Ruhaniyat

Ruhaniyat یہ پیج بندوں کو اللہ سے ملاتا ہے۔اس کا کسی قسم کی فرقہ بندی سے کوئی تعلق نہیں.

I make this page for free information and education about Roohaniyat,Spiritualism & Soul Now you can learn colors, Aura & core centers chakras color therapy,healing,rosheni,rung aur noor,Meditation,Roohani ilaaj,Telepathy,Time and Space,rooh,& Spiritual, sciences& Rouhan.Body ways ete , I hope you like this and participate in this page.

02/02/2026
*اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !*وہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ہے !یوسف علیہ السلا...
21/01/2026

*اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !*

وہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ہے !
یوسف علیہ السلام کو بادشاہی کا خواب دکھایا, باپ کو بھی پتہ چل گیا ،ایک موجودہ نبی ہے تو دوسرا مستقبل کا نبی ہے ! مگر دونوں کو ہوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ہو گا !
خواب خوشی کا تھا , مگر چَکہ غم کا چلا دیا !
یوسف علیہ السلام دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑےہیں,خوشبو نہیں آنے دی !
اگر خوشبو آ گئی تو باپ ے رہ نہیں سکے گا ، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاہی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !
سارا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے !
اگر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو پتہ ہوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ہے اور وہ یوسف علیہ السلام کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ہو رہے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !
یوسف علیہ السلام عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،
جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا۔
یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ہو گیا ،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ہو جاتا تو یوسف سوالی ہوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا
اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا۔ بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں " این آر او " کے تحت باہر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناہی ثابت نہ ہو جائے.عورتیں بلوائی گئیں۔سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواہی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا رادتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین۔
وہی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا۔ وہی قحط ہانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ۔ اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ہے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا۔
فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے۔ فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ یہ کھوئی ہوئی بینائی واپس لے آئے گا !
اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ہے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ہیں،یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون۔
تم مجھے سٹھیایا ہوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے :
سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاہتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ہے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئی ہے !
واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون !
اللہ جو چاھتا ہے وہ کر کے ہی رہتا ہے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !
یاد رکھیں آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ہی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ہو ۔ انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ہیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !

17/01/2026

بزرگ شہری

آپ نے نوٹ کیا ہوگا…
جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں
فیس بُک پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار باندھ لیتی ہیں:
“والد صاحب کا قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا”
“والدہ محترمہ ہم سے بچھڑ گئیں”
“ساس، سسر اس دنیا سے رخصت ہو گئے”
یہ محض اتفاق نہیں۔
آپ کو خاموشی سے خبردار کیا جا رہا ہے
کہ ان بزرگوں میں سے اکثریت سردی کی نذر ہو جاتی ہے۔
💭
والدین کبھی اولاد سے کچھ نہیں مانگتے۔
ضرورت انتہا پر بھی ہو تو بھی نہیں مانگتے۔
یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہوتا۔
سوچئے…
💭
اس لیے سوال مت کیجیے۔
کیونکہ آپ پوچھیں گے تو جواب ہمیشہ یہی ملے گا:
“نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”
اور المیہ یہ ہے
کہ ہم اس “نہیں” کو قبول کر لیتے ہیں 😐
💭
خود احساس کیجیے۔
خود ذمہ داری اٹھائیے۔
ان کے لیے
گرم رضائیاں لائیے،
گرم کپڑے، کوٹ،
موٹے موزے، مناسب جوتے،
اور گرم، طاقت بخش خوراک مہیا کیجیے۔
یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے:
ان کی رضائی آپ کی رضائی سے ڈبل ہونی چاہیے،
ان کے کپڑے آپ کے کپڑوں سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں۔
کیونکہ بڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے۔
اور قوتِ مدافعت
باقی قوتوں کی طرح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔
💭
سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے
وہ اکثر
اسی نالائق اولاد کی وجہ سے ہوتا ہے
جو ان باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتی۔
یاد رکھیے…
جس طرح آپ کے بچپن میں
والدین خود دیکھتے تھے
کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں،
اب وہی رول آپ نے پلے کرنا ہے۔
پوچھنا نہیں ہے۔
خود دیکھنا ہے۔
خود انتظام کرنا ہے۔
💭
یہ صرف ایک پوسٹ نہیں،
یہ ایک امانت ہے،
ایک ذمہ داری ہے
جو اللّٰه نے آپ کے کندھوں پر رکھی ہے۔
خود بھی عمل کیجیے
اور دوسروں تک بھی یہ بات پہنچائیے۔
امید ہے آپ سمجھیں گے…
اور عمل کریں گے ۔

