Qazi optics & healthcare clinic

Qazi optics & healthcare clinic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Qazi optics & healthcare clinic, Medical and health, Jinnah Gardens islamabad, Islamabad.

ھرقسم کی بیماریوںکاعلاج ماھراورتجربہ کارڈاکٹرزکی زیرنگرانی کیاجاتاھے.الشفاء کے ماھرآپٹومیٹرسٹ سے نظرکمپیوٹرسےفری چیک کرائیں.عینک ھول سیل ریٹ پر بنوائیں.آپٹکس,آئی کلینک,میڈیکل سپشلسٹ,ڈینٹل کلینک,ھومیو پیتھک & ھربل کلینک,فزیوتھراپی, الٹراساؤنڈ,لیبارٹری.

ہمارے ہاں عموما چینی کو براجبکہ شکر گڑ شہد کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ چلیں آج ان سب کی نیوٹریشن ویلیو دیکھتے ہیںاور دیکھتے ہ...
07/12/2025

ہمارے ہاں عموما چینی کو برا
جبکہ شکر گڑ شہد کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔
چلیں آج ان سب کی نیوٹریشن ویلیو دیکھتے ہیں
اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے سب سے بہتر کیا ہے۔
چلیں چینی سے شروع کرتے ہیں
فیس بک اور باقی سوشل میڈیا پر چینی کو کوکین سے برا اور زہر بتایا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ ہر جگہ چینی ہی استعمال ہوتی ہے
بہت ہی زیادہ پراسیس ہوا ایک میٹھا جو گنے سے ہی بنتا ہے
اس کا گلائمکس انڈیکس 65 سے 70 تک ہوتا ہے۔
کیلوریز کی بات کریں تو 390 کیلوریز ایک سو گرام چینی سے ہمیں ملتی ہیں
کوئی خاص نیوٹریشن یا منرلز نہیں۔ بس اچانک سے پیور انرجی بوسٹ

2- شکر یا گڑ
جو لوگ چینی کو ولن بناتے ہیں وہی شکر یا گڑ کو مہان سمجھتے ہیں اور اسے ہیلتھی سمجھتے ہیں
اس میں بہت ہی کم مقدار میں آئرن اور پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔
اگر گلائسمکس انڈیکس کی بات کریں تو 70 سے 84 تک جاتا ہے۔ یعنی یہ چینی سے کہیں زیادہ بلڈ شوگر کو سپائک دیتا ہے۔
اگر کیلوریز کی بات کریں تو 380 کیلوریز 100 گرام شکر سے ملتی ہیں
اور رہی بات پراسیس کی تو بہت سے لوگ اسے گورا چٹا کرنے کے لئے نہ جانے کیا کیا ملاتے ہیں۔ اس کا درست ڈیٹا بھی موجود نہیں۔

3- شہد
میرا اور آپ سب کا پسندیدہ
حکیموں کے نزدیک یہ بلاشک و شبہ شوگر کے مریض کھا سکتے ہیں۔
لیکن ہم اسے بھی چیک کرتے ہیں
مکھی نے ہی پراسیس کیا
بہت شاندار اینٹی آکسیڈین
پیٹ کے لئے بہت شاندار چیز

گلائمیکس انڈیکس 45-69 تک

کیلوریز کی بات کریں تو 240 سے 330 تک ایک سو گرام میں
شہد کی قسم کے حساب سے کیلوریز ہوتی ہیں
4- کھجور
ایک مکمل پھل
زیرو پراسیس
آئرن اور فائبر سے بھرپور
انتڑیوں کے لئے شاندار
گلائمیکس انڈیکس صرف 40-55 تک
کھجور کی قسم کے حساب سے ہی انڈیکس ہوتا ہے۔
اگر کیلوریز کی بات کریں تو 315 کیلوریز / سو گرام
تو اس ساری تفصیل کا اگر نچوڑ نکالیں تو چینی چھوڑ کے باقی چیزیں استعمال کرنے سے آپ کی کیلوریز کو کچھ خاص فرق پڑنے والا نہیں۔ نہ ہی چینی ولن اور باقی چیزیں دوست ہوں گی۔
لیکن ایک بہتر چوائس شہد اور کھجور ہو سکتی ہے پر وہ بھی لمٹ میں رہ کے۔
یعنی ایک دن میں تین کھجوریں ہی کافی ہیں۔
اگر چینی استعمال کرنی ہو تو بھی سارے دن میں دو چمچ کافی ہیں

چلیں اب بات کرتے ہیں کہ اگر شوگر کے مریض ہیں اور میٹھا نہیں چھوڑ سکتے تو سٹیو یا یا پھر مونک فروٹ پاؤڈر کے استعمال کا
اٹیویا وور مونک فروٹ دونوں ہی زیرو کیلوریز ہیں
آٹو یا چینی سے دو سو گنا میٹھا ہوتا ہے۔
جہاں چینی کا ایک چمچ درکار ہوتا ہے وہیں سٹو یا کی ایک چٹکی کافی رہتی ہے
لیکن اس میں ایک برائی ہے کہ یہ بعد میں کڑواہٹ لاتا ہے
پاؤڈر استعمال کریں یا پتے۔ مرضی آپ کی
وہیں مونک فروٹ کی بات کریں تو یہ تین سو گنا تک زیادہ مٹھاس دیتا ہے۔
اور استعمال کے بعد بھی مٹھاس بحرحال موجود رہتی ہے
یہ سویٹنر کے طور پر استعمال کئے جا سکتے ہیں
لیکن اگر شوگر نہیں ہے تو آپ چینی بھی گزارے لائق استعمال کر سکتے ہیں۔
WHO کے مطابق آپ اپنی روز کی کیلوریز کا دس فیصد چینی سے لے سکتے ہیں
لیکن میرے خیال سے اس سے بھی تھوڑا کم ہی استعمال کریں تو بہتر ہے۔ تاکہ کیلوریز کا پورشن بچ سکے۔
جو سویٹنر آپ کے استعمال نہیں کرنے ان کے نام
Sucralose
یہ ڈائٹ پیپسی میں استعمال ہوتا ہے۔
ہمارے پیٹ کے اچھے بیکٹیریا کی موت کی وجہ بن سکتا ہے۔
Aspartame
یہ ڈائٹ کوک میں استعمال ہوتا ہے
یا پھر پیپسی میکس میں بھی یہی ہوتا ہے
Acesulfame-k
یہ کوک زیرو میں موجود ہوتا ہے اور کچھ انرجی ڈرنکس جو شوگر فری کے نام پر مارکیٹ میں موجود ہیں
Saccharin-
یہ بھی کافی قسم کے میٹھے شوگر فری کیکس میں استعمال ہوتا ہے
Neotame
یہ بھی لو کیلوریز بیکری اور ڈیرے آئسکریم وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔
اس لئے یاد رکھیں ہر شوگر فری کا مطلب ہیلتھی نہیں ہے
یہ پوسٹ اپنے ان دوستوں کے ساتھ شئیر کریں جو چینی سے تو پرہیز کرتے ہیں لیکن چینی سے بچتے ہوئے خطرناک کیمیکل استعمال کرتے ہیں
Copied

07/12/2025

خاتون اپنے شوہر کیساتھ ہسپتال گئی ۔۔
ڈاکٹر نے خاتون کو اپنے کمرے میں آنے کا کہا ۔۔۔ خاتون ڈاکٹر کے کمرے میں اکیلی گئ اور جا کر ڈاکٹر سے بولی ۔

ڈاکٹر صاحب ۔۔۔

کیا میں اپنے شوہر کو بھی اندر بلا سکتی ہوں ؟
ڈاکٹر : پریشانی کی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔
گھبرائیے مت ۔۔

میں ایک شادی شدہ انسان ہوں ۔۔۔
بال بچوں والا ہوں ۔۔۔

عورتوں کا احترام کرنا جانتا ہوں ۔۔۔

آپ مجھے اپنا بھائی سمجھ سکتی ہیں ۔۔
میری نظر میں آپ بڑی بہن ہیں ۔۔۔

مکمل اطمئنان رکھیے ۔۔۔

پیشے کے ہاتھوں مجبور ہوں وگرنہ کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ۔۔۔

ایک اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ شریف النفس بھی ہوں ۔۔۔
ایمانداری دوسرا نام ہے ۔۔۔

وفاداری میرے خون میں شامل ہے ۔۔۔

ڈاکٹر صاحب بوکھلاہٹ میں نان اسٹاپ بولے چلے چلے جا رہے تھے ۔۔۔

خاتون ( گھبراتے ہوئے ) ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔ ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔

دراصل باہر ریسپشن پر لڑکی بیٹھی ہوئی ہے ۔۔ میرے میاں بھی باہر ہیں وہ نا تو آپکی طرح اسپیشلسٹ ہیں ۔۔۔ نا ہی شریف النفس اور نا ہی ایمانداری اور وفاداری انکا دوسرا نام ہے ۔۔ اس لئے انہیں اندر بلانا چاہتی ہوں۔

07/12/2025

ایک پروفیسر ٹرین میں سفر کر رہا تھا کہ ایک کسان ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ پروفیسر کو لگا کہ سفر لمبا ہے، کیوں نہ کچھ ذہنی ورزش کر لی جائے؟

اس نے کسان کی طرف دیکھا، جو بڑے مزے سے مونگ پھلی کھا رہا تھا،

پروفیسر نے کسان سے کہا ۔۔"چلو ایک گیم کھیلتے ہیں! میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اگر تم جواب نہ دے سکے تو مجھے 100 روپے دینا ہوں گے۔ پھر تم مجھ سے ایک سوال پوچھو گے، اگر میں نہ بتا سکا تو میں تمہیں 500 روپے دوں گا۔"

کسان (سوچتے ہوئے): "یعنی یا تو 100 کا نقصان یا 500 کا فائدہ؟ یہ تو وہی بات ہوئی کہ بکری پالوں، دودھ ملے تو ٹھیک، نہ ملے تو گوشت کا فائدہ! ٹھیک ہے، چلو کھیلتے ہیں!"

پروفیسر (اکڑ کر): " بتاؤ زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ کتنا ہے؟"

کسان نے ایک لمحے کا بھی ضائع کیے بغیر جیب سے 100 روپے نکالے اور پروفیسر کے ہاتھ پر رکھ دیے، جیسے کوئی عام سی بات ہو۔

پروفیسر (حیران ہو کر): "تم نے سوچا بھی نہیں؟"

کسان (مسکراتے ہوئے): "ارے بھائی، میرا دماغ حساب کتاب کے لیے نہیں، کھیت جوڑنے کے لیے بنا ہے!"

اب کسان کی باری تھی۔

کسان (شرارتی انداز میں): " بتائیں ایسا کون سا جانور ہے جو پہاڑ چڑھتے وقت تین ٹانگوں والا ہوتا ہے اور نیچے آتے وقت چار ٹانگوں والا؟"

پروفیسر کا دماغ ایک دم بریک فیل ٹرک کی طرح لاکھڑانے لگا۔ سوچا، شاید کوئی نایاب جانور ہوگا، مگر ایسا سننے میں کبھی نہیں آیا تھا۔ اس نے دوبارہ ذہن پر بہت زور ڈالا، فلسفے میں گھس گیا، نوٹس کھنگالے، اور تو اور، بغل میں بیٹھے مسافر کی طرف بھی مدد کے لیے دیکھنے لگا۔ آخر کار، پورے پندرہ منٹ کی کشمکش کے بعد، اس نے مایوس ہو کر کسان کو 500 روپے دے دیے۔

کسان نے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ سجائی، رقم لی، اور آنکھیں بند کرکے سونے لگا۔

پروفیسر کے لیے یہ ہار برداشت کرنا مشکل تھا! اس نے کسان کو ہلایا اور بولا: "یار، مجھے بھی تو بتاؤ کہ وہ جانور کون سا ہے؟"

کسان نے آنکھیں کھولیں، ایک لمبی جمائی لی، جیب سے 100 روپے نکالے، پروفیسر کو دیے، اور بغیر کچھ بولے پھر سو گیا!

پروفیسر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، اور باقی سفر وہ کھڑکی سے باہر دیکھ کر اپنی قسمت کو کوستا رہا!

آپ جتنا بھی پڑھ لیں ہرجگہ اپ کا فلسفہ نہیں چلےگا کیونکہ سادہ مزاج لوگوں نے بھی اب عیاری سیکھ لی ہے ۔ ☺️😊

کل پوچھا گیا وہ  جادوئی نسخہ جس کا لوگ انتظار کر رہے ہیں۔ وہ جادوئی چیز ہے:  **آملیٰ (املی) + ناریل کا تازہ پانی + شہد +...
03/12/2025

کل پوچھا گیا وہ جادوئی نسخہ جس کا لوگ انتظار کر رہے ہیں۔
وہ جادوئی چیز ہے:
**آملیٰ (املی) + ناریل کا تازہ پانی + شہد + ہلدی**
(یہ چاروں چیزیں آپ کے گھر میں ضرور موجود ہیں نا؟)
مکمل طاقتور نسخہ (صرف ١٤ دن میں کمال دکھائے گا):
رات کو سوتے وقت یہ کریں:
- خشک املی (بغیر بیج والی) → ٥-٦ دانے
- اسے رات بھر ایک گلاس تازہ ناریل کے پانی میں بھگو دیں
- صبح اٹھ کر املی کو اچھی طرح میش کر لیں
- اس میں ایک چٹکی خالص ہلدی پاؤڈر + ایک چمچ خالص شہد ملا لیں
- سب کو اچھی طرح مکس کر کے نیم گرم کر لیں اور آہستہ آہستہ پی لیں
بس ١٤ دن لگاتار کریں، پھر دیکھیں کرشمہ:
- سفید بال قدرتی طور پر کالا ہونا شروع
- بال مضبوط، چمکدار، جھڑنا بالکل بند
- چہرہ صاف، جھریاں کم، رنگ نکھر آئے
- آنکھوں کی روشنی بڑھے، دھندلا پن ختم
- دماغ تیز، یادداشت زبردست
- شوگر + بلڈ پریشر + کولیسٹرول کنٹرول
- جسم میں حیران کن توانائی اور رونق
اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ بھی نہیں، بالکل قدرتی اور مفت!
جو آج رات سے شروع کر رہے ہیں، کل ضرور بتائیں کیا فرق محسوس ہوا
شیئر ضرور کریں، کسی کا بھلا ہو جائے گا ان شاء اللہ

جلد, بال, ناخن, الرجی, خارش, گردے و مثانہ کی پتھری, امراض معدہ و جگر, نفسیاتی امراض, ڈپریشن,آنکھوں کے امراض, نظر کمزور, بچوں کا چھوٹا قد ,جوڑوں کا درد، بے اولادی، کولیسٹرول، شوگر ، موٹاپا ، یورک ایسڈ ، لیکوریا ، کمردرد ، اعصابی کمزوری .بواسیر،لکنت,دماغی کمزوری, مسوڑھوں کے امراض, دانت درد کا فوری علاج
جسمانی،روحانی اور نفسیاتی امراض کا مستقل علاج(مفت مشورہ )
ھومیو پیتھک کنسلٹنٹ اینڈ فیملی فزیشن
ڈاکٹر حافظ صلاح الدین احمد
since 2000

🕓 ٹائم برائے معائنہ:
صبح 00 :10 سے 1:00بجے
شام 5:00 بجے تا رات 9:00 بجے

📍 مقام:
جناح سینٹر ، شاپ نمبر 20 G ،
مین سوک سینٹر ،
نزد پاکیزہ کیش & کیری،
جناح گارڈن اسلام آباد

📞 رابطہ نمبر:
03315778090
📱Online consultation available

03/12/2025

"سائیں"

"سنا ہے جس عورت سے آپکی شادی ہوئی تھی وہ بڑی خطرناک عورت تھی، اور آپ نے ڈر کے مارے اسے طلاق دے دی تھی" برگد کے درخت کے نیچے کرسی پر بیٹھے ایک خاموش طبع بوڑھے سے ایک منچلے نے استہزائیہ کہا.

"اللہ بخشے اسے، بہت اچھی عورت تھی" بنا ناراض ہوئے
، بغیر غصہ کئے بابا جی کی طرف سے ایک مطمئن جواب آیا.
ایک نوجوان نے ذرا اونچی آواز میں کہا "لیکن بابا جی لوگ کہتے ہیں وہ بڑی خطرناک عورت تھی. بابا جی کچھ دیر خاموش رہے پھر کہنے لگے.
"کہتے تو ٹھیک ہی ہیں، وہ واقعی بہت خطرناک تھی اور حقیقتاً میں نے ڈر کے مارے اسے طلاق دی تھی".

"یہ بات تو مردانگی کے خلاف ہے، عورت سے ڈرنا کہاں کی بہادری ہے؟ "نوجوان جوشیلے انداز میں بولا...
"میں عورت سے نہیں ڈرتا تھا، میں تو 'اس' سے ڈرتا تھا جس تک اس کی رسائی تھی" پرسکون جواب...
جوانوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا.
ایسی عورتوں کو تو جہنم میں ہونا چاہیئے...لا حول ولا قوہ.. کہاں آپ جیسا شریف النفس آدمی کہاں وہ عورت؟اچھا کیا چھوڑ دیا" نوجوان کے لہجے میں غصہ تھا. بوڑھے کی متجسس زندگی کا پٹارا کھل کر سامنے آگیا تھا. تجسس ختم ہوا، اب سب باری باری منتشر ہونے لگے. جانے والوں نے عنوان پڑھ لیا تھا،کہانی خود بنانی تھی, جو رہ گئے تھے وہ وہی تھے جو اصل کہانی جاننا چاہتے تھے-

"میں بھی ایسا ہی سوچتا تھا کہ اسے جہنم میں ہی ہونا چاہیئے تھا، تب ہی میں نے اسے جہنم جیسی زندگی دی تھی" بوڑھی آنکھوں میں اضطراب اترا.
یہ تب کی بات ہے جب میں سرکار کے ہاں ایک روپیہ ماہوار پر ملازم ہوا، میری ماں چاہتی تھی کہ میری شادی ہوجائے. رشتہ ڈھونڈا گیا، ایک مونگ پھلی فروش کی بیٹی میری ماں کو پسند آئی, سلیقہ مند، خوبصورت اور ایک دم خاموش طبع. مجھے اس رشتے پر اعتراض تھا کہ وہ ایک مونگ پھلی بیچنے والی کی بیٹی تھی. مزدور کی اولاد کو پیٹ کی فکررہتی ہے، تربیت کی نہیں، تربیت بڑے گھرانوں میں کی جاتی ہے جہاں افلاس آنکھوں کے روشنی چھیننے سے قاصر ہوتا ہے. وہ کیا تربیت دے گی میری اولاد کو؟ لیکن وہ لڑکی میری ماں کو ایسی پسند تھی کہ اماں اس کے علاوہ کسی کا نام نہیں سننا چاہتی تھیں.
پھر وہ بیاہ کر میرے گھر آگئی، رخصتی کے وقت اس کے باپ نے مجھے کہا "میری بیٹی سیدھی سادھی ہے، اسے دنیاداری کا کوئی خاص پتا نہیں،اگر کہیں کوئی چوک ہوجائے تو معاف کردینا،یوں ہے بڑے دل والی،اپنے *سائیں* کو خوش رکھے گی", وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی میری ماں نے بتایا تھا. سلیقہ مند، سگھڑ اور تابعدار."

"باہر دوستوں کے ساتھ میری صحبت کوئی اچھی نہیں تھی، ملازمت کے اوقات میں کھانا گھر سے باہر کھاتا، دوستوں میں بیٹھتا ،رات گئے تک محفل چلتی پھر گھر جاتا. وہ کیا کھاتی کیا پیتی کس حال میں رہتی تھی مجھے کوئی پرواہ نہیں تھی. انہی دنوں میری ماں بھی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی.
ایک روز میں جوئے میں بھاری رقم ہار کر جب تھکا ہارا گھر آیا تو کہنے لگی "آپ تو کھانا باہر کھالیتے ہیں، مجھے بھوک لگتی ہے، ہوسکے توایک ہی بار مہینے کا راشن ڈلوا دیا کیجیئے، روز روز بازار سےخریداری کی صعوبت نہیں اٹھانی پڑے گی"- کیا؟ اس پھونگ پھلی بیچنے والے کی بیٹی کی اتنی اوقات کہ مجھ سے مطالبہ کرسکے- مجھے طیش آیا.
"ہو ناں تم کسی بہت بڑے باپ کی بیٹی کہ تمہیں پورے مہینے کا راشن اور خرچ چاہیئے, اپنی اوقات دیکھی ہے؟ "غصے میں آکر اس پر ہاتھ اٹھایا اور مغلظات بھی بکے. میں یہ نہیں سوچ سکا کہ آخر اسے زندہ رہنے کے لئے روٹی تو ہر حال میں چاہیئے تھی!
وہ جسمانی اعتبار سے کافی کمزور تھی، مار برداشت نہیں کرسکتی تھی, پشیمانی تھی یا کیا وہ دودن تک بستر پر پڑی رہی. مجھے اسکی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی.
پھر اس نے گھر میں ہی سینا پرونا شروع کردیا، ہاتھ کا ہنر اس کے کام آیا، یوں اسکی روٹی کا انتظام ہوگیا اور میں یہ سوچ کر پہلے سے بھی بےپرواہ ہوگیا.
ایک روز ایک ہمسائے نے مجھے روک کر کہا "دن میں جب آپ گھر نہیں ہوتے تو آپ کے گھر سے باتوں کی آوازیں آتی ہیں", میرے سوا میری غیر موجودگی میں کون آتا تھا جس سے وہ اتنی آواز میں باتیں کرتی تھی؟ غصہ حد سے سوا تھا، بس نہ چلتا تھا کہ اسے جان سے مار دوں، لیکن میں بس ایک موقع کی طاق میں تھا.
ایک رات پچھلے پہر کسی کے بولنے کی آواز پر میری آنکھ کھلی، چاندی رات میں صحن میں پڑی ہر شے بالکل واضح طور پر دکھائی دیتی تھی، میں اٹھ کر دروازے تک آیا.اب آواز زیادہ واضح تھی.وہ کہ رہی تھی:
"سائیں! صبح ایک روٹی کے لئے آٹا گھر میں موجود ہے، وہ ایک روٹی کھا کر چلا جائے گا، یہ سوچے بنا کہ میں سارا دن بھوکی رہوں گی, میری روٹی جب تک تیرے ذمے تھی تو عزت سے ملتی تھی، جب تو نے اپنے نائب کے ہاتھ دی تو روٹی کیساتھ بےعزتی اور اذیت بھی ملنے لگی، مجھے اب روٹی تو ہی دے...تیرا بنایا نائب تو خائن نکلا" وہ میری شکایت کررہی تھی؟ لیکن کس سے؟ کون تھا جو اسے روٹی دیتا تھا مجھ سے بھی پہلے؟؟؟
میں نے باہر آکر دیکھا وہ صحن کے بیچ چارپائی پر بیٹھی خود سے باتیں کررہی تھی. وہاں کوئی بھی نہ تھا. میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی, وہ خدا سے میری شکایت کررہی تھی, وہ اس لمحے مجھے کوئی اور ہی مخلوق لگی. وہ بہت کم بولتی تھی لیکن وہ کس کے ساتھ اتنا بولتی تھی, آج مجھے سمجھ آیا تھا. وہ تو بہت بڑے باپ کی بیٹی تھی. کیسی عورت تھی جو افلاس کے ہوتے بھی خدا شناس تھی, میرا جسم خوف سے کانپ رہا تھا.
دن چڑھتے ہی میں نے سامان باندھا اور اسے اسکے گھر چھوڑ آیا، سسر نے طلاق کی وجہ پوچھی تو میں ڈرتے ہوئے کہنے لگا.
" یہ بڑی خطرناک عورت ہے، بڑے دربار میں میری شکایتیں لگاتی ہے.مجھے ڈر ہے کہ بادشاہ کو کسی دن تاو آگیا تو میرا حشر نہ کردے" - حقیقت یہ تھی کہ میں اس کیساتھ انصاف نہیں کرسکا تھا.
اس کا باپ گھر کی دہلیز پر کھڑا تھا. میرے پلٹنے پر کہنے لگا "میں نے تمہیں کہا بھی تھا کہ اسے دنیاداری نہیں آتی، وہ تو بس 'سائیں' کو خوش رکھنا جانتی ہے" , اس کی مراد خدا سے تھی اور میں خود کو سمجھا تھا.
جب میں واپس گھر آیا تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ رات اس نے یہی تو مانگا تھا." تو خود مجھے روٹی دے، تیرا نائب تو خائن نکلا", اور آج نان نفقے کا اختیار مجھ سے چھین لیا گیا.
میں بے تحاشہ رویا، اس کا سائیں بہت بڑا تھا، اس کی رسائی جس تک تھی وہ تو دوجہانوں کا رب تھا. وہ جس کی ایک روٹی مجھ پر بھاری تھی وہ اس کے لئے کیا نہیں کرسکتا تھا. میں واقعی ڈر گیا تھا. میں آج بھی ڈرتا ہوں کہیں میرے حق میں اس نے کوئی بددعا نہ کردی ہو.
ٹھیک کہتے ہیں لوگ!!کہاں میں کہاں وہ؟؟ "بوڑھی آنکھوں میں نمی اتری تھی.
"میں کور چشم اسے پہچان نہ سکا، میں نہیں ڈرتا تھا، حالانکہ ڈرنا چاہیئے تھا ،اس کے سائیں نے تو پہلے ہی کہ دیا تھا کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو"....

03/12/2025

عام طور پر لوگ بہت امیر ہوجائیں تو پرانے دوستوں کو بھول جاتے ہیں. لیکن ایسے بھی ہیں کہ جنہیں دولت آتے ہی سب سے پہلے غربت کے زمانے کے دوستوں کا خیال آتا ہے.
ارب پتی ہولی وڈ اداکار 59 سالہ جارج کلونی بھی ایسے ہی ہیں. 2013 میں انہوں نے ایک سائنس فکشن فلم ' گریوٹی' میں کام کیا تھا، معاوضے کے طور پر انہیں فلم کی کمائی سے کچھ حصہ دینے کا معاہدہ کیا گیا تھا. اتفاق سے فلم سپر ہٹ ہوگئی تو انہیں بہت ساری رقم ملی۔
رقم ملنے کے بعد انہوں نے اپنے سات پرانے دوستوں کو ایک ویران جگہ بلا کر ہر ایک کو 10 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی پندرہ پندرہ کروڑ روپے نقد دیے۔
اب انہوں نے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ 25 سال سے اپنے سر کے بال خود ہی بناتے اور کاٹتے ہیں۔
جارج کلونی نے بتایا کہ 25 سال قبل انہوں نے سر کے بال بنانے والی مشین 'فلوبی' کا سیٹ خریدا تھا اور آج بھی وہ اسی مشین سے آسانی سے بال بنالیتے ہیں۔ بس 2 منٹ لگتے ہیں۔
کئی لوگ جارج کلونی کے بیان کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ فلوبی مشین کی فروخت بڑھانے کا حربہ نہ ہو.

جارج کلونی نے 1978 میں اداکاری کا آغاز کیا تھا اور ان کا شمار ہولی وڈ کی لیجنڈ اداکاروں میں ہوتا ہے، انہوں نے دو آسکر ایوارڈز بھی جیتے۔
جارج کلونی کا شمار دنیا کی امیر شخصیات میں ہوتا ہے، اندازے کے مطابق ان کی دولت 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے لبنانی وکیل امل سے 2014 میں شادی کی، وہ ان سے 17 سال چھوٹی ہیں اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق سفیر بھی رہ چکی ہیں۔ ڈان

03/12/2025

مری والو خدارا خود کو بدلو
کل کوئی پانچ سال بعد دو تین گھنٹے کیلئے ایک دوست کیساتھ مری جانا ہوا۔ مال روڈ کے قریب ہم ایک مارکیٹ سے جب پیدل گزر رہے تھے۔ تو دو سے تین مقامی لوگ انے وا چلتے ہوئے میرے کندھوں سے ٹکرائے جنہیں رستوں پر چلنے کے آداب کا بھی نہیں معلوم تھا شاید۔ جب چوتھا انسان میرے کندھے سے ٹکرایا تو میں نے گزرتے ہوئے کہا بھائی دیکھ کے چلو۔ وہ اچانک رک گیا غصے سے میری طرف بڑھا اور لال پیلا ہوتے ہوئے بڑی بدتمیزی سے بولا کیا مسئلہ ہے بولو۔ دھیان سے بات کرو وغیرہ ایسے کچھ اور رف جملے بول گیا۔ وہ کوئی اٹھارہ سال کا دبلا سا لڑکا تھا اس کا رویہ ایسا تھا جیسے ابھی اچانک مجھ پہ حملہ کرتے ہوئے مرنے مارنے پر آ جائیگا۔ میں صرف اس کے منہ پر ایک مکا مارتا تو وہ دوبارہ اٹھنے کے قابل نہ رہتا۔ میں کسی پر اپنی پولیس افسری نہیں جھاڑتا نا تعارف کرواتا ہوں میں نے پورے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے کہا کہ میں نے صرف یہ کہا ہے کہ بھائی دیکھ کے چلو اور کیا بات کی ہے۔ آگے سے کہتا کیا بات کر لو گے کرو بات جیسے پوری طرح لڑائی کے موڈ میں ہو خیر اسی دوران ایک آدمی آیا اسے سمجھایا چلو چھوڑو جاؤ اب۔ لیکن اس وقت میرا بری طرح موڈ خراب ہو گیا کیونکہ میں نا کسی سے بدتمیزی کرتا ہوں نا برداشت کرتا ہوں۔ اسی دوران مال روڈ پر چلتے ہوئے دیکھا دوکانداروں کی بڑی تعداد خالی بیٹھی ہے۔ مال روڈ میں بھی اکا دکا سیاح نظر آئے۔ چئیر لفٹ تک گئے وہاں پر بھی کوئی خاص عوام نظر نا آئی۔ یہ سب مری والوں کی سیاحوں کیساتھ بدتمیزیوں اور بار ہا کی لڑائیوں اور برے سلوک کا نتیجہ ہے۔
میں نے پاکستان کے بہت سارے سیاحتی مقامات گھومے ہیں لیکن سب سے برے اور بدتمیز لوگ مری والے پائے گئے جس کی وجہ سے سیاحوں کی بڑی تعداد اب وہاں کا رخ نہیں کرتی۔
میں نہیں کہتا کہ مری کے سب لوگ ایسے ہونگے۔ مری کے باشعور پڑھے لکھے لوگ آگے آئیں ایسے بدتمیزوں کو سمجھائیں اپنی نسلوں کی اچھی تربیت کریں تاکہ انہیں عقل آ سکے کہ مہمان سیاحوں کیساتھ کیسے عزت سے پیش آیا جاتا ہے۔

محمد عدنان کی وال سے

03/12/2025

محکمہ مال کے ذمینی ریکارڈ اور شجرہ نسب کے ساتھ موجود قیمتی راز۔
اگر کسی کو اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر یا کھیوٹ معلوم کرنا ہو تو وہ اپنے پٹوار خانے میں جا کر شجرہ نسب کے ساتھ مرتب شدہ ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے یا پھر ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے ۔ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں ۔1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری ، گرداور ، چوکیدار ، نمبردار ، زیلدار اس جرگہ میں پورے گاؤں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں جن میں راجپوت، اعوان، مغل، کہوٹ، سید، گجر، کھوکھر، نیازی، بھٹی، جنجوعہ، منہاس، کھٹڑ، ٹوانہ، نون وغیرہ سمیت تمام اقوام شامل ہیں حتی کہ پیشہ ور اور کسب دار، موچی، قصائی، ملیار ، لوہار ، جولاہا وغیرہ سب درج ہوتے ہیں۔ اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ۔وہی آپکے پاس آپکی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا ۔
ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا ۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت ،عادات و خصائل،ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل ، رسم و رواج ، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں ، زراعت پیشہ ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں ، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض ،انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض وذمہ داریاں ، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں ،کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے ،دریا، رستے ، جنگل ، پہاڑ ، کھائیاں ، مزروعہ ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا۔ ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے ، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ ،کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ’’کرم‘‘ (ساڑھے5فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز’’ فیلڈ بک‘‘ تیار ہوئی۔ جب ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔ اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود شاملات، سڑکیں ، راستے عام ، قبرستان ، بن ، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ ، کنال ،ایکڑ، مربع ، کیلہ درج ہوا اور گائوں ، تحصیل ، ضلع اور صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیلدار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔
اس پیمائش کے بعد ہر ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے ، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا ، ‏بقیہ
جو آج بھی اتنی موثر ہے کہ کوٸی بھی اپنا شجرہ یا قوم تبدیل کرنے کی کوشش کرے مگر کاغذات مال کا ریکارڈ کسی مصلحت سے کام نہیں لیتا۔ تحصیل یا ضلعی محافظ خانہ تک رسائی کی دیر ہے ،یہ ریکارڈ پردادا کے بھی پردادا کی قوم ، کسب اور سماجی حیثیت نکال کر سامنے رکھ دے گا۔ بہرحال یہ موضوع سخن نہیں ۔ جوں جوں مورث فوت ہوتے گئے، ان کے وارثوں کے نام شجرے کا حصہ بنتے گئے۔ یہ دستاویز جملہ معاملات میں آج بھی اتھارٹی کی حیثیت رکھتی ہے اور وراثتی مقدمات میں بطور ثبوت پیش ہوتی ہے ۔ نیز اس کے ذریعے مالکان اپنی کئی پشتوں کے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں ۔
شجرہ نسب تیار ہونے کے بعد مالکان کا ریکارڈ ملکیت جسے جمع بندی کہتے ہیں اور اب اس کا نام رجسٹر حقداران زمین تبدیل ہوا ہے، وجود میں آیا ۔ خانہ ملکیت میں مالکان اور خانہ کاشت میں کاشتکاروں کے نام ،نمبر کھیوٹ، کھتونی ، خسرہ ،کیلہ، مربعہ اور ہر ایک کا حصہ تعدادی اندراج ہوا۔ ہر چار سال بعد اس دوران منظور ہونے والے انتقالات بیعہ ، رہن ، ہبہ، تبادلہ ، وراثت وغیرہ کا عمل کر کے اور گزشتہ چار سال کی تبدیلیاں از قسم حقوق ملکیت، کاشت کار کی تبدیلی ، رجسٹر گرداوری کی تبدیلی یا زمین کی قسم کی تبدیلی وغیرہ کا اندراج کر کے نیا رجسٹر حقداران تیار ہوتا ہے اور اس کی ایک نقل ضلعی محافظ خانہ میں داخل ہوتی ہے ۔ اس دستاویز کے نئے اندراج کے لئے انتہائی منظم اور اعلیٰ طریقہ کار موجود ہے ۔ اس کی تیاری میں جہاں حلقہ پٹواری کی ذمہ داری مسلمہ ہے ،وہاں گرداور اور حلقہ آفیسر ریونیو سو فیصد پڑتال کر کے نقائص برآمدہ کی صحت کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ ضابطے کے مطابق افسران مذکور کا متعلقہ گائوں میں جا کر مالکان کی موجودگی میں اس کے اندراج کا پڑھ کر سنانا اور اغلاط کی فہرست جاری کرنا ضروری ہے، جن کی درستی کا پٹواری ذمہ دار ہوتا ہے۔ آخر میں تحصیلدار سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے کہ اب یہ غلطیوں سے مبرا ہے۔
رجسٹر حقداران زمین کے ساتھ رجسٹر گرداوری بھی تیار ہوتا ہے، جس میں چار سال کے لئے آٹھ فصلات کا اندراج کیا جاتا ہے۔ مارچ میں فصل ربیع اور اکتوبر میں فصل خریف مطابق ہر نمبر خسرہ، کیلہ موقع پر جا کر پٹواری مالکان و کاشتکاران کی موجودگی میں فصل کاشتہ و نام مالک ،حصہ بقدر اراضی اور نام کاشتکار کا اندراج کرتا ہے۔ ہر فصل کے اختتام پر ایک گوشوارہ فصلات برآمدہ تیار کر کے اس کتاب کے آخر میں درج کیا جاتا ہے کہ کون سی فصل کتنے ایکڑ سے کتنی برآمد ہوئی۔ اس کی نقل تحصیل کے علاوہ بورڈ آف ریونیو کو بھجوائی جاتی ہے ، جس سے صوبہ اور ملک کی آئندہ برآمدہ اجناس کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اس رجسٹر میں نہری اور بارانی علاقوں کی موقع کی مناسبت سے اقسام زمین نہری، ہیل، میرا، رکڑ ، بارانی اول ، بنجر ، کھندر وغیرہ کے علاوہ روہڑ ، بن ، سڑکیں، رستہ جات ، قبرستان ، عمارات اور مساجد وغیرہ بھی تحریر کی جاتی ہیں۔ یہ رجسٹر ریونیو کی اہم دستاویز ہے اور مطابق قانون اس کی جانچ پڑتال گرداور سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک موقع پر کر کے نتائج تحریر کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ رجسٹر انتقالات میں جائیداد منتقلہ کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اس میں نام مالک ، جس کے نام جائیداد منتقل ہوئی، گواہان ، نمبر کھیوٹ ، کھتونی ، خسرہ ،کیلہ، مربعہ حصہ منتقلہ ، زر ثمن ، پٹواری مفصل تحریر کرتا ہے ،گرداور جملہ کوائف تصدیق کرتا ہے اور ریونیو آفیسر (تحصیلدار) بوقت دورہ پتی داران، نمبرداران کی موجودگی میں تصدیق کر کے فیصلہ کرتا ہے ۔ پرت پٹوار پر حکم لکھتا ہے اور پرت سرکار برائے داخلہ تحصیل دفتر ہمراہ لے جاتا ہے ۔ کاغذات مال متذکرہ کے علاوہ بھی کئی دستاویزات ہوتی ہیں، جن سے جملہ ریکارڈ آپس میں مطابقت کرتاہے اور غلطی کا شائبہ نہیں رہتا۔ جو کاغذات ہر وقت استعمال میں رہتے ہیں ان کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے ،ورنہ پٹواری کے پاس ایک’’لال کتاب‘‘بھی ہوتی ہے،جس میں گائوں کے جملہ کوائف درج ہوتےہیں جیسے اس گائوں کاکل رقبہ،مزروعہ کاشتہ،غیر مزروعہ بنجر، فصلات کاشتہ،مردم شماری کا اندراج ، مال شماری جس میں مویشی ہر قسم اور تعدادی نر، مادہ ، مرغیاں ، گدھے ، گھوڑے ، بیل،گائے،بچھڑے غرض کیا کچھ نہیں ہوتا۔ جس طرح یہ محکمہ بنا اور اس کے قواعدوضوابط بنائے گئے اور متعلقہ اہلکاران و افسران کی ذمہ داریاں مقرر ہوئی تھیں، اگر ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو اس سے بہتر نظام زمین کوئی نہیں۔ یہ نظام انگریز کے دور میں بہترین اور 1964-65ء تک نسبتاً بہتر چلتا رہا...

زمین ریکارڑ سے بہترین شجرہ نسب کا کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا۔

01/12/2025

مندرجہ ذیل باتوں پہ کبھی یقین نہ کریں بھلے کوئی لاکھ قسمیں کھائیں:

۱۔ اسلام آباد سے نئی ہاؤسنگ سکیم کا فاصلہ دو کلو میٹر ہے۔
۲۔ ہوٹل سے حرم کا فاصلہ 500 میٹر ہے۔
۳۔ ہمارا آئل لگانے سے بال واپس آجائیں گے۔
۴۔ ہمارے پاس چھوٹی مکھی کا اصلی شہد ہے۔
۵۔ تصویر بھیج دو دیکھ کر ڈیلیٹ کر دوں گا۔
۶۔ تم اگر غریب بھی ہوتے تو پھر بھی تمہیں پیار کرتی۔
۷۔ دو دن میں پیسے واپس کر دوں گا ۔
٨۔ کمپنی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
٩۔ ایک تعویذ سے سنگدل محبوب آپ کے قدموں میں ہوگا۔۔۔۔

Address

Jinnah Gardens Islamabad
Islamabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00
Sunday 09:00 - 20:00

Telephone

+923315778090

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qazi optics & healthcare clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share