Madinaturruhaniat

Madinaturruhaniat M.Akmal Khan MadinaturRuhanait Ward no .13 Karor Lal Eason Layyah (Punjab) Pakistan Cell:03014578467

علانیہ برائیرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاارشاد مبارک ہے:إنَّ المَعصِيَةَ إذا عَمِلَ بِهَا العَبدُ سِرّا لَم تَضُ...
15/03/2026

علانیہ برائی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاارشاد مبارک ہے:
إنَّ المَعصِيَةَ
إذا عَمِلَ بِهَا العَبدُ سِرّا لَم تَضُرَّ إلاّ عامِلَها و إذا عَمِلَ بِها عَلانِيَةً و لَم يُغَيَّر عَلَيهِ أضَرَّت بِالعامَّةِ

اگر کوئی شخص چھپ کر گناہ کرتا ہے تو اس کا نقصان صرف اسی کو ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ کھلے عام اس کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے سرزنش نہیں کی جاتی ہے تو اس سے عام لوگوں کو نقصان ہوتا ہے۔

هرگاه بنده، پنهانى گناه كند، تنها به خود زيان مى رساند، و هرگاه آشكارا گناه كند و بر اين كار غيرت نورزد، آن گناه به همه مردم آسيب خواهد رساند.

Indeed, sin, if committed in secret, harms only the one who commits it; but if committed openly and not rebuked, it harms the general public.

वास्तव में, यदि पाप गुप्त रूप से किया जाए तो उससे केवल पाप करने वाले को ही हानि होती है; परन्तु यदि पाप खुलेआम किया जाए और उसकी निंदा न की जाए तो उससे आम जनता को हानि होती है।

ਦਰਅਸਲ, ਪਾਪ, ਜੇਕਰ ਗੁਪਤ ਰੂਪ ਵਿੱਚ ਕੀਤਾ ਜਾਂਦਾ ਹੈ, ਤਾਂ ਸਿਰਫ਼ ਉਸ ਵਿਅਕਤੀ ਨੂੰ ਨੁਕਸਾਨ ਪਹੁੰਚਾਉਂਦਾ ਹੈ ਜੋ ਇਸਨੂੰ ਕਰਦਾ ਹੈ; ਪਰ ਜੇ ਖੁੱਲ੍ਹੇਆਮ ਕੀਤਾ ਜਾਂਦਾ ਹੈ ਅਤੇ ਝਿੜਕਿਆ ਨਹੀਂ ਜਾਂਦਾ, ਤਾਂ ਇਹ ਆਮ ਲੋਕਾਂ ਨੂੰ ਨੁਕਸਾਨ ਪਹੁੰਚਾਉਂਦਾ ਹੈ।
بحار الأنوار، ج ۱۰۰، ص ۷۴

#نیکی #برائی #گناہ

تکلیف دہ چیز ہٹانارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:مَن أماطَ عَن طَريقِ المُسلِمينَ مايُؤذِيهِم، كَت...
14/03/2026

تکلیف دہ چیز ہٹانا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:

مَن أماطَ عَن طَريقِ المُسلِمينَ مايُؤذِيهِم، كَتَبَ اللّه ُ لَهُ أجرَ قِراءَةَ أربَعمِائةِ آيةٍ كُلُّ حَرفٍ مِنها بِعَشرِ حَسَناتٍ ؛

جو شخص مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹائے گا اس کے اعمال نام ے میں چار سو آیات تلاوت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا کہ ہر حرف کا اجر دس نیکیاں ہوں گی۔
Whoever removes from the path of Muslims what harms them, God will write for him the reward of reading four hundred verses, each letter of which is worth ten good deeds.

जो कोई मुसलमानों के मार्ग से उन्हें हानि पहुँचाने वाली चीज़ों को हटाएगा, अल्लाह उसके लिए चार सौ आयतों को पढ़ने का सवाब लिखेगा, जिसका प्रत्येक अक्षर दस नेक कामों के बराबर है।

ਜੋ ਕੋਈ ਮੁਸਲਮਾਨਾਂ ਦੇ ਰਸਤੇ ਤੋਂ ਉਹ ਚੀਜ਼ ਹਟਾਉਂਦਾ ਹੈ ਜੋ ਉਨ੍ਹਾਂ ਨੂੰ ਨੁਕਸਾਨ ਪਹੁੰਚਾਉਂਦੀ ਹੈ, ਅੱਲ੍ਹਾ ਉਸ ਲਈ ਚਾਰ ਸੌ ਆਇਤਾਂ ਪੜ੍ਹਨ ਦਾ ਫਲ ਲਿਖਦਾ ਹੈ, ਜਿਸਦਾ ਹਰ ਅੱਖਰ ਦਸ ਨੇਕੀਆਂ ਦੇ ਬਰਾਬਰ ਹੈ।
بحار الأنوار، ج ۷۵، ص ۵۰.

#نیکی

بہشت واجب۔۔۔مکمل روایت ملاحظہ کیجیے۔۔۔
12/03/2026

بہشت واجب۔۔۔مکمل روایت ملاحظہ کیجیے۔۔۔

رزق میں برکت🌻ستائیس رمضان المبارک کا خاص روحانی تحفہ🌹رزق میں اضافے کی نیت سے ستائیس رمضان المبارک کی شب سات دانے جَو/ گن...
11/03/2026

رزق میں برکت🌻
ستائیس رمضان المبارک کا خاص روحانی تحفہ🌹

رزق میں اضافے کی نیت سے ستائیس رمضان المبارک کی شب سات دانے جَو/ گندُم یا چاول لیں اور ہر دانے پر باوضو ستّر مرتبہ یَارَزَّاقُ پڑھیں پھر اُن کو پرس یا راشن کے ساتھ رکھیں۔ ان شاء اللہ تمام سال رزق میں برکت اور وسعت رہے گی ۔
#رزق #دعاء #برکت #یارزاق

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلامآپ کا ظہور 13رجب 30 عام الفیل 600 ء بروز جمعۃ المبارک بمقام خانہ کعبہ ہوا۔ آپ حضرت ابو ...
11/03/2026

حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام
آپ کا ظہور 13رجب 30 عام الفیل 600 ء بروز جمعۃ المبارک بمقام خانہ کعبہ ہوا۔ آپ حضرت ابو طالب علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ آپ کی مادرگرامی کا اسم مبارک فاطمہ بنت اسد ہے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ آپ کی والدہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشورے سے خانہ کعبہ کے پاس گئیں اور اس کا طواف کرنے کے بعد اس کی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئیں اور خدا سے دعاکی۔ کعبہ کی دیوار شق ہوئی اور آپ اندر چلی گئیں۔ اس کے بعد دیوار کعبہ پہلے جیسی ہو گئی۔ حضرت علی علیہ السلام کا ظہور کعبہ کے اندر ہوا۔ آپ علیہ السلام نے انکھیں نہیں کھولیں حتی کہ مادرگرامی کو شبہ ہوا کہیں بچہ بے نور تو نہیں۔ مگرجب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسرے دن تشریف لائے اور آپ کو اپنی آغوش مبارک میں لیا تو آپ نے آنکھیں کھولیں اور رسول خدا کےچہرہ انور کی زیارت کر کے آسمانی صحائف کی تلاوت شروع کردی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گلے لگایا اور فرمایا: اے علی جب آپ ہمارے ہیں تو میں بھی آپ کا ہوں۔ فورا حضرت علی علیہ السلام کے منہ میں زبان دے دی۔ آپ کی زبان سے بارہ چشمے جاری ہوئے اور حضرت علی علیہ السلام اچھی طرح سیراب ہو گئے ۔حضرت علی علیہ السلام کو چوتھے دن کعبہ سے باہر لایا گیا۔ آپ طیب و طاہر اور مختون پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا اسی لیے آپ کے نام کے ساتھ کرم اللہ وجہ کہا جاتا ہے۔
آپ کے والد ابوطالب علیہ السلام نے آپ کا نام زید رکھا۔ جب کہ مادر گرامی نے اسد رکھا اور سرور کائنات نے اللہ کے نام پر علی رکھا۔ ایک دن آپ کی مادر گرامی کہیں تشریف لے گئیں تو آپ کے جھولے پر ایک سانپ چڑھ گیا۔ آپ نے دونوں ہاتھوں سے اس کے جبڑے پکڑے اور چیر دیا۔ مادرگرامی نے جب دیکھا تو بے ساختہ پکارا۔ یہ میرا بچہ حیدر ہے۔
رسول خدا نے کچھ عرصے بعد حضرت علی علیہ السلام کو حضرت ابو طالب علیہ السلام سے لے لیا اور آپ کی پرورش کرنے لگے۔ اس طرح آپ دن رات رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنے 10 سال کی عمر میں آپ نے اظہار اسلام کیا۔ حضرت ابو طالب علیہ السلام کو اپنے بھتیجے سے بہت محبت تھی۔ رات کے ہر پہر وہ رسول خدا کا بستر اپنے کسی بیٹے سے بدل دیتے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی بیٹی فاطمہ کی شادی علی سے کروں۔ علماء کا اتفاق ہے کہ علم اور شجاعت ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ لیکن حضرت علی علیہ السلام کی ذات نے واضح کر دیا کہ میدان علم اور میدان جنگ دونوں پر قابو حاصل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ انسان میں وہی صلاحیتیں ہوں جو قدرت کی طرف سے مولا علی علیہ السلام کو ودیعت کی گئی حضرت علی علیہ السلام نے دنیا کو بارہا فرمایا کہ جا میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ دے۔ آپ علیہ السلام روزی کمانے کو عیب نہیں سمجھتے تھے اور مزدوری کو نہایت اچھی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ آپ نے کنویں سے پانی کھینچنے کی مزدوری کی اجرت کے لیے فی ڈول ایک خرمہ کا فیصلہ ہوا آپ نے 16 ڈول پانی کے کھینچے اور اجرت لے کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے مل کر تناول فرمایا۔حضرت علی علیہ السلام کی شان میں بہت سی قرآنی آیتیں نازل ہوئیں۔ آپ علیہ السلام کی شان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہت سی احادیث ہیں۔ مشہور حدیث ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔ حضرت علی علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے علم کے ایک ہزار باب تعلیم فرمائے اور میں نے ہر باب سے ہزار باب۔ مزید فرمایا کہ مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس طرح علم بھرایا ہے جس طرح کبوتر اپنے بچے کو دانہ بھراتاہے۔
ہجرت کی شب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو امانتیں سونپیں اور اپنے بستر پر سلایا۔ ہجرت کے بعد مؤاخات کے موقعے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا بھائی بنایا۔
شواہد نبوت میں ہے کہ جنگ خیبر کے سلسلہ میں بمقام صہباجب وحی کا نزول ہونے لگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر حضرت علی علیہ السلام کی گود میں سورج غروب ہو گیا آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ آفتاب کو پلٹا کر نماز ادا کریں چنانچہ آفتاب غروب ہونے کے بعد پلٹا اور حضرت علی علیہ السلام نے نماز ادا کی۔ اسی طرح دوبار آپ کے لیے سورج پلٹنے کے مشہور واقعات ہیں۔
حضرت امام شافعی رحمت اللہ علیہ کا مشہور قول ہے علی حبہ جنہ کہ علی کی محبت بچانے والی ڈھال ہے۔ بدر و احد میں حضرت علی علیہ السلام نے مشرکین سے جنگ کی۔ آپ کے لیے ذوالفقار نازل ہوئی۔ جنگ خندق مشہور زمانہ جنگجو عمر بن عبد ود کے مقابل حضرت علی علیہ السلام گئے اور اسے واصل جہنم کیا تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج کل ایمان کل کفر کے مقابلے میں جا رہا ہے۔ اسی طرح جنگ خیبر میں یہودیوں کے بڑے جنگجو مرحب کے مقابلے میں کوئی مسلمان نہیں ٹھہر رہا تھا تب بحکم وحی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو مرحب کے مقابلے میں بھیجا تو آپ نے اسے ایک ہی وار میں فنا کے گھاٹ اتارا۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 28 سفر 11 ہجری میں رحلت فرمائی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے تھوڑے عرصے آپ کی رفیقہ حیات حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا انتقال فرما گئیں۔ پے در پے ان صدمات نے آپ علیہ السلام کو بہت رنجیدہ کر دیا۔ آپ علیہ السلام 18 ذی الحجہ 35 ہجری کو تخت خلافت پر متمکن ہوئے۔ آپ کے دور حکومت میں بہت سے فتنوں نے سر اٹھایا اور آپ سے بہت سی جنگیں ہوئیں۔ جنگ جمل ٬ جنگ نہروان٬ جنگ صفین مشہور جنگیں ہیں۔آپ پر حالت نماز میں مسجد میں 19 ماہ رمضان المبارک کی شب کو آپ پر زہر آلود تلوار سے حملہ کیا گیا۔ اکیس ماہ رمضان المبارک میں آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ حضرت علی علیہ السلام کا مزار مبارک نجف اشرف میں مرجع خلائق ہے۔

