Alharam Hijama center

Alharam Hijama center Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Alharam Hijama center, Medical Center, Naval colony Karchi, Karachi.

07/10/2024

#کلمہ "لنسفعا" کی تحقیق| #اهل علم کیلئےصرفی و نحوی اشکالات کا علمی وتحقیقی جائزہ ۔

29/12/2022
15/05/2021

*غیرمقلدین کے تقلید سے متعلق 50 سوالات کے جوابات*

*بسم اللہ الرحمن الرحیم !! نحمدہ ونصلی علی رسوله الکریم امابعد*

*حُجةُ اللہ فیِ الارض رٸیسُ المُناظرین ، مُتکِّلمِ اسلام ، وکیلِ احناف ، ترجُمانِ اھلسُنَّت دیوبند حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ*

اس زمانہ میں تقلیدِ شخصی کے بارے میں ایسا اختلاف پڑا ہے کہ جِدھر دیکھٸے اُدھر اِسی کا جھگڑا پھیلا ہوا ہے ۔ کوٸی تو تقلید کو جاٸز بلکہ واجب اور فرض بتاتا ہے اور کوٸی تقلید کا سِرے سے ہی انکار کرتا ہے ، نہ فرض مانتا ہے نہ جاٸز مانتا ہے ۔ ہم عامی لوگ سخت مُشکل پڑے ہوٸے ہیں کہ کس کی بات مانیں؟ لہٰذا اِن علماء دین کی خدمت میں جو تقلید شخصی کو فرض یا واجب یا جائز بتاتے ہیں ، عرض کررہے ہیں کہ آپ حضرات ہم لوگوں کو سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ کا اور رسول اللہ ﷺ کا بتادیجئے تانکہ ہم لوگ اس پر چل کر اپنی مُراد کو پہنچ جائیں اور آپ کو سیدھا راستہ بتانے کا اجر ملے ۔ اسی غرض سے یہ پچاس سوالات سردست حاضر خدمت کئے جاتے ہیں ، ان کے جوابات سے سرفراز فرمائے - اجرکم علی اللہ

*سوال نمبر ⁰¹* سُنا ہے کہ ہماری فقہ شریف کے اصول کی کتابوں میں ہے کہ جس اُمَّتی کے قول کو ماننے پر کوئی دلیل نہ ہو اُسے بے دلیل ماننا اور مدارِ دین اُسی پر رکھ دینا اور قرآن ، حدیث ، اجماع و قیاس سے دلیل نہ لے سکنا ، اُسے تقلیدِ شخصی اصطلاحی کہتے ہیں؟

*جواب*
تقلیدِ شخصی کا انکار ملکہ وکٹوریہ کے دور میں شروع ہوا ۔ اس سے پہلے اس کا انکار نہیں بلکہ سب لوگ تقلیدِ شخصی کرتے تھے

اشتہار والے نے تقلید فرض یا واجب ماننے والوں سے دلیل مانگی ہے لیکن شرک اور حرام کہنے والوں سے دلیل نہیں مانگی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا آدمی ہے ، لینے کے باٹ اور ہیں اور دینے کے باٹ اور

*تقلید کی تعریف*
اجتہادی مسائل میں مجتہد کے ان اقوال کو جو ادلہ اربعہ میں سے کسی دلیل سے ثابت ہوں ان بادلیل باتوں کو بلامطالبہ دلیل مان لینا عُرفِ عام میں تقلید کہلاتا ہے

*سوال نمبر ⁰²* جس تقلید کے بارے میں اس قدر اختلافات ہیں ، اس تقلید سے کیا مراد ہے یعنی تقلید شخصی و اصطلاحی؟

*جواب*
کتاب و سُنَّت میں غیر مجتہد اپنی ناقص رائے کو چھوڑ کر کتاب و سُنَّت کے ماہر کی راہنمائی میں کتاب و سُنَّت پر عمل کرے اور اگر کوئی تحریر میں اختلاف ہو تو جس مجتہد کا مذہب اس کے ملک میں درساً و عملاً متواتر ہو اس کی راہنمائی میں کتاب و سُنَّت پر عمل کرے

*نوٹ*
رائے ناقص از خودرائی ، کم عِلمی ، بدفہمی ، کج فہمی اور خوش فہمی کو کہتے ہیں ۔ اِسی کا نام غیرمقلدیت ہے

*سوال نمبر ⁰³* کیا تقلیدِ شخصی اصطلاحی آنحضرت ﷺ کے یا آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا تابعین عظام رحمتہ اللہ علیہم کے زمانہ میں تھی؟

*جواب*
تقلید شخصی ہر زمانہ میں رہی ۔ حضور کے زمانہ میں پورے یمن میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی اور دور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہر شہر کے لوگ اپنے شہر کے مجتہد کی تقلید کرتے تھے

*سوال نمبر ⁰⁴* ۔ *⁰¹ الف* جو کام ان مبارک زمانوں میں نہ ہوا ، اگر اسے بعد والے دینی امر سمجھ کر کریں تو آیت *الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ - ط* جو قرآن میں ہے ، وہ بتلاتی ہے کہ اللہ کا دین ہر طرح کامل ہوگیا ، پھر ائمہ دین کہ رائے و قیاس کو بھی دین میں داخل کرنا اس آیت کے خلاف تو نہیں؟

*⁰² ب* وہ بہ اصطلاحی شرعی بدعت کیوں نہیں؟

*جواب*
تقلیدِ شخصی خیر القرون میں موجود تھی البتہ اسے شرک و بدعت کہنا دور وکٹوریہ کی بدعت ہے

*سوال نمبر ⁰⁵* ۔ چاروں ائمہ یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، امام شافعی رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے بھی اس تقلید کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا ہے یا نہیں؟ اور اگر فرمایا ہے تو کیا؟ ہم نے سنا ہے کہ چاروں ائمہ تقلید کو حرام فرمایا کرتے تھے

*جواب*
چاروں ائمہ نے جو اپنی فقہ مرتّب کروائی ، ہر مسئلہ دلیل سے مرتّب کروایا ۔ مرتب کروانے کا مقصد اس پر عمل کروانا تھا تو گویا ہر مسئلہ دعوتِ تقلید ہے ۔ اس لئے جب ان کی یہ فقہ متواتر ہے تو دعوتِ تقلید بھی ان سے متواتر ثابت ہے ۔ نیز *الکفایہ کتاب الصوم* میں صراحتاً بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے عامی کے لئے تقلید کا وُجوب ثابت ہے ۔ ہاں ان ائمہ نے یہ فرمایا *جو شخص خود اجتہاد کی اہلیت رکھتا ہے اس پر اجتہاد واجب ہے تقلید حرام ہے* ۔ جو خطاب اُنہوں نے مجتہدین کو کیا تھا اُن کو عوام پر چسپاں کرنا *یحرفون الکلم عن مواضعه* کی بدترین مثال ہے ۔ ہمارے ہاں *مجتہد پر اجتہاد واجب ، غیر مجتہد پر تقلید واجب ہے اور غیرمقلد پر تعزیر واجب ہے*

*دائرہ اجتہاد و تقلید*
تقلید کا تعلق چونکہ اجتہادی مسائل سے ہے ، اس لئے اجتہاد کا دائرہ کار کا پتہ چلنے سے تقلید کی ضرورت بھی واضح ہوجاتی ہے ۔ *رسول اللہ ﷺ نے ⁹ھجری میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ فرمایا تو پوچھا: اے معاذ!! فیصلہ کیسے کروگے؟ تو انہوں نے عرض کیا: کتاب اللہ سے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: فان لم تجد فیه ، عرض کیا: بسنة رسول اللہ ۔ فرمایا: فان لم تجد فیه ، عرض کیا: أجتھد برأیی و لا الو ، تو آپ نے فرمایا: ألحمد للہ الذی وفق رسول رسول اللہ لما یرضی به رسول اللہ* (ابو داٶد ، ترمذی) اس سے معلوم ہوا کہ جو مسئلہ اور حکم کتاب و سُنَّت میں صراحتاً نہ ملے وہاں اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وضاحت یوں ہے کہ *مسائل فرعیہ* کی دو قسمیں ہیں: منصوصہ ، غیر منصوصہ ۔ پھر *منصوصہ* کی دو قسمیں ہیں: متعارضہ ، غیر متعارضہ پھر *غیر متعارضہ* کی دو قسمیں ہیں: محکمہ ، محتملہ

