Doctor Online

Doctor Online Homeopathic Treatment Services
We are providing treatment for Vitiligo,Chronic skin problems,all ty You do not need to come to the clinic. It is easy.

Welcome to my channel Doctor Online is the first virtual clinic in Pakistan for all over the world. Get safe and cost effective homeopathic, herbal and nutrition treatment for your diseases. It is good to take second opinion rather than to suffer in silence or opt for a surgical operation. Give a call or contact at sameurmind@gmail.com.

17/08/2025
MUST READ........سبز چھوٹی الائچی میرے ایک جاننے والے مخلص ہیں‘ میں جب بھی ان سے ملاقات کرتا ہوں ابھی دور سے ہی مسکراتے ...
29/07/2025

MUST READ........

سبز چھوٹی الائچی
میرے ایک جاننے والے مخلص ہیں‘ میں جب بھی ان سے ملاقات کرتا ہوں ابھی دور سے ہی مسکراتے ہیں‘ جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں ایک سبز چھوٹی الائچی چمکتی ‘دمکتی میری ہتھیلی پر رکھ کر خوب جی بھر کر مصافحہ اور معانقہ کرتے ہیں اور بعض اوقات تو ایسا کرتے ہیں کہ الائچی نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ منہ کھولو اور منہ میں الائچی ڈال دیتے ہیں‘خوش ہوتے ہیں‘ اعلیٰ درجہ کے مہمان نواز‘ مخلص‘ ملن سار‘ مرنجاں مرنج ہیں۔ ان کی ساری صفات بہت اچھی لیکن یہ صفت کہ وہ الائچی ہر آنے والے کو ضرور کھلاتے ہیں اور ان کی جیب میں الائچی لازم موجود ہوتی ہے۔ ایک بار میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ ہروقت اپنے پاس الائچی کیوں رکھتے ہیں؟
سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر
کہنے لگے: ہوا یہ کہ میں مصر گیا اور قاہرہ ایئرپورٹ پر بیٹھا ہوا تھا‘ ایک ہوٹل مینجمنٹ سے ہمارا پیکیج طے تھا کہ انہوں نے مجھے لینے آنا تھا اور ٹیکسی آنے میں دیر ہوئی‘ میرے ساتھ ایک مصری آکر بیٹھا اور بیٹھتے ہی اس نے مجھے چھوٹی الائچی دی‘ مسکرایا‘ سلام کیا‘ ہاتھ ملایا اور بہت خوش ہوا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے مجھے چھوٹی الائچی کیوں دی؟ تو اس نے مجھے اپنی مصری عربی میں بہت اعتماد سے بتایا چھوٹی الائچی منہ کو خوشبودار رکھتی ہے‘ مسوڑھوں کی بیماری قریب نہیں آنے دیتی جس کے منہ میں چھوٹی الائچی ہوتی ہے‘ اس کے دانتوں میں اگر خون آتا ہو‘ مسوڑھے گل گئے ہوں‘ منہ میں پرانے چھالے ہوں اور زخم ہوں‘ وہ ختم ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ کہنے لگے: مجھے سگریٹ نوشی کی وجہ سے ایک دفعہ ڈاکٹر نے بُری خبر سنائی کہ تیرے منہ کے اندر کینسر کی علامات پیدا ہورہی ہیں‘ فوراً سگریٹ چھوڑ دو اور زبان کا کچھ حصہ سرجری سے کٹوا دو میں خوفزدہ ہوگیا۔
میں خود کو صحت مند محسوس کرنے لگا
میں نے سگریٹ فوراً چھوڑ دیا نامعلوم مجھے دل میں کیا خیال آیا میں نے بہترین الائچیاں لیں اور وہ فوقتاً فوقتاً دن میں منہ میں ڈالتا‘ چوستا چباتا رہتا کچھ ہی ماہ میں نے یہ عمل کیا‘ مجھے منہ میں تکلیف کا احساس ختم ہوگیا اور میں یہ تک بھول گیا کہ مجھے کوئی تکلیف ہے بلکہ میں اپنے آپ کو سوفیصد صحت مند محسوس کرنے لگا۔
منہ کا کینسر ختم‘ کہاں سے علاج کروایا
ایک دفعہ راہ گزرتے ہوئے میں اس ڈاکٹر کے پاس پھر چلا گیا اس نے چیک کیا اور چیک کرتے ہی حیرت سے مجھے دیکھ کر خاموش بیٹھا‘ پھر بولا: میری گزشتہ تشخیص کے مطابق آپ کے منہ میں کینسر کی جڑیں پیدا ہوچکی تھیں اور کینسر کے اثرات بڑھ رہے تھے لیکن اس وقت نہ کوئی کینسر ہے اور نہ کینسر کی علامات ہیں‘ آپ نے کہاں سے علاج کروایا اور کیسے علاج کیا۔ مجھے فوراً اس کی بات سمجھ آگئی اور میرا دل سوفیصد چھوٹی الائچی کی طرف متوجہ اور منتقل ہوگیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں چند ماہ سے مسلسل چھوٹی الائچی استعمال کررہا ہوں‘ بس جیب میں رکھتا ہوں اور چھوٹی الائچی چوستا رہتا ہوں‘ چباتا رہتا ہوں‘ اس نے میری بات سنی ان سنی کردی۔
آپ تو سائنس دان نکلے
فوراً اپنے کمپیوٹر کی طرف متوجہ ہوااور کچھ دیر کمپیوٹر پر جھکا‘ کچھ دیکھتا رہا‘ اس کے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور مسکراتی نظروں سے بولا: آپ تو سائنس دان نکلے‘ یہ ٹوٹکہ آپ نے کیسے ڈھونڈ نکالا ۔میں نے پوچھا مثلاً کیسے؟ کہنے لگا: میں نے فوراًانٹر نیٹ کا سہارا لیا اور الائچی پر جو اس دقت دنیا میں جتنی بھی ریسرچ ہوئی تھی ہر تحقیق پر سرسری نظر ڈالتے ڈالتے آگے چلتا گیا‘ ایک جگہ میں جاکر رک گیا لکھا ہوا ہے کہ الائچی منہ کے کینسر کا علاج‘ ناک اور زبان کے کینسر کا علاج ہے۔ الائچی دماغ کو روشن‘ نظر کو تیز یادداشت کو مضبوط کرتی ہے اور الائچی استعمال کرنے والا فرد کبھی ڈھلتا اور بوڑھا نہیں ہوتا۔
نسلوں میں بیٹے زیادہ چاہتے ہیں الائچی کھائیے
وہ ڈاکٹر بول رہا تھا اور میں حیرت سے اس کو تک رہا تھا اور کہنے لگا: مزید اس کے فوائد یہ ہیں کہ جوشخص الائچی استعمال کرے گا اس کی نسلوں میں بیٹے زیادہ ہونگے اور اس کو معدہ اور بواسیر کی بیماری سے ہمیشہ حفاظت رہے گی‘ وہ مصری بول رہا تھا اور میں سن رہا تھا۔ الائچی ساری عمر دیکھی اور الائچی کو ساری عمر قریب سے پرکھا لیکن اس انداز سے الائچی کو دیکھنا میرے لیے ایک حیرت کی بات تھی۔ بس میں انتظار میں تھا شاید وہ مصری بھی کسی کے انتظار میں تھا۔
بس اب ہروقت منہ میں الائچی رکھتا ہوں
یہ تھوڑی سی بات ہوئی میری گاڑی مجھے لینے آگئی میں نے ان کا شکریہ ادا کیا‘ چل دیااس دن کے بعدمیں ہروقت منہ میں الائچی رکھتا ہوں پھر خیال آیا جس چیز کو اپنے لیے پسند کرتا ہوں کسی دوسرے کے لیے کیوں نہ پسند کروں‘ لہٰذا میں نے اسے دوسروں کیلئے پسند کرنا بھی شروع کردیا اور جب سے میں نے لوگوں کو الائچی دینا شروع کی ہے میرے دوست بڑھ گئے اور لوگ اس کے فوائد بہت بتارہے ہیں ایک صاحب کو دائمی نزلہ اورکیرا تھا کہنے لگے میرا دائمی نزلہ ختم ہوگیا۔ ایک صاحب اپنی یاداداشت بالکل کھو چکے تھے وہ سارا دن منہ میں الائچی رکھ کر اپنے کام کاج کرتے رہتے تھے اب عالم یہ ہے کہ انہیں بچپن کی بھولی ہوئی باتیں بھی یاد آرہی ہیں اور وہ خود کہتے ہیں الائچی نے مجھے نئی زندگی دی‘ نئی صحت دی‘ نئی تندرستی دی اور میں الائچی استعمال کرکے ایک نہایت کامل اور صحت مند زندگی گزار رہا ہوں۔
الائچی سے صحت مند زندگی کا انوکھا راز
قارئین ! یہ واقعہ جو میں نے آپ کو ابھی سنایا یہ صرف ایک نہیں ہماری طب میں اور سائنس کی دنیا میں الائچی کے کمالات اور الائچی کی تاثیر بہت زیادہ ہے اور الائچی سے صحت و زندگی کا انوکھا راز ملتا ہے۔ ہم کبھی بھی تنہا الائچی استعمال نہیں کررہے بنیادی طور پر الائچی ایک بہت بڑی طاقت‘ قوت‘ وٹامن اے سے زیڈ تک کا خزانہ ہے۔ لاعلاج بیماریوں کیلئے مستقل علاج ہے۔
ہر لاعلاج مریض کیلئے ایک پڑیا سفوف الائچی
یہ اس دور کی بات ہے جب ہم کالج پڑھتے تھے ہمارے ایک پروفیسر صرف چھوٹی الائچی کی اتنی باریک پسائی کرتے کہ ململ کے باریک کپڑے سے نکالتے اور آدھے چنے کے برابر اس کی پڑیا ہر لاعلاج مریض کو دیتے تھے۔ ان کے تجربہ کے مطابق ہمیشہ چھلکا سمیت الائچی پیستا ہوں اور ہرلاعلاج مریض کو یہی پڑیا دیتا ہوں۔ کسی کو دن میں ایک بار کسی کو دن میں تین سےچار بار کھانے کیلئے کہتا ہوں۔
بہترین تندرستی کا راز ہرگز نہ بھولیں!
آپ چاہے کوئی بھی بیماری کا علاج کررہے آپ نہیں چھوڑنا چاہتے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس صحت مند زندگی کو پانے کیلئے یہ بہترین علاج اور بہترین تندرستی کا راز آپ ہر گز نہ بھولیں اور اس تندرستی کے راز کو پانا
آپ کو اتنا تندرست اور صحت مند کردے گا اور آپ گمان و خیال اور سوچ سے بالا تر اپنی صحت اور زندگی پائیں گے۔ الائچی خوشبو بھی ہے‘ راحت بھی ہے‘ میں نے الائچی کے استعمال سے ایسے لوگوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت دیکھی جن کو ٹیسٹ بالکل زیرو قرار دے چکے تھے یا ایسے لوگوں کواولاد کی طرف کامل دیکھا کہ جو صرف اس وجہ سے گھر ٹوٹنے کا شکار تھے کہ ازدواجی زندگی سے وہ بالکل محروم تھے اور گھر ٹوٹنے ہی والا تھا اور طلاق ہونے ہی والی تھی کہ انہیں الائچی کا کسی نے مشورہ دیا اور انہوں نے الائچی کو استعمال کیا اور ان صحت مند لوگوں میں شامل ہوئے جو طاقت اور قوت کا خزانہ رکھتے تھے۔...
منقول۔۔

https://www.bbc.com/urdu/articles/cly2xwynj2po
17/07/2025

https://www.bbc.com/urdu/articles/cly2xwynj2po

اگرچہ ناک بہنا یا چھینک کے ساتھ سنوٹ کا فضا میں اڑنا کسی کو اچھا نہیں لگتا، مگر ناک کی جھلی میں موجود یہ لس دار مواد انسانی جسم کے عجائبات میں سے ایک ہے۔ یہ ہمیں بیرونی ...

23/03/2025

*ارجن: دل کا محافظ درخت*

ارجن (Arjun)ایک قد آور درخت ہے۔ جو ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، میانمار اور کچھ دوسرے ایشیائی ممالک میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ پتے امرود کے پتوں جیسے قریبا چار پانچ انچ لمبے اور ایک سے دو انچ چوڑے ہوتے ہیں اور دس پتوں سے لے کر پندرہ پتے ایک شاخ میں لگتے ہیں۔اسکے پھول لمبے اور گچھے نما ہوتے ہیں اور اسکے بیج لکڑی کی طرح اور پانچ کونوں والے ہوتے ہیں۔اس کے پھل لمبے اورسبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ ماہ جولائی میں اس کو پھل کثرت سے لگتے ہیں۔اسکو بیج اور قلم دونوں طریقوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

لاہور کے لارنس باغ میں بھی ارجن کے کئی درخت ہیں۔آج سے چالیس پچاس سال پہلے یہ درخت شہروں میں سڑک کنارے اکثر لگائے جاتے تھے لیکن بعد میں کسی دور میں ہزاروں کی تعداد میں ان پرانے درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ لیکن اب گذشتہ دس پندرہ سال میں محکمہ جنگلات پنجاب اور خصوصا موٹر وے اتھارٹی والوں نے اسکے سینکڑوں درخت لاہور۔اسلام آباد موٹر وے کے اطراف میں لگائے ہیں۔

اسکی لکڑی کافی ٹھوس قسم کی ہوتی ہے اوریہ ان درختوں میں شامل ہے جن کی لکڑی فی کیوبک میٹر ایک ٹن کے قریب ہوتی ہے۔یہ درخت سینکڑوں سال تک قائم رہتا ہے اور بظاہر اسے کوئی بیماری بھی نہیں لگتی۔

ایک اعلیٰ قسم کا ریشم کا کیڑاجسے Tussar silk کہا جاتا ہے، اس ریشم کے کیڑے اس درخت کے پتوں پر پالے جاتے ہیں۔

اس درخت کو طب میں بہت اہمیت حاصل ہے اور ہزاروں سال سے اس درخت کے مرکبات مختلف ادویات اور بیماریوں سے بچاؤ کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔خاص طور پر دل سے متعلقہ بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کیلئے اسکی چھال کو ابال کر پیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس درخت کو ''دل کا محافظ'' درخت بھی کہا جاتا ہے۔

ارجن کو ہندی میں ارجنا،سنسکرت میں ارجن پرکھش، تامل میں مردتنے، بنگالی میں ارجن، گجراتی میں ساجد ان اور انگریزی میں بھی Arjun Tree ہی کہتے ہیں، اسکا نباتاتی نام Terminalia arjuna ہے۔

ارجن میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا: ارجن کی چھال میں پندرہ فیصد ٹے نین، تیس فیصد کیلشِیم کاربونیٹ، سوڈیم اور گلوکوسائیڈ پایا جاتا ہے۔انکے علاوہ بیٹا سائیٹو سیٹرول،ٹرائی ٹرپی نائیڈسیونین،ارجونین،ارجونیٹین،ارجو نولک ایسڈ،فراری تیل،شکر،کے ساتھ تھوڑی مقدار میں میگنیشیم اور ایلومینیم کے نمکیات بھی ملتے ہیں۔

ارجنا کے پتوں سے ہومیوپیتھک میں مدر ٹنکچر (Q) تیار کی جاتی ہے۔ جو کہ دل کو طاقت دیتا ہے۔اس کی دھڑکن کو کم کرتا ہے۔ ارجن زہریلے اثرات سے پاک ہے۔

ارجن کے طبی فوائد:

دل کے امراض: ارجن کو دل کا محافظ درخت کہا جاتا ہے۔ اس کی چھال میں پایا جانے والا گلوکو سائیڈ انگریزی دواڈیجی ٹیلس (Digitalis)کی طرح دل کی دھڑکن کو ختم کرتا ہے اور دل کو طاقت دیتا ہے۔ تاہم ڈیجی ٹینس میں زہریلے ا ثرات ہوتے ہیں اور ارجن کی چھال کا گلو کو سائڈ بالکل بے ضرر ہوتاہے۔

اس کو دل کے فعلی اور عضویاتی امراض میں جیسے کہ درددل، انجائینا،خفقان،ورم بطانہ قلب،ورم غلاف القلب میں استعمال کیا جاتا ہے،اس کی سب سے اچھی خوبی اس کا بے ضرر ہونا ہے۔ اس کے دل پر کوئی زہریلے اثرات نہیں ہوتے۔ یہ ہائیپرٹینشن میں خاص طور پر مفید ہے۔

ارجن میں پائے جانے والے اجزاء دل کے نازک پٹھوں خون کی نالیوں کو مظبوط کرنے کے ساتھ خون میں چکنائی کو ہضم کرنے والے نظام کی اصلاح کر کے اسے فعال بناتے ہیں۔اینٹی اوکسیڈنٹ بطور دوا ایسے جزو کا نام ہے جو دوسرے اجزاء کو اکسیجن سے مل کر ٹھوس ہونے سے روکے جیسے کہ خون کی نالیوں میں چکنائی کا جمنا،ارجن کی چھال سے بننے والا قہوہ اپنی اینٹی اوکسیڈنٹ صلاحیت کی وجہ سے دل کے امراض میں انتہائی مفید ہے۔

ڈی این اے تحفظ: ارجن میں ایسے مرکبات ہیں جو ڈی این اے کو مختلف وجوہات سے پہنچنے والے نقصان سے بچانے میں معاون ہیں۔

قلبی صحت: یہ دل کے پٹھوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور خون کو پمپ کرنے کی دل کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں کارڈیو حفاظتی اقدامات ہیں، جو دل کے زیادہ سے زیادہ افعال کو محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے اور کارڈیک چوٹ کی بحالی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ عام طور پر مایوکارڈیل انفکشن (ہارٹ اٹیک) سے بچاؤ کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں اینٹی ایٹروجینک پراپرٹی ہے، جو کورونری شریانوں میں پیدا ہونے والی سختی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور دل کے ٹشووں میں خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کا علاج: ہائی بلڈ پریشر کیلئے ارجن ایک بہترین گھریلو علاج ہے۔ ہائی بلڈ پریشر ایک انتہائی سنگین طبی حالت ہے جو دل کی ناکامی، فالج، دل کا دورہ، گردے کی خرابی اور دیگر سنگین پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی عام علامات میں شدید سردرد، متلی، الٹی، الجھن، ناک سے خون بہنا وغیرہ شامل ہیں۔ لہذا قدرتی طور پر ہائی بلڈ پریشر کا علاج کرنے کے لئے ارجن سے بہتر کوئی قدرتی دوا نہیں ہے۔

بواسیر اور خون بہہنے والی امراض: ارجن میں پائے جانے والے قدرتی مادے میں اینٹی ہیمرجک پراپرٹی ہے، جس سے بہتے خون کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ یونانی طب میں عام طور پر دیگر جڑی بوٹیوں کے ساتھ خون بہہ جانے والی عوارض کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

ارجن کے دیگر استعمال: ارجن قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ارجن کی چھال کا جوشاندہ دست، پیچش، جریان خون اور جریان منی میں مفید ہے۔ اگر اس کی چھال کے جوشاندہ سے زخموں کو دھویا جائے تو جلدی مندمل ہو جاتے ہیں۔ اس کی چھال کے سفوف کو کیل مہاسے اور چھائیوں میں استعمال کرنا مفید ہے۔ معمولی چوٹ میں چھال کو پانی میں پیس کر لیپ کر لینا کافی ہے۔ اس کی چھال سے بہترین کھاد بنائی جاتی ہے۔ بنگال (مدنا پور) میں اس کی چھال خاکی کپڑہ رنگنے میں کام آتی ہے۔ ارجن کی چھال کا سفوف دودھ یا پانی کے ہمراہ چو ٹ لگنے اور ہڈی ٹوٹنے میں کھلاتے ہیں۔ جب کے خون جمنے سے جلد پر سرخ یا نیلے رنگ کے داغ پڑ گئے ہوں۔ پتے تیل میں جلا کر کان میں ڈالنا کان درد کے لئے مفید ہے۔ پھل کا سفوف چار گرام ہمراہ پانی قبض کو کھولتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

22/03/2025

ﻭﭨﺎﻣﻨﺰﺍﻭﺭ ﻣﻨﺮﻟﺰ آپکی صحت کے محافظ........
مصنوعی اور سینتھیٹک گولیاں اور کیپسول لینا چھوڑیے ...

ﻭﭨﺎﻣﻨﺰ / ﻣﻨﺮﻟﺰﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﻭﭨﺎﻣﻨﺰ / ﻣﻨﺮﻟﺰ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﺷﯿﺎﺀ !!

Vitamin A (Retinoids ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺟﻠﺪ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻓﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺋﭩﻨﺲ ﮐﻢ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺮوﺑﻠﺐ یا مدھم روشنی میں جیسے شام اور رات کے وقت ﺻﺤﯿﺢ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ !
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮔﺎﺟﺮ، ﺷﮑﺮﻗﻨﺪﯼ، ﭘﯿﭩﮭﮯ، ﺳﺎﮒ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺧﺮﺑﻮﺯﮮ، ﺷﻤﻠﮧ ﻣﺮﭺ، ﺑﻨﺪ ﮔﻮﺑﮭﯽ، ﮔﻮﺷﺖ، ﺍﻧﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﮌﻭ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin B1

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻦ، ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ، ﺗﯿﺰ ﺩﮬﮍﮐﻦ، ﭼﮑﺮ ﺁﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﮐﺎ ﮨﻮﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﻮﺭﺝ ﻣﮑﮭﯽ، ﺳﻼﺩ، ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﭘﺎﻟﮏ، ﻣﭩﺮ، ﺑﻄﻮﮞ، ﮔﻨﺪﻡ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﯾﺎ ﺑﯿﻦ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin B2 (Riboflavin ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﺎﻟﮯ، ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺮﺥ ﻧﺸﺎﻥ ﯾﺎ ﮐﮭﺮﻧﮉ ﺑﻨﻨﺎ، ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﮐﭧ ﻟﮓ ﺟﺎﻧﺎ، ﺑﮭﻮﮎ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺁﻭﺭ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﺜﺎﻧﮧ ﭘﺮ ﺟﻠﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺑﺎﺩﺍﻡ، ﺳﻮﯾﺎﺑﯿﻨﺰ، ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﭘﺎﻟﮏ، ﮔﻨﺪﻡ، ﺩﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﻭﮞ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin B3 (Niacin ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺳﺮﺥ ﻧﺸﺎﻧﺎﺕ، ﭘﯿﭽﺶ، ﯾﺎﺩﺍﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﺎﻟﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﺍﺳﭙﺮﺍﮔﻮﺱ، ﻣﻮﻧﮓ ﭘﮭﻠﯽ، ﺑﺮﺍﺅﻥ ﭼﺎﻭﻝ، ﻣﮑﺌﯽ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺳﺎﮒ، ﺷﮑﺮﻗﻨﺪﯼ، ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﮔﺎﺟﺮ، ﺑﺎﺩﺍﻡ، ﺷﻠﺠﻢ، ﺁﮌﻭ، ﺩﯾﺴﯽ ﻣﺮﻏﯽ، ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻣﻦ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin B5 (Pantothenic acid ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﻮﮌ ﭘﮍﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﺍﻭﺍﮐﺎﮈﻭ، ﮔﻨﺪﻡ، ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﺷﮑﺮﻗﻨﺪﯼ، ﺳﻮﺭﺝ ﻣﮑﮭﯽ، ﮔﻮﺑﮭﯽ، ﺳﺎﮒ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺍﻧﮉﮮ، ﭘﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺮﺍﺑﺮﯼ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin B6 (Pyridoxine ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍﮨﭧ، ﻧﯿﻨﺪ ﻧﮧ ﺁﻧﺎ، ﺟﻨﺠﮭﻼﮨﭧ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺗﭙﺶ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮔﻨﺪﻡ، ﺳﺎﮒ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺑﺮﺍﺅﻥ ﭼﺎﻭﻝ، ﭼﮭﻮﻟﮯ، ﮐﯿﻠﮯ، ﭨﻤﺎﭨﺮ، ﺍﺧﺮﻭﭦ، ﺍﻭﺍﮐﺎﮈﻭ، ﻣﭽﮭﻠﯽ، ﺷﻤﻠﮧ ﻣﺮﭺ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺴﯽ ﻣﺮﻍ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin B9 (Folic acid ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ، ﭘﯿﭽﺶ، ﻭﺯﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﺎﻟﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﺎﮒ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺳﻼﺩ، ﺍﺳﭙﺮﺍﮔﻮﺱ، ﮔﺮﮔﻞ، ﻟﻮﺑﯿﺎ، ﻣﭩﺮ،ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﺍﻭﺍﮐﺎﮈﻭ، ﭨﻤﺎﭨﺮ، ﮐﯿﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﭙﯿﺘﮯ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin B12 (Cobalamin ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺩﯾﺴﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯽ ﮐﻠﯿﺠﯽ، ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﻭﮞ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin C (Ascorbic acid ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﺎﻟﮯ، ﻣﺴﻮﮌﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﻮجنا، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﻣﯿﮟ ﺧﺸﮑﯽ، ﻣﺴﻮﮌﻭﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ، ﺟﻮﮌﻭﮞ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ، ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺮﻧﺎ، ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﺧﻢ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﻣﺮﻭﺩ، ﺷﻤﻠﮧ ﻣﺮﭺ، ﻣﺎﻟﭩﮯ، ﮐﯿﻮﯼ، ﺳﭩﺮﺍﺑﺮﯼ، ﺧﺮﺑﻮﺯﮮ، ﺷﮑﺮﻗﻨﺪﯼ، ﺍﻧﻨﺎﺱ، ﮔﻮﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﻨﺠﻮﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin D (Calciferol, 1,25-dihydroxy)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﭨﯿﮍﮬﺎ ﭘﻦ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺳﺎﺋﺰ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ / ﺑﮍﺍ ﮨﻮﻧﺎ، ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﮍﺍ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺩﮬﻮﭖ، ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin E (tocopherol ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﺷﺎﺫﻭﻧﺎﺩﺭ ﮨﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ، ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﺠﮭﻦ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﺎﮒ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺑﺎﺩﺍﻡ، ﺯﯾﺘﻮﻥ، ﮈﺭﺍﺋﯽ ﻓﺮﻭﭦ، ﭨﻤﺎﭨﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺍﮐﺎﮈﻭ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
Vitamin H (Biotin ‏)

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺷﺎﺫﻭﻧﺎﺩﺭ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﮉﮮ ﮐﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﺣﺼﮧ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮨﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﻣﮑﺎﻥ ﮨﮯ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﺎﮒ، ﭘﺎﻟﮏ، ﮈﺭﺍﺋﯽ ﻓﺮﻭﭦ، ﺍﻭﺍﮐﺎﮈﻭ، ﺷﮩﺘﻮﺕ، ﮔﻮﺑﮭﯽ، ﮔﺎﺟﺮ، ﭘﭙﯿﺘﮯ، ﮐﯿﻠﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﻭﮞ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Vitamin K

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﯿﻤﺮﺝ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﯽ ﺁﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﺎﮒ، ﭘﺎﻟﮏ، ﻣﭩﺮ، ﭘﯿﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﺟﺮ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﻨﺮﻟﺰ
ﻣﻨﺮﻟﺰ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮﭘﻮﺳﭧ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﻨﺮﻟﺰ ﮐﻮ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﻧﮯ ﺩﻭﮔﺮﻭﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﺮﻟﺰ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﻮ ﮨﯿﮟ۔

ﭘﮩﻼ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮑﺮﻭﻣﻨﺮﻟﺰ !
ﯾﮧ ﮔﺮﻭﭖ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﺮﻟﺰﭘﮍ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﮨﮯ۔

Calcium ﮐﯿﻠﺸﯿﻢ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮉﯾﺎﮞ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﮍﮬﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺩﻭﺩﮪ، ﺩﮨﯽ، ﭘﻨﯿﺮ، ﻣﮑﮭﻦ، ﻟﺴﯽ، ﺳﺎﮒ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺑﮭﻨﮉﯼ، ﺍﻭﺭ ﺗﻞ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Phosphorus ﻓﺎﺳﻔﻮﺭﺱ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺍﺯ ﻭﻗﺖ ﺣﻤﻞ ﮔﺮﺟﺎﻧﺎ، ﭘﭩﮭﻮﮞ ﮐﺎﺩﺭﺩ، ﺭﯾﮍﮪ ﮐﯽ ﮨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﮨﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﻭﭨﺎﻣﻦ ﮈﯼ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﺍﻧﮉﮮ، ﻣﭽﮭﻠﯽ، ﻣﮑﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺴﯽ ﻣﺮﻍ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Potassium ﭘﻮﭨﺎﺷﯿﻢ

ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻟﮓ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺷﮑﺮﻗﻨﺪﯼ، ﭨﻤﺎﭨﺮ، ﺳﺎﮒ، ﮔﺎﺟﺮ، ﺁﻟﻮﺑﺨﺎﺭﮦ، ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﻓﺮﻣﺎﻧﯽ، ﭘﯿﭩﮭﮯ، ﻣﭽﮭﻠﯽ، ﮐﮭﺠﻮﺭ، ﮐﺸﻤﺶ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻤﺒﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
Magnesium ﻣﯿﮕﻨﯿﺸﯿﻢ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯿﻮﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻧﮩﻈﺎﻡ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮉﻧﯽ ﺳﭩﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﻧﻮﺷﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮕﻨﯿﺸﯿﻢ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺧﻄﺮﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﺒﺰﯾﻮﮞ، ﮈﺭﺍﺋﯽ ﻓﺮﻭﭨﺲ، ﭘﮭﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺍﮐﺎﮈﻭ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Salt (sodium chloride ‏) ﺳﺎﻟﭧ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﺵ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺳﺮﺩﺭﺩ ﺍﻭﺭ ﭼﮑﺮ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﺒﺰﯾﻮﮞ، ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﮈﺭﺍﺋﯽ ﻓﺮﻭﭨﺲ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﻣﻨﺮﻟﺰ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮔﺮﻭﭖ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﻮ ﻣﻨﺮﻟﺰ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻣﺎﺋﮑﺮﻭﻣﻨﺮﻟﺰ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

Iron ﺁﺋﺮﻥ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻧﯿﻤﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﮐﺎ ﭘﮭﯿﮑﺎ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞﮑﺎ ﺟﮭﮍﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻧﮑﺎ ﺭﻭﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻔﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﺁﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺎﮨﻮﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﺷﺪﺕ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﻟﻌﻤﻮﻡ ﺣﺎﻣﻠﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺟﻠﺪ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺑﺎﺩﺍﻡ، خرﻣﺎﻧﯽ، ﺑﮭﻨﮯ ﭼﻨﻮﮞ، ﮐﮭﺠﻮﺭ، ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﮐﺸﮑﻤﺶ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺳﺎﮒ، ﺑﺮﺍﺅﻥ ﭼﺎﻭﻝ، ﭘﯿﭩﮭﮯ، ﻓﺶ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺴﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Zinc ﺯﻧﮏ

ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺪﺍﻓﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﯿﺨﺎﻟﻒ ﺟﺴﻢ ﺻﺤﯿﺢ ﻃﺮﺡ ﺩﻓﺎﻉ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﺎ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺗﻞ، ﻣﭩﺮ، ﮐﺎﺟﻮ، ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺴﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Copper ﮐﺎﭘﺮ

ﺍﺱ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﮞ ﮐﺎ ﺩﻭﺩﮪ ﻧﮧ ﭘﻼﺋﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﮔﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﭘﻼﺋﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﮧ ﮐﻤﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﭘﺎﻟﮏ، ﺳﺎﮒ، ﺟﻮ، ﺩﺍﻟﻮﮞ، ﮐﺎﺟﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺴﯽ ﮐﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﮐﻠﯿﺠﯽ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Chromium ﭼﺮﻭﻣﯿﻢ

ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺍﻧﺴﻮﻟﯿﻦ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﭩﮭﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺳﻼﺩ، ﭘﯿﺎﺯ، ﭨﻤﺎﭨﺮ، ﺁﻟﻮ، ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﺁﻟﻮﺑﺨﺎﺭﮮ، ﺍﻭﺭ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﻮﮦ ﺟﺎﺕ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Fluoride ﻓﻠﻮﺭﺍﺋﮉ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ﻟﮓ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﭘﺎﻧﯽ، ﭼﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺶ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
Iodine ﺁﯾﻮﮈﯾﻦ

ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﯽ ﺑﮍﮬﻮﺗﺮﯼ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﻧﮉﮮ، ﺁﯾﻮﮈﺍﺋﺰﮈ ﻧﻤﮏ، ﺳﭩﺮﺍﺑﺮﯼ، ﺳﺎﮒ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Selenium ﺳﯿﻠﯿﻨﯿﻢ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ اسقاط حمل ، ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮭﻤﺒﯽ، ﺟﻮ، ﻓﺶ، ﺍﺧﺮﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﮮ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

Manganese ﻣﯿﻨﮕﻨﯿﺰ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻧﺸﻮﻧﻤﺎ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
* ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﭘﺎﻟﮏ، ﺳﻼﺩ، ﺳﺎﮒ، ﺷﮩﺘﻮﺕ، ﺍﻧﻨﺎﺱ، ﺟﻮ ﮐﮯ ﺩﻟﯿﮯ، ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
Molybdenum ﻣﻮﻟﯿﺒﮉﯾﻨﯿﻢ

ﺍﺳﮑﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﮯ ﺁﭘﮑﺎ ﻋﺼﺎﺑﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻭﺭ گردے ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮتے ہیں۔
* ﺍﺳﮯ بھی ﺁﭖ ﺳﺒﺰﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

فالج اور ہارٹ اٹیک سے بچانے کے لیے ویکسین تیار!چین میں کی جانے والی حالیہ تحقیق میں ایک ویکسین کے متعلق بتایا گیا جو چوہ...
11/03/2025

فالج اور ہارٹ اٹیک سے بچانے کے لیے ویکسین تیار!
چین میں کی جانے والی حالیہ تحقیق میں ایک ویکسین کے متعلق بتایا گیا جو چوہوں میں ایتھرو سلیروسِز کو ختم کر سکتی ہے
چین میں سائنس دانوں نے ایک ویکسین بنائی ہے جو خون کی شریانوں میں مواد کو جمع ہونے سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ شریانوں میں موجود یہ ذخیرہ خون کے لوتھڑے، فالج اور ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے۔

شریانوں میں چکنائی کا ذخیرہ ہونا (جس کو ایتھروسلوروسِز کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ایک سوزشی بیماری ہے) دنیا بھر میں موت بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

سوزش کے سبب سخت ہونے والی شریانیں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے اور نتیجتاً اسٹروک، انیوریزم یا ہارٹ اٹیک تک لے جاسکتی ہے۔

عرصے سے سائنس دان یہ بات مانتے آئے ہیں کہ ویکسینیشن کے ذریعے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔

اب جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں ایک ویکسین کے متعلق بتایا گیا جو چوہوں میں ایتھرو سلیروسِز کو ختم کر سکتی ہے۔

چین نینجِنگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سائنس دانوں نے مقالے میں لکھا کہ ان کا نینو ویکسین ڈیزائن اور پری کلینیکل ڈیٹا ایتھروسلیروسِز کے حفاظتی علاج کی صلاحیت کو پیش کرتا ہے۔

08/03/2025

مجھے آپ کی توجہ چاہیے تھی تحقیر نہیں!

یہ بچہ تو سائیں ہے اس کو کچھ نہیں آتا، اوئے چھوٹے ، تمہیں کچھ سمجھ کیوں نہیں آتا؟ یہ ہاتھ کیوں ہلا رہے ہو؟ تم کتنے نالائق ، جاہل اور اجڈ بچے ہو جسے دو جمع دو کی سمجھ تک نہیں آتی؟ تم تو زندگی میں کچھ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ تمہاری حرکتیں ہی کچھ کرنے والی نہیں ہیں۔ تم تو ہمارے بچے ہی نہیں ہو تم تو پتا نہیں کس پر گئے ہو جو کسی کی بات سمجھ ہی نہیں سکتے۔

یہ اور ان جیسے ملتے جلتے مورال نیچا کرنے والے کمنٹس بہت سے والدین اور استادوں سے کامن لی سننے کو مل جاتے ہیں جن کے پاس ایسے بچے ہوتے ہیں جو کہ حد سے زیادہ بھلکڑ ہوتے ہیں جن کی عادات میں سب سے کامن عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ کہے گئے کام پہ توجہ نہیں دے پاتے اور نتیجتا وہ کام کو غلط انجام دے دیتے ہیں یا پھر وہ اپنی حرکتوں پہ کنٹرول ہی نہیں کر سکتے بلکہ جگہ جگہ جہاں آرام سے بھی بیٹھنا پڑتا ہے وہاں بھی اچھلنا کودنا شروع ہو جاتے ہیں اور پھر والدین یا استاتذہ کی شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ یا پھر وہ انتظار کرنے کی عادت سے ماورا بے صبرے ہوتے ہیں اور ہر کام بے صبری سے کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔

کیا یہ بچے نالائق اور کند ذہن ہوتے ہیں اور جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں؟

جی نہیں! ان بچوں کے کنٹرول میں ہی نہیں ہوتا کہ یہ اپنی ان حرکات پہ قابو کر سکیں اور خود کو کسی ڈسپلن کے تحت چلا سکیں بلکہ یہ بچے فطری طور پہ ایسے پیدا ہوتے ہیں اور یہ سب ان سے کنٹرول ہو ہی نہیں سکتا۔ نیوروسائنس اور سائیکالوجی میں ہم اے ڈی ایچ ڈی یا پھر اٹینشن ڈیفسٹ ہائیپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں ہم ایسے بچوں کو سائیں کہہ کر بھی بلاتے ہیں مگر سائیں بچوں میں کئی اور بھی نفسیاتی کنڈیشنز آ جاتی ہیں مگر ان میں سے ایک قسم یہ بھی ہے۔

