04/06/2025
ادویات کس طرح ایک دوسرے کے بعد کام کرتی ہیں۔ ایک تکلیف کی ہومیو پیتھک دوا استعمال کرنے سے دوسری تکلیف کیوں شروع ہو جاتی ہے۔ مکمل شفا کیسے اور کتنے عرصے میں ہوتی ہے۔ ان سب سوالات کے جوابات اس پوسٹ میں ہیں۔
ایسا ہی ایک الجھا ہوا پیچیدہ کیس کیسے مکمل شفا یاب ہوا ۔ اس کی تفصیل شئر کروں گی۔
جارج وتھالکس سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ہے۔
۔۔۔۔۔ سوال: .......................
آپ اس تصور یا نظریے کو عملی طور پر کیسے لاگو کر سکتے ہیں کیا آپ اپنے کلینک میں مریضوں کو کسی خاص میازم کے ساتھ پہلے نتھی کرتے ہواور پھر اس کی مناسب دوا استعمال کرتے ہو ،
یا اگر ;;reportarization کے ذریعے کوئی نوسوڈسامنے آئے تو تب آپ کا خیال میازم کی طرف جاتا ہے ۔
اور کیا یہ ضروری ہے ہم ہر مریض کو اس کے میازم کے حوالے سے پہلے اس پر لیبل لگائیں جیسے ,;soric ;syphilitic sycoticہے اور پھر اس کی مطلوبہ دوا ڈھونڈی جائے یا بس مجموعہ علامات کا دھیان رکھنا چاہیے اور دوا تجویز کر دینی چاہیے;
جواب:
آپ کا سوال بہت اچھا ہے ۔ اپنی پریکٹس کے شروع میں ، میں نے یوں کیا کہ سب سے پہلے مریض کو وہ دوا دی جو اس کے میاز میٹک پس منظر کے حساب سے اس کے لئے بہتر ہو یعنی اس کے میازم کو مد نظر رکھ کر دوا تجویز کی ۔ مثال کے طور پر میں نے کسی مریض کا کیس ریپرٹرائز کیا توignatia دوا بنی، لیکن میں ;ignatia دینے کے بجائے سیدھا تھوجا دے دیا کیونکہ میں نے اس کے جسم پر کچھ مسے، موہکے بھی دیکھے یا چند ایسی علامات تھیں جنہوں نے تھوجا کی طرف اشارہ کیا ۔ لیکن میں نے دیکھا کہ تھوجا نے وہ نتائج نہیں دیئے جتنے میں توقع کر رہا تھا ۔ اور بعد میں جب میں نے ایسے کیسوں میں ;;direct ; ignitia دی تو اس نے اپنا کام کیا اور اس کے بعد تھوجا دی تو اس نے بھی اپنا بہت اچھا کام کیا ۔ ایسی بہت ساری مثالوں اور میرے تجربات کے بعد مجھے اپنی سوچ میں تبدیلی کرنی پڑی ۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ مریض کی موروثی ;predisposition تہہ در تہہ ہوتی ہے ۔ یعنی اس کی ایک ;predisposition نہیں ہوتی بلکہ کہیں تہوں میں ہوتی ہے اور یہ ایسی تہیں ہوتی ہیں جو ان ;predisposition کو آپس میں الگ الگ رکھتی ہیں ۔ لہذا یہ جو تہیں ہیں یہ سب کی سب بیک وقت اوپر آ کر اپنا اظہار نہ کر سکتی ہیں ، نہ کرتی ہیں ۔ تاوقتیکہ سب سے اوپر والی تہہ بالمثل دوا دے کر، مطلوبہ دوا دے کر ختم نہ کیا جائے اور پھر اس کے بعد نیچے والی اور پھر اس سے نیچے والی تہہ اپنے اپنے ;specific ;stress کے حوالے سے سامنے آتی رہیں گی ۔ ( اس بات کو میں اپنی طرف سے ، ذاتی طور پر یوں آپ کو واضح کر دوں کہ فرض کریں ایک شخص ہے ، جس کے اندر ;;ignitia کی تہہ ہے اور جب آپ نے اس کو ;ignitia دے دی تو اس کی وہ تہہ اتر گئی اور جو وہ شکایات آپ کے پاس لے کر آیا تھا وہ دور ہو گئیں ۔ لیکن اب پھر آ کر اپنی کچھ اور مجموعہ علامات بتا رہا ہے، کچھ اور چیزیں بتا رہا ہے کہ مجھے یہ پہلے بھی ہوا تھا، اب پھر مجھے یہ ہو رہا ہے ۔ جیسے مجھے دل کی تکلیف تھی ، بلڈ پریشر ہائی تھا آپ نے اس کی اس کو دوائی دے دی فرض کریں کلکیریا کارب دے دی تو اس پرت سے وہ باہر نکل آیا ۔ اب وہ کہتا ہے کہ مجھے جوڑوں کی دردیں آ رہی ہیں ۔ لہذا اب یہ دوسری تہہ ہوئی ۔ اس کا آپ علاج کرتے ہیں ، اسے medorrhinum دیتے ہیں یا تھوجادیتے ہیں یا اس کی;;specific جملہ علامات پر دوائی دیتے ہیں اور اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ اس کوتھوجا یا medorrhinum کی بھی ایک خوراک کی ضرورت پڑتی ہے وہ بھی آپ دیتے ہیں تو وہ;;layer بھی آپ اتار دیتے ہیں ۔
اب یہی مریض بعد میں کسی وقت میں ایک تیسری ;layer سامنے لے کر آتا ہے کہ جناب مجھے سانس کی تکلیف ہے، دمہ کی تکلیف ہے ۔ میں نے کسی حکیم سے دوائی لی تھی تو بڑی مشکل سے اس بیماری سے جان چھوٹی تھی ۔ یا مریض کہتا ہے میں نے ٹیکے لگوالیے تھے، anti allergic دوائیاں لی تھی تو اس سے ٹھیک ہو گیا تھا ۔ اب مجھے پھر یہ تکلیف رہنے لگ گئی ہے تو یہ اب تیسری تہہ ہے ۔ اس کی دوا دی جائے گی تو مکمل شفا حاصل ہو گی۔