QAZI

QAZI welfare foundation

26/05/2022
23/02/2022

*زکوٰۃ کے متعلق انتہائی اہم معلومات آور ہر طبقے مثلا عام لوگ، تاجر، زمیندار اور جانور پالنے والوں کے لئے*
*خدارا خود بھی پڑھیں اور دوسروں تک پہنچانے کا فرض ادا کریں۔ جزاک اللہ۔*
1 lakh. 👉2500.
2 lakh. 👉5000.
3 lakh. 👉7500.
4 lakh. 👉10000.
5 lakh. 👉12500.
6 lakh. 👉15000.
7 lakh. 👉17500.
8 lakh. 👉20000.
9 lakh. 👉22500.
10 lakh. 👉25000.
20 lakh. 👉50000.
30 lakh. 👉75000.
40 lakh. 👉1 lakh.
50 lakh. 👉125000
1 cror. 👉250000
2 caror. 👉5 lakh.

📝ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟📌

اکثرمسلمان رمضان المبارک میں زکاة ادا کرتے ہیں اس لیے
اللہ کی توفیق سےیہ تحریر پڑھنےکےبعدآپ اس قابل ہوجائیں گےکہ آپ جان سکیں
🔹سونا چاندی
🔸زمین کی پیداوار
🔹مال تجارت
🔸جانور
🔹پلاٹ
🔸کرایہ پر دیےگئے مکان
🔹گاڑیوں
🔻اوردکان وغیرہ کی زکاۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔

📌1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر6-7)
📌2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)
📌3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہے۔(طبرانی)
📌4۔زکاة كامنکر
جوزکاۃادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار اور حبث ہیں۔
📌5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کے دن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے۔(البقرہ277)
📌6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔(التوبہ103)

🔴زکوٰۃکا حکم🔴
🔹ہر مال دارمسلمان مردہویاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل
🔸بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔

🔘نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سے زکاۃدینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا۔
✔صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔

☑زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے
زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔
🔹1۔سونا چاندی
🔸2۔زمین کی پیداوار
🔹3۔مال تجارت
🔸4۔جانور۔

⬅سونے کی زکوٰۃ➡
💠87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکاۃ واجب ہے
(ابن ماجہ1/1448)
🔴نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکاۃ واجب ہے۔(سنن ابودائودکتاب الزکاۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
فتح الباری جز چار صفحہ 13)
⬅چاندی کی زکوٰۃ➡
💠612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکاۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)
✅زکوٰۃ کی شرح❗
💠زکاۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
✅زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ
💠مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وار اگر پانچ وسق سے زیادہ ہےیعنی(725کلوگرام تقریبا18من)ہے
تو زکاۃ یعنی عشر بیسواں حصہ دینا ہوگاورنہ نہیں۔
💠قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکاۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
🔴نوٹ: زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،سورج مکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکاۃیعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔
(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⬅اونٹوں کی زکوٰۃ➡
💠پانچ اونٹوں کی زکاۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکاۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⬅بھینسوں اور گایوں کی زکوٰۃ➡
💠30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
💠40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکاۃ دیں۔(ترمذی1/509)
✅بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔
⬅بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ➡
💠40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکاۃ ہے۔
💠120 سےلےکر200تک دو بکریاں زکاۃ۔
(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⛔چالیس بکریوں سے کم پرزکاۃ نہیں۔
✅کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ❗
💠کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھراس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃنہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔
✅گاڑیوں پر زکوٰۃ
💠کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کےساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔
⛔نوٹ:
گھریلو استعمال والی گاڑیوں،جانوروں،
حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)
✅سامان تجارت پر زکوٰۃ
💠دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔
⛔نوٹ:
دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکاۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکاۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکاہ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ انسے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے
✅پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ
💠جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکاۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیئے خریدا گیا پلاٹ پر زکاۃ نہیں۔😊
(سنن ابی دائودکتاب الزکاۃ حدیث نمبر1562)
✅کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
💠ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکاۃ کےمستحق مسلمانوں کو زکاۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اور اولاد پر اصل مال خرچ کریں زکاۃ نہیں۔
⛔نوٹ:
(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اور اولاد میں پوتے پوتیاں،نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔( ابن باز)
✅زکوٰۃکےمستحق لوگ
🔸1۔مساکین(حاجت مند)
🔹2۔غریب
🔸3۔ زکاۃوصول کرنےوالے
🔹4۔مقروض
🔸5۔غیرمسلم جواسلام کے لیے نرم گوشہ رکھتاہو
🔹6۔قیدی
🔸7۔ *مجاھدین*
🔹8۔مسافر (سورۃالتوبہ60)
Q.1
سوال: زکوة کے لغوی معنی بتائیے؟
جواب: پاکی اور بڑھو تری کے ہیں۔
Q2
سوال: زکوة کی شرعی تعریف کیجئے؟
جواب: مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا۔
Q 3
سوال: کتناسونا ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو
Q4
سوال: کتنی چاندی ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔
Q5
سوال: کتنا روپیہ ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q6
سوال: کتنا مالِ تجارت ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب: اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q7
سوال: اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟

جواب: فرض ہے۔
Q8
سوال: چرنے والے مویشیوں پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Q9
سوال: عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Q10
سوال: ایک صاحب نصاب شخص کودرمیان سال میں ۳۵ہزار کی آمدنی ہوئی،تویہ۳۵ ہزار بھی اموالِ زکوۃ میں شامل کئے جائیں گے یا نہیں؟
جواب: شامل کئے جائیں گے۔
Q 11
سوال: صنعت کار کے پاس دو قسم کا مال ہوتا ہے، ایک خام مال، جو چیزوں کی تیاری میں کام آتا ہے، اور دُوسرا تیار شدہ مال، ان دونوں قسم کے مالوں پر زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب: فرض ہے۔
Q12
سوال: مشینری اور دیگر وہ چیزیں جن کے ذریعہ مال تیار کیا جاتا ہے، ان پر زکوٰة فرض ہے یا نہیں؟
جواب: فرض نہیں ہے۔
Q13
سوال: استعمال والے زیورات پر زکوٰة ہے یا نہیں؟
جواب: زکوٰة ہے۔
Q14
سوال: زکوٰة انگریزی مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی یاہجری(قمری)مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی؟
جواب: قمری مہینوں کے حساب سے نکالی جائےگی۔
Q15
سوال: پلاٹ اگر اس نیت سے لیا گیا تھا کہ اس کو فروخت کریں گے اس پر زکوٰة واجب ہوگی یانہیں؟
جواب: واجب ہوگی۔
Q16
سوال: پلاٹ خریدتے وقت تو فروخت کرنے کی نیت نہیں تھی، لیکن بعد میں فروخت کرنے کا ارادہ ہوگیا تو اس پر زکوٰة واجب ہےیا نہیں؟
جواب: جب فروخت کردیا جاے اور رقم پر ایک سال گزر جاےتب زکوٰة فرض ہے .اگر پہلے سے صاحب نصاب ہےتو یہ رقم نصاب مین مل جاے گی
Q17
سوال: جو پلاٹ رہائشی مکان کے لئے خریدا گیا ہو اس پر زکوٰة ہےیا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q18
سوال: اگر پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا جائے اور فروخت کرنے کی نیت سے پلاٹ خریدا جائے توزکوۃ کس طرح ادا کی جائےگی؟
جواب: ان کی کل مالیت پر زکوٰة ہر سال واجب ہوگی۔
Q19
سوال: جو مکان کرایہ پر دیا ہے،اس کی زکوٰة کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس کے کرایہ پر جبکہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰة واجب ہوگی۔
Q20
سوال: حج کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوٰة ہے یا نہیں؟
جواب: زکوٰة واجب ہے۔
Q21
سوال: کسی کوہم زکوٰة د یں اور اس کو بتائیں نہیں تو زکوٰة اداہوجائے گی یانہیں؟
جواب: ادا ہوجائے گی۔
Q22
سوال: ملازم نے اضافی تنخواہ کا مطالبہ کیاتو مالک نے زکوٰة کی نیت سے اضافہ کردیا کیا اس کی زکوٰة ادا ہوئی یا نہیں؟
جواب: زکوٰة ادا نہیں ہوئی۔
Q23
سوال: کیاانکم ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰة ادا ہوجاتی ہے؟
جواب: زکوٰة ادا نہیں ہوتی۔
Q24
سوال: اپنے ماں باپ، اور اپنی اولاد، اسی طرح شوہر بیوی ایک دُوسرے کو زکوٰة دے سکتےہیں یانہیں؟
جواب: نہیں۔
Q25
سوال: جو لوگ خود صاحبِ نصاب ہوں ان کو زکوٰة دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q26
سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (ہاشمی حضرات) کو زکوٰة دے
سکتے ہیں یانہیں؟
جواب: نہیں۔
Q27
سوال: اپنے بھائی، بہن، چچا، بھتیجے، ماموں، بھانجے کو زکوٰة دینا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز ہے اگر مستحق ہیں ۔
Q28
سوال: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یعنی: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر، آلِ عباس اور آلِ حارث بن عبدالمطلب، ان پانچ بزرگوں کی نسل سے ہو تواس کو زکوٰة دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q29
سوال: اگرسید غریب اور ضرورت مند ہو تو ان کی خدمت کیسے کرنی چاہئے؟
جواب: زکوۃ وصدقات کےعلاوہ دُوسرے فنڈ سے۔
Q30
سوال: سادات کو زکوٰة کیوں نہیں دی جاتی؟
جواب: زکوٰة، لوگوں کے مال کا میل ہے۔
Q31
سوال: سیّد کی غیرسیّدبیوی جو زکوۃ کی مستحق ہو زکوٰة دی جاسکتی ہےیا نہیں؟
جواب: اس کو زکوٰة دے سکتے ہیں۔
Q32
سوال: مال دار بیوی کا غریب شوہربیوی کے علاوہ دوسروں سےزکوٰة لے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: لے سکتا ہے۔
Q33
سوال: غیرمسلم کو نفلی صدقہ دےسکتے ہیں،کیا وہ زکوٰة اور صدقۂ فطر کےبھی مستحق ہیں؟
جواب: نہیں۔
Q34
سوال: مدارسِ عربیہ میں زکوٰة دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بہتر ہےبوجہ دین کی اشاعت کے

Q35
سوال: صاحبِ نصاب لوگ بھی خود کو مسکین ظاہر کرکے زکوۃ حاصل کرلیتے ہیں، اس کاکیا حکم ہے؟
جواب: ان کو زکوٰة لینا حرام ہے۔
Q36
سوال: چندہ وصول کرنے والے کو زکوٰة سے مقرّرہ حصہ دینا جائزہےیانہیں؟
جواب: جائز نہیں۔
Q37
سوال: زمین بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہے، تو پیداوار اُٹھنے کے وقت اس پر کتنا حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں دینا واجب ہے؟
جواب: دسواں حصہ۔
Q38
سوال: اگر زمین کو خود سیراب کیا جاتا ہے تو اس کی پیداوار کاکتنا حصہ صدقہ کرنا واجب ہے؟
جواب: بیسواں حصہ۔
Q39
سوال: ایک ملک کی کرنسی سے زکوۃ ادا کرکے دوسرے ملک بھیجا جائے تو زکوۃ کی ادائیگی کا اعتبار کس ملک کی کرنسی کا ہوگا؟
جواب: جس ملک کی کرنسی سے زکوۃ ادا کی گئی۔
Q40
سوال: رہائشی گھر، جسم کے کپڑے ، گھر کے سامان ،سواری میں زکوۃ فرض ہے یانہیں؟
جواب: نہیں۔
Q41
سوال: جواہر جیسے موتی ، یاقوت، اور زبر جدپر زکوۃ فرض ہے یانہیں جب کہ وہ تجارت کے لئے نہ ہوں؟
جواب: نہیں۔
Q42
سوال: زکوۃ کی ادائیگی کب واجب ہوگی؟
جواب: نصاب پر قمری سال کا گذرنا شرط ہے۔
Q43
سوال: اگر سال کے شروع میں نصاب کامل ہو، پھر سال کے درمیان کم ہوجائے ليكن نصاب سے كم نہ ہو پھر سال کے اخیر میں نصاب کامل ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی یانہیں؟
جواب: واجب ہوگی۔
Q44
سوال: ایک شخص شروع سال میں مالک نصاب ہوگیا،درمیان سال میں اس مال میں اوراضافہ ہوگیا،اضافہ تجارت سے ہوا ہویا کسی نے تحفہ یاہدیہ دیاہویا میراث کا مال ملاہو،بہرحال مال میں اضافہ ہوگیا،اب پورے مال پر زکوہ واجب ہوگی یاشروع سال کے مال پر واجب ہوگی؟
جواب: پورے مال پر واجب ہوگی۔
Q45
سوال: جو شخص اپنے تمام مال کو صدقہ کردے اور اس میں زکوٰۃ کی نیت نہ کرے تو اس سے زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی یانہیں؟
جواب: ساقط ہوجائےگی۔
Q46۔

سوال: اگر کسی شخص کا فقیر کے پاس قرض ہو اور وہ زکوٰۃ کی نیت سے اس کے ذمہ کو بری کردے تو زکوٰۃ کی ادائیگی صحیح ہوگی یانہیں؟
جواب: ادائیگی صحیح نہیں ہوتی ۔
Q47
سوال: سونا چاندی کی زکوٰۃ میں سونا اور چاندی کا ٹکڑا وزن سے نکالےیا قیمت ادا کرے؟
جواب: اختیار ہے۔
Q48
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں فقیر کسے کہتے ہیں؟
جواب: وہ شخص ہوتا ہے جو نصاب سے کم كا مالک ہوتا ہے۔
Q49
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں مسکین کسے کہتے ہیں؟
جواب: جو بالکل کسی چیز کا مالک نہ ہو
Q50
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں عامل کسے کہتے ہیں؟
جواب: وہ شخص ہوتا ہے جو زکوۃ اور عشر کو اکھٹا کرتا ہے۔اور اسلامی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ہو.
۔
Q51
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں مقروض کسے کہتے ہیں؟
جواب: یہ وہ شخص ہے جس کے ذمہ قرض ہو، اپنے قرض کی ادائیگی کے بعد نصاب کامل کا مالک نہ رہ جاتا ہو۔تجارتی قرض کا مسئلہ الگ ہے
Q52
۔
سوال: مصارفِ زکوٰۃ میں مسافر سے کیامراد ہے؟
جواب: جس کا اپنے وطن میں مال ہو، لیکن اس کا مال سفر میں ختم ہوچکا ہو اور منگوانے کا کوی ذریعہ بهی نہ ہو
Q53
سوال: مسافر پر زکوۃ کی کتنی رقم خرچ کرنا درست ہے؟
جواب: اتنی مقدار صر ف کی جائے گی کہ وہ اپنے وطن پہنچ سکے۔
Q54
سوال: زکوۃ کی تمام قسموں پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیاکسی ایک قسم پر صرف کرنا جائز ہے؟
جواب: دونوں جائز ہے۔
Q55
سوال: کافر کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائزنہیں۔
Q56
سوال: مالدار کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائز نہیں۔
Q57
سوال: مالداربچے پر زکوٰۃ صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائز نہیں
Q58۔
سوال: بنی ہاشم اور ان کے غلاموں پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز نہیں
Q59۔
سوال: مالک نصاب کا زکوۃ کو اپنے اصول پر جیسے باپ ، دادا ، اوپر تک صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟
جواب: جائز نہیں
Q60۔
سوال: مالک نصاب کا اپنے فروع پر جیسے ، بیٹا ،پوتا، نیچے تک زکوٰۃ کو صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز نہی
Q61۔
سوال: مالک نصاب بیوی شوہر پراور مالک نصاب شوہر اپنی بیوی پر زکوۃ صرف کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q62
سوال: مسجد یا مدرسہ کی تعمیر یا راستہ یا پل کے درست کرنے میں زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز نہیں
Q63۔
سوال: میت کو کفنانے یا میت کے قرض کو پورا کرنے میں زکوٰۃ صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: جائز نہیں۔
Q64
سوال: زکوٰۃ کی ادائیگی بغیر تملیک(مالک بنانا) کے صحیح ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q65
سوال: زکوۃ رشتہ داروں پر اورپھر پڑوسیوں پر صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: بہتر ہے۔
Q66
سوال: مکمل نصاب کےبقدر زکوۃ ایک شخص کو دینا درست ہےیانہیں؟
جواب: مکروہ تنزیہی ہے۔
Q67
سوال: مقروض پر اس کے قرضے کی ادائیگی کیلئے نصاب سے زیادہ صرف کرنا مکروہ ہے یا نہیں؟
جواب: مکروہ نہیں۔
Q68
سوال: بغیر ضرورت کے ایک جگہ سے دوسری جگہ زکوٰۃ کو منتقل کرناکیسا ہے؟
جواب: مکروہ تنزیہی هے
Q69۔
سوال: اپنے رشتہ داروں کیلئے زکوۃ کا منتقل کرناکیسا ہے؟
جواب: مکروہ نہیں ہے۔
Q70
سوال: مسجد یا مدرسہ کی تعمیر یا راستہ یا پل کے درست کرنے میں زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب: جائز نہیں۔
Q71

سوال: ایک شخص جو زکاة کا مستحق نہیں ہے، لیکن وہ ڈاکٹر بننا چاہتاہے،کیا اس کو زکاة دی جاسکتی ہے؟
جواب: صدقات نافلہ سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔
Q72

سوال: اگر زکاة کسی غریب غیر مسلم کو دیدی جائے تو اداہوجائے گی یا نہیں؟
جواب: زکاة ادا نہ ہوگی۔
Q73
سوال: کیا اپنے مستحق زکاة بھائی کو زکاة کی رقم دی جا سکتی ہے؟
جواب: دی جا سکتی ہے ۔

Q74
سوال: کیا مستحق زکاة چچیرے ، ممیرے، خلیرے بھائی کو یا اپنے بھتیجے کو زکاة دے سکتے ہیں ؟
جواب: دے سکتے ہیں
۔
سوال: کیا مدرسہ کے مہتمم یا ناظم کو جو طلبہ کی وکیل ہوتے ہیں زکاة دی جاسکتی ہے ؟

جواب: دی جاسکتی ہے۔بلکہ افضل ہے
Q75
سوال: زکوۃ کی ادائیگی کے لئےسونےکی قیمت فروخت کا اعتبارہوگا یاقیمت خرید کا ؟
جواب: قیمت فروخت
Q76
۔
سوال: سونے پر زکاة موجودہ قیمت کے حساب سے ہوگی یا خریدنے کے وقت کی قیمت کے حساب سے ہوگی ؟
جواب: موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا۔
Q77
۔
سوال: کیا زکاة مستحق زکاة اپنے بھانجے کی تعلیم پر خرچ کرسکتے ہیں؟
جواب: ہاں۔مگر اس کو دے دی جائے تاکہ وہ مالک بن جاے
Q78
سوال: کیا نابالغ بیٹا یا بیٹی کے مال پر بھی زکوة دینا فرض ہے؟
جواب: نہیں
Q79

سوال: مسجد کے امام یامؤذن کی ماہانہ تنخواہ کو زکاۃ میں شامل کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: نہیں۔
Q80
سوال: کیا لڑکی زکوة کی رقم اپنے والدین کو دے سکتی ہے۔
جواب: نہیں۔
Q81

سوال: کیا نفلی صدقہ کا گوشت صدقہ کرنے والا بھی خود استعمال کرسکتا ہے؟
جواب: کرسکتا ہے۔
Q82
سوال: صدقات واجبہ جیسے نذر وغیرہ کا گوشت کیا صدقہ دینے والا خود بھی کھاسکتا ہے۔
جواب: نہیں.
شئیر کریں ہم زکوة کیسے ادا کریں .

*اس میسج کو اپنے گروپس میں اور دوستوں کے ساتھ ضرور شئر کیجئیے*

15/02/2022

*ایسا محکمہ جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں*
*پٹرولنگ پولیس کیا ہے؟*🚔
عام لوگوں کے ذہن میں تو یہ لفظ پٹرولنگ کی بجائے پٹرولیم پولیس کی شکل میں سرایت کر چکا ہے.
حالانکہ
پٹرول PATROL انگلش زبان کا لفظ ہے جسکا معنٰی گشت کرنا ہے.
یعنی پولیس افسران کا جرائم کی روک تھام کے سلسلے میں مخصوص علاقہ میں گشت کرنا پٹرولنگ پولیس کی تعریف کے زمرے میں آتا ہے. یہ محکمہ دورِ حاضر کی اک اہم اکائی ہے.*

*اک دور ہوتا تھا کہ پوری کی پوری برات چلتے ہوئے روڈ پر روک کر لُوٹ لی جاتی تھی.* مگر اب پیٹرولنگ پولیس کے قیام کے بعد جرائم میں 90 فیصد کمی دیکھنے میں آئی
ھے

کچھ لوگوں کے خیال میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ پٹرولنگ والے فارغ بیٹھے گاڑی میں کبھی ادھر کبھی ادھر پِھرتے رہتے ہیں کوئی کام نہیں کرتے جبکہ پٹرولنگ کا کام گشت کرنا ہی ہے. باہر سے دیکھنے والوں کو تو یوں ہی لگتا ہے کہ یہ فارغ اندر بیٹھے ہیں حالانکہ اس گاڑی میں جون جولائی کی دوپہر میں صرف 10 منٹ بیٹھ کر دماغ پگھلنے لگ جاتا ہے اس قدر گاڑی گرم ہو جاتی ہے کیونکہ پانچ افراد ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اور یہ لوگ آپ لوگوں کی خاطر پورے آٹھ گھنٹے اس تندور میں گزارتے ہیں.*
دسمبر جنوری کی برفانی ٹھنڈی یخ راتیں ہوں یا جون جولائی کے تپتے دن
آندھی ہو یا طوفان شیر جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھے عوام الناس کی حفاظت کے لیے 24/7 ٹائم کوشاں رہتے ہیں

*چاند رات کو آپ لوگ جو بے فکر ہو کر شہر سے شاپنگ کرنے کے بعد رات گئے تک سلامت لوٹ آتے ہیں یہ اسی گاڑی کی ہی مرہون منت ہے.*

*دشمنی کی آڑ میں آپ کے گھر سے اغوا شدہ بچے کو ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں پہنچنے سے پہلے پہلے بازیاب کروانا بھی اسی پٹرولنگ پولیس سے ہی ممکن ہوتا ہے.
*جرائم کی سرکوبی سے لے کر مسافروں کو ہیلپ مہیا کرنے تک اسمگلرز ہو ں یا ڈکیت؛ مویشی چور ہوں یا کرائمنلز
گینگز
مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچاناphp اپنا فریضہ سمجھتی ہے

*ایکسیڈنٹ کے وقت جب لوگ آپکی بجائے مرہم پٹی کے زخمی ویڈیو بنا رہے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ آپکی جیبیں صاف کر رہے ہوتے ہیں تب جائے وقوعہ پر آکر آپکو خود ہسپتال پہنچانا یا ریسکیو کے حوالے کرنا
اور آپکے قیمتی سامان, موبائل, پرس اور ٹوٹی ہوئی گاڑی و موٹر سائیکل کو اپنی محفوظ حراست میں لے کر آپکے گھر تک پہنچانا اسی پٹرولنگ پولیس کا فرسٹ ریسپانڈر بطور ہی کارنامہ ہے
سیف ہائی ویز سلوگن آف پی ایچ پی
توجہ تحفظ اور پیار
پنجاب ہائی وے پیٹرول کا شعار

15/02/2022

پڑھنا ضرور اپنی نسلیں سنوارنے کیلئے۔۔۔

دس لاکھ کا جہیز۔۔.
پانچ لاکھ کا کھانا۔۔۔
گھڑی پہنائی۔۔۔
انگھوٹھی پہنائی۔۔۔
ولیمے والے دن ناشتہ۔۔۔
مکلاوہ کھانا دیگیں۔۔۔
بچہ پیدا ہونا پر خرچہ۔۔۔
بیٹی ہے یا سزا ہے کوئی۔۔۔؟

مرد ہو ناں۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔کرو یہ سب خرچہ خود۔۔۔اور کرو چار شادیاں۔۔۔!!
سنت کیا صرف چار شادیوں پر ہی یاد ہے۔۔؟
باقی سنتوں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے کیا۔۔؟ 😴

وہ اکثر اس لیے باپ سے فرمائشیں نہیں کرتی تھی کہ پہلے ہی اسکی شادی کا خرچ اور جہیز بناتے بناتے اسکا باپ مقروض ہونے والا تھا۔۔۔!!

منگنی کے بعد اکثر لڑکے والے آتے رہتے تھے اور مہمان نوازی کرتے کرتے اس کی ماں تھک چُکی تھی۔۔۔مگر پھر بھی خالی جیب کے ساتھ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہر آنے والے کو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھلاتی اور خوش کر کے بھیجتی تھی

کبھی نند ، کبھی جیٹھانی ، کبھی چاچی ساس تو کبھی مامی ساس۔۔۔ہر رشتے کو یکساں احترام دلانے کے لیے وہ الگ الگ ٹولیوں میں آتے رہتے۔۔۔!!

ایسے میں شام کو اسکے بابا جب گھر آتے تو انکے پاس خاموش بیٹھ کر انکا سر دبانے لگتی ، مانو جیسے باپ کو ہمت دلا رہی ہو یا یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ سوری بابا میری وجہ سے آپ قرض لینے پر مجبور ہیں۔۔۔!! 😢

شادی کی تاریخ فکس کرنا ایک تہوار بن چکا ہے، لڑکی والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنے لوگ آئیں گے، انکے کھانے پینے کے علاوہ سب کیلیئے کپڑے خرید کر رکھنے ہوتے ہیں چاہے 5 لوگ ہوں یا 50۔۔۔!!

پھر بارات پر لڑکی کے باپ کو 10 بندے گھیر کر پوچھتے ہیں، جی کتنے بندے آ جائیں۔۔۔؟؟؟ کیا بولے گا وہ۔۔۔؟؟؟

اگر 100 کہے تو جواب ملتا ہے 200 تو ہمارے اپنے رشتہ دار ہیں پھر محلے دار لڑکے کے دوست....!!کچھ نہیں تو 400 افراد تو مجبوراً لانے پڑیں گے ساتھ........!!
اب لڑکی کا باپ کیا کہے۔۔؟ مت لانا۔۔؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔؟؟؟

پھر فرسودہ نظام میں بارات والے دن لڑکی کے ساتھ 2 دیگیں کھانا بھی بھیجنا ہے، جہیز بھی خود بنا کر چھوڑ کر آنا ہے .....!!

لو مسلمان پاکستانیو....!! یوں ہوتی ہے ایک بیٹی گھر سے رُخصت...!! اب اس کا آگے سسرال میں کیا مول اور وزن ہوگا؟، یہ اکثر ہم سنتے ہی رہتے ہیں۔۔۔!!

ہاتھ جوڑ کر التجا ہے 🙏 مت کریں ایسا، توڑ دیں یہ رسمیں جن سے ایک باپ توبہ کرے کہ اسکو بیٹی نہ پیدا ہو....😥

چھوڑ دیں یہ ہندوانہ رسمیں کہ بیٹیاں ماں باپ کی غربت دیکھ کر اپنی شادی کا خیال ہی دل سے نکال دیں....!!

اپنے بیٹے کیلیئے سادگی سے نکاح کر کے بہو لا کر دیکھیں، اپنی بیٹی بھی یونہی سادگی سے رخصت کرکے دیکھیں، سکون ملے گا...!!
اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ بیٹیاں حضرت فاطمہ (رض) جتنی لاڈلی نہیں ہیں، نا یہ بیٹے حضرت علی(رض) جتنے محترم....!!

آنے والی نسل کہ زندگی آسان بنا دو یارو۔۔۔!! 🙏
لڑکوں سے کہتاہوں 🙏 جہیز مت لینا۔۔۔!!

اپنی ہونے والی بیٹی پر ترس کھانا جو کل کو تمہارے خراب حالات سے اتنی ہی پریشان ہوسکتی ہے جتنی آج تمہاری ہونے والی بیوی پریشان ہے....!!

اللہ نے تمہیں مرد پیدا کیا ہے،
کما کر اپنی بیوی کو خوشیاں خرید کر دینا......!!

آپ کا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے گروپوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے
10 یا 15 گروپوں میں شیئر کریں
میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر یا کاپی کرتے ہیں۔۔۔!!
آج اپنے معاشرے کا یہ تلخ پہلو کیوں نہ شیئر کریں۔۔۔؟

*آئیں ایک ایک شیئر کرکے اپنا حصہ ڈالیں۔۔۔!!*

کیا پتہ کسی کے دل میں اتر جائے یہ بات۔⚘💖۔۔
شکریہ🙏

01/02/2022

سمارٹ فون کے بغیر زندگی: ’لگتا ہے جیسے میرے دماغ سے دباؤ اتر گیا ہو‘

ایک ایسی دنیا میں جہاں ہم میں سے اکثر لوگ ہر وقت اپنے سمارٹ فون سے بندھے رہتے ہیں، وہیں ایک ایسی خاتون بھی ہیں جنھوں نے اپنے سمارٹ فون کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

ہم بات کر رہے ہیں 36 سالہ ڈلسی کاؤلنگ کی جنھوں نے گذشتہ برس کے آخری دنوں میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اپنی ذہنی صحت بہتر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سمارٹ فون سے پیچھا چھڑا لیا جائے۔

چنانچہ کرسمس کے دن انھوں نے اپنے گھر والوں اور دوستوں کو بتا دیا کہ وہ واپس اپنے پرانے ’نوکیا‘ فون پر جا رہی ہیں، یعنی وہ فون جس سے آپ صرف کال اور ٹیکسٹ میسج بھیج یا وصول کر سکتے ہیں۔

ڈلسی کو وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے جب انھوں نے سمارٹ فون سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ایک دن وہ اپنے دونوں (تین اور پانچ سالہ) بیٹوں کے ساتھ ایک پارک میں بیٹھی اپنے فون پر کچھ دیکھ رہی تھیں۔ ’میں پارک میں بچوں کے کھیل کود والے حصے میں بیٹھی تھی۔ فون استعمال کرنے کے دوران میں نے اوپر نظر اٹھا کے دیکھا تو وہاں تقریباً بیس مائیں یا بچوں کے والد موجود تھے اور یہ سب اپنے اپنے فون میں مصروف تھے۔ ہر کوئی بس یوں ہی اپنے سمارٹ فون کی سکرین پر مسلسل سکرول کر رہا تھا۔‘

’میں نے سوچا یہ کب سے ہونا شروع ہو گیا؟ ہر کوئی حقیقی زندگی سے دور ہو رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ جب آپ بستر مرگ پر ہوں گے تو یہ نہیں سوچ رہے ہوں گے کہ کاش میں ٹوئٹر پر مزید وقت گزار لیتا یا انٹرنیٹ پر کوئی اور مضمون پڑھ لیتا۔‘

ڈلسی کاؤلنگ لندن کی ایک اشتہاری کمپنی کے تخلیقی شعبے کی سربراہ ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران اُن کے ذہن میں یہ خیال تقویت پکڑتا رہا کہ سمارٹ فون سے جان چھڑانا بہت ضروری ہے۔‘

میں نے سوچا کہ میں اپنے دن کا بیشتر حصہ سمارٹ فون پر ہی گزار رہی ہو اور یہ کہ اس کی بجائے میں اور کیا کر سکتی ہوں۔ سمارٹ فون پر دستیاب بہت سی سہولیات سے ہر وقت جڑے رہنے سے آپ کی توجہ بٹی رہتی ہے مگر اس کام میں خاصی ذہنی توانائی صرف ہو جاتی ہے.‘

سمارٹ فون کو ترک کرنے کے بعد اب ڈلسی کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ زیادہ پڑھا کریں گی اور سویا کریں گی۔

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں ہر دس میں سے نو افراد کے پاس سمارٹ فون موجود ہے، اور زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں سمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب بھی یہی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ہم روزانہ اوسطاً 8.4 گھنٹے فون پر گزارتے ہیں۔

لیکن کچھ لوگ، جن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بہت ہو چکا۔

مثلاً تعلیمی امور اور ٹیکنالوجی کے ماہر، ایلکس ڈنیڈن کو بھی اپنا سمارٹ فون پھینکے ہوئے دو برس ہو چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ سمارٹ فون کا رواج اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ہمیں اس کی لت پڑ گئی ہے۔ سمارٹ فون ’ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہے ہیں اور ہمارے کام کاج کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔‘

تاہم سکاٹ لینڈ کے رہائشی، ایلکس ڈنیڈن کہتے ہیں کہ ان کے سمارٹ فون ترک کرنے کی وجہ یہ تھی کہ قدرتی ماحول پر اس کے بُرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ’ہم (سمارٹ فون ٹیکنالوجی) پر بے تحاشا توانائی خرچ کر رہے ہیں اور اس سے بے شمار کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہو رہی ہے۔‘

کیا سمارٹ فون ترک کر دینے کے بعد ایلکس زیادہ خوش ہیں اور وہ زیادہ کام کر رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ اب ان کے پاس پرانے زمانے کا موبائل فون بھی نہیں ہے اور انھوں نے گھر پر بھی فون نہیں لگوایا ہے۔ اس کی بجائے اب وہ دوسرے لوگوں سے رابطے کے لیے اپنے گھر پر رکھے ہوئے کمپیوٹر پر صرف ای میل استعمال کرتے ہیں۔

’اس سے میری زندگی بہتر ہو گئی ہے۔ اب میرا دماغ ہر وقت کسی مشین سے نہیں بندھا رہتا اور مجھے اس مشین پر نہ توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے اور نہ کوئی پیسہ۔ میرا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی کا نقصان یہ ہے کہ اس کے استعمال سے ہماری زندگیاں خالی ہوتی جا رہی ہیں۔‘

01/02/2022

‏پورے سال میں صرف ایک قرض دار کا قرض اتروا دیں ، کسی بیمار کا علاج کروا دیں مستحق کو تعلیم دلوا دیں یا اچھے عمل سے کوئی ٹوٹا ہوا دل جوڑ دیں,
کسی ایک کی مشکل آسان کر دیں سمجھیں آپ کے سال کا حق ادا ہو گیا ہے♥️ 🖤

01/02/2022

‏دوبئی صحرا پر تعمیر ہوا۔کتنے بلڈرز، ہاوسنگ سوسائٹیز،ٹھیکداروں نے چولستان، تھل یا تھر یا بلوچستان جا کر نئے شہر بنانے کی کوشش کی؟سب زرعی زمینوں پر بنا رہے ہیں۔جو ملک 10ارب ڈالرز گندم کاٹن دالیں چینی منگوا چکا ہوں وہاں سوا لاکھ دریائی زمین کون دے گا کہ سمینٹ سریا اس میں ٹھوک دو؟

21/01/2022

الله تک پہنچنے کا طریقہ

حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ کے زمانے میں بغداد کے بادشاہ کی دلی تمنا تھی کہ حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ اس سے ملاقات کریں لیکن حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ کبھی بھی بادشاہ کے دربار میں تشریف نہ لے گئے ایک دن یوں ہوا کہ بادشاہ چھت پر بیٹھا تھا کہ اس نے حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ کو شاہی محل کے قریب سے گزرتے دیکھا تو اس نے فورًا حکم دیا کہ حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ کو کمند ڈال کر محل کی چھت پر کھینچ لیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا جب حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ بادشاہ کے سامنے پہنچے
تو بادشاہ نے پوچھا یہ فرمائیے آپ الله تک کیسے پہنچے ؟ حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ نے فرمایا جس طرح آپ تک پہنچا ہوں بادشاہ نے عرض کی میں سمجھا نہیں حضرت بہلول دانا رحمتہ الله علیہ نے بادشاہ سے فرمایا اے بادشاہ اگر میں خود آپ تک پہنچنا چاہتا تو نہا دھو کر لباس فاخرہ پہن کر دربان کی منتیں کر کے محل کے اندر داخل ہوتا پھر عرضی پیش کرتا پھر گھنٹوں انتظار کرتا پھر بھی ممکن تھا کہ آپ میری درخواست رد کر دیتے لیکن جب آپ نے خود مجھے بلانا چاہا تو محض کچھ لمحوں میں ہی اپنے سامنے بلا لیا اسی طرح جب الله کو اپنے بندے کی کوئی ادا پسند آتی ہے تو اسے لمحوں میں قرب کی وہ منزلیں طے کروا دی جاتی ہیں جو بڑے بڑے عابدوں کیلئے باعث رشک بن جاتی ہیں

اسلام علیکم دوستو!
ہماری زندگی میں بے شمار مسائل ایسے ہوتے ہیں جو ہم خودحل نہیں کر پاتے اور پریشان ہی رہتے ہیں حالانکہ اگر ہم انھیں لوگوں کے سامنے رکھیں تو یقیننا اس پریشانی سے بچ سکتے ہیں۔
زندگی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ھے۔اس کی قدر کیجئے اور اس کو اللہ تعالی کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں صرف کیجئے ۔
اسلام میں روحانیت کا صحیح مفھوم قرب الھی ھے۔جو شخص اللہ تعالی کے جتنے قریب ھوتا ھے وہ اتنی بڑی روحانی شخصیت ھوتا ھے۔خالص روحانی تعلیمات سے عوام الناس کو روشناس کرانے کے لئے ، جنات اور جادو ، نظر بد اور ھر قسم کی بندش کامکمل علاج بذریعہ کلام الھی اور وظائف سے کیا جاتاہے۔ پورے اعتماد سے رجوع کر یں۔
آج کے پرفتن دور میں معرفت الھی اور تصوف کی تعلیمات کو عام کر نا از حد ضروری ہے ۔
ھر قسم کے مسائل قرآن کریم کی تعلیمات اوروضائف کےذریعےحل کرواسکتے ھیں۔
یہ فورم انسانی زندگی کوکامیابی اور امن سکون سے ہمکنار کر نے کے لیے خالصتا خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ھو کر ترتیب دیا گیا ہے۔
اس میں آپ اسلام وحانیت، نفسیاتی،مذہبی واخلاقی،صحت و علاج، رشتوں کے متعلق اور ازدواجی مسائل پر بات چیت کرکے ان کو حل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اگر آپ بھی اس کاوش میں مزید اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو اپنے تمام دوستوں کو اس میں ضرور شامل کریں۔ ہمارا مقصد ایک ایسی کمیونٹی بنانا ہے ۔ جو مل جل کر ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ سکے اور حل کر سکے۔
یہاں پر آپ اپنے ھر مقصد کے لیے پوسٹ کر سکتے ہیں انشاءاللہ تسلی بخش جواب دیا جائے گا ۔
نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں اور اس میں شامل ہو جائیں اور اپنے دوستوں کو بھی اس میں شامل کریں۔
جزاک اللہ خیر

https://www.facebook.com/Welfare-100899598999729/

21/01/2022

Old stamp system
پرنٹڈ اشٹام پیپرزکا 74 سالہ نظام ختم

آن لائن کوڈسسٹم بلیک اینڈوائٹ نظام لاگو

50 روپےوالےاشٹام پیپرختم اب جاری واستعمال نہ ہوسکیں گے

آن لائن کوڈسسٹم کے 1200 100٫200٫600٫روپےکے
4 مختلف پیپرزجاری ہوسکیں گے

1200 والےاشٹام پراپرٹی،معاہدوں،ایگریمنٹس کیلئے استعمال ہونگے

600 والےاشٹام مختارنامہ کیلئے

200 والےاشٹام ملٹی پرپزکیلئےاستعمال میں لایاجائیں گے

100 روپےوالےاشٹام پیپرز پانی،بجلی،سوئی گیس،ٹیلی فون،کنکشنوں کےبیان حلفی عدالتوں میں جمع کرائےجانیوالےبیان حلفی کیلئےاستعمال ہوسکیں گے

اس نظام کےتحت ہراشٹام فروش کولیپ ٹاپ،پرنٹراور
انٹرنیٹ لازمی رکھناہوگا

یہ اشٹام فروش کےاضافی اخراجات ہونگے

اس نئےسسٹم سےسرکارکوکلراورانتہائی مہنگےپیپرزپر
اشٹام کی چھپائی مہنگےکاغذکی خریداری کی مدمیں
سالانہ اربوں روپےکی بچت ہوگی

اور
اشٹام پیپرکی سکیورٹی کی مدمیں تمام اخراجات بی بچیں گے اوریہ آفس مکمل ختم ہوجائیں گے

پچھلے پچاس برسوں یعنی 1971 سے لے کر اب تک ٹیکسٹائل سیکٹر ہمارا کماؤ پوت اور فوج کے بعد سب سے لاڈلا سپوت ہے۔  ہماری تقریب...
06/01/2022

پچھلے پچاس برسوں یعنی 1971 سے لے کر اب تک ٹیکسٹائل سیکٹر ہمارا کماؤ پوت اور فوج کے بعد سب سے لاڈلا سپوت ہے۔

ہماری تقریباً پوری ایکسپورٹ سٹریٹجی ٹیکسٹائل کے اردگرد گھومتی ہے۔ اس سیکٹر کو ترجیحی اور رعایتی نرخوں پر خام مال، بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے، اسے سستے انٹرسٹ ریٹ پر ورکنگ کیپیٹل مہیا کرنے اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی سہولت دینے میں ریاست کا اربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ ایپٹما یا آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن ایک کارٹیل کی طرح حکومتوں پر دباؤ ڈالتا اور اپنی من مرضی کی مراعات وصول کرتا ہے۔ بڑی حد تک آپ اسے ایک رینٹ سیکنگ rent seeking مافیا بھی کہہ سکتے ہیں۔

اب اس کی ماننا ہر حکومت کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ہمارے مینوفیکچرنگ سیکٹر کا 46 فیصد ہے اور ہماری کل لیبر فورس کا 40 فیصد ٹیکسٹائل سے وابستہ ہے۔ ہماری جی ڈی پی میں اس کا حصہ نو فیصد مطلب 27 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اور ہماری کل برآمدات میں ہر سال اس کا حصہ 60 تا 70 فیصد کے قریب رہتا ہے۔

لیکن ہمارے اس رستم پہلوان کو جب آپ گلوبل انڈسٹری میں رکھ کر دیکھتے ہیں تو یہ مچھر ثابت ہوتا ہے۔ تین کھرب ڈالرز کی گلوبل ٹیکسٹائل میں اس کا شئیر ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ جبکہ 2020 میں سات سو ارب ڈالر کی گلوبل ایکسپورٹس میں اس کا حصہ بمشکل ساڑھے پندرہ ارب ڈالرز یا دو فیصد کے قریب تھا۔

سنگاپور جیسی سٹی سٹیٹ جو ایک کلوگرام کپاس بھی خود پیدا نہیں کرتی، اس کی برآمدات بھی 2020 میں تقریباً ہمارے برابر تھیں، اور وہاں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو قدم جمائے بمشکل بیس برس ہوئے ہیں۔

مطلب مجھے ٹیکسٹائل سے کوئی عداوت نہیں ہے، بتانا صرف یہ چاہتا ہوں کہ اگلے پچاس برس بھی ہم اس سیکٹر کو سونے کا نوالہ کھلاتے رہیں تو اس سے ہمیں دودھ کم اور مینگنیاں زیادہ ہی حاصل ہونی ہیں۔ گلوبلی اس انڈسٹری کی گروتھ بمشکل سات آٹھ فیصد ہے۔ مقابلہ اتنا بڑھ چکا کہ ویت نام جیسے ملک ہمیں پھلانگ کر ٹاپ ٹین ایکسپورٹرز میں شامل ہو چکے۔ ہم بہت تیر ماریں تو ہماری ٹیکسٹائل برآمدات اگلے دس برس میں شاید پچاس ساٹھ فیصد بڑھ جائیں۔

اب آ جائیں انفرمیشن ٹیکنالوجی کی طرف۔ اس انڈسٹری کا گلوبل سائز پانچ کھرب ڈالرز ہے، سالانہ گروتھ کی شرح بارہ سے پندرہ فیصد کے قریب ہے۔ ہمارے جی ڈی پی میں اس کا حصہ بمشکل ساڑھے تین ارب ڈالرز کے لگ بھگ بنتا ہے۔ لیکن یہ ساڑھے تین ارب ڈالرز کی انڈسٹری اس برس آپ کو ڈھائی ارب ڈالرز کی برآمدات کر کے دے گی۔ پچھلے مالی سال میں اس انڈسٹری نے اس سے پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ایکسپورٹ کی تھیں۔ اس برس تقریباً پچاس فیصد بہتری کی توقع ہے۔ یعنی اپنے سائز کے ستر فیصد سے بھی زیادہ یہ انڈسٹری آپ کو ایکسپورٹ کر کے دے رہی ہے۔

اور اسے مراعات کیا مل رہی ہیں؟ کچھ بھی نہیں۔ الٹا جو ترغیبات پچھلے دور میں ملیں ان میں سے بھی آدھی واپس ہو چکی ہیں اور الٹا کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر ٹیکس بھی ٹھوک دیا گیا ہے۔

اور آئی ٹی انڈسٹری کو چاہئے کیا؟ فقط بجلی اور انٹرنیٹ کی بلاتعطل اور تیز تر فراہمی۔ اس کے ساتھ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی مد میں چند کروڑ کی چھوٹ اور ہنرمند افرادی قوت۔ اور بس۔

نہ تو اس سیکٹر کو گروتھ اور ایکسپنشن کیلئے کروڑوں ڈالرز کے پلانٹ اور مشینری درکار ہے۔ نہ اس کیلئے آپ کو اپنی لاکھوں ایکڑ زرعی و جنگلاتی اراضی برباد کرنے کی ضرورت ہے۔ نہ ہی اس کی سپلائی چین لاکھوں ڈالرز کی انویسٹمنٹ مانگتی ہے۔

دس بائی اٹھارہ کے کمرے میں بیٹھے چار پانچ ڈویلپرز مل کر دنیا میں دھوم مچا دیتے ہیں اور یہ خوابوں خیالوں کی بات نہیں ہے، تقریباً ہر روز ہی ایسا ہو رہا ہے۔ ہمیں افرادی قوت میں بھی ہر بندہ یونیورسٹی گریجویٹ درکار نہیں ہے۔ ان کی بھی ضرورت ہے اور وہ بیچارے بھی باافراط پائے جاتے ہیں۔

لیکن آئی ٹی کے بہت سے ذیلی شعبے ایسے ہیں جہاں ہمارے لاکھوں بچے بچیاں چھ چھ ماہ اور ایک ایک سال کے شارٹ کورسز کر کے بھی اینٹری لیول کی پوزیشنز پر کام سنبھال سکتے ہیں۔ آپ صرف کمپیوٹر، لیپ ٹاپس اور موبائلز سستے کر دیں۔ انفرمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ دیگر آلات کی درآمد پر تھوڑی سی چھوٹ دے دیں۔ جو خسارہ آپ کو ٹیکسز کی مد میں ہوگا اس سے کہیں زیادہ آپ فارن کرنسی میں ریوینیو کما لیں گے۔ اس کے علاوہ حکومت کو کچھ بھی نہیں کرنا، صرف اچھی پالیسیز اور فریم ورک تشکیل دینے ہیں۔

پانچ ہزار ارب ڈالرز کی گلوبل آئی ٹی انڈسٹری کا اگلے پانچ برس میں ہم صرف ایک فیصد، جی ہاں صرف ایک فیصد شئیر بھی اپنی طرف کھینچ لیں تو یہ پچاس ارب ڈالرز بنتے ہیں۔ اور ہماری لوکل آئی ٹی انڈسٹری پچاس ارب ڈالرز کی ہو جائے تو یہ پچیس سے تیس ارب ڈالرز کی سالانہ ایکسپورٹ کے قابل ہو جائے گی۔

مطلب جتنا ایکسپورٹ ریوینیو آپ پچاس سال ٹیکسٹائل پہ انویسٹمنٹ کر کے کسی ایک سال میں بھی نہیں حاصل کر سکے، آئی ٹی وہ آپ کو پانچ سال میں دلوا سکتی ہے۔

اب خیر موجودہ سیٹ اپ سے تو کسی اچھائی کی توقع ہی حماقت ہے۔ خدا کرے ان سے جلد جان چھوٹے۔ نئی حکومت جو بھی آئے اس سے میرا صرف ایک ہی مطالبہ ہوگا۔

وہ یہ کہ جتنی مراعات، جتنی سہولتیں اور جتنا لاڈپیار، آپ پچھلے پچاس برس سے ٹیکسٹائل، پچھلے تیس برس سے شوگر اور پچھلے بیس برس سے رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کو دیتے چلے آ رہے ہیں؛ صرف پانچ برس کیلئے ان سے آدھی سہولتیں، مراعات اور توجہ آئی ٹی کو دے کر دیکھ لیں۔

ان شاءاللہ پاکستان کی کایا پلٹ سکتی ہے۔
https://youtube.com/channel/UC2uGOioEePhiOylk_3riv8g

https://www.facebook.com/QAZI-315188672278101/

Thank you for visit our channel. Official YouTube channel of Qazi Visuals. Keep watching & sharing. Lovely friends,here we gonna shareNews & entertainment, ...

Address

Islamabad

Telephone

+923315778090

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when QAZI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category