اے ڈی ایچ ڈی ہے کیا بلا؟
اے ڈی ایچ ڈی یا پھر اٹینشن ڈیفسٹ ہائیپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر دراصل ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جس کی وجہ سے کسی بھی شخص یا بچے کا دماغ اس کی حرکات اور ایموشنز پہ کنٹرول نہیں رکھتا اور ایسے بچوں کو سماجی زندگی میں کافی دقت اٹھانی پڑتی ہے۔ یہ اس وقت سب سے زیادہ عام دماغی ڈس آرڈر ہے جس کا بچے تو بچے بالغ بھی برابر کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ایسے بچے بھی تو بالغ ہوتے ہیں ۔

اس بیماری کی علامات کیا ہیں؟

اس بیماری کی سب سے زیادہ کامن علامات توجہ کی کمی جیسا کہ کسی چیز پہ توجہ نا دے سکنا ، ہائیپر ایکٹیویٹی جیسا کہ حد سے ایکٹو رہنا اور طرح طرح کی حرکات و سکنات کرنا اور بغیر سوچے سمجھے حرکات کر دینا ہے ۔ اس وقت اس بیماری کا شکار بچوں کی تعداد 8.4% سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے جبکہ اڈلٹس کی تعداد ڈھائی فیصد تک ہو سکتی ہے۔ اس بیماری کا سب سے پہلے پتا سکول میں یا پھر رشتہ داروں کے ہاں جانے کے دوران پتا چلتا ہے جہاں وہ بچہ اپنی حرکات و سکنات پہ کنٹرول نہیں کر سکتا یا پھر ہوم ورک کرنے میں مشکلات کا شکار ہوتا ہو۔

توجہ کی کمی

توجہ کی کمی اس بیماری کی ایک علامت ہے۔ ایسے بچے ایک جگہ توجہ دے کر اس کام کو کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور آسانی کے ساتھ اپنی توجہ متنفر کر بیٹھتے ہیں۔ ایسے بچے اکثر بتائی گئی بات بھول جاتے ہیں جیسے آپ انہیں کسی جگہ کی سمت کا بتائیں تو وہ اسے بھول جائیں اور کام شروع ہی نا کر سکیں جس کو کرنے کا آپ نے کبھی کہا تھا۔ اے ڈی ایچ ڈی کے شکار بچے مندرجہ ذیل علامات میں سے کم از کم پانچ علامات ایک وقت میں ظاہر کرتے ہیں جو کہ یوں ہیں؛
کس بھی طرح کی ہدایات کو غور سے نہیں سنتے اور بھول چوک سے بارہا غلطیاں کرتے ہیں،کسی طرح کے بھی کام میں توجہ دیدنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسا کہ کلاس میں یا پھر لمبی گفتگو میں یا پھر کتاب یا لمبا پیراگراف پڑھنے میں دقت رکھتے ہیں، کوئی بول رہا ہو تو اسکی سنتے ہی نہیں ہیں،اپنی نوکری یا سکول کے کام کو نہیں کرتے اور کسی طرح کی بھی ہدایات کو فالو کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ،ایسے کام کرنے سے کتراتے ہیں جن میں دماغی صلاحیتوں کا استعمال ہو جیسا کہ کسی طرح کی رپورٹ بنانا یا تخلیقی سوچنا وغیرہ،روز مرہ کی روٹین کے امور بھول جانے کی عادت رکھتے ہیں اور روز مرہ کے استعمال کی چیزیں گم کرتے رہتے ہیں جیسا کہ کاپی پینسل ، فون، عینک وغیرہ

حد سے زیادہ ایکٹو ہونا

اس بیماری کی ایک اور علامت حد سے زیادہ ایکٹو ہونا ہے۔ ایسے بچے عموما آسانی کیساتھ بوریت کا شکار ہوجاتے ہیں سو اس سے بچنے کے لئے یہ ہر وقت کسی نا کسی طرح کی حرکات و سکنات میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ کسی بھی کام کی ہدایات مکمل ہونے سے پہلے ہی چھیڑ چھاڑ کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس کام کو مکمل ہونے سے پہلے ہی خراب کر دیتے ہیں ایسے بچوں کو آپ جب بھی دیکھیں گے کسی نا کسی خیال میں گم سم اور غائب دماغ پائیں گے جو کہ کسی بھی کام کو اچھے سے کرنے کا ڈھنگ نہیں رکھتا ہوگا۔ حد سے زیادہ ایکٹو ہونے کی مندرجہ ذیل علامات اے ڈی ایچ ڈی کے شکار بچے ظاہر کرتے ہیں؛
ہاتھ اور پاؤں کو ہر وقت حرکت میں رکھتے ہیں اور اس کو کنٹرول نہیں کر سکتے جیسے ہر وقت انگلیاں چٹخنا وغیرہ، اپنی کرسی پہ بیٹھنے کی عادت نہیں ہوتی، جہاں چل کر کام ہو سکتا ہے یہ وہاں بھاگنا شروع کر دیں گے ، حد سے زیادہ بولتے ہیں، کھیلنے اور تفریحی سرگرمیوں سے دور بھاگتے ہیں، اپنی باری کا انتظار نہیں کر سکتے اور بھاگم بھاگ چلے جاتے ہیں، سوال ختم ہونے یا بات ختم ہونے سے پہلے ہی اگلے کو ٹوک کر جواب یا پھر اپنی بات کو شروع کر دیں گے اور ذرا سے اشارے یا سٹیمولس پہ ایکٹو ہو جائیں گے۔

بغیر سوچے سمجھے حرکات کر دینا

یہ ایک اور علامت ہے جس میں یہ بچے ایک کام بغیر سوچے سمجھے کرنے کی حرکت کرنے کی عادت رکھتے ہیں۔ وہ بچے جو کہ اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں وہ اس بات کا خیال ہی نہیں رکھتے کہ انہیں کسی کام کے لئے انتظار کرنا چاہیے کہ نہیں بلکہ یہ ہر وقت جلدی سی میں ہوتے ہیں اور اپنی حرکات کا محاسبہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔

اے ڈی ایچ ڈی کی وجوہات کیا ہیں؟

اس وقت تک ہمیں اس بیماری کی مکمل وجوہات کا علم نہیں ہو سکا کہ یہ بیماری کن وجوہات کی بنا پہ ہوتی ہے لیکن جو بات حد سے زیادہ مشاہدے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ جو بچے اس کا شکار ہوتے ہیں ان کا ایک آدھ رشتہ دار بھی اس بیماری کا ضرور ضرور شکار ہوتا ہے جس کی وجہ سے سائنسدان یہی قیاس کرتے ہیں کہ اس بیماری کی ایک حد تک وجوہات جینیاتی ہو سکتی ہیں۔ اسکے علاوہ یہ بھی قیاس ہے کہ ایسے بچے جو کہ قبل از وقت اور امیچور پیدا ہوتے ہیں یا پھر وہ بچے جن کو پیدائش کے دوران دماغی انجری کا سامنا ہو جاتا ہے وہ اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو بات زیادہ تر دیکھی گئی ہے وہ یہ بھی ہے کہ ایسے بچوں کی مائیں سگریٹ یا شراب نوشی زیادہ کرتی ہیں۔

کیا یہ بچے ہمارا امتحان ہوتے ہیں یا عذاب جان؟
زیادہ تر والدین ایسے بچوں کو خود پہ ایک طرح سے خدا کا عذاب سمجھ لیتے ہیں اور ان کو ایک بوجھ سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھتے جو کہ ان کی پہلے سے موجود پریشانیوں میں حد سے زیادہ اضافے کا باعث بنتے ہیں مگر درحقیقت ایسا نہیں ہوتے۔ یہ بچے کسی بھی قسم کا عذاب نہیں ہوتے بلکہ ان کو تو خود بھی اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ ان کا جسم جو کچھ کر رہا ہے اور ان کا دماغ ان کے جسم سے جو کچھ کروا رہا ہے وہ کیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور کیسے وہ ابنارمل بات ہو سکتی ہے۔ اس بات کو آپ یونہی سمجھ لیں جیسے آپ کو حد سے زیاد بخار ہوا ہو تو آپ الم غلم بکنے لگ جاتے ہیں آپ چاہتے ہوئے بھی اپنے جسم کی کپکپی کوکنٹرول نہیں کر پاتے اور چاہتے ہیں کہ کوئی شخص بھی آپ کیساتھ اونچی آواز میں بات نا کرے بلکہ سب لوگ آپ کیساتھ پیار اور محبت سے بات کریں۔ مگر وہیں جب دوسروں کی باری آتی ہے تو ہم آنکھیں سر پہ رکھ لیتے ہیں اگر یہ بچہ کسی ہمسائے کا ہو تو پھر تو اس کو انسان ہی نہیں سمجھتے جبکہ ان بچوں کو تو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیسے خود کو ایک جگہ نارمل بٹھا سکتے ہیں؟

ہمارے تقریبا ننانوے فیصد سکول ٹیچر وہ ہیں جن کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ایک بچے کی نفسیات کیا ہوسکتی ہیں اور اس کی نفسیاتی ضروریات کیا ہو سکتی ہیں وہ اس بات کا خیال رکھنے تک کی زحمت نہیں کرتے ان کی ٹریننگ کرنا تو دور کی بات ہے۔ یہی بلکہ اس سے ابتر حال والدین کا ہوتا ہے جو کہ بچوں کی تربیت اور خیال کا سوچنا تک گوارا نہیں کرتے۔ اور ایسے بچوں کو کلاس روم سے لیکر گھر تک اور گھر سے لیکر گلی تک ہرجگہ طرح طرح کے ناموں اور القابات سے نوازا جاتا ہے جبکہ یہ بچے ہم سے محض تھوڑی سے توجہ مانگ رہے ہوتے ہیں۔

اس بیماری کا حل کیا ہے؟

اس بیماری کا حل ادویات سے لیکر توجہ دینے تک ہے۔ عالمی سطح پہ تو اس بیماری کے علاج کے لئے ادویات کے دو گروپ زیر استعمال ہیں جن کو سٹیمولنٹ اور نان سٹیمولنٹ گروپ کانام دیا جاتا ہے۔ methylphenidate اور amphetamines نامی ادویات کی قسم سٹیمولنٹ قسم ہے جس میں atomoxetine اورguanfacine شامل ہیں جو کہ اس بیماری کے شکار بچوں پہ مثبت اثر دکھاتی ہیں اگر یہ ادویات مقامی سطح پہ دستیاب ہیں تو انہیں فقط ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کرنا چاہیے اس تحریر کا مقصد محض ادویات بارے آگہی دینا ہے کیونکہ ایسی ادویات کا سائیڈ ایفیکٹ بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس بیماری کا بنیادی اچھی پیرینٹنگ ہے۔ والدین کو والدین بن کر بچے کیساتھ پیش آنا چاہیے اس کو حد سے زیاد ہ توجہ دیکر اس کی ڈیلی روٹین کو مانیٹر کرنا چاہیے اور ان کی اچھے سےس راہنمائی کرنی چاہیے کہ ایسے روٹین بنا کر چلیں اور یہ کام کریں اور یہ نہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ہر بچے کو کتاب رٹنے والی مشین سمجھنے کی بجائے ہر بچے کو اس کی قابلیت کے مطابق جانچیں کیونکہ سب بچے ایک سے نہیں پیدا ہوتے اور ایسے بچے تو بالکل خاص ہوتے ہیں انہیں آپ کی تحقیر نہیں بلکہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ریحان انجم

23/02/2025

کیا آپ جانتے ہیں؟
ناک صرف سونگھنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پیچیدہ نظام ہے جو سانس لینے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے کام کرتا ہے:
ناک ایک جدید ایئر پروسیسر کی طرح کام کرتی ہے:
* ہوا کو گرم کرنا: جب ہم ناک سے سانس لیتے ہیں تو ناک کے اندر موجود خون کی نالیاں ہوا کو گرم کرتی ہیں، خاص طور پر سرد موسم میں۔ یہ گرم ہوا پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے، جو ان کے لیے زیادہ سازگار ہوتی ہے۔
* چھوٹے ذرات کو پکڑنا: ناک میں موجود چھوٹے بال اور بلغم ہوا میں موجود دھول، جراثیم اور دیگر ذرات کو پکڑ لیتے ہیں۔ یہ ذرات بعد میں بلغم کے ساتھ باہر نکل جاتے ہیں، جو ہمیں بیماریوں سے بچاتا ہے۔
* نمی شامل کرنا: ناک ہوا میں نمی شامل کرتی ہے، جس سے پھیپھڑوں میں خشک ہوا جانے سے بچتی ہے۔ یہ خاص طور پر خشک موسم میں اہم ہے، کیونکہ خشک ہوا پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
منہ کے مقابلے میں ناک سے سانس لینا بہتر کیوں ہے؟
* منہ سے سانس لینے سے ہوا فلٹر نہیں ہوتی، جس سے جراثیم اور دھول براہ راست پھیپھڑوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔
* منہ سے سانس لینے سے ہوا خشک ہوتی ہے، جو پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
* ناک سے سانس لینے سے نائٹرک آکسائیڈ پیدا ہوتا ہے، جو خون کی نالیوں کو پھیلانے میں مدد کرتا ہے اور خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔
اس لیے، یہ سچ ہے کہ ناک صرف سونگھنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اہم عضو ہے جو سانس لینے کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔

چینی اور مصری میں فرق Sugar and Rock Sugar مصری کا نام ذہن میں آتے ہی کچھ لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ مصری پہاڑوں کی چٹ...
22/01/2025

چینی اور مصری میں فرق Sugar and Rock Sugar

مصری کا نام ذہن میں آتے ہی کچھ لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ مصری پہاڑوں کی چٹانوں سے ٹوٹا ہوا کوئی میٹھا پتھر ہے یا پھر مصر سے آنے والی کوئی سوغات ہے جو کہ میٹھی ہوتی ہے- مگر مصری کے حوالے سے یہ تمام نظریات یکسر غلط ہیں حقیقت میں مصری بھی چینی کی طرح گنے کے رس سے تیار ہونے والی مٹھاس ہے-

👈چینی اور مصری میں فرق
گنے کے رس کو بغیر کیمیکل ملائے اس کی تبخیر کر کے مصری کے کرسٹل حاصل کیے جاتے ہیں جب کہ اسی رس کے اندر کیمیکل ملا کر چینی بنائی جاتی ہے- دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مصری ایک خالص حالت ہے جب کہ چینی ایک مصنوعی چیز ہے- مصری کے خالص پن کے سبب یہ کئی حوالوں سے بہت مفید ہوتی ہے جب کہ چینی کے نقصانات کے حوالے سے تو سب ہی جانتے ہیں-

👈مصری، جسے راک شوگر بھی کہا جاتا ہے، ایک قسم کی غیر صاف شدہ چینی ہے جو گنے کے رس سے بنائی جاتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں، کنفیکشنری معدنیات قدرتی مٹھاس اور توانائی بڑھانے کے طور پر مشہور ہے۔

بہت سے لوگ مصری اور سونف کے بیجوں کا استعمال کرتے ہیں، جنہیں کھانے کے بعد سونف کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے۔ یہ آپ کی سانسوں کو تازہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مصری کو کھانے کے بعد یا کسی بھی وقت ناشتے کے طور پر کھایا جا سکتا ہے۔ اس کے دلکش صحت کے فوائد بھی موجود ہیں۔

۔ انگریزی میں مصری کو کیا کہتے ہیں؟
انگریزی میں اسے ’’راک شوگر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسے “راک کینڈی” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مصری، اردو میں کہا جاتا ہے، یہ گنے اور کھجور کے درخت کے رس سے تیار کردہ کنفیکشنری معدنیات ہے۔

۔مصری کے صحت کے لیے حیران کن راز۔۔۔
صحت کے لیے مصری کے چند ناقابل یقین فوائد درج ذیل ہیں۔

۔ 1 مصری توانائی بڑھائے
مصری کے حیرت انگیز فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ یہ توانائی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ایک سادہ کاربوہائیڈریٹ ہے جسے جسم تیزی سے گلوکوز میں تبدیل کر سکتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، اگر آپ تھکاوٹ یا توانائی کی کمی محسوس کر رہے ہیں تو یہ ایک بہترین توانائی بڑھانے والی صحت بخش ہے۔ لہذا، اگلی بار جب آپ سستی محسوس کر رہے ہوں تو، تھوڑی سی مصری کھانے کی کوشش کریں اور دیکھیں کہ یہ آپ کی توانائی کی سطح کو کیسے بڑھاتی ہے۔

۔ 2 مصری ہاضمے میں مدد کرتی ہے
مصری کھانے کے بعد، یہ جسم میں تیزی سے میٹابولائز کرسکتی ہے۔ اکثر کچھ کھانے کے فوراً بعد آپ کے ہاضمے کو حاصل کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔ جن لوگوں کو شوگر نہیں ہے لیکن انہیں اپنی شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہے تو وہ کھانے کے بعد محفوظ طریقے سے مصری کھا سکتے ہیں۔ یہ کھانے کے نظام ہضم کو فروغ دے کر آپ کے معدے کو صحت مند رکھنے میں مدد کر سکتی ہے۔

۔ 3 مصری سانس کو ترو تازہ کرتی ہے
کھانے کے بعد مصری کا استعمال بہترین ہے۔ یہ اس بات کی حقیقت ہے کہ یہ ایک بہترین ماؤتھ فریشنر بھی ہے۔ جن لوگوں کی سانس میں بدبو آتی ہے انہیں منہ کو تروتازہ کرنے کے لیے سونف کے بیجوں کے ساتھ مصری لینا چاہیے۔ یہ آپ کے منہ سے کھٹے اور برے ذائقے کو دور کرسکتی ہے، جس سے آپ اپنے منہ کو تروتازہ محسوس کریں گے۔

۔ 4 مصری سے گلے کی سوزش کا علاج
مصری میں حیرت انگیز خصوصیات موجود ہوتی ہیں، جو آپ کی سانسوں کو تروتازہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ عام سردی، گلے کی خراش اور کھانسی جیسی علامات کو کم کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔ مصری اور کالی مرچ پاؤڈر کو ایک پیسٹ میں ملا کر، آپ گلے کی خراش کے لیے مثالی علاج بنا سکتے ہیں۔ سونے سے پہلے کھانے سے یہ مکسچر قدرتی طور پر آپ کے گلے کی خراش، کھانسی اور سردی سے نجات دلائے گا۔

۔ 5 مصری آنکھوں کے لیے بہترین ہوتی ہے
مصری کا استعمال آنکھوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ لہذا، اگر آپ کو اپنی بینائی، موتیا بند، یا کسی اور چیز کے ساتھ مسائل ہیں، تو آپ کو اپنی خوراک میں مصری شامل کرنا چاہیے۔ اسے استعمال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے دودھ کے ساتھ ملا کر ایک غذائیت سے بھرپور مشروب بنایا جائے جو آپ کی بینائی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ مزید مستند معلومات حاصل کرنے کے لیے ماہر غذائیت سے مشورہ کریں۔

۔ 6 مصری زیادہ میٹھی نہیں ہوتی ہے
مصری چینی کی ایک ہلکی میٹھی پتلی شکل ہے۔ اس میں چینی کے مقابلے میں کم کیلوریز بھی ہوتی ہیں۔ لہذا، اگر آپ اپنی کیلوری کی مقدار کو دیکھ رہے ہیں، تو چینی کو مصری سے تبدیل کرنا ایک آپشن ہوسکتا ہے۔ تاہم، بہترین مشورہ کے لیے، اپنے غذائیت کے ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔

۔ 7 مصری ہیموگلوبن کی سطح کو بڑھاتی ہے
صحت مند اور تندرست رہنے کے لیے عام ہیموگلوبن کی سطح کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ مردوں میں ہیموگلوبن کی سطح 13.2 اور 16.6 گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہونی چاہیے، جب کہ خواتین میں لیول 11.6 سے 15 گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہونی چاہیے۔

اگر ہیموگلوبن کی سطح معمول کی حد سے نیچے آجائے تو یہ صحت کے مختلف مسائل جیسے خون کی کمی، کمزوری، چکر آنا اور سر درد کا سبب بن سکتا ہے۔ مصری جسم میں ہیموگلوبن کی سطح کو بڑھا کر اور خون کی گردش کو بہتر بنا کر صحت کے ان مسائل کو روکنے میں مدد کرتی ہے

مصری وزن گھٹائے
وزن گھٹانے کے لیے انسان کو سب سے پہلے میٹھا کھانے سے پرہیز بتایا جاتا ہے مگر مصری، سونف اور دھنیے کے بیچ ملا کر ھن میں کم از کم دو بار ایک چمچ کھانے سے وزن میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے-


حاملہ عورتوں کے لیے مفید
مصری کے اندر بہت سارے وٹامن ہوتے ہیں جو اسے صحت کے لیے بہت مفید بناتے ہیں ۔حاملہ عورتیں گرم دودھ کے ساتھ ایک ٹکڑا مصری کا اگر روزانہ لیں تو اس سے ان کی صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور طاقت کا سبب ہوتا ہے


دماغی کمزوری کے لیے
اگر آپ کی یاداشت کمزور ہو رہی ہے یا آپ طالب علم ہیں اور آپکو دماغی کام کرنے پڑتے ہیں تو اس صورت میں ہر روز رات کو سونے سے قبل ایک ٹکڑا مصری، سات بادام اور نیم گرم دودھ کا ایک گلاس آپ کے دماغ کو اور اعصاب کو طاقت فراہم کرنے کا سبب بنتا ہے یاداشت کو بہتر بناتا ہے اور اعصابی تھکن کو کم کر کے موڈ کو خوشگوار بناتا ہے-

کن افراد کے لیے مصری کا استعمال خطرناک ہو سکتا ہے
مصری کا استعمال ذیابطیس کے مریضوں کے لیے صحت کا باعث نہیں ہوتا ہے کیوں کہ اس کے استعمال سے شوگر لیول میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ ان کو دیگر مسائل کا شکار کر سکتا ہے اس وجہ سے ذیابطیس کے مریضوں کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے-

Address

Khayaban-e-Sher Shah Suri, North Nazmabad Karachi
Karachi
75850

Opening Hours

Monday 10:00 - 11:00
Tuesday 10:00 - 11:00
Wednesday 10:00 - 11:00
Thursday 10:00 - 11:00
Friday 10:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctor Online:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Our Story

اک سوال ان بکس سے "ڈاکٹر صاحب وزن کم کرنے کا کوئی اسںان سا طریقہ بتا دیں" جواب بس تب کھایئں جب بہت بھوک ہو، اور تب چھوڑ دیں جب کچھ بھوک باقی ہو. کھانے سے پہلے پانی پیئں، کھانے بعد ٢ گھنٹے تک نہیں. جتنا کھائیں اتنا کام بھی کریں. 5 وقت کی نماز بہتریں ورزش ہے. بس وزن کم ہو جائے گا.

یہ ہیں تو چھوٹی چھوٹی سی باتیں. ممکن ہے آپ کو خاصی فضول سی بھی لگیں. پر یہ سب رسول اکرم کی حدیث میں ہے. ایک عرب شیخ کی زوجہ کا وزن صرف ان پر عمل کرنے سے 110 سے کم ہو کر 80 ہوا ہے. اور بھی ایسے کیسز صرف اسی پر عمل سے حیران کن طور پر ٹھیک ہو گئے ہیں.

Doctor Online