08/08/2022
الحمداللہ روزنامہ اساس میں چھپنے والی میری پہلی تحریر،
شکریہ جناب ناصر مغل صاحب۔
عنوان: عورت کو کبھی چھٹی نہیں ملتی
جیسے ہی میرا گزر امی کے کمرے کے سامنے سے ہوا امی نے مجھے دیکھتے ہی آواز لگائی ارے دانش جلدی ادھر آو اور کچن میں جا کے چولھے کی آنچ آہستہ کر دو۔ ۔ ۔ ہانڈی چڑھی ہوئی ہے۔
میں ویسے بھی کچن کی طرف ہی جا رہا تھا، پچھلے ایک گھنٹے میں میرا یہ تیسرا چکر تھا کچن کی طرف، اور ہر بار کی طرح پھر سے ف*ج کو کھول کے کھڑا ہو گیا کہ شائد اس میں کچھ کھانے کو مل جائے مگر اس بار بھی ف*ج میں رکھی کچھ سبزیاں اور انڈے مجھے منہ چڑا رہے تھے۔
ابھی اسی سوچ میں تھا کہ اچانک امی کی بات یاد آ گئ، تیزی سے چولھے کی طرف بڑھا اور ہانڈی کو دھیمی آنچ پر لگا دیا۔ کھانے کی خوشبو سے جب بھوک کی شدت بڑھی تو پیٹ میں سے بھی آوازیں آنا شروع ہو گیئں، جلدی سے پتیلی کا ڈھکن ہٹا کر دیکھنا چاہا تو گرما گرم بھاپ نے میرے منہ کا استقبال کیا، باوجود کوشش کے سمھجہ نہ سکا کہ کیا پک رہا ہے۔
پھر اپنے آپ سے بڑبڑانے لگا،،، ارے یار میں اپنا دماغ کیوں لگا رہا ہوں امی سے چل کے پوچھ لیتا ہوں۔
وہیں سے آواز لگاتا ہوا امی کے کمرے کی طرف چل دیا امی یہ کیا پک رہا ہے، میرا سوال خالی گیا،،،
امی کے کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ سبزی بنا رہی ہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا: امی ہانڈی تو چولھے پہ چڑھی ہوئی ہے پھر آپ یہ سبزی کیوں بنا رہی ہیں۔
امی نے مجھے اپنے پاس بٹھایا اور شفقت سے میرے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوے بولیں ۔ ۔ ۔ ۔ دانش بیٹا جو کھانا ابھی پک رہا ہے وہ تو تمہاری ہی پسند کا ہے اور یہ سبزی تو میں رات کے کھانے کے لیے بنا رہی ہوں ۔ ۔ ۔ بھول گئے تمہارے ابو کو یہ سبزی کتنی پسند ہے۔ اور آج تو ویسے بھی چھٹی کا دن ہے اور چھٹی کے دن تو ہم سب ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں ورنہ تم اور تمہارے ابو پورا ہفتہ ہمارے ساتھ کہاں ہوتے ہو۔
دانش بیٹا تم جا کر اپنے کمرے میں آرام کرو میں بس آدھے گھنٹے میں کھانا لگاتی ہوں۔
آج دن کے وقت میرے گھر پر ہونے کی وجہہ یہی تھی کہ آج چھٹی کا دن تھا،
میں اپنے کمرے میں بستر میں آ کے لیٹ گیا اور سوچنے لگا ۔ ۔ ۔ مجھے گزرے ہوے پورے ہفتے کی باتیں یاد آنے لگیں کہ کیسے آفس میں پورا ہفتہ کام کر کے مجھے چھٹی کے دن کا انتظار رہتا تھا کہ چھٹی کے دن صرف آرام کر کے اپنی تھکن اتاروں گا، میں ہمیشہ یہی سوچتا تھا کہ میں بہت زیادہ کام کرتا ہوں اس لیے مجھے آرام کی زیادہ ضرورت ہے۔
بستر پر لیٹے لیٹے میں نے کچن کی طرف دیکھا تو امی روٹیاں پکا رہی تھیں۔
رہ رہ کر مجھے یہی خیال آنے لگا کہ ہم مرد حضرات تو اپنی چھٹی آرام میں گزار لیتے ہیں مگر امی ۔ ۔ ۔ ۔
امی کو چھٹی کب ملے گی ان کو بھی تو ذھنی و جسمانی تھکن ہوتی ہو گی۔
یہی سوچ لیے میں امی کے پاس پھر سے جا پہنچا ۔ ۔ ۔ ۔
امی آپ پورا دن کام کر کر کے تھک جاتی ہونگی آپ اپنے لیے ایک بہو کیوں نہیں لے آتیں،
امی میری شرارت سے بھری بات پہ مسکرائیں اور میرے کان کھینچتے ہوے بولیں، بیٹا بہو لانے سے تمہاری امی کو تو چھٹی مل جائے گی مگر یاد رکھو ایک عورت کو کبھی چھٹی نہیں ملتی۔
اتنا کہہ کر امی پھر سے اپنے کام پہ لگ گئیں اور میں اپنا سر کھجاتا ہوا نکل گیا