Doctor Online

Doctor Online Homeopathic Treatment Services
We are providing treatment for Vitiligo,Chronic skin problems,all ty You do not need to come to the clinic. It is easy.

Welcome to my channel Doctor Online is the first virtual clinic in Pakistan for all over the world. Get safe and cost effective homeopathic, herbal and nutrition treatment for your diseases. It is good to take second opinion rather than to suffer in silence or opt for a surgical operation. Give a call or contact at sameurmind@gmail.com.

29/12/2025
17/12/2025

سکیبیر کی خارش۔۔۔۔۔

موسم تبدیل ہونا شروع ہوا ہے تو اس بیماری نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ خاص طور پر مدرسوں ہوسٹلوں میں رہنے والے طالب علم اور کمبائن فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔۔۔

پہلے سمجھیں بیماری ہے کیا ۔اگر بیماری کو سمجھ لیا تو گھر سے نکالنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔۔۔۔

سکیبیز کی خارش، خارش کی ایک ایسی قسم ہے جو ہمارے ہاں بہت عام ہے ۔ اور اس کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے طویل عرصے تک لوگ خارش کا عذاب برداشت کرتے رہتے ہیں ۔ لوگوں کی طرف سے مرض کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ٹائیفائیڈ اور نمونیا کا علاج تو آسان ہے لیکن سکیبیز کا نہیں کیونکہ یہ بیماری فرد واحد کی نہیں بلکہ پورے گھرانے کی ہے۔ بلکہ پورے معاشرے کی کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا

سکیبیز (خارش) کیا ہے؟

سکیبیز خارش کی ایک قسم ہے جو ایک کیڑے کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس کی مادہ انسانی جلد میں سوراخ بنا کر انڈے دیتی ہے۔تین سے چار دن پر لاروا نکل کر بڑا ہوتا ہے اور نئی جگہیں تلاش کرکے انڈے دیتا رہتا ہے اور یوں جسم میں اس کی افزائش نسل جاری رہتی ہے۔ خارش کے عمل کے دوران اس کا کیڑا کپڑوں میں گر جاتا ہے اور ان کپڑوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچ جاتا ہے یا خارش کے عمل کے دوران ہاتھوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر کیڑا بستر پر گر جائے تو جسم سے باہر بھی چوبیس سے چھتیس گھنٹے زندہ رہ سکتا ہے۔

خارش کا آغاز سکیبیز کا کیڑا جسم میں داخل ہونے کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد شروع ہوتا ہے۔ اسلئے جب تک بیماری کا علم ہوتا ہے سارا گھر متاثر ہوچکا ہوتا ہے۔کیڑے سے متاثر بستر اور کپڑے بیماری کے فروغ کی ایک بڑی وجہ بن جاتے ہیں ۔

سکیبیز سے کون لوگ زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔
یہ کیڑا کسی کے بھی جسم میں ڈیڑے ڈال سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ مرض ان لوگوں میں زیادہ پھیلتا ہے ۔جوایک دوسرے کے زیادہ قریب رہتے ہیں۔ جیسے ہوسٹلوں میں رہنے والے طالب علم، دینی مدارس، کلاس روم، کمبائن فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد ۔۔اور ایسے گھروں میں رہنے والے لوگوں میں بھی جہاں دھوپ کم آتی ہے نمی کا تناسب زیادہ رہتا ہے اور صفائی کا خیال کم رکھا جاتا ہے۔ ۔خارش والے مریض کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے کیڑا صحت مند جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔

علامات
سب سے واضح علامت خارش ہوتی ہے۔ جو دن بھر تنگ کرنے کے بعد، رات کو زیادہ ہوجاتی ہے۔ کمبل، رضائی لینے سے جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو خارش بھی بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ مصالحے دار کھانے کے ساتھ بھی خارش کی شدت کو زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔ اور اکثرلوگ گوشت کی الرجی سمجھ کر گوشت کھانا چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔
بڑوں میں زیادہ تر خارش ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان، کلائیوں پر، کہنیوں کے پیچھے اور بغلوں میں ہوتی ہے۔ عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے اور مردوں میں پیشاب والی نالی کے اوپر خارش کے نشانات کافی واضح ہوتے ہیں ۔ چہرہ عام طور پر محفوظ رہتا ہے۔ بچوں میں پورا جسم متاثر ہوسکتا ہے۔جس میں پاؤں اور پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جگہ بھی شامل ہوتی ہے ۔۔

مناسب لائٹ کے ساتھ خارش والی جگہوں کو دیکھیں تو باریک باریک سوراخ نظر آئیں گے۔ یہ وہ پناہ گاہیں ہیں جن میں کیڑا انڈے دیتا ہے۔ جو خارش کی وجہ سے دانوں یا زخم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

بہت سے مریضوں میں بار بار خارش کرنے کی وجہ سے بیکٹرییل انفیکشن داخل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پیپ والے دانے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جو اکثر اوقات زخم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں

علاج
علاج سے پہلے ضروری ہے کہ ان رستوں کو بند کیا جائے، جہاں سے کیڑا مریض تک منتقل ہوا ہے
سکول جانے والے بچوں کے یونیفارم کی صفائی میں بہت زیادہ احتیاط برتی جائے۔ گھر واپسی پر پہلا کام یہ کریں کہ یونیفارم تبدیل کروا کر یا تواسے دھو ڈالیں یا پھر استری کرکے اگلے دن کیلئے تیار کریں
ہوسٹل یا مدرسوں میں رہنے والے لوگ خارش والے لوگوں سے دور رہیں۔ اپنا تولیا صابن، بستر ہر چیز دوسروں سے الگ رکھیں۔
بستروں کی چادریں جلدی تبدیل کریں، تولیئے جلدی دھوئیں ہوسکے تو الگ الگ تولیا اور بستر استعمال کریں
سارے بستر ، رضائیاں، کمبل سرھانے، قالین، اور پردوں کو دھوپ لگوائیں تاکہ ان میں موجود کیڑا مر سکے
بچوں کے کپڑے دن میں دو تین بار بدلیں ، اور بڑے افراد بھی روزانہ تبدیل کریں
کپڑے جب بھی پہنیں استری کرکے پہنیں۔۔

اگر جسم پر زخم یا دانے موجود ہیں تو انٹی الرجی یا انٹی بائیوٹک استعمال کرکے پہلے زخموں اور دانوں کو بہتر بنا لیں۔
کیڑے کو مارنے کیلئے بہت سی کریمیں لوشن دستیاب ہیں جن کو جسم پر ملا جاتا ہے۔ جیسے پرمیتھرین، سلفر پلس کروٹامیٹون یا پھر صرف سادہ سلفر کسی لوشن میں ملا کر لگایا جاتا ہے۔
پرمیتھرین کو چونکہ ہر عمر کیلئے محفوظ سمجھا جاتا ہے اور اگر صحیح طرح استعمال کیا جائے تو صرف ایک بار لگانے سے سارے کیڑوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اسلیئے اس کا استعمال مناسب بھی ہے اور محفوظ بھی ۔
لوشن کو جسم پر لگانے سے پہلے درج ذیل باتوں کو دھیان میں رکھیں
ایک تو لوشن لگانے سے پہلے اگر جسم پر کوئی زخم وغیرہ موجود ہے تو اس کا پہلے علاج کروا لیں
دوسرا لوشن استعمال کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کے سب افراد دستیاب ہوں اور لوشن لگانے پر راضی بھی۔ بے شک کسی کو خارش ہے یا نہیں۔۔ یا پہلے تھی اب نہیں ، وہ بزرگ ہے یا کوئی شیر خوار بچہ ۔۔

ایک ہی دن سب لوگ لوشن لگائیں

لوشن لگانے سے پہلے نہائیں
نہانے کے بعد جسم کو تولیئے سے تھوڑا سا خشک کرکے سارے جسم پر لوشن کو ملیں
اس بات کو یقینی بنائیں کہ جسم کا کوئی حصہ بغیر دوائی کے نہ رہ جائے ۔ خاص طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان، بغلوں میں ، (عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے)، پیشاب والی جگہ پر ، پخانے والی جگہ کے ارد گرد، پاؤں کے تلوئوں پر۔چار سے پانچ منٹ تک دوائی کو جسم میں جذب ہونے کا موقع دیں۔۔۔۔
جس دن دوائی جسم پر لگائی جائے تو پہلی دفعہ آئورمیکٹن کی تین گولیاں سب کو کھلا دی جائیں تو کیڑے کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔۔۔

دوائی لگانے کے بعد صاف ستھرے کپڑے پہنیں جو استری شدہ ہوں ۔
دوائی کو کم ازکم بارہ گھنٹے ورنہ مناسب ہوگا کہ چوبیس گھنٹے جسم پر لگا رہنا دیں
اگر اس دوران کہیں سے دوائی اتر جائے تو فوری طور پردوبارہ لگائیں
چوبیس گھنٹے بعد اچھی طرح صابن سے نہا کر دوائی کو صاف کر دیں اور صاف کپڑے پہن لیں
اتارے گئے کپڑوں کو گرم پانی سے دھوئیں اور اچھی طرح سے دھوپ لگوا دیں۔۔

دوائی ملنے سے لیکر صفائی کے اہتمام کو تین دن تک دھراتے رہیں۔۔۔

جب ایک بار اس سارے عمل سے گزر جائیں تو اس کیڑے کو گھر میں دوبارہ گھسنے سے روکنے کے لئے صفائی کا خاص رکھیں

کبھی غور کیا ہے کہ شکر قندی کا ایک سادہ سا نوالہ جسم کے اندر کتنی خاموش مگر گہری تبدیلی شروع کر دیتا ہے؟ایسی تبدیلی جو آ...
15/12/2025

کبھی غور کیا ہے کہ شکر قندی کا ایک سادہ سا نوالہ جسم کے اندر کتنی خاموش مگر گہری تبدیلی شروع کر دیتا ہے؟
ایسی تبدیلی جو آہستہ آہستہ آپ کے ہاضمے، خون کی کیفیت، توانائی اور مدافعتی نظام کو سہارا دیتی ہے—اور آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارا جسم روزانہ کھانے پینے کی بے ترتیبی، ذہنی دباؤ، بے وقت روٹین، سردی اور کم حرکت کی وجہ سے مسلسل دباؤ میں رہتا ہے۔
آنتوں میں فضلہ جمع ہونے لگتا ہے، شوگر لیول اوپر نیچے ہونے لگتا ہے، توانائی جلد ختم ہو جاتی ہے اور جسم کے خلیات سست پڑ جاتے ہیں۔

اگرچہ جسم کے اندر قدرتی طور پر صفائی اور مرمت کا نظام چلتا رہتا ہے، لیکن جب خوراک کمزور ہو جائے تو یہی نظام بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔
یہیں سے شکر قندی اپنا اصل کردار ادا کرتی ہے۔

شکر قندی میں موجود فائبر آنتوں کی اندرونی صفائی میں مدد دیتا ہے،
اینٹی آکسیڈنٹس کمزور اور خراب خلیات کو غیر مؤثر بناتے ہیں،
وٹامن A مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے،
قدرتی کاربوہائیڈریٹس جسم کو آہستہ مگر دیرپا توانائی فراہم کرتے ہیں،
اور پوٹاشیئم دل، اعصاب اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ تمام اجزاء مل کر جسم کے اندر ایک قدرتی ڈیٹاکس اور توازن کا عمل شروع کر دیتے ہیں—
بالکل ایسے جیسے بند نالی آہستہ آہستہ کھلنے لگے۔

سائنس بھی یہی بتاتی ہے کہ فائبر، مائیکرونیوٹرینٹس اور کم گلائسیمک لوڈ والی غذا جسم کو تھکن اور دباؤ کی حالت سے نکال کر مرمت اور بحالی کی حالت میں لے آتی ہے۔
اسی لیے شکر قندی شوگر کی طلب کم کرتی ہے، قبض میں فائدہ دیتی ہے، سوزش گھٹاتی ہے اور وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اس کے برعکس جب شکر قندی جیسی سادہ اور فائدہ مند غذا روزمرہ خوراک سے نکل جاتی ہے، تو جسم فوری توانائی کے لیے میٹھے، فاسٹ فوڈ اور خالی کیلوریز کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
نتیجہ سامنے ہوتا ہے:
مسلسل تھکن، بار بار بھوک، معدے کے مسائل، شوگر کا عدم توازن اور اندرونی کمزوری۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے گاڑی کو ایندھن کے بجائے دھواں دیا جائے—چل تو جاتی ہے، مگر اندر سے جلنے لگتی ہے۔
روزانہ یا ہفتے میں چند بار ابلی ہوئی یا ہلکی سی بھنی ہوئی شکر قندی وہ کام کر جاتی ہے جو مہنگے فائبر سپلیمنٹس اور ڈیٹاکس ڈرنکس بھی مکمل نہیں کر پاتے۔

یہ جسم کو سکون دیتی ہے، نظام کو درست کرتی ہے اور اندرونی طاقت بحال کرتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جیسے ہی شکر قندی خوراک کا حصہ بنتی ہے،
ہاضمہ ہلکا محسوس ہونے لگتا ہے،
جسم متوازن رہتا ہے،
توانائی دن بھر قائم رہتی ہے،
اور اندرونی نظام دوبارہ ہم آہنگی میں آ جاتا ہے۔

شکر قندی محض ایک سبزی نہیں
یہ قدرت کا وہ سادہ اور مؤثر نسخہ ہے
جو خاموشی سے جسم کو ٹھیک کرنا جانتا ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ
سردیوں میں جسم کمزور نہ پڑے،
ہاضمہ خراب نہ ہو،
اور توانائی دن بھر ساتھ دے
تو شکر قندی کو نظر انداز مت کیجیے

🌿 جاپانی کھانسی کا شربت — گھر میں بنائیں، آسان، سستا اور حیرت انگیز طور پر مؤثرموسم بدلتے ہی گلا خراب، کھانسی، زکام اور ...
05/12/2025

🌿 جاپانی کھانسی کا شربت — گھر میں بنائیں، آسان، سستا اور حیرت انگیز طور پر مؤثر

موسم بدلتے ہی گلا خراب، کھانسی، زکام اور سینے کی جکڑن عام ہو جاتی ہے۔ جاپان میں لوگ اِن مسائل کے لیے ایک نہایت سادہ مگر بے حد مؤثر گھریلو شربت استعمال کرتے ہیں، جو پیاز، شہد اور لیموں سے بنتا ہے۔
اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کیمیکل فری، قدرتی اور ہر گھر میں بننے والا نسخہ ہے۔



🍯 یہ شربت کیا ہے؟

یہ ایک قدرتی اینٹی بائیوٹک سیرپ سمجھا جاتا ہے۔ پیاز کا رس، شہد اور لیموں مل کر ایسا مرکب بناتے ہیں جو:
• کھانسی کم کرتا ہے
• گلے کی خراش کو آرام دیتا ہے
• بلغم توڑتا ہے
• سوزش کم کرتا ہے
• اور مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے

یہ شربت دوائی کا متبادل نہیں، مگر زبردست قدرتی مددگار علاج ہے۔



👩‍🍳 جاپانی طریقہ — بنانے کا آسان نسخہ

اجزاء
• 1 درمیانی پیاز
• 3 سے 4 کھانے کے چمچ شہد
• آدھے لیموں کا رس + چند لیموں کے چھلکے
• ایک صاف شیشہ کی بوتل یا جار

ترکیب
1. پیاز کو باریک سلائس میں کاٹ لیں۔
2. انہیں جار میں تہہ بنا کر رکھیں۔
3. اوپر سے شہد ڈال دیں۔
4. پھر لیموں کا رس اور چھلکے شامل کریں۔
5. جار بند کر کے 2 سے 3 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔
6. پیاز اپنے اندر سے رس چھوڑ دے گی اور شہد کے ساتھ مل کر قدرتی شربت تیار ہو جائے گا۔

اگر آپ اسے رات بھر چھوڑ دیں تو اس کا رس اور بھی زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔



🥄 استعمال کا طریقہ

بالغ افراد:
1 کھانے کا چمچ، دن میں 2–3 بار

بچے (1 سال سے اوپر):
1 چائے کا چمچ، دن میں 2 بار

نوٹ: شہد ایک سال سے کم عمر بچوں کو نہیں دینا چاہیے۔



💡 یہ کیوں مؤثر ہے؟

پیاز

اس میں موجود quercetin سوزش کم کرتا ہے اور بلغم توڑتا ہے۔

شہد

گلے پر حفاظتی تہہ بناتا ہے، کھانسی کم کرتا ہے اور جراثیم سے لڑتا ہے۔

لیموں

وٹامن C کا بہترین ذریعہ ہے اور مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے۔

تینوں مل کر ایک طاقتور قدرتی شربت بناتے ہیں جو جاپان میں سردیوں کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔



🌱 آخری بات

جاپانی لوگ اسے نسلوں سے استعمال کر رہے ہیں۔ آج کل جب کھانسی، فلو اور گلے کی خراش عام ہے، یہ سادہ سا شربت آپ کے گھر کی قدرتی میڈیسن کابینٹ کا حصہ ضرور ہونا چاہیے۔
آزما کر دیکھیں — سستا، آسان اور مؤثر۔

01/11/2025

ذہن میں رکھیں: کراچی میں 40 سال کے بعد مرد و عورتوں کی “سفید بھنویں اور سفید پلکیں” بڑھتی عمر یا بیماری نہیں، ان کے جسم کا خاموش اشارہ/ Silent Signal ہیں. ان سب کے جسم Body میں منرلز شدید ڈسٹرب ہورہے ہیں۔
کراچی میں زیادہ تر فلٹریشن پلانٹس یا واٹر کمپنیاں جو "میٹھا پانی" بیچ رہی ہیں، یہ سب دراصل زیرِ زمین بورنگ کا پانی (Groundwater) استعمال کرتی ہیں، یہ پانی زیادہ تر :
۔Hard water (سخت پانی) ہوتا ہے۔
۔TDS (Total Dissolved Solids) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
۔اس میں کیلشیم، میگنیشیم، سوڈیم، فاسفیٹ، فلورائیڈ، آئرن اور آرسینک کی مقدار نارمل حد سے زیادہ ہوتی ہے۔
یہ بات ریسرچ سے ثابت ہے کہ Hard water انسانی جسم کے بالوں کے follicles کو کمزور کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ scalp اور skin کی سطح پر oxidative stress بڑھا دیتا ہے یہ Melanin-producing cells (melanocytes) کو نقصان پہنچاتا ہے۔
(حوالہ: International Journal of Trichology, 2018; “Impact of Hard Water on Hair Damage”)
کراچی کے 80٪ سے زیادہ رہائشی علاقوں (خصوصاً گلستانِ جوہر، کورنگی، لانڈھی، لیاقت آباد) اور سیوریج کے گندے ندی، نالوں کے ساتھ آباد علاقوں میں زیرِ زمین پانی (بورنگ) میں فلورائیڈ اور آرسینک کی سطح خطرناک حد سے زیادہ ہے۔
کراچی کے زیادہ تر غیر ریگولیٹڈ فلٹر پلانٹس میں کوئی لیبارٹری پیمانہ استعمال نہیں ہوتا۔ یہ TDS بڑھانے یا “Mineral Mixing” کے لئے اندازاً اور غیر معیاری نمکیات (خصوصاً سوڈیم کلورائیڈ اور میگنیشیم سلفیٹ) کو شامل کرتے ہیں۔ یہ نمکیات ہر جسم کے micronutrient absorption میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
اگرچہ اسطرح کھارا پانی میٹھا اور پینے کے قابل ہوجاتا ہے۔ مگر جسم میں کاپر (Copper)، زنک (Zinc) اور وٹامن B12 کی کارکردگی نہایت متاثر ہو جاتی ہے۔
کراچی کے رہائشیوں کا مسلسل کئی سالوں سے hard یا chemically treated پانی پینے سے سر کے بالوں، بھنوؤں، پلکوں کا سفید ہونا اور جھڑنا اب عام مشاہدہ ہے۔ کراچی کے شہری مردوں میں چہرے کا دبا رنگ، موٹا پیٹ، گنجا سر، چھوٹا قد عام ہورہا ہے۔تو خواتین کی ہیئت میں پتلے بال، اوپری باڈی دبلی اور بھاری کولہے اور رانیں ہیں۔ یہ جینیاتی تبدیلی کراچی میں مختلف صوبوں، گاؤں، علاقوں سے آ کر بسنے والوں مردوں و عورتوں میں بھی ہونے لگی ہے۔
۔PCRWR (Pakistan Council of Research in Water۔ Resources) کی 2023ء ریسرچ رپورٹ کے مطابق:
کراچی کے 83٪ فلٹر پلانٹس ناقص ترین معیار کا پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں۔
کراچی کے فلٹر پلانٹس کا سائنسی میکانزم یہ ہے :
1. Hard water یا chemically treated water → Free radicals پیدا کرتا ہے
2. Free radicals → Melanocytes پر oxidative damage
3. Melanocytes کمزور → Melanin کم → بھویں، پلکیں، بال سفید
کراچی میں فلٹر شدہ بورنگ پانی پینا مجبوری ہے۔ فلٹر پانی "ڈیڈ واٹر" ہوتا ہے۔ صوبائی اور شہری حکومت کو کوسنے کے بجائے اپنے جسم میں Micronutrient deficiency روکنے کے لئے روزمرّہ شیڈول میں یہ عادات شامل کرلیں :
• کالا نمک یا ہمالیئن پنک سالٹ (چٹکی بھر روزانہ)
• پالک، مچھلی، بادام، کھجور، کدو کے بیج (pumpkin seeds)
• کولڈ ڈرنکس کے بجائے لیموں پانی اور ناریل پانی پیئں۔( الیکٹرولائٹس قدرتی طور پر بحال رہتے ہیں۔)
• بالوں اور چہرے کو بورنگ پانی سے دھونے کے بعد صاف RO یا ابلا پانی سے ایک چھینٹا لازمی ماریں۔
• شیمپو کم استعمال کریں، (صرف شادی بیاہ یا تقریب کے وقت) اور شیمپو کی بوتل پر لکھے اجزاء میں "sulfate" شامل نہ ہو۔
• ناریل، زیتون اور بادام کا تیل سر کے بالوں اور چہرے مثلاً بھنویں، پلکوں، داڑھی پر لگائیں۔ یہ Melanin کو نیچرل سپورٹ دیتا ہے۔
• چائے خانوں، ہوٹلوں میں بورنگ کا ڈائریکٹ میٹھا پانی ہوتا ہے۔ برف بھی انھی پانی سے جمتی ہے۔ پیاس میں دو چار گھونٹ پی لیں، مگر دھڑا دھڑ پینے سے گریز کریں۔
• کسی بھی ایونٹس میں شرکت کے وقت اپنا پانی پرس، گاڑی یابائیک پر رکھیں۔ عموماً زیادہ تر جگہوں پر ناقص پانی( بورنگ کا ڈائریکٹ پانی، واٹر ٹینکر پانی) پینے کے لئے رکھا ہوتا ہے۔ کیونکہ صاف منرل پانی، کولڈ ڈرنکس سے زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔
• جن گھروں یا علاقوں میں پانی، ٹینکر سے منگواتے ہیں۔ وہ یہ پانی لازمی فلٹر اور ابال لیں۔ سرکاری ہائیڈرنٹس کا پانی بہتر ہے۔ لیکن پرائیویٹ ٹینکر/ ٹنکیاں والے جوہڑ ، ٹوٹی لائنوں اور بورنگ کا بھاری پانی سپلائی کرتے ہیں۔
مزید کچھ عملی اقدامات :
• کرایہ دار ان رہائشی علاقوں میں گھر ڈھونڈیں، جہاں کچھ دنوں بعد "سرکاری پانی" آتا ہو، اس پانی کو فلٹر یا ابال کر پینے، کھانا پکانے، بالوں اور چہرے کو دھونے میں استعمال کیا جائے۔ یہ بورنگ سے بہتر پانی ہے۔
• فلٹر پلانٹ 8 سے 10 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کرکے سالوں بورنگ پانی کو بیچتے ہیں۔ یہ فلٹر کارٹریجز، میمبرین کو تبدیل نہیں کرتے۔ کراچی کے گلی کوچوں میں کھلے فلٹر پلانٹس ایک مضبوط مافیا ہیں۔ اس لئے اپنے گلی محلوں میں موجود ان دکانداروں سے TDSمیٹر کے بارے میں لازمی پوچھیں۔ جو زیادہ تر پلانٹس پر موجود نہیں ہوتا۔ اور پانی کی کوالٹی کا پتہ نہیں چلتا۔
• فلٹر پلانٹ کا PCWRR یا KWSB ٹیسٹ سرٹیفکیٹ دیکھنے کا مطالبہ کریں۔
• ورنہ ان فلٹر پلانٹس سے اپنے کین/ بوتلیں بھروائیں، جن کی فائبر ٹینکیاں کم از کم صاف ہوں۔ زیادہ تر ٹینکیاں بورنگ پانی کی مسلسل بھرائی کیوجہ سے پھپھوند لگی ہوتی ہیں۔ یہی ٹینکیاں بیمار کررہی ہیں۔
• اپنے لئے ایک TDS میٹر (Online 500–700 روپے کا آلہ) خرید لیں۔ اور روزانہ نہیں، لیکن ہفتے میں ایک بار اپنے خریدے گئے فلٹر پانی کو چیک کرلیں۔ Ideal TDS: 150–300 ppm ہے، اگر 700 ppm سے اوپر ہے تو آپ زہر خرید رہے ہیں۔ فورآ اس واٹر پلانٹ کا بائیکاٹ کردیں۔ 50 ppm سے کم پانی کو "Dead Water" کہتے ہیں۔
• فلٹر پانی کا ذائقہ بھی اشارہ دیتا ہے۔ اگر پانی بہت میٹھا یا چپچپا لگے تو دکاندار نے منرلز کے ساشے زیادہ ڈالے ہیں۔ اگر پانی بے ذائقہ ہے تو نمکیات کی کمی ہے۔
• اگر بجٹ اجازت دے تو اپنے گھریلو استعمال کے لئے "RO + UV combo filter" (15–20 ہزار روپے) کا اچھا سسٹم لگا لیں۔ عموماً یہ سسٹم 2 سال تک صاف پانی کی گارنٹی دیتا ہے۔

Send a message to learn more

علی محمد صاحب لاہور سے۔پوچھتے ہیں کہ تلی ہوئی چیزیں یا بیکری بسکٹ مثلا گالا  کھانے سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے۔؟چکنی چیزی...
28/10/2025

علی محمد صاحب لاہور سے۔
پوچھتے ہیں کہ تلی ہوئی چیزیں یا بیکری بسکٹ مثلا گالا کھانے سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے۔؟
چکنی چیزیں یا بیکری کے بسکٹ جیسے گالا وغیرہ دراصل کئی ایسی چیزیں رکھتے ہیں جو بالواسطہ بلڈ پریشر بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ سادہ الفاظ میں سمجھیں تو ان کے تین بڑے اثر ہوتے ہیں:

---

1. نمک (سوڈیم) کی زیادہ مقدار

زیادہ تر بیکری آئٹمز میں سوڈیم بائیکاربونیٹ (بیکنگ سوڈا) اور نمک دونوں شامل ہوتے ہیں۔
سوڈیم جسم میں پانی روک لیتا ہے، جس سے خون کی مقدار بڑھتی ہے اور دل کو زیادہ زور سے پمپ کرنا پڑتا ہے — نتیجتاً بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔

---

2. ٹرانس فیٹس اور سیچوریٹڈ فیٹس

بسکٹ، پیسٹری اور چکنی چیزوں میں اکثر "مارجرین" یا "شارٹیننگ" استعمال ہوتی ہے، جن میں ٹرانس فیٹس زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ فیٹس خون کی نالیوں کو سخت (stiff) اور تنگ کر دیتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول دونوں بڑھتے ہیں۔

---

3. شوگر اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس

یہ چیزیں خون میں انسولین کی سطح بڑھاتی ہیں، جو وقت کے ساتھ وزن میں اضافہ اور انسولین ریزسٹنس پیدا کرتی ہیں۔ دونوں ہی ہائی بلڈ پریشر کے اہم اسباب ہیں۔

---

خلاصہ:
گالا یا اسی طرح کے بسکٹ نمک، چکنائی اور شوگر تینوں میں بھرپور ہوتے ہیں۔ مسلسل یا زیادہ مقدار میں کھانے سے خون کی نالیاں متاثر ہوتی ہیں، پانی جمع ہوتا ہے، اور دل پر بوجھ بڑھتا ہے — نتیجتاً بلڈ پریشر اوپر جاتا ہے۔

20/10/2025

# # اُڑتے چوہے: جب محبت آفت بن گئی

شہر کے ہر کونے میں "نیویارک سے کراچی تک، لندن سے دہلی تک" وہ اپنے پر پھیلائے، غٹر غوں کرتے، بجلی کے کھمبوں یا چھتوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں اور فٹ پاتھوں پر اترتے بس اسٹاپ کے قریب دانہ چُگتے دکھائی دیتے ہیں۔
ہم میں سے اکثر انہیں محبت، امن یا نیکی کی علامت سمجھ کر دانہ ڈال دیتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہی عادت ہمارے لیے
صحت، صفائی اور شہر کے ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے؟

کبوتر بے ضرر ضرور لگتے ہیں، مگر ان کی بڑھتی ہوئی تعداد، "گندہ فضلہ" اور "انسانی لاپرواہی" نے انہیں ایک خطرناک شہری مسئلہ بنا دیا ہے۔

# # # ⚠️ ہیرو سے مصیبت تک

کبھی یہی کبوتر آسمان کے قاصد تھے، بادشاہوں کے حکم نامے اڑاتے، میدانِ جنگ کے فیصلے بدلتے، اور عاشقوں کے دلوں میں محبت کے خط پہنچاتے۔ انسان کے بہترین مددگار کہلاتے تھے۔
مگر وقت کے ساتھ ان کا کردار ختم ہوا، اور وہ شہروں میں آزادانہ رہنے لگے۔
اب وہ ہمارے گھروں، چھتوں، یادگاروں اور پلوں اور چوراہوں پر بسیرا کرتے ہیں اور یہی جگہیں ان کے فضلے سے خراب ہو رہی ہیں۔

1960 کی دہائی میں نیویارک کے کمشنر نے ایک پارک کے دورے کے دوران غصے میں انہیں "rats with wings" یعنی "اڑتے چوہے" کہا اور یہ اصطلاح آج دنیا بھر میں ان کے بدلتے تصور کی علامت بن چکی ہے۔

مسئلہ کبوتر نہیں، بلکہ ان کی بے قابو آبادی ہے۔

# # # 🌍 دنیا کے بڑے شہروں میں کبوتروں کا پھیلاؤ

نیویارک سٹی، تخمینے کے مطابق یہاں 10 لاکھ سے زائد کبوتر ہیں، یعنی تقریباً ہر رہائشی کے برابر ایک کبوتر۔

وینس (اٹلی) تاریخی سینٹ مارک اسکوائر میں کبوتروں کی تعداد کبھی شہریوں سے تین گنا تک پہنچ گئی تھی۔ اب وہاں دانہ ڈالنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔

دہلی اور ممبئی، بھارت کے ان شہروں میں کبوتروں کی آبادی دو سے ڈھائی کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جہاں ثقافتی روایت کے طور پر پرندوں کو دانہ ڈالنے کی عادت اس اضافہ کا سبب ہے۔

لندن، کبھی ٹرافلگر اسکوائر کی پہچان کبوتر ہوا کرتے تھے، لیکن اب وہاں کھانا ڈالنا قانوناً منع ہے تاکہ شہر کو صاف رکھا جا سکے۔

کراچی، یہاں کبوتروں کی بڑھتی تعداد اور عوامی دانہ ڈالنے کے رجحان نے صفائی اور صحت دونوں کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

# # # 🧫 کبوتروں سے پھیلنے والے خطرات

کبوتروں کے خشک فضلے میں "بیکٹیریا اور فنگس" پیدا ہوتے ہیں، جو ہوا کے ذریعے پھیل کر "سانس کی بیماریوں" کا باعث بنتے ہیں۔
زیادہ خطرہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو روزانہ ان کے قریب رہتے ہیں، جیسے

* چھتوں پر کبوتر پالنے والے
* دانہ ڈالنے والے
* پرندوں کی دکانوں کے قریب رہنے والے

کبوتروں سے جڑی عام بیماریاں:

پھیپھڑوں کی فنگل بیماری
تیز بخار اور سانس میں دشواری
لمبے عرصے تک کبوتروں کی دھول سانس میں جانے سے پھیپھڑوں کی الرجی

"کراچی" میں 2025 میں ہر ہفتے اوسطاً "20 سے 25" مریض اسپتالوں میں داخل ہوئے جنہیں کبوتروں کی وجہ سے سانس کی بیماریاں لاحق ہوئیں۔
یہ اعداد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ صرف ایک پرندہ نہیں، بلکہ ایک "صحتِ عامہ کا مسئلہ" بن چکا ہے۔

# # # 🚫 دانہ ڈالنا "نیکی نہیں، نقصان ہے

ہم میں سے اکثر سمجھتے ہیں کہ دانہ ڈالنا نیکی ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل:

1. کبوتروں کی آبادی بڑھاتا ہے
2. بیماریوں کے جراثیم پھیلنے میں مدد دیتا ہے
3. عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچاتا ہے
4. چوہوں اور لال بیگ جیسے دوسرے جراثیم پیدا کرتا ہے

اسی لیے دنیا کے بڑے شہروں لندن، وینس، دہلی اور لاہور میں عوامی مقامات پر کبوتروں کو دانہ ڈالنا "قانوناً ممنوع" ہے۔

# # # 🏙️ شہری نقصان: صرف صحت نہیں، معیشت بھی متاثر

کبوتروں کے تیزابی فضلے سے عمارتوں کی دیواریں خراب ہوتی ہیں، تاریخی یادگاریں کٹ جاتی ہیں، اور صفائی پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق، "صرف کراچی" میں کبوتروں کے فضلے کی صفائی پر "سالانہ لاکھوں روپے" خرچ کیے جاتے ہیں۔

یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ انہیں دانہ ڈالنے کو "محبت" سمجھتے ہیں جبکہ یہ "غفلت" ہے۔

# # # 🛫 ہوائی حادثات کا خطرہ

پاکستان میں لاہور، راولپنڈی اور سرگودھا کے ہوائی اڈوں کے قریب "نو برڈ زونز" قائم کیے گئے ہیں، کیونکہ کبوتروں کے جھنڈ طیاروں کے انجنوں میں جا کر حادثے کا باعث بن سکتے ہیں۔
حکومت نے "سیکشن 144" کے تحت ان علاقوں میں کبوتروں کو اڑانے، پالنے اور دانہ ڈالنے پر پابندی لگائی ہے۔

یہ قوانین کبوتروں کے خلاف نہیں بلکہ "انسانی جانوں کے تحفظ" کے لیے ہیں۔

# # # 🧠 کبوتر ہوشیار ضرور، مگر شہری زندگی کے لیے نقصان دہ

کبوتر ذہین ہیں، راستہ پہچان لیتے ہیں، چہرے یاد رکھتے ہیں۔
مگر یہ ذہانت انہیں انسانوں کے قریب رہنے پر مجبور کرتی ہے
جہاں کھانا، پانی اور سایہ آسانی سے ملتا ہے۔
اسی قربت نے آج ہمارے شہروں میں گندگی، بیماری اور شور کا مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

# # # 💡 ہم کیا کر سکتے ہیں؟

1. کبوتروں کو دانہ نہ ڈالیں۔
2. چھتوں پر فضلہ جمع نہ ہونے دیں۔
3. پانی کے برتن یا فیڈر عوامی جگہوں پر نہ رکھیں۔
4. بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

# # # 🕊️ نتیجہ: نفرت نہیں، احتیاط ضروری ہے

کبوتر خوبصورت ضرور ہیں، مگر "انسانی لاپرواہی" نے انہیں ایک خطرہ بنا دیا ہے۔
اگر ہم واقعی ان سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں انہیں کھلانے کے بجائے
ان کے ماحول کو محفوظ فاصلے پر رکھنا چاہیے۔

یہی اصل نیکی ہے جو "انسان اور پرندے دونوں کو محفوظ" رکھتی ہے۔
(Copied)

اگر پاکستانی حکما کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ پلیٹ ایک بیماری سے بھرپور ہےبقول حکما کے بادی وڈا گوشتبادی آلو بادی گوبھی ٹ...
08/10/2025

اگر پاکستانی حکما کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ پلیٹ ایک بیماری سے بھرپور ہے
بقول حکما کے بادی وڈا گوشت
بادی آلو
بادی گوبھی
ٹماٹر کچے یقیناً گردے کا مرض
لیکن اسی پلیٹ کو اگر نیوٹریشنسٹ کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ پلیٹ ایک پرفیکٹ کمبینیشن ہے۔
جس میں بیف سے ملی شاندار پروٹین
اور اتنے بیف سے پچاس گرام پروٹین مل رہی ہے۔
وہیں پروٹین کے علاوہ آئرن کی روزانہ کی کوانٹٹی پوری کرنے کو کافی ہے۔
یعنی اگر خون کی کمی ہو تو بڑا گوشت کھانے سے دور ہو سکتی ہے۔
وٹامن بی12 کے علاوہ اس میں زنک بھی موجود ہے
زنک اگر مردوں کے لئے دیکھا جائے تو مردانہ فرٹلٹی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ساتھ میں آلو شامل ہیں۔ حکیمی لحاظ سے یہ بھی بادی جبکہ میرے مطابق یہ فائبر کاربوہائیڈریٹس اور پوٹاشیم کے حصول کا زریعہ ہیں
رشیا میں کاربوہائیڈریٹ کے لئے سب سے زیادہ آلو ہی استعمال ہوتے ہیں
گندم دوسرے نمبر پر ہے۔
اب بات کریں بروکلی کی تو یہ بھی اپنے طور پر بہترین غذا ئے۔
سبزیوں میں واحد سبزی ہے جس میں زیادہ پروٹین ہوتی ہے۔
فایبر ڈھیر سا اور ہر قسم کے وٹامنز سے بھرپور
معدہ فٹ رکھتی ہے۔
اصل مسئلہ ہمارے پکانے میں ہے۔ بیف کو پکانے کے لئے جب بالٹی بھر کے ککنگ آئل یا دیسی گھی شامل کیا جائے گا تو وہ اتنا زیادہ فیٹ اور کیلوریز بہت زیادہ ہو جاتی ہیں
ویسے ہی آلو کو اگر فرائی کر لیا جائے تو ٹنوں کے حساب سے تیل مل جاتا ہے۔
اصل مسئلہ ہمارے کھانوں میں تیل زیادہ ہونا اور بے انتہا کاربز ہیں۔
ہر کھانا بذات خود اچھا ہوتا ہے۔
اس لئے انجوائے کریں۔

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 10:00 - 11:00
Tuesday 10:00 - 11:00
Wednesday 10:00 - 11:00
Thursday 10:00 - 11:00
Friday 10:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctor Online:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Our Story

اک سوال ان بکس سے "ڈاکٹر صاحب وزن کم کرنے کا کوئی اسںان سا طریقہ بتا دیں" جواب بس تب کھایئں جب بہت بھوک ہو، اور تب چھوڑ دیں جب کچھ بھوک باقی ہو. کھانے سے پہلے پانی پیئں، کھانے بعد ٢ گھنٹے تک نہیں. جتنا کھائیں اتنا کام بھی کریں. 5 وقت کی نماز بہتریں ورزش ہے. بس وزن کم ہو جائے گا.

یہ ہیں تو چھوٹی چھوٹی سی باتیں. ممکن ہے آپ کو خاصی فضول سی بھی لگیں. پر یہ سب رسول اکرم کی حدیث میں ہے. ایک عرب شیخ کی زوجہ کا وزن صرف ان پر عمل کرنے سے 110 سے کم ہو کر 80 ہوا ہے. اور بھی ایسے کیسز صرف اسی پر عمل سے حیران کن طور پر ٹھیک ہو گئے ہیں.

Doctor Online