03/01/2026
حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(تحریر: محمد اکمل خان ماہر علوم مخفی
کالم نگار و مشیر امامیہ جنتری
madinaturruhaniat)
03014578467/03470166772
💐🌸💮🏵️🌹🥀🌺🌻🌼
عربی زبان اللہ تعالی کا پیغام ہم تک پہنچانے کا وسیلہ ہے ۔عربی میں سب سے پہلا حرف ا، الف ہے ۔ ا کا عدد 1یعنی ایک ہے ۔ اس کو ملفوظی کیا ، یعنی جس طرح بولنے میں 'الف' آتا ہے تو ال ف لکھا ۔
ا کا 01 عدد ،
ل کے 30 اعداد ،
ف کے 80 اعداد حاصل ہوئے ۔
کل اعداد 111حاصل ہوئے ۔
111 میں سے ا کا ظاہری عدد 1 نفی کیا تو الف کے باطنی اعداد 110 ہوئے اور حضرت علی علیہ السلام کے اسم مبارک علی کے اعداد بھی 110 ہیں ۔
تمام حروف کی بنیاد الف ہے اور الف کا باطن حضرت علی علیہ السلام کی ذات گرامی ہے ۔
آپ علیہ السلام کا فرمان ذیشان ہے:
اَنَا نُقْطَۃُ بَاءِ بِسْمِ اللّٰہِ
" میں بائے بسم اللہ کا نُقطہ ہوں " ( نہج الاسرار )
شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کچھ اس انداز سے بائے بسم اللہ کا ذکر فرماتے ہیں
اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذ بح عظیم آ مد پسر
تمام آسمانی صحائف کا علم قُرآن پاک میں ہے
اور قرآن کا تمام علم بسم اللہ الرحمن الرحیم میں ہے ۔
اور بسم اللہ کا تمام علم بسم اللہ کی ب میں ہے
اور بسم اللہ کی ب کا تمام علم ب کے نقطے میں ہے ۔
آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ میں بسم اللہ کی ب کا نقطہ ہوں ۔ یعنی بغیر نقطہ کے بسم اللہ بے معنی ہے اور بسم اللہ الوہی علوم کی چابی ہے ۔ بسم اللہ کے بغیر فاتحہ سے والناس تک سارا قرآن برکت سے خالی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ قارئین دنیا کی ہر زبان کی اپنی ابجد ہے ۔ جیسے انگریزی ابجد ہے ۔ اس کا پہلا حرف A ہے ۔ عربی میں پہلا حرف الف ہے ۔ قلم کی نوک کاغذ پر رکھ کر اٹھا لیں تو کاغذ پر نقطہ یا خط کا نشان پڑے گا ۔ فن خطاطی میں اس نقطے یا خط کو قط کہتے ہیں ۔ الف میں ہمیشہ تین قط ہوتے ہیں ۔ اسی طرح تمام حروف قط سے مل کر بنتے ہیں ۔ ہر زبان کے ماہرین جانتے ہیں کہ ان کے حروف تہجی میں کتنے قط ہیں ۔ نقطہ اور خط مل کر حروف بناتے ہیں اور حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں
أَنَا اَلنُّقْطَةُ أَنَا اَلْخَطُّ أَنَا اَلْخَطُّ أَنَا اَلنُّقْطَةُ أَنَا اَلنُّقْطَةُ وَ اَلْخَطُّ.
۔میں نقطہ ہوں میں خط ہوں۔۔۔میں خط ہوں میں نقطہ ہوں۔۔۔میں نقطہ اور خط ہوں۔۔۔۔
جس طرح قرآن کی طاقت بسم اللہ کی ب میں ہے اسی طرح الف ابجد کی بنیاد ہے ۔ الف ہے تو باقی حروف ہیں ۔ اس الف کا باطن بھی مولا علی علیہ السلام کی ذات گرامی ہے ۔ یعنی قرآن اور حروف کا باطن باذن خداوند تعالی مولا علی علیہ السلام ہیں ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مشہور ارشاد گرامی ہے
اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَ عَلِیٌّ بَابُھَا
میں علم کا شہر ہوں اور علی علم کا دروازہ ہے!
دوسرا فرمان ہے
اَلْقرآنُ مَعْ عَلِیٍّ وَ عَلِیُّ مَعَ الْقُرآن
قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ
یہ دونوں مقدس فرامین ان سطور کی تائید کرتے ہیں ۔
المناقب ج ۲، ص ۴۹/نہج الاسرار۔