02/03/2026
*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*13 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ*
*2 مارچ 2026 عِیسَـوی سوموار*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 25-26*
*قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِىْ صَدْرِىْ (25)*
*وَيَسِّـرْ لِـىٓ اَمْرِىْ (26)*
*وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِىْ (27)*
*يَفْقَهُوْا قَوْلِىْ (28)*
*📜ترجمہ:*
*موسی ( علیہ السلام ) نے عرض کیا ” پروردگار ، میرا سینہ کھول دے ، 14*
*اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے*
*اور میری زبان کی گرہ سلجھا دے*
*تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں ، 15*
*📜English Translation:*
*Moses said: ""Lord! Open up my heart for me;*
*and ease my task for me*
*and loosen the knot from my tongue*
*so that they may understand my speech;*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین،"اے ربِ ذوالجلال! ہمارے سینوں کو اپنے کلام کی فہم کے لیے کشادہ فرما دے۔ ہمارے مشن کو ہمارے لیے آسان کر دے اور ہماری زبانوں کی لکنت دور فرما، تاکہ جب ہم دین کی تبلیغ، تعلیم اور معاشرتی اصلاح کی بات کریں، تو لوگ اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور وہ ان کے دلوں میں گھر کر جائے۔"آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿”O Almighty ALLAH, O Lord of Majesty! Open our hearts to the wisdom of Your message. Grant us success and ease in our mission, and bless us with such clarity of speech that when we share the teachings of religion and social guidance, our words are easily understood and leave a lasting impact on people's hearts.”Ameen.🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :14*
*یعنی میرے دل میں اس منصب عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے ۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے ۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسیٰ ؑ کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی ، اس لیے آپ نے دعا کی کہ مجھے وہ صبر ، وہ ثبات ، وہ تحمل ، وہ بے خوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکار ہے ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :15*
*بائیبل میں اس کی جو تشریح بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا ’’ اے خداوند ، میں فصیح نہیں ہوں نہ پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تو نے اپنے بندے سے کلام کیا۔ بلکہ رک رک کر بولتا ہوں اور میری زبان کند ہے ‘‘ ( خروج 10:4 ) ۔مگر تلمود میں اس کا ایک لمبا چوڑا قصہ بیان ہوا ہے ۔اس میں یہ ذکر ہے کہ بچپن میں جب حضرت موسیٰ ؑ فرعون کے گھر پرورش پا رہے تھے، ایک روز انہوں نے فرعون کے سر کا تاج اتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوا کہ اس بچے نے یہ کام بلاارادہ کیا ہے یا یہ محض طفلانہ فعل ہے۔ آخرکار یہ تجویز کیا گیا کہ بچے کے سامنے سونا اور آگ دونوں ساتھ رکھے جائیں۔ چنانچہ دونوں چیزیں لا کر سامنے رکھی گئیں اور حضرت موسیٰ ؑ نے اٹھا کر آگ منہ میں رکھ لی۔ اس طرح ان کی جان تو بچ گئی ، مگر زبان میں ہمیشہ کے لیے لکنت پڑ گئی ۔
یہی قصہ اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گیا۔ لیکن عقل اسے ماننے سے انکار کرتی ہے ۔ اس لیے کہ اگر بچے نے آگ پر ہاتھ مارا بھی ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ وہ انگارے کو اٹھا کر منہ میں لے جا سکے بچہ تو آگ کی جلن محسوس کرتے ہی ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ منہ میں لے جانے کی نوبت ہی کہاں آ سکتی ہے؟ قرآن کے الفاظ سے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اندر خطابت کی صلاحیت نہ پاتے تھے اور ان کو اندیشہ لاحق تھا کہ نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے اگر تقریر کی ضرورت کبھی پیش آئی ( جس کا انہیں اس وقت تک اتفاق نہ ہوا تھا) تو ان کی طبیعت کی جھجک مانع ہو جائے گی۔ اس لیے انہوں نے دعا فرمائی کہ یا اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ میں اچھی طرح اپنی بات لوگوں کو سمجھا سکوں ۔ یہی چیز تھی جس کا فرعون نے ایک مرتبہ ان کو طعنہ دیا کہ یہ شخص تو اپنی بات بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتا ‘‘ «( لَا یَکَادُ یُبِیْنُ ۔ الزُخْرف ۔ 52 )»* *اور یہی کمزوری تھی جس کو محسوس کر کے حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون کو مددگار کے طور پر مانگا۔ سورہ قصص میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے ، «وَاَخِیْ ھٰرُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَاناً فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْاً» ،’’ میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے، اس کو میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج ۔‘‘ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی یہ کمزوری دور ہو گئی تھی اور وہ خوب زور دار تقریر کرنے لگے تھے، چنانچہ قرآن میں اور بائیبل میں ان کی بعد کے دور کی جو تقریریں آئی ہیں وہ کمال فصاحت و طاقت لسانی کی شہادت دیتی ہیں*۔
*یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ہکلے یا توتلے آدمی کو اپنا رسول مقرر فرمائے۔ رسول ہمیشہ شکل، صورت، شخصیت اور صلاحیتوں کے لحاظ سے بہترین لوگ ہوئے ہیں جن کے ظاہر و باطن کا ہر پہلو دلوں اور نگاہوں کو متاثر کرنے والا ہوتا تھا۔ کوئی رسول ایسے عیب کے ساتھ نہیں بھیجا گیا اور نہیں بھیجا جا سکتا تھا جس کی بنا پر وہ لوگوں میں مضحکہ بن جائے یا حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (٥٢ تا ٥٣) اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہلکی ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔*
•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
•┈•❀❁❀•┈•