Dr. Irshad Hussain - Child Specialist

Dr. Irshad Hussain - Child Specialist Dr. Irshad Hussain is one of the Top rated child specialist in Islamabad on Google.

اس وقت ہمارے ملک کے اکثر علاقوں میں  آشوب چشم(Conjunctivitis) کی وبا پھیلی ہوٸ ہے . کراچی سے شروع ہو کر اب یہ پنجاب میں ...
24/09/2023

اس وقت ہمارے ملک کے اکثر علاقوں میں آشوب چشم(Conjunctivitis) کی وبا پھیلی ہوٸ ہے . کراچی سے شروع ہو کر اب یہ پنجاب میں پھیل رہی ہے.
کالج ,سکول، بازار ، ریسٹیورنٹ یا کسی بھی جگہ جاٸیں تو آپکو اسکا متاثرہ شخص نظر آے گا.
کرونا کی وبا کی طرح اب بھی سوشل میڈیا پہ کافی شوقیہ ڈاکٹر بھی پیدا ہو گئے ہیں جنہوں نے خود سے لوگوں کا علاج شروع کر دیا ہے. جس کے دل میں جو آ رہا ہے وہ ٹوٹکا بنا کر شیئر کر رہا ہے اور جس کو جس قطرے سے "شفاء" مل رہی ہے وہ آگے دوسروں کو بانٹتا نظر آ رہا ہے. لہذا مریض تک درست معلومات اور علاج کی فراہمی مشکل ہو گئی ہے.اھم چیز یہ ہے کچھ چیزیں لوگ ایسی بھی سوشل میڈیا پر پھیلا دیتے ہیں جو لوگوں میں آنکھوں کے نقصان اور آنکھوں کےمستقل مساٸل کا باعث بن رہی ہیں

کچھ گزارشات اور بنیادی ہدایات ہیں جن کو آپ سمجھ لیں گے اور دوسروں تک پہنچاٸیں گے تو انشااللہ ہم اس بیماری کو ساٸینسی انداز سے نہ صرف جان پاٸیں گے بلکہ اسکاچھٹکارا بھی ممکن ہے
۔آشوب چشم بنیادی طور پر آنکھ کی ڈیلے کے سفید حصے پر موجود ایک سفید جھلی جسے کنجیکٹاٸیوا (Conjuntiva)کہتے ہیں اسکی سوزش ہے
۔ اسکی کٸ وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے واٸرس ,الرجی یا انفیکشن وغیرہ
۔اسکی علامات میں آنکھ کا سرخ ہونا آنکھ سے پانی آنا ,آنکھ میں خارش اور درد شامل ہےوائرس کے باعث ہونے والا آشوب چشم دونوں آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس صورت میں نیند سے بیدار ہونے پر متاثر فرد کی پلکیں آپس میں چپکی ہوئی ہو سکتی ہیں۔ آنکھوں سے خارج ہونے والا مواد عام طور پر صاف شفاف ہوتا ہے۔ بیکٹیریا کے باعث ہونے والا آشوب چشم اکثر پہلے صرف ایک آنکھ کو متاثر کرتا ہے۔ آنکھ عموماً کافی سْرخ ہو جاتی ہے اور اس میں زرد یا سبز مواد دیکھا جا سکتا ہے، جس سے اکثرو بیشتر آنکھ کے پیوٹوں پر پرت جم جاتی ہے.
الرجی کے باعث ہونے والا آشوب چشم عموماً ماحول میں موجود الرجی پیدا کرنے والے عام عناصر کے باعث ہوتا ہے جیسے پودوں کے پولن، گھاس، درختوں کے پولن، یا جانور۔ یہ دونوں آنکھوں کو متاثر کرتا ہے اور اس میں کم یا پھر بالکل ہی کوئی مواد خارج نہیں ہوتا
- ابھی جو وبا پھیلی ہوٸ ہےاسکا سبب وائرس ہے جس اڈینو واٸرس بہت اھم ہے
۔تمام واٸرس کی طرح یہ بھی ایک شخص سے دورے شخص میں بہت تیزی سے منتقل ہوتا ہے اور وباٸ شکل اختیا کر لیتا ہے
۔ بیماری کا دورانیہ ہفتہ سے دس دن ہے جس کے بعد یہ خودبخود ختم ہو جاتی ہے
۔اگر کوٸ دواٸ استعمال نہ بھی کی جاٸ تو اپنی مدت پوری کرنےکے بعد دس دن کے اند یہ خود سے ٹھیک ہو جاتی ہے
- دوائی کا بنیادی مصقد بیماری کی علامات اور شدت کم کرنا یا اس سے ہونے والی پیچیدگیوں کا علاج ہے. بیماری کے دورانیے علاج سے کم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ واٸرل بیماری ہے اور اینٹی باٸیوٹیکس اس میں کام نہیں کرتی
۔اگر بیماری کی پیچیدگی کی صورت میں بیکٹریل انفیکشن ہوگیا ہے تو اس صورت میں آپکا ڈاکٹر اینٹی باٸیوٹیکس دے گا
-ٹوٹکے جیسے سرمہ، عرق گلاب سے مکمل اجتناب کریں کیونکہ یہ وائرس کو ختم تو نہیں کر سکتے البتہ علامات کی شدت میں اضافہ ,بیماری کا دورانیہ کو بڑھانے اور مزید پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں
- سوشل میڈیا پہ پھیلاۓ جانی والی دوا یا کوئی بھی قطرے کسی مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ ہر قطرہ ہر مریض کے لیے نہیں ہوتا. ہر انسان میں بیماری کی نوعیت اور علامات مختلف ہوتی ہیں اور قطروں کا فیصلہ فیس بک، فون یا میسج پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ مکمل معائنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے.
- جو بیماری 10 دن میں خودبخود ختم ہو جانی ہے اس میں اپنی مرضی سے کسی قطرے کا غلط استعمال آپ کو زندگی بھر کے لیے کسی پیچیدگی میں مبتلا کر سکتا ہے. یاد رہے ان قطروں کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتے ہیں جن کی فیس بک پہ نسخے بانٹنے والوں کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی.
- نوے فیصد سے زیادہ لوگوں میں یہ بیماری بغیر کسی علاج اور بغیر کسی پیچیدگی کے خود بخود ختم ہو جاتی ہے.
- البتہ دس فیصد سے بھی کم لوگوں میں بعد میں کچھ پیچیدگیاں رہ سکتی ہیں جو کئی ماہ تک طویل ہو سکتی ہیں. ایسے لوگوں کو ضرور مستند آئی اسپیشلسٹ کو چیک کروانا چاہئیے
۔بیماری کا پھیلاٶ آنکھ سے نکلنے والے پانی سے ہوتا ہے جو ہاتھ لگانے ,یا چیزیں شیر کرنے سے پھیل سکتا ہے ,کسی کو دیکھنے سے یہ بیماری نہیں پھیلتیہاتھوں کو صابن اور پانی کے ساتھ اچھی طرح دھوئیں اور ا نفیکشن کی منتقلی کو روکنے کے لیے الکوحل سے بنے ہوئے، ہاتھ صاف کرنے والے محلول کا استعمال کریں۔ ہاتھ صاف کرنے والے محلول کو آنکھوں میں جانے سے بچائیں، کیوں کہ وہ آنکھوں میں سوزش کا باعث بنے گا چھوٹے بچوں کو یہ بیماری زیادہ متاثر کر رہی ہے لہذا گھر میں کوئی بھی فرد اگر متاثر ہو گیا ہے تو چھوٹے بچوں کو چھونے سے گریز کریں. اور گھر کے افراد مشترک چیزیں مثلاً تولیہ، تکیہ، سرمہ دانی اور میک اپ وغیرہ استعمال نہ کریں.
-بیماری سے متاثرہ سکول جانے والے بچوں کو گھر پہ ہی رکھا جائے اور جب تک آنکھوں میں سرخی یا رطوبت موجود ہو دوبارہ سکول نہ بھیجا جائے اور اگر کسی وجہ سے سکول بھیجنا لازم ہو تو ان بچوں کو باقی کلاس سے الگ ذرا فاصلے پہ رکھا جائے تا کہ بیماری کا پھیلاؤ کم سے کم ہو
۔کالے چشمے پہننے سے نہیں بلکہ احطیاط سے ہی بیماری کا پھیلاٶ کنٹرول کیا جا سکتا ہے
- والدین بچوں کی آنکھ میں قطرے ڈالنے سے پہلے اور بعد میں اچھی طرح ہاتھ دھوئیں تا کہ وائرس ایک سے دوسرے فرد میں منتقل نہ ہو.
- متاثرہ فرد سے ہاتھ ملا کر سلام کرنے سے پرہیز کریں
۔متاثرہ شخص بار بار اپنی انکھیں مَلنے سے گریز کرے
- متاثرہ مریض کے قطرے کوئی دوسرا فرد استعمال نہ کرے کیونکہ اس سے بھی وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے
۔سوٸمنگ پول مت نہانے جاٸیں
۔کانٹیکٹ لینز کا استعمال نہ کریں
- صبح شام دو منٹ کے لیے برف سے آنکھوں کی ٹھنڈی ٹکور کریں اس سے آنکھوں کی سوزش اور سُرخی کم ہو جاتی ہے
- آنکھوں کو جلن، خشکی اور خارش سے بچانے کے لیے مصنوعی آنسو یا lubricants کا استعمال کر کے علامات کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے. رہنمائی کے لیے کچھ قطروں کے نام لکھ رہا ہوں
1) Lubricant Eye drop like
OptheezE/D, Tear Aid E/D, Polytears E/D, Hylo E/D,Tear Plus E/D (use any of these drops) etc.
(ان میں سے کوٸ بھی ایک قطرہ دن میں چار یا پانچ مرتبہ۔۔۔حسبِ ضرورت)
2) Lacrilube E/Oint
اس مرہم کو رات کو آنکھوں میں استعمال کریں۔
اس کے علاوہ کوئی بھی دوا مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریںآنکھوں کی صفائی!!
اگر آنکھوں کی چپچپاہٹ یا آنکھوں سے نکلنے والے مواد کو کسی گرم کپڑے سے صاف کرلیا جائے تو آشوب چشم میں مبتلا فرد بہتر محسوس کرتا ہے۔ متاثرہ آنکھ کو صاف کرنے کے لیے، گرم، گیلا تولیہ یا کوئی صاف ستھرا کپڑا استعمال کریں اور بڑی نرمی سے آنکھ سے نکلے یا جمے ہوئے مواد کو صاف کریں۔ ہر بار آنکھ کی صفائی کے لیے صاف ستھرا کپڑا استعمال کریں۔ اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو صاف کر لیں۔
- اگر آنکھ میں درد,دھندلا پن یا آنکھ سے گاڑھا مواد خارج ہوتو فوراً آئی اسپیشلسٹ کو چیک کروائیں. کیونکہ یہ پیچیدہ مرض کی علامت ہے. اور اس معاملے میں موبائل یا وٹس ایپ پہ مشورہ کرنے سے گریز کریں.

بیماری کو ساٸنسی انداز میں سمجھیں اوراپنے دوست احباب کو بھی سمجھاٸیں, تب ہی ھم انشااللہ اس وبا سے نکلیں گے۔
اللہ تعالٰی ہماری انکھوں کا نور اور بصیرت سلامت رکھے. آمین

بچوں کے لئیے کِسی بھی زبان کو سیکھنے کا مفید موقع پہلے دو سال ہیں۔ اِس دورانیہ میں اپنے بچے سے زیادہ سے زیادہ بولیں اور ...
01/03/2023

بچوں کے لئیے کِسی بھی زبان کو سیکھنے کا مفید موقع پہلے دو سال ہیں۔ اِس دورانیہ میں اپنے بچے سے زیادہ سے زیادہ بولیں اور اُس کے ساتھ وقت گُزاریں۔ حالیہ دور میں والدین کے بہت زیادہ مصروف ہونے اور اُس کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے وقت پہ نہ بولنے کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ آپ جِتنا زیادہ بچے سے بولیں گے،اُس کے وقت پہ بولنے اور ذہین ہونے کا امکان زیادہ ہو گا۔۔
خدارا! موبائل فون ، ٹی وی آپ کے متبادل نہیں ہیں، پہلے دو سال بچے کا سکرین ٹائم( ٹی وی ، موبائل وغیرہ) صِفر ہونا چاہئیے ۔
A window of opportunity for optimal language acquisition occurs during first 2 years of life. So, try to spend more time with your child during that period.

There are two parts of language; receptive and expressive. The more you talk to your child, the more he would receive and ultimately express.
For God's sake ! TV , cell phones and other gadgets are not your replacement, rather they have given birth to SCDs ( social communication disorders) in kids. There should be no screen exposure to children aged less than Two years.

نومولود بچوں کے آنکھوں کی نظر کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا نو مو لود بچہ اپنی زندگی کے پہلے مہینے میں کتنی دور تک دیکھ سک...
14/02/2023

نومولود بچوں کے آنکھوں کی نظر

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا نو مو لود بچہ اپنی زندگی کے پہلے مہینے میں کتنی دور تک دیکھ سکتا ہے اور اس کو چیز یں کیسی نظر آتی ہیں۔
جی ہاں آج آپ اپنے لخط جگرکے بار ے میں ایک اورحیر ت انگیز راز سے آشنا ہو ں گے ۔اپ کا بے بی پیدا ئش کے وقت صرف آٹھ سے با رہ انچ کے فا صلے تک دیکھ سکتا ہے ۔ نومولود بچے کا eye sight۔ 20/200 -20/400 کے درمیان ہو تا ہے ۔ اور اس کو با رہ انچ کے فاصلے سے دور سب کچھ دھندلا نظر اتا ہے ۔ اس کے علا وہ نو مو لو د بے بی رنگو ں میں فرق نہیں کر سکتا ہے ۔اسے کا لے اور سفید کلر کی گول گول چیز یں قر یب سے اچھی لگتی ہیں ۔ اس لیے جب آپ کا بے بی اپ کے گود میں فیڈ کر رہا ہو تا ہے تو اس کو آپ کو آپ کا چہرہ صاف نظر اتا ہے ۔اور اپ کی انکھیں اس کو بہت اچھی لگتی ہیں ۔کیو نکہ گول گول انکھو ں کا کلر سفید اور کالے رنگ پر مشتمل ہوتا ہے ۔بلکہ نیلی انکھیں بھی بے بی کو کا لی ہی نظر آتی ہی۔ اس لیے اپنے بے بی کو شروع کے چند مہینوں میں اپنے چہرے کے قر یب رکھیں اور اس سے با تیں کریں ۔
جو ں جو ں بچہ بڑا ہو تا ہے اس کو چیز یں صاف نظر انی شروع ہو تی ہیں ۔ تین سے چا ر مہینے میں بے بی کو رنگ صاف نظر ان انا شروع ہو تے ہیں ۔پہلے مہینے میں سفید اور کالے رنگ کی اشیا بے بی کو اپنی جا نب متو جہ کر تی ہیں اور دوسرے مہینے کے بعد سرخ سبز اور تیز رنگ کے کھلو نے بے بی کے چہر ے کے سا منے رکھیں ۔اس سے بچے کی نظر بہتر ہو نے میں مد د ملے گی۔

12/02/2023

Shaken Baby Syndrome

Do not do this to your small babies.. specially below 8 months of age.
Share with others.


تمام والدین سے گزارش ہے کے اپنے چھوٹے بچوں کو جنجھوڑنے سے پرہیز کریں !!
دوسروں کے ساتھ بھی شیر کریں.

Video Credit: Dr Arshad Mehmood

12/02/2023

Shaken Baby Syndrome

Do not do this to your small babies.. specially below 8 months of age.

 ؟آنکھوں کا بھینگا پن یا Squintsآنکھوں کی ایک بیماری ہے جہاں آنکھیں ایک ہی سمت میں نہیں دیکھ رہی ہیں (سیدھی نہیں ہوتی).ی...
11/02/2023

؟
آنکھوں کا بھینگا پن یا Squintsآنکھوں کی ایک بیماری ہے جہاں آنکھیں ایک ہی سمت میں نہیں دیکھ رہی ہیں (سیدھی نہیں ہوتی).
یہ مسلہ کافی عام ہیں اور تقریباً 20 میں سے 1 بچوں میں پایا جاتا ہے۔
عمر کے ساتھ ساتھ یہ مسلہ خود سے ٹھیک نہیں ہوتااور علاج ضروری ہے۔
یہ بڑھ کر ایک ایسی حالت کا باعث بن سکتا ہے جسے ایمبلیوپیا کہا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بچہ اس آنکھ کی بینائی کو مستقل طور پر کھو دیتاہے۔

؟
دونوں آنکھیں ایک جوڑے کے طور پر مل کر کام کرتی ہیں ۔ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو وہ ایک ہی جگ پر توجہ مرکوز کر رہی ہوتی ہیں۔ دماغ ہر آنکھ سے ایک جیسی تصویریں وصول کرتا ہے تاکہ وہ آپ کو گیراٸ اور تین جہتی (3D) بصارت کے ساتھ ان کو ایک ساتھ جوڑ سکے۔

ہر آنکھ کی حرکت چھ پٹھوں کے ذریعے کنٹرول کی جاتی ہے جو آنکھ کو مختلف سمتوں میں حرکت دیتے ہیں۔ ایک آنکھ کے پٹھے دوسری آنکھ کے پٹھوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوتے ہیں تاکہ وہ مل کر کام کر سکیں۔ آنکھیں بھی ایک پوزیشن لینے کے لیے مل کر کام کرتی ہیں۔

آنکھوں کے اس معمول کے کام میں خرابی آنکھوں کا بھینگا پن یا Squints
کا باعث بن سکتی ہے۔

؟

۔ دور یا نزدیک کی نظر کا کمزور ہونا
۔خاندانوں میں بیماری کا ہونا.
۔آنکھوں کے پٹھوں کو اعصاب کی فراہمی میں دشواری کی وجہ ( اعصابی فالج ) ۔
تاہم، بہت سے مریضوں میں کوٸ خاص وجہ نظر نہیں آتی

آنکھوں کا بھینگا پن یا Squintsکا #علاج کیا ہے؟

اسکا کا علاج اس کی قسم اور وجہ پر منحصر ہے۔
علاج میں شامل ہے :
۔عینک لگانا
۔سرجری
۔آنکھوں کی ورزشیں
۔نارمل آنکھ کو کور کرنا تاکہ متاثرہ آنکھ کام کرا شروع کر سکے ۔

عوامی آگاہی کے لیے دوسروں کے ساتھ شئیر کریں۔ جزاک اللہ
Credit: Dr Arshad Mehmood

10/02/2023

If your child puts something in their mouth that isn't safe, try this.
It doesn't hurt them and is gentle then trying to put their mouth open or putting your finger blindly inside their mouth.

08/02/2023

Safe alternatives to bed sharing with your babies.

Difference between Helicopter and Positive Parenting.❌ Controls the child every time✅ Gives a sense of independence to t...
27/01/2023

Difference between Helicopter and Positive Parenting.

❌ Controls the child every time
✅ Gives a sense of independence to the child.

❌ Feels scared of providing first hand experience to the child
✅ Improves confidence and self esteem in the child.

❌ Speak up for their child, being overprotective.
✅ Allow their child to be social

❌ Don't allow others to interact with their child.
✅ Allow their child to talk to others and explore

❌ Gives too much instructions, wants their child to follow their path
✅ Allow their child to make their own path.

بچے کے لئے گائے کا دودھ اور قبض اکثر والدین کا یہ خیال ہے کہ جب بچے کو گائے کا دودھ پلائیں تو اس میں پانی ملانا چاہیے کی...
24/01/2023

بچے کے لئے گائے کا دودھ اور قبض

اکثر والدین کا یہ خیال ہے کہ جب بچے کو گائے کا دودھ پلائیں تو اس میں پانی ملانا چاہیے کیونکہ اس سے بچوں کو قبض نہیں ہوگی۔
میں آپ کو سائنس کے اعتبار سے بتاؤنگا کہ یہ سچ ہے یا نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو ایک سال سے پہلے گائے کا دودھ نہیں دینا چاہیے، ایک سال کے بعد بچے کو گائے کا دودھ دیں مگر پانی ہرگز نہ ملائیں۔ دودھ میں پانی ملانے کا نقصان یہ ہے کہ اس سے دودھ کی انرجی (کیلوریز) کم ہو جاتی ہیں اور یہ انرجی بچے کی دماغ اور باقی جسم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔

اچھا کیا واقعی دودھ پلانے سے قبض ہو جاتی ہے؟ ہاں، بچوں کو جب گائے کا دودھ پلایا جائے تو انکو قبض ہو جاتی ہے۔ اسکی وجہ cow milk protein allergy ہوتی ہے۔ یعنی گائے کے دودھ میں کچھ پروٹین(protein) سے بچے کو الرجی(allergy) ہوتی ہے جسکی وجہ سے بچے کو قبض ہو جاتی ہے۔ اب اسکا حل کیا ہے؟ حل یہ ہے کہ جیسے ہی بچہ 6-5 ماہ کا ہو جائے تو دودھ کے ساتھ نرم غذا شروع کرنی چاہیے۔ والدین کیا کرتے ہیں کہ بچے کو صرف گائے کا دودھ پلاتے رہتے ہیں اور دوسری غذا ٹھیک طریقے سے نہیں کھلاتے۔ اور جب تک بچے کی غذا میں سبزیاں ،پھل،اناج اور فائبر شامل نہ ہو تو قبض ہوتی رہی گی ۔

منہ میں زخم یا چھالے⛔السرگول یا بیضوی شکل کے چھالے یا زخم ہیں۔ یہ جسم میں کہیں بھی بن سکتے ہیں تاہم منہ کے السرعموماً ہو...
20/01/2023

منہ میں زخم یا چھالے

⛔السرگول یا بیضوی شکل کے چھالے یا زخم ہیں۔ یہ جسم میں کہیں بھی بن سکتے ہیں تاہم منہ کے السرعموماً ہونٹ، زبان، اندرونی گال اورتالو وغیرہ پرہی بنتے ہیں۔

ان کی موجودگی تکلیف دہ ہونے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے اوربولنے میں بھی مشکل کا باعث بنتی ہے۔

زیادہ ترافراد میں ان کا دورانیہ ایک سے دو ہفتوں تک ہوتا ہے۔ اس عرصے میں یہ بغیرکسی علاج کے ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

❤️❤️عام وجوہات

🛑مرچ اورگرم مسالوں کا بے جا استعمال معدے میں تیزابیت کا باعث بنتا ہے۔ زیادہ ترصورتوں میں یہی تیزابیت منہ میں چھالوں کا سبب بنتی ہے۔ منہ کے السرکی اصل وجہ کا تعین تو مشکل ہے تاہم ان عوامل کو اس سے وابستہ خیال کیا جاتا ہے.

💊٭وٹامن بی 12، آئرن، فولک ایسڈ کی کمی ہونا۔

♈٭منہ اوردانتوں کی مکمل اورباقاعدہ صفائی نہ ہونا۔

⭕٭رگڑ رگڑ کربرش کرنا یا سخت اورناقص برش کا استعمال کرنا۔ یہ دانتوں کی ساخت متاثرکرتا ہے بلکہ اس کے باقاعدہ استعمال سے مسوڑے بھی زخمی ہوجاتے ہیں۔

🛑٭عموماً جلدی جلدی کھانے یا ویسے ہی کھیل کود کے دوران گال کے اندرونی حصے کا دانتوں کے درمیان آجانا۔

🔵٭مخصوص ادویات کا استعمال کرنا۔

٭🔵کیفین مثلاً چائے‘ کافی‘ بلیک چاکلیٹ کا زیادہ استعمال ۔

♐٭ ہارمونزکا غیرمتوازن ہونا ۔

🎇٭ذہنی تناؤ،اضطراب اورڈپریشن کا شکار ہونا۔

🔆٭منہ میں بیکٹیریا‘ وائرس اورانفیکشنزہونا۔

🛑٭کچھ بیماریوں مثلاً ذیابیطس، سی لئک ،آئی بی ڈی اورخون کی رگوں میں سوجن کا شکارہونا۔٭قوت مدافعت کمزور ہونا ۔

🔵٭ ڈینٹل بریسز کے استعمال کی وجہ سے کھانے پینے یا بولنے کے دوران مسوڑھوں پررگڑ لگ جانا۔

🛑🛑🛑علاج

السرکے علاج میں پہلی ترجیح درد کی شدت میں کمی لانا ہوتا ہے۔ اس کے لئے کھانے اورزخموں پرلگانے کے لئے ادویات دی جاتی ہیں۔ یہ صحت یابی کے عمل میں تیزی اوردرد میں کمی لاتی ہیں۔

⚠️منہ کی صحت کوبرقرار رکھنے کے لئے روزانہ رات کوسونے سے پہلے یا کھانے کے بعد ایک گلاس نیم گرم پانی میں نمک ڈال کرغرارے کریں یا ڈاکٹرکا تجویز کردہ ماؤتھ واش استعمال کریں۔ السر کی وجہ معدے کی خرابی ہوتواس کے لئے ادویات دی جاتی ہیں۔

🟥مزیدبرآں غذائی کمی کو پورا کرنے کے لئے مختلف سپلی منٹس بھی ڈاکٹر کے مشورے سے کھائے جاسکتے ہیں۔

🛑بچاؤ کی تدابیر::

🚩٭ایسی تمام اشیاء سے پرہیز کریں جو منہ کے السر یا منہ اورحلق کے سرطان کا باعث بن سکتی ہوں۔ ان میں سگریٹ نوشی‘ الکوحل کا استعمال اورنسواریا تمباکو چبانا شامل ہیں۔

🚩٭اپنے جسم کی صفائی کے ساتھ منہ کی صفائی کا بھی خصوصی خیال رکھیں۔ ٹوتھ برش ہرتین ماہ بعد تبدیل کر دیں

🚩٭ڈینٹل فلاس کا استعمال لازماً کریں۔

🚩٭سال میں ایک بار دانتوں کے معائنے کے لئے ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں

Address

Ali Hospital, Street 31, Sector G-9/1
Islamabad
22010

Opening Hours

Monday 14:30 - 18:00
Tuesday 14:30 - 18:00
Wednesday 14:30 - 18:00
Thursday 14:30 - 18:00
Friday 14:30 - 18:00
Saturday 14:30 - 18:00

Telephone

+923468881674

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Irshad Hussain - Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Irshad Hussain - Child Specialist:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category