Homoeopathic Doctor Mahmood ul Haq Abbasi

Homoeopathic Doctor Mahmood ul Haq Abbasi Ex President,Member National Council for Homoeopathy,Govt of pakistan. Let like be cured by likes

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
02/03/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*13 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*2 مارچ 2026 عِیسَـوی سوموار*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 25-26*
*قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِىْ صَدْرِىْ (25)*
*وَيَسِّـرْ لِـىٓ اَمْرِىْ (26)*
*وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِىْ (27)*
*يَفْقَهُوْا قَوْلِىْ (28)*
*📜ترجمہ:*
*موسی ( علیہ السلام ) نے عرض کیا ” پروردگار ، میرا سینہ کھول دے ، 14*
*اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے*
*اور میری زبان کی گرہ سلجھا دے*
*تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں ، 15*
*📜English Translation:*
*Moses said: ""Lord! Open up my heart for me;*
*and ease my task for me*
*and loosen the knot from my tongue*
*so that they may understand my speech;*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین،"اے ربِ ذوالجلال! ہمارے سینوں کو اپنے کلام کی فہم کے لیے کشادہ فرما دے۔ ہمارے مشن کو ہمارے لیے آسان کر دے اور ہماری زبانوں کی لکنت دور فرما، تاکہ جب ہم دین کی تبلیغ، تعلیم اور معاشرتی اصلاح کی بات کریں، تو لوگ اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور وہ ان کے دلوں میں گھر کر جائے۔"آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿”O Almighty ALLAH, O Lord of Majesty! Open our hearts to the wisdom of Your message. Grant us success and ease in our mission, and bless us with such clarity of speech that when we share the teachings of religion and social guidance, our words are easily understood and leave a lasting impact on people's hearts.”Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :14*
*یعنی میرے دل میں اس منصب عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے ۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے ۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسیٰ ؑ کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی ، اس لیے آپ نے دعا کی کہ مجھے وہ صبر ، وہ ثبات ، وہ تحمل ، وہ بے خوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکار ہے ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :15*
*بائیبل میں اس کی جو تشریح بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا ’’ اے خداوند ، میں فصیح نہیں ہوں نہ پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تو نے اپنے بندے سے کلام کیا۔ بلکہ رک رک کر بولتا ہوں اور میری زبان کند ہے ‘‘ ( خروج 10:4 ) ۔مگر تلمود میں اس کا ایک لمبا چوڑا قصہ بیان ہوا ہے ۔اس میں یہ ذکر ہے کہ بچپن میں جب حضرت موسیٰ ؑ فرعون کے گھر پرورش پا رہے تھے، ایک روز انہوں نے فرعون کے سر کا تاج اتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوا کہ اس بچے نے یہ کام بلاارادہ کیا ہے یا یہ محض طفلانہ فعل ہے۔ آخرکار یہ تجویز کیا گیا کہ بچے کے سامنے سونا اور آگ دونوں ساتھ رکھے جائیں۔ چنانچہ دونوں چیزیں لا کر سامنے رکھی گئیں اور حضرت موسیٰ ؑ نے اٹھا کر آگ منہ میں رکھ لی۔ اس طرح ان کی جان تو بچ گئی ، مگر زبان میں ہمیشہ کے لیے لکنت پڑ گئی ۔
یہی قصہ اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گیا۔ لیکن عقل اسے ماننے سے انکار کرتی ہے ۔ اس لیے کہ اگر بچے نے آگ پر ہاتھ مارا بھی ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ وہ انگارے کو اٹھا کر منہ میں لے جا سکے بچہ تو آگ کی جلن محسوس کرتے ہی ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ منہ میں لے جانے کی نوبت ہی کہاں آ سکتی ہے؟ قرآن کے الفاظ سے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اندر خطابت کی صلاحیت نہ پاتے تھے اور ان کو اندیشہ لاحق تھا کہ نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے اگر تقریر کی ضرورت کبھی پیش آئی ( جس کا انہیں اس وقت تک اتفاق نہ ہوا تھا) تو ان کی طبیعت کی جھجک مانع ہو جائے گی۔ اس لیے انہوں نے دعا فرمائی کہ یا اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ میں اچھی طرح اپنی بات لوگوں کو سمجھا سکوں ۔ یہی چیز تھی جس کا فرعون نے ایک مرتبہ ان کو طعنہ دیا کہ یہ شخص تو اپنی بات بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتا ‘‘ «( لَا یَکَادُ یُبِیْنُ ۔ الزُخْرف ۔ 52 )»* *اور یہی کمزوری تھی جس کو محسوس کر کے حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون کو مددگار کے طور پر مانگا۔ سورہ قصص میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے ، «وَاَخِیْ ھٰرُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَاناً فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْاً» ،’’ میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے، اس کو میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج ۔‘‘ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی یہ کمزوری دور ہو گئی تھی اور وہ خوب زور دار تقریر کرنے لگے تھے، چنانچہ قرآن میں اور بائیبل میں ان کی بعد کے دور کی جو تقریریں آئی ہیں وہ کمال فصاحت و طاقت لسانی کی شہادت دیتی ہیں*۔
*یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ہکلے یا توتلے آدمی کو اپنا رسول مقرر فرمائے۔ رسول ہمیشہ شکل، صورت، شخصیت اور صلاحیتوں کے لحاظ سے بہترین لوگ ہوئے ہیں جن کے ظاہر و باطن کا ہر پہلو دلوں اور نگاہوں کو متاثر کرنے والا ہوتا تھا۔ کوئی رسول ایسے عیب کے ساتھ نہیں بھیجا گیا اور نہیں بھیجا جا سکتا تھا جس کی بنا پر وہ لوگوں میں مضحکہ بن جائے یا حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (٥٢ تا ٥٣) اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہلکی ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
26/02/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*8 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*26 فروری 2026 عِیسَـوی جمعرات*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 15-16*
*اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْـهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰى (15)*
*فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْـهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِـهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَـتَـرْدٰى (16)*
*📜ترجمہ:*
*قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے ۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں ، تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے ۔ 10*
*پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ *
*📜English Translation:*
*The Hour of Resurrection is coming. I have willed to keep the time of its coming hidden so that everyone may be recompensed in accordance with his effort.*
*Let him who does not believe in it and follows his lust not turn your thought away from it lest you are ruined.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ اور آپ ہی نے اس کا وقت مصلحتأ مخفی رکھا ہوا ہے تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق عمل کرے اور بدلہ پائے۔پس ہمیں اس پر کامل یقین اور ایمان عطا فرما۔ اپنی رضا سے اطاعت و بندگی والی زندگی عطا فرما خواہش نفس کا بندہ بننے سے بچا،اور اس گھڑی کی فکر عطا فرما، اور ہمیں اس گھڑی کی ہلاکت سے بچا لے۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, Lord of the worlds, the Hour of Judgment is surely coming. And it is You who has kept its time hidden for expediency so that every soul will act according to its effort and get reward. So grant us complete faith and faith in it. Grant us a life of obedience and servitude by your will, save us from becoming a slave of desire, and give us the care of this hour, and save us from the destruction of this hour.Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :10
توحید کے بعد دوسری حقیقت جو ہر زمانے میں تمام انبیاء علیہم السلام پر منکشف کی گئی اور جس کی تعلیم دینے پر وہ مامور کیے گئے ، آخرت ہے ۔ یہاں نہ صرف اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کے مقصد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔ یہ ساعت منتظرہ اس لیے آئے گی کہ ہر شخص نے دنیا میں جو سعی کی ہے اس کا بدلہ آخرت میں پائے ۔ اور اس کے وقت کو مخفی بھی اس لیے رکھا گیا ہے کہ آزمائش کا مدعا پورا ہو سکے ۔ جسے عاقبت کی کچھ فکر ہو اس کو ہر وقت اس گھڑی کا کھٹکا لگا رہے اور یہ کھٹکا اسے بے راہ روی سے بچاتا رہے ۔ اور جو دنیا میں گم رہنا چاہتا ہو وہ اس خیال میں مگن رہے کہ قیامت ابھی کہیں دور دور بھی آتی نظر نہیں آتی ۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
24/02/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*6 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*24 فروری 2026 عِیسَـوی منگل*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 11-12*
*فَلَمَّآ اَتَاهَا نُـوْدِىَ يَا مُوْسٰى (11)*
*اِنِّـىٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى (12)*
*📜ترجمہ:*
*وہاں پہنچا تو پکارا گیا*
*اے موسی ( علیہ السلام ) ، میں ہی تیرا رب ہوں ، جوتیاں اتار دے ۔ 7 تو وادی مقدس طوی میں ہے ۔ 8*
*📜English Translation:*
*When he came to it a voice called out: ""Moses!*
*Verily I am your Lord! Take off your shoes. You are in the sacred valley Tuwa!*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، جس طرح تو نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اندھیری رات میں اپنی پکار سے نوازا اور انہیں تنہائی میں اپنی قربت کا احساس دلایا، ہمارے دلوں کو بھی اپنی یاد اور معرفت کے نور سے روشن کر دے۔ جب ہم زندگی کے راستوں میں بھٹکنے لگیں، تو ہمیں بھی اسی طرح اپنے کلام پاک کی پکار سننا نصیب فرما اور قران مقدس کی طرف بلا لے اور ادراک حقیقی نصیب فرما کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ ہمیں ہدایت کا وہ راستہ دکھا جو سیدھا تیری طرف جاتا ہو۔ یا رب ہمیں اپنے حضور عجز و انکساری اور ادب نصیب فرما۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿”O Almighty ALLAH, Just as You blessed Prophet Moses (peace be upon him) with Your call in the darkness of the night and granted him the sense of Your closeness in his solitude, enlighten our hearts as well with the light of Your remembrance and divine recognition. When we begin to wander astray in the paths of life, grant us the privilege of hearing the call of Your Holy Word and summon us toward the Sacred Quran. Grant us the true realization that You alone are our Lord. Show us the path of guidance that leads directly to You. O ALLAH, bestow upon us humility and true reverence in Your presence.”Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :7*
*غالباً اسی واقعہ کی وجہ سے یہودیوں میں یہ شرعی مسئلہ بن گیا کہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے فرمایا : «خالفوا الیھود فانھم لا یصلّون فی فعالہم ولا خفافہم ،» یہودیوں کے خلاف عمل کرو ۔ کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے ‘‘ ( ابوداؤد ) ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضرور جوتے ہی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے ، اس لیے دونوں طرح عمل کرو ۔ ابوداؤد میں عمْرو ؓ بن عاص کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔ مسند احمد اور ابوداؤد میں ابوسعید خُدرِی ؓ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا ’’ جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے ۔ اگر کوئی گندگی لگی ہو تو زمین سے رگڑ کر صاف کر لے اور انہی جوتوں کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ کی روایت میں حضور کے یہ الفاظ ہیں ’’ اگر تم میں سے کسی نے اپنے جوتے سے گندگی کو پامال کیا ہو تو مٹی اس کو پاک کر دینے کے لیے کافی ہے ۔‘‘ اور حضرت ام سَلَمہ کی روایت میں ہے : «یطھرہ مابعدہ» ، یعنی ’’ ایک جگہ گندگی لگی ہو گی تو دوسری جگہ جاتے جاتے خود زمین ہی اس کو پاک کر دے گی ۔‘‘ ان کثیرالتعداد روایات کی بنا پر امام ابوحنیفہ ، امام ابویوسف ، امام اوزاعی اور اسحاق بن راھَوَیہ وغیرہ فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ جوتا ہر حال میں زمین کی مٹی سے پاک ہو جاتا ہے ۔ ایک ایک قول امام احمد اور امام شافعی کا بھی اس کی تائید میں ہے ۔ مگر امام شافعی کا مشہور قول اس کے خلاف ہے ۔ غالباً وہ جوتا پہن کر نماز پڑھنے کو ادب کے خلاف سمجھ کر منع کرتے ہیں ، اگرچہ سمجھا یہی گیا ہے کہ ان کے نزدیک جوتا مٹی پر رگڑنے سے پاک نہیں ہوتا ۔ ( اس سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسجد نبوی میں چٹائی تک کا فرش نہ تھا ، بلکہ کنکریاں بچھی ہوئی تھیں ۔ لہذا ان احادیث سے استدلال کر کے اگر کوئی شخص آج کی مسجدوں کے فرش پر جوتے لے جانا چاہے تو یہ صحیح نہ ہو گا ۔ البتہ گھاس پر یا کھلے میدان میں جوتے پہنے پہنے نماز پڑھ سکتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو میدان میں نماز جنازہ پڑھتے وقت بھی جوتے اتارنے پر اصرار کرتے ہیں ، وہ دراصل احکام سے ناواقف ہیں ) ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :8*
