Homoeo Clinic

Homoeo Clinic ہومیو کلینک آپ کو روزمرہ کی تکالیف میں ادویات پرہیز اور علاج کے بارے میں رہنمائی فراہم کرےگا۔

کراچی اس وقت متعدد  #وائرل بیماریوں میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے، ♦️بشمول چکن گونیا  جو بخار اور جوڑوں کے شدید درد کا سب...
12/10/2025

کراچی اس وقت متعدد #وائرل بیماریوں میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے، ♦️بشمول چکن گونیا جو بخار اور جوڑوں کے شدید درد کا سبب بنتا ہے، ♦️اور انفلوئنزا، جیسے H1N1 (سوائن فلو) وائرس۔ ♦️COVID-19 کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں، اور ♦️سانس کے انفیکشن عام ہیں، خاص طور پر بچوں میں

🟢موسمی تبدیلیوں کے دوران مختلف بیماریوں میں اضافے کی وجوہات :——
ہوا کے درجہ حرارت میں ایک دن میں زیادہ اتار چڑھاؤ ہر قسم کے جراثیم کی افزائش اور بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

🟢وائرل انفکشن بھی ہر سال ہوتے ہے، بعض اوقات شدت کے ساتھ
🟢ان کے پانچ فیصد سے بھی کم مریضوں کو پیچیدگیاں ہوتی ہیں

❌ اس لئے صرف 📌 rest کریں
📌 پانی اور دیگر fluids بہت زیادہ لیں
📌 خود سے چنوں کی طرح اینٹی بایو ٹک (antibiotics) مت کھائیں
🟢 جنرل پریکٹیشنرز بھی بلاوجہ antibiotics مت دیں ۔۔ اس طرح آپ Resistant جراثیم پیدا کرتے ہیں۔

کسی گرم چیز یا آگ سے جلنے کو برن کہتے ہیں ۔اور کسی گرم مائع مثلاً پانی یا تیل وغیرہ سے جلنا سکالڈ کہلاتا ہے۔یہ کریم دونو...
20/09/2025

کسی گرم چیز یا آگ سے جلنے کو برن کہتے ہیں ۔

اور کسی گرم مائع مثلاً پانی یا تیل وغیرہ سے جلنا سکالڈ کہلاتا ہے۔

یہ کریم دونوں طرح کے جلنے کے لیے مفید ہے۔

13/09/2025
11/08/2025
07/06/2025
ادویات کس طرح ایک دوسرے کے بعد کام کرتی ہیں۔ ایک تکلیف کی ہومیو پیتھک دوا استعمال کرنے سے دوسری تکلیف کیوں شروع ہو جاتی ...
04/06/2025

ادویات کس طرح ایک دوسرے کے بعد کام کرتی ہیں۔ ایک تکلیف کی ہومیو پیتھک دوا استعمال کرنے سے دوسری تکلیف کیوں شروع ہو جاتی ہے۔ مکمل شفا کیسے اور کتنے عرصے میں ہوتی ہے۔ ان سب سوالات کے جوابات اس پوسٹ میں ہیں۔

ایسا ہی ایک الجھا ہوا پیچیدہ کیس کیسے مکمل شفا یاب ہوا ۔ اس کی تفصیل شئر کروں گی۔

جارج وتھالکس سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ہے۔

۔۔۔۔۔ سوال: .......................
آپ اس تصور یا نظریے کو عملی طور پر کیسے لاگو کر سکتے ہیں کیا آپ اپنے کلینک میں مریضوں کو کسی خاص میازم کے ساتھ پہلے نتھی کرتے ہواور پھر اس کی مناسب دوا استعمال کرتے ہو ،
یا اگر ;;reportarization کے ذریعے کوئی نوسوڈسامنے آئے تو تب آپ کا خیال میازم کی طرف جاتا ہے ۔
اور کیا یہ ضروری ہے ہم ہر مریض کو اس کے میازم کے حوالے سے پہلے اس پر لیبل لگائیں جیسے ,;soric ;syphilitic sycoticہے اور پھر اس کی مطلوبہ دوا ڈھونڈی جائے یا بس مجموعہ علامات کا دھیان رکھنا چاہیے اور دوا تجویز کر دینی چاہیے;

جواب:
آپ کا سوال بہت اچھا ہے ۔ اپنی پریکٹس کے شروع میں ، میں نے یوں کیا کہ سب سے پہلے مریض کو وہ دوا دی جو اس کے میاز میٹک پس منظر کے حساب سے اس کے لئے بہتر ہو یعنی اس کے میازم کو مد نظر رکھ کر دوا تجویز کی ۔ مثال کے طور پر میں نے کسی مریض کا کیس ریپرٹرائز کیا توignatia دوا بنی، لیکن میں ;ignatia دینے کے بجائے سیدھا تھوجا دے دیا کیونکہ میں نے اس کے جسم پر کچھ مسے، موہکے بھی دیکھے یا چند ایسی علامات تھیں جنہوں نے تھوجا کی طرف اشارہ کیا ۔ لیکن میں نے دیکھا کہ تھوجا نے وہ نتائج نہیں دیئے جتنے میں توقع کر رہا تھا ۔ اور بعد میں جب میں نے ایسے کیسوں میں ;;direct ; ignitia دی تو اس نے اپنا کام کیا اور اس کے بعد تھوجا دی تو اس نے بھی اپنا بہت اچھا کام کیا ۔ ایسی بہت ساری مثالوں اور میرے تجربات کے بعد مجھے اپنی سوچ میں تبدیلی کرنی پڑی ۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ مریض کی موروثی ;predisposition تہہ در تہہ ہوتی ہے ۔ یعنی اس کی ایک ;predisposition نہیں ہوتی بلکہ کہیں تہوں میں ہوتی ہے اور یہ ایسی تہیں ہوتی ہیں جو ان ;predisposition کو آپس میں الگ الگ رکھتی ہیں ۔ لہذا یہ جو تہیں ہیں یہ سب کی سب بیک وقت اوپر آ کر اپنا اظہار نہ کر سکتی ہیں ، نہ کرتی ہیں ۔ تاوقتیکہ سب سے اوپر والی تہہ بالمثل دوا دے کر، مطلوبہ دوا دے کر ختم نہ کیا جائے اور پھر اس کے بعد نیچے والی اور پھر اس سے نیچے والی تہہ اپنے اپنے ;specific ;stress کے حوالے سے سامنے آتی رہیں گی ۔ ( اس بات کو میں اپنی طرف سے ، ذاتی طور پر یوں آپ کو واضح کر دوں کہ فرض کریں ایک شخص ہے ، جس کے اندر ;;ignitia کی تہہ ہے اور جب آپ نے اس کو ;ignitia دے دی تو اس کی وہ تہہ اتر گئی اور جو وہ شکایات آپ کے پاس لے کر آیا تھا وہ دور ہو گئیں ۔ لیکن اب پھر آ کر اپنی کچھ اور مجموعہ علامات بتا رہا ہے، کچھ اور چیزیں بتا رہا ہے کہ مجھے یہ پہلے بھی ہوا تھا، اب پھر مجھے یہ ہو رہا ہے ۔ جیسے مجھے دل کی تکلیف تھی ، بلڈ پریشر ہائی تھا آپ نے اس کی اس کو دوائی دے دی فرض کریں کلکیریا کارب دے دی تو اس پرت سے وہ باہر نکل آیا ۔ اب وہ کہتا ہے کہ مجھے جوڑوں کی دردیں آ رہی ہیں ۔ لہذا اب یہ دوسری تہہ ہوئی ۔ اس کا آپ علاج کرتے ہیں ، اسے medorrhinum دیتے ہیں یا تھوجادیتے ہیں یا اس کی;;specific جملہ علامات پر دوائی دیتے ہیں اور اس کے بعد آپ دیکھتے ہیں کہ اس کوتھوجا یا medorrhinum کی بھی ایک خوراک کی ضرورت پڑتی ہے وہ بھی آپ دیتے ہیں تو وہ;;layer بھی آپ اتار دیتے ہیں ۔

