Dr Fawad Farooq

Dr Fawad Farooq Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Fawad Farooq, Doctor, H. no B-234 Block 18 Gulshan-e-Iqbal Karachi, Karachi.

آج دل واقعی خوش ہو گیا۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کے اس مثبت اور خوشگوار ماحول میں، ایک بنگلہ دیشی ڈاکٹر بھا...
02/02/2026

آج دل واقعی خوش ہو گیا۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کے اس مثبت اور خوشگوار ماحول میں، ایک بنگلہ دیشی ڈاکٹر بھائی کی ان باکس پوسٹ پڑھ کر دل کو عجب سی طمانیت ملی۔ ڈاکٹر خیرالاسلام روبیل جیسے پڑھے لکھے، مہذب اور خلوص سے بھرپور لوگوں کا یہ کہنا کہ وہ میری باتوں سے سیکھتے ہیں—یہ کسی اعزاز سے کم نہیں۔

ویڈیوز تو دنیا کے کئی ممالک میں دیکھی جاتی ہیں، پیغامات بھی آتے ہیں، مگر آج کے حالات میں بنگلہ دیش سے محبت اور دعا پر مبنی یہ پیغام دل کے بہت قریب لگا۔ ایسا لگا جیسے سرحدیں مٹ گئیں ہوں اور صرف انسانیت، علم اور احترام باقی رہ گیا ہو۔

سچ یہ ہے کہ بنگلہ دیشی ہمارے بھائی ہیں۔
کرکٹ کے میدان میں ہوں یا طب کے شعبے میں، محنت، وقار اور صلاحیت کے ساتھ ماشاءاللہ آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہی رشتے اصل دولت ہیں—جو نفرت نہیں، محبت؛ مقابلہ نہیں، تعاون سکھاتے ہیں۔

اللہ ہمارے دلوں کو جوڑے رکھے، علم کو ذریعہ بنائے اور ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانی کا سبب بنائے۔ آمین 🤲

02/02/2026

وہ کریں تو اصولی موقف
اور ہم کریں تو سالا کیریکٹر ڈھیلا ہے؟

پاکستانی حکومت کے بھارت سے نہ کھیلنے کے فیصلے پر
آئی سی سی کی یہ منطق کہ
ہر ٹیم کے لیے تمام میچ کھیلنا لازم ہے
واقعی سمجھ سے بالاتر ہے۔

1996 کے ورلڈ کپ میں
آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے
سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر
سری لنکا جا کر میچ نہیں کھیلا—
واک اوور ملا،
اور آئی سی سی نے سر ہلا کر قبول بھی کر لیا۔

اگر اُس وقت
تحفظ، حالات اور قومی مفاد
جائز دلیل تھے،
تو آج پاکستان کے معاملے میں
اصول اچانک کیوں بدل گئے؟

اصول اگر ہوں تو سب کے لیے ایک جیسے ہوں—
ورنہ اسے اصول نہیں کہتے،
اسے دوہرا معیار کہتے ہیں۔

اور ہاں،
قومیں کرکٹ صرف میدان میں نہیں،
وقار کے ساتھ بھی کھیلتی ہیں 🇵🇰🏏

ماسٹر اسٹروکپڑوسیوں نے تو واقعی حد ہی کر دی تھی۔کرکٹ کے میدان کو باقاعدہ جنگ کا میدان بنا رکھا تھا—فرق صرف یہ تھا کہ یہا...
01/02/2026

ماسٹر اسٹروک

پڑوسیوں نے تو واقعی حد ہی کر دی تھی۔
کرکٹ کے میدان کو باقاعدہ جنگ کا میدان بنا رکھا تھا—
فرق صرف یہ تھا کہ یہاں بلّے اور گیند کے ساتھ ساتھ
انا، ضد اور سیاست بھی فل ٹاس پر کھیلی جا رہی تھی۔

وہ سرزمین جو مہمان نوازی کی علامت سمجھی جاتی ہے،
جہاں اسٹریلیا جیسے محتاط ترین ملک بھی اپنی ٹیم بھیجنے پر آمادہ ہو گئے،
وہاں ہٹ دھرمی کی ایسی دیوار کھڑی کی گئی
کہ ہم نہیں کھیلیں گے—
اور اگر کھیل بھی ہو تو موڈ دیکھ کر۔

اسی ضد نے ہمیں
اپنی ہی میزبانی میں ہونے والے ٹی ٹونٹی کپ میں
اپنے وطن سے باہر کھیلنے پر مجبور کر دیا—
گویا میزبان ہم تھے، مگر کچن میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

پھر ایک نیا اور شرمناک طرزِ عمل:
پوری دنیا کے کیمروں کے سامنے
ٹاس کے بعد مخالف کپتان سے ہاتھ ملانے سے انکار—
شاید ہاتھ ملانے سے بھی کوئی سفارتی نقصان ہو جاتا۔

اور اس پر مستزاد یہ کہ
ایک آئینی عہدے پر فائز پاکستانی سے
دنیا بھر کے سامنے ایشیا کپ کی ٹرافی لینے سے انکار—
ایسا کارنامہ جو اس سے پہلے
کرکٹ کی تاریخ ہی نہیں،
شاید اخلاقیات کی کسی کتاب میں بھی درج نہیں۔

یہ کرکٹ نہیں تھی۔
یہ باقاعدہ اسٹیج ڈرامہ تھا—
بس اس میں اسکرپٹ سیاست نے لکھی تھی۔

ہم سب دل ہی دل میں سوال کرتے رہے:
آخر کب تک ہماری بے عزتی کی جاتی رہے گی؟
کب تک یہ اور دنیا
ہماری خاموشی کو شرافت
اور برداشت کو کمزوری سمجھتی رہے گی؟

اور پھر…
آج محسن نقوی صاحب نے وہ ماسٹر اسٹروک کھیلا
جو اسکور بورڈ پر تو نظر نہیں آتا،
مگر اثر سیدھا دل پر کرتا ہے۔

پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں
ہر ملک سے کھیلے گا—
مگر پڑوسیوں سے نہیں۔

بس یہی ایک جملہ تھا،
اور دل کو ایسا سکون ملا
جیسے میچ کے بعد
ریویو میں فیصلہ ہمارے حق میں آ گیا ہو۔

آج جب پاکستان کی ٹیم
تین صفر سے آسٹریلیا کو شکست دے چکی تھی
اور اسی لمحے یہ خبر سامنے آئی،
تو یوں محسوس ہوا
جیسے سونے کے ہتھوڑے پر
ایک لوہار نے پوری طاقت سے
“ٹھاہ” کر دی ہو۔

اب شاید انہیں سمجھ آ جائے
کہ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیتے تو بہتر تھا۔
جب سیاست کو ہی اوپنر بنا دیا ہے تو…
اب اس کی وکٹ بھی گرے گی۔

کرکٹ میدان میں کھیلی جاتی ہے،
انا اور غرور کی پچ پر نہیں۔

01/02/2026
01/02/2026

کنٹرول شوگر کے مریض اور روزہ — احتیاط، ترتیب اور توازن

اگر شوگر کنٹرول میں ہو تو اکثر مریض روزہ رکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ دوا اور غذا کے اوقات میں سمجھداری سے تبدیلی کی جائے اور شوگر کم ہونے (Hypoglycemia) کے خطرے سے بچا جائے۔

اہم احتیاطی نکات:

🔹 سحری کبھی ترک نہ کریں
سحری میں پروٹین (انڈا، دہی)، فائبر (دلیہ، براؤن روٹی) اور مناسب کاربوہائیڈریٹس شامل کریں تاکہ شوگر آہستہ آہستہ گرے۔

🔹 میٹھی اور چکنی اشیاء سے پرہیز
افطار میں حد سے زیادہ میٹھا یا فرائی آئٹمز شوگر کو اچانک بڑھا دیتے ہیں اور بعد میں خطرناک حد تک گرا بھی سکتے ہیں۔

🔹 دوا کا وقت ڈاکٹر کے مشورے سے بدلیں

لمبے اثر والی گولیاں یا انسولین اکثر افطار پر دی جاتی ہیں

شارٹ ایکٹنگ ادویات کی مقدار کم یا وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے
👉 خود سے تبدیلی خطرناک ہو سکتی ہے

🔹 شوگر کی علامات پہچانیں
اگر روزے کے دوران
❗ کپکپی
❗ پسینہ
❗ چکر
❗ دل کی تیز دھڑکن
ہو تو فوراً شوگر چیک کریں — شوگر کم ہو تو روزہ توڑنا شرعاً اور طبی طور پر درست ہے

🔹 پانی کی کمی سے بچیں
افطار سے سحری کے درمیان مناسب پانی پئیں، ڈی ہائیڈریشن شوگر کو غیر متوازن کر سکتی ہے۔

📌 یاد رکھیں:
دین آسانی سکھاتا ہے، اور صحت اللہ کی امانت ہے۔
قرآن میں واضح ہے:
“اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تنگی نہیں” (البقرہ: 185)

👉 اگر شوگر بار بار کم ہو، بے قابو رہے یا پیچیدگیاں ہوں تو روزہ رکھنے سے پہلے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

صحیح معلومات — محفوظ روزہ

لاہور کے بھاٹی گیٹ کا یہ سانحہکسی ایک لمحے کی لغزش نہیں،یہ برسوں کی غفلت، بے حسی اور ٹوٹے ہوئے نظام کی مکمل تصویر ہے۔یہا...
31/01/2026

لاہور کے بھاٹی گیٹ کا یہ سانحہ
کسی ایک لمحے کی لغزش نہیں،
یہ برسوں کی غفلت، بے حسی اور ٹوٹے ہوئے نظام کی مکمل تصویر ہے۔

یہاں گڑھا سڑک میں نہیں تھا،
یہ گڑھا ضمیر میں تھا—
جہاں ایک ماں کی چیخ، ایک بچے کی سانس
اور ایک خاندان کا مستقبل
اعداد و شمار، فائلوں اور “ضرورت نہیں” جیسے جملوں میں دفن ہو گیا۔

اور پھر المیہ یہ کہ
جرم چھپانے کی کوشش میں
لاہور جیسے بڑے شہر میں
متاثرہ شوہر اور باپ کو ہی گرفتار کر لیا گیا۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں صرف دل نہیں،
روح تک کانپ جاتی ہے۔

جہاں روشنیوں، کیمروں اور قانون کے دفاتر کی بھرمار ہو،
وہاں اگر سچ کو ہتھکڑی لگا دی جائے
تو سوچئے
چھوٹے شہروں اور قصبوں میں
جہاں آواز کمزور اور دروازے بند ہوتے ہیں،
وہاں انصاف کس حال میں ہوگا؟

یہ مسئلہ کسی ایک محکمے یا ایک وردی کا نہیں،
یہ پورے نظام کا آئینہ ہے—
ایک ایسا نظام جہاں مظلوم ہونا بھی جرم بنتا جا رہا ہے،
اور طاقتور کے سامنے قانون نظریں جھکا لیتا ہے۔

نظام بدلنا ایک دن کا کام نہیں۔
اگر آج سے ہر ادارے میں
بھرتی صرف میرٹ پر ہو،
ترقی صرف اہلیت پر،
اور احتساب بلا خوف و مصلحت ہو—
تو برسوں لگیں گے، ہاں لگیں گے،
مگر تاریخ گواہ ہے
کہ اندھیروں میں چراغ
ایک دن میں نہیں،
مگر جلائے ضرور جاتے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ وقت کتنا لگے گا،
اصل سوال یہ ہے کہ
کیا ہم نے آج آغاز کرنے کا حوصلہ کیا؟

Welcome
30/01/2026

Welcome

30/01/2026

اللہ کی تخلیق ہر شے سے بڑھ کر متاثر کن ہے—
دل کو چھو لینے والی، قلبی و ذہنی سکون عطا کرنے والی۔

باکو سے چند گھنٹوں کی مسافت پر واقع شاہداغ کے برفیلے پہاڑی سلسلے میں
قدرت اپنے پورے جلال کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے—
ایک ایسا تفریحی مقام جہاں خاموش پہاڑ، سفید چادر اوڑھے ڈھلوانیں
اور ٹھنڈی ہوا انسان کو خود سے ملا دیتی ہے۔

افسوس اور امید دونوں ساتھ چلتے ہیں کہ
ہمارے ملک میں بھی قدرت کے ایسے بے شمار خزانے موجود ہیں،
جو صرف توجہ، منصوبہ بندی اور دیانتدار انتظامیہ کے منتظر ہیں۔

29/01/2026

آج قطر سے باکو کی پرواز میں
بازوں کے درمیان سفر کرتے ہوئے یوں محسوس ہوا
جیسے اقبال شاہین خود ساتھ بیٹھے ہوں 😄
کہیں دل کہتا تھا رفتار کم رکھیں، کہیں لگتا تھا ابھی شکار پر جھپٹ پڑیں گے!

اونچائی، خاموشی اور بازوں جیسا وقار—
اور دل ہی دل میں مسکراہٹ کہ
ایسی رفاقت روز روز کہاں نصیب ہوتی ہے ✈️🦅

واقعی… یہ سفر نہیں، ایک منفرد تجربہ تھا۔

28/01/2026

دوحہ کی ڈیزرٹ سفاری…
جہاں صحرا اور سمندر ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔
سورج آہستہ آہستہ ڈھلتا ہے
اور آسمان کے رنگ بدلتے جاتے ہیں۔

اس لمحے دل خود بخود خاموش ہو جاتا ہے،
ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔
اللہ نے فطرت میں جو راحت رکھی ہے
کاش ہم اسے سمجھ سکیں۔

28/01/2026

آج دوحہ میں شاپنگ کے دوران ایک ایسا تجربہ ہوا جو واقعی یادگار بن گیا! 😍✨

دوحہ کے شاپنگ مال میں مصنوعی نہر پر کشتی کی سواری کرتے ہوئے ایسا لگا جیسے وینس میں گھوم رہا ہوں۔ 🌊🚣‍♂️ خوبصورت نہریں، رنگین عمارتیں اور کشتیوں کا ہلکا ہلکا جھولنا — یہ سب کچھ ایک منفرد اور دلکش ماحول پیدا کر رہا تھا۔ خریداری کرنے کے ساتھ ساتھ اس سفر کا لطف اٹھانا، واقعی ایک شاندار تجربہ تھا۔ اگر آپ کبھی دوحہ آئیں تو یہ ضرور آزما لیں، کچھ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی یورپی شہر میں ہوں! ✨🇶🇦

#دوحہ #شاپنگ #وینس #کشتی

27/01/2026

قطر نے حالیہ برسوں میں ویزا پالیسی کو خاصا آسان بنایا ہے—آن ارائیول ویزا، ای ویزا، اور جی سی سی سمیت کئی ممالک کیلئے سہولت—مگر اس کے باوجود وہ روایتی سیاحتی گہماگہمی ابھی نظر نہیں آتی جو دبئی، استنبول یا ملائیشیا جیسے مقامات پر دکھائی دیتی ہے۔

اس کی چند وجوہات ہیں:

قطر کا سیاحت کا انداز نسبتاً سنجیدہ اور پُرسکون ہے—یہاں فیملی ٹورزم، کلچرل سائٹس، میوزیمز، اور لگژری تجربات تو ہیں مگر سڑکوں پر ہنگامہ، نائٹ لائف یا بازاروں کی بے ہنگم رونق کم ہے۔

مارکیٹنگ کا تاثر ابھی تک زیادہ تر بزنس، ایونٹس اور اسپورٹس (جیسے ورلڈ کپ) تک محدود رہا ہے، عام سیاح کیلئے جذباتی کشش کم بنی ہے۔

اخراجات—ہوٹلز، ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کے نرخ عام سیاح کو کچھ مہنگے محسوس ہوتے ہیں۔

مختصر قیام کی سوچ—زیادہ تر لوگ قطر کو اسٹاپ اوور یا دو تین دن کی منزل سمجھتے ہیں، مکمل چھٹیوں کی ڈیسٹینیشن نہیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ:
قطر آہستہ آہستہ Quantity کے بجائے Quality tourism کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہاں شور نہیں، ترتیب ہے؛ ہجوم نہیں، سکون ہے؛ دکھاوا کم، معیار زیادہ۔

شاید مسئلہ سیاحوں کی کمی نہیں،
بلکہ سیاحت کے مزاج کا فرق ہے—
قطر اُن لوگوں کیلئے ہے جو خاموش خوبصورتی، محفوظ ماحول اور باوقار تجربہ ڈھونڈتے ہیں، نہ کہ ہنگامہ۔

یہی اس کی پہچان بھی ہے… اور چیلنج بھی۔

Address

H. No B-234 Block 18 Gulshan-e-Iqbal Karachi
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Fawad Farooq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Fawad Farooq:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category