26/07/2020
بچوں کے دمے کی وجوہات، علامات اور علاج
دمہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو آپ کے پھیپڑوں پر اثر انداز ہو تی ہے۔ دمہ کی سب سے عام علامت سانس سے سیٹی کی آوازوں کا نکلنا ،کھانسی ہونا اور سانس لینے میں دشواری پیش آنا ہے،
یہ علامتیں صحت کے کسی اور مسئلے کے باعث بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لئے پہلی مرتبہ اس مرض کی تشخیص مشکل ہے ،بالخصوص شیر خوار اور بہت چھوٹے بچوں میں۔
آپکے بچے کے لئے دمہ کب پریشانی کا باعث بن سکتا ہے
اس میں سانس کی نالیاں بہت سُکڑ جاتی ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے، تو آپ کے بچےکو اپنے پھیپھڑوں سے سانس اندر باہر لے جانے میں دقت کا سامنا ہوتا ہے۔
دمہ میں ہوا کی نالیاں تنگ ہونا
دمہ کے حملہ کے دوران ہوا کی نالیوں کے گرد پٹھے سخت ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سانس لینے میں دقت پیدا ہوجاتی ہے ۔
جب آپکے بچے کو دمے کا مسئلہ ہوتا ہے تو تین چیزیں سانس کی نالیوں کے سکڑنے کا سبب بنتی ہیں:
1. سانس کی نالیوں کی تہہ موٹی ہو جاتی ہے اور سُوج جاتی ہے۔ اس کو سوزش کہتے ہیں۔
2.سانس کی نالیوں کےگرد عضلات سخت ہو جاتے ہیں۔ اس کو میڈیکل ٹرمز میں ہوا کی نالیوں کا کھنچاؤ یا برونکوکنسٹرکشن( Broncho construction ) کہتے ہیں۔
3.سانس کی نالیاں بہت سا صاف، گاڑھا مائع بناتی ہیں جسے بلغم کہتے ہیں۔ دمے کے دوران یہ بلغم مزید گاڑھا ہوجاتا ہے جس سے سانس کی نالیوں میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔
دمے کی وجوہات ؛
یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ کیا چیز آپ کے بچے کے دمے کو جاری کرنے کا باعث بنتی ہے اور ان چیزوں سے حتی الا مکان بچے کو بچائییے. ان چیزوں /اسباب کو ٹریگرز (Triggers) کہا جاتا ہے. ٹریگرز آپکے بچے کے دمہ کو مذید بگاڑ سکتے ہیں
دمہ کا باعث بننے والی کچھ عام وجوہات مندرجہ ذیل ہیں :
1.انفیکشنز ،جیسے سردی لگ جانا یا زکام ہونا
2. .دھواں مثلاً سگریٹ یا تمباکو کا دھواں ، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، یا کچرا جالنے کی صورت میں پیدا ہونے والا دھواں
3..پالتو جانور (جانور کا رواں)
4.ہوائی آلودگی
5.نم دار موسم
6.سرد موسم
7.تیز خوشبو یا اسپرے
8.چند ادویات مثلاً aspirin یا ibuprofen
دمہ کی ادویات
دمے کے علاج کے لیے کی کئی ادویات استعمال کی جاتی ہیں. جن میں چند ادویات دمے کے حملے کے دوران پیدا ہونے والی علامات جیسے کے سانس لینے میں دشواری اور کھانسی کو بہتر کرتی ہیں اور چند ادویات بچے کے پھیپڑوں کو مقوی یعنی طاقتور بناتی ہیں تاکہ اول تو ان پر دمہ حملہ آور نہ ہو سکے اور ہو بھی جائے تو مرض سنگین صورت اختیار نہ کرے.
دمہ میں لی جانے والی زیادہ تر ادویات سانس کے ذریعے اندر لی جاتی ہیں. ۔
یہ ادویات بچے کے لئے بے حد محفوظ بتائی جاتی ہی ۔بچہ ان کو سالہا سال تک استعمال کرکے نارمل افراد کی قد و قامت تک پہنچ سکتا ہے۔
سانس کے راستے لی جانے والی زیادہ تر ادویات جو بچہ دمہ سے بچاؤ کے لئے لیتا ہے اُنہیں کنٹرولرز اور ریلیورز کہتے ہیں۔
دمہ کیلئے کنٹرولر (Controller) ادویات
کنٹرولر ایک ایسی دوا ہے جو سانس کی نالیوں کو سوجنے سے روکتی ہے۔ جب بچہ ہر روز ان ادویات کا استعمال کرتا ہے تو پھر اس کی سانس کی نالیوں کے گرد کم سوجن ہوتی ہے اور کم رطوبت بنتی ہے۔
ان ادویات کے استعمال کے بعد بچوں کو کلی کرلینی چاہیے یا تھوڑا سا پانی پی لینا چاہیے تاکہ میں سفید چھالے پیدا نہ
ہوسکیں.
بچے کو ایک کنٹرولر دوا ہر روز لینا چاہیئے، چاہے وہ علامتی طور پر بہتر ہی کیوں نہ ہو۔ اس بات کی اچھی طرح یقین دہانی کر لیجیے کہ بچہ اُس وقت تک باقاعدگی سے اس دوائی کا استعمال کرتا رہے جب تک کہ آپ کا ڈاکٹر خود اُسے روکنے کے لئے نہ کہہ دے۔
دمہ کے حملے میں استعمال ہونے والی ریلیورز (Relievers) ادویات :
یہ ادویات دمہ کی علامات جیسے کھانسی یا سانس لینے میں دشواری اور سانس لینے پر منہ سے سیئی کی آواز کے نکلنے جیسی علامات کا علاج کرتی ہیں. ان کو دمے کے حملے کے دوران سکون پہنچانے والی ادویات بھی کہا جاتا ہے.
ایک ریلیور(سکون پہنچانے والی دوا) سانس کی نالیوں کے عضلات کو سکون فراہم کرتی ہے۔ جیسے ہی عضلات کو سکون ملتا ہے، تو سانس کی نالیاں کھل جاتی ہیں۔ جب سانس کی نالیاں کھلتی ہیں، تو بچہ باآسانی سانس لینے کے قابل ہوتا ہے۔ ریلیور ادویات کی مثالیں اس طرح ہیں.
مریض کو ان ادویات کا استعمال اس وقت کرنا چاہیے جب تک وہ علامتی طور بہتر نہ ہو جائے یا جب تک آپ کا ڈاکٹر خود آپ کو ان ادویات کو ترک کرنے کا مشورہ نہ دیے ۔ ڈاکٹرز آپ کے بچے کو ورزش سے قبل بھی ریلیور استعمال کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں ۔
ابتدائی تنبیہی علامات جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کے بچے پر دمہ حملہ آور ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے ؛
ابتدائی تنبیہی علامات ہر بچے میں مختلف ہوتی ہیں. یہ وہ علامات ہیں جو عام طور پر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اب کے بچے پر دمہ حملہ آور ہونے والا ہے.
انہیں میں سے چند ایسی تبدیلیاں /علامات جنہیں آپ اپنے بچے میں دیکھ یا سُن سکتے ہیں :
1.کھانسی، جو کہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری ہو.
2. کھانستے کھانستے قے ہونا اور قے کے بعد کھانسی میں کچھ دیر کے لیے آرام محسوس کرنا.
3.رات کے وقت کھانسی میں شدت آنا
4.سانس سے سیٹیوں کی آوازیں نکلنا
5.سانس لینے میں مشکل پیش آنا
6.کھیل یا ورزش کے بعد بہت جلدی تھک جانا
7.معمول سے زیادہ تیزی سے سانس لینا
8.بچے میں جچڑچڑاپن پیدا ہونا یا اس کا کسی میں دل نہ لگنا
9.زکام کی علامات مثلاً ناک بند ہونا یا چھیینکیں آنا
* کچھ ایسی باتیں جو عام طور پر آپ کا بچہ آپ کو بتا سکتا ہے :
"میں تھک رہا ہوں۔ "
"میرے سینے میں درد ہو رہا ہے۔ "
"سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔ "
" جب میں سانس لیتا ہوں تو عجیب سی آواز (خرخراہٹ) نکلتی ہیں۔"
اگر آپ کے بچے میں ابتدائی تنبیہی علامات میں سے کوئی بھی ظاہر ہونے لگے تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ دمے کی جلد تشخیص اور علاج کو یقینی بنایا جا سکے ۔
خطرناک علامتیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بچے کا دمہ بگڑ رہا ہے :
1.کھانسی اور قے کو روکنے میں ناکامی
2.بات چیت کرنے میں مشکل پیش آنا
3.غیر معمولی غنودگی، اور آپ کو اُسے بیدار کرنے میں دشواری ہو
4.ہونٹ یا جلد کا نیلا ہونا
5.جب آپ کا بچہ سانس لے تو گردن یا سینے کی جلد اندر کی طرف جائے (اندر کی طرف کھنچنا)
اگر آپ کے بچے میں ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو اسے فوری طور پر قریبی ایمرجینسی ڈیپارٹمینٹ میں جائیے ، یا ایمبولینس کال کیجیے ۔
دمہ اور ورزش
دمے سے متاثرہ بچے بھی عام بچوں کی طرح کھیل کود اور ورزش میں حصہ لے سکتے ہیں بلک ورزش آپ کے بچے مجموعی صحت پر اچھا اثر مرتب کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود دمے سے متاثرہ بچوں کو بہت زیادہ بھاگ دوڑ والے کھیل اور سخت مشقت طلب ورزش میں حصہ نہیں لینا چاہیے بالخصوص دمے کے حملے کے دوران بچوں کو آرام کرنا چاہیے .
ورزش کچھ بچوں کے دمہ کو بگاڑ سکتی ہے
بچوں میں ورزش کے دوران یا ورزش کے بعد میں دمہ کی تنبیہی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جن کی روک تھام کے لئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کیجیے :
:
* اگر بچہ باقاعدگی سے کنٹرولر ادویات کا استعمال کر رہا ہے تو پھر اُسے دوران ورزش کم مسائل ہوں گے، اس لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورے کے بعد کنٹرولر ادویات کا روزانہ استعمال یقینی بنائیے.
* اس بات کی اچھی طرح یقین دہانی کر لیجیے کہ آپ کا بچہ کسی بھی ورزش کو ہمیشہ آسان، ہلکی پھلکی ورزش سے شروع اور ختم کرے۔ انہیں وارم-اپ یا کوُل-ڈاؤن ایکسرسائزز Warm-up & Cool-down exercises) I) کہا جاتا ہے۔
* کھیل یا ورزش کے دوران اپنے بچوں کو گرد آلود ہوا اور دھوئیں سے بچانے کے لیے فیس ماسک کا استعمال کروائیے.
بعض اوقات ڈاکٹرز بچوں کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ورزش سے پہلے وہ دمہ سے ریلیف دینے والی دوا کا استعمال کریں ۔ یاد رکھیے کہ ریلیف میڈیسنز دمے کی علامات کے علاج میں معاون ثابت ہوتی ہیں جیسے کھانسی اور سانس میں خرخراہٹ وغیرہ۔ اگر آپ کا بچہ ورزش سے15 یا 20 منٹ پہلے اس دوا کا استعمال کرتا ہے تو اس سے دمہ کی علامات کے عود آنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے ۔