Glitz by Tanosha

Glitz by Tanosha Get glitz get glow ,

Kya aap hair fall se pareshan hien Tu Phir join krien Glitz by Tanosha For details dm inbox
29/07/2024

Kya aap hair fall se pareshan hien
Tu Phir join krien Glitz by Tanosha
For details dm inbox

13/07/2024

Acne scars treatment

Pakistan tourism and extreme weather کسی زمانے میں پاکستان میں اگر کوئی ناردرن علائیقوں میں جاتا تھا  تو لوگ اس   سے  پک...
09/07/2024

Pakistan tourism and extreme weather
کسی زمانے میں پاکستان میں اگر کوئی ناردرن علائیقوں میں جاتا تھا تو لوگ اس سے پکڑ پکڑ احوال پوچھتے تھے جیسے وہ کسی پرستان سے واپس آیا ہو۔ جی ہاں بلکل پاکستان کے نارد رن علائیقے کسی پرستان سے کم نہی ہوتے تھے یا پھر دوسری مثال جنت کی دی جاتی ہے ناران کاغان شوگر ان کو جب بھی سوچتے تھے دل دماغ میں برف سے بھرے پہاڑی چوٹیاں سر سبز شاداب وادیاں ہی دماغ میں گھومتی تھیں اور اس میں کوئی شک بھی نہی تھا ۔ ایسے میں اگر کوئی شاز نادر وہاں چلا بھی جائے جون جولائی کے مہینوں میں تو اپنے ساتھ جنوری کے مہینوں والی شالیں سوئیٹر ز کوٹ تو ایسے ضروری ہوتے تھے جیسے ہم انٹارکیٹا میں آ گئے ہوں ۔ ابھی دس سال پہلے کی بات جب ہم اپنی زندگی میں پہلی بار شوگر ان اور ناران آئے تھے مانو کے ایسی ٹھنڈ تھی جون کے مہینوں میں کہ ہم سے لحاف اے نکلا ہی نہی جا رہا تھا پھر جب ہیٹر چلایا اور گرم گرم سوپ پیا تب جا کے روم میں بیٹھنے جیسے ہوئے تھے ۔ پھر بابو سر ٹاپ اور جھیل سیف الملوک آتنےی ٹھنڈ تھی کہ میری عائیشہ بلکل نیلی پڑ گئی اور اس کو ہینڈ گلوز جب تک نہی پہنائے وہ وئاں پر بللکل مرنے جیسے ہوگئی تھی ۔ ابھی یہ سب کل ہی کی بات لگ رہی ہے لیکن صرف اور صرف دس سال کے عرصے میں موسم کی شدت اور سیاحوں کے پاکستانی گندگی پھیلانے والے مزاج نے پاکستان کے پہاڑی ناردرن علائیقوں کی نہ صرف خوبصورتی چھینی ہے بلکہ موسم کی وہ ٹھنڈک بھی مکمل طور پر خاک ہو چکی ہے ۔ حالت یہاں تک پہنچی ہے ہے بابو سر ٹاپ اب لیٹرین ٹاپ بن چکا ہے اور جھیل سیف الملوک کے چاروں طرف کا سبزہ لوگوں کی انتہائی زیادہ آمدورفت کی وجہ سے مکمل طور پر گھس چکا ہے ۔ اور جھیل قدرتی حسن کے بجائے اب کچرے کا ڈھیر بن چکی ہے ، یہ وہ جھیل تھی جو جون کے مھینے میں بھی برف سے نہی پگھلتی تھی ۔ دھوپ کی شدت اور حدت اس حد تک بڑھ گئی ہے گلیئشئر پے گلیئشئر پگھل رہے ہیں اور جدھر بھئ دیکھوں ندی نالوں میں طغیانی ہی طغیانی ہے ۔

میری اپیل ہے حکومت سے بھی اور ان سب پڑھنے والوں سے کوشش کریں درخت لگائیں زیادہ سے زیادہ اور ان پہاڑی علائیقوں کا رخ کرنا کچھ عرصے لئیے بند کیا جائے تاکہ قدرتی حسن کو عرصہ ٹائم ملے سر سبز اور شاداب ہونے کی لیئے واپس اسی حالت میں ۔ اور سیاحت کو کچھ ٹائم بجائے فروغ دینے کے کچھ ٹائم کے لئے پابندی لگائی جائے تاکہ ہمارے علائقے ہیل کریں اور جب پابندی ہٹائے جائے تو بھی ایک کنٹرول سیاحت ہو جس میں ایک مخصوص تعداد افراد کے جائے اور جب تک وہ واپس نہ آئیں دوسروں کو جانے کی اجازت نہ ہو مقامی لوگ بھی لالچ اور سیزن کمانے کے بجائے قدرتی حسن کو محفوظ کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں ورنہ نہ صرف ہم موسم کی شدت کی وجہ سے اپنے خوبصورت مقامات کآ حسن کھو دیں گے ٹھنڈ تو پہلے ہی کھو چکے ہیں آگے چل کے گلیئشر پھگھل کر پانی بھی گھو دیں گے

نوٹ نیچے دی گئی تصویر سری پائے میڈورز کے پیک چوٹی کی ہے جو ہم نے چار گھنٹے پیدل اور گھوڑوں پر سواری کر کے طے کیا تھا 2021

03/09/2023

Address

Karachi Lines

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Glitz by Tanosha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram