Al Syedah tibbe nabwi

Al Syedah tibbe nabwi جسمانی،نفسیاتی روحانی بیماریوں کیلئے دیسی قدرتی طب نبوی اور قدیم حکمت.
(4)

Wide variety Herbal Teas • Natural Ingredients • herbal store• Organic Wellness
Tibb-e-Nabawi Inspired Lifestyle
Psychologist | Holistic Health | Women Wellness | Mind–Body Balance

❗  مردوں کی گردوں کی خرابی اور مردانہ صحت  ایک انکھیں کھول دینے والی تحریر ❗اکثر مرد یہ سمجھتے ہیں کہگردوں کا مسئلہ صرف ...
13/01/2026

❗ مردوں کی گردوں کی خرابی اور مردانہ صحت ایک انکھیں کھول دینے والی تحریر ❗

اکثر مرد یہ سمجھتے ہیں کہ
گردوں کا مسئلہ صرف شوگر یا بڑھاپے میں ہوتا ہے
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں
👉 نوجوان مردوں کی گردیں بھی تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں

اور اس کی ایک بڑی وجہ وہ بازاری دوائیاں ہیں جو
“طاقت”، “سٹیمنا”، اور “فوری مردانگی” کے نام پر کھائی جا رہی ہیں۔

🧠 مردوں کی گردیں کب اور کن صورتوں میں خراب ہوتی ہیں؟

گردے آہستہ آہستہ خراب ہوتے ہیں، اور مرد کو خبر بھی نہیں ہوتی، خاص طور پر جب:

▪️ بار بار وھاگرا، سیالیس، یا ان جیسے کیمیکل ٹیبلٹس استعمال کی جائیں
▪️ ریڈی میڈ جنسی پاؤڈر، کیپسول، شربت بغیر نسخے کے لیے جائیں
▪️ وقتی طاقت کے لیے اعصاب کو زبردستی ابھارا جائے
▪️ جسم کے اصل مسئلے (کمزوری، ہارمون عدم توازن، اعصابی تھکن) کو سمجھے بغیر دوا لی جائے
▪️ پانی کم پیا جائے اور پروٹین/کیمیکل زیادہ ہوں

📌 یاد رکھیں:
یہ دوائیاں وقتی طور پر خون کو ایک خاص حصے میں لے جا کر جھوٹی طاقت دیتی ہیں
لیکن
👉 گردوں پر شدید دباؤ ڈالتی ہیں
👉 خون کو گاڑھا کرتی ہیں
👉 کریٹینائن بڑھاتی ہیں
👉 پیشاب کے نظام کو کمزور کر دیتی ہیں

⚠️ مردانہ طاقت کے نام پر گردے کیوں تباہ ہو رہے ہیں؟

کیونکہ:

❌ طاقت کو وقتی سمجھ لیا گیا
❌ اصل علاج کی بجائے شارٹ کٹ اپنایا گیا
❌ جسم کو سنا نہیں گیا
❌ اور قدرتی طریقوں کو “سست” سمجھ کر چھوڑ دیا گیا

جبکہ
حقیقی مردانگی گردوں، جگر، اعصاب اور خون کی صحت سے جڑی ہوتی ہے

🌿 دیسی اور محفوظ نعم البدل (قدرتی راستہ)

اگر مرد کی طاقت واقعی بحال کرنی ہے تو
👉 گردے مضبوط کریں
👉 اعصاب کو غذا دیں
👉 خون کو صاف اور رواں رکھیں

اسی لیے عربوں کا ایک مشروب صدیوں سے استعمال میں ہے 👇

☕ عربی قہوہ (Arabic Coffee)
مگردوں اور مردانہ صحت کے لیے نعمت

یہ وہ قہوہ ہے جو
عرب مرد شوق سے پیتے ہیں
اور اسے صرف مشروب نہیں بلکہ صحت کا حصہ سمجھتے ہیں۔

🌿 اجزاء:

▪️ سبز کافی بینز (ہلکی روسٹ کی ہوئی)
▪️ سبز الائچی
▪️ لونگ
▪️ پانی

🍵 بنانے کا طریقہ:

1. ایک کپ پانی ابالیں

2. آدھا چمچ موٹے پسے سبز کافی بینز ڈالیں

3. 2 عدد الائچی کُچل کر شامل کریں

4. 1 عدد لونگ ڈال دیں

5. ہلکی آنچ پر 5–7 منٹ پکائیں

6. چھان کر نیم گرم پئیں

✅ عربی قہوہ کے فائدے:

✔️ گردوں پر بوجھ نہیں ڈالتا
✔️ پیشاب کی روانی بہتر کرتا ہے
✔️ خون کو صاف رکھتا ہے
✔️ اعصاب کو آہستہ آہستہ طاقت دیتا ہے
✔️ مردانہ کمزوری کو قدرتی طریقے سے بہتر کرتا ہے
✔️ وقتی جوش نہیں، مستقل صحت دیتا ہے

📌 شرط یہ ہے کہ اسے
روزانہ، صبر کے ساتھ اور خالی پیٹ یا صبح کے وقت پیا جائے۔

سوال یہ نہیں کہ
❝طاقت کیسے آئے؟❞
سوال یہ ہے کہ
❝جسم کو بر باڈ کیے بغیر طاقت کیسے بحال ہو؟❞

👉 وقتی دوائیاں آپ کو چند گھنٹے کا دھوکہ دیتی ہیں
👉 قدرتی علاج آپ کو برسوں کی صحت دیتا ہے

اگر آپ چاہتے ہیں کہ
✔️ گردے محفوظ رہیں
✔️ مردانگی فطری رہے
✔️ اور جسم آپ کا ساتھ دے

