23/02/2026
میں گھر کی بڑی بیٹی ہوں۔
ابو کے انتقال کے دن ہی جیسے میرا بچپن بھی دفن ہو گیا تھا۔
اس دن کے بعد کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا
کہ میں کیسی ہوں۔
سب نے بس یہ دیکھا کہ
“اب گھر کیسے چلے گا؟”
کوئی بھائی نہیں تھا۔
اس لیے میں نے اپنے آنسو خود پونچھے
اور امی کے آنسو بھی۔
امی آج بھی میرے ساتھ رہتی ہیں۔
رات کو کبھی کبھی انہیں جاگتے دیکھا ہے…
وہ سمجھتی ہیں میں سو رہی ہوں،
لیکن میں جانتی ہوں وہ میرے مستقبل کے لیے دعائیں کر رہی ہوتی ہیں۔
میں نے اپنی بہنوں کے رشتے تلاش کیے۔
دروازے کھٹکھٹائے۔
لوگوں کے سوال سنے۔
معیار بھی دیکھے، رویے بھی برداشت کیے۔
ہر رخصتی پر میں نے مسکرا کر انہیں رخصت کیا۔
سب نے کہا:
“بڑی بہن ہو نا… مضبوط ہو۔”
کسی نے یہ نہیں دیکھا
کہ ہر رخصتی کے بعد
میرا کمرہ اور بھی خاموش ہو جاتا تھا۔
لوگوں نے پوچھا:
“تمہارا کیا؟”
پھر خود ہی جواب بھی دے دیا:
“چلو کوئی بات نہیں… تم تو سمجھدار ہو۔”
سمجھدار ہونا کبھی کبھی سزا لگتا ہے۔
بڑی بیٹیاں اکثر اپنی خواہشوں کو تہہ کر کے
الماری کے کسی کونے میں رکھ دیتی ہیں۔
پہلے بہنوں کی باری،
پھر گھر کی ذمہ داری،
پھر امی کی فکر…
اور اپنی باری آتے آتے
عمر کا ایک حصہ خاموشی سے گزر جاتا ہے۔
میں کمزور نہیں ہوں۔
میں محتاج نہیں ہوں۔
لیکن دل پھر بھی ایک سچا، باعزت ساتھ چاہتا ہے۔
ایسا مرد جو یہ نہ کہے
“اتنی دیر کیوں ہو گئی؟”
بلکہ یہ سمجھے
کہ میں دیر سے نہیں…
ذمہ داری نبھا کر آئی ہوں۔
اب اگر نکاح ہوگا،
تو ایسے شخص سے ہوگا
جو امی کو اپنی عزت سمجھے،
اور مجھے “رہ جانے والی” نہیں
بلکہ “سب کو آگے کرنے والی” سمجھے۔
میں انتظار میں ہوں…
شکایت میں نہیں۔
تنہائی میں ہوں…
لیکن ٹوٹی ہوئی نہیں۔