17/10/2025
Important to understand:
This young guy had pain for a couple of years in his right arm. He went through MRI (low quality) and even open surgery.Nobody diagnosed his disease.So much so that an orthopedic Dr. in a very big tertiary care hospital said that there is nothing but the pain that has settled in your mind.
Dr. Malik Osama a high skilled orthopedic surgeon called me and rightly asked to do a high frequency ultrasound for his symptoms.
In 5 minutes we were able to identify the pathology and labelled it as a peripheral Neuroma.
Dr. Malik osama operates on him and found the same and excised the lesion.
Luckily due to high quality surgery, no motor or sensory deficit was observed in the arm.
Conclusion:
High frequency ultrasound in experts hands , sometimes,is much more accurate as compared to MRI,especially in the Musculoskeletal system.
Original images ,for educational purposes and awareness.
یہ نوجوان کئی سالوں سے اپنے دائیں بازو میں درد محسوس کر رہا تھا۔ اُس نے ایک کم معیار کا ایم آر آئی کروایا، حتیٰ کہ اُس پر اوپن سرجری بھی کی گئی، لیکن کوئی بھی اس کی بیماری کی صحیح تشخیص نہ کر سکا۔
یہاں تک کہ ایک بڑے تیسرے درجے کے اسپتال کے آرتھوپیڈک ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ "یہ صرف وہم ہے، درد صرف آپ کے دماغ میں بیٹھ گیا ہے۔"
ڈاکٹر اسامہ، جو کہ ایک نہایت ماہر آرتھوپیڈک سرجن ہیں، نے مجھ سے رابطہ کیا اور دخواست کی کہ اس کی علامات کے لیے ہائی فریکوئنسی الٹراساؤنڈ کیا جائے۔
صرف 5 منٹ میں ہم نے بیماری کی تشخیص کر لی اور اسے پیریفرل نیوروما
(Peripheral Neuroma) قرار دیا۔
ڈاکٹر اسامہ نے اُس کا آپریشن کیا اور بالکل وہی چیز پائی گئی جیسا الٹراساؤنڈ میں نظر آیا تھا، اور وہ نقصان دہ رسولی نکال دی گئی۔
خوش قسمتی سے، اعلیٰ معیار کی سرجری کی وجہ سے بازو میں کوئی بھی موٹر یا سینسری کمی واقع نہیں ہوئی۔
نتیجہ:
ماہر ہاتھوں میں ہائی فریکوئنسی الٹراساؤنڈ بعض اوقات ایم آر آئی سے بھی زیادہ درست ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر عضلاتی و ہڈیوں (Musculoskeletal system) کے نظام میں۔