Dr.Aamir Tariqi Clinic

Dr.Aamir Tariqi Clinic Doctor/Spiritual healer/Islamic Scholar

تمام مومنین اور مومنات کثرت سے اس دعاء کا ورد کریں ۔
28/02/2026

تمام مومنین اور مومنات کثرت سے اس دعاء کا ورد کریں ۔

28/02/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم ھو القادر ھوالحق ہوالمیعن                  #     یوم الحزن ❣️10 رمضان المبارک …. یومِ وصال حضرت س...
27/02/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ھو القادر ھوالحق ہوالمیعن

# یوم الحزن

❣️10 رمضان المبارک …. یومِ وصال حضرت سیدۃ خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا ❣️

ملکہ ء عرب
زوجہ ء رسول صلی اللہ علیہ وسلم
مادر ء بتول
حسنین کریمین کی نانی
مومنوں کی ماں
ام المومینین سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا پر
کروڑوں اربوں کھربوں درود ہ سلام

ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چھ خصوصی فضائل​❣️

1- آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سب سے پہلے سرورِ کائنات، فخرِ موجودات ﷺ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور ام المؤمنین یعنی قیامت تک کے سب مؤمنین کی ماں ہونے کے پاکیزہ واعلیٰ منصب پر فائز ہوئیں۔
2- رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیات میں کسی اور سے نکاح نہیں فرمایا۔
3- سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار ﷺ کی تمام اولاد سوائے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے، آپ ہی سے ہوئی۔
4- دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی نسبت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سب سے زیادہ عرصہ کم وبیش 25 برس رسولِ نامدار، مدینے کے تاجدار ﷺ کی رفاقت و ہمراہی میں رہنے کا شرف حاصل کیا۔
5- سید الانبیاء، محبوبِ کبریاء ﷺ کے ظہورِ نبوت کی سب سے پہلی خبر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ہی پہنچی۔
6- تاجدارِ رسالت ﷺ کے بعد اسلام میں سب سے پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نماز پڑھی۔

*احادیث مبارکہ کی روشنی میں سیدہ پاک رضی اللہ عنہا کا مقامِ عالی شان*

ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا ہمارے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہلی شریک حیات’ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی خاتون اور سب پہلے اسلام کے لیے آپ تمام تر جمع شدہ پونجی خرچ کرنے والی عظیم ہستی ہیں…

زمانہ جاہلیت میں سر زمین عرب میں جو چند پاک خواتین موجود تھیں آپ کا مقام ان میں نمایاں تھا… حتی کہ اس زمانے میں بھی آپ *طاہرہ* کے نام سے پہچانی جاتیں تھیں…25 سال کی عمر مبارک میں انہی کی خواہش پر ہمارے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا اور ان کی اپنی عمر اس وقت 40 سال تھی اور یہ ان کا تیسرا نکاح تھا’ پہلے یکے بعد دیگر ان کے دو شوہر شوہر فوت ہو چکے تھے….

ان کے پہلے شوہر عتیق بن عائد مخزومی تھے ان کی وفات کے بعد ان کی شادی ابو ہالہ بن نباش تمیمی سے ہوئی تھی … جب وہ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تو اس کے بعد آپ نے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دامن عاطفت میں نکاح کی صورت میں پناہ حاصل کی..

آپ کا نکاح سرکار دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے خواجہ بطحہ حضرت ابو طالب علیہ السلام نے پڑھایا ۔

پھر 10 رمضان المبارک 10 ہجری تک تقریباً 24 سال 6 ماہ اور 25 دن مسلسل بارگاہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گذار دیئے…(رحمۃ اللعالمین ‘ جلد3 صفحہ 145)سوائے ایک بیٹے کے ساری اولاد اللہ پاک نے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کے پاکیزہ بطن سے عطا فرمائی…مکے کی مال دار ترین خاتون تھیں….
اسلام قبول کرنے کے بعد ایک ایک پائی خدمت اسلام کے لیے صرف کر دی..آپ کی انہی خدمات کی بدولت اللہ تعالٰی اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں انہیں اہم مقام حاصل ہوا…ان کی زندگی میں بھی اور بعد از وصال بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کیا اور ان کی خدمات کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ مسلسل اس کا ذکر کر کے ان کے تذکرے کو ہمیشہ کی زندگی عطا فرما دی…
ذیل میں آپ کے مقام و مرتبے اور سیرت و کردار پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چند گواہیاں ملاحظہ فرمائیں ❣️

حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےسیدۃ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کو(ان کی خدمات کی عوض) اس دنیا میں ہی ایسے جنتی محل کی بشارت دی دے تھی جس کی شان یہ ہے :*بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ، وَلَا نَصَبَ* .“ایسا محل کو موتیوں سے بنا ہے ‘ اس میں نہ شوروغل اور نہ تکلیف ہوگی”.(صحیح بخاری ‘ كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ ‘ بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ. رقم الحدیث : 3819)
*……حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو زمانے کی بہترین خواتین میں شامل فرما کر خصوصی اعزاز و اکرام سے نوازا…. چنانچہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا

حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ* ”“تمہارے لیے(قتداء و اتباع کے لحاظ سے) چار عورتیں کافی ہیں…. مریم بنت عمران ‘ خدیجہ بنت خویلد ‘ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور فرعون کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہم “.(سنن ترمذی’ أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘ بَابٌ : فَضْلُ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا’ رقم الحدیث: 3878)

*….حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:*کَانَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اِذَا ذَکَرَ خدیجۃَ رضی اللہ عنہا لَمْ یَکُنْ یَسْأَمُ مِنْ ثَنَاءِ عَلَیْھَا وَالْاِسْتِغْفَارِ لَھّا*“حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ کا تذکرہ فدماتےتو ان کی تعریف اور ان کے لیے بخشش و مغفرت کی دعا کرتے نہیں تھکتے تھے”.(طبرانی کبیر’ جلد 23 ‘ صفحہ 13 ‘ رقم الحدیث : 21 )یعنی آپ یہ عمل مبارک مسلسل کیا کرتے

*…….حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بیان کرتی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد جب بھی آپ کوئی بکری ذبحہ کرتے تو اس کا گوشت آپ کی سہیلیوں کو بھی بھیجا کرتے تھےاور آپ ان کی سہیلیوں کی بھی بڑی قدر کیا کرتے تھے.(صحيح مسلم ‘ كِتَابٌ : فَضَائِلُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ‘ بَابٌ : فَضَائِلُ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا ‘ رقم الحدیث : 2435)

*……حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہی زبانی حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ سے ایک انداز محبت ملاحظہ فرمائیے ‘ اس سے آپ کی سیرت و کردار اور خدمت اسلام کے بھی کئی گوشے نکھر کر سامنے آ جائیں گے
آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :*كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى عَلَيْهَا فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ. قَالَتْ : فَغِرْتُ يَوْمًا فَقُلْتُ : مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا. قَالَ : ” مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا، قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ”*.“حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی خوب تعریف کرتے …آپ فرماتی ہیں کہ ایک دن میں غصہ میں آگئی اور عرض کیا کہ آپ اس سرخ رخساروں والی کا تذکرہ بہت ذیادہ کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عورتیں اس کے بدلے میں عطا فرمائی ہیں…(تو میری بات سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا..وہ تو ایسی عورت تھی جو مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے… میری اس وقت اس نے تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے….اپنے مال سے اس نے میری اس وقت ڈھارس بندھائی جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے… اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے اولاد عطا نہیں فرمائی”.( مسند أحمد ‘ مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ‘ رقم الحدیث :
24864)

جس عظیم ہستی کے یہ فضائل و مناقب اور سیرت و کردار کی یہ چند خوبصورت جھلکیاں ہیں آج 10 رمضان المبارک اسی ہستی کا یوم وصال ہے….. ان سے سبق سیکھتے ہوئے ایک تو ہم خدمت و وفاداری دین متین میں چند قدم آگے بڑھیں اور ہماری خواتین ان کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنا لیں… اس گئے گزرے دور میں ان کے نقش قدم پر چلے بغیر کامیابی ناممکن ہے….

مکہ مکرمہ زادہا للہ شرفا وتعظیماً کے قبرستان ”جنت المعلیٰ“ میں واقع ”ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا“ کے مزار مبارک کی چند تصاویریہ تمام تصاویر ۱۹۲۵ء سے پہلے کی ہیں کیونکہ ۱۹۲۵ء میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ سمیت حجازِ مقدس میں واقع ہزاروں مزارات شہید کر دئیے گئے۔

ان مبارک وبرگزیدہ ہستیوں کے صدقے اللہ عزوجل ہماری مغفرت فرمائے۔اور آج آپ کے لئے فاتحہ خوانی کا بھی ضرور اہتمام کریں….. اللہ تعالٰی آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں آپ سے فیض حاصل کرتے ہوئے عمل کی توفیق عطا فرمائے ‘ آمین ثم آمین یارب العالمین….تحریر پڑھ کر ثواب کی نیت سے شیئر بھی کریں….جزاک اللہ خیراً
امین بجاہ النبی الکریم ﷺ

”شاہنامہ اسلام“ از حفیظ جالندھری سے
ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وصال شریف پر اشعار:

وہ ام المسلمیں جو مادرِ گیتی کی عزت ہیں
وہ ام المسلمیں قدموں کے نیچے جس کے جنت

ہےخدیجہ طاہِرہ یعنی نبی کی باوفا بیں
بیشریکِ راحت و اندوہ پابند رضا بی بیدیارِ

جاودانی کی طرف راہی ہوئیں وہ بھیگئیں
دنیا سے آخر سوئے فردوسِ بریں وہ بھی​

خاک پائے اہلبیت
ڈاکٹر محمد عامر طارقی



fans







26/02/2026

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم ھو القادر ھوالحق ھو المعین                      یا ھو ہر روز باشی صائمًا، ہر لیل باشی قائمًادر ذ...
24/02/2026

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم
ھو القادر ھوالحق ھو المعین

یا ھو

ہر روز باشی صائمًا، ہر لیل باشی قائمًا

در ذکر باشی دائمًا، مشغول شو در ذکرِ ھُو

ہر دن رہو روزہ دار، ہر رات قیام کرتے رہو، ہمیشہ ذکر میں رہو، ”ھُو“ کے ذکر میں مصروف رہو۔

گر عیش خواہی جاوداں، عزت بخواہی درجہاں

ایں ذکرِ ھُو ہر آں بخواں، مشغول شو در ذکرِ ھُو

اگر تو ہمیشہ کی عیش چاہتا ہے، اور دنیا میں عزت کا طالب ہے ہر لمحہ ”ھُو“ کا ذکر پڑھ، ”ھُو“ کے ذکر میں مصروف رہ!

سُودے نہ دارد خُفتنت، ناچار باید رفتنت

در گور تنہا ماندنت، مشغول شو در ذکرِ ھُو

تیرا سونا فائدہ نہیں رکھتا، آخر کار تجھے کو جانا لازم ہے، قبر میں تنہا رہ جانا ہے، ”ھُو“ کے ذکر میں مصروف رہ!

ھُو ھُو بذکرش ساز کُن، نامِ خُدا آواز کُن

قفل ز سینہ باز کُن، مشغول شو در ذکرِ ھُو

ھُو ھُو کہہ اور اس کے ذکر کا ساز بنا، خُدا کے نام کو آواز بنا، سینے سے تالا کھول دے، ”ھُو“ کے ذکر میں مصروف رہ!

علم بخوانی باعمل، فردا نہ باشی تاخجل

در پیشِ قادرِ لم یزل، مشغول شو در ذکرِ ھُو

علم کو علم کے ساتھ پڑھ، تاکہ مستقبل میں شرمندہ نہ ہو، اس قادرِ لازوال کے حُضُور، ”ھُو“ کے ذکر میں مصروف رہ!

ہر دم خُدا را یاد کُن، دلہائے غمگیں شاد کُن

بُلبُل صفت فریاد کُن، مشغول شو در ذکرِ ھُو

ہر سانس خُدا کو یاد کر! غمگیں دلوں کو خوش کردے! بُلبُل کی طرح فریاد کر! ”ھُو“ کے ذکر میں مصروف رہ!

مسکیں احمدؔ مرد شو، در جملہ عالم فرد شو

در راہِ حق چوں گَرد شو، مشغول شو در ذکرِ ھُو

اے مسکین احمد! مرد ہوجا! تمام جہاں میں مُنفرد ہوجا! حق کی راہ میں گرد و غبار ہوجا! ”ھُو“ کے ذکر میں مصروف رہ!

حضرت مُجَدِّد الف ثانٖي رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالیٰ عَنْهُ

(جہانِ امام ربانی، جلد ۱، کشور اول ص؛ ۱۱۹)

بارگاہ مرشد قبلہء میاں حضور دامت برکاتہم العالیہ میں حاضریدرِ مرشد پہ جاکر زندگی پُرسکون ہوتی ہےنگاہِ لطف پڑ جائے تو کای...
23/02/2026

بارگاہ مرشد قبلہء میاں حضور دامت برکاتہم العالیہ میں حاضری

درِ مرشد پہ جاکر زندگی پُرسکون ہوتی ہے
نگاہِ لطف پڑ جائے تو کایا ہی پلٹتی ہے

وہ ماتھے کی چمک، چہرے پہ انوارِ الٰہی ہیں
تبسم میں حلاوت ہے، سخاوت ہی سخاوت ہے

بڑی شفقت سے دیکھا آپ نے جب میری جانب تو
لگا جیسے مری بگڑی ہوئی قسمت سنورتی ہے

میاں حضور کی مسکان، گویا پھول کھلتے ہوں
اسی اک مسکراہٹ سے مری دنیا مہکتی ہے

کریں کیا تذکرہ اس پیار کا جو آپ دیتے ہیں
کرم کی اک نظر سے ہر کڑی مشکل ٹلتی ہے

عطا میاں حضور کی ہے، کہ چمکا بختِ عامر ہے
عنایت ان کی خاص ہے، جو نصیبا میرا جاگا ہے