تو کیمیکل نہیں، حکمت اور دیسی علم اپنائیں

💬 یہ پوسٹ کسی ایک مرد کے لیے نہیں، ہر گھر کے مرد کے لیے ہے
📌 محفوظ رکھیں
📌 کسی اپنے کے ساتھ شیئر کریں
📌 اور کمنٹ میں “قہوہ” لکھیں اگر آپ اس پر مزید رہنمائی چاہتے









🌿

اکثر لوگ دل، فالج اور بلڈ پریشر کی بات تو کرتے ہیں مگر خون کے گاڑھا ہونے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔خون جب گاڑھا ہونے لگتا ...
13/01/2026

اکثر لوگ دل، فالج اور بلڈ پریشر کی بات تو کرتے ہیں مگر خون کے گاڑھا ہونے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

خون جب گاڑھا ہونے لگتا ہے تو دل کو زیادہ زور لگانا پڑتا ہے اور رگوں میں دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

دیسی باورچی خانے میں ایک عام سی چیز ہے جو اس مسئلے میں خاموشی سے مدد کرتی ہے مگر لوگ اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔

یہ چیز لہسن ہے، جو روز مرہ کھانوں میں ذائقہ تو بڑھاتا ہے مگر فائدہ اس سے کہیں زیادہ رکھتا ہے۔

لہسن خون کی روانی کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے اور رگوں کے اندر غیر ضروری جمنے کے رجحان کو کم کرتا ہے۔

اسی وجہ سے دل پر بوجھ کم رہتا ہے اور اچانک دباؤ یا بھاری پن کے امکانات گھٹتے ہیں۔

لہسن جسم میں چکنائی کے توازن میں بھی مدد دیتا ہے جس سے خون کی نالیاں نسبتاً کھلی رہتی ہیں۔

کن کو فائدہ ہوتا ہے وہ افراد جنہیں بلڈ پریشر، دل کی کمزوری یا ہاتھ پاؤں میں سن ہونا محسوس ہوتا ہو۔

کن کو احتیاط کرنی چاہیے وہ لوگ جو پہلے ہی خون پتلا کرنے والی دوائیں استعمال کر رہے ہوں۔

مزاج کے لحاظ سے لہسن گرم اور خشک تاثیر رکھتا ہے، اس لیے حساس مزاج والوں کو مقدار کم رکھنی چاہیے۔

بہترین وقت صبح خالی پیٹ یا کھانے کے ساتھ ہے تاکہ معدہ اسے آسانی سے قبول کر لے۔

مقدار ایک یا دو جوے کافی ہوتے ہیں، زیادہ استعمال فائدے کے بجائے جلن پیدا کر سکتا ہے۔

لہسن کو کچل کر شہد یا نیم گرم پانی کے ساتھ لینا زیادہ موافق سمجھا جاتا ہے۔

چند ہفتوں میں جسم میں ہلکاپن، سر کی بھاری کیفیت میں کمی اور توانائی میں بہتری محسوس ہو سکتی ہے۔

یہ دیسی چیز دوا کا متبادل نہیں مگر روزمرہ عادت کے طور پر بڑی حفاظت فراہم کرتی ہے۔

اگر یہ بات کسی ایک دل کو مضبوط رکھ لے تو یہی اصل فائدہ ہے۔

🌿✨ قدرتی علاج – دیسی جڑی بوٹیوں کی دنیا ✨🌿

کیا آپ صحت مند زندگی کے خواہشمند ہیں؟
کیا آپ دیسی جڑی بوٹیوں اور گھریلو نسخوں کے بارے میں سچّی اور مفید معلومات چاہتے ہیں؟

📌 تو پھر ہمارے پیج سے جُڑیں، جہاں آپ کو ملیں گے:
✅ دیسی جڑی بوٹیوں کے فوائد
✅ گھریلو ٹوٹکے اور علاج
✅ طبِ یونانی کی قیمتی معلومات
✅ صحت مند زندگی کے سنہری اصول

💚 فطرت کے خزانے سے جُڑنے کے لیے ہمارے پیج کو لازمی جوائن کریں

جو سنت کے مطابق جیتا ہے
وہ بیماری سے پہلے
شفا پا لیتا ہے۔
اگر آپ بھی ایسی کسی بھی بیماری کا شکار ھیں جو آپکا سکون چین چھین چکی ھے تو آج ھی السیدہ طب نبوی سے
رابطہ کیجئے اور اپنی زندگی کو طب نبوی کے مطابق
اسان قدرتی علاج سے پرسکون بنائیے۔
ابھی ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ کرنے کے لیے واٹس ایپ کے بٹن کو کلک کیجیے

جب مرد اندر سے ٹوٹ جاتا ہے… اور کوئی اس کا درد نہیں سنتاوہ دفتر میں سب کے سامنے ایک مضبوط، باوقار اور بااثر انسان تھا۔فی...
12/01/2026

جب مرد اندر سے ٹوٹ جاتا ہے… اور کوئی اس کا درد نہیں سنتا
وہ دفتر میں سب کے سامنے ایک مضبوط، باوقار اور بااثر انسان تھا۔
فیصلے وہ کرتا تھا، آواز میں رعب تھا، لوگ اس کی بات مانتے تھے۔
لیکن شام ہوتے ہی…
وہی شخص گھر کے ایک کونے میں خاموش بیٹھا ہوتا۔

بیوی کی آنکھوں میں شکایت تھی،
خاموش جملوں میں سوال تھا،
اور اس کے اپنے دل میں شرمندگی، خوف اور ایک ایسا درد…
جسے وہ کسی سے بیان نہیں کر سکتا تھا۔

رات کو بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا،
قطرہ قطرہ آنا،
کمر کے نچلے حصے میں بوجھ،
اور وہ طاقت… جو آہستہ آہستہ اس کا ساتھ چھوڑ رہی تھی۔

وہ جانتا تھا مسئلہ کہاں ہے،
مگر ڈر تھا…
کہ اگر کسی کو بتایا تو عزت کم ہو جائے گی۔

یہ کہانی کسی ایک مرد کی نہیں،
یہ ہزاروں گھروں کی خاموش حقیقت ہے۔

اور اسی خاموش درد کی جڑ جا کر ملتی ہے
گردوں، مثانے اور غدودِ قدامیہ (Prostate) میں۔

جسم کا فلٹر پلانٹ — گردے، مثانہ اور مردانہ طاقت

گردے صرف پیشاب بنانے کا نام نہیں۔
یہ خون کو صاف رکھتے ہیں،
زہریلے مادے خارج کرتے ہیں،
اور یہی صفائی مردانہ طاقت کی بنیاد ہے۔

جب گردے کمزور ہوتے ہیں تو:

خون گندا ہوتا ہے

مثانہ سوزش میں جاتا ہے

پراسٹیٹ غدود سوجھ جاتا ہے
اور نتیجہ…
جسمانی کمزوری کے ساتھ نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ۔

جدید میڈیکل اصطلاحات (مختصر اور سمجھنے کے لیے)

Nephrolithiasis: گردوں میں پتھری

Cystitis: مثانے کی سوزش

BPH: پراسٹیٹ کا بڑھ جانا

Creatinine: خون میں فضلہ (زیادہ ہو تو گردے خراب)

Renal Colic: پتھری کے ہلنے سے شدید درد

1️⃣ عضلاتی پتھری (خشکی – سوداوی)

سخت، نوکیلی، سیاہی مائل

درد سب سے زیادہ

پیشاب میں جلن اور چبھتا ہوا احساس

2️⃣ غدی پتھری (گرمی – صفراوی)

زرد یا بھوری

ریت کی طرح

جلن، سوزش اور گرمی کی شدت

3️⃣ اعصابی پتھری (سردی – بلغمی)

سفید، نرم، چکنی

سائز میں بڑی

پیشاب کا بہاؤ کمزور

پراسٹیٹ اور جنسی قوت کا گہرا تعلق

پراسٹیٹ منی کا حصہ بناتا ہے اور پیشاب کی نالی کو کنٹرول کرتا ہے۔

جب پراسٹیٹ خراب ہو:

انتشار کمزور ہو جاتا ہے

سرعتِ انزال پیدا ہوتی ہے

پیشاب رک رک کر آتا ہے

کمر اور رانوں میں بوجھ

یہ صرف جسمانی مسئلہ نہیں،
یہ مرد کی خود اعتمادی توڑ دیتاھے

مکمل آزمودہ نسخہ جات

(آسان، سادہ، اور ترتیب کے ساتھ)

🌿 نسخہ 1: ہر قسم کی پتھری کے لیے (اکسیرِ گردہ)

اجزاء:

کلتھی کی دال

گوکھرو

سنگِ یہود (مدبر)

طریقہ:
کلتھی اور گوکھرو کا قہوہ بنائیں۔
اس میں سنگِ یہود کا سفوف ایک چٹکی شامل کر کے پیئیں۔

فائدہ:
پتھری ریزہ ریزہ ہو کر نکلتی ہے،
جلن اور درد ختم ہوتا ہے۔

🌿 نسخہ 2: پراسٹیٹ کی سوزش اور پیشاب کی رکاوٹ

اجزاء:

گوکھرو

خارِ خسک

شورہ قلمی

طریقہ:
سب کا سفوف بنا کر آدھا چمچ
لسی یا سادہ پانی کے ساتھ استعمال کریں۔

فائدہ:
غدود کی سوجن کم،
پیشاب کا بہاؤ بہتر۔

🌿 نسخہ 3: جنسی قوت کی بحالی (گردے درست ہونے کے بعد)

اجزاء:

مغز پنبہ دانہ

ستاور

مصری

طریقہ:
ایک چمچ رات کو نیم گرم دودھ کے ساتھ۔

فائدہ:
منی کو گاڑھا کرتا ہے،
کمزور ہوتی ہوئی طاقت واپس لاتا ہے۔

دادی اماں کے آزمودہ ٹوٹکے

خربوزے کے بیج: سردائی بنا کر پئیں

مکئی کے بال: ابال کر پانی پئیں

مولی کا رس: گڑ کے ساتھ استعمال کریں

یہ چیزیں گردوں اور مثانے کی قدرتی صفائی کرتی ہیں۔

احتیاط اور زندگی کی تبدیلی

پانی بیٹھ کر پئیں

روزانہ تیز چہل قدمی

زیادہ نمک، چائے، پالک، ٹماٹر سے پرہیز

کدو، توری، مونگ کی دال استعمال کریں

“پیشاب کا رنگ صحت کا آئینہ ہے”

زرد گرمی

سفید سردی

سرخی مایل خشکی

تحریک پہچان لو،
علاج خود واضح ہو جاتا ہے۔

ایک درد مند اپیل

درد کش دوائیں وقتی سکون دیتی ہیں
مگر گردوں کو اندر سے کھا جاتی ہیں۔

فطرت کی طرف لوٹیں،
جڑی بوٹیوں کو موقع دیں،
تاکہ مرد خاموشی سے ٹوٹنے کے بجائے
دوبارہ مضبوط کھڑا ہو سکے۔

🌿

11/01/2026

سردیوں میں انسولین کی حساسیت کم ہو جاتی ہے۔ سرد موسم میں جسم خود کو گرم رکھنے کے لیے زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں انسولین اپنا کام مؤثر طریقے سے نہیں کر پاتی۔ اس وجہ سے خون میں شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے، حتیٰ کہ وہ افراد بھی جن کی شوگر گرمیوں میں نسبتاً بہتر کنٹرول میں ہوتی ہے، سردیوں میں شوگر کے اتار چڑھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سردیوں میں جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ ٹھنڈ کی وجہ سے لوگ چہل قدمی، ورزش یا باہر نکلنے سے کتراتے ہیں۔ جب جسم کم حرکت کرتا ہے تو گلوکوز استعمال نہیں ہو پاتا اور شوگر خون میں جمع ہونے لگتی ہے۔ یہ صورتحال وزن بڑھنے کا سبب بھی بنتی ہے، جو شوگر کنٹرول کے لیے مزید نقصان دہ ہے۔

خوراک میں بھی واضح تبدیلی آتی ہے۔ سردیوں میں زیادہ بھوک لگتی ہے اور عام طور پر گرم، مرغن اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بڑھ جاتا ہے، جیسے روٹی، چاول، حلوہ، سوپ کے نام پر گاڑھی اور آلو والی ڈشز۔ یہ سب چیزیں شوگر کو تیزی سے بڑھا دیتی ہیں، خاص طور پر اگر مقدار اور وقت کا خیال نہ رکھا جائے۔

پیاس کم لگنے کی وجہ سے پانی کا استعمال کم ہو جاتا ہے۔ جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور شوگر لیول مزید بڑھ سکتا ہے۔ بہت سے مریض سردیوں میں پانی پینا تقریباً بھول جاتے ہیں، جس کا اثر شوگر اور گردوں دونوں پر پڑتا ہے۔

سردیوں میں انفیکشن کا خط_رہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ نزلہ، زکام، فلو اور سینے کے انفیکشن شوگر کے مریضوں میں زیادہ دیر تک رہتے ہیں۔ انفیکشن کے دوران جسم میں اسٹریس ہارمونز بڑھ جاتے ہیں، جو شوگر کو اوپر لے جاتے ہیں، چاہے مریض اپنی خوراک اور دوائیں باقاعدگی سے لے رہا ہو۔

جلد کی خشکی اور پاؤں کے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں۔ شوگر کے مریضوں میں پہلے ہی اعصابی کمزوری اور خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے، سردیوں میں جلد کا زیادہ خشک ہونا پھٹنے، زخم بننے اور انفیکشن کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر ایڑیوں اور پاؤں میں۔

کچھ مریضوں میں سردیوں کے دوران صبح کے وقت شوگر زیادہ آنے لگتی ہے۔ اسے ڈان فینامینن کہا جاتا ہے، جس میں رات کے دوران ہارمونز کے اخراج کی وجہ سے صبح فاسٹنگ شوگر بڑھ جاتی ہے۔ سرد موسم اس مسئلے کو مزید نمایاں کر سکتا ہے۔

ان تمام وجوہات کی بنا پر سردیوں میں شوگر کے مریضوں کے لیے معمولی لاپرواہی بھی بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اس موسم میں خوراک، پانی، حرکت، جلد اور شوگر مانیٹرنگ پر خاص توجہ دینا نہایت ضروری ہوتا ہے تاکہ شوگر کنٹرول میں رہے اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

🧠 سائنسی حقیقت: کوا، فاختہ، چڑیا، اسٹارلنگ اور کئی دوسرے پرندے جب:کمزوریجلدی کیڑےجوئیںفنگسبیکٹیریامحسوس کرتے ہیں تو وہ ج...
11/01/2026

🧠 سائنسی حقیقت:
کوا، فاختہ، چڑیا، اسٹارلنگ اور کئی دوسرے پرندے جب:

کمزوری

جلدی کیڑے

جوئیں

فنگس

بیکٹیریا

محسوس کرتے ہیں تو وہ جان بوجھ کر چیونٹیوں کے بل پر بیٹھتے ہیں۔

چیونٹیاں اپنے دفاع میں Formic Acid (فارمک ایسڈ) خارج کرتی ہیں، جو:

قدرتی جراثیم کش

اینٹی فنگل

اینٹی پیراسائٹ

ہوتا ہے۔

📌 یہ وہی کام کرتا ہے جو انسان:

اینٹی بایوٹک

اینٹی سیپٹک

یا کیڑے مار لوشن

سے کرتا ہے۔

یہ فطرت کا وسیع نظامِ علاج ہے۔

آئیے کچھ حیرت انگیز مثالیں دیکھتے ہیں:

🐘 1. ہاتھی — زچگی اور درد کے لیے جڑی بوٹیاں

افریقہ کے ہاتھی:

بچے کی پیدائش سے پہلے

ایک خاص درخت کے پتے اور چھال کھاتے ہیں

یہ پودے:

رحم کو مضبوط کرتے ہیں

درد کم کرتے ہیں

ڈیلیوری کو آسان بناتے ہیں

حیرت کی بات:

مادہ ہاتھی صرف اسی وقت وہ پودا کھاتی ہے، عام دنوں میں نہیں۔

🐒 2. بندر — پیٹ کے کیڑوں کے لیے

چمپنزی:

تلخ پتے (Vernonia) چباتے ہیں

نگلتے نہیں، بلکہ تھوک دیتے ہیں

یہ پتے:

آنتوں کے کیڑے مارتے ہیں

بخار کم کرتے ہیں

یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے:

حکیم تلخ دوا دیتا ہے، ذائقہ برداشت نہیں مگر شفا ملتی ہے۔

🐻 3. ریچھ — جلد اور زخموں کے لیے

ریچھ:

مخصوص جڑیں اور پتے چبا کر

زخموں پر ملتے ہیں

یہ قدرتی:

