30/12/2022
ساٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ سے انکار کرکے، مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے والے سرجن محمد خان کی کہانی
قاضی آصف , کراچی
Via DR. Mujeeb Rehman
Team Tele PolyClinic . Join it.
کچھ عرصہ قبل ایک خوبصورت شام، کراچی پریس کلب کی چھت پر اسلام آباد سے آئے ہوئے صحافی اور ڈاکٹر دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں جب قربان بلوچ نے بتایا کہ کبھی آپ نے یہ سنا کہ ملک کے ٹاپ کلاس کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجن دو تین لاکھ کی تنخوا پر ساٹھ لاکھ روپے مہانہ تنخواہ سے انکار کر دے؟
مجھے اپنے کانوں پر اعتبار نہیں آیا۔
میں سوالیہ نظروں سے قربان کی طرف دیکھتا رہا، انہوں نے محسوس کیا کہ میں ان کی بات پر اعتبار نہیں کر رہا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، میں کوئی جھوٹ نہیں بول رہا۔ یہ سچ ہے۔ وہ سرجن میرے آبائی شہر سے ہے۔ قربان نے مجھے جو بتایا، اس کو میں نے مان تو لیا لیکن،،،کھٹکا لگا رہا۔
ہمارے معاشرے میں ایسے بھی لوگ ہیں، کون، اعتبار کرے؟
ہمارے غریب ملک میں کچھ ایسی مثالیں ہیں جس پر دنیا حیرت میں رہتی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایدھی ایمبولینس سروس، دنیا میں سب سے بڑے مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ ڈاکٹر ادیب رضوی کا سینٹر اور دنیا میں پہلا مفت لیور کڈنی ٹرانسپلانٹ سینٹر گمبٹ اور دنیا میں سب سے بڑی دل کا مفت اعلاج اور بائی پاس آپریشن کا ادارہ این آئی سی وی ڈی یہ پاکستان اور خاص طور پر سندھ ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ سچ اور حقیقت ہے۔
ایک تصور کہ پاکستان میں کچھ نہیں، اور خاص طور پر سندھ میں فقط کرپشن اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں۔ لیکن کئی ایسی مثالیں ہیں جس پر میڈیا اوردیگر اداروں کی توجہ نہیں جاتی۔کونکہ ان کو سندھ اور پاکستان کا فقط منفی رخ ہی دکھانا ہے۔
قربان بلوچ نے اسی محفل میں شامل ڈاکٹر جو ہمارے دوست ہیں، اس کی طرف اشارہ کرکے کہا، ساٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخوا سے انکار کرنے والا کڈنی سرجن یہی آپ کے قریب بیٹھا ہے۔
مینے ان کو سلام کیا . اور حال احوال کیا.
ڈاکٹر محمد خان ببر نے بتایا کہ جب انہوں نے دوہزار پندرہ 2015 میں ڈاکٹر ادیب رضوی سے اجازت لے کر گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس جوائن کیا تو لاہور سے ایک بڑے اسپتال کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا کہ وہ ان کو ماہانہ چالیس لاکھ روپے دینے کو تیار ہیں، وہ لاہور آجائیں. ڈاکٹر محمد خان نے انکار کیا کہ نہیں , انہیں یہیں گمس ہسپتال گمبٹ میں کام کرنا ہے۔ انہیں اپنے لوگوں کی خدمت کرنی ہے.
پھر دو ہزار سترہ میں، ڈاکٹر محمد خان کے جاننے والے سے لاہور کی اسی اسپتال والوں نے رابطہ کیا اور ڈاکٹر سے مذاکرات کے دوران ساٹھ لاکھ روپے مہانہ دینے کی آفر کی۔ اس وقت لاہور میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے فی مریض تیس لاکھ روپے وصول کئے جاتے تھے۔ اور یہاں سندھ میں یہ ٹرانسپلانٹ مفت میں ہو رہا تھا۔ ایک SIUT کراچی میں اور دوسرا گمس ہسپتال گمبٹ میں.
میں نے ڈاکٹر محمد خان سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب، آپ نے ساٹھ لاکھ روپے ماہانہ لینے سے انکار کیا، یہاں گمس میں کتنی تنخواہ ملتی ہے؟
انہوں نے بتایا کہ یہاں میری تنخوا چار لاکھ روپے کے قریب ہے، پر ٹیکس وغیرہ کاٹیں تو اور کم ہوجا تی ہے.
میرا سر فخر سے بلند ہوگیا۔ سندھ اور پاکستان میں سب کچھ بربادی نہیں۔ ابھی بہت کچھ ہے۔
ڈاکٹر محمد خان سندھ کے دور دراز علاقے جوہی سے تعلق رکھتے ہیں، جو سندھ اور بلوچستان کے پہاڑوں کے سلسلے میں آباد ہے. بچپن سے ہی انہیں مظلوم و محکوم عوام سے محبت تھی، اور ان کی خدمت، اور غربت ختم کرنے کا جنون جاگا۔
بنیادی طور پر انقلابی اور باغی ہیں.
غریب دوست , اور کسان دوست ہیں
بائیں بازو کی سیاست سے دلچسپی رہی , یعنی سوشلسٹ اور لیفٹسٹ تھے. اسی ساتھ میں شامل ہوئے جو غربت کو ختم کرنا چاہتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب خود بھی بنیادی طور پر کوئی امیر خاندان سے نہیں۔ اپنی محنت اور عوام سے محبت کی لگن میں وہ مہارت حاصل کی جو ایک خواب اور پاکستان کی ضرورت ہے۔
وہ ڈاکٹر ادیب رضوی کی ٹیم میں شامل ہوئے، کراچی میں کئی دہائیاں ایس آئی یو ٹی میں کام کیا۔ غریبوں کے مفت آپریشن کیئے۔ یہ ڈاکٹر ادیب رضوی کا کمال ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر محمد خان، ڈاکٹر مرلی دھر سمیت بہت سے کمیٹیڈ ڈاکٹر تیار کئے اور اب دنیا کے مانے ہوئے کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجن ہیں۔ لیکن سب سے بہتر یہ بات کہ انہوں نے مال بنانے کیلئے یہ مہارت حاصل نہیں کی بلکہ، ننگے پائوں، پھٹے کپڑوں، جھونپڑیوں میں رہنے والوں، ایک وقت کا کھانا کھانے کی سکت نہ رکھنے والوں سے محبت اور خدمت کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ابھی تک نبھا رہے ہیں۔ کمانا چاہیں تو کروڑ پتی بننا مسئلہ نہیں لیکن وہ یہیں مطمئن ہیں۔ مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ کرتے ہیں، اور اپنے ضمیر اور نظریے پر خوش ہیں۔ یہی ہمارے سماج کا فخر ہیں۔ یہی تاریخ کے مثال ہیں۔ ڈاکٹر محمد خان ببر صاحب . آپ قوم کے ہیرو ہیں. آپ سندھ کے ہیرو ہیں. آپ پاکستان کے ہیرو ہیں. آپ سب ڈاکٹرز کے ہیرو ہیں.