06/01/2022
پچھلے پچاس برسوں یعنی 1971 سے لے کر اب تک ٹیکسٹائل سیکٹر ہمارا کماؤ پوت اور فوج کے بعد سب سے لاڈلا سپوت ہے۔
ہماری تقریباً پوری ایکسپورٹ سٹریٹجی ٹیکسٹائل کے اردگرد گھومتی ہے۔ اس سیکٹر کو ترجیحی اور رعایتی نرخوں پر خام مال، بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے، اسے سستے انٹرسٹ ریٹ پر ورکنگ کیپیٹل مہیا کرنے اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی سہولت دینے میں ریاست کا اربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ ایپٹما یا آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن ایک کارٹیل کی طرح حکومتوں پر دباؤ ڈالتا اور اپنی من مرضی کی مراعات وصول کرتا ہے۔ بڑی حد تک آپ اسے ایک رینٹ سیکنگ rent seeking مافیا بھی کہہ سکتے ہیں۔
اب اس کی ماننا ہر حکومت کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ہمارے مینوفیکچرنگ سیکٹر کا 46 فیصد ہے اور ہماری کل لیبر فورس کا 40 فیصد ٹیکسٹائل سے وابستہ ہے۔ ہماری جی ڈی پی میں اس کا حصہ نو فیصد مطلب 27 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اور ہماری کل برآمدات میں ہر سال اس کا حصہ 60 تا 70 فیصد کے قریب رہتا ہے۔
لیکن ہمارے اس رستم پہلوان کو جب آپ گلوبل انڈسٹری میں رکھ کر دیکھتے ہیں تو یہ مچھر ثابت ہوتا ہے۔ تین کھرب ڈالرز کی گلوبل ٹیکسٹائل میں اس کا شئیر ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ جبکہ 2020 میں سات سو ارب ڈالر کی گلوبل ایکسپورٹس میں اس کا حصہ بمشکل ساڑھے پندرہ ارب ڈالرز یا دو فیصد کے قریب تھا۔
سنگاپور جیسی سٹی سٹیٹ جو ایک کلوگرام کپاس بھی خود پیدا نہیں کرتی، اس کی برآمدات بھی 2020 میں تقریباً ہمارے برابر تھیں، اور وہاں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو قدم جمائے بمشکل بیس برس ہوئے ہیں۔
مطلب مجھے ٹیکسٹائل سے کوئی عداوت نہیں ہے، بتانا صرف یہ چاہتا ہوں کہ اگلے پچاس برس بھی ہم اس سیکٹر کو سونے کا نوالہ کھلاتے رہیں تو اس سے ہمیں دودھ کم اور مینگنیاں زیادہ ہی حاصل ہونی ہیں۔ گلوبلی اس انڈسٹری کی گروتھ بمشکل سات آٹھ فیصد ہے۔ مقابلہ اتنا بڑھ چکا کہ ویت نام جیسے ملک ہمیں پھلانگ کر ٹاپ ٹین ایکسپورٹرز میں شامل ہو چکے۔ ہم بہت تیر ماریں تو ہماری ٹیکسٹائل برآمدات اگلے دس برس میں شاید پچاس ساٹھ فیصد بڑھ جائیں۔
اب آ جائیں انفرمیشن ٹیکنالوجی کی طرف۔ اس انڈسٹری کا گلوبل سائز پانچ کھرب ڈالرز ہے، سالانہ گروتھ کی شرح بارہ سے پندرہ فیصد کے قریب ہے۔ ہمارے جی ڈی پی میں اس کا حصہ بمشکل ساڑھے تین ارب ڈالرز کے لگ بھگ بنتا ہے۔ لیکن یہ ساڑھے تین ارب ڈالرز کی انڈسٹری اس برس آپ کو ڈھائی ارب ڈالرز کی برآمدات کر کے دے گی۔ پچھلے مالی سال میں اس انڈسٹری نے اس سے پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ایکسپورٹ کی تھیں۔ اس برس تقریباً پچاس فیصد بہتری کی توقع ہے۔ یعنی اپنے سائز کے ستر فیصد سے بھی زیادہ یہ انڈسٹری آپ کو ایکسپورٹ کر کے دے رہی ہے۔
اور اسے مراعات کیا مل رہی ہیں؟ کچھ بھی نہیں۔ الٹا جو ترغیبات پچھلے دور میں ملیں ان میں سے بھی آدھی واپس ہو چکی ہیں اور الٹا کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر ٹیکس بھی ٹھوک دیا گیا ہے۔
اور آئی ٹی انڈسٹری کو چاہئے کیا؟ فقط بجلی اور انٹرنیٹ کی بلاتعطل اور تیز تر فراہمی۔ اس کے ساتھ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی مد میں چند کروڑ کی چھوٹ اور ہنرمند افرادی قوت۔ اور بس۔
نہ تو اس سیکٹر کو گروتھ اور ایکسپنشن کیلئے کروڑوں ڈالرز کے پلانٹ اور مشینری درکار ہے۔ نہ اس کیلئے آپ کو اپنی لاکھوں ایکڑ زرعی و جنگلاتی اراضی برباد کرنے کی ضرورت ہے۔ نہ ہی اس کی سپلائی چین لاکھوں ڈالرز کی انویسٹمنٹ مانگتی ہے۔
دس بائی اٹھارہ کے کمرے میں بیٹھے چار پانچ ڈویلپرز مل کر دنیا میں دھوم مچا دیتے ہیں اور یہ خوابوں خیالوں کی بات نہیں ہے، تقریباً ہر روز ہی ایسا ہو رہا ہے۔ ہمیں افرادی قوت میں بھی ہر بندہ یونیورسٹی گریجویٹ درکار نہیں ہے۔ ان کی بھی ضرورت ہے اور وہ بیچارے بھی باافراط پائے جاتے ہیں۔
لیکن آئی ٹی کے بہت سے ذیلی شعبے ایسے ہیں جہاں ہمارے لاکھوں بچے بچیاں چھ چھ ماہ اور ایک ایک سال کے شارٹ کورسز کر کے بھی اینٹری لیول کی پوزیشنز پر کام سنبھال سکتے ہیں۔ آپ صرف کمپیوٹر، لیپ ٹاپس اور موبائلز سستے کر دیں۔ انفرمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ دیگر آلات کی درآمد پر تھوڑی سی چھوٹ دے دیں۔ جو خسارہ آپ کو ٹیکسز کی مد میں ہوگا اس سے کہیں زیادہ آپ فارن کرنسی میں ریوینیو کما لیں گے۔ اس کے علاوہ حکومت کو کچھ بھی نہیں کرنا، صرف اچھی پالیسیز اور فریم ورک تشکیل دینے ہیں۔
پانچ ہزار ارب ڈالرز کی گلوبل آئی ٹی انڈسٹری کا اگلے پانچ برس میں ہم صرف ایک فیصد، جی ہاں صرف ایک فیصد شئیر بھی اپنی طرف کھینچ لیں تو یہ پچاس ارب ڈالرز بنتے ہیں۔ اور ہماری لوکل آئی ٹی انڈسٹری پچاس ارب ڈالرز کی ہو جائے تو یہ پچیس سے تیس ارب ڈالرز کی سالانہ ایکسپورٹ کے قابل ہو جائے گی۔
مطلب جتنا ایکسپورٹ ریوینیو آپ پچاس سال ٹیکسٹائل پہ انویسٹمنٹ کر کے کسی ایک سال میں بھی نہیں حاصل کر سکے، آئی ٹی وہ آپ کو پانچ سال میں دلوا سکتی ہے۔
اب خیر موجودہ سیٹ اپ سے تو کسی اچھائی کی توقع ہی حماقت ہے۔ خدا کرے ان سے جلد جان چھوٹے۔ نئی حکومت جو بھی آئے اس سے میرا صرف ایک ہی مطالبہ ہوگا۔
وہ یہ کہ جتنی مراعات، جتنی سہولتیں اور جتنا لاڈپیار، آپ پچھلے پچاس برس سے ٹیکسٹائل، پچھلے تیس برس سے شوگر اور پچھلے بیس برس سے رئیل اسٹیٹ سیکٹرز کو دیتے چلے آ رہے ہیں؛ صرف پانچ برس کیلئے ان سے آدھی سہولتیں، مراعات اور توجہ آئی ٹی کو دے کر دیکھ لیں۔
ان شاءاللہ پاکستان کی کایا پلٹ سکتی ہے۔
https://youtube.com/channel/UC2uGOioEePhiOylk_3riv8g
https://www.facebook.com/QAZI-315188672278101/
Thank you for visit our channel. Official YouTube channel of Qazi Visuals. Keep watching & sharing. Lovely friends,here we gonna shareNews & entertainment, ...