وہ تبسمِ شیریں اور وہ شفقت بھری باہیں
ترے در سے اے مرشد! مجھے سب کچھ ہی ملا ہے

تری محفل کی رونق سے منور ہے مرا آنگن
ترا چرچا گلی کوچے، زباں پہ بس ترا تذکرہ ہے

جھکی جب جب جبیں میری ترے آستانِ عالی پر
ملا وہ قربِ ربانی کہ دل میرا نہال ہوا ہے

عجب تاثیر ہے مرشد! تمہاری دھیمی باتوں میں
سنا جب سے ہے تذکرہ تمہارا، دل کو چین ملا ہے

ترا فیضان ہے جاری، جہاں سجدہ کناں عامر
میاں حضور کی صورت میں، مجھے تو خدا ملا ہے

احقر محمد عامر طارقی

fans





21/02/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم ھو القادر ھوالحق ہوالمعین       *3 رمضان المبارک یـومِ عـرس**سَیّـدۂ کائنـات، خـاتونِ جنّت، طَیّـ...
21/02/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ھو القادر ھوالحق ہوالمعین

*3 رمضان المبارک یـومِ عـرس*

*سَیّـدۂ کائنـات، خـاتونِ جنّت، طَیّـبہ طـاہرہ اَبِیھا عَلَیھَا، حضرت بي بي فـاطمةُ الـزہرہ سلام اللہ علیہا

*تذکرۂ صالحات سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہُ عنہا*

*🌼 پُرنور ولادت:❣️

• سیّدہ فاطمۃ الزہراء کی ولادتِ با سعادت اعلانِ نبوت سے 5 سال پہلے ہوئی۔

[📖شرح الزرقانی ، 4 / 331]

القاب اور کنیت❣️

آپ کے مشہور القاب میں زھرا اور سیدۃ النساء العالمین (تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار) اور بتول ہیں۔ مشہور کنیت ام الائمہ، ام السبطین اور ام الحسنین ہیں۔ آپ کا مشہور ترین لقب سیدۃ النساء العالمین ایک مشہور حدیث کی وجہ سے پڑا جس میں حضرت محمد نے ان کو بتایا کہ وہ دنیا اور آخرت میں عورتوں کی سیدہ (سردار) ہیں۔ اس کے علاوہ خاتونِ جنت، الطاہرہ، الزکیہ، المرضیہ، السیدہ وغیرہ بھی القاب کے طور پر ملتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🌼 فرمان مصطفی ﷺ:*

• فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں

[📖 بخاری (2/537)]
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌼 حضرت بی بی فاطمہ زهرا رضى اللہ عنہا اخلاق و عادات ( یعنی گفتگو و کردار) میں نبی کریم ﷺ سے بہت ملتی جلتی تھیں۔

[📖 ترمزی شریف 466/5 حدیث 3898 ملخصا)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🌼عبادت و ریاضت:*

• آپ روزوں اور عبادت و ریاضت کا بہت شوق رکھتی تھیں کئی بار ایسا ہوا کہ آپ نے پوری رات نماز پڑھتے ہوئے گزار دی۔

[📖مدارج النبوۃ ، 2 / 461]
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🌼 پردہ و حیا:*

• شرم و حیا اور پردہ کرنا آپ کے اعلیٰ اوصاف میں سے تھا ، کبھی کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑی ، بلکہ آپ کی یہ تمنا تھی کہ وصال کے بعد بھی مجھ پر کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑے ، چنانچہ بروزِ محشر لوگوں کو نگاہیں جھکا نے کا حکم ہوگا تاکہ آپ رضی اللہ عنہا پل صراط سے گزر جائیں۔

[📖 مستدرک ، 4/ 136 ، حدیث : 4781]
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🌼 ازدواجی زندگی:❣️

🔸 حضرت مولیٰ علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہُ عنہما کا نکاح یقیناً بہت عمدہ اور شاندار تھا جس میں خود ربّ کریم کی رضا اور نبیِّ کریم کی دُعائیں ، نصیحتیں اور شفقتیں شامل تھیں ، یہ مبارک نکاح ایک قول کے مطابق 26 یا 27 صفر سن 2ھ میں ہوا۔
[📖تاریخ مدینہ دمشق ، 3 / 128]

🔸 نکاح کے بعد بی بی فاطمہ نے امورِ خانہ داری کی ذمہ داریوں کو نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے سے نبھایا اور ہر طرح کی مشکلات پر صبر کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا ، چکی پیسنے سے ہاتھوں میں نشان پڑجاتے ، پانی کی مشک بھر کر لانے کی مشقت ہوتی
[📖ابو داود ، 4 / 409 ، 5063 ملتقطا ً]
آپ نے پھر بھی اپنی ازدواجی زندگی کا سفر صبر و شکر سے طے کیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🌼تربیتِ اولاد:❣️

• آپ کے 3 بیٹے حسن ، حسین ، محسن اور 3 بیٹیاں زینب ، رقیہ اور ام کلثوم تھیں ،
ان میں حضرت محسن اور رقیہ کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا۔

[📖 مدارج النبوۃ ، 2 / 460]
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🌼آقا کی اِن سے محبت:❣️

• نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی اپنی لختِ جگر سے بہت محبت و شفقت کا معاملہ فرماتے اور ان کو اپنی نشست پر بٹھاتے۔
[📖 ابو داود ، 4 / 454 ، حدیث : 5217ملتقطاً]

• نیز آپ سفر سے واپسی پر سب سے پہلے بی بی فاطمہ کے ہاں تشریف لاتے۔
[📖 مستدرک ، 4 / 141 ، حدیث : 4792]

• ایک موقع پر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :
میری بیٹی فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو چیز اسے بُری لگے وہ مجھے بُری لگتی ہے اور جو چیز اسے ایذا دے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔

[📖 ترمذی ، 5 / 464 ، حدیث : 3893]
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*وصالِ پُر ملال:❣️

• آپ آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد حضور کی یاد اور فراق میں بے چین رہتیں ، آخر کار حضور کی وفات کے 6 ماہ بعد 3 رمضان المبارک کو آپ اس جہاں سے رخصت ہوگئیں۔
[📖 مدارج النبوۃ ، 2 /895]

• مختار قول یہ ہے کہ آپ کا مزارِ پُر انوار بقیع شریف میں ہے۔

[📖 فتاوی رضویہ ، 26 / 432- مدارج النبوۃ ، 2 / 461]
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*میں اُن کی بات کروں یہ کہاں میری اُوقات کہ شانِ فاطمہ زھراء حضور جانتے ہیں۔۔❣️

خُدایا بحقِ بنی فاطمہ
کہ برِ قولِ ایماں کُنی خاتمہ

(اے خدا حضرت فاطمہ (ع) کی اولاد کے صدقے میرا خاتمہ ایمان پر کرنا۔ )

اگر دعوتَم رد کُنی، ور قبول
من و دست و دامانِ آلِ رسول

(چاہے تو میری دعا کو رد کر دے یا قبول کر، کہ میں آلِ رسول (ص) کے دامن سے لپٹا ہوا ہوں۔)

چہ وَصفَت کُنَد سعدیِ ناتمام
علیکَ الصلوٰۃ اے نبیّ السلام

(سعدی ناتمام و حقیر آپ (ص) کا کیا وصف بیان کرے، اے نبی (ص) آپ پر صلوۃ و سلام ہو۔)

( شیخ سعدی شیرازی )

🤲🏻 اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر کڑوروں رَحمتیں برکتیں نازل فرمائے اور ان کے صَدقے

ہماری اور ہمارے والدین اور اولاد کی مغفرت فرمائے بروز محشر شفاعت عطاء فرمائے ۔

*آمین ثم آمین يارب العالمین*

*『خوب ایصال ثواب کا اہتمام فرمائیں اور حسبِ توفیق لنگر کا اہتمام کریں ۔

خاک پائے اہلبیت
ڈاکٹر محمد عامر طارقی

fans





بسمہ اللہ الرحمن الرحیم ھوالقادر ھوالحق ھو المعین   حضرت باقی باللہ نقشبندی دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مرید کو مکتوب انتہ...
20/02/2026

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم
ھوالقادر ھوالحق ھو المعین

حضرت باقی باللہ نقشبندی دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا مرید کو مکتوب انتہائی اہم موضوع پر اس کا مطالعہ ہر سالک کو ضرور کرنا چاہئے ۔

چوں جناب عالی مقام ارشاد پناہ میاں شیخ تاج الدین بنا بر ورود بعضے واردات و مستی ہا و بےنیازی ہا بملاحظہ دید۔ مصلحت مسترشداں بے اجازت عالی صلاح دراں دیدہ بودند کہ از سلاسلِ دیگر کہ بفیوضِ آن آشنائی ہا داشتند بعضے رازدارانِ طریق تربیت کنند و نیز خود را بے حاجت و اویسی مشرب میدیدند امّا ایں معنیٰ را بکسے ظاہر نمی کردند برائے ایشاں ایں کتابت نوشتہ شدہ بود۔
جب جنابِ عالی مقام ارشاد پناہ میاں شیخ تاج الدین نے (اپنے باطن پر) کچھ خاص واردات، مستی اور بے نیازی کی کیفیات کا ورود دیکھا، تو انہوں نے مریدوں (مسترشدوں) کی مصلحت اور حضرت خواجہ (باقی باللّٰہؒ) کی اجازت کے بغیر اسی میں بہتری سمجھی کہ دیگر سلاسل، جن کے فیوض سے وہ واقف تھے، ان کے ذریعے بعض رازدارانِ طریق (خاص طالبوں) کی تربیت کریں۔ نیز وہ خود کو (کسی ظاہری پیر کی) حاجت سے بے نیاز اور 'اویسی مشرب' (یعنی براہِ راست فیض پانے والا) محسوس کرنے لگے تھے، مگر اس بات کو وہ کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے۔ انہی (شیخ تاج الدین) کے لیے یہ مکتوب لکھا گیا تھا۔

بہ شیخ تاج الدین۔ وفقك الـلّٰه تعالیٰ فـیما یحبه و یرضاہ۔ بعد از ادائے ما وجب علیٰ الاحباء مشہود ضمیر منیر می گرداند۔ فقیر را در بعضے از خواب ہا چناں می نماید کہ باطنِ شما را بہ فقیر یک نوع عدم انقیادے و طُغیانے ہست۔ ظہور این وقائع بعد از بیماری فقیر است۔ در ایں دفعہ کہ آمدید شرم آمد کہ باین نوع چیز ہا توجہ نمودہ اظہارِ آں نمائیم مقصود حق است اگر ما درمیاں نباشد نُوْرٌ عَلیٰ نُوْرٍ۔ لیکن چون سنت اللّٰہ بر اعتبار واسطہ و برزخیّت او رفتہ ازو چشم پوشیدن و او را درمیان ندیدن مورث عدم ترقی است۔ اگر بناگاہ بحکم یقین انحرافے در باطن واسطہ پیدا شود برکت از میان برخیزد۔ ہرچند اَلْفَانِیْ لَایُرَدُّ اِلیٰ اَوْصَافِهٖ مقرر است و بی شبہ این طریق پیشِ خُدا و رسُول نامرضی و نامقبول است۔ اَدَب معلّم اطفال تا چہ حدِ نگاہ باید داشت۔ استادِ طریقت کہ ناودان فیض و بُستانِ کشف و شہود باشد ہر آئنہ برزخِ الوہیتِ خود خواہد بود
؏ پیرِ من و خدائے من از تو بحق رسیدہ ام
مَنْ لَمْ یَشْکُرُ النَّاسَ لَمْ یَشْکُرُ ٱلـلّٰهَ۔ یاری دو درجہ است درجۂِ اَوَّل آن کہ ہمیشہ مستمد و مستفیض باشند تا باب ترقیات بے نہایت مفتوح باشد و ادب این معنیٰ را کما ینبغی رعایت نمائند تا برخورداری و برکت کامل گردد۔ درجۂِ دؤم آن کہ بر تقدیرِ آن کہ مارا درمیان نہ بینید و گُماں برید کہ از ارواحِ طیّبۂِ خواجہا بے واسطہ مستفیضیم ما نیز ازیں ابا نداریم۔ ہرچند کہ خلافِ واقع است و مورث بےبرکتے دراتباع مسترشداں۔ لیکن حفظِ طریقۂِ خواجہا و استفاضہ در توجہ بایشاں و عدم خلط بطریقِ دیگر ناگریز است و ازاں بہیچ وجہ چارہ نیست ایں طبقہ درغائت و نازکی اند۔ شما کتب محققین مطالعہ نکردہ اید۔ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہیچ تفاوتے طریقۂِ ایشاں است اخفا و عدم امتیاز از خلق شکستگی و متواضع بودن و خود را در دائرہ عوام انداختن اکتفا بسُنن معتادہ نمودن و باسباب ظاہر توسل نمودن طریقۂِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ چنانچہ شیخ کبیر محی الملّۃ والدین محمد بن عربی در کتاب فتوحاتِ مکیّہ می گویٔند کہ ہٰذا مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابوبکر الصدیق و من المشیخۃ ابو یزید البسطامی و صمدون القصار و ابو سعید خزاز و من سادات ہٰذا المقام ابو السعود ہٰذا حالنا باقطع نظر ازیں شما ببر رسیدۂِ ایں باغ دید و نائب این گنجواران شما را ملازم آستانۂِ آشیانہ بودن و بر مرضیات ایشان قدم استوار داشتن لازم و واجب است والسّلام علیٰ من اتباع الهُدیٰ۔

بنام شیخ تاج الدین؛ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ان کاموں کی توفیق دے جو اسے پسند اور محبوب ہیں۔ دوستوں پر جو (حقوقِ محبت) واجب ہیں، ان کی ادائیگی کے بعد آپ کے روشن ضمیر پر واضح ہو کہ فقیر (یعنی مجھے، خواجہ باقی باللّٰہ کو) کو بعض خوابوں میں ایسا دکھایا گیا ہے کہ آپ کے باطن میں فقیر (خواجہ باقی باللہ) کے تئیں ایک قسم کی نافرمانی اور سرکشی موجود ہے۔ ان واقعات کا ظہور فقیر کی بیماری کے بعد ہوا ہے۔ اس مرتبہ جب آپ آئے تو مجھے شرم آئی کہ ان چیزوں کی طرف توجہ دوں یا ان کا اظہار کروں۔

(دیکھیے) مقصود تو 'حق' (خدا) ہی ہے، اگر ہم درمیان میں نہ ہوں تو یہ 'نور علیٰ نور' (بہت بہتر) ہے۔ لیکن چونکہ اللہ کی سنت (طریقہ) یہی رہی ہے کہ وہ 'واسطہ' اور 'برزخ' (درمیانی کڑی) کا اعتبار کرتا ہے، اس لیے واسطے سے چشم پوشی کرنا اور اسے درمیان میں نہ دیکھنا، ترقی کے رک جانے کا سبب بنتا ہے۔
اگر اچانک (مرید کے) یقین کے حکم میں واسطے (پیر) کے باطن کی طرف سے کوئی انحراف (روگردانی) پیدا ہو جائے، تو برکت درمیان سے اٹھ جاتی ہے۔ اگرچہ یہ قاعدہ مقرر ہے کہ "جو فنا ہو گیا وہ اپنے (پرانے بشری) اوصاف کی طرف نہیں لوٹایا جاتا"، لیکن بلا شبہ یہ طریقہ (پیر سے بے نیازی) اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ اور ناقابلِ قبول ہے۔ جب بچوں کے استاد کا ادب اس حد تک ملحوظ رکھنا ضروری ہے، تو وہ "استادِ طریقت" جو فیض کی نہر اور کشف و شہود کا باغ ہے، وہ تو یقینًا (طالب کے لیے) اللہ تک پہنچنے کا برزخ (واسطہ) ہوگا۔

؏ میرا پیر ہی میرا خدا (کا مظہر) ہے کہ تمہارے ہی ذریعے میں حق تک پہنچا ہوں۔

حدیث ہے؛ جس نے انسانوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔
دوستی (مریدی) کے دو درجے ہیں؛ پہلا درجہ یہ کہ ہمیشہ (پیر سے) مدد اور فیض مانگتے رہیں تاکہ بے نہایت ترقیات کا دروازہ کھلا رہے، اور اس کے ادب کی کما حقہ رعایت کریں تاکہ برکت کامل رہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ (اگر آپ کی حالت ایسی ہے) کہ آپ ہمیں درمیان میں نہیں دیکھنا چاہتے اور یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ خواجگانِ نقشبند کی پاک ارواح سے بلا واسطہ فیض پا رہے ہیں، تو ہمیں اس سے بھی انکار نہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت کے خلاف ہے اور (آگے چل کر) آپ کے مریدوں کے اتباع میں بے برکتی کا سبب بنے گا، لیکن پھر بھی خواجگان کے طریقے کی حفاظت، ان کی طرف توجہ کر کے فیض پانا اور اسے کسی دوسرے طریقے کے ساتھ خلط ملط نہ کرنا ناگزیر ہے، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

یہ گروہ (نقشبندیہ) انتہائی نازک مزاج ہے۔ آپ نے محققین کی کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ اور ان کا طریقہ ایک ہی ہے، جس میں کوئی فرق نہیں۔ (وہ طریقہ یہ ہے)؛ چھُپنا، لوگوں سے ممتاز نہ ہونا، ٹوٹا ہوا (عاجز) اور متواضع ہونا، خود کو عوام کے دائرے میں رکھنا، عام سنتوں پر اکتفا کرنا اور ظاہری اسباب سے جڑے رہنا۔ یہی طریقۂ مصطفیٰﷺ ہے۔ چنانچہ شیخِ کبیر ابنِ عربیؒ 'فتوحاتِ مکیہ' میں لکھتے ہیں کہ 'یہ مقام رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر صدیقؓ کا ہے، اور مشائخ میں سے بایزید بسطامی، حمدون قصار اور ابوسعید خزاز اس پر تھے۔ اور اس مقام کے سرداروں میں سے ابو السعود ہیں؛ اور یہی ہمارا حال ہے'۔

ان باتوں سے قطع نظر، آپ اس باغ کے پھل کھا چکے ہیں۔ اب آپ پر لازم اور واجب ہے کہ ان خزانچیوں (بزرگوں) کے نائب بن کر اس آستانے کے ملازم رہیں اور ان کی مرضیات پر قدم مضبوطی سے جمائے رکھیں۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ

خاک پائے اہلبیت
ڈاکٹر محمد عامر طارقی

fans




بسم اللہ الرحمن الرحیم ھو القادر ھوالحق ہوالمعین❣️یکم رمضان المبارک یوم ولادت باسعادت ❣️حضرت شیخ سیدنا عبد القادر جیلانی...
18/02/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
ھو القادر ھوالحق ہوالمعین

❣️یکم رمضان المبارک یوم ولادت باسعادت ❣️

حضرت شیخ سیدنا عبد القادر جیلانی گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو غوث اعظم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، آپ سْنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی، شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔

ولادت❣️

آپ کی پیدائش یکم رمضان 470 ھ بمطابق 17 مارچ 1078عیسوی میں ایران کے صوبہ کرمانشاہ کے مغربی شہر گیلان میں ہوئی، جس کو کیلان بھی کہا جاتاہے اور اسی لئے آپ کا ایک اورنام شیخ عبدالقادر کیلانی بھی ماخوذ ہے۔

سلسلہ❣️

شیخ عبدالقادر جیلانی کاتعلق حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کے روحانی سلسلے سے ملتا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمات و افکارکی وجہ سے شیخ عبدالقادر جیلانی کو مسلم دنیا میں غوثِ اعظم دستگیر کاخطاب دیا گیا ہے۔
اکابرینِ اسلام کی عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے بارے پیشین گوئی
شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے چھ سال قبل حضرت شیخ ابواحمد عبداللہ بن علی بن موسیٰ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ عنقریب ایک ایسی ہستی آنے والی ہے کہ جس کا فرمان ہوگا کہ
قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله.
کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
حضرت شیخ عقیل سنجی سے پوچھا گیا کہ اس زمانے کے قطب کون ہیں؟ فرمایا، اس زمانے کا قطب مدینہ منورہ میں پوشیدہ ہے۔ سوائے اولیاء اللہ کے اْسے کوئی نہیں جانتا۔ پھر عراق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس طرف سے ایک عجمی نوجوان ظاہر ہوگا۔ وہ بغداد میں وعظ کرے گا۔ اس کی کرامتوں کو ہر خاص و عام جان لے گا اور وہ فرمائے گا کہ قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله. میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
سالک السالکین میں ہے کہ جب سیدنا عبدالقادر جیلانی کو مرتبہء غوثیت و مقام محبوبیت سے نوازا گیا تو ایک دن جمعہ کی نماز میں خطبہ دیتے وقت اچانک آپ پر استغراقی کیفیت طاری ہو گئی اور اسی وقت زبانِ فیض سے یہ کلمات جاری ہوئے: قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
منادئ غیب نے تمام عالم میں ندا کردی کہ جمیع اولیاء اللہ اطاعتِ غوثِ پاک کریں۔ یہ سنتے ہی جملہ اولیاء اللہ جو زندہ تھے یا پردہ کر چکے تھے سب نے گردنیں جھکا دیں۔
)تلخيص بهجة الاسرار(

ایامِ طفولیت❣️

تمام علماء و اولیاء اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عبدالقادر جیلانی مادرزاد یعنی پیدائشی ولی ہیں۔ آپ کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ ماہِ رمضان المبارک میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کبھی بھی دودھ نہیں پیتے تھے اور یہ بات گیلان میں بہت مشہور تھی کہ ’’سادات کے گھر انے میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان میں دن بھر دودھ نہیں پیتا‘‘۔
بچپن میں عام طور سے بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لیکن آپ بچپن ہی سے لہو و لہب سے دور رہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ
’’جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ
سے کہتا تھا اے برکت والے، میری طرف آ جا‘‘۔

ولایت کا علم❣️

ایک مرتبہ بعض لوگوں نے سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو ولایت کا علم کب ہوا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ دس برس کی عمر میں جب میں مکتب میں پڑھنے کے لئے جاتا تو ایک غیبی آواز آیا کرتی تھی جس کو تمام اہلِ مکتب بھی سْنا کرتے تھے کہ ’’اللہ کے ولی کے لئے جگہ کشادہ کر دو‘‘۔

پرورش وتحصیلِ علم❣️

آپ کے والد کے انتقال کے بعد ،آپ کی پرورش آپ کی والدہ اور آپ کے نانا نے کی۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کا شجرہء نسب والد کی طرف سے حضرت امام حسن اور والدہ کی طرف سے حضرت امام حسین سے ملتا ہے اور یوں آپ کا شجرہء نسب حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ اٹھارہ ( 18) سال کی عمر میں شیخ عبدالقادر جیلانی تحصیل ِ علم کے لئے بغداد (1095ء) تشریف لے گئے۔ جہاں آپ کو فقہ کے علم میں ابوسید علی مخرمی، علم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیرکے لئے ابومحمد جعفر جیسے اساتذہ میسر آئے۔

ریاضت و مجاہدات❣️

تحصیل ِ علم کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے بغدادشہر کو چھوڑا اور عراق کے صحراؤں اور جنگلوں میں 25 سال تک سخت عبادت و ریاضت کی۔
1127ء میں آپ نے دوبارہ بغداد میں سکونت اختیار کی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداد اور پھر دور دور تک پھیل گئی۔ 40 سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لیا۔ نتیجتاً ہزاروں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس سلسلہ تبلیغ کو مزید وسیع کرنے کے لئے دور دراز وفود کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ خود سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے تبلیغِ اسلام کے لئے دور دراز کے سفر کئے اور برِصغیر تک تشریف لے گئے اور ملتان (پاکستان) میں بھی قیام پذیر ہوئے۔

حلیہ مبارک❣️

جسم نحیف، قد متوسط، رنگ گندمی، آواز بلند، سینہ کشادہ، ڈاڑھی لمبی چوڑی، چہرہ خوبصورت، سر بڑا، بھنوئیں ملی ہوئی تھیں۔

فرموداتِ غوثِ اعظم❣️

اے انسان! اگر تجھے محد سے لے کر لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت، عبادت و ریاضت سے اس دل میں اللہ کا نام بسا لے تو ربِ تعالٰی کی عزت و جلال کی قسم یہ ممکن نہیں، اْس وقت تک کہ جب تک تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت وصحبت میسر نہ آجائے۔
اہلِ دل کی صحبت اختیار کر تاکہ تو بھی صاحبِ دل ہو جائے۔
میرا مرید وہ ہے جو اللہ کا ذاکر ہے اور ذاکر میں اْس کو مانتا ہوں، جس کا دل اللہ کا ذکر کرے۔

القاباتِ غوثِ اعظم❣️
غوثِ اعظم
پیران ِ پیر دستگیر
محی الدین
شیخ الشیوخ
سلطان الاولیاء
سردارِ اولیاء
قطب ِ ربانی
محبوبِ سبحانی
قندیل ِ لامکانی
میر محی الدین
امام الاولیاء
السید السند
قطب اوحد
شیخ الاسلام
زعیم العلماء
سلطان الاولیاء
قطب بغداد
بازِ اشہب
ابوصالح
حسنی اَباً
حسینی اْماً
حنبلی مذہبا ً

علمی خدمات❣️

شیخ عبدالقادر جیلانی نے طالبین ِ حق کے لئے گرانقدر کتابیں تحریرکیں، ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں:

الفتح الربانی والفیض ِ الرحمانی
ملفوظات
فتوح الغیب
جلاء الخاطر
ورد الشیخ عبدالقادر الجیلانی
بہجۃ الاسرار
آدابِ سلوک و التوصل الی ٰ منازل ِ سلوک

وصال❣️

شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا انتقال 1166ء کو ہفتہ کی شب (8 ربیع الاوّل561 ہجری) کو نواسی (89) سال کی عمر میں ہوا اور آپ کی تدفین، آپ کے مدرسے کے احاطہ میں ہوئی۔

سیرت غوثِ اعظم❣️

بیشک خالقِ کائنات اللہ رب العالمین نے اِنس وجن کی رشدوہدایت کے لئے مختلف وقتوں اور خطوں میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا و مرسلین کو مبعوث فرمایا۔ہرنبی ورسول اللہ تعالی کی علیحدہ علیحدہ صفتوں کے مظہر بن کر آئے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اپنی کْل صفات ہی نہیں بلکہ ذات کا بھی مظہر بناکر اپنے محبوب نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعْوث فرمایا تو مظہر ذات کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہ رہی باب نبوت ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا تو رْشدوہدایت اور احیا دین و ملت کے لئے مظہر ذات خدامحبوب رب العلیٰ نے غیبی خبر دی کہ’’ ہر صدی کے اختتام پر ایک مجدد پیداہوگا‘‘ (مشکوٰۃشریف) نیز فرمایاکہ ’’ اللہ کے نیک بندے دین کی محافظت کرتے رہیں گے‘‘ (ابوداود) حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارکہ ہے کہ’’ علمائے دین بارش نبوت کا تالاب ہیں‘‘ (مشکوٰۃ شریف) نیز فرمایا کہ ’’چالیس ابدال (اولیا) کی برکت سے بارش اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوگی اور اِنہیں کے طفیل اہلِ شام سے عذاب دور رہے گا(مشکوۃشریف) آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’علماء کی زندگی کے لئے مچھلیاں دْعاکرتی ہیں‘‘ (مشکوٰۃ شریف) نیز فرمایا کہ ’’میری اْمت میں ہمیشہ تین سو اولیاء حضرت آدم علیہ السالم کے نقش ِ قدم پر رہیں گے اور چالیس حضرت موسیٰ علیہ السلام و سات حضرت اِبراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر ہونگے اور پانچ وہ رہیں گے کہ جن کا قلب حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرح ہوگا اور تین حضرت میکائیل علیہ السلام کے قلب پر اور ایک حضرت اِسرافیل کے قلب پر رہے گا جب اِس ایک کا انتقال ہوگا تو اِن تین میں سے کوئی قائم ہوگا اور اِن تین کی کمی پانچ میں سے اور پانچ کی کمی سات میں سے اور سات کی کمی چالیس میں سے اور چالیس کی کمی سات میں سے اور سات کی کمی چالیس میں سے اور چالیس کی کمی تین سو سے اور تین سو کی کمی عالم مسلمانوں سے پوری کردی جاتی ہے‘‘۔ (مرقاۃملاعلی قاری)

علما حق فرماتے ہیں کہ’’ اللہ تعالیٰ رحمتیں دینے والا، سیدالانبیا رحمت عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم فرمانے والے اور اْولیا و علما اِس کا ذریعہ ہیں ‘‘اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لئے ملت مصطفویہ کے سامنے علما و مشائخ نے ایک خوبصورت اور زریں اْصول یہ پیش کردیاہے بارگاہِ ربوبیت تک رسائی آقائے دوجہاں سیدعالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اور بارگاہِ سرور ِ کائنات تک رسائی اْولیا اللہ کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے اِن اولیا اللہ کی صف ِ اول میں صحابہ کرام اور اہلِ بیت اطہار رضوان اللہ علیھم اجمعین شامل ہیں اِن کے بعد تابعین، ائمہ مجتھدین، ائمہ شریعت وطریقت کے علاوہ صوفیاء اتقیاء اور دیگر اولیاء بھی شامل ہیں۔ اولیا کرام تو بہت ہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے لیکن اِس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ علم و فضل، کشف و کرامات، مجاہدات وتصرفات اور حسب ونسب کی بعض خصوصیات کی وجہ سے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو اولیاء کی جماعت میں جو خصوصی امتیاز حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔ یہ واضح رہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو جب ہم ولیوں کا تاجدار کہتے ہیں تو یہاں ولیوں کے عموم میں صحابہ کی جماعت کو شامل نہیں کرناچاہئے خالقِ کائنات اللہ رب العزت جن خوش نصیب بندوں کو مقام ولایت عطافرماتا ہے اْن کی ولایت کو کبھی زائل نہیں فرماتا۔آپ غوث اعظم، غوث الثقلین، امام الطرفین، رئیس الاتقیائ، تاج الاصفیائ، قطبِ ربانی، شہبازلامکانی، محی الملت والدین، فخرشریعت وطریقت، ناصرسْنت، عماد حقیقت، قاطع بدعت، سیدوالزاہدین، رھبرِ عابدین، کاشف الحائق، قطب الاقطاب، غوث صمدانی، سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی۔

آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ اْم الخیر بیان فرماتی ہیں کہ ولادت کے ساتھ احکامِ شریعت کا اِس قدر احترام تھا کہ حضرت غوث اعظم رمضان میں دن بھر میں کبھی دودھ نہیں پیتے تھے۔ ایک مرتبہ اَبر کے باعث 29شعبان کو چاند کی رؤیت نہ ہوسکی لوگ تردوّمیں تھے لیکن اِس مادر زادولی حضرت غوث اعظم نے صبح کو دودھ نہیں پیا۔ بالآخر تحقیق کے بعد معلوم ہواکہ آج یکم رمضان المبارک ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ آپ کے پورے عہدِ رضاعت میں آپ کا یہ حال رہا کہ سال کے تمام مہینوں میں آپ دودہ پیتے رہتے تھے لیکن جوں ہی رمضان شریف کا مبارک مہینہ آپ کایہ معمول رہتاتھا کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک قطعاََ دودہ نہیں پیتے تھے۔خواہ کتنی ہی دودہ پلانیکی کوشش کی جاتی یعنی رمضان شریف کے پورے مہینہ آپ دن میں روزہ سے رہتے تھے اور جب مغرب کے وقت اذان ہوتی اور لوگ افطارکرتے توآپ بھی دودہ پینے لگتے تھے۔ ابتدا ہی سے خالقِ کائنات اللہ رب العزت کی نوازشات سرکارغوث اعظم کی جانب متوجہ تھیں پھر کیوں کوئی آپ کے مرتبہ فلک کو چھوسکتا یا اِس کااندازہ کرسکے چنانچہ سرکارِ غوث اعظم اپنے لڑکپن سے متعلق خود ارشاد فرماتے ہیں کہ عمر کے ابتدائی دور میںجب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتاتو غیب سے آواز آتی تھی کہ لہوولعب سے بازرہو۔جِسے سْن کر میں رْک جایاکرتاتھا اور اپنے گردوپیش جو نظرڈالتاتومجھے کوئی آوازدینے والا نہ دِکھائی دیتاتھاجس سے مجھے دہشت سی معلوم ہوتی اور میں جلدی سے بھاگتاہواگھرآتااور والدہ محترمہ کی آغوش محبت میں چھپ جاتاتھا۔
اَب وہی آواز میں اپنی تنہائیوں میں سْناکرتاہوں اگر مجھ کو کبھی نیند آتی ہے تو وہ آواز فوراََ میرے کانوں میں آکرکے مجھے متنبہ کردیتی ہے کہ تم کو اِس لئے نہیں پیداکیاہے کہ تم سویاکرو۔ حضرت غوث اعظم فرماتے ہیں کہ بچپن کے زمانے میں غیر آبادی میں کھیل رہاتھا کہ ایک گائے کی دم پکڑ کر کھینچ لی فوراََاِس نے کلام کیا اے عبدالقادر! تم اِس غرض سے دنیا میں نہیں بھیجے گئے ہو تو میںنے اِسے چھوڑ دیا اور دل کے اْوپرایک ہیبت سی طاری ہوگئی۔ مشہور روایت ہے کہ جب سیدناسرکار غوث اعظم کی عمر شریف چارسال کی ہوئی تو رسم ورواج ِاسلامی کے مطابق والد محترم سیدناشیخ ابوصالح جن کا لقب’’ جنگی دوست ‘‘ ہے اِس کی وجہ سے ’’قلائدالجواہر‘‘میں بتائی گئی ہے کہ آپ جنگ کو دوست رکھتے تھے ریاض الحیات میں اِس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہادفرماتے تھے اور نفس کشی کوتزکیہ نفس کا مدار سمجھتے تھے۔ وہ آپ کو رسم بسم اللہ خوانی کی ادائیگی اور مکتب میں داخل کرنے کی غرض سے لے گئے اور اْستاد کے سامنے آپ دوزانوں ہوکر بیٹھ گئے اْستاد نے کہا! پڑھو بیٹے بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آپ نے بسم اللہ شریف پڑھنے کے ساتھ ساتھ الم سے لے کر مکمل اٹھارہ 18 پارے زبانی پڑھ ڈالے۔ استاد نے حیرت کے ساتھ دریافت کیا کہ یہ تم نے کب پڑھا....؟ اور کیسے پڑھا...؟ تو آپ نے فرمایا کہ والدہ ماجدہ اٹھارہ سِپاروں کی حافظہ ہیں جن کا وہ اکثر وردکیاکرتی تھیں جب میں شکمِ مادر میں تھا تو یہ اٹھارہ سپارے سْنتے سْنتے مجھے بھی یاد ہوگئے تھے (یہ شان ہوتی ہے اللہ کے ولیوں کی حضور غوث اعظم آج سے کئی صدیوں قبل ہی اِس حقیقت کومن وعن سچ ثابت کرچکے ہیں کہ دورانِ حمل ماں جوکچھ بھی سوچ رہی ہوتی ہے اورپڑھ رہی ہوتی ہے تو اْس کااثر دونوں ہی صورتوں میں شکمِ مادر میں رہنے (پلنے) والے بچے پر ضرور پڑ رہا ہوتاہے اور آج چاند کو چھولینے اور اِس پر چہل قدمی کرنے کی دعویدار 21ویں صدی کی جدید سائنسی دنیا کے یورپ اور امریکا کے سائنسدان اپنی تحقیقوں سے یہ بتاتے پھر رہے ہیں کہ سائنس نے یہ ایک نئی تحقیق کرلی ہے کہ دورانِ حمل ماں جو کچھ بھی منفی یامثبت سوچ رکھتی ہے اِس کا اَثر آئندہ آنے والے بچے کی زندگی پر پڑتا ہے یہ بات سائنس نے آج دریافت کی ہے، جبکہ حضور غوث اعظم نے صدیوں قبل اِسکا عملی ثبوت دنیاکے سامنے خود پیش کردیاتھا اِس سے ہم اْمت مسلمہ کو فخرہوناچاہئے کہ موجودہ دنیا کی کوئی ترقی قرآن و سنت اور تعلیمات اسلامی کے دائرہ کار سے باہرنہیں ہوسکتی)۔
اور یوں آپ نے اپنے وطن جیلان ہی میں باضابطہ طور پر قرآن کریم ختم کیااور چند دوسری دینی کتابیں پڑھ ڈالیں تھیں۔ حضرت غوث اعظم نے حضرت شیخ حماد بن مسلم ہی سے قرآن مجید فرقانِ حمید حفظ کیا اور برسوں خدمتِ حمادیہ میں رہ کر آپ فیوض وبرکات حاصل فرماتے رہے۔ سرکارغوث اعظم نے528سنہ ھ میں درس گاہ کی تعمیر جدید سے فراغت پائی اور مختلف اطراف وجوانب کے لوگ آپ سے شرف تلمذ حاصل کرکے علوم دینیہ سے مالامال ہونے لگے آپ کی بزرگی وولادیت اِسقدر مشہور اور مسلم الثبوت ہے کہ آپ کے غوث اعظم ہونے پر تمام اْمت کا اتفاق ہے حضرت کے سوانح نگار فرماتے ہیں کہ’’کسی ولی کی کرامتیں اِسقدار تواتر اور تفاصیل کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچی ہیں کہ جس قدر حضرت غوث الثقلین کی کرامتیں تواتر سے منقول ہیں(نزہۃ الخاطر)۔خلق خدامیں آپ کی مقبولیت ایسی رہی ہے کہ اکبرواصاغرسب ہی عالم استعجاب میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ مشرق یا مغرب ہرایک غوث اعظم کا مداح اور آپ کے فیض کا حاجت مند نظرآتاہے۔ مقبولیت وہردلعزیزی کے ساتھ ساتھ آپ کی زبان شیریں بیانی اور کلام و وعظ میں اَثر آفرینی بھی حیران کن تھی۔اِسے آپ یوںبھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی حیات مقدس کاایک ایک لمحہ کرامت ہے اور آپ کے علمی کمال کا تویہ حال تھاکہ جب بغدادمیں آپ کی مجالس وعظ میں ستر، ستر (70,70) ہزار سامعین کا مجمع ہونے لگا تو بعض عالموں کو حسدہونے لگاکہ ایک عجمی گیلان کا رہنے والا اِسقدر مقبولیت حاصل کرگیاہے۔

چنانچہ حافظ ابوالعباس احمدبن احمدبغدادی اور علامہ حافظ عبدالرحمن بن الجوزی جو دونوں اپنے وقت میں علم کے سمندر اور حدیثوں کے پہاڑ شمار کئے جاتے تھے آپ کی مجلس وعظ میں بغرض امتحان حاضرہوئے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے جب حضور غوث اعظم نے وعظ شروع فرمایا تو ایک آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے بیان فرمانے لگے۔ پہلی تفسیر بیان فرمائی تو اِن دونوں عالموں نے ایک دوسرے کودیکھتے ہوئے تصدیق کرتے ہوئے اپنی اپنی گردنیں ہلادیں۔ اِسی طرح گیارہ تفسیروں تک تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کراپنی اپنی گردنیں ہلاتے اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے رہے مگر جب حضور غوث اعظم نے بارہویں تفسیر بیان فرمائی تو اِس تفسیر سے دونوں عالم ہی لاعلم تھے اِس لئے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دونوں آپ کا منہ مبارک تکنے لگے اِسی طرح چالیس تفسیریں اِس آیت مبارکہ کی آپ بیان فرماتے چلے گئے اور یہ دونوں عالم استعجاب میں تصویر حیرت بنے سنتے اور سردھنتے رہے پھر آخر میں آپ نے فرمایاکہ اب ہم قال سے حال کی طرف پلٹتے ہیں پھر بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا نعرہ بلند فرمایا تو ساری مجلس میں ایک جوش کی کیفیت اور اضطراب پیداہوگیا اور علامہ ابن الجوشی نے جوش حال میں اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے (بہجتہ الاسرار) بغیر کسی مادی وسیلہ (یعنی ساؤنڈ سسٹم کے بغیر) ستر ہزار کے مجمع تک اپنی آواز پہنچانااور سب کا یکساں انداز میں سماعت کرنا آپ کی ایسی کرامت ہے جو روزانہ ظاہرہوتی رہتی تھی۔

سیدناعوث اعظم کے سوانح وحالات رقم کرنے والے تمام مصنفین وتذکرہ نگاروں کا اِس پر اتفاق ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی مجلس میں (کہ جس میں اپنے دور کے اقطاب وابدال اور بہت بڑی تعداد میں اولیاء وصلحاء بھی موجودتھے جبکہ عام لوگوں کی بھی ایک اچھی خاصی ہزاروں میں تعدادموجودتھی)دورانِ وعظ اپنی غوثیت کبریٰ کی شان کا اِس طرح اظہار فرمایاکہ (قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله) ترجمہ:-میرایہ قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہے‘‘تو مجلس میں موجود تمام اولیاء نے اپنی گردنوں کو جھکادیااور دنیا کے دوسرے علاقوں کے اولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اعلان کو سنااور اپنے اپنے مقام پر اپنی گردنیں خم کردیں۔ حضرت خواجہ شیخ معین الدین اجمیری نے گردن خم کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آقا آپ کا قدم میری گرن پر بھی اور میرے سر پر بھی‘‘
)اخبار الاخيار، شمائم امدادية، سفينة اوليا، قلائدالجواهرِ، نزهته الخاطر، فتاویٰ افريقه کرامات غوثية اعلی حضرت(

حضور غوث اعظم کی حیات مبارکہ کا اکثر و بیشتر حصہ بغداد مقدس میں گزرا اور وہیں پر آپ کا وصال ہوااور وہیں پر ہی آپ کا مزار مبارک ہے جس کے گرد عام لوگوں کے علاوہ بڑے بڑے مشائخ اور اقطاب آج بھی کمالِ عقیدت کے ساتھ طوافِ زیارت کیاکرتے ہیںاور فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔

کثرت سے ایصالِ ثواب کریں اور حسبِ توفیق لنگر کا اہتمام کریں ۔

خاک پائے اہلبیت
ڈاکٹر محمد عامر طارقی

fans




Address

Baro, Street. Block 14 Gulistan E Joher Karachi
Karachi
75300

Opening Hours

Monday 17:00 - 19:00
Tuesday 17:00 - 19:00
Wednesday 17:00 - 19:00
Sunday 11:00 - 13:00

Telephone

+923003390563

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Aamir Tariqi Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Aamir Tariqi Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category