*نمبر ⁰¹* ۔ مسائل منصوصہ ، غیر متعارضہ محکمہ میں نہ اجتہاد کی ضرورت ہے نہ تقلید کی ۔ جیسے پانچ نمازوں کی فرضیت ، نصاب زکوٰة وغیرہ

*نمبر ⁰²* ۔ مسائل منصوصہ متعارضہ میں رفع تعارض کرکے مجتہد راجح نص پر عمل کرتا اور مقلد بھی اس کی راہنمائی میں راجح نص پر عمل کرتا ہے جیسے ترك قرأت خلاف الامام ، ترك رفع یدین وغیرہ

*نمبر ⁰³* ۔ مسائل منصوصہ متحملہ میں مجتہد اپنے اجتہاد سے راجح احتمال کی تلاش کرتا ہے

*نوٹ*
تقلید کی تعریف میں الدلیل کا لفظ آتا ہے ، اُس سے وہ خاص دلیل مُراد ہوتی ہے جو بوقتِ اجتہاد مجتہد کے پیشِ نظر تھی اور دلیلِ تفصیلی اُسے کہتے ہیں جو منع اور نقض سے ثابت ہو

*تقلید*
مجتہد نے جو مسئلہ کتاب و سُنَّت سے نکالا ، اِس سے اُس کی خاص دلیل تفصیلی کا مطالبہ کئے بغیر اس بادلیل مسئلہ کو بلامطالبہ دلیل ماننا اور مجتہد کی راہنمائی میں کتاب و سُنَّت پر عمل کرنا تقلید کہلاتا ہے

*نوٹ*
آنحضرت ﷺ کے مبارک زمانہ میں پورے یمن میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی تقلیدِ شخصی ہوتی تھی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین کرام رحمتہ اللہ علیہم اور تبع تابعین رحمتہ اللہ علیہم کے دور میں سب لوگ اپنے شہر کے مجتہد مفتی کی تقلیدِ شخصی کرتے تھے

چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین کرام رحمتہ اللہ علیہم اور تبع تابعین کرام رحمتہ اللہ علیہم میں غیرمقلدیت کا نام و نشان تک نہ تھا اس لئے غیرمقلدین کے بدعتی ہونے میں کوئی شک نہیں

*سوال نمبر ⁰⁶* ۔ شامی شریف میں جو مذہب حنفی کی فقہ کی معتبر کتاب ہے ۔ سُنا ہے کہ اِس میں مذکور ہے کہ چاروں اماموں نے اپنا مذہب قرآن و حدیث بتایا ہے ۔ پس قرآن و حدیث پر عمل کرنا ، ان کی تابعداری کرنا چاہئے یا قرآن و حدیث پر عمل چھوڑ کر ان کے اقوال کو ماننا ، ان کی تقلید کرنا چاہئی؟

*جواب*
ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم سے فقہ کے جو اصول متواتر ہیں ان میں مسائل ہے دلائل نہیں تو بلاذِکر دلائل مسائل کو جمع کرانا اور اِس پر متواتر عمل ہونا یہ ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم سے جوازِ تقلید کا متواتر ثبوت ہے ۔ *ہر کہ شک آرد کافر کردد* البتہ انہوں نے مجتہدین کو فرمایا کہ مجتہد پر اجتہاد واجب ہے ، تقلید حرام ہے ۔ اس حکم کو عوام پر چسپاں کرنا *یحرفون الکلم عن مواضعہ* کی بدترین مثال ہے

*سوال نمبر ⁰⁷* ۔ چاروں ائمہ سے پہلے بھی یہ تقلید جاری تھی یا نہیں؟ اور تھی تو کس کی؟

*جواب*
فقہ کے اصول بِالاتِّفاق ⁴چار ہیں کتاب و سُنَّت ، اجماع و قیاس ۔ مجتہد ان چاروں دلائل سے مسائل لیتا ہے اور مقلد بھی انہی مسائل پر عمل کرتا ہے ، جو مجتہد نے ان چاروں میں سے کسی بھی دلیل سے لئے ہوں ، جیسے کامل اجتہاد کی بنیاد ⁴چار دلیلیں ہیں ، اسی طرح کامل مجتہد کی راہنمائی میں کتاب و سُنَّت پر عمل کیا جائے

*سوال نمبر ⁰⁸* ۔ اگر چاروں اماموں سے پہلے تقلید جاری تھی تو کس امام کی تقلید جاری تھی اور اس وقت اس امام کی تقلید فرض ، واجب یا مباح تھی یا نہیں؟ اگر تھی تو کیوں؟ اور نہیں تو کیوں؟ اور پھر منسوخ کیوں ہوئی؟

*جواب*
چاروں اماموں سے پہلے بھی ہر قوم اپنی قوم کے فقیہ کی تقلید کرتی تھی ۔ *فَلَوٗلَا نَفَرَ مِنٗ کُلِّ فِرٗقَةٍ مِّنٗھُمٗ طَاٸِفَةُٗ لِّیَتَفَقِّھُوٗا فِی الدِّیٗنِ وَلِیُنٗذِرُوٗا قَوٗمَھُمٗ اِذَا رَجَعُوٗا اِلَیٗھِمٗ لَعَلَّھُمٗ یَحٗذَرُوٗنَ ۔ سورة التوبة آیت ¹²² نمبر* چاروں اماموں سے پہلے اپنے علاقے یا قوم کے مجتہد کی تقلید ہوتی تھی ۔ *لَعَلِمَهُ الَّذِیٗنَ یَسٗتَنبِطُوٗنَه مِنٗھُمٗ (ط) ۔ الآیة ۔ سورة النساء آیت ⁸³ نمبر* اس وقت واجب تھی لیکن چونکہ اُن کے مذاہب مدوّن نہ تھے اور نہ عمل متواتر ہوا ، اس لئے اُن کی وفات کے بعد اُن کا مذہب مِٹ گیا ۔ تقلید ختم ہوگئی جیسے مسجد کے امام کی وفات کے بعد اقتداء ختم ہوجاتی ہے

*سوال نمبر ⁰⁹* ۔ چاروں اماموں سے پہلے جس امام کی تقلید جاری تھی اس کا نام کیا ہے؟ اور اب بھی اس امام کی تقلید فرض ، واجب یا مباح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کب منع ہوئی؟ کس نے منع کی؟ اور پھر کس نے اس منصب پر ائمہ کو پہنچایا؟

*جواب*
ائمہ اربعہ رحمة اللہ علیہم سے پہلے مکّہ مکرَّمہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنه ، ان کے بعد حضرت عطاء رحمه اللہ کی تقلید ہوتی رہی مدینہ میں اپنی اپنی خلافت میں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم ، زید بن ثابت ، ان کے بعد فقہاء سبعہ کی تقلید ہوتی رہی ، کوفہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنه ، پھر حضرت ابراہیم نخعی رحمه اللہ کی تقلید ہوتی رہی ، بصرہ میں حضرت حسن بصری رحمه الله کی تقلید ہوتی رہی ، ان کے مذاہب چونکہ مدوّن نہ ہوسکے اس لئے ان کے جو مسائل عملاً متواتر تھے ان کو ائمہ اربعہ رحمة اللہ علیہم نے اپنی فقہ میں لے لیا ، جو ان سے ش*ذ اقوال مروی تھے ان کو ترك کردیا ، یہ ایسے ہی ہے جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں بہت سے قاری تھے مگر انہوں نے اپنی قرأت کو مکمل طور پر مدوّن نہ فرمایا ، پھر ⁷سات قاریوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی متواتر قرأت کو مدوّن کیا ، ش*ذ و متروک قرأت کو ترك کردیا ۔ اب ان ⁷سات متواتر قرأتوں میں تلاوت کرنے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی متواتر قرأت پر عمل ہورہا ہے ، البتہ ان ⁷سات قرأتوں کے علاوہ کوئی قرأت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب ہو تو اس کی تلاوت جائز نہیں کیونکہ متواتر کے خلاف ش*ذ واجب الترك ہے ۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متواتر فقہی مسائل پر ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم کی تقلید میں عمل ہورہا ہے ، ان متواترات کے خلاف کوئی ش*ذ قول کسی صحابی رضی اللہ عنہم ، مجتہد یا تابعی کی طرف منقول ہو تو اس پر عمل جائز نہیں کیونکہ متواتر کے خلاف ش*ذ واجب الترك ہے

*سوال نمبر ¹⁰* ۔ اجماع کی تعریف کیا ہے؟ اور اجماع کن لوگوں کا معتبر ہے؟ کیا تقلیدِ شخصی پر اجماع ہوا؟ اگر ہوا تو کب ، کہاں اور کِن کا؟

*جواب*
ہم عصر مجتہدین کا کسی شرعی حُکم پر اتّفاق کرنا اجماع کہلاتا ہے اور اس پر متواتر عمل ہونے سے اس کا متواتر ثبوت ہوتا ہے جیسے اہلِ فن نے اجماع کیا کہ *کل فاعل مرفوع* سب جگہ اہلِ فن فاعل پر رفع پڑھتے چلے آرہے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات اہلِ فن کے ہاں اجماعی ہے ۔ اس طرح خیرالقرون کے بعد ہر جگہ کسی نہ کسی امام کی تقلیدِ شخصی پر متواتر عمل جاری رہا ، یہی اس کے اجماع پر قوی ترین دلیل ہے

*سوال نمبر ¹¹* ۔ مجتہد کس کو کہتے ہیں؟ کیا ہر مجتہد کی تقلید فرض ہوتی ہے؟ ¹⁴چودہ ¹⁰⁰سو سالوں میں اسلام میں مجتہد کیا صرف ⁴چار ہی ہوئے ہیں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین کرام رحمة اللہ علیہم تو شاید اجتہاد کے درجہ سے محروم ہی رہے ہوں گے؟ پھر ان چاروں ائمہ میں سے ایک کی تقلید کس ترجیح کی بناء پر ہے؟

*جواب*
یاد رہے کہ دور نبوی ﷺ میں تو شرعی احکام معلوم کرنے کے تین طریقے تھے : جو لوگ ذات اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے وہ ہر مسئلہ دریافت کرلیتے ، جو حضور ﷺ سے دور ہوتے وہ اگر مجتہد ہوتے تو اجتہاد کرتے ، جیسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن میں ، جو مجتہد نہ ہوتے وہ اپنے علاقے کے مجتہد کی تقلید کرتے جیسے اہل یمن ۔ حضور ﷺ کے وصال کے بعد دو طریقے باقی رہے : مجتہدین اجتہاد کرتے اور غیر مجتہدین تقلید کرتے ۔ خیرالقرون کے بعد اجتہاد کی ضرورت باقی نہ رہی اس لئے وہ ختم ہوگیا ، اس کے بعد صرف تقلید ہی باقی رہ گئی ، یہ تقلید شروع سے پہلے دن سے ہے ۔ خیر القرون میں کچھ مجتہدین ہوتے تھے ، اب صرف مقلدین باقی رہ گئے ہیں ، یہ مقدمہ ابن خلدون میں ہے ۔ اس اجماع میں عملاً تمام محدثین ، مفکّرین ، فقہاء ، سلاطین شامل ہیں جیسا کہ کتب طبقات سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے ۔ *ہمارا سوال غیرمقلدین سے یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے جواب دیں کہ اجماع کی تعریف کیا ہے؟ اجماع کن کا اور بخاری کی اصح کتب ہونے پر اجماع کب ہوا اور کہاں ہوا اور کن کا ہوا؟*

*سوال نمبر ¹²* ۔ چاروں مذکورہ بالا اماموں میں سے فلاں ایک ہی کے مسائل سچّے ہیں ، اس کا علم مقلد کو کیسے حاصل ہوا؟

*جواب*
جس طرح علم حساب کا ۔ مجتہد اسے کہتے ہیں جو قواعد حساب کا واضع ہو ، اسی طرح جو کتاب و سُنَّت سے قواعد کا استنباط کرسکے اس کو مجتہد کہتے ہیں جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بہت قاری ہوئے لیکن انہوں نے اپنی قرأتوں کو مدوّن نہ فرمایا ، البتہ ⁷ساتوں قاریوں نے انہی کی قرأتوں کو مدوّن کیا ۔ اسی طرح ائمہ اربعہ رحمة اللہ علیہم سے پہلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کرام رحمة اللہ علیہم میں بہت مجتہد گُزرے لیکن انہوں نے اپنے مذاہب کو مکمل طور پر مرتب نہ کروایا ، البتہ ائمہ اربعہ رحمة اللہ علیہم نے ان کے متواتر احکام کو مرتب کرلیا جس طرح سات قرأتوں میں سے کسی قرأت پر بھی قرآن پڑھنا نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم والا قرآن پڑھنا ہی ہے ، اسی طرح چاروں اماموں میں سے کسی کی تقلید کرنا نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقے پر عمل کرنا ہے ۔ ہاں چاروں اماموں میں سے جس امام کا مذہب درساً اور عملاً متواتر ہوگا اسی کی تقلید کی جائے گی جیسے سات قاریوں میں سے جس قاری کی قرأت ہمارے ملک میں تلاوتاً متواتر ہوگی اسی پر تلاوت کی جائے گی

*سوال نمبر ¹³* ۔ اِن چاروں ائمہ کی تعلیم بذریعہ وحی ہوئی یا اور ائمہ سے انہوں نے پڑھا؟ اگر بذریعہ وحی ہوئی تو ان میں اور نبی میں کیا فرق رہا؟ اور اگر بذریعہ ائمہ ہوئی تو ان کے استاد افضل تھے یا مفضول؟ اگر افضل تھے ان کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی؟

*جواب*
جس امام کا مذہب جس علاقے میں متواتر ہوگا اس پر مقلد حدیث رسول ﷺ کے مُطابق اس عقیدہ سے عمل کرے گا کہ مجتہد صواب کو پہنچتا ہے اور خطاء کو بھی ، اس لئے مجتہد کا عمل یقینی ہے ، مقبول ہے ، جیسے *تحرِّی فی القبلہ* والے کی نماز یقیناً مقبول ہے اور ایک اجر کا پکا یقین ہے ۔ چونکہ مجتہد فقط خطاء پر ماجور ہے اور دوسرے اجر کی مجتہد اور مقلد کی خدا کی رحمتِ واسعہ سے امید ہے ۔ اس کے برعکس غیر مقلدین کا عمل جو محض خو درائی پر مبنی ہے ۔ خود رائی کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں ، وہ یقیناً مردود ہے اور اس پر گناہ لازم ہے ، وہ *نیکی برباد گناہ لازم کا مصداق ہے*

*سوال نمبر ¹⁴* ۔ یہ چاروں ائمہ افضل تھے یا چاروں خلفاء؟جب ان ⁴چار ائمہ کی تقلید فرض ہو تو ان ⁴چار خلفاء کی ڈبل فرض کیوں نہ ہو؟

*جواب*
ائمہ پر وحی نازل نہیں ہوتی لیکن مُرادِ نبی ﷺ سمجھنے اور سمجھانے میں ماہر ہوتے ہیں ، اِن کے اساتذہ کے متواتر مسائل اِن کی فقہ میں آگئے جیسے صحاح ستہ والوں کے اساتذہ کی حدیثیں صحاح ستہ میں آگئیں ۔ ساتوں قاریوں کے اساتذہ کی قرأتیں سات قرأتوں میں آگئیں ۔ اسی طرح قاری عاصم رحمہ اللہ کی قرأت پڑھنے سے اِن کے اساتذہ کی قرأت پڑھی گئی اور ہر امام کی تقلید کرنے میں ان کے اساتذہ کے مسائل پر بھی عمل ہورہا ہے

