Sultan Hospital, Jauharabad

Sultan Hospital, Jauharabad medical specialist, child specialist, ultrasound specialist radiologist

Big thanks to Muhammad Ahmad, Muhammad Tariq Aziz, Rizwan Aslam, Malik Amir, محمد نعمان لنگاہ, Dr-Umar Farooq, Mian Saad...
14/03/2026

Big thanks to Muhammad Ahmad, Muhammad Tariq Aziz, Rizwan Aslam, Malik Amir, محمد نعمان لنگاہ, Dr-Umar Farooq, Mian Saad Mushtaq, Aziz Ur Rehman, چوہدری رضوان صدیقی, Naeem Haider, Sher Afzal, Dr-Mohsin Raza, Asim Bhutta, Malik Hamid Mehmood Borana, Muhammad Asif, Hafiz Muhammad Akram Awan, Hadi Butt, لقمان لنگاہ, M Shahbaz, Malik Qutab Khan Awan, Tasawar Hussain, Muhammad Zaid Langah, RaJa Ashiq, Fiaz Awan, Muhammad Imran

for all your support! Congrats for being top fans on a streak 🔥!

14/03/2026
12/03/2026

صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی
گئی، کفن میں لپٹی لاش نے سب کو سجدے میں ڈال دیا

✦ ✦ قبر کا راز ✦ ✦

یہ ۱۹۵۰ء کی بات ہے۔ شام کا ملک تہذیب و تمدن کی نئی منزلیں طے کر رہا تھا مگر دمشق کی پرانی بستیوں میں اب بھی وہی کہانیاں گونجا کرتی تھیں جو صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کے گرد گھومتی تھیں۔

قلعہ دمشق کے قریب اموی مسجد کے صحن میں ایک چھوٹا سا مقبرہ تھا۔ پیلے پتھروں سے بنا ہوا، جس پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی۔ اس مقبرے کے اندر کوئی تعمیراتی شاہکار نہیں تھا، نہ سنہری دروازے، نہ قیمتی پتھروں کی جڑاؤ کاری۔ بس ایک سادہ سی قبر، جس پر ہمیشہ تازہ پھول رکھے جاتے۔ اور قبر کے اوپر لکڑی کا ایک پرانا تختہ، جس پر نوشتہ تھا:

"ہذا قبر السلطان الملک الناصر صلاح الدین"

یہاں تک کہ اس قبر کے متولی بھی نہیں جانتے تھے
کہ اس مٹی کے نیچے کون سی حقیقت چھپی ہے۔ مگر
۱۹۵۰ء کا وہ دن تھا جب تاریخ کے اوراق پلٹنے والے تھے۔

شام کی حکومت نے قلعہ دمشق کی مرمت کا فیصلہ کیا۔
ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم دمشق پہنچی، جس میں
فرانس، برطانیہ اور مصر کے نامور ماہرین شامل تھے۔ ان
کا دعویٰ تھا کہ موجودہ مقبرہ صلاح الدین ایوبیؒ کا نہیں،
بلکہ کسی اور شخص کا ہے۔ اصل قبر کہیں اور ہے۔

"یہ محض ایک علامتی مقبرہ ہے،" فرانسیسی ماہر
ڈیوڈ لی کومٹے نے کہا۔ "صلاح الدین جیسی عظیم
شخصیت کی تدفین اتنی سادگی سے ممکن نہیں۔"

دمشق کی گلیاں اس بحث سے گرم تھیں۔ بوڑھے
کہانی سنانے والے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر کہتے کہ
"یہ فرنگی پھر مسلمانوں کی تاریخ مٹانے آئے ہیں۔"
مگر سائنسی شہادتوں کے سامنے عقیدت بھی خاموش تھی۔

آخرکار فیصلہ ہوا کہ مقبرہ کھولا جائے گا۔

۲۵ نومبر ۱۹۵۰ء۔

صبح کا وقت تھا۔ اموی مسجد کے صحن میں غیر معمولی رونق تھی۔ حکومتی اہلکار، ماہرین آثار، چند نامور صحافی اور وہاں موجود ہر شخص کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ مگر مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع نہیں ہو سکی تھی۔ ان کے دلوں میں دھڑکنے والی عقیدت اس منظر کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ کوئی ان کے سلطان کی قبر کو ہاتھ لگائے۔

چنانچہ صرف چند افراد اس کارروائی کے گواہ بنے۔

مقبرے کا دروازہ کھلا۔ اندرونی حصہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا صدیوں سے تھا—سادہ، بے تکلف، دنیا کی کسی بھی شان و شوکت سے عاری۔ فرش پر پرانے قالین بچھے تھے، دیواروں پر قرآنی آیات لکھی تھیں۔ اور بیچوں بیچ وہ قبر جس کے نیچے ایک عظیم سپاٹے کی ہڈیاں ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔

ماہرین نے کام شروع کیا۔ پتھر ہٹائے گئے، مٹی ہٹائی گئی۔ قبر کی گہرائی میں ایک لکڑی کا صندوق ملا، جو مکمل طور پر گل سڑ چکا تھا۔ اس کے نیچے کفن میں لپٹی ہوئی ایک لاش تھی۔

مگر جیسے ہی کفن کا ایک کونا ہٹایا گیا، وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں رک گئیں۔

کفن میں لپٹی لاش بالکل تازہ تھی۔

فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے اپنی عینکیں صاف کیں، پھر دوبارہ دیکھا۔ لاش پر گلنے سڑنے کا کوئی اثر نہیں تھا۔ جلد ابھی تک برقرار تھی، چہرے کے نقوش واضح تھے، داڑھی کے بال موجود تھے۔

"یہ ناممکن ہے!" ان کی آواز قبرستان کی خاموشی میں گونجی۔

ایک مصری ماہر نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کفن کو مزید ہٹایا۔ لاش کے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے—وہی طریقہ جس سے مسلمان میت کو دفناتے ہیں۔ انگلیوں کی پوروں پر مہندی کے نشان تھے، گویا ابھی کل ہی لگائی گئی ہو۔

کمرے میں سناٹا تھا۔ کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

پھر دمشق کے ایک بزرگ عالم جو وہاں موجود تھے، آگے بڑھے۔ ان کی عمر تقریباً اسی برس تھی، داڑھی سفید، چہرے پر نور تھا۔ انہوں نے کفن کو مکمل طور پر ہٹانے سے منع کر دیا۔

"بس کرو،" ان کی آواز میں عجیب سا وقار تھا۔ "اب تم دیکھ چکے۔ جو دیکھنا تھا۔"

فرانسیسی ماہر نے احتجاج کیا۔ "لیکن ہمیں تحقیق کرنی ہے، کاربن ڈیٹنگ کرنی ہے، یہ ثابت کرنا ہے کہ..."

"کیا ثابت کرنا ہے؟" بزرگ عالم نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔ "تم اس شخص کے بارے میں کیا ثابت کرو گے جس نے خود کہا تھا کہ میری تجہیز و تکفین کے لیے بھی رقم نہیں ہو گی؟"

کمرے میں ایک اور خاموشی چھا گئی۔

پھر بزرگ عالم نے وہ کام کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔

وہ سجدے میں گر گئے۔

ان کے ماتھے نے اس فرش کو چھوا جہاں سے تھوڑی دیر پہلے مٹی ہٹائی گئی تھی۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ان کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی لفظ تھا: "اللہ... اللہ..."

وہاں موجود ہر شخص—مسلمان اور غیر مسلم—دیکھتا رہ گیا۔ پھر ایک ایک کر کے سب کے گھٹنے زمین کو چھونے لگے۔ فرانسیسی ماہر ڈیوڈ نے بھی اپنا سر جھکا لیا۔ وہ سائنسدان تھا، مومن نہیں تھا، مگر اس منظر کی ہیبت اسے سجدے میں نہیں تو کم از کم خاموشی میں ضرور لے آئی۔

کچھ دیر بعد بزرگ عالم اٹھے۔ انہوں نے بتایا کہ صلاح الدین ایوبیؒ کی وصیت تھی کہ ان کی قبر سادہ ہو، کوئی مزار نہ بنے، کوئی تعمیر نہ ہو۔ مگر وقت کے بادشاہوں نے عقیدت میں یہ مقبرہ بنا دیا۔ شاید اسی لیے اللہ نے اپنے نیک بندے کی حفاظت کا یہ طریقہ چنا۔

کفن کو دوبارہ ٹھیک سے لپیٹا گیا، مٹی ڈالی گئی، پتھر رکھے گئے۔ مگر وہ دن تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف میں لکھا گیا۔

وہاں موجود ایک صحافی نے بعد میں لکھا:

"میں نے اپنی زندگی میں کئی عجائبات دیکھے، کئی دریافتوں کی روداد لکھی، مگر اس دن جو دیکھا، وہ کسی سائنس کی کتاب میں نہیں ملے گا۔ 600 سال گزرنے کے بعد بھی ایک لاش ویسی ہی تازہ تھی جیسے ابھی کل دفنائی گئی ہو۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس شخص کی عظمت کو نہیں مٹا سکتی جس نے زندگی بھر اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکایا، اور جس کی وفات پر اس کا رب خود اس کی حفاظت کا ذریعہ بنا۔"

آج بھی دمشق میں جب کوئی بوڑھا صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا قصہ سناتا ہے تو وہ اس دن کا ذکر ضرور کرتا ہے جب قبر کھولی گئی۔ اور سننے والوں کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ جاتی ہے۔

کیونکہ کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو ثبوتوں سے نہیں، بصیرتوں سے دیکھی جاتی ہیں۔

اور صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کا وہ دن ایک ایسی ہی بصیرت تھی—جو صرف انہیں ملی جنہوں نے آنکھوں سے نہیں، دل سے دیکھا۔

---

خلاصہ: وہ شخص جس نے زندگی بھر دنیا کی شان و شوکت ٹھکرائی، اس کی وفات کے 600 سال بعد بھی اللہ نے اس کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا کہ دیکھنے والے سجدے میں گر پڑے۔ سچائی کا کفن کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ 💚🕊️🌙

---

سوال: اگر آپ کو موقع ملے تو صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر پر جا کر کون سی ایک دعا مانگیں گے؟
خلیل میاں کی وال سے شکریہ کے ساتھ کاپی پیسٹ

11/03/2026

ملاحظہ فرمائیں ہماری تازہ ترین ویڈیو

جس کا عنوان ہے کہ زندگی میں تیز رفتاری اور مقابلہ بازی سے پرہیز کیجیے

03/03/2026

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Muhammad Fayyaz, Muhammad Tariq Aziz, RaJa Ashiq, Ghulam Shabbir Mughal

02/03/2026

انتہائی سننے اور سوچنے کے لائق ۔۔۔

Big shout out to my newest top fans! 💎 Muhammad Ahmad, Asim Bhutta, Muhammad Tariq Aziz, Rizwan Aslam, Malik Amir, محمد ...
25/02/2026

Big shout out to my newest top fans! 💎 Muhammad Ahmad, Asim Bhutta, Muhammad Tariq Aziz, Rizwan Aslam, Malik Amir, محمد نعمان لنگاہ, Dr-Umar Farooq, Mian Saad Mushtaq, Aziz Ur Rehman, چوہدری رضوان صدیقی, Naeem Haider, Sher Afzal, Dr-Mohsin Raza, Malik Hamid Mehmood Borana, Muhammad Asif, Hafiz Muhammad Akram Awan, Hadi Butt, لقمان لنگاہ, M Shahbaz, Malik Qutab Khan Awan, Tasawar Hussain, Muhammad Zaid Langah, RaJa Ashiq, Fiaz Awan, Muhammad Imran

Drop a comment to welcome them to our community,

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ëyēs Rêædër, Ayesha Khan
25/02/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Ëyēs Rêædër, Ayesha Khan

25/02/2026

گھر کے لیے بھی ویسا ہی ایک دستور اور قانون ہو
جیسے کسی ریاست یا ملک کا ہوتا ہے۔

والدین ہرگز ہرگز اس بات کے انتظار میں نہ رہیں کہ تربیت گاہیں اپنے فرائض پورے کر کے ان کی اولاد کو اچھا شہری بنائیں گی، انہیں خود اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا کہ انفرادی طور پر اپنے بچوں کو معاشرے کا ذمہ دار فرد بنانا ہوگا۔

کیا ہی اچھا ہو کہ والدین گھروں میں ہی کچھ ایسے ہلکے پھلکے قانون بنا دیں جن پر عمل کر کے بچوں کے کردار میں پختگی آئے اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔

ساتھ ہی انہوں نے اس ضمن میں چند لوائح العمل تیار کیے ہیں، والدین کو ان میں سے جو مناسب لگیں وہ اختیار کرلیں یا ان میں ترمیم و اضافہ کر لیں۔

01: گھر کا ہر فرد نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے گا۔

02: "برائے مہربانی" اور "شکریہ" کے کلمات بنیادی ضوابط ہوں گے جن سے کوئی بھی بری نہیں ہوگا۔

03: کوئی "مار پٹائی"، کوئی "گالم گلوچ" یا کوئی بھی "لعن طعن" والی ایسی بات نہیں ہوگی جس سے بدذوقی کا احساس ہو۔

04: اپنے محسوسات اور خیالات کو ادب و احترام اور وضاحت کے ساتھ بتا دیجیے۔

05: جو کوئی بھی جس جس چیز کو (دروازہ، کھڑکی، ڈبہ، پلیٹ) کھولے گا اُسے بند بھی کرے گا، کچھ گر جائے تو اُسے اٹھائے گا اور جگہ کو اُس سے زیادہ صاف کر کے رکھے گا جیسے پہلے تھی۔

06: آپ کا کمرہ خالص آپ کی ذمہ داری ہے۔

07: جو کوئی بات کرے گا اُسے ٹوکے بغیر سنی جائے گی اور بات کو درمیان میں سے کوئی نہیں کاٹے گا۔

08: گھر میں داخل اور خارج ہوتے ہوئے سلام کرنا ہوگا۔

09: گھر کا ہر فرد روزانہ قرآن مجید سے ایک حزب کی تلاوت کرے گا۔

10: جو ہم سے ملنے آئے وہ ہمارے قوانین کا احترام کرے۔

11: گھر کا کوئی بھی فرد اپنے کمروں میں جا کر کچھ نہیں کھائے گا۔

12: رات کو (00:00) کے بعد کوئی بھی نہیں جاگے گا۔

13: سمارٹ فون اور ڈیوائسز صرف (00:00) سے لیکر (00:00) کے درمیان میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔

14: والدین کیلیئے احتراما کھڑا ہونا، اُن کے سر پر بوسہ دینا یا اُن کے ہاتھ چومنا ضروری شمار ہوگا۔

15: مل کر بیٹھنے کے وقت میں کسی قسم کی مواصلاتی ڈیوائس (فون/پیڈ) کا استعمال منع ہوگا۔

16: کھانے پینے کے وقت میں سب کی حاضری اور شمولیت ضروری ہوگی۔

17: رات کو (00:00) کے بعد کسی قسم کی تعلیمی سرگرمی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

18: گھر کے سارے افراد گھر اور گھر میں موجود ہر شے کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔

19: اپنا کام ہر کوئی خود کرے گا، کوئی کسی دوسرے پر حکم نہیں جھاڑے گا ہاں مگر گھر کے سربراہان اپنا کام کسی کو کہہ سکتے ہیں۔

20: خاندان اور اُس کی ضروریات کسی بھی دوسری ضرورت پر مقدم اور پہلے کی جانے والی شمار ہوں گی۔

21: کوئی بھی کسی کے کمرے یا علیحدگی والی جگہ پر دروازہ کھٹکھٹائے یا اس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوگا۔

میں نے ان باتوں کو بہت ہی مفید پایا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اسے اہمیت دیں کیونکہ اولاد کی تربیت ایک ایسا مشکل کام ہے جسے ہفتے کے سات دن اور دن کے چوبیس گھنٹے کرنا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالکریم بکار

Address

Civil Lines
Jauharabad
42100

Telephone

+923036095691

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sultan Hospital, Jauharabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sultan Hospital, Jauharabad:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram