28/12/2025
With special thanks to Muhammad Arshad Saleem
عنوان: بیماری کا منافع: ہمارا ہیلتھ کیئر سسٹم ہمیں بیمار دیکھ کر خوش ہوتا ہے یا اداس ؟؟
پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے لیے ہم نے ایک بہت بڑی ہیلتھ کیئر انڈسٹری کھڑی کر دی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس نظام کا 90 فیصد خرچہ عام شہری اپنی جیب سے ادا کرتا ہے۔ اس پورے نظام کی بنیاد ایک خوفناک حقیقت پر ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ نظام تب ہی پیسہ کماتا ہے جب آپ بیمار رہتے ہیں۔ معزرت مگر یہی حقیقت ہے
ایک ڈاکٹر اور بزنس ایگزیکٹو کی حیثیت سے، میں نے بڑی ادویہ ساز کمپنیوں اور اسپتالوں کے مالی کھاتوں کا جائزہ لیا ہے۔ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ ہم صرف علامات (Symptoms) کا علاج کر رہے ہیں۔ ہم انسولین ریزسٹنس کو کنٹرول کر رہے ہیں، کولیسٹرول کم کر رہے ہیں، اور بلڈ پریشر کو دبا رہے ہیں۔
لیکن ہم جڑ (Root Cause) کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں: یعنی میٹابولک سنڈروم، ہمارا طرزِ زندگی، اور ذہنی تناؤ جو ہماری صحت کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
نتیجہ؟ آج پاکستان ذیابیطس (شوگر)، زچگی کے دوران اموات، اور ہیپاٹائٹس جیسی خطرناک بیماریوں میں دنیا کے سرِفہرست ممالک میں شامل ہے۔ یہ صرف صحت کا بحران نہیں ہے؛ یہ ایک کاروباری ماڈل کی ناکامی ہے۔
"سک کیئر" (Sick Care) کا جال
پاکستان کی شہری آبادی کا 60 فیصد حصہ میٹابولک طور پر بیمار ہے۔ لیکن ذرا فارما کمپنیوں کے پورٹ فولیو پر نظر ڈالیں: ان کی بزنس ڈیولپمنٹ کی 90 فیصد کوششیں صرف 'علامات کو دبانے والی' ادویات بیچنے پر مرکوز ہیں۔ میں ان کی زبردست ذہانت اور کاروباری کامیابی کا معترف ہوں ۔
لیکن ہم "سک کیئر" (بیماروں کی دیکھ بھال) کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ موجودہ کاروباری ماڈل میں، ایک صحت مند ہو جانے والا مریض دراصل ایک "کھویا ہوا گاہک" ہے۔ ہمیں اس سوچ کو توڑنا ہوگا۔
میں دوبارہ کہتا ہوں: موجودہ ہیلتھ کیئر بزنس ماڈل میں، ایک صحت یاب مریض کمپنی کا نقصان ہے۔
مثال: اوبیسٹی کی کہانی
موٹاپے کو ہی لے لیں۔ انڈسٹری ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ یہ آپ کی "قوتِ ارادی" (Willpower) کی کمی ہے، اور پھر آپ کو مہنگے ڈائٹ پلانز یا زندگی بھر کے لیے ٹیکے (GLP-1) بیچے جاتے ہیں۔
لیکن سائنس بتاتی ہے کہ موٹاپا قوتِ ارادی کی کمی نہیں ہے؛ یہ ہارمونل سگنلز کی خرابی ہے جو ہمارے اردگرد موجود مصنوعی خوراک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اسے ڈائٹ پلان سے ٹھیک کرنا ایسے ہی ہے جیسے ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر بینڈیج لگانا۔ ہمیں ایک ینیکل اور ڈیٹا پر مبنی "میٹابولک ری سیٹ" کی ضرورت ہے
مستقبل: نتائج پر مبنی تندرستی (Outcome-Based Wellness)
موجودہ ماڈل اب نہیں چل سکتا۔ مارکیٹ تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
مستقبل 'نتائج پر مبنی تندرستی' کا ہے۔ پاکستان کے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں اگلی بڑی کامیابی وہ کمپنی حاصل نہیں کرے گی جو زیادہ گولیاں بیچے گی، بلکہ وہ کمپنی حاصل کرے گی جو نتائج دے گی:
✔️ وزن میں مستقل کمی۔
✔️ادویات کے بغیر میڈیکل رپورٹس میں بہتری۔
✔️حقیقی توانائی اور صحت کی بحالی۔
تبدیلی کی دعوت
ہمیں ایسے لیڈرز اور ٹیم کی تلاش ہے جو یہ سمجھتے ہوں کہ پرانا "سیلز ٹارگٹ" والا ماڈل اب ختم ہو چکا ہے۔ ہم "ویلیو" (Value) پیدا کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ہم ایسے ہم خیالوں اور پارٹنرز کی تلاش میں ہیں جو جانتے ہوں کہ بزنس ڈیولپمنٹ کا اگلا دور بیماری بیچنے کا نہیں، بلکہ صحت تخلیق کرنے کا ہے۔ ہم اس ماڈل کو بدلنے جا رہے ہیں۔
کیا آپ بیماری بیچنا بند کرنے کے لیے تیار ہیں؟
یقین رکھیں صحت کا دوام بھی بزنس بنے گا۔ بس آپ کا ساتھ درکار ہے۔