29/12/2025

‏قیامت کی ٹیکنالوجی
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے.
تحریر: اسٹرائیکر راجپوت
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں یعنی دماغ کے سیلز-سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔) (القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہےآج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہےجب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔ اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟ یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟ انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی غلط! سراسر غلط! میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہےلیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے اس تھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھالیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔) (القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
یہ نستنسخ کا لفظ بہت اہم ہے۔
اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟ ‏قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا "فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"
(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)
(القرآن، الزلزال) یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔ آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟ وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔ یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگااگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟
وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہےیہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر لعنت بھیجتا ہوں ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟رٹہ سسٹم
ڈارون کا بندر۔ انگریز کی تاریخ
ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟
ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟
کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا
صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں
"یا ساریہ الجبل"
(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)
اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔
یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے
میرے مسلمان ساتھیو آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے، وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔
ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔
اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔
اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔
قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔
اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے
کاوش، رشید چیمہ۔ بہاول پور

24/10/2025

*ایک دکاندار عبدالرحمٰن نے ابھی اپنی دکان کھولی ہی تھی کہ ایک خاتون آئی اور بولی* :

“بھائی صاحب، یہ لیجیے آپ کے دس روپے۔”

عبدالرحمٰن نے حیرت سے عورت کی طرف دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو،
“میں نے تمہیں دس روپے کب دیے تھے؟”

عورت بولی:
“کل شام میں نے آپ سے کچھ سامان خریدا تھا۔ میں نے آپ کو سو روپے دیے،
سامان ستر روپے کا تھا، آپ نے چالیس روپے واپس دیے،
جبکہ دینے تیس روپے تھے۔”

عبدالرحمٰن نے وہ دس روپے پیشانی سے لگائے،
پیسے کے ڈبے میں رکھے اور بولا:
“بہن، ایک بات بتاؤ، سامان لیتے وقت تم نے ہر پانچ روپے پر مجھ سے خوب بھاؤ تاؤ کیا،
اور اب محض دس روپے واپس کرنے کے لیے اتنی دور چلی آئیں؟”

عورت نے کہا:
“بھاؤ تاؤ میرا حق ھے، مگر جب ایک قیمت طے ہو جائے،
تو کم دینا گناہ ھے۔”

عبدالرحمٰن نے کہا:
“مگر تم نے کم نہیں دیا، پورے پیسے دیے۔
یہ دس روپے میری غلطی سے تمہارے پاس گئے،
اگر تم رکھ لیتیں تو مجھے کوئی فرق نہ پڑتا۔”
عورت نے جواب دیا:
“شاید آپ کو فرق نہ پڑتا،
لیکن میرے ضمیر پر بوجھ رہتا۔
میں جانتی کہ میں نے کسی کا حق جان بوجھ کر رکھا ہے۔
اسی لیے میں کل رات ہی واپس کرنے آئی تھی،
مگر آپ کی دکان بند تھی۔”

عبدالرحمٰن نے حیران ہو کر پوچھا:
“تم کہاں رہتی ہو؟”
عورت بولی:
“گلشن کالونی سیکٹر8میں۔”

عبدالرحمٰن کے منہ سے حیرت سے نکلا:
“سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے صرف دس روپے واپس کرنے آئی ہو؟
اور یہ تمہارا دوسرا چکر ہے؟”

عورت نے سکون سے کہا:
“جی ہاں، دوسری بار آئی ہوں۔
*اگر سکونِ دل چاہیے تو ایسے ہی کام کرنے پڑتے ہیں۔*
میرے شوہر اب دنیا میں نہیں،
مگر وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے:
‘کبھی کسی کا ایک پیسہ بھی ناحق مت رکھنا۔’

کیونکہ انسان تو خاموش رہ سکتا ہے،
مگر اللہ پاک کسی بھی وقت حساب لے سکتا ہے۔
اور اس حساب کی سزا میرے ساتھ میرے بچوں پر بھی آسکتی ھے۔”

یہ کہہ کر عورت چلی گئی۔

عبدالرحمٰن نے فوراً کیش باکس سے 300 روپے نکالے،
اپنے ملازم سے کہا:
“دکان کا خیال رکھنا، میں ابھی آتا ہوں۔”
وہ قریب ھی ایک اور دکاندار فراز کے پاس گیا اور بولا:
“یہ لو تمہارے 300 روپے،
کل جب تم سامان لینے آئے تھے،
میں نے تم سے زیادہ پیسے لے لیے تھے۔”