*عام خیال یہ ہے کہ ’’ طویٰ ‘‘ اس وادی کا نام تھا ۔ مگر بعض مفسرین نے ’’ وادی مقدس طُویٰ ‘‘ کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ ’’ وہ وادی جو ایک ساعت کے لیے مقدس کر دی گئی ہے ۔‘‘*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*فلمآ اتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی* (٢١ : ٦١) ’ *اور میں نے تجھے چن لیا ہے سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ انسان کا خون خشک ہوجاتا ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ محض اس منظر کے تصور سے ایک غیرآباد پہاڑی پر موسیٰ اکیلے کھڑے ہیں۔ تاریک اور سیاہ رات ہے۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا، عجیب اور خوفناک خاموشی ہے طور کے دامن سے انہوں نے آگ دیکھی تھی وہ اس کی تلاش میں نکلے تھے لیکن ان کو ہر طرف سے پوری کائنات کی طرف سے یہ ندا آرہی ہے : انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لما یوحی (٣١) (٠٢ : ٢١۔ ٣١) اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں جو تیاں اتار دے تو وادی مقدس طوی میں ہے اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے ۔ یہ چھوٹا سا ذرہ ناچیز یہ محدود بشر لامحدود رب ذوالجلال کے سامنے کھڑا ہے جسے آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ وہ عظمت و جلال جس کے مقابلے میں یہ نظر آنے والی کائنات زمین و آسمان سب حقیر ہیں یہ ذرہ ضعیف انسانی قوائے مدرکہ کے ساتھ ایک لامحدود کے ساتھ مربوط ہوگیا اس کی آواز سن رہا ہے کس طرح ؟ اللہ کی خاص رحمت ہے ورنہ کیسے ممکن ہے۔محدود اور لامحدود کا اتصال ؟ پوری انسانیت اب موسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں اٹھائی جارہی ہے سربلند کی جارہی ہے کہ ایک لمحے کے لئے وہ بشری شخصیت کو لئے ہوئے ہی لامحدود فیض وصول کررہی ہے۔ اس انسانیت کے لئے کیا یہ کوئی کم شرف ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا اتصال اور رابطہ اس انداز میں رب ذوالجلال کے ساتھ ہوگیا لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیونکر ہو گیا یہ ؟ کیونکہ انسانی قوائے مدرکہ اس حقیقت کا نہ ادراک کرسکتی ہیں اور نہ اس بارے میں کوئی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ انسان کی قوائے مدرکہ کا بس یہ کام ہے کہ وہ حیران رہ کر اپنے قصور کا اعتراف کریں ایمان لائیں اور شہادت دیں کہ یہ حق ہے۔ فلما۔۔۔۔۔۔۔ یموسی (١١) انی اناربک (٢١) (١٢ : ١١۔ ٢١) جب وہاں پہنچا تو پکارا گیا اے موسیٰ میں ہی تیرا رب ہوں ۔ پکارا گیا ماضی مجہول کا صیغہ استعمال ہوا۔ کیونکہ آواز کے مصدر اور جہت کا تعین ممکن نہیں ہے۔ نہ آواز کی صورت اور کیفیت کا تعین ممکن ہے۔ نہ اس بات کا تعین ممکن ہے کہ کس طرح سنا اور کس طرح سمجھے۔ پکارا گیا جس طرح پکارا گیا اور انہوں نے سمجھا جس طرح سمجھا۔ کیونکہ یہ اتصال ان امور میں سے ہے جن پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ ایسا ہوا مگر اس کی کیفیت کے بارے میں نہیں پوچھتے کیونکہ یہ کیفیت انسانی قوت مدر کہ اور انسانی دائرہ تصور سے وراء ہے۔ انی انا۔۔۔۔۔۔۔ طوی (٠٢ : ٢١) اے موسیٰ میں ہی تیرا رب ہوں، جو تیاں اتار دے تو وادی مقدس طوی میں ہے۔ تم بار گاہ رب العزت میں ہو اس لیے پاؤں سے جوتے اتار دو تاکہ تم ننگے پاؤں آؤ، ایک ایسی وادی میں جس پر پاکیزہ انوار کا نزول ہورہا ہے۔ اس لیے اس وادی کو اپنے جوتوں سے نہ روندو۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•



https://whatsapp.com/channel/0029VaU9fa177qVNkg7QTG0v/1026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
21/02/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں میں، رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*4 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*22 فروری 2026 عِیسَـوی اتوار*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 7-8*
*وَاِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٝ يَعْلَمُ السِّـرَّ وَاَخْفٰى (7)*
*اَللّـٰهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ لَـهُ الْاَسْـمَآءُ الْحُسْنٰى (8)*
*📜ترجمہ:*
*تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو ، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے ۔ 3*
*وہ اللہ ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ، اس کے لیے بہترین نام ہیں ۔ 4*
*English Translation:*
*And if you speak aloud - then indeed, He knows the secret and what is [even] more hidden.*
*Allah - there is no god but He. His are the most excellent names.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، ​یا رب! تو ہماری پکار کو بھی جانتا ہے اور ہمارے دل کے ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو ابھی زبان تک نہیں آئے۔ ہم اپنے تمام معاملات تیرے سپرد کرتے ہیں۔ ہمارے معاملات درست کر دے۔ ہمارے پوشیدہ اور ظاہر گناہوں کو معاف کر دے، اور اپنے بہترین ناموں کے صدقے وہ سب عطا کر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مانگا اور پسند فرمایا اور جو ہمارے حق میں بہتر ہے، کیونکہ تو ہی غیب کا جاننے والا اور ہر حاجت پوری کرنے والا ہے۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, Lord of the worlds, You are aware of our supplications and well-acquainted with the secrets of our hearts that have not yet reached our lips. We entrust all our affairs to You. Set our matters right for us. Forgive our hidden and manifest sins, and for the sake of Your Most Beautiful Names, grant us all that the Noble Messenger (peace and blessings be upon him) sought and desired for us, and that which is best for us—for You alone are the Knower of the Unseen and the Fulfiller of every need.Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :3*
*یعنی کچھ ضروری نہیں ہے کہ جو ظلم و ستم تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ہو رہا ہے اور جن شرارتوں اور خباثتوں سے تمہیں نیچا دکھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ان پر تم بآواز بلند ہی فریاد کرو ۔ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم پر کیا کیفیت گزر رہی ہے ۔ وہ تمہارے دلوں کی پکار تک سن رہا ہے ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :4*
یعنی وہ بہترین صفات کا مالک ہے ۔*
🌈تفسیر پیر کرم شاہ الازہری🌈
٥ ف
*سر وہ راز کی بات جو تو نے صرف کسی اپنے خاص دوست سے پر وہ میں کہی ہو اور اخفیٰ وہ بات جو ابھی نہاں خانہ دل میں ہی کروٹیں لے رہی ہو اور زبان تک نہ آئی ہو قال الحسن السوما اسر الرجل الی غیرہ واخفیٰ من ذلک ما اسرفی نفسہ اس کا ایک اور مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے۔ سر وہ بات جو ابھی تک تیرے دل میں ہی ہو اور اخفیٰ وہ کام جو تو آئندہ چل کر کرنے والا ہے لیکن آج تجھے اس کا احساس تک نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جس کی خالقیت کا یہ عالم ہو کہ سب بالا و پست، فوق و تحت اس کے امر کن کا مظہر ہو جس کی حکمرانی کا یہ حال ہو کہ کائنات کی ہر چیز اس کے حکم کے سامنے سرافگندہ ہو اور جس کی ہمہ دانی اور ہمہ بینی کی یہ کیفیت ہو کہ حال اور مستقبل سب عیاں ہو کیا ایسی ہستی کو الہ تسلیم کرنے میں کسی کا شک ہوسکتا ہے اور کوئی دوسرا اس کا ہمسر خیال کیا جاسکتا ہے ؟ کلا ثم کلا۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :4
یعنی وہ بہترین صفات کا مالک ہے ۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•🤲رمضان مبارک اللہ...
21/02/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
🤲رمضان مبارک اللہ پاک ہم سب کو ان بابرکت ساعتوں کی رحمت،مغفرت،جہنم سے خلاصی حاصل کرنے اور اس میں موجود تمام برکات و فیوض سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین🤲
*3 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*21 فروری 2026 عِیسَـوی ھفتہ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 5-6*
*اَلرَّحْـمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى (5)*
*لَـهٝ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰى (6)*
*📜ترجمہ:*
*وہ رحمان﴿ کائنات کے﴾ تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے ۔ 2*
*مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں ۔*
*📜English Translation:*

‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، آپ عرش پر جلوہ فرما ہیں،آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کے مالک آپ ہیں، آپ کے قبضۂ قدرت میں مٹی کے نیچے تک کی ہر شے ہے۔ ہم تیری ہی بارگاہ میں دستِ بادعاء ہیں۔یااللہ! ہمارے دلوں کو اپنی معرفت سے روشن فرما،ہمیں اپنی اطاعت، محبت اور رضا نصیب فرما آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, Lord of the worlds, You are enthroned on Your cosmic throne, the Owner of the heavens, the earth, and everything in between. You are the One in Whose power is everything, even the depths of the earth. We raise our hands in prayer to You. O ALLAH! Illuminate our hearts with Your knowledge, grant us obedience, love, and Your pleasure.Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :2*
*یعنی پیدا کرنے کے بعد کہیں جا کر سو نہیں گیا ہے بلکہ آپ اپنے کارخانۂ تخلیق کا سارا انتظام چلا رہا ہے ، خود اس ناپیدا کنار سلطنت پر فرمانروائی کر رہا ہے ، خالق ہی نہیں ہے بالفعل حکمراں بھی ہے ۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