#امام‌علی

السلام علیکم! محترم قارئین سلامت وشاد رہیے۔ مدینۃ الروحانیت کے روحانی تحائف تمام مسلمانوں کے لیے حاضر خدمت ہیں۔ غیرمسلم ...
10/03/2026

السلام علیکم!
محترم قارئین سلامت وشاد رہیے۔ مدینۃ الروحانیت کے روحانی تحائف تمام مسلمانوں کے لیے حاضر خدمت ہیں۔ غیرمسلم حضرات استعمال نہ کریں کہ اس میں قرآنی آیات شامل ہیں۔
اگر کسی غیر مسلم بھائی کو چاہیے تو عددی نقوش بنانے ہوں گے۔
ان کو کسی نیک وقت مثلا عیدین٬ شب قدر٬ جمعرات٬ جمعہ ٬ شرف زہرہ٬ .شرف شمس٬ نوروز٬ شرف عطارد٬ شرف قمر یا دیگر اوقات میں پرنٹ لے کر ہدایات کے مطابق استعمال کریں۔
عامل حضرات سائلین کو دے سکتے ہیں مگر ضروری صدقات کے بعد۔

اہم نکتہ: یہ تمام تحائف کسی مستند عامل یا مدینۃ الروحانیت سے پیپر٬ میٹل پر آداب عملیات کے تحت تیار کروانے سے تاثیر بہت زیادہ اور دیر پا ہوگی۔ ممکن ہو تو مدینۃ الروحانیت youtube چینل کے لنک پر کلک کر کے چینل سبسکرائب کر لیجیے۔ تاکہ ویڈیوز کی صورت بھی آپ تک پیغامات کی ترسیل جاری رہے۔ والسلام
محمد اکمل خان٬ ماہر علوم مخفی٬ کالم نگار امامیہ جنتری

https://youtube.com/?si=bx5v670Ukr5BCxUQ

https://youtu.be/Kog_BDIEgo4?si=IcwhmdxJObuHvvRy

موت کے بعد تین ساتھیرسول خدا صلي الله عليه و آله وسلم نے فرمایا: إذا ماتَ الإنسانُ انقَطَعَ عَمَلُهُ إلاّ مِن ثَلاثٍ: إل...
10/03/2026

موت کے بعد تین ساتھی

رسول خدا صلي الله عليه و آله وسلم نے فرمایا:
إذا ماتَ الإنسانُ انقَطَعَ عَمَلُهُ إلاّ مِن ثَلاثٍ:
إلاّ مِن صَدَقَةٍ جاريَةٍ
أو عِلمٍ يُنتَفَعُ بِهِ
أو وَلَدٍ صالِحٍ يَدعُو لَهُ؛

جب انسان مر جاتا ہے تو سب اعمال رک جاتے ہیں؛ مگر تین اعمال کاثواب جاری رہتا ہے :
صدقہ جاریہ٬ ( مثلا درخت٬ کتاب٬ پانی کا نلکا وغیرہ )
مفید علم ؛ جو دوسرسں کو نفع پہنچائے٬
اور نیک اولاد جو مرنے والے کے حق میں دعا کرے اور نیک کام کرے

با مرگ انسان، رشته عملش قطع مى شود، مگر از سه چيز: صدقه جارى (وماندگار)، دانشى كه مردم از آن بهره مند شوند، و فرزند نيكوكارى كه برايش دعا كند.

When a person dies, his deeds cease except for three: ongoing charity, knowledge that is beneficial, or a righteous child who prays for him.

किसी व्यक्ति की मृत्यु होने पर, उसके कर्म समाप्त हो जाते हैं, सिवाय तीन बातों के: निरंतर दान-पुण्य, लाभकारी ज्ञान, या एक धर्मी संतान जो उसके लिए प्रार्थना करती है।

ਜਦੋਂ ਕੋਈ ਵਿਅਕਤੀ ਮਰ ਜਾਂਦਾ ਹੈ, ਤਾਂ ਉਸਦੇ ਕੰਮ ਤਿੰਨ ਕੰਮਾਂ ਤੋਂ ਇਲਾਵਾ ਬੰਦ ਹੋ ਜਾਂਦੇ ਹਨ: ਜਾਰੀ ਦਾਨ, ਲਾਭਦਾਇਕ ਗਿਆਨ,
ਜਾਂ ਇੱਕ ਨੇਕ ਬੱਚਾ ਜੋ ਉਸਦੇ ਲਈ ਪ੍ਰਾਰਥਨਾ ਕਰਦਾ ਹੈ।

ميزان الحكمه، ح ۱۴۲۸۷.

حضرت امام حسن بن علی علیہ السلام تحریر: محمد اکمل خان٬ ماہر علوم مخفی Madinaturruhaniat مدینۃ الروحانیتحضرت امام حسن علی...
09/03/2026

حضرت امام حسن بن علی علیہ السلام
تحریر: محمد اکمل خان٬ ماہر علوم مخفی
Madinaturruhaniat مدینۃ الروحانیت
حضرت امام حسن علیہ السلام ماہ مقدس رمضان المبارک کی 15 تاریخ کو مدینہ منورہ میں ہجرت کے تیسرے سال امیرالمؤمینن علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی گود کی زینت بنے۔ آپ علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری کا سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیٹی کے گھر تشریف لے گئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہزادے کو گود میں لے کر دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور اپنی زبان مبارک شہزادے کے منہ میں دی جسے آپ چوسنے لگے۔ روایت ہے کہ آپ کی مادر گرامی حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے شوہر حضرت علی علیہ السلام سے شہزادے کا نام تجویز کرنے کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا: میں کس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سبقت کروں٬ بچے کا نام وہ خود تجویز کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحی کا انتظار فرمایا۔ فرشتہ ایک ریشمی رومال لے کر حاضر ہوا جس پر جلی حروف میں « حسن » لکھا ہوا تھا۔ بعد میں دوسرے شہزادے کی آمد پر اس کا نام حسین رکھا۔ اللہ نے ان اسماء کو پردے میں رکھا تھا لہذا عرب میں اس سے پہلے یہ نام کسی نے نہیں رکھے ۔ ساتویں دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا عقیقہ فرمایا۔ آپ کا سرمنڈوا کر بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کی اور دنبہ ذبح کروایا۔ اسی دن سے امت کے لیے عقیقے کی سنت شروع ہوئی۔ آپ علیہ السلام اہل کساء میں سے چوتھے فرد ہیں جب کہ دوسرے امام ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک امام حسن اور حسین علیہما السلام کا بہت بلند درجہ ہے۔ قرآن نے ان دونوں نواسوں کو رسول کے بیٹے قرار دیا ہے۔ ان دونوں شہزادوں کو حسنین کہتے ہیں۔ حضرت امام حسن علیہ السلام شکل و صورت٬ عادات و خصائل میں اپنے نانا کی شبیہہ تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ وہ ایک کندھے پرحضرت امام حسن اور دوسرے کندھے پر حضرت امام حسین علیہ السلام کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اور باری باری دونوں کا منہ چومتے ہیں۔ امام بخاری اور امام مسلم لکھتے ہیں کہ ایک دن رسول خدا امام حسن علیہ السلام کو کندھے پر بٹھائے ہوئے فرما رہے تھے : خدایا میں اسے دوست رکھتا ہوں٬تو بھی اس سے محبت کر۔امام نسائی روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول خدا عشاء کی نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے۔آپ کی آغوش میں امام حسن علیہ السلام تھے۔آنحضرت نماز میں مشغول ہو گئے۔ جب سجدے میں گئے تو اتنا طویل کر دیا کہ راوی نے گمان کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔اختتام نماز پر آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا میرا فرزند میری پشت پر آگیا تھا٬ میں نے یہ نہ چاہا کہ اسے اس وقت تک پشت سے اتاروں٬جب تک وہ خود نہ اتر جائے۔ اس لیے سجدے کو طول دینا پڑا۔ محدثین نے لکھا ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محو خطبہ تھے کہ حسنین تشریف لائے اور حضرت امام حسن علیہ السلام کا پاؤں دامن سے الجھا٬ آپ لڑکھڑائے تو حضور نے فورا خطبہ روکا اورمنبر سے اتر کر دونوں شہزادوں کو گود میں اٹھایا اور منبر پر جا کر خطبہ شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسن اور حسین جوانان بہشت کے سردار ہیں اور ان کے والد بزرگوار ان دونوں سے بہتر ہیں۔