی نا امید نہیں ہونا چاہیے بلکہ مسلسل محنت اور لگن سے کام کرنا کامیابی کی منزلوں تک رسائی کا باعث بن جاتا ہے.
🌼اللہ کی مدد و نصرت کا طالب رہنا چاہیے خود کو اصلاح و تربیت کے مراحل سے گزارنا چاہیے
♦پھر امر بالمعروف و نہی از منکر کی شرائط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عمل کرنا چاہیے یقیناً اللہ بہت رحیم ہے اور اپنی رحمت واسعہ سے ہر چیز کو تبدیل کرسکتا ہے.
♦فوراً نتائج کا متمنی ہونا بعض اوقات ہدف و منزل سے دوری کا باعث بنتا ہے اس لیے
♦مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرنا
♦ شریک حیات کی مدد کرنا
♦تبدیلی پر اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور
♦ خصوصی توجہ سے بھی تبدیلی کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے
✍بلاوجہ تنقید انسان کو ڈھیٹ اور لاپروا بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے کسی بھی مثبت یا منفی تبدیلی کے لیے گھر کا ماحول بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے،
👈وہ عوامل جو شخصیت میں تبدیلی کے لیے اہم عنصر کا کردار ادا کرسکتے ہیں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے.
💐شادی_سےپہلےدیدار
اسلام ایک زندہ اور متحرک دین ہے اسی لیے عورت اور مرد کو اجازت دیتا ہے کہ
❤شادی سے پہلے ہر فرد نزدیک سے ایک دوسرے کا چہرہ،قد اور ظاہری خصوصیات کا مشاہدہ کر سکتا ہے .
👈یعنی انتخاب ہمسر کے مرحلے میں اسلام نے مرد کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی ہونے والی بیوی کے چہرے کی خوبصورتی اور جسم کے بعض حصے صاف اور واضح طور پر دیکھ سکتا ہے.
✍ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ ان مراحل کی شرط یہ ہے کہ
👈مرد شادی کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کا مقصد بررسی اور تحقیق ہو،
👈نہ کہ اس کا مقصد لذت حاصل کرنا ہو.
🌷 اسی لیے بعض روایات میں ہے کہ
محمد بن مسلم نے امام محمد باقر (ع) سے سوال کیا کہ:
🌻 آیا ایک مرد جو کہ چاہتا ہے کہ کسی عورت سے شادی کرے تو کیا وہ اس کے بالوں اور اس کی خوبصورتی کو دیکھ سکتا ہے؟⁉
امام صادق (ع) نے فرمایا :اگر اس کام میں اس کا مقصد لذت حاصل کرنا نہیں ہے تو کوئی حرج نہیں ہے
تحریر گمنام سپاہی
11/01/2023
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 🌻
💐شخصیت_کی_اقسام
✍✍ اس کائنات میں یہ ناممکن امور میں سے ہے کہ آپ کو بالکل آپ جیسا شریک حیات مل جائے جس کی سوچ ،فکر ، نظریات اور عقائد آپ کے ساتھ سو فیصد مطابقت رکھتے ہوں،
👈اس لیے ہمیں اوصاف کے حوالے سے اپنے سے قریب تر افراد میں سے ایک اہل اور باصفا فرد کا انتخاب کرنا ہو گا
♦خود ہر انسان کے طرز تفکر اور شخصیت میں تبدیلی وتغییر کا عمل جاری ہے،
▪جب ایک انسان کی عمر ۱۵ سال ہوتی ہے ایک شخصیت کا مالک ہوتا ہے اور جب اسکی عمر ۲۰ سال ہوتی ہے تو شخصیت میں فرق آجاتا ہے،
▪نظریات اور افکار میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔
👈جب خود انسان ہر لمحہ ایک جیسا نہیں رہتا تو کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا فرد جس کی جنس،خاندان، تربیت اور پرورش مختلف ہو آپ جیسا ثابت ہو جائے
✅اس لیے ضروری ہے کہ ازدواج کے لیے اپنی شخصیت کا اندازہ کرنے کے بعد قریب ترین شخصیت کا انتخاب کریں اور پھر زندگی کی دشوار گزار راہوں کو عبور کرتے ہوئے ایک دوسرے کی تربیت کریں
❤شادی کا ایک بڑا مقصد بھی اپنی تربیت کرتے ہوئے کمال کی طرف جانا ہے،
👈اسی لیے فطرت انسانی سے ہم آہنگ دین اسلام نے شادی کے لیے جوانی کو ترجیح دی ہے
✍کیونکہ جوانی میں تبدیل ہونے کے مواقع اور ہمت زیادہ پائی جاتی ہے اور میاں بیوی ایک دوسرے کے اور معاشرے کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی قوت اور توانائی سے استفادہ کرتے ہوئے ڈھل جاتے ہیں،
🌹جب دونوں میں عشق و محبت پیدا ہوجاتی ہے تو پھر فکر بھی ایک ہوجاتی ہے،سوچنے اور عمل کا انداز ایک ہوجاتا ہے پھر ایک دوسرے کی خوشنودی کے حصول کے لیے جی اور مر رہے ہوتے ہیں
✍اگر آئمہ ؑ کی سیرت حسنہ کا مطالعہ کیا جائے تویہی چیز سامنے آتی ہے کہ ہر ایک خود کو مضبوط کر لے تو معاشرہ خوبصورت بن جاتا ہے پھر دوسرے پر تنقید کرنے کی نوبت نہیں آتی، ہر ایک اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے
👇👇غرضیکہ شادی کے لیےاپنی شخصیت کی قریب تر شخصیت کا انتخاب کرنا چاہیے
◼اور پھر ایک دوسرے کی شخصیت کی تعمیر کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کی معاونت کے درپے رہنا چاہیے
تحریر ۔ گمنام سپاہی
ازدواجی زندگی خوشگوار بنانے کیلئے جوائن کریں
11/01/2023
🌻بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌻
🌺🌸شخصیت کی اقسام👇
✍علیم وحکیم خالق نے اس کائنات میں ہر مخلوق کو ایک خاص حکمت اور ضرورت کے تحت خلق فرمایا ہے،اور مخلوقات کے درمیان اختلاف اس کی حکمت کا تقاضہ ہے،ایک ہی گھر میں ،ایک ہی والدین سے حتیٰ کہ جڑواں بچے بھی ایک دوسرے سے بہت زیادہ اختلاف رکھتے ہیں،ہر انسان کی انگلیوں کے نشانات دوسرے انسان سے مختلف ہیں ،یہ اس خالق حقیقی کے احسن الخالقین ہونے کی ایک نشانی ہے۔
♦اسلام مہر و محبت سے پیش آنےوالے افراد کی قدر دانی کرتا ہے اور
♦ ہمیشہ وہی لوگ کامیابی سے ہمکنارہوتے ہوئے نظر آتے ہیں جو جذبہ ایثار و قربانی سے سرشار ہوتے ہیں،اپنے لیے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے زندگی گزارنا اسلام کی نگاہ میں اہمیت کا حامل نہیں ہے۔
♦تن آسانی اور محنت مشقت سے بھاگنا دراصل انسانی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو زنگ آلود کردینے کا باعث بنتا ہے۔
❤ شادی جیسے اہم معاملہ میں حفاظتی تدابیر کا حکم ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے خوب تحقیق کرلو کہ یہ شخصیت میرے لیے قابلِ قبول ہے یا نہیں ہے
💞شادی کے بعد اسلام کے پاکیزہ اصولوں اور تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ جس حد تک ہوسکے برداشت کرنے کی سعی و کوشش کی جائے۔ اور آخرت میں خدائے غفور و رحیم سے اجر عظیم کی امید رکھتے ہوئے قربانی وایثار کواپنا شیوہ بنا کر مشکلات جھیلنے کی حتیٰ المقدور سعی کرنی چاہیے۔
♦ثقافت، عادات، اخلاق اور تربیتی ماحول کے بارے میں شادی سے پہلے تحقیق و جستجو کرنی چاہیے اور انتہائی سوچ و بچار سے کام لیتے ہوئے عاقلانہ فیصلہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
💞 شریک حیات کے انتخاب کے لیے بہت زیادہ دقت اور تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کسی کو اپنا ہم دم ، ہمراز اوراپنے اندر موجود خامیوں کو دور کرنے والا متعین کرنا چاہتے ہیں۔اس کے لیے
♦اولاً ناگزیر ہے کہ ہم اپنے بارے میں کافی معلومات رکھتے ہوں۔ صلاحیتوں اور قابلیتوں کے اعتبار سے مجھے اپنے آپ کو پرکھنا ہے کہ میں زندگی میں کیا کرسکتا ہوں اور میرے رجحانات کیا ہیں
♦اسی کے مطابق مجھے اپنے شریک حیات کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ ہمارے سوچنے اور عمل کرنے کا انداز ایک ہو۔ اس کے علاوہ مختلف قسم کی شخصیات معاشرے میں موجود ہیں آپ کو یہ دیکھنا ہے کہ
✅میں کس قسم کی شخصیت کا حامل ہوں؟
✅ اور میرے اندر کون سے مثبت اور منفی نکات پائے جاتے ہیں؟
✅مثلاً اخلاق اور عادات کے اعتبار سے میں کس مقام پر ہوں اور میرے شریک حیات میں کون کون سی عادات اور اخلاقی صفات پائی جاتی ہیں؟ دونوں کا ہم آہنگ ہونا انتہائی ضروری ہے۔
♦مثلاً میرا شریک حیات مثبت سوچ کا حامل ہے یا منفی سوچ رکھتا ہے۔
♦منظم زندگی گزارنا چاہتا ہے یا غیر منظم ۔
♦خیال رکھنے والی شخصیات میں شمار ہوتا ہے یا آزاد خیال لوگوں میں سے ہے۔
✍ان معلومات کا دونوں طرف سے اخذ کرنا ناگزیر ہے۔
👈اس کے لیے آسان اور مفید طریقہ یہ ہے کہ دونوں اپنی شخصیت کو چند سطور میں قلمبند کریں کہ
✍ میں کیا ہوں؟
✍میری پسند و ناپسند کیا ہے؟
✍میں اپنے شریک حیات میں کونسی خویباں دیکھنا چاہتا ہوں؟
✍ اور کون سی خامیاں اور عادات اپنے شریک حیات میں نہیں دیکھنا چاہتاکہ جن سے مجھے نفرت ہے؟-
👈جب دونوں لکھ کر ایک دوسرے کو دیں گے اور پڑھیں گے تو واضح ہوجائے گا کہ زندگی کی کٹھن راہوں کے راہی ، ہم سفر بن سکتے ہیں یا نہیں۔
♦یہ بات مدنظر رہنی چاہیے کہ سو فیصد آپ کو اپنی خواہشات کے مطابق ہمسر نہیں مل سکتا،
♦آئیڈیل Ideal کی تلاش ناممکن امور میں سے ہے۔ چند خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ایک دوسرے کو قبول کرنا ہوگا اور پھر ایک دوسرے کا ہمدرد اور حقیقی و مخلص دوست بن کر نقائص کو دور کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔
اور ایک دوسرے کے نقائص اور خامیوں کو برداشت کرکے تربیت کے مراحل کو طے کرتے ہوئے
♦انسانیت کے ہدف یعنی کمال کی طرف رخت سفر باندھنا ہوگا۔
ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کو استوار کرنا ہوتا ہے۔ شخصیت کی تعمیر کرنا ہوتی ہے اور زندگی کے ہر لمحے میں تربیت کا عمل رکنا نہیں چاہیے بلکہ ہر قدم پر کچھ سیکھنے اور کردار کی تعمیر کے لیے کوشاں رہنا ہی زندگی ہے۔
🌹 ایک دوسرے کی تربیت کے لیے اپنی خواہشات اور آرزؤوں کی قربانی دینا ہوتی ہے جو کہ زندگی کے نشیب و فراز کی سختیوں کو جھیلنے کی جرأت پیدا کرتی ہے۔
♦محبت اور عشق سے سرشار زندگی ہی ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتی ہے
🌻"پروردگارا اس عورت سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں جو بڑھاپے کے زمانے سے پہلے بوڑھا بنادے ۔"
♦♦انتخاب ہمسر کے لیے تحقیق اور بررسی 👇👇
✍شادی کا مسئلہ ایک بہت اہم موضوع ہے اور یہ موقع انسان کی زندگی میں بہت اہم ہے ۔
👈شادی بہت اہم اس وجہ سے بھی ہے کہ لڑکا اور لڑکی یا عورت و مرد اپنی زندگی کے لیے ساتھی کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ بھی
♦ایسا شریک یا ساتھی جو کہ ساری عمر اس کے ساتھ رہے اور جس سے اس کی اولاد ہو
♦ایسا ساتھی جو ساری عمر اس کی خدمت کرے اور اس کی اولادکی تربیت کرے
♦ایسا ساتھی جو اچھے ہونے کی صورت میں اس کو عزت عطا کرتا ہے اگر خراب ہو تو اس کے لیے خطرے اور نقصان کا باعث بنتا ہے
👍🏽 اسی وجہ سے ہوش سے کام لیتے ہوئے انسان کو چاہیے کہ جس کو اپنے شریک حیات کے لیے چن رہا ہے
🌷اس کے متعلق تحقیقات کرے ،
🌷 اس کی اخلاقی خصوصیات اورنفسیات کے بارے میں معلومات حاصل کرے
اور یہ دیکھے کہ
💙اس کے والدین کون ہیں کہ جن کی گود میں اس نے پرورش پائی ہے ⁉
💙 کس ماحول میں رہی ہے ؟
💓 آیا ماں باپ دونوں صالح ہیں ؟ ⁉
💓آیا ہم ایک دوسرے کے لیے مناسب ہیں ⁉
✍ اسلامی روایات میں مردوں کو خاص تاکید کی گئی ہے کہ وہ شریک حیات کے انتخاب میں احتیاط سے کام لیں اور یہ دیکھیں کہ وہ
♦کس کو اپنی زندگی میں شریک کر رہے ہیں
♦کس کے رحم میں اپنا نطفہ قرار دینا چاہتے ہیں اور
✍ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کس کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں ۔
امام صادق ؑ سے روایت ہے کہ : 👇
🌹إِنَّمَا الْمَرْأَةُ قِلَادَةٌ فَانْظُرْ مَا تَتَقَلَّد
🌻" عورت بالکل ایک گلے کی رسی کی طرح ہے ، دیکھو کس چیز کو اپنی گردن میں لٹکا رہے ہو ۔"
🌻" شادی کرنا اور بیٹی کوزوجیت میں دینا ایک طرح سے غلامی میں دینا ہے اس لیے یہ دیکھنا چاہیے کہ انسان اپنی بیٹی کو کس کے ہاتھوں میں غلامی کے لیے دے رہا ہے"
✍ماں باپ کے وظائف میں سے ایک اہم وظیفہ یہ ہے کہ اپنی بیٹی کے لیے لڑکا اور بیٹے کے لیے لڑکی ڈھونڈتے وقت زیادہ احتیاط اوردھیان سے کام لیں ۔
✍ والدین کا عقلی اور شرعی فریضہ یہ ہے کہ وہ حتماً بررسی اور تحقیق انجام دیں اور اگر اس میں انہوں نے کوتاہی اور غفلت سے کام لیا توکل روز قیامت جواب دہ ہیں کیونکہ ان کے اس کام سے خود ان کی اولاد تباہی اور نابودی کی طرف چلی جاتی ہے.
Be the first to know and let us send you an email when Mehdavi Jawaan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.