04/02/2026
ایس ایچ او کوٹ شاکر کی معطلی کا معاملہ: لاہور ہائیکورٹ میں ڈی پی او جھنگ طلب، پولیس نظامِ تعیناتی پر سخت سوالات
جھنگ (رائے منظورعابدسے) لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس تنویر احمد شیخ کی عدالت میں تھانہ کوٹ شاکر کے ایس ایچ او اعجاز احمد کی معطلی کے معاملے پر سماعت کے دوران غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی۔ عدالت نے ایس ایچ او کی تعیناتی اور عدالتی عملے سے بدتمیزی کے واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او جھنگ بلال افتخار کیانی سے تفصیلی وضاحت طلب کر لی۔سماعت کے دوران جسٹس تنویر احمد شیخ نے ڈی پی او جھنگ سے سوال کیا کہ ایس ایچ او اعجاز احمد کو کس بنیاد پر تعینات کیا گیا۔ ڈی پی او نے موقف اختیار کیا کہ مذکورہ افسر ایک تجربہ کار اہلکار ہے۔ تاہم عدالت نے مزید استفسار کیا کہ اس کی تعلیمی قابلیت کیا ہے، جس پر بتایا گیا کہ ایس ایچ او ایف اے پاس ہے۔ اس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس افسر نے عدالتی عملے کے ساتھ بدتمیزی کی، اسے قانون نافذ کرنے کے بجائے جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔ڈی پی او جھنگ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایس ایچ او کو معطل کر کے محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے، تاہم عدالت اس کارروائی سے مطمئن نظر نہ آئی۔ جسٹس تنویر احمد شیخ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر معاملے میں سنجیدہ اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو آئی جی پنجاب کو طلب کر کے پورے صوبے میں ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے معیار کا جائزہ لیا جائے گا۔عدالت نے ڈی پی او جھنگ کو ہدایت کی کہ وہ 15 روز کے اندر مکمل رپورٹ پیش کریں جس میں نہ صرف ایس ایچ او کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیل شامل ہو بلکہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ کم تعلیمی قابلیت رکھنے والے افسر کو حساس عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری کیسے دی گئی۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔اس عدالتی کارروائی کے بعد پولیس کے نظامِ تعیناتی اور احتساب پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ عوامی حلقوں میں بھی شفافیت اور میرٹ پر تقرریوں کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