الرحمن علی العرش استوی (٠٢ : ٥) *رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (٠٢ : ٦) وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی ضرورت کا تصور اس سے عظیم تر ہے۔ زمین اور آسمانوں اور مٹی کے نیچے کا ذکر محض اس لئے کیا گیا ہے کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں کہ اللہ کی گرفت میں جو کائنات ہے اس کی وسعت کا ادراک آہستہ آہستہ وسیع ہو رہا ہے اور بہت بڑا ہے۔رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خطاب اس لیے کیا جارہا ہے کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے اور وہ یہ سمجھ لیں کہ رب ان کے ساتھ ہے۔ رب تعالیٰ ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا کہ وہ تکالیف منصب نبوت کی وجہ سے مشقت میں پڑجائیں۔ کافروں کا مقابلہ آپ بلا سند نہیں کررہے اگر آپ اللہ کو جہراً پکاریں تو بھی حرج نہیں لیکن اللہ سراً اور جہراً دونوں پکارنے والوں کو جانتا ہے۔ انسانی دل و دماغ اور شعور میں جب یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اللہ اس کے قریب ہے اور اس کی دلی دنیا سے بھی واقف ہے تو انسان مطمئن ہوجاتا ہے اور راضی برضا ہوتا ہے۔ پھر وہ اس قرآن کو پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ جھٹلا نے ولے مخالفوں کے درمیان تنہائی محسوس نہیں کرتا اور وہ مخالفین کے درمیان اپنے آپ کو یکہ و تنہا بھی محسوس نہیں کرتا۔ یہ ابتدائی آیات جو تمہیدی بھی ہیں اس اعلان پر ختم ہوتی ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور کائنات اس کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات کے بارے میں پوری پوری خبرداری اسے حاصل ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ قصہ نمونہ ہے اس بات کا کہ اللہ اپنے داعیوں کی حفاظت اور حمایت کس طرح کرتا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے جو قصص قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان سب کے مقابلے میں قرآن مجید کے اندر زیادہ جگہ لیتا ہے۔ اس قصے کی مختلف کڑیاں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں آتی ہیں۔ ان کڑیوں کا انتخاب ہر سورة کے مضمون اور موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اور اس کا انداز بیان بھی اسی رنگ میں ہوتا ہے جس رنگ میں پوری سورة کا انداز بیان ہوتا ہے۔ اس سے قبل اس قصے کی کچھ کڑیاں سورة بقرہ سورة مائدہ سورة اعراف سورة یونس سورة اسرائ سورة کہف میں آچکی ہیں اور دوسری سورتوں میں بھی اس قصے کی طرف اشارات موجود ہیں۔ مائدہ میں جو کچھ آیا وہ صرف ایک کڑی ہے یعنی یہ کڑی کہ بنی اسرائیل جب بیت المقدس میں آئے تو یہ لوگ شہر کے باہر کھڑے ہوگئے اور شہر کے اندر داخل ہونے سے رک گئے اس لئے کہ اس شہر میں ایک جبار قوم رہتی ہے۔ سورة کہف میں بھی اس کی ایک ہی کڑی ہے یعنی حضرت موسیٰ اور عبد صالح کے ساتھ ان کی ملاقات اور مختصر صحبت۔ بقرہ اعراف یونس اور طہ میں قصہ موسیٰ و فرعون کی گئی کڑیاں آئی ہیں لیکن ان میں سے بھی مختلف سورتوں میں آنے والی کڑیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس طرح اس قصے کی کڑیاں مختلف ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں میں ان کڑیوں کے مختلف پہلو موقع و مناسبت سے مختلف دیئے گئے ہیں اور انداز بیان بھی مختلف ہے۔ سورة بقرہ میں جب یہ قصہ آیا تو اس سے قبل قصہ آدم و ابلیس تھا اور اس میں آدم (علیہ السلام) کو عالم بالا میں اعزاز بخشا گیا تھا۔ آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سپرد کی گئی تھی اور آدم کو معاف کر کے ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوا تھا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے یہ یاد دلانے کے لئے کہ اے بنی اسرائیل ذرا غور کرو تم پر اللہ نے کیسی کیسی مہربانیاں کیں۔تمہارے ساتھ عہد کیا تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی۔تمہیں صحرا میں پانی پلایا اور تمہارے لئے پتھروں سے چشمے نکالے تمہیں صحرا میں من وسلوی کی شکل میں کھانا فراہم کیا۔ پھر موسٰی (علیہ السلام) کی ہمارے ساتھ ملاقات اور ہم کلامی کا وقت آیا اور پیچھے سے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی لیکن اللہ نے تمہیں پھر بھی معاف کردیا۔ پہاڑ کے نیچے تم سے عہد لیا۔ پھر سبت کے معاملے میں تم نے حد سے تجاوز کیا۔ اور پھر گائے کے ذبح کرنے کا قصہ تو عجیب تر ہے۔اعراف میں اس قصے سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مکذبین پر اللہ کا عذاب حضرت موسیٰ سے قبل کیسے کیسے آیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا قصہ آیا۔ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تقریب ہے۔ اس کے بعد معجزات عصا ’ ید بیضا طوفان ٹڈی دل جو میں اور مینڈک اور خون اور اس کے بعد جادو گروں کے ساتھ مقابلہ اور فرعون کا بھی اسی طرح خاتمہ جس طرح پہلے کے مکذبین کا ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ واقعہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں انہوں نے پچھڑے کو خدا بنا لیا۔اس کے بعد اس قصے کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کی وراثت ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی امی پر ایمان لے آئیں۔ سورة یونس میں جہاں یہ قصہ آیا ہے اس میں اس سے قبل ان اقوام کا ذکر ہے جو ہلاک کی گئیں۔ یہاں حضرت موسیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی کڑی جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی کڑی اور فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کی کڑی بالتفصیل لائی گئی ہے۔ ہاں سورة طہ میں سورة کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ جن لوگوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے ان پر اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور وہ اللہ کی پناہ میں ہوتے ہیں اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔:: چناچہ قصے کا آغاز اس منظر سے ہوتا جس میں حضرت موسیٰ طور پر رب ذوالجلال سے ہم کلام ہیں اس کے بعد اس میں وہ مناظرآتے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ اللہ کی پناہ میں ہیں اور تائید ایز دی ان کی پشت پر ہے ۔ بچپن میں میں ہی رحمت ان کے شامل حال رہی اور ان کی پرورش اور نگرانی ہوتی رہی۔ والقیت۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عینی (٠٢ : ٩٣) اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے ۔ وھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (٩ : ٠١) اور تمہیں کچھ موسیٰ ؐ کی خبر بھی پہنچی ہے؟ جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ذرا ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے ؟ کیا تمہیں موسیٰ ؐ کی کہانی معلوم ہے۔اس کہانی سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ اللہ جن لوگوں کو منصب رسالت عطا کرتا ہے وہ ان لوگوں کو اپنی خاص پناہ میں رکھتا ہے اور ان کو بروقت ہدایت دیتارہتا ہے۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•*2 رمضان المبارک ...
20/02/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*2 رمضان المبارک 1447 ھِجْرِیْ​*
*20 فروری 2026 عِیسَـوی جمعہ مبارک*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 1-2-3-4*
طٰهٰ (1)*
*مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰى (2)*
*اِلَّا تَذْكِـرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى (3)*
*تَنْزِيْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُـلٰى (4)*
*📜ترجمہ:*
*طٰہٰ ۚ﴿۱﴾*
*ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ ۔*
*یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرے ۔ 1*
*نازل کیا گیا اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو ۔*

*📜English Translation:*
*طٰهٰ.*
*We did not reveal the Qur''an to you to cause you distress;*
*it is only a reminder for him who fears Allah;*
*a revelation from Him Who created the earth and the high heavens.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، آپ نے بلندوبالا آسمان اور زمین اور پوری کائنات کو پیدا فرمایا اور آپ ہی نے اس قرآن عظیم فرقان حمید کو نصیحت حاصل کرنے اور ڈرنے والوں کے لئے اتارا تاکہ ہم تذکیر نصیحت اور راہ راست پائیں یارب ہمیں اس کو سمجھنے اور من و عن اس پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرما آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, Lord of the worlds, You have created the lofty heavens, the earth, and the entire universe. And You have revealed this great Quran, the Criterion, as guidance for those who take heed and fear You, so that we may receive admonition and find the right path. O ALLAH, grant us the ability to understand it and act upon it completely.Ameen.🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :1
یہ فقرہ پہلے فقرے کے مفہوم پر خود روشنی ڈالتا ہے ۔ دونوں کو ملا کر پڑھنے سے صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کو نازل کر کے ہم کوئی اَنْ ہونا کام تم سے نہیں لینا چاہتے ۔ تمہارے سپرد یہ خدمت نہیں کی گئی ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا چاہتے ان کو منوا کر چھوڑو اور جن کے دل ایمان کے لیے بند ہو چکے ہیں ان کے اندر ایمان اتار کر ہی رہو۔ یہ تو بس ایک تذکیر اور یاد دہانی ہے اور اس لیے بھیجی گئی ہے کہ جس کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو وہ اسے سن کر ہوش میں آ جائے۔ اب اگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں خدا کا کچھ خوف نہیں، اور جنہیں اس کی کچھ پروا نہیں کہ حق کیا ہے، اور باطل کیا، ان کے پیچھے پڑنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں *
🌈فی ظلال القرآن🌈
*سورة طٰهٰ
بسم اللہ الرحمن الرحیم طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (١ : ٨) ۔ نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ پوری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے،جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ان کے بعد متصلاً قرآن کریم کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کی شکل میں تبصرہ ہے قرآن مجید اور اس کی دعوت پر کہ یہ مصیبت نہیں ہے۔ مآ انزلنا۔۔۔۔ لتشقی (٠٢ : ٢) ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ، یعنی یہ قرآن آپ پر نازل ہوا کہ آپ اس کی تبلیغ کریں،اس کی وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آئے گی۔ یہ نہیں کہ اس کی تلاوت میں آپکو تکلیف ہو، یہ نہیں کہ اس پر عمل میں آپ کو کوئی مشقت ہو یہ تو یاد دہانی اورنصیحت آموزی کے لئے آسان کردیا گیا ہے۔اس کے اندر جو احکام دیئے گئے ہیں وہ انسانی طاقت کی حدود کے اندر اندر ہیں۔ یہ نعمت خداوندی ہے مصیبت و عذاب خداوندی نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ تو عالم بالا سے انسان کا رابطہ ہوتا ہے اور انسان کو عالم بالا کی تائید حاصل ہوتی ہے اور وہ قوت و اطمینان حاصل کرتا ہے۔اللہ کی رضا مندی کا شعور اللہ کے ساتھ انس و محبت کا شعور اور اللہ کے ساتھ صلے اور رابطے کا شعور اس سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ قرآن اس لئے بھی نازل نہیں ہوا کہ اگر لوگ اسے نہیں مانتے تو آپ پر یشان ہوں کیونکہ یہ آپ کے فرائض میں نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ نہ اس لئے نازل ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کے عدم ایمان کی وجہ سے دل کو حسرتوں کا خزانہ بنادیں۔ یہ تو صرف اس لیے ہے کہ آپ نصیحت کرتے چلے جائیں اور لوگوں کو انجام بد سے ڈراتے چلے جائیں۔ الا تذکرۃ المن یخشی (٠٢ : ٣) یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے ۔ جو شخص ڈرتا ہے جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ اثر قبول کرتا ہے اللہ سے ڈرتا ہے اور اللہ سے معافی طلب کرتا ہے بس یہاں تک رسول اور داعی کے فرائض پورے ہوجاتے ہیں۔ رسولوں اور داعیوں کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کو لگے ہوئے تالے کھول دیں یا لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے جس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس پوری کائنات کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے اس پر محیط ہے اور اس کو دلوں کے خفیہ ارادے اور راز تک معلوم ہیں۔ تنیزلا ممن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما تحتا الثری (٦) (٠٢ : ٤ تا ٦) نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔ وہ رحمن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں ۔کیونکہ جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے ان بلند ترین آسمانوں کو کیونکہ یہ قرآن بھی اسی طرح ایک تکوینی مظہر ہے جس طرح زمین و آسمان مظاہر تکونیہ ہیں۔ یہ بھی عالم بالا سے اترا ہے۔ یہاں قرآن مجید ان قوانین قدرت کو جو اس کائنات میں کار فرما ہیں اور ان قوانین کو جو اس قرآن میں ضبط کیے گئے ہیں یکجا کر کے بیان کرتا ہے۔ آسمانوں کا پرتو زمین پر پڑتا ہے اور اس طرح قرآن بھی ملاء اعلیٰ سے زمین کی طرف آتا ہے۔ جس ذات نے ملا اعلیٰ کی طرف سے یہ قرآن نازل کیا ہے اور جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ کون ہے ؟ رحمن ہے اور رحمن جو نہایت ہی مہربان ہوتا ہے اس کی جانب سے اترا ہوا قرآن کبھی بھی باعث مشقت اور مصیبت نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور رحمن دونوں میں صفت رحمت قدر مشرک ہے۔ اور یہ رحمت ہی ہے جس نے اس پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

Address

Islamabad

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Tuesday 17:00 - 21:00
Wednesday 17:00 - 21:00
Thursday 17:00 - 21:00

Telephone

+923008545142

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Homoeopathic Doctor Mahmood ul Haq Abbasi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Homoeopathic Doctor Mahmood ul Haq Abbasi:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category