Fayazulhaq Yousafzai

Fayazulhaq Yousafzai زندگی بچاے دوسروں کی مدد کرے حق اور سچ کا ساتھ دے اور اپ?

14/08/2023

لوہے کی مشینوں میں نہیں کوئی خرابی
مٹی کی مشینوں میں کوئی چال غلط ہے.

14/08/2023

(ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام​
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا​)
تقلیدِ عدو سے ہمیں ابرام نہ ہو گا​
ہم خاص نہیں اور کرم عام نہ ہو گا​

صیاد کا دل اس سے پگھلنا متعذر​
جو نالہ کہ آتش فگنِ دام نہ ہو گا​

جس سے ہے مجھے ربط وہ ہے کون، کہاں ہے​
الزام کے دینے سے تو الزام نہ ہو گا​

بے داد وہ اور اس پہ وفا یہ کوئی مجھ سا​
مجبور ہوا ہے، دلِ خود کام نہ ہو گا​

وہ غیر کے گھر نغمہ سرا ہوں گے مگر کب​
جب ہم سے کوئی نالہ سرانجام نہ ہو گا​

ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام​
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا​

قاصد کو کیا قتل، کبوتر کو کیا ذبح​
لے جائے مرا اب کوئی پیغام، نہ ہو گا​

جب پردہ اٹھا تب ہے عدو دوست کہاں تک​
آزارِ عدو سے مجھے آرام نہ ہو گا​

یاں جیتے ہیں امیدِ شبِ وصل پر اور واں​
ہر صبح توقع ہے کہ تا شام نہ ہو گا​

قاصد ہے عبث منتظرِ وقت، کہاں وقت​
کس وقت انہیں شغلِ مے و جام نہ ہو گا​

دشمن پسِ دشنام بھی ہے طالبِ بوسہ​
محوِ اثرِ لذتِ دشنام نہ ہو گا​

رخصت اے نالہ کہ یاں ٹھہر چکی ہے​
نالہ نہیں جو آفتِ اجرام ، نہ ہو گا​

برق آئینہء فرصتِ گلزار ہے اس پر​
آئینہ نہ دیکھے کوئی گل فام، نہ ہو گا​

اے اہلِ نظر ذرے میں پوشیدہ ہے خورشید​
ایضاح سے حاصل بجز ابہام نہ ہو گا​

اس ناز و تغافل میں ہے قاصد کی خرابی​
بے چارہ کبھی لائقِ انعام نہ ہو گا​

اس بزم کے چلنے میں ہو تم کیوں متردد​
کیا شیفتہ کچھ آپ کا اکرام نہ ہو گا​

(نواب مصطفیٰ خان شیفتہ)

14/01/2023

اس کے ایک جوڑا جوتے کے قیمت کے بدلے ان بچوں کے پورے سال کے جوتے جرابےاسکتے ہے لیکن اس نے مدد کی بچاے بے غیرتی کو ترجیح دی ان حکمرانوں کا ایجنڈا یہ ہے کہ عوام کو ننگا بھوکا پیاسا رکھا جاے تا کہ کوئی پوچھنے والا نہ ہو لعنت ہو ان پر ان کی سوچ پر اور ان کی حکمرانی پر۔
گندم امیر شہر کے ہوتے رہے خراب
بیٹی مگر غریب کی فا قوں سے مر گئی

gzal
09/07/2022

gzal

31/05/2021

rahaman baba poetry

21/04/2021

The shamless democratic and justice system of pakistan
gareeb taba na dy bilkul taba barbad dy

انمول باتیں
03/04/2021

انمول باتیں

بہشتی دروازہایک وکیل صاحب بتاتے ہیں کہ میری بیوی لڑکیوں کے کالج میں پڑھاتی تھی میں روز اسے کالج چھوڑنے اور لینے جاتا تھا...
04/09/2020

بہشتی دروازہ

ایک وکیل صاحب بتاتے ہیں کہ میری بیوی لڑکیوں کے کالج میں پڑھاتی تھی میں روز اسے کالج چھوڑنے اور لینے جاتا تھا،کالج کے گیٹ پر پہنچ کر میں گاڑی سے اترتا اور اسکی طرف کا دروازہ کھول دیتا تب وہ نیچے اترتی۔

میرا یہ طریقہ لڑکیوں کے کالج میں موضوع بحث بن چکا تھا،کالج کی استانیاں میری بیگم پر رشک کرتیں اور اسے چھیڑتیں کہ کیا نصیب پایا ہے،کیا رومانس ہے،کاش کہ ہمارے شوہروں کو بھی یہ توفیق ملتی،بلکہ طالبات بھی ایسی باتیں کرتیں۔
لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کہ رومانس ومانس کچھ نہیں تھا گاڑی کا دروازہ خراب تھا اور وہ باہر سے ہی کھلتا تھا.

مختصر یہ کہ اب میں تین استانیوں اور ایک طالبہ کا شوہر ہوں۔ دروازہ اب تک ویسا ہی ہے،یہ دروازہ تو میرے لئے پاکپتن والے مزار کی طرح کا بہشتی دروازہ ثابت ہوا.

کاش کہ لوٹ آئے وہ وقت واپس
28/08/2020

کاش کہ لوٹ آئے وہ وقت واپس

سب سے پہلے بتادوں کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیا ہوتا ہے؟ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بنیادی طور پر ایک ملک کی ٹوٹل آمدن اور ٹوٹل خرچ می...
26/08/2020

سب سے پہلے بتادوں کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیا ہوتا ہے؟ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بنیادی طور پر ایک ملک کی ٹوٹل آمدن اور ٹوٹل خرچ میں فرق ہے- اگر یہ فرق جمع میں ہو- یعنی آمدن زیادہ اور خرچ کم ہو تو اس کو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کہتے ہیں اور اگر یہ فرق منفی میں ہو یعنی خرچ زیادہ اور آمدن کم تو اس کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہتے ہیں- آمدن میں برآمدات، انویسٹمینٹس، بیرون ملک سے بھیجا گیا پاکستانی پیسہ اور ٹیکس کی مد میں اکٹھا کیا گیا پیسہ شامل ہوتا ہے- جبکہ خرچ میں درآمدات، قرضے کی ادایئگیاں، حکومتی اخراجات شامل ہوتے ہیں-

ماضی کی حکومت میں ہماری آمدن کم تھی اور اخراجات زیادہ تھے- کیونکہ ہماری معیشت کی بنیاد اسحاق ڈار نے جن ٹرمز پر رکھی تھی وہ ایک نظر کا دھوکہ تھا لیکن اس نے ملک کو اندر سے کھوکھلا کردیا تھا- لہذا جیسے ہی اسحاق ڈار نکلا وہ ساری معیشت یک دم سے اپنی اصل اوقات پر واپس آگئی- ڈالر جس کو 102 پر زبردستی روک کر رکھا تھا-اور اس کو 102 پر رکھنے کے لیئے سالانہ 5 بلین ڈالر مزید قرضہ لیکر مارکیٹ میں رکھا جاتا تھا تاکہ اس سے ملک میں ڈالر کی قلت پیدا نہ ہو اور یوں ڈالر کی قیمت 102 پر ہی رہے-اس سے ہمارے روپے کی قدر بڑھتی گئی اور ہماری چیزیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں مہنگی ہوتی گئی لہذا ہمیں امپورٹ سستی پڑنے لگی لوگوں نے اپنے انڈسٹریل یونٹس بند کرکے دوسرے ممالک سے اشیاء امپورٹ کرکے اپنے ملک اور دوسرے ممالک میں بھجوانی شروع کردی-کیونکہ اپنے ملک میں بنانے کی بجائے ایسے اشیا سستی پڑتی تھی- لہذا ہمارے خرچے بڑھتے گئے-

چور کرپٹ قیادت کی وجہ سے انویسٹمینٹ کم ہونی شروع ہوگئی- اور 5 سالوں میں ایک میجر انویسٹمینٹ صرف سی پیک تھی جس کی پلاننگ مشرف کے دور سے چل رہی تھی- اس کے علاوہ 5 سال میں کوئی میجر انویسٹمینٹ نہیں آسکی-

لہذا ہمارا خسارہ بڑھنے لگا-اور ہمارا ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 بلین ڈالر سے تجاوز کرگیا- اب ایک ملک جس کی آمدنی کے رستے تقریبا بند ہوچکے ہوں اس کے لیئے ماہانہ 2 بلین ڈالر یعنی سالانہ تقریبا 24 بلین ڈالر صرف اپنا اخراجات چلانے کے لیئے چاہیئے- اس حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اس چیز کو ٹیک اپ کیا- میں ستمبر 2018 سے معیشت پر پوسٹ کررہا ہوں اور تواتر سے یہی بات کرتا آرہا ہوں کہ پہلے مرحلے میں ہمارے ملک کو صحیح راستہ پر ڈالنا ہے- اور اس چیز کے لیئے عمران خان کو بہت سے مشکل فیصلے کرنے ہونگے-جو ہوسکتا عمران خان کی سیاست کے لیئے نقصان دہ ہوں لیکن پاکستان کے لیئے بہت بہتر ہونگے-

عمران خان نے ڈالر کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیئے 5 بلین ڈالر سالانہ قرضہ نہیں لیا- جس سے ڈالر کا ریٹ مارکیٹ ریٹ کے مطابق طے ہونے لگا- مارکیٹ ریٹ یہ ہوتا کہ اگر مارکیٹ میں ڈالر کی قلت ہوجائے تو ڈالر مہنگا ہوجاتا ہے اور اگر ڈالر کثرت میں ہوجائے تو ڈالر سستا ہوجاتا ہے- اور چونکہ اس وقت ڈالر ریٹ اپنی اصل مارکیٹ ریٹ پر نہیں تھا- لہذا اس کی ویلیو میں واضح فرق دیکھنے کو ملتا تھا- اور میں اس وقت بھی تواتر سے کہتا تھا کہ ڈالر کے ریٹ کو ایکوی لبریم (سٹیبل) میں آنے میں تھوڑا وقت لگے گا- اور اب جبکہ ایکوی لبریم میں آگیا- تو آپکو ڈالر کے ریٹ میں تبدیلی بہت کم دیکھنے کو مل رہی ہے- حالانکہ اب ہم ڈالر کی قیمت کو یہاں رکھنے کے لیئے 5 بلین ڈالر سالانہ مارکیٹ میں بھی نہیں رکھ رہے-

اس سے جہاں ہمیں اس غیر ضروری خرچے سے جان چھوٹی وہیں ہماری برآمدات بیرونی دنیا میں سستی ہوتی گئی- مثلا افغانستان کی کرنسی ہم سے اوپر ہے تو افغانستان میں پاکستان کی چیزیں زیادہ تعداد میں برآمد ہوسکتی ہیں- اور افغانستان پاکستان کے لیئے ایک بہت اچھی مارکیٹ ہے اور مستقبل میں وہاں سے انڈیا کی چھٹی ہونی تو اس افغانستان کی مارکیٹ پر پاکستان کا مکمل قبضہ ہوسکتا ہے-

لہذا برآمدات بڑھنے لگی- اور درآمدات کم ہونے لگی- انویسٹمینٹ آنے لگی اور بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے گئے پیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا- جس میں ابھی مزید کام کی ضرورت ہے- یعنی بینکنگ چینلز کو آسان بنایا جائے تاکہ بیرون ملک پاکستانی حوالہ اور ہنڈی کی بجائے بینکگ چینل سے پیسے بھیجنے میں زیادہ آسانی محسوس کرے-

ٹیکس کولیکشن میں اضافہ ہوا- سال 2018 میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد تقریبا 14 لاکھ تھی- اور 2 اگست 2019 کے ڈیٹا کے مطابق اس ایک سال میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد 14 لاکھ سے بڑھ کر 25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے- اور اس کے علاوہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے- اور حکومتی اخراجات کم ہوئے اور یوں سب چیزوں کو ملا کر مالی سال 2019-2020 کے پہلے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 579 ملین ڈالر رہا- جبکہ پچھلے سال جولائی کے مہینے میں یہ مالی خسارہ 2.13 بلین ڈالر رہا- اگر ہم 2019-2020 کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 600 ملین ڈالر کا ایوریج رکھ کر نکالیں تو یہ سالانہ 7 بلین ڈالر بنتا ہے- جبکہ ن لیگ کے دور میں یہ 20 بلین ڈالر سالانہ سے زیادہ ہوتا تھا-

عوام نے اس سارے میں مشکلات برداشت کی- اور عوام اس سارے معاملات میں یقینا مبارکباد کی مستحق ہے-بس اب منزل ہماری قریب ہے- اس مالی سال کے آخر تک ہماری معیشت سٹیبل فیز سے گروتھ والی فیز میں داخل ہوجائے گی- اور پھر اس کے ثمرات اس ملک کی عوام کو ہی ملے گے- کیونکہ ابھی تک اس حکومت کا کوئی مالی سکینڈل سامنے نہیں آیا- میڈیا کھوجی کتے کی طرح اس حکومت کے پیچھے لگا ہوا ہے اور اس ساری صورت حال میں بھی کوئی بڑا مالی سکینڈل کا نہ آنا پی ٹی آئی کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے- کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ عمران خان کرپٹ نہیں ہے-
منقول

Address

Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fayazulhaq Yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Fayazulhaq Yousafzai:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category