اب یہی مریض بعد میں کسی وقت میں ایک تیسری ;layer سامنے لے کر آتا ہے کہ جناب مجھے سانس کی تکلیف ہے، دمہ کی تکلیف ہے ۔ میں نے کسی حکیم سے دوائی لی تھی تو بڑی مشکل سے اس بیماری سے جان چھوٹی تھی ۔ یا مریض کہتا ہے میں نے ٹیکے لگوالیے تھے، anti allergic دوائیاں لی تھی تو اس سے ٹھیک ہو گیا تھا ۔ اب مجھے پھر یہ تکلیف رہنے لگ گئی ہے تو یہ اب تیسری تہہ ہے ۔ اس کی دوا دی جائے گی تو مکمل شفا حاصل ہو گی۔

آپ کے علم میں یقینا ہو گا کہ ہم مکھن کی جگہ مارجرین کھاتے ہیں۔ مارجرین کس چیز سے بنتی ہے یہ کبھی خریدنے کے بعد لیبل پڑھ ...
01/06/2025

آپ کے علم میں یقینا ہو گا کہ ہم مکھن کی جگہ مارجرین کھاتے ہیں۔ مارجرین کس چیز سے بنتی ہے یہ کبھی خریدنے کے بعد لیبل پڑھ دیکھ لیں۔ مارجرین ویجیٹیبل فیٹس سے بنتی ہے۔ ویجیٹیبل فیٹس وہ چیز ہے جس سے بناسپتی گھی بنتا ہے۔ اس میں وے پاوڈر اور مصنوعی رنگ ملا کر اچھی پیکنگ میں بازار میں رکھ دیا جاتا ہے اور ٹی وی کمرشل کے زور پر اسے بیچا جاتا ہے۔ بلو بینڈ مارجرین بنانے کی سب سے مشہور کمپنی ہے۔ کبھی بلو بینڈ خرید کر اس کے انگریڈینٹس کو غور سے پڑھ لیں تو پتہ چل جائے گا۔ اسی ویجیٹیبل فیٹس اور وے پاوڈر سے آئس کریم بنا کر والز اور دیگر ناموں سے بیچا جاتا ہے۔ کوئی بھی کھانے کی چیز خریدتے وقت ایک نظر اس کے مشمولات ( ingredients ) پر ضرور ڈالا کریں۔ ingredients میں کوئی بھی ایسی چیز نظر آئے جس سے آپ واقف نہ ہوں اسے خریدنے سے باز رہیں۔

یہ تو خیر بہت بڑا مسلہ ہے۔ اصل بات کچھ اور ہے جس کی جانب توجہ دلانی تھی۔ اسلام آباد کے نواح میں ایک جعلی سافٹ ڈرنک بنانے والا کارخانہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کارخانے کی جو حالت تھی وہ بیان سے باہر ہے۔ کوڑے کے ڈھیر سے اکھٹی کی گئیں بوتلیں، عام پانی، چینی کی جگہ مصنوعی سویٹنر، فوڈ کلر کی جگہ دوپٹے رنگنے والے رنگ استعمال کئے جاتے تھے۔ کارخانے کی اپنی گندگی کا کیا کہنا۔ ویسے تو کولڈ ڈرنک بذات خود کوئی پینے کی چیز نہیں ہے مگر مشکل یہ ہے کہ رمضان میں پیپسی بھی سستی ہو جاتی ہے۔ اصلی اور جعلی کولڈ ڈرنگ پہچاننے کے کئی طریقے ہیں۔ مثال کے طور پر جس بوتل پر سکریچز زیادہ ہوں سمجھ لیں کہ دوبارہ استعمال کی گئی ہے۔ جس بوتل میں ذرات نظر آئیں تو سمجھ لیں کہ سادہ پانی استعمال کیا گیا ہے اور جعلی ہے۔ جن بوتلوں میں مشروب کی مقدار کم زیادہ ہو تو سمجھ لیں کہ فلنگ پلانٹ کی بجائے مینول طریقے سے بھری گئی ہیں۔ مشکل مگر یہ ہے کہ پیاس سے وقت اتنی مشقت کون اٹھائے۔

اس کا ایک سادہ حل ہے۔ کوشش کریں کہ ہمیشہ ڈسپوزیبل بوتل خریدیں۔ شیشے کی بوتل خریدنے سے حتی الامکان پرہیز کریں۔ پلاسٹک بوتل کی کوئی بھی کولڈ ڈرنگ یا پانی جب آپ خرید لیں تو اسے پینے کے بعد بوتل کو پنکچر ضرور کریں۔ اس میں سوراخ کر لیں۔ اسے ہاتھوں سے مروڑ کر پچکا لیں یا جو بھی کر لیں، بس بوتل پر اتنا ظلم ضرور ڈھانا ہے کہ وہ دوبارہ قابل استعمال نہ رہے۔ فروٹ کا بائیکاٹ تو دو چار کی بات ہے۔ کریں یا نہ کریں کچھ زیادہ فرق نہیں پڑتا مگر جعلی کولڈ ڈرنکس زہر ہے جسے ہمارے بچے سالوں تک پیتے رہتے ہیں۔ اپنے ساتھ یہ عہد کر لیں کہ ہم جو بھی پلاسٹک کی بوتل خریدیں گے اسے پنکچر ضرور کریں گے۔
منقول

کیلشیم فلورائیڈ ایک منرل ہے ۔ جس انسان میں اس کی کمی ہوگی اس کی جو بھی علامات ہونگی یہ اس کو دور کرے گی۔ جب اس کی کمی اب...
31/05/2025

کیلشیم فلورائیڈ ایک منرل ہے ۔ جس انسان میں اس کی کمی ہوگی اس کی جو بھی علامات ہونگی یہ اس کو دور کرے گی۔ جب اس کی کمی ابھی ابتدائی مراحل پہ ہو تو چھوٹی تکالیف جیسے ایڑیاں پھٹنا یا اور بھی بہت سی تکالیف ہوتی ہیں۔ جو نسبتاً کم تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ اور جب زیادہ عرصے تک جسم میں کمی رہے اور گہرائ تک سے کیلشیم فلورائیڈ ختم ہو جائے تو پھر سخت تکالیف جیسے جوڑوں کا درد یا اور بھی بہت سی تکالیف ہو سکتی ہیں ، وہ نمودار ہوتی ہیں۔کسی بھی موسم میں ایڑیوں کا پھٹنا نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی اس کے ساتھ انگلیوں میں بھی چیرے آنے لگتے ہیں ۔ اس تکلیف کی لیے calcarea flour 6 x
کی چار چار گولیاں صبح دوپہر شام لینے سے اس تکلیف سے نجات مل جاتی ہے۔
PC by Google.

بچوں کے دانت نکالنے کے لیے بایو پلاسیجن 21 معروف دوا ہے جو صرف ہومیو دوا 21 کے نام سے بھی پہچانی جاتی ہے۔اس کی بوتل پہ خ...
30/05/2025

بچوں کے دانت نکالنے کے لیے بایو پلاسیجن 21 معروف دوا ہے جو صرف ہومیو دوا 21 کے نام سے بھی پہچانی جاتی ہے۔اس کی بوتل پہ خوراک کی مقدار 2سے 3 گولیاں دن میں چار دفعہ درج ہے۔
اگر اس مقدار میں دوا کھلائ جائے تو دودھ کے دانت اتنے مضبوط نکلیں گے کہ پھر ٹوٹنے مشکل ہونگے۔ اور اصلی دانت ان دانتوں کے اوپر یا نیچے مسوڑھوں پہ نکلنا شروع ہو جائیں گے ۔اس لیے دوا کی صرف ایک گولی صبح اور ایک گولی شام دینی چاہیے ۔

Address

Karachi

Telephone

+923002776567

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Homoeo Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Homoeo Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram