14/04/2026
بی بی سی آئی نے اپنی تحقیق میں ایک سرکاری اسپتال میں علاج کے دوران سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ یہ وہی اسپتال ہے جس کا تعلق پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی (ایڈز) جیسا مرض پھیلنے کے ایک بڑے واقعے سے بتایا جارہا ہے۔ پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے خلاف کئی سالوں سے بھرپور کام کرنے والی آغاخان یونیورسٹی اسپتال کی ڈاکٹرفاطمہ میر کا کہنا ہے کہ سامنے آنے والی فوٹیج ملک بھرمیں انفیکشن پرقابو پانے کی ناقص تربیت اور ہمارے نظام میں موجود بڑی کمزوریوں کو واضح طورپرسامنے لارہی ہے۔
متعددی امراض کی ماہرڈاکٹرفاطمہ میر کے مطابق انجکشن صرف اس صورت میں لگانا چاہیے جب جان کو خطرہ ہو۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں غیرضروری انجکشن کا استعمال بہت زیادہ ہے اور اس کا سب سے زیادہ نقصان بچے اٹھارہے ہیں۔
سال 2019 سے اب تک صرف رتو ڈیرومیں ہی 1500 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے زیادہ تربچوں کے والدین کی رپورٹ منفی ہے۔ ڈاکٹر فاطمہ میرکی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان میں تقریباً تمام بچوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بار بار انجکشن لگائے گئے تھے۔
وہ کئی سال سے مسلسل اس خطرے کی نشاندہی کررہی ہیں لیکن اصل سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا واقعی کوئی سُن رہا ہے؟
https://www.instagram.com/p/DXHBlF8jZQE/?utm_source=ig_web_copy_link&igsh=NTc4MTIwNjQ2YQ==