فراز ہنس کر بولا:
“اگر زیادہ لے لیے تھے تو واپس کر دیتے جب میں دوبارہ آتا۔
اتنی صبح صبح آنے کی کیا ضرورت تھی؟”
عبدالرحمٰن نے کہا:
“اگر میں تمہارے آنے سے پہلے مر گیا تو؟
تمہیں تو پتہ بھی نہ چلتا کہ تمہارے پیسے میرے پاس ہیں۔
اسی لیے لوٹا دیے۔
کبھی نہیں پتا کہ اللہ پاک کب حساب لے لے،
اور سزا میرے بچوں کو نہ بھگتنی پڑے۔”

یہ سن کر فراز خاموش ہوگیا۔
اس کے دل میں ایک زخم جاگا
دس سال پہلے اس نے ایک دوست کاشف سے تین لاکھ روپے قرض لیے تھے۔
اگلے دن ہی کاشف کا انتقال ہو گیا۔

کاشف کے گھر والوں کو اس قرض کا علم نہ تھا،
تو کسی نے تقاضا نہیں کیا۔
لالچ میں آکر فراز نے کبھی خود بھی واپس نہیں کیا۔
آج کاشف کا گھرانہ غربت میں زندگی گزار رہا تھا،
بیوہ عورت گھروں میں نوکریاں کر کے بچوں کو پال رہی تھی،
اور فراز ان کا حق دبائے بیٹھا تھا۔

عبدالرحمٰن کے الفاظ “اللہ پاک کسی بھی وقت حساب لے سکتا ھے”
فراز کے دل و دماغ میں گونجنے لگے۔

دو تین دن کی بےچینی کے بعد
فراز کا ضمیر جاگ اٹھا۔
اس نے بینک سے تین لاکھ روپے نکالے
اور اپنے دوست کے گھر گیا۔
کاشف کی بیوہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔
فراز نے اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگی۔
تین لاکھ روپے اس کے لیے بہت بڑی رقم تھی
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،
اور اس نے فراز کو دعائیں دیں۔

یہ وھی عورت تھی
جو دس روپے واپس کرنے دو بار دکاندار کے پاس گئی تھی۔

جو لوگ دیانتداری اور محنت سے جیتے ہیں،
اللہ پاک ان کا امتحان ضرور لیتا ھے،

مگر کبھی چھوڑتا نہیں۔
ایک دن ان کی دعا ضرور سنی جاتی ھے۔
اللہ پاک پر یقین رکھو۔

* *“ایمانداری ایمان کا حصہ ھے، اور ناحق مال انسان کے رزق سے برکت چھین لیتا ھے”؟*

22/10/2025

مولانا روم سے 5 سوال پوچھے گئے، مولانا روم کے جواب غور طلب ہیں۔
سوال ۔ 1 ۔ خوف کس شے کا نام ہے ؟
جواب ۔ غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے ۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک مُہِم جُوئی میں تبدیل ہو جاتا ہے
‏سوال ۔ 2 ۔ حَسَد کِسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ دوسروں میں خیر و خُوبی تسلیم نہ کرنے کا نام حَسَد ہے ۔ اگر اِس خوبی کو تسلیم کر لیں تو یہ رَشک اور کشَف یعنی حوصلہ افزائی بن کر ہمارے اندر آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
‏سوال ۔ 3 ۔ غُصہ کس بلا کا نام ہے ؟
جواب ۔ جو امر ہمارے قابو سے باہر ہو جائے ۔ اسے تسلیم نہ کرنے کا نام غُصہ ہے ۔ اگر کوئی تسلیم کر لے کہ یہ امر اُس کے قابو سے باہر ہے تو غصہ کی جگہ عَفو ۔ درگذر اور تحَمّل لے لیتے ہیں
‏سوال ۔ 4۔ نفرت کسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ کسی شخص کو جیسا وہ ہے ویسا تسلیم نہ کرنے کا نام نفرت ہے ۔ اگر ہم غیر مشروط طور پر اُسے تسلیم کر لیں تو یہ محبت میں تبدیل ہو سکتا ہے.
‏سوال ۔ 5 ۔ زہر کسے کہتے ہیں ؟
جواب ۔ ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہو ” زہر“ بن جاتی ہے خواہ وہ قوت یا اقتدار ہو ۔ انانیت ہو ۔ دولت ہو ۔ بھوک ہو ۔ لالچ ہو ۔ سُستی یا کاہلی ہو ۔ عزم و ہِمت ہو ۔ نفرت ہو یا کچھ بھی ہو.
(ماخوذ)

خاکپائےنقشبندو اولیا
#قراةالعین زینب ایڈووکیٹ

09/10/2025

جادوگر کی توبہ کے بعد کا اعتراف
ایک جادوگر نے اپنی توبہ کے بعد ایک عجیب حقیقت بیان کی۔ وہ کہتا ہے
میں جنات کو لوگوں پر جادو کرنے کے لیے بھیجا کرتا تھا۔ کچھ لوگ ایسے تھے جن پر جادو فوراً اثر کر جاتا، لیکن کچھ کے بارے میں جنات واپس آکر کہتے
"ہم نے اس کی آواز سنی مگر اسے دیکھا نہیں۔"
کچھ کے بارے میں وہ کہتے
"ہم نے اسے دور سے دیکھا لیکن وہ ہماری نگاہوں سے غائب ہوگیا۔"
اور کچھ کے پاس جا کر وہ یوں لوٹتے
"ہمیں وہ کہیں نہیں ملا۔"
پھر میں نے مَرَدہ (طاقتور جنات) کو بھیجا، مگر وہ بھی ناکام ہو کر پلٹ آتے اور کہتے
"ہم نے اسے پایا ہی نہیں۔"
آخرکار میں نے عفریتوں کو بھیجا، جو سب سے زیادہ قوی اور خطرناک جنات ہوتے ہیں، لیکن وہ بھی کہنے لگے
"ہم نے مشرق و مغرب کی سرزمین چھان ماری، مگر اس شخص کو نہیں ڈھونڈ سکے۔"
میں حیران ہو کر کہتا
"وہ تو اپنے گھر یا اپنی دکان پر ہے، پھر تمہیں کیوں نہیں ملا؟"
تو وہ جواب دیتے
"ہم وہاں گئے مگر وہ ہمیں نظر نہیں آیا۔"
اصل راز کیا ہے؟
جادوگر کہتا ہے
جب میں نے توبہ کی تو حقیقت کھلی کہ انسان ایک دوسرے سے اپنی تحصین (روحانی حفاظت)، ذکر اللہ، اور نماز کی پابندی میں مختلف ہوتے ہیں۔
جو لوگ بالکل حصار نہیں کرتے، ان کا شکار کرنا آسان ہوتا ہے۔
جو لوگ کبھی کرتے ہیں مگر غفلت یا نماز میں کوتاہی کرتے ہیں، ان کے بارے میں جنات کہتے "ہم نے آواز تو سنی مگر دیکھ نہ سکے۔"
اور جو لوگ ہمیشہ ذکر و اذکار اور نماز کے حصار میں رہتے ہیں، ان کے متعلق جنات کہتے
"ہم نے پوری زمین چھان ماری مگر اسے نہ ڈھونڈ سکے۔"
یہاں تک کہ اگر وہ ان کے بیچ رہتے ہوں تب بھی انہیں دکھائی نہیں دیتے۔

قرآن کی گواہی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا
(بنی اسرائیل: 45)
"اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک چھپا ہوا پردہ حائل کر دیتے ہیں۔
بھائیو اور بہنو!
یہ واقعہ ہمیں ایک بہت بڑا پیغام دیتا ہے کہ اصل حفاظت تعویذ یا دنیاوی تدبیروں میں نہیں بلکہ اللہ کی یاد، قرآن کی تلاوت اور نماز کی پابندی میں ہے۔
جو شخص اللہ کے ذکر میں جیتا ہے، وہ شیطان اور اس کے لشکر کے لیے گویا غائب ہو جاتا ہے۔
اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی اپنی حفاظت کا راز جان سکیں اور اللہ کی یاد سے جڑ جائیں۔

یہ کتاب PDF فارمیٹ میں مفت منگوانے کہ لئے وٹس اپنا نمبر ان بکس کیجئے
09/10/2025

یہ کتاب PDF فارمیٹ میں مفت منگوانے کہ لئے وٹس اپنا نمبر ان بکس کیجئے

21/09/2025

دنیا سے رحلت فرمانے سے 3 روز قبل جبکہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،

ارشاد فرمایا
کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"

تمام ازواج مطہرات
جمع ہو گئیں۔
تو
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے
دریافت فرمایا:
کیا
تم سب
مجھے اجازت دیتی ہو
کہ
بیماری کے دن
میں
عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"

سب نے کہا
اے اللہ کے رسول
آپ کو اجازت ہے۔

پھر
اٹھنا چاہا
لیکن اٹھہ نہ پائے
تو
حضرت علی ابن ابی طالب
اور
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے
اور
نبی علیہ الصلوة والسلام کو
سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔

اس وقت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو
گھبرا کر
ایک دوسرے سے پوچھنے لگے

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟

چنانچہ
صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور
مسجد نبوی میں
ایک رش لگ گیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا
پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نے اپنی زندگی میں
کسی کا
اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور
فرماتی ہیں:

"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور
اسی کو
چہرہ اقدس پر پھیرتی

کیونکہ
نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ
میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ
محترم اور پاکیزہ تھا۔"

مزید
فرماتی ہیں
کہ حبیب خدا
علیہ الصلوات والتسلیم
سے
بس یہی
ورد سنائی دے رہا تھا
کہ
"لا إله إلا الله،
بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"

اسی اثناء میں
مسجد کے اندر
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔

نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
یہ
کیسی آوازیں ہیں؟

عرض کیا گیا
کہ
اے اللہ کے رسول!
یہ
لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔

ارشاد فرمایا کہ
مجھے ان کے پاس لے چلو۔
پھر
اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن
اٹھہ نہ سکے
تو
آپ علیہ الصلوة و السلام پر
7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے،
تب
کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا
تو
سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔

یہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا
آخری خطبہ تھا
اور
آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔

فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید
تمہیں
میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"

ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں،
تم سے
میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے،

اللہ کی قسم گویا کہ
میں یہیں سے
اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،

اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر
تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر
دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے،
کہ
تم اس (کے معاملے) میں
ایک دوسرے سے
مقابلے میں لگ جاؤ گے

جیسا کہ
تم سے پہلے
(پچھلی امتوں) والے لگ گئے،
اور
یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے گی
جیسا کہ
انہیں ہلاک کر دیا۔"

پھر
مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،
اللہ سےڈرو۔
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،

(یعنی عہد کرو
کہ نماز کی پابندی کرو گے،
اور
یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)

پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،

میں تمہیں
عورتوں سے
نیک سلوک کی
وصیت کرتا ہوں۔"

مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا
کہ
دنیا کو چن لے
یا اسے چن لے
جو
اللہ کے پاس ہے،
تو
اس نے اسے پسند کیا جو
اللہ کے پاس ہے"

اس جملے سے
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد
کوئی نہ سمجھا حالانکہ
انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ
وہ
تنہا شخص تھے
جو
اس جملے کو سمجھے اور
زارو قطار رونے لگے
اور
بلند آواز سے
گریہ کرتے ہوئے
اٹھہ کھڑے ہوئے
اور
نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔

"ہمارے باپ دادا
آپ پر قربان،
ہماری
مائیں آپ پر قربان،
ہمارے بچے آپ پر قربان،
ہمارے مال و دولت
آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں
اور
یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے
کہ
انہوں نے
نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کر دی؟

اس پر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع
ان الفاظ میں فرمایا:

"اے لوگو۔۔۔!
ابوبکر کو چھوڑ دو
کہ
تم میں سے ایسا کوئی نہیں
کہ جس نے
ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو
اور
ہم نے
اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو،
سوائے ابوبکر کے،
کہ
اس کا بدلہ
میں نہیں دے سکا۔
اس کا بدلہ
میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔

مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں،

سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ
جو کبھی بند نہ ہوگا۔"

آخر میں
اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے
آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے،
تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔

اور
آخری بات
جو ممبر سے اترنے سے پہلے
امت کو
مخاطب کر کے
ارشاد فرمائی
وہ
یہ کہ:"اے لوگو۔۔۔!
قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو
میرا سلام پہنچا دینا۔"

پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
دوبارہ سہارے سے
اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔

اسی اثناء میں
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے
اور
ان کے ہاتھ میں مسواک تھی،

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
مسواک کو دیکھنے لگے لیکن
شدت مرض کی وجہ سے
طلب نہ کر پائے۔

چنانچہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں
اور
انہوں نے
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے کر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے
دہن مبارک میں رکھ دی،

لیکن
حضور صلی اللہ علیہ و سلم
اسے استعمال نہ کر پائے
تو
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم
صلی اللہ علیہ وسلم سے
مسواک لے کر
اپنے منہ سے نرم کی اور
پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی
تاکہ دہن مبارک
اس سے تر رہے۔

فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو
نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے
پیٹ میں گئی
وہ
میرا لعاب تھا،
اور
یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا
کہ
اس نے وصال سے قبل میرا
اور
نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"

اُم المؤمنين
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں
اور
آتے ہی رو پڑیں
کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ
نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا
کہ
جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم
انکے ماتھے پر
بوسہ دیتے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
اے فاطمہ! "
قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے
ان کے کان میں
کوئی بات کہی
تو
حضرت فاطمہ
اور
زیادہ رونے لگیں،

انہیں اس طرح روتا دیکھ کر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
پھر فرمایا
اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں
کوئی بات ارشاد فرمائی
تو
وہ خوش ہونے لگیں

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد
میں نے
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا
کہ
وہ کیا بات تھی
جس پر روئیں
اور
پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں
کہ
پہلی بار
(جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔

جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب
انہوں نے
مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو
فرمانے لگے: "فاطمہ!
میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے
تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر
میں خوش ہوگئی۔۔۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
سب کو
گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ!
میرے قریب آجاؤ۔۔۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی
اور
ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے
وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔

(میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء
اور
صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)

صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں
سمجھ گئی
کہ
انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"

جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله!
ملَکُ الموت
دروازے پر کھڑے
شرف باریابی چاہتے ہیں۔
آپ سے پہلے
انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"

آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"

ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے،
اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله!
مجھے اللہ نے
آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے
کہ
آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں
یا
الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"

فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے،
مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"

ملَکُ الموت
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے
سرہانے کھڑے ہوئے
اور
کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف
جو
غضبناک نہیں۔۔۔!"

سیدہ عائشہ
رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا،
اور
سر مبارک
میرے سینے پر
بھاری ہونے لگا،
میں
سمجھ گئی
کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔

مجھے اور تو
کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں
اپنے حجرے سے نکلی اور
مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔

"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!
رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"

مسجد آہوں
اور
نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر
علی کرم الله وجہہ
جہاں کھڑے تھے
وہیں بیٹھ گئے
پھر
ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔

ادھر
عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ
معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔

اور
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ
تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار!
جو کسی نے کہا
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں،
میں
ایسے شخص کی
گردن اڑا دوں گا۔۔۔!

میرے آقا تو
الله تعالی سے
ملاقات کرنے گئے ہیں
جیسے
موسی علیہ السلام
اپنے رب سے
ملاقات کوگئے تھے،

وہ لوٹ آئیں گے،
بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔!
اب جو
وفات کی خبر اڑائے گا، میں
اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"

اس موقع پر
سب سے زیادہ ضبط، برداشت
اور صبر کرنے والی شخصیت
سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔
آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے،
رحمت دوعالَم
صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر
سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔

کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه

(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔!
ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!
ہائے میرا محبوب۔۔۔!
ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر
آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر
بوسہ دیا
اور کہا:"یا رسول الله!
آپ پاکیزہ جئے
اور
پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے
اور خطبہ دیا:
"جو
شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی
عبادت کرتا ہے سن رکھے

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور
جو الله کی عبادت کرتا ہے
وہ جان لے
کہ الله تعالی شانہ کی ذات
ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"

سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔

عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر
میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں
اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ
نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"

پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."

(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ
اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
ہم جبریل کو
ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔

میں نے آج تک
اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔

اسلۓ
آپ سے گزارش ہے
کہ
آپ اسے پورا سکون
و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔
ان شاء اللہ,
آپکا ایمان تازہ ہو جاۓ گا۔“🌹

12/08/2025

🍂🎋🍁🌾💐🍃💫🥀🌿

ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔
حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔

"انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے —
یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے،
جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔

1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔
آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔
لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں —
تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔

2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔
اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔
لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔
عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔

3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔
آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔
اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے —
جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔

4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے
اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی —
تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا
اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر —
یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔

5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے —
جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔
ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے
اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔
یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔

ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ —
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔
یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔
اور یہی عدل ہے۔

📖
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"

"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورہ النحل، آیت 90)

Address

Shadman Town
Karachi
76400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ruhaniyat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ruhaniyat:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram