Dr Ateeq Ur Rehman

Dr Ateeq Ur Rehman MBBS & FCPS -2 Medicine Trainee
(Physician )
LGEM Trainee Batch 3
Gold Medalist
Provide Best Paid Online Health Consultation
03008585182

کل رات ١١ بجے ایک مریض گمس ہسپتال خیر پور سندھ   میں سانس کی تکلیف سے آیا ٹیسٹ کرنے پے پتا چلا کے اس کے دل کی جهلی میں  ...
16/05/2025

کل رات ١١ بجے ایک مریض گمس ہسپتال خیر پور سندھ میں سانس کی تکلیف سے آیا ٹیسٹ کرنے پے پتا چلا کے اس کے دل کی جهلی میں پانی ہے جو دل اور پھپڑوں پر اثر ڈال رہا ہے جس کی وجہ سے مریض کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے گییمس ہارٹ سینٹر کے مایا ناز اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جمیل حسین اور پی جی آر ڈاکٹر محمد عتیق الرحمن نے فورا مریض کے دل سے پانی نکالااور مریض کی تکلیف دور کی اور اب مریض بلکل ٹھیک ہے
Procedure Name
Pericardiocentasis

گھر بیٹھے اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر سے رجوع کریں
Only whatsapp
03008585182

25/12/2024

I m available at
Alnasir Health care clinic
Friday
Saturday
Sunday
27-12-24 to
29-12-24
For check up and Details please visit
03008585182
Online Check Up Facility is also available

11/12/2024

اَلْحَمْدُلِلّٰه
By the Grace of Allah Almighty And Prayers of My parents and teacher
I have passed my
MRCEM Primary Exam in First Attempt

16/11/2024

#پیشاب کے ٹیسٹ سے کیا پتہ چلتا ہے؟

یورین کمپلیٹ ایگزیمینیشن یا یورین ڈیٹیلڈ رپورٹ ایگزیمینیشن (DRE) میں مریض کے پیشاب کا تفصیل سے معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ کسی بیماری، انفیکشن، یا گردے اور مثانے کی بیماریوں کی تشخیص میں مدد مل سکے۔

اس میں مختلف اہم اجزاء کو تفصیل سے دیکھا جاتا ہے :

1. رنگ Colour #)
- نارمل: ہلکا پیلا یا صاف پیلا۔
- تبدیلی: اگر پیشاب کا رنگ گہرا پیلا ہو تو ڈی ہائیڈریشن یا یرقان کی علامت ہو سکتی ہے۔ پیشاب کا رنگ سرخ یا گلابی رنگ ہونا گردے یا مثانے میں خون کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

2. ظاہری شکل (Appearance)
- نارمل: صاف اور شفاف۔
- گدلا یا دھندلا: اگر پیشاب گدلا(Turbid) ہو تو یہ انفیکشن (جیسے یورینری ٹریکٹ انفیکشن)، پیپ یا بلغم کی موجودگی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

3. سپیسیفک گریویٹی(Specific Gravity)
- نارمل رینج: 1.005 سے 1.030۔
- زیادہ سپیسیفک گریویٹی: ڈی ہائیڈریشن یا پیشاب میں زیادہ مادوں کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
- کم سپیسیفک گریویٹی: گردوں کے فنکشن یا کام کرنےمیں کمزوری یا زیادہ پانی پینے کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔

4. پی ایچ لیول (pH Level)
- نارمل رینج: 4.5 سے 8 تک۔
- تیزابی (Acidic): زیادہ گوشت کھانے یا ذیابیطس میں ہو سکتا ہے۔
- الکلائن (Alkaline): انفیکشن یا گردے میں پتھری بننے کی نشانی ہو سکتی ہے۔

5. پروٹینز (Proteins)
- نارمل: پروٹین نہیں ہونا چاہئے۔
- پروٹین یوریا (Proteinuria): پروٹین کا ہونا گردوں کی بیماری، ذیابیطس، یا ہائی بلڈ پریشر کی علامت ہو سکتا ہے۔

6. گلوکوز (Glucose)
- نارمل: نہیں ہونا چاہئے۔
- گلوکوز یوریا (Glycosuria): ذیابیطس کی علامت ہے۔ اگر پیشاب میں گلوکوز ہو تو خون میں شوگر لیول زیادہ ہو سکتا ہے۔

7. کیٹونز (Ketones)
- نارمل: نارمل پیشاب میں کیٹونز نہیں ہونے چاہئے۔
- کیٹونیوریا (Ketonuria):
پیشاب میں کیٹونز کا ہونا ذیابیطس، بھوک یا کیٹو ڈائٹ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔

8. خون (Blood)
- نارمل: خون نہیں ہونا چاہئے۔
- ہیمچوریا یا پیشاب میں خون کا ہونا (Hematuria):
گردے یا پیشاب کی نالی میں انفیکشن، پتھری،بھاری ایکسرسائز ، پروسٹیٹ غدود کے بڑھنے (BPH) ، گردے یا مثانے کا کینسر کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ادویات بھی پیشاب کو سرخ یا براؤن کر سکتی ہیں اور چقندر کا استعمال بھی پیشاب کا رنگ سرخ کر سکتا ہے۔

9. سفید خون کے خلیے (WBC #)
- نارمل: نہیں ہونا چاہئے یا بہت کم ہوں۔
- لیوکوسائٹوریا (Leukocyturia):
اگر زیادہ ہو تو انفیکشن کا اشارہ ہو سکتا ہے۔

10. سرخ خون کے خلیے (RBC #)
- نارمل: نہیں ہونا چاہئے یا بہت کم ہو۔
- ہیمیچوریا (Hematuria #) والی وجوہات ہو سکتی ہیں(اوپر بتائی گئی ہیں)

11. کاسٹس اور کرسٹلز (Casts and #)
- نارمل: کسی قسم کے کاسٹس اور کرسٹلز نہیں ہونے چاہئیں۔
- کاسٹس: یہ گردے میں کسی بیماری یا انفیکشن کا اشارہ ہو سکتے ہیں۔
- کرسٹلز: زیادہ کرسٹلز گردے کی پتھری بننے کا سبب بن سکتے ہیں۔
پیشاب میں کرسٹل بننے کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جن میں غذائی عادات، پانی کی کمی، اور مختلف طبی مسائل شامل ہیں:
زیادہ مقدار میں گوشت، نمک، کیلشیم، یا وٹامن سی جیسی غذائیں پیشاب میں کرسٹل بنانے کا باعث بن سکتی ہیں۔
- دوائیوں کا استعمال: بعض دوائیں، جیسے اینٹی بائیوٹکس یا وٹامن سپلیمنٹس، بھی پیشاب میں کرسٹل کی مقدار بڑھا سکتی ہیں۔
- میٹابولک مسائل: بعض طبی حالتیں جیسے گٹھیا (gout #) یا گردے کی پتھری کی موجودگی کرسٹل کی تشکیل کا باعث بنتی ہیں۔

کرسٹل کی اقسام اور ان کی طبی اہمیت

پیشاب میں مختلف اقسام کے کرسٹل بن سکتے ہیں، جن میں سے ہر ایک مختلف طبی حالات کی نشاندہی کر سکتا ہے:

1. کیلشیم آکزیلیٹ کرسٹل:
- یہ سب سے عام قسم کے کرسٹل ہیں اور عموماً زیادہ کیلشیم یا آکزیلیٹ (جو پالک، چائے، اور میوہ جات میں پایا جاتا ہے) کے استعمال سے بنتے ہیں۔
- ان کرسٹل کی موجودگی بعض اوقات گردے کی پتھری (kidney ) کے خطرے کو ظاہر کر سکتی ہے۔

2. یورک ایسڈ کرسٹل:
- یورک ایسڈ کرسٹل زیادہ پروٹین یا گوشت کھانے کی وجہ سے بنتے ہیں، خاص طور پر ان افراد میں جن میں پانی کی کمی ہو۔
- یہ گٹھیا (gout #) یا گردے کی پتھری سے منسلک ہوسکتے ہیں۔

3. سٹرُوائٹ کرسٹل:
- یہ کرسٹل انفیکشن کی وجہ سے بنتے ہیں، خاص طور پر پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTI #) میں۔
- سٹرُوائٹ کرسٹل اکثر بڑی پتھریاں بناتے ہیں جو انفیکشن کی وجہ سے گردے میں پھنس سکتی ہیں۔

4. سیسٹین کرسٹل:
- یہ جینیاتی بیماری سیسٹینوریا (Cystinuria #) سے منسلک ہوتے ہیں۔
- سیسٹین کرسٹل گردے کی پتھری کا باعث بن سکتے ہیں اور بچوں یا نوجوانوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔

5. کیلشیم فاسفیٹ کرسٹل:
- یہ کرسٹل زیادہ کیلشیم یا فاسفیٹ والی غذا کھانے سے بنتے ہیں اور بعض اوقات گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

- پیشاب کا pH لیول: پیشاب کی تیزابیت یا الکلائن حالت کرسٹل کی نوعیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، یورک ایسڈ کرسٹل تیزابی پیشاب میں بنتے ہیں، جب کہ کیلشیم فاسفیٹ الکلائن پیشاب میں۔
- کرسٹل کی مقدار: اگر کرسٹل کی تعداد معمول سے زیادہ ہو تو یہ کسی طبی مسئلے کی نشاندہی ہو سکتی ہے، جس کے لیے مزید ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

پیشاب میں کرسٹل عام طور پر کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن ان کی بار بار موجودگی یا زیادہ مقدار گردے کی بیماری، انفیکشن، یا دیگر مسائل کی علامت ہو سکتی ہے۔ مناسب علاج، متوازن غذا، اور باقاعدگی سے پانی پینا کرسٹل بننے کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

پیشاب کا مکمل تجزیہ ڈاکٹر کو مریض کی حالت کا بہتر اندازہ دیتا ہے اور اس کی مدد سے وہ علاج اور احتیاطی تدابیر تجویز کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد عتیق الرحمن
03008585182

26/08/2024

نظر انداز کرتے ہو قصور ہمارا بتاتے ہو
دعوے ہم سے کرتے ہو محبت کہیں دکھاتے ہو

ہمیں بھی دکھ سناتے ہو جب ہو تے ہو تنہا
مگر جب یار آجائے تو ہم کو بھول جاتے ہو

کبھی جو رہ نہ پاتے تھے ہمیں دیکھے بغیر
مگر اب سامنے آئیں تو نظروں کو چراتے ہو

ہمیں تم ساتھ رکھتے تھے کبھی اپنے
مگر اب دور جانے کے بہانے بھی بناتے ہو

بتاؤ میرے سوا جو کوئی رہا ہمیشہ ہو سنگ تمہارے
قدم قدم پر پھر بھی مجھ کو تم آزماتے ہو

گزرے جو خوش لمحات تمہاری رفاقت میں
انہیں احسان بتاتے ہو اپنی جان چھوڑاتے ہو

ڈاکٹر محمد عتیق الرحمن
For Online Dr Consultation

03008585182

اس کے بعد پاکستانی ٹیم کھڑی نہ ہو سکی۔
25/08/2024

اس کے بعد پاکستانی ٹیم کھڑی نہ ہو سکی۔

23/08/2024

اینل فشر۔۔۔
A**l Fissure....
جسم پر چوٹ لگ جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ زخم بھرتا رہتا ہے۔ تاہم بعض داخلی اور خارجی عوامل اس عمل میں مسلسل رکاوٹ ڈالتے رہتے ہیں لہٰذا زخم بھر نہیں پاتا۔ ایسا زخم جتنا پرانا ہوتا جائے، اس کا علاج بھی اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال بڑی آنت کے آخری حصے یعنی مقعد پر زخم کی ہے جسے اینل فشر کہتے ہیں۔

زیادہ تر صورتوں میں یہ ایک ہی ہوتا ہے لیکن دو یا اس سے زائد زخم بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ مقعد کے پچھلے یا اگلے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اکثر اس کے نیچے والے سرے پر ایک دانہ (skin tag) سا بن جاتا ہے۔ زخم کا دورانیہ دو ہفتے سے کم ہو تو اسے تازہ جبکہ اس سے زیادہ ہو تو اسے پرانا اینل فشر کہتے ہیں۔

وجوہات کیا ہیں۔۔
Causes of A**l Fissure...
مقعد کے آخر میں دو رِنگ نما گول پٹھے (sphincters) ہوتے ہیں۔ یہاں سے مقعد کو خون مہیا کرنے والی نالیاں گزرتی ہیں۔ مقعد میں زخم بن جائے تو اندرونی رِنگ مکمل طور پر سکڑ جاتا ہے اور نالیوں میں خون نہیں پہنچ پاتا۔ نتیجتاً زخم بھرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پاخانے سے بھی یہ زخم تازہ ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں عوامل اینل فشر کے بھرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور زخم پرانا ہوتا چلا جاتا ہے۔

عموماً فاسٹ فوڈ اور گوشت کا زیادہ استعمال اس مسئلے کا سبب بنتا ہے۔ ان سے پاخانہ سخت ہو جاتا ہے اور خارج ہوتے ہوئے مقعد میں زخم بنا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ آنتوں کی سوزش یا بڑی آنت کے آخری حصے میں کینسر وغیرہ کے باعث یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔

مرض کی علامات۔۔
Symptoms of A**l Fissure...

اس کی علامات یہ ہیں:

٭ پاخانہ کرتے وقت شدید درد ہونا ( یہ پاخانے کے بعد بھی ایک گھنٹے یا زیادہ دیر تک جاری رہ سکتا ہے)

٭ پاخانے میں خون آنا

٭ اینل فشر کے سرے پر ایک یا اس سے زائدچھوٹے چھوٹے دانے بننا

تشخیص اور علاج...
Diagnosis and Treatment...
عام طور پر جسمانی معائنے سے ہی تشخیص ہو جاتی ہے۔ اگر مریض کو شدید درد ہو اور اس کے لیے معائنہ کروانا مشکل ہو تو بے ہوشی کی حالت میں یہ کام انجام دیا جاتا ہے۔

تازہ فشر کا علاج....
Acute A**l Fissure Treatment...
اس کے علاج کا انحصار زخم کی مدت پر ہوتا ہے۔ تازہ فشر کا علاج محض غذائی تبدیلیوں سے بھی ممکن ہے۔ اس کے لیے:

٭ گوشت اور مرچ مصالحوں کا استعمال کم کریں۔

٭ فائبر کی حامل اشیاء یعنی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال زیادہ کریں۔

٭ صبح و شام گرم پانی میں 15 سے 20 منٹ تک بیٹھیں۔ 60 سے 70 فیصد مریض ایسا کرنے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

جن لوگوں پر یہ نسخے اثر نہ کریں وہ ادویات سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس کے لیے پاخانے کو نرم اور درد دور کرنے والی ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔ فشر کی اس قسم سے متاثر ہونے والے مریضوں کو بہت کم صورتوں میں آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے۔

پرانے فشر کا علاج...
Chronic Fissure Treatment...
اس کے علاج کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جو یہ ہیں:

٭ مقعد کے اندر لگانے والی کریم دی جاتی ہے جسے دن میں دو سے تین بار لگانا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ کھانے پینے میں احتیاط اور پاخانہ نرم کرنے والی دوائیں تجویز کی جاتی ہیں۔ بعض لوگوں میں یہ سر درد یا بلڈ پریشر میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں لہٰذا انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔ یہ کورس دو سے تین ماہ جاری رہتا ہے اور اس کا اثر دو سے چار ہفتوں میں شروع ہو جاتا ہے۔

٭ ادویات سے افاقہ نہ ہو تو مقعد کے اردگرد ایک ٹیکہ لگایا جاتا ہے۔ اس کا اثر عموماً تین دن میں شروع ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات دو ٹیکوں کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ اس سے مریض کو متعلقہ حصے پر ہلکی سی جلن یا خارش ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد اسے اسی دن ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جاتا ہے۔

٭ پہلے دو طریقوں سے افاقہ نہ ہو تو مقعد کے اندر والے رِنگ میں چیرا لگایا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ کھل جاتا ہے اور مقعد کی جلد میں خون کا بہاؤ بہتر ہو جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج سے فشر کے زخم کی صرف صفائی کی جاتی ہے یا دانے کو کاٹا جاتا ہے۔ یہ آپریشن بیہوشی کی حالت میں تقریباً 15 منٹ میں مکمل کر لیا جاتا ہے۔ اکثر مریض سرجری کے کچھ دیر بعد گھر چلے جاتے ہیں۔

ادویات اور انجیکشن کی صورت میں کامیابی کی شرح 40 فیصد ہے۔ ان میں سے بھی تقریباً آدھے مریضوں کو ایک سال کے اندر دوبارہ فشر ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف آپریشن سے 90 فیصد سے زائد مریض مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں اور ان میں دوبارہ زخم ہونے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔

تقریباً 10 فیصد افراد میں اس علاج کے باعث پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں جو چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتی ہیں مگر مستقل طور پر بھی رہ سکتی ہیں۔ مثلاً ریح کے اخراج پر قابو نہ رہنا اور پاخانے کے راستے معمولی مقدار میں پانی آنا۔

ڈاکٹر عتیق الرحمن
03008585182۔

16/08/2024

Cornea Transplant
Liver Transplant
Kidney Transplant
Bone Marrow Transplant
Lungs Transplant in future
In Peer Abdul Qadeer Shah Institute of Medical Sciences Gambat ....

Why these type of Hospital not in punjab ...?
Why people of Punjab did not asked their MNA/MPA
to provide these type of facilities ?

12/08/2024

اَلْحَمْدُلِلّٰه
Joined
Peer Abdul Qadeer Shah institute of medical sciences Gambat
As a
PGR of Internal medicine .

Address

Lodhran
Kahror
59340

Opening Hours

Wednesday 10:00 - 18:30
Friday 10:00 - 18:30
Saturday 10:00 - 18:30
Sunday 10:00 - 18:30

Telephone

+923008585182

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Ateeq Ur Rehman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Ateeq Ur Rehman:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category