26/01/2026
سینیٹر انوارالحق کاکڑ کی آئی ایس پی آر ونٹر انٹرنشپ 2026 کے طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست۔
سینیٹر انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ شدت پسند عناصر نے بلوچستان کے حوالے سے جھوٹے اور گمراہ کن بیانیہ کے تحت مسلح گروہ اور جتھے تشکیل دیے۔
یہ گروہ دلیل اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ان کی دلچسپی مفاہمت میں نہیں بلکہ تصادم اور بدامنی میں ہے، ایسے عناصر کو جواب دینا ریاستی اداروں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
علاقائی سیکیورٹی کے تناظر میں پاکستان افواج محدود بجٹ اور وسائل کے باوجود مؤثر حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے، سینیٹر انوارالحق کاکڑ
انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت بلوچستان میں چند اسکول اور ہسپتال موجود تھے، جبکہ آج ہزاروں اسکول، درجنوں یونیورسٹیز اور سینکڑوں ہسپتال فعال ہیں ، کاروباری طبقہ اور سیاسی قیادت دونوں میں مقامی افراد نمایاں طور پر آگے بڑھ رہے ہیں اور وفاقی حکومت مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔
افغانستان کے ساتھ تجارت کے بارے میں سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ تجارت صرف قانونی طریقے سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ اسمگلنگ کے خاتمے سے اس کا براہِ راست فائدہ پاکستانی عوام کو ہی پہنچے گا۔
سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے زور دیا کہ بلوچستان میں مفاہمت، ہم آہنگی اور ترقی کے لیے ریاست، میڈیا اور عوام سب کو مشترکہ ذمہ داری نبھانا ہوگی ، تاکہ منفی بیانیے کا توڑ اور پائیدار امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