اینٹی سیپٹک

زخم بھرنے والا

مرہم ہوتا ہے۔

🐦 4. طوطے — زہریلی غذا کے بعد مٹی

ایمیزون کے طوطے:

زہریلے پھل کھانے کے بعد

مخصوص مٹی (Clay) کھاتے ہیں

یہ مٹی:

زہر جذب کر لیتی ہے

معدہ محفوظ رکھتی ہے

یہ بالکل:

Activated Charcoal جیسا کام کرتی ہے۔

🦌 5. ہرن — بخار اور کمزوری

ہرن:

بخار یا کمزوری میں

تلخ گھاس اور جڑی بوٹیاں

کھاتے ہیں جو:

جسم کا درجہ حرارت متوازن کرتی ہیں

خون صاف کرتی ہیں

🐜 6. چیونٹیاں خود بھی حکیم ہیں

جب چیونٹیوں کے کالونی میں بیماری پھیلتی ہے:

وہ رال (Resin)

یا اینٹی بیکٹیریل پودوں کے ذرات

گھونسلے میں لاتی ہیں
تاکہ پوری کالونی محفوظ رہے۔

السیدہ طب نبوی اپ کو فطرت خزانوں سے جوڑنے کے لیے قدرتی علاج کی نوید لے کر ایا ہے اگر اپ بھی قدرتی علاج کے ذریعے اپنی بڑی بیماریوں کو اسانی سے دور کرنا چاہتے ہیں تو اج ہی ہمارے پیج کو فالو کیجئے اور مزید معلومات کے لیے ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ قائم کیجئے۔

میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ “مرد بنو” اور بہانے بنانا بند کرو۔ مجھے یہ احساس ہی نہ ہوا کہ میں ایک ڈوبتے ہوئے انسان پر چیخ...
11/01/2026

میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ “مرد بنو” اور بہانے بنانا بند کرو۔ مجھے یہ احساس ہی نہ ہوا کہ میں ایک ڈوبتے ہوئے انسان پر چیخ رہا ہوں ۔یہ تب سمجھ آیا جب میں نے اس کا بستر خالی پایا، اور اس کے کمرے کی خاموشی ہمیشہ کے لیے مستقل ہو گئی۔

میرا بیٹا، لیو، تئیس برس کا تھا۔ باہر کی دنیا کو، اور سچ کہوں تو اُس وقت مجھے بھی، وہ ایک ناکام شخص نظر آتا تھا۔

میں ایک سادہ آدمی ہوں۔ میں ایسے زمانے میں پلا بڑھا ہوں جب محنت کی کمائی کی قدر ہوتی تھی۔ چوبیس سال کی عمر میں میں نے ایک مقامی فیکٹری میں کام کرتے ہوئے اپنا پہلا گھر خریدا۔ ایک پرانی، ٹوٹی پھوٹی ٹرک چلاتا تھا، خود ہی ٹھیک کرتا تھا، اور کبھی شکایت نہیں کی۔ یہی امریکی طریقہ تھا۔ محنت کرو، بدلے میں سفید باڑ والا گھر ملتا ہے۔ سیدھا سادہ حساب۔

اس لیے جب میں لیو کو دیکھتا تھا تو مجھے کوئی جدوجہد نظر نہیں آتی تھی۔ مجھے صرف سستی دکھائی دیتی تھی۔

اس کے پاس کالج کی ڈگری تھی جو دھول کھا رہی تھی۔ وہ دن بھر فون سے چپکا رہتا، کسی گیگ اکانومی ایپ کے لیے کھانا ڈیلیور کرتا، اور دوپہر تک سوتا رہتا۔ میرے بیسمنٹ میں رہتا تھا، روز وہی ڈھیلی سی ہوڈی پہنتا، اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسی خالی پن کی جھلک ہوتی جسے میں بوریت سمجھتا رہا۔

میں ہر وقت اس کے پیچھے پڑا رہتا تھا۔
“دنیا تمہاری روزی کی ذمہ دار نہیں ہے، لیو،” میں کافی کا مگ زور سے میز پر رکھتے ہوئے کہتا۔
“کوئی اصل نوکری کرو۔ کچھ کردار بناؤ۔”

وہ منگل جس نے میری زندگی بدل دی، بالکل عام دن کی طرح شروع ہوا۔ میں ورکشاپ سے گھر آیا، ہاتھوں پر گریس لگی ہوئی، سخت دن کی محنت کی خوشگوار تھکن کے ساتھ۔

لیو کچن میں تھا، سیریل کے پیالے کو گھور رہا تھا۔ وقت شام چھ بجے کا تھا۔

“اب جاگے ہو؟” میں نے پوچھا، سینے میں چڑھتی جھنجھلاہٹ کے ساتھ۔

“نہیں ابو،” اُس نے آہستہ سے کہا۔ “ابھی واپس آیا ہوں۔ کچھ ڈیلیوریز کی تھیں۔”

“ڈیلیوریز،” میں نے طنز کیا۔ “یہ کوئی کیریئر نہیں، لیو۔ یہ تو شوق ہے۔ تمہاری عمر میں میرے پاس گھر کی قسط تھی اور بچہ آنے والا تھا۔ تم اپنی فیس کے پیسے بھی نہیں نکال سکتے۔”

اُس نے چمچ رکھ دیا۔ وہ پیلا لگ رہا تھا، پہلے سے زیادہ دُبلا۔

“ابو، مارکیٹ بہت مشکل ہے۔ انٹری لیول پر کوئی تین سال کے تجربے کے بغیر رکھتا ہی نہیں۔ اور کرایہ… ایک چھوٹا سا اسٹوڈیو بھی دو ہزار ڈالر مہینے کا ہے۔ حساب نہیں بنتا۔”

“حساب بنتا ہے اگر تم کام کرو،” میں جھڑک پڑا۔
“معیشت کو الزام دینا بند کرو۔ ‘سسٹم’ کو الزام دینا چھوڑو۔ بات ہمت کی ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو نوّے کی دہائی میں میرے لیے آسان تھا؟ ہمارے پاس سیف اسپیسز نہیں تھیں۔ ہم بس کام کر لیتے تھے۔”

لیو نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بھاری تھیں۔ نیند کی وجہ سے نہیں—بھاری، جیسے وہ چھت کو تھامے ہوئے ہوں۔

“میں کوشش کر رہا ہوں ابو۔ واقعی کر رہا ہوں۔ لیکن میں بس… بہت تھک گیا ہوں۔”

میں نے آنکھیں گھما دیں۔ واقعی گھما دیں۔

“تھک گئے ہو؟ کس بات سے؟ گاڑی میں بیٹھنے سے؟ فون چلانے سے؟ میں دس گھنٹے پاؤں پر کھڑا رہا ہوں۔ میں تھکا ہوں۔ تم بس بےدل ہو۔ تمہیں سب کچھ مفت ملا ہوا ہے—بجلی، کھانا، چھت—اور پھر بھی ایسے چلتے ہو جیسے دنیا کا بوجھ تم پر ہو۔”

کچن میں خاموشی چھا گئی۔ فریج کی ہلکی سی آواز آ رہی تھی۔ پس منظر میں خبریں چل رہی تھیں، مہنگائی کی بات ہو رہی تھی، مگر میں سن نہیں رہا تھا۔ میں انتظار کر رہا تھا کہ وہ بحث کرے، جواب دے، کچھ جوش دکھائے۔

لیکن اس نے صرف سر ہلا دیا۔

“آپ ٹھیک کہتے ہیں،” اس نے سرگوشی کی۔
“مجھے افسوس ہے کہ میں آپ جیسا نہیں ہوں جیسا آپ میری عمر میں تھے۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے لیے حساب نہیں بنتا۔”

وہ کھڑا ہوا، میری طرف آیا، اور وہ کام کیا جو اس نے دس برس کی عمر کے بعد نہیں کیا تھا۔ اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ یہ مضبوط گلے لگانا نہیں تھا؛ یہ جیسے میرا کندھا سہارا بنا کر ٹوٹ کر گر جانا ہو۔

“میں مزید بوجھ نہیں بنوں گا ابو۔ وعدہ کرتا ہوں۔ آپ سو جائیں۔”

میں وہیں کھڑا رہا، خود کو حق بجانب محسوس کرتے ہوئے۔ آخرکار، میں نے سوچا۔ آخرکار بات اس تک پہنچ گئی۔ سختی والی محبت۔ اسی کی تو اس نسل کو ضرورت ہے۔

میں خود کو اچھا باپ سمجھتے ہوئے سو گیا۔

اگلی صبح گھر میں خاموشی تھی۔ بہت زیادہ خاموشی۔

میں ساڑھے چھ بجے جاگا، اُسے جلدی جگانے کے لیے تیار۔ آج ہم “اصلی” نوکریاں ڈھونڈنے والے تھے۔ میں خود اسے انڈسٹریل پارک لے جانے والا تھا۔

“لیو! اُٹھو!” میں نے بیسمنٹ کے دروازے پر زور سے دستک دیتے ہوئے آواز لگائی۔

کوئی جواب نہیں۔

میں نے دروازہ کھولا۔

کمرہ بالکل صاف تھا۔ کپڑوں کے ڈھیر غائب تھے۔ پردے کھلے ہوئے تھے۔ بستر فوجی انداز میں سجا ہوا تھا۔

اور تکیے پر اس کا فون اور نوٹ بک کا تہہ کیا ہوا ایک کاغذ رکھا تھا۔

ریڑھ کی ہڈی میں ایسی سرد لہر دوڑی جو کسی بھی سرد ہوا سے زیادہ تیز تھی۔

“لیو؟”

میں نے باتھ روم دیکھا۔ خالی۔ بیک یارڈ ,خالی گیراج۔

میری پرانی پک اپ ٹرک غائب تھی۔

میں دوڑ کر واپس آیا اور پرچی اٹھائی۔ میرے ہاتھ اتنے کانپ رہے تھے کہ کاغذ پھٹنے والا تھا۔

ابو،

میں جانتا ہوں آپ سمجھتے ہیں کہ میں سست ہوں۔ میں جانتا ہوں آپ مجھے کمزور سمجھتے ہیں۔ میں آپ جیسا مرد بننا چاہتا تھا۔ واقعی چاہتا تھا۔

لیکن جو پہاڑ آپ نے سر کیا تھا، اُس پر اب کوئی راستہ نہیں رہا۔ میں نے اس سال 400 نوکریوں کے لیے درخواست دی۔ میں نے آپ کو نہیں بتایا کیونکہ مجھے شرم آتی تھی۔ میں اس ڈیلیوری ایپ کے لیے روز 14 گھنٹے گاڑی چلاتا رہا، صرف اپنے اسٹوڈنٹ لون کا سود ادا کرنے کے لیے—اصل رقم تو چھو بھی نہ سکا۔

آپ کہتے تھے بچت کرو۔ میں نے کوشش کی۔ لیکن جب کرایہ اُس سے دگنا ہو جو آپ دیتے تھے، اور تنخواہیں آدھی ہوں جتنی ہونی چاہئیں، تو بچت ایسے لگتی ہے جیسے نیچے سوراخ والی بالٹی میں پانی بھرنا۔

میں نے تین ہفتے پہلے اپنی دوائیں چھوڑ دی تھیں کیونکہ میری انشورنس ختم ہو گئی تھی اور میں آپ سے دوبارہ پیسے مانگنا نہیں چاہتا تھا۔ اسی لیے میں “تھکا ہوا” تھا۔ میرا دماغ چیخ رہا تھا، اور میرے پاس آواز کم کرنے کا بٹن نہیں تھا۔

آپ ٹھیک تھے۔ دنیا مضبوط لوگوں کے لیے ہے۔ اور میرے اندر اب لڑنے کی طاقت نہیں بچی۔

میں ٹرک لے کر پرانے پل کی طرف جا رہا ہوں۔ مجھے افسوس ہے۔ آپ کو میرے بلز نہیں دینے پڑیں گے۔

محبت کے ساتھ،
لیو

میرے گلے سے جو چیخ نکلی وہ انسانی نہیں تھی۔ وہ کسی پھندے میں پھنسے جانور جیسی تھی۔

میں نے 911 ملایا۔ میں پل کی طرف بھاگا۔ اتنی تیزی سے چلایا کہ دنیا سرمئی دھاریوں میں بدل گئی۔

میں نے دریا دیکھنے سے پہلے چمکتی بتیاں دیکھیں۔

میں نے ٹو ٹرک دیکھا۔ میں نے اپنی پک اپ دیکھی—وہی جسے ٹھیک کرنے پر میں فخر کرتا تھا—کیچڑ اور گھاس ٹپکاتی ہوئی پانی سے نکالی جا رہی تھی۔

میں سڑک پر گر پڑا۔ جس افسر نے مجھے اٹھایا وہ میری عمر کا ہی تھا۔ اس نے یہ نہیں کہا، “سب ٹھیک ہو جائے گا۔” وہ بس مجھے تھامے رہا جب میں ٹوٹ کر بکھر گیا۔

چھ مہینے گزر چکے ہیں۔

لوگ کہتے ہیں، “یہ تمہاری غلطی نہیں تھی، جیک۔ ڈپریشن ایک خاموش قاتل ہے۔”

اور وہ درست کہتے ہیں۔ یہ ایک بیماری ہے۔

لیکن میں اس حساب سے نظریں نہیں ہٹا پاتا۔

میں نے بعد میں اس کے فون کے ریکارڈ دیکھے۔ وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ اس نے واقعی سینکڑوں نوکریوں کے لیے اپلائی کیا تھا۔ خودکار ای میلز سے انکار ملا۔ وہ اس وقت کام کر رہا تھا جب میں سو رہا تھا۔ وہ ایک ایسی جنگ لڑ رہا تھا جسے میں دیکھنے سے انکار کرتا رہا، کیونکہ میں ماضی کو گلابی چشموں سے دیکھنے میں مصروف تھا۔

میں نے اس کی کامیابی کو 1990 کے پیمانے سے ناپا، اور جب وہ پورا نہ اترا تو اسی سے اسے مارا۔

ہم اپنے بچوں سے کہتے ہیں، “تمہاری عمر میں میرے پاس گھر اور گاڑی تھی۔” ہم یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ اُس وقت گھر دو سال کی تنخواہ میں آ جاتا تھا، بیس سال کی میں نہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس پنشن تھی، گیگ کنٹریکٹس نہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس امید تھی۔

لیو کو ہمت پر لیکچر کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے ایک ایسے باپ کی ضرورت تھی جو یہ سمجھے کہ “میں تھک گیا ہوں” کا مطلب “مجھے نیند چاہیے” نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہوتا ہے: “میرے پاس جینے کی وجوہات ختم ہو رہی ہیں۔”

میں ہر اتوار اس کی قبر پر جاتا ہوں۔ میں اسے ٹرک کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں اسے معافی مانگتا ہوں۔

لیکن وہ سن نہیں سکتا۔

دنیا اس وقت لیوز سے بھری ہوئی ہے۔ نوجوان مرد اور عورتیں جو ہم سے کہیں زیادہ محنت کر رہے ہیں، آدھے صلے کے لیے، ایک ٹوٹی ہوئی معیشت اور ایسی ڈیجیٹل تنہائی کا بوجھ اٹھائے ہوئے جسے ہم سمجھ نہیں سکتے۔

اگر آپ کا بچہ کہے کہ وہ تھکا ہوا ہے…
اگر وہ رکا ہوا سا لگے…
اگر وہ ایسی دنیا میں قدم جمانے کی جدوجہد کر رہا ہو جس نے اس کے پر کاٹ دیے ہوں…

براہِ کرم، اپنے فیصلے ایک طرف رکھ دیں۔ اپنی “ہمارے زمانے میں” والی کہانیاں پھینک دیں۔

اسے یہ نہ کہیں کہ “مرد بنو۔”
اسے کہیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں۔
اسے بتائیں کہ اس کی قدر اس کی تنخواہ یا جائیداد میں نہیں۔

میں اپنی ہر چیز—اپنا گھر، اپنی پنشن، اپنا غرور—قربان کر دوں، بس ایک بار پھر اپنے بیٹے کو اُس صوفے پر “سستی سے” سوتا دیکھنے کے لیے۔

خاموشی کو سن لیجیے، اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ابدی ہو جائے۔

تحریر ۔ Pakistani Mom In America

کہانی: “خاموش درد جو عورت خود بھی نہیں سمجھ پاتی”گاؤں کی ایک عورت تھی، نام اس کا ام زینب تھا۔ عمر کوئی چالیس کے قریب۔باہ...
11/01/2026

کہانی: “خاموش درد جو عورت خود بھی نہیں سمجھ پاتی”
گاؤں کی ایک عورت تھی، نام اس کا ام زینب تھا۔ عمر کوئی چالیس کے قریب۔
باہر سے دیکھنے میں سب ٹھیک لگتا تھا، مگر اس کے اندر ایک خاموش چنگ چل رہی تھی۔
کبھی سفید پانی حد سے زیادہ ہو جاتا،
کبھی ماہواری بے ترتیب،
کبھی پیٹ کے نچلے حصے میں بوجھ،
اور کبھی اچانک ایسا درد جیسے کسی نے اندر مروڑ دیا ہو۔
وہ کہتی تھی:
“ڈاکٹر صاحبہ، میں بیمار نہیں لگتی، مگر ٹھیک بھی نہیں ہوں”
کسی نے کہا:
یہ سب کمزوری ہے
کسی نے کہا:
یہ وہم ہے
کسی نے کہا:
شادی کو وقت ہو گیا ہے،
ایسے ہی ہو جاتا ہے
آخر ایک دن الٹراساؤنڈ ہوا…
رحم میں رسولی نکلی۔
زینب رو پڑی۔
اس نے کہا:
“یہ تو اچانک ہو گیا…”
لیکن حقیقت یہ تھی:
یہ اچانک نہیں تھا،
یہ برسوں کی غلط غذا، غلط مزاج، اور غلط طرز زندگی :
“عورت کا رحم خاموش نہیں ہوتا،
وہ اشارے دیتا ہے،
ہم سننا چھوڑ دیتے ہیں”
اب آتے ہیں اصل نکتے پر
❓ رحم کی رسولی آخر بنتی کیوں ہے؟
کیونکہ رحم:
کبھی سردی سے ڈھیلا پڑ جاتا ہے
کبھی خشکی سے سخت ہو جاتا ہے
کبھی گرمی سے جلنے لگتا ہے
اور ہر کیفیت کا علاج الگ ہے۔
⬇️ اب سادہ زبان میں حل
(مزاج کے مطابق، دیہاتی فہم کے لیے)
🧊 1️⃣ سردی تری والا رحم
(زیادہ سفید پانی، کمزوری، بار بار انفیکشن)
اس عورت کا حال:
سفید پانی زیادہ
رحم ڈھیلا
تھکن جلد
ٹانگوں میں درد
مسئلہ کیا ہے؟
رحم میں جان نہیں رہی
اعصاب کمزور ہو گئے ہیں
حل (سادہ لفظوں میں):
رحم کو طاقت اور گرفت چاہیے
فائدہ مند ہربل چیزیں:
موصلی سفید
کمر کس
سنگجراحت
👉 یہ رحم کو بہتر کرتی ہیں
👉 سفید پانی روکتی ہیں
پرہیز:
ٹھنڈا پانی
دہی، چاول
کولڈ ڈرنکس
🔥 2️⃣ خشکی تیزابیت والا رحم
(رسولیاں، درد، بھاری پن)
اس عورت کا حال:
پیٹ کے نچلے حصے میں گانٹھ
ماہواری میں درد
پیٹ بھرا بھرا
مسئلہ کیا ہے؟
رحم میں:
تیزابیت
خون کی رکاوٹ
خلیات کا غلط پھیلاؤ
جیسے:
نالی میں کچرا جم جائے تو پانی رک جاتا ہے
حل:
تیزابیت توڑنی ہے
رکاوٹ کھولنی ہے
فائدہ مند ہربل چیزیں:
کچنار کی چھال
گندھک املہ سار
بابچی
👉 یہ رسولی کو آہستہ آہستہ گھلاتی ہیں
👉 آپریشن سے پہلے بہترین موقع دیتی ہیں
پرہیز:
فاسٹ فوڈ
بیکری آئٹمز
زیادہ روٹی، چاول
🌶️ 3️⃣ گرمی سوزش والا رحم
(جلن، بدبو، انفیکشن، PID)
اس عورت کا حال:
پیٹ میں جلن
بخار جیسی کیفیت
بدبودار اخراج
مسئلہ کیا ہے؟
رحم میں سوزش اور جراثیم
حل:
ٹھنڈک + صفائی
فائدہ مند ہربل چیزیں:
ملٹھی
ریوند خطائی
سہاگہ بریاں
👉 پیپ صاف
👉 سوزش ختم
👉 زخم بھرنے میں مدد
گھریلو سہارا:
نیم کے پتوں کا پانی (استنجا)
سونف الائچی کا قہوہ
🌿 ہارمون بگاڑ، PCOS، بانجھ پن
اصل جڑ:
انسولین کا بگاڑ
جگر اور رحم کا عدم توازن
فائدہ مند چیزیں:
اسگندھ ناگوری
بدھاری قند
ستاور
👉 ہارمون متوازن
👉 بیضہ دانی کو طاقت
🌸 (لبِّ لباب)
رحم بیمار نہیں ہوتا
یا تو سرد ہو جاتا ہے
یا خشک ہو جاتا ہے
یا جلنے لگتا ہے
جب ہم:
صحیح مزاج پہچان لیں
صحیح غذا دیں
صحیح دوا چنیں
تو:
رسولی بھی رک جاتی ہے
سفید پانی بھی ٹھیک
اور عورت دوبارہ خود کو زندہ محسوس کرتی


جو سنت کے مطابق جیتا ہے
وہ بیماری سے پہلے
شفا پا لیتا ہے۔
اگر آپ بھی ایسی کسی بھی بیماری کا شکار ھیں جو آپکا سکون چین چھین چکی ھے تو آج ھی السیدہ طب نبوی سے
رابطہ کیجئے اور اپنی زندگی کو طب نبوی کے مطابق
اسان قدرتی علاج سے پرسکون بنائیے۔
ابھی ہم سے واٹس ایپ پر رابطہ کرنے کے لیے واٹس ایپ کے بٹن کو کلک کیجیے

Address

Gulistan E Jouher
Karachi Lines
75300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Syedah tibbe nabwi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al Syedah tibbe nabwi:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram