27/01/2026
کونیی چیلائٹس: اسباب، علامات اور علاج
اینگولر چیلائٹس منہ کے کونوں میں دردناک سوزش ہے۔ یہ پھٹنے، لالی اور بعض اوقات ایسے زخموں کا سبب بنتا ہے جہاں اوپری اور نچلے ہونٹ ملتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے سادہ خشک ہونٹ سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں، لیکن طبی طور پر یہ اکثر انفیکشن، جلن یا غذائیت کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہ بچوں، بڑوں اور بوڑھوں کو متاثر کر سکتا ہے - خاص طور پر وہ لوگ جو نیند کے دوران سوتے ہیں، ڈینچر پہنتے ہیں، یا کمزور قوت مدافعت رکھتے ہیں۔
🟣 کونیی چیلائٹس کیسا لگتا ہے؟
→ منہ کے ایک یا دونوں کونوں پر سرخ، پھٹی ہوئی جلد
→ دردناک پھٹنے یا زخم
→ سوجن یا کرسٹ بننا
→ جلن یا خارش کا احساس
→ کبھی کبھی پیلے رنگ کا مادہ
🟣 عام وجوہات
→ فنگل انفیکشن (کینڈیڈا - سب سے عام)
→ بیکٹیریل انفیکشن (اسٹیفیلوکوکس)
→ تھوک سے مسلسل نمی
→ غیر موزوں ڈینچر یا منحنی خطوط وحدانی
→ ہونٹ چاٹنا یا منہ سے سانس لینا
→ غذائیت کی کمی (وٹامن B12، آئرن، فولیٹ)
→ کمزور قوت مدافعت یا ذیابیطس
🟣 علامات جو آپ محسوس کر سکتے ہیں۔
→ منہ کھولتے وقت درد
→ مسالہ دار یا کھٹی غذائیں کھانے میں دشواری
→ خون بہنے والے شگاف
→ ایک ہی جگہ پر بار بار آنے والے زخم
🟣 جس کو زیادہ خطرہ ہے۔
→ بوڑھے لوگ
→ ڈینچر استعمال کرنے والے
→ ذیابیطس والے لوگ
→ وٹامن بی کی کمی
→ وہ بچے جو لرزتے ہیں۔
→ کمزور قوت مدافعت والے لوگ
🟣 کونیی چیلائٹس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے۔
→ اینٹی فنگل کریمیں (اگر فنگل کی وجہ سے شبہ ہو)
→ اینٹی بائیوٹک مرہم (اگر بیکٹیریل انفیکشن موجود ہو)
→ رکاوٹ والی کریمیں (پیٹرولیم جیلی یا زنک آکسائیڈ)
→ وٹامن کے سپلیمنٹس اگر کمی کی تصدیق ہو جائے۔
→ اگر ضرورت ہو تو ڈینچر ایڈجسٹمنٹ
→ کونوں کو خشک اور صاف رکھیں
🟣 گھر کی دیکھ بھال کے نکات
→ ہونٹ چاٹنے سے گریز کریں۔
→ دن میں دو بار علاقے کو آہستہ سے صاف کریں۔
→ حفاظتی مرہم باقاعدگی سے لگائیں۔
→ کافی پانی پیئے۔
→ اچھی زبانی حفظان صحت کو برقرار رکھیں
🟣 ڈاکٹر کو کب دیکھنا ہے۔
→ 7-10 دنوں میں ٹھیک نہیں ہونا
→ واپس آتا رہتا ہے۔
→ شدید درد یا سوجن
→ انفیکشن کی علامات (پیپ، بخار)
→ مشتبہ وٹامن کی کمی
کلیدی ٹیک وے
→ اینگولر چیلائٹس عام اور قابل علاج ہے۔
→ اکثر انفیکشن + نمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
→ غذائیت کی کمی ایک کردار ادا کر سکتی ہے۔
→ ابتدائی علاج دائمی کریکنگ کو روکتا ہے۔
⚠️ میڈیکل ڈس کلیمر:
یہ معلومات صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہے اور طبی مشورے کی جگہ نہیں لیتی۔ اگر منہ کے کونے کے زخم برقرار رہتے ہیں یا بار بار دہراتے ہیں، تو مناسب تشخیص اور علاج کے لیے ڈاکٹر یا دانتوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