*سوال نمبر ¹⁵* ۔ قران و حدیث پر عمل کرنا عامی آدمیوں پر فرض ہے یا مجتہدوں اور اماموں پر بھی فرض ہے؟ کیا جتنا فرق ہم میں اور اماموں میں ہے اتنا اماموں اور نبی ﷺ میں نہیں؟

*جواب*
چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم ائمہ رحمہ اللہ کے پیشوا اور افضل ہیں ، ان کی حیات میں اِن کے اجتہادی مسائل کی تقلید ہوتی رہی لیکن چونکہ ان کے مذاہب مدوّن نہ ہوئے اس لئے ائمہ رحمہ اللہ نے ان کے متواتر مسائل کو مدوّن کرلیا ۔ اب ان ائمہ کرام رحمہ اللہ کے ذریعے ان کے مسائل پر بھی عمل ہورہا ہے جیسے ساتوں قرأتوں میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی قرأتیں بھی پڑھی جارہی ہیں

*اب غیر مقلدین سے ہمارا سوال*
*سوال نمبر ⁰¹* ۔ حدیث کی کتابیں صحاح ستہ والوں نے وحی سے مرتب کیں یا استادوں سے سن کر ؟ ان کے استاد ان سے افضل تھے یا نہیں ؟ پھر ان کے استادوں کی کتابوں کو صحاح ستہ سے کیوں خارج کیا گیا؟

*سوال نمبر ⁰²* ۔ صحاح ستہ والے افضل تھے یا خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم؟ تو پھر خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی کتابوں کو صحاح ستہ میں کیوں شامل نہ کیا گیا؟

*سوال نمبر ⁰³* ۔ سات قاری افضل تھے یا خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم؟ کیا آپ کے خیال میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی قرأتوں سے خارج کردیا تو کیوں؟

*سوال نمبر ¹⁶* ۔ جو ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے علاوہ ہیں ان کی تقلید فرض ، واجب یا مباح ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ حالانکہ وہ ان کے استاد ہیں ۔ علم میں ، ادب میں ، زُہد میں ، فقہ میں ، اجتہاد و تقویٰ میں اِن سے بڑے ہیں ۔ یہ اُن کی بُزرگی کے قائل تھے ، اُن کا ادب کرتے تھے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تقلید نہ کرکے نیچے والوں کی تقلید کرنا کون سی عقلمندی ہے؟

*جواب*
کتاب و سُنَّت پر عمل کرنا مجتہد پر فرض ہے اور مقلد پر بھی فرض ہے لیکن مجتہد اپنے اجتہاد کی روشنی میں عمل کرتا ہے اور مقلد ان کی راہنمائی میں کتاب و سُنَّت پر عمل کرتا ہے جیسے آنکھوں والا چاند کو دیکھ کر روزہ رکھتا ہے اور نابینا پوچھ کر ، جیسے نماز میں قبلہ رُو ہونا بینا اور نابینا دونوں پر فرض ہے ، بینا دیکھ کر اور نابینا بینا سے پوچھ کر ۔ اسی طرح نبی ﷺ کا مقام مجتہد سے انتہائی زیادہ ہے ، نبی ﷺ کی اتباع مسائل منصوصہ غیر معارضہ محکمہ میں ہے ، مجتہد کی اتباع ان مسائل میں ہے جہاں اللہ و رسول اللہ ﷺ سے صراحت نہیں ملی ، اس لئے یہاں مقابلے کی صورت ہی نہیں ہے

*سوال نمبر ¹⁷* ۔ جو امام ان چاروں ائمہ کے سوا ہیں وہ درجہ میں ان کے برابر ہوئے یا بڑھ کر یا گھٹ کر ہیں؟ تو ان کے مقلد وہ کیوں نہ ہوئے اور اگر بڑھ کر ہوئے ہیں تو یہ خود ان کے مقلد کیوں نہ ہوئے؟

*جواب*
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جتنے قاری ہوئے ، ان کی قرأت ہمیں ان ⁷سات قاریوں کے ذریعے مل سکتی ہے اور ان قرأتوں پر تلاوت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور نبی ﷺ والی ہی تلاوت ہے ۔ اس لئے ان قرأتوں پر تلاوت کرنا نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت کو کم کرنا ہے نہ ان کی قرأت سے انکار و مخالفت ہے ۔ جس طرح ⁷سات قاریوں کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے خلاف سمجھنا روافض کا وسوسہ ہے ، اسی طرح ائمہ رحمہ اللہ کی تقلید کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف سمجھنا *وَسٗوَاسِ الٗخَنَّاسٗ* میں سے ہے ۔ ائمہ رحمہ اللہ سے پہلے مجتہدین ہی ائمہ اربعہ کے پیشوا ہیں جیسے پہلے قاری قراء سبعہ کے پیشوا ہیں اور پہلے محدثین اصحاب صحاح ستہ کے پیشوا ہیں ۔ اِن سب نے اپنے پیشواؤں کی باتوں کو مرتّب کیا ہے

*سوال نمبر ¹⁸* ۔ *⁰¹ الف* : جب ⁴چار امام ہیں اور ⁴چار میں سے ایک کی تقلید کرنی ہے ، ہمیں کیا خبر کہ ان میں سے کس کے مسئلے صحیح ہیں اور کس کے غلط ہیں؟ پس ہم کیسے حنفی ، شافعی بن جائیں؟

*⁰² ب* : اگر یہ چاروں مذہب برحق ہیں تو ¹ایک مذہب پر عمل کرنے سے حق کی ³تین چوتھائیاں ہم سے چھوٹ جاتی ہیں پھر تو تقلید نہ کرنے والے ہی اچھے رہے کہ جس امام کے کلام کو قرآن و حدیث کے مطابق پایا اسے لے لیا یہی طریقہ ہم کیوں نہ رکھیں تاکہ پورا حق ہمارے ہاتھ میں رہے؟

*⁰³ ج* : یہ ظاہر ہے کہ چاروں اماموں کے مذاہب میں حلال و حرام کا فرق ہے ، پھر ان چاروں کو برحق ماننے اور کہنے کا کیا معنیٰ؟ ¹ایک چیز کو حرام کہے اور ہم کہیں سچ ہے ، دوسرا حلال کہے تو ہم کہیں سچ ہے ، یہ کیا اندھیرا ہے ذرا تفصیل سے بتائیں ورنہ دامنِ تقلید ہمارے ہاتھ سے چھوٹ ہی جائے گا؟

*جواب* : *⁰¹ الف* : جس طرح ساتوں قرأتوں میں سے آپ اسی قرأت پر تلاوت کریں گے جو آپ کے ہاں تلاوتاً متواتر ہوگی ، جب آپ امام القرأت ہیں ہی نہیں تو آپ کو کسی قرأت کو صحیح یا غلط کہنے کا حق بھی نہیں

*⁰² ب* : جس طرح ساتوں قرأتوں میں سے ¹ایک قرأت پڑھنے والوں کو پورا قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ، اسی طرح ایک امام کی تقلید کرنے سے پوری سُنِّت پر عمل ہوجاتا ہے

*⁰³ ج* : اجتہادی حلال و حرام میں ہم اپنے امام کی تقلید کرتے جیسے ناسخ منسوخ میں ہم اپنے نبی صلی ﷺ کی اتباع کرتے ہیں ۔ حضرت یوسف عليه السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی شریعت میں سجدہ تعظیمی کے جواز کا حق تھا اب بھی اس کی صداقت حق ہے لیکن ہم اپنے نبی ﷺ کی کی تابعداری کریں گے مگر شریعت سابقہ کو حق کہیں گے ۔ اجتہادی حق کی مثال کچھ اس طرح ہے : ڈاکٹر ایک مریض کو کہتا ہے کہ اچار ضرور کھانا ، دوسرے مریض کو سختی سے منع کرتا ہے ڈاکٹر کے دونوں حُکم درست ہیں ۔ کوئی مریض اتنا بیوقوف نہیں ہوتا کہ جو ڈاکٹر نے کہا ہے اسے چھوڑ دے دوسرے پر عمل کرے ۔ پھر اس سوال کی یہاں سِرے سے گنجائش ہی نہیں کیونکہ یہاں صرف ¹ایک ہی امام کی تقلید ہورہی ہے ۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام میں حلال و حرام میں اختلاف ہے لیکن ان کا زمانہ الگ الگ ہے ، ائمہ میں حلال و حرام میں اختلاف ہے لیکن ان کے علاقے الگ الگ ہیں

*اضافی نوٹ*

*ایک شبہ اور اس کا ازالہ*

*بسم الله الرحمن الرحيم*

ایک دن ایک صاحب مجھے کہنے لگے اگر کسی مسئلے میں تین [3] امام ایک طرف ہوں اور ایک [1] امام ایک طرف تو کس مسئلہ پر عمل کرنا چاہیے؟؟؟ *میں نے کہا اپنے امام کی تقلید کرنا چاہیے*

کہنے لگا اگرچہ دوسری طرف 3 امام ہوں؟؟؟ *میں نے کہا آپ کے خلاف 4 امام ہوں تو آپ ان کی مخالفت سے نہیں ڈرتے*

چاروں اماموں کے ہاں 1 مجلس کی 3 طلاقیں 3 ہیں ۔ *اور یہ آپ سب کے خلاف ہیں*

چاروں اماموں میں سے کسی کے ہاں باریک جرابوں پر مسح کرنے سے وضو نہیں ہوتا ۔ *آپ سب کے نزدیک [چاروں امام] اور ان کے مقلد بے وضو نمازیں ضائع کرتے ہیں*

چاروں اماموں کے نزدیک مقتدی رکوع میں ملے تو اس کی رکعت پوری شمار ہوتی ہے - چاروں ائمہ نماز جنازہ آہستہ پڑھنے کے قائل و فائل ہے ۔ *اور یہ آپ سب کے خلاف ہیں*

پھر میں نے پوچھا آپ قربانی کا گوشت کھاتے ہیں؟ *کہنے لگا ہاں*

میں نے کہا کم و بیش ¹²⁴⁰⁰⁰ نبیوں کی شریعت میں قربانی کا گوشت کھانا جائز نہ تھا اور 1 ہمارے پیغمبر ﷺ کے ہاں [کھانا] جائز ہے ۔ اب آپ 1 ہی پیغمبر کی مانتے ہیں یا ان سب پیغمبروں کی؟

کہنے لگا کہ ہمیں تو صرف اپنے نبی ﷺ کی تابعداری کرنی ہے ۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ دوسری طرف کتنے نبی ہیں

*میں نے بھی کہا ہمیں بھی اجتہادی مسائل میں اپنے فقہی امام کی تقلید کرنی چاہیے - ہمیں اس کی کیا ضرورت ہے کہ دوسری طرف کتنے فقہی امام ہیں*

کہنے لگا وہ تو ناسخ و منسوخ کا مسئلہ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں ۔ *میں نے کہا یہاں راجح و مرجوح کا مسئلہ ہے اور مرجوح پر عمل جائز نہیں*
*تجلّیاتِ صفدر سے ماخوذ*

*سوال نمبر ¹⁹* ۔ چاروں امام امامت کی حیثیت سے دنیا میں آئے ، اس سے پہلے اسلام پر ¹⁰⁰ سو سال گزرچکے تھے تب تک نہ یہ امام تھے ، نہ یہ مقلد ، تو اس وقت کے مسلمان مسلمان بھی تھے یا نہ تھے اور اگر تھے تو ادھورے یا پورے؟ کیونکہ تقلید تو اس وقت تھی ہی نہیں بلکہ وہ امام بھی نہ تھے جن کی تقلید شروع ہوئی ۔ اگر باوجود تقلید نہ کرنے کے وہ مسلمان تھے اور کامل تھے تو آج کا اسلام جو پورا ہوگیا اس وقت اسلام کا کونسا روپ مارا جاتا تھا جو تقلید کی ایجاد کی ضرورت پیش آئی؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کرام رحمتہ اللہ علیہم کا اسلام ہمیں کافی نہیں جو ہمیں کسی نئے نویلے اسلام کی ضرورت ہو؟ اب فرائض تو سب اللہ تعالی اتارچکا ، وحی حضور ﷺ کے وصال کے بعد بند ہوگئی ، ¹⁰⁰ سو سال بعد امام دنیا میں آئے ، اب کس آسمان سے کونسا فرشتہ وحی لے کر آیا جس سے ¹⁰⁰ سو سال کے بعد ان ائمہ رحمہ اللہ میں سے ¹ایک ¹ایک کی تقلید فرض ہوئی اور مسلمین ⁴چار راستوں میں بٹ گئے اور اللہ کے گھر بیت اللہ کے بھی ⁴چار ٹکڑے کرنے پر مجبور ہوگئے ، یہ حنفی مُصلّیٰ ، یہ شافعی مُصلّیٰ ، قرآن و حدیث میں ان مُصلّوں کا ذکر کہاں ہے؟

*جواب*
جس طرح ان ⁷سات قاریوں سے پہلے بھی قرأت پڑھنے والے سب مسلمان تھے اور بعد میں ان قرأتوں کے پڑھنے والے بھی مسلمان ہیں ، فرق اتنا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس قرأت کو قاری حمزہ کی نہیں کہتے تھے ۔ اسی طرح صحاح ستہ والوں سے پہلے مسلمان احادیث پر عمل کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہتے تھے کہ میں ترمذی کی حدیث پر عمل کررہا ہوں ، تُو نسائی کی حدیث پر ، اس لئے صرف اس نام کی وجہ سے پہلے اور پچھلے اسلام میں فرق کرنا ایسی جہالت ہے جیسے پہاڑوں پر برف باری ہوئی ہو گو پانی کی شکل میں بہہ نکلی ، لوگ اسے پانی کہتے تھے ، وہی پانی دریا کی شکل میں آیا تو اسے دریا کہنے لگے ، دریا نہر میں آیا تو اس کا نام نہر کا پانی ہوا ، نالے میں جانے سے نالے کا پانی کہا جانے لگا ۔ پانی ایک ہی ہے ، مختلف نام راستے کے تعارفی نام ہیں ۔ وہی طریقہ حضور ﷺ کی طرف منسوب ہو تو اسے سُنَّت نبوی ﷺ کہا جاتا ہے ، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں پھیل گیا تو اس کا نام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ قرار پایا ، جب فقہ حنفی میں مرتب ہوگیا تو اب اس کا نام فقہ حنفی قرار پایا ، یہ کہنا کہ فقہ حنفی اور ہے اور سُنَّت نبوی ﷺ اور ، یہ ایسی جہالت ہے جیسے کوئی کہے کہ نہر کا پانی اور ، دریا کا اور ، یا یہ کہ قاری عاصم رحمہ اللہ کی قرأت اور ، نبی ﷺ کی اور ، قاری حمزہ رحمہ اللہ کی اور ، ان سوالات سے معلوم ہوا کہ غیرمقلد بننے کے لئے جاہل مُرکَّب بننا ضروری ہے

*سوال نمبر ²⁰* ۔ چاروں خلیفہ یعنی خُلفاء راشدین افضل ہیں یا چاروں امام افضل ہیں خلفاء سے؟ آج چاروں خلفاء کی تقلید نہ کی جائے اور چاروں اماموں کی تقلید فرض مانی جائے ، الٹی گنگا کیوں بہائی گئی؟

*جواب*
جس طرح ساتوں قاریوں کی قرأت پر قرآن پڑھنے سے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم والا ہی قرآن پڑھا جاتا ہے ، یہ کہنا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی قرأت چھوڑ کر قراء سبعہ کی قرأت پڑھنا غلط ہے نہ صرف جہالت بلکہ اس میں کُفر کا خدشہ ہے ۔ اسی طرح کُتب احادیث پر عمل کرنے سے نبی ﷺ کی احادیث اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی احادیث پر عمل ہورہا ہے ، بعینیہ ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کی فقہ پر عمل کرنا اور ان کی تقلید کرنا خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی تقلید ہے ۔ یہ ایسی ہی باتیں ہیں جیسے کوئی کہے کہ آپ صحیح محمدی چھوڑ کر صحیح بخاری کیوں پڑھتے ہیں ، صحیح ابوبکر چھوڑ کر ترمذی کیوں پڑھتے ہیں ، جامع فاروق اعظم چھوڑ کر جامع مسلم کیوں پڑھتے ہیں ، مُسندِ علی چھوڑ کر مسند احمد کیوں پڑھتے ہیں ۔ یہ سب باتیں جہالت سے ناشر ہیں

*سوال نمبر ²¹* ۔ حضرت امام حسن ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم ، حضرت امام زین العابدین ، حضرت امام باقر اور حضرت امام جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہم افضل ہیں یا چاروں امام ان سے افضل ہیں؟ پھر آل رسول ﷺ کے ان بارہ اماموں کے مقلد کو ہم شیعہ اور رافضی کہیں اور ان سے کم درجے کے اماموں کی تقلید کو فرض مانیں ، اس تفریق کی کیا وجہ؟

*جواب*
ائمہ اہل بیت فنِ تصوُّف کے امام ہیں جب کہ صحاح ستہ والے فنِ حدیث کے اور ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم فنِ فقہ کے امام ہیں ، ہمارے تصوُّف کے شجروں میں اکثر ائمہ اہل بیت کے اسماء گرامی آتے ہیں اور حدیث کی سندوں میں صحاح ستہ والوں کے اور فقہ میں ائمہ اربعہ رحمہ اللہ کے ۔ *ہر گل را رنگ و بو دیگرے است* یعنی *ہر پھول کے رنگ اور خوشبو الگ الگ ہوتی ہے* جب آپ صحاح ستہ کی بحث میں محدثین کو چھوڑ کر فقہاء کی نہیں مانتے تو فقہی احکام میں فقہاء کو چھوڑ کر محدثین اور صوفیاء کی بات ماننا کیسے درست ہے؟ *لکل فن رجال* یعنی *ہر فن کے لئے الگ الگ مرد ہیں*

*سوال نمبر ²²* ۔ اگر چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اور ائمہ اہل بیت افضل ہیں ائمہ اربعہ سے تو چاروں اماموں کی تقلید کیوں کی جاتی ہے؟ ان چاروں خلفاء و حضرات ائمہ اہل بیت کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی؟ ہاں ان چاروں اماموں نے ان چاروں خلفاء کی تقلید کیوں نہیں کی ؟

*جواب*
ایک ہی بات کو بار بار دہرایا جارہا ہے جس طرح صحاح ستہ کی تابعداری میں احادیث نبویہ ﷺ کا علم اُمَّت کو ملا ، سات قاریوں نے نبی ﷺ اور خلفاء والا قرآن ہی مرتّب کیا ، اسی طرح ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم نے اللہ کے نبی ﷺ اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی سُنَّت کو زندہ کیا ۔ یہ کہنا جہالت ہے کہ ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم نے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی بات نہیں مانی ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ساتوں قاریوں نے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم والا قرآن نہیں مانا ، اصحاب صحاح ستہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے منکر تھے *معاذ اللہ*

*سوال نمبر ²³* ۔ چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم مجتہد تھے یا نہیں؟ اگر تھے تو ان کی تقلید کیوں چھوڑی جاتی ہے ؟

*جواب*
چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم مجتہد تھے ، ان کے مذاہب مدوّن نہیں ہوئے ، ان کے جو اجتہادات متواتر تھے ان کو ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم نے اپنی فقہ میں سمولیا ، اس لئے ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم کی تقلید خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی ہی تقلید ہے جیسے نہر کا پانی ، دریا کا پانی ہے

*سوال نمبر ²⁴* ۔ چاروں خلیفہ راشد رضی اللہ عنہم چاروں اماموں کے برابر مجتہد تھے یا بڑھ کر یا گھٹ کر؟ اگر بڑھ کر تھے تو پھر انہیں گھٹا کیوں دیا کہ ان کا مقلد ایک بھی نہیں ہے؟

*جواب*
جس طرح چاروں خلفاء راشد رضی اللہ عنہم ساتوں قاریوں سے بڑھ کر قاری تھے ، صحاح ستہ والوں سے اعلیٰ محدث تھے، اسی طرح یہ ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم سے بہت بڑے مجتہد تھے لیکن جس طرح بڑے محدث ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی کوئی حدیث کی کتاب مرتّب نہیں کی اس لئے ان کی مرویات حدیث کے لئے ہم حدیث کی کتابوں کے محتاج ہیں ، اسی طرح اعلیٰ قاری ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی مکمل قرأت مدوّن نہ فرمائی اس لئے ان کی قرأت کے لئے آج ہم قراء سبعہ کے محتاج ہیں ایسے ہی بہترین مجتہد ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے مذاہب مدوّن نہ کروائے ، اس لئے ان کی تابعداری کے لئے آج ہم ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم کے محتاج ہیں؟

*سوال نمبر ²⁵* ۔ چاروں ائمہ رحمہ اللہ سے قبل چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی تقلید کی جاتی تھی یا نہیں؟ جب نہیں کی جاتی تھی تو پھر ائمہ اربعہ رحمہ اللہ علیہم کی کیوں کی جائے؟

*جواب*
چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی حیات میں ان کے اجتہادی فتاویٰ کی بلانکیر تقلید کی جاتی تھی ۔ اب چونکہ ان کے مذاہب مدوّن نہیں اس لئے ائمہ اربعہ کے ذریعہ ان کے مسائل متواترہ پر عمل ہورہا ہے

*سوال نمبر ²⁶* ۔ ظاہر ہے کہ چاروں اماموں کا وجود بحیثیت امام پہلی صدی میں نہ تھا ، پس پہلی صدی کے لوگ مقلد ہوئے یا غیر مقلد؟ اور وہ نجات پانے والے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوں گے یا نجات سے محروم اور دائرہ اسلام سے خارج کہے جائیں گے؟

*جواب*
جس طرح چاروں اماموں کا وجود بحیثیت امام پہلی صدی میں نہ تھا ، اسی طرح ساتوں قاریوں کا وجود بھی بحیثیت امام پہلی صدی میں نہ تھا اور صحاح ستہ والوں کا وجود بحیثیت امام دوسری صدی میں بھی نہ تھا ۔ اب فرمائیں کہ پہلی دو صدیوں کے مسلمان صحاح ستہ کو مانے بغیر مسلمان تھے یا نہیں ، ان کو آپ مُنکرِ حدیث مانیں گے یا حدیث والے؟ اب اگر کوئی پہلی دو صدیوں کی طرح صحاح ستہ والوں کو نہ مانے ، آپ اس کو خیر القرون والا مسلمان مانیں گے یا نہیں؟ اسی طرح آج بھی کوئی شخص ساتوں قرأتوں کو ترك کرکے یہ چاہے کہ میں پہلی صدی کا مسلمان ہوں تو کیا آپ نے اس پر عمل کرلیا یا نہیں؟ اگر آپ یہ کہیں کہ صحاح ستہ والی احادیث اس زمانہ میں تھیں ، فرمایئے کہ اس وقت وہ *رواہ البخاری* نہیں کہتے تھے؟ یہ ساتوں قرأتیں صحابہ رضی اللہ عنہم میں تھیں لیکن ان کا الگ نام نہیں رکھا گیا ، اسی طرح فقہی مسائل پر عمل اس وقت بھی تھا لیکن فقہ حنفی نہیں تھا ۔ ان لوگوں کو غیرمقلد کہنا ایسی گندی گالی ہے جیسے یہ کہنا کہ وہ صحاح ستہ والوں کو نہ مان کر مُنکرِ حدیث تھے یا ساتوں قاریوں کو نہ مان کر مُنکرِ قرآن تھے

*سوال نمبر ²⁷* ۔ چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی تقلید اب منع ہے یا نہیں؟ اگر منع نہیں تو اماموں کی تقلید گئی اگر منع ہے تو اماموں کی بطور اولیٰ منع ہونی چاہئے؟

*جواب*
چاروں ائمہ رحمتہ اللہ علیہم کی تقلید میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے متواتر مسائل کی اسی طرح تقلید ہورہی ہے جس طرح ساتوں قرأتوں میں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے متواتر قرأت پڑھی جارہی ہے ۔ ہاں جس طرح متواتر قرأت کے خلاف کوئی ش*ذ قرأت ان کی طرف منسوب ہو تو وہ قابل تلاوت نہیں ، اسی طرح مذاہب کے خلاف کوئی ش*ذ قول ان کی طرف منسوب کرنا قابل عمل نہیں ۔ خوب سُن لو یہاں مقابلہ ش*ذ کا ہے نہ کہ قاری اور خلیفہ کا

*سوال نمبر ²⁸* ۔ اگر چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی تقلید اب منع ہے تو کیوں اور کس نے منع کی؟ پھر چاروں اماموں کی تقلید کیوں اور کس نے باقی رکھی؟ ان ائمہ نے کب کہا کہ لوگ حنفی شافعی کہلوائیں؟

*جواب*
چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے مذاہب نہ مدون ہیں ، نہ براہ راست متواتر ۔ البتہ ائمہ رحمتہ اللہ علیہم تک ان کے جو مسائل متواتر پہنچے وہ ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم نے لے لئے ، ان پر اب بھی عمل ہورہا ہے۔ رہا یہ کہ ائمہ نے کب کہا تھا کہ حنفی ، شافعی کہلوانا ، جس طرح یہ کہنا کہ یہ بخاری کی حدیث ہے ، قاری حمزہ کی قرأت ہے ، درست ہے اس پر اجماع ہے ، اسی طرح مجتہد کے مذہب کو مجتہد کی طرف منسوب کرنا جس طرح اجماع سے ثابت ہے خود حدیث سے بھی ثابت ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کے سامنے عرض کیا *اجتهد برأي* اپنی رائے کی نسبت اپنی طرف کی ، جس سے حضور ﷺ نے منع نہیں کیا تو غیرمقلدوں کو منع کرنے کا کیا حق ہے؟ اب *غیرمقلدوں سے ہمارا سوال ۔ بخاری صفحہ ⁴³³ جلد ¹ پر عثمانی اور علوی کی نسبتیں ہیں ، کیا کوئی غیرمقلد ثابت کرسکتا ہے کہ ان کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عثمانی اور علوی کہلوانے کا حکم دیا تھا؟*

*سوال نمبر ²⁹* ۔ چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم نے اپنی اپنی تقلید کا حُکم دیا تھا یا نہیں؟ اگر دیا ہے تو ہم نے کیوں نہ مانا؟ اگر دیا تو پھر اماموں کے بارے میں حُکم کیوں ہو؟ یہاں تک کہ محمدی کہلوانا چھوڑ دیا؟

*جواب*
چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی تابعداری کا حُکم خدا کے رسول ﷺ نے دیا ۔ ان کی حیات میں براہ راست ان کی تقلید ہوتی رہی اور اب ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم کے ذریعہ ان کی تقلید ہورہی ہے ۔ محمدی کہلانے کا حُکم نہ اللہ تعالیٰ نے دیا ، نہ رسول اللہ ﷺ نے دیا اور نہ ہی خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم میں سے کوئی محمدی کہلایا ۔ *مسلمانوں کو محمدی عیسائیوں نے کہنا شروع کیا* جیسے *مرزائیوں نے احمدی کہنا شروع کیا* ۔ آخر *امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح محمدی کو چھوڑ کر اپنی کتاب کا نام صحیح بخاری* کیوں رکھا؟

*سوال نمبر ³⁰* ۔ اگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی تقلید کا حُکم دیا تھا تو ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقلید جاری تھی یا نہیں؟ اگر نہ تھی تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کے زمانے میں اور اس کے بعد کیوں جاری رہی ہے؟

*جواب*
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقلید ان کی حیات میں جاری تھی اور اب بھی ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم کے ذریعہ جاری ہے البتہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی اجتہاد کا حق حاصل تھا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بھی حق تھا ۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بعد بھی امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے مجتہدین کو اجتہاد کا حق تھا ۔ *تقلید غیر مجتہدین کے لئے ہوتی ہے نہ کہ مجتہدین کے لئے*

*سوال نمبر ³¹* ۔ اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقلید جاری تھی تو اس تقلید کو کس نے بند کیا؟ اور کیوں بند کیا؟ اور اسی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید بند کیوں نہ ہو؟

*جواب*
جس طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قرأت جاری ہے اسی طرح ان کی تقلید بھی ائمہ اربعہ رحمتہ اللہ علیہم کے ذریعہ جاری ہے ، ان کا فیض بند نہیں ہوا ۔ اسی طرح فقہ حنفی کی کتابیں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے اجتہادات کا مجموعہ ہیں ۔ یہ بات کئی دفعہ واضح کی جاچُکی ہے کہ *اجتہاد اور قیاس اصل میں قاعدوں کو کہتے ہیں* امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنے مجتہدین ساتھیوں کے مشورہ سے پہلے قواعد استنباط کرتے تھے ، جب ایک قاعدہ طے ہوگیا تو اس کے نیچے سینکڑوں مسائل آجاتے تھے اور شاگرد آپ کے سامنے لکھتے تھے لیکن یہ مسائل قواعد کی ترتیب سے کرتے تھے ، ہر قاعدہ کے نیچے نماز ، حج ، زکوٰۃ کا حکم آجاتا ہے ۔ جیسے محدثین نے احادیث میں پہلے *مسانید ، معاجم* مرتب کیں ، ایک *جزء* میں لکھ دی جاتی خواہ *نماز* کی ہوں یا *حج* کی یا *ترغیب و ترہیب* کی ۔ پھر امام محمد رحمہ اللہ نے ان مسائل کی تبویب فرمائی اور *ظاہر الروایت* کی چھ کتابیں مرتّب کیں۔ پھر امام محمد رحمہ اللہ کو *محرر مذہبِ نعمان* کہا جاتا ہے ۔ اس میں بھی انہوں نے اتنی احتیاط کی کہ جو کتاب امام صاحب رحمہ اللہ کے پاس لکھی اس کو *جامع کبیر ، سیر کبیر* ۔ جو قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کے پاس لکھی اس کو *جامع صغیر ، سیر صغیر ، مبسوط ، زیادات* کا نام دیا ۔ یہ کتابیں اسی زمانہ سے متواتر ہوئیں اس لئے ان کو *ظاہر الروایت* کہا جاتا ہے ۔ یہ کتابیں فقہ حنفی کا ماخذ ہیں ، بعد میں ان کو سامنے رکھ کر متوّن مرتب کئے گئے جیسے *قدوری ، کنز ، وقایہ ، نقایہ ، ہدایہ ، تدبیر* وغیرہ ۔ یہ مسائل جو متوّن میں ہیں وہ امام صاحب سے متواتر ہیں ، اس لئے امام صاحب رحمہ اللہ سے ان کی نفی گویا متواترات کی نفی ہے جیسے کوئی قرآن کی حضور ﷺ سے نفی کردے

*مسائل فقہ تین قسم کے ہیں*
*نمبر ⁰¹* ۔ ایک امام صاحب رحمہ اللہ سے متواتر ہیں ، ان کو *متوّن معتبرہ* کہتے ہیں

*نمبر ⁰²* ۔ دوسرے وہ جو متواتر نہیں اخبار آحاد کے طور پر مروی ہیں ، ان کو *نوادرات* کہتے ہیں ، *ان میں جو مفتیٰ بہ ہیں وہ مذہب حنفی میں شامل کئے گئے* ، غیر مفتیٰ بہ مذہب حنفی نہیں کہلائے

*نمبر ⁰³* ۔ کچھ مسائل بعد میں پیش آئے ، ان کو بعد کے لوگوں نے امام صاحب رحمہ اللہ کے قواعد کے ذریعہ معلوم کرلیا ۔ جیسے حساب کے قاعدہ سے نکالا ہوا جواب حساب کا ہی ہوتا ہے ، اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قواعد پر نکالے گئے جوابات مذہبی حنفی ہی کہلائیں گے بشر طیکہ مفتیٰ بہ ہوں ۔ فقہ کی بڑی کتابوں میں متواتر مسائل کو بطور مذہبِ حنفی لکھا جاتا ہے اور دوسری قسم کے مسائل کو بھی روایت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے انداز سے روایت کیا جاتا ہے ۔ جو مسائل ان کے اُصول پر نکالے جاتے ہیں ان کو *واقعات نوازل* کہا جاتا ہے ، ان کو *عند أبی حنیفه ، عند أبی یوسف* لکھا جاتا ہے ۔ *بہر حال ان تین قسموں سے جو مسائل مفتیٰ بہا اور معمول بہا ہیں صرف ان کو مذہب حنفی کہا جاتا ہے*

*سوال نمبر ³²* ۔ ذرا مہربانی فرما کر یہ بھی بتایا جائے کہ فقہ حنفی کی موجودہ کتابوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی ہے جسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے خود لکھا ہو؟

*جواب*
فقہ حنفی کے وہ مسائل جو متوؓن معتبرہ میں مذکور ہیں وہ امام صاحب رحمہ اللہ سے اسی طرح متواتر ہیں کہ جس طرح نبی ﷺ سے قرآن متواتر ہے اور متوّن کے علاوہ شروح اور فتاویٰ میں بعض مسائل اخبار آحاد کی طرز پر مروی ہیں جیسے کُتُبِ احادیث کی حدیثیں ۔ ان اُصولوں میں جو مفتیٰ بہا ہیں وہ امام صاحب رحمہ اللہ سے ثابت ہیں اور غیر مفتیٰ بہا ثابت نہیں ۔ تمام اہل سُنّت والجماعت حنفی ، شافعی وغیرہ متوّن فقہ کو جو ان ائمہ سے متواتر ہیں مانتے گئے ۔ سب سے پہلے *محمد معین ٹھٹھوی شیعہ نے اپنی کتاب دراسات میں یہ شبہ ظاہر کیا کہ ان مسائل کی نسبت ائمہ کی طرف یقینی نہیں لیکن ان خُرافاتِ رافضی پر کسی نے کان تک نہ دھرا* ، حتّیٰ کہ چودھویں صدی کے شروع میں ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد نے اس رافضی کی غلط بات کو اپنا دین و ایمان بنالیا اور غیر مقلدین نے اس پر شور مچایا کہ ان مسائل کا ثبوت امام صاحب رحمہ اللہ سے نہیں لیکن اس کے باوجود خود غیر مقلدین بھی اس بات پر پورا یقین نہیں رکھتے ۔ جب اپنی فتاویٰ کی کتابوں میں اپنی حمایت میں فقہ کا قول پیش کرتے ہیں تو پھر اس کتاب کو ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ثابت مانتے ہیں ، جب کوئی بات انکے خلاف ہو تو کہتے ہیں کہ ان کا ثبوت امام صاحب رحمہ اللہ سے نہیں ہے

*سوال نمبر ³³* ۔ ذرا یہ بھی بتایا جائے کہ فقہ کی موجودہ کتابوں میں بہت سے مسئلے خلاف طہارت اور خلافِ تہذیب ہیں جنہیں سُنّنے سے طبیعت میں کراہت پیدا ہو اور قے آنے لگے ، کیا یہ مسائل فی الواقع امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہی ہیں؟

*جواب*
فقہ حنفی کی کتابوں میں وہ مسائل جو مفتیٰ بہا اور معمول بہا ہیں وہ مذہبِ حنفی ہیں ، ان سے اگر کسی کو گھن آتی ہے تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ *کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا ، قے آجاتی ہے ، باقی ش*ذ و متروك مسائل مذہبِ حنفی ہیں ہی نہیں*

*عواء الکلب لایظلم البدر*
*کتے کا بھونکنا چاند کی روشنی کو ختم نہیں کرتا*

*سوال نمبر ³⁴* ۔ اگر ہم ان غلط اور خلافِ تہذیب مسائل کو چھوڑ دیں تو دائرہ تقلید سے باہر تو نہیں ہوجائیں گے؟

*جواب*
تقلید کا تعلق صرف ان مسائل سے ہے جو مفتیٰ بہا اور معمول بہا ہیں ، ان کو چھوڑنے سے آدمی واقعی تقلید سے باہر ہوجاتا ہے لیکن غیر مفتیٰ بہا اور غیر معمول بہا اقوال کا تعلق تقلید سے نہیں ہے ۔ متواتر قرآن کو چھوڑنے والا قرآن کا مخالف ہے لیکن ش*ذ اور متروك قرأتوں کی تلاوت ترك کرنے والا قرآن کا مخالف نہیں ۔ اسی طرح سُنَّت کا تارك اہل سُنَّت سے خارج ہے ، ش*ذ اور متروك حدیثوں کا تارك اہل سُنَّت سے خارج نہیں

*سوال نمبر ³⁵* ۔ اس تقلید کے بارے میں کچھ اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا ہے یا نہیں؟ اگر فرمایا ہے تو کیا فرمایا ہے ، وہ آیت یا حدیث صاف لکھ دیں کہ جس میں ہو کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یا فلاں امام کی تقلید تم پر فرض ہے ، جو نہ کرے وہ بد مذہب ہے؟

*جواب*
اللہ تعالی فرماتے ہیں : فاسئلو أھل الذکر ان کنتم لاتعلمون : اس آیت میں لوگوں کی دو قسمیں بتادیں

*نمبر ⁰¹* ۔ وہ جو اہلِ ذکر ہیں جن کو دین خوب یاد ہے ، ان کو *مجتہدین* کہتے ہیں

*نمبر ⁰²* ۔ وہ لوگ جو مجتہدین نہیں ہیں ان کو حُکم دیا کہ تم اہل ذکر *مجتہدین* سے پوچھ کر عمل کیا کرو اسی کا نام تقلید ہے

رہا یہ سوال کہ آیت یا حدیث میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام ہو تو یہ ایک جاہلانہ سوال ہے ۔ جیسے قرآن کریم میں حُکم ہے *فاقروا ما تیسر من القرآن* اس میں قرآن پڑھنے کا حُکم ہے ۔ اب جو اسُتاد بھی میسر آجائے اس سے پڑھ لے تو اس حُکم پر عمل ہوگیا ۔ اب کوئی ضد کرے کہ آیت میں یوں لکھا ہو کہ محمد اسلم نورانی قاعدہ محمد دین سے پڑھے اور تیسواں پارہ محمد علی سے پڑھے ، تو یہ جہالت ہے ۔ اسی طرح قرآن میں حکم آگیا *فانکحوا ماطاب لکم من النسآء* اب کوئی یہ کہے کہ یہ تو نکاح کا حکم ہے ، یہ دکھاؤ کہ قرآن پاک میں صاف ہو کہ محمد علی کی شادی زینب بی بی سے ہو ۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ اپنی بیماری کا علاج کرو ، اب جو بھی ڈاکٹر میسر آجائے اس سے علاج کروالیا جائے گا ، یوں سوال کرنا کہ بیماری کا نام بھی ہو ۔ اور ہیضہ کا علاج ڈاکٹر محمد اسلم سے کروانا اور انگریزی دوائی لینا اور ملیریا کا علاج حکیم حنیف اللہ سے کروانا اور یونانی دوائی لینا جہالت ہے ۔ جس طرح مومنوں کو نماز پڑھنے کا حُکم قرآن میں ہے لیکن سب مومنوں کے نام مذکور نہیں ، اب کوئی کہے کہ جب تک یہ لفظ نہ دکھاؤگے کہ عبدالرزاق نماز پڑھے ، میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ دلیل کے دو مقدمے ہوتے ہیں *ایک یہ کہ مومن نماز پڑھے ، یہ مقدمہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ دوسرا یہ کہ عبدالرز

Address

Naval Colony Karchi
Karachi

Telephone

03489620972

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alharam Hijama center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category