06/05/2026
میں نے اپنی زندگی کے بہترین سال ہسپتالوں کی ایمرجنسیوں، وارڈز، آئی سی یوز اور کیتھ لیبز میں گزارتے ہوئے یہ سیکھا ہے کہ سفید کوٹ پہن لینے سے انسان، انسان ہونا نہیں چھوڑتا۔
میں آج بھی اپنے ٹریننگ کے وہ دن نہیں بھولا جب چھتیس چھتیس گھنٹے مسلسل ڈیوٹی معمول ہوا کرتی تھی۔ کبھی پورا دن مریض، پوری رات ایمرجنسی، اور پھر اگلی صبح راؤنڈز… نہ کھانے کا وقت، نہ آرام کا۔ ایسے میں اگر کسی لمحے چند منٹ کی خاموشی مل جاتی تو ڈاکٹر کرسی کی ٹیک پر سر رکھ کر یا میز پر جھک کر آنکھیں بند کر لیتا تھا۔ یہ غفلت نہیں ہوتی تھی، یہ انسانی جسم کی آخری حد ہوتی تھی۔
افسوس اس بات پر نہیں کہ کوئی ڈاکٹر تھکن سے چند لمحے بیٹھ گیا۔ افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ اس منظر کو خدمت، قربانی اور مسلسل جاگنے والی آنکھوں کی علامت سمجھنے کے بجائے تذلیل اور تمسخر کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
جو لوگ شاید چند منٹ انتظار برداشت نہیں کر سکتے، وہ ان نوجوان ڈاکٹرز کی مسلسل جاگتی راتوں، ذہنی دباؤ، ایمرجنسیوں کے شور، موت و زندگی کی کشمکش اور اپنے خاندانوں سے دور رہ کر خدمت کرنے کی قیمت کو نہیں سمجھتے۔
ایک جونیئر ڈاکٹر جب میز پر سر رکھتا ہے تو اکثر اس کے پیچھے درجنوں مریضوں کی جان بچانے کی کوششیں، مسلسل کئی گھنٹوں کی ڈیوٹی، اور اپنی ذات کو بھلا کر دوسروں کے لیے جینے کا جذبہ ہوتا ہے۔
یہ منظر شرمندگی کا نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ صحت کے خاموش سپاہیوں کی قربانی کا عکس ہے۔
تنقید ضرور کریں، نظام کی خامیوں پر آواز بھی اٹھائیں، مگر انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
کسی کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر اچھال دینا آسان ہے، مگر اس سفید کوٹ کے پیچھے دھڑکتے ہوئے تھکے دل کو محسوس کرنا شاید اتنا آسان نہیں۔
میں اپنے تمام جونیئر ڈاکٹرز، ہاؤس آفیسرز، پوسٹ گریجویٹس اور ایمرجنسی میں کام کرنے والے ساتھیوں کو سلام پیش کرتا ہوں، جو اپنی نیند، سکون، صحت اور بعض اوقات اپنی زندگی تک دوسروں کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔
خدمت کرنے والوں کا احترام کیجیے… کیونکہ یہی معاشروں کی اصل پہچان ہوا کرتی ہے۔