نیز امام حسن علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: یہ میرا بیٹا سید ہےاور دیکھو یہ عنقریب دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے گا۔ علامہ عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام شیرخوارگی کے عالم میں لوح محفوظ کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کم سنی کے عالم میں اپنے نانا پر نازل ہونے والی وحی کا احوال گھر میں جا کر من و عن اپنی والدہ ماجدہ کو سنادیا کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام نے گود رسالت میں پرورش پائی اور بچپن سے ہی مسائل علمیہ میں مہارت رکھتے تھے۔ قارئین کے لیے ایک ایمان افروز واقعہ پیش خدمت ہے۔ ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھا کہ ایک شخص کے ہاتھ میں خون آلود چھری ہے اور وہاں ایک شخص ذبح ہوا پڑا ہے۔جب اس سے پوچھا گیا کہ تو نے اسے قتل کیا ہے تو اس نے اقرار کیا۔ لوگ اسے مقتول کی نعش سمیت امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں لے کے جانے لگے تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگامیں نے اسے قتل کیا ہے تم اسے چھوڑ دو۔ لوگوں نے اسے بھی ساتھ لے لیا اور امیرالمؤمنین کی خدمت میں جا پہنچے۔ آپ علیہ السلام نے پے شخص سے پوچھا جب تو نے قتل نہیں کیا تو کس وجہ سے قاتل ہونے کا اقرار کیا؟ اس نے کہا میں قصاب ہوں٬ گوسفند ذبح کیا تو رفع حاجت کے لیے خون آلود چھری کے ساتھ ایک خرابے میں چلا گیا وہاں جاکر دیکھا تو ایک شخص ذبح شدہ موجود ہے اور اذی دوران لوگ آگئے اور مجھے پکڑ لیا۔ میں نےسوچا تمام شواہدمجھے قاتل بتارہے ہیں تو میرے انکار کو کون تسلیم کرے گا٬ سو میں نے قتل کا اقرار کرلیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے دوسرے شخص سے پوچھا کہ کیا تو اس کا قاتل ہے؟اس نے کہا جی ہاں میں اسے قتل کر کے چلا گیا تھا لیکن جب دیکھا کہ قصاب کی جان ناحق چلی جائے گی تو میں حاضر ہو گیا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: میرے فرزند حسن کو بلاؤ وہی اس کا فیصلہ کریں گے۔ حضرت امام حسن علیہ السلام نے تمام ماجرا سنا اور فرمایاان دونوں کو رہاکردو۔یہ قصاب بے قصور ہے اور یہ دوسرا شخص اگرچہ قاتل ہے لیکن اس نے ایک نفس کو قتل کیا تو دوسرے نفس کو بچا کر اسے حیات دی اور اس کی جان بچا لی اور حکم قرآن ہے کہ جس نے ایک نفس کی جان بچائی تو گویا تمام لوگوں کی جان بچائی۔ لہذا اس مقتول کا خون بہا بیت المال سے دیا جائے۔
امیرالمؤمنین کی شہادت کے بعد اکیس رمضان المبارک 40 ہجری کو حضرت امام حسن علیہ السلام کی بیعت کی گئی۔ بعد میں مخالفین کی ریشہ دوانیوں کا سامنا کیا تو اپنے نانا کی سنت پر چلتے ہوئے اور مسلمانوں کی جانوں کو تلف ہونے سے بچانے کے لیے مخالفین سے چند شرائط پر صلح کر لی۔ آپ نے 47 سال کی عمر میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ آپ کو زہر دے کر شہید کیا گیا۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کی خواہش تھی کہ انہیں اپنے نانا کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ لیکن بعض وجوہات کے سبب آپ کوجنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

#امام‌علی #اسلام #مدینہ #کوفہ #خلافت

نحوست سیارگان کا بہترین حل۔۔۔شب قدر میں تیار کیے جانے والے بہترین روحانی تحائف میں سے ایک۔۔۔ساڑھ ستی٬ نحوست اوردیگر نحس ...
08/03/2026

نحوست سیارگان کا بہترین حل۔۔۔شب قدر میں تیار کیے جانے والے بہترین روحانی تحائف میں سے ایک۔۔۔ساڑھ ستی٬ نحوست اوردیگر نحس اثرات کے توڑ کے لیےصدیوں سے استعمال ہونے والے طلسمات۔۔۔۔

#سیارگان #نجوم #عملیات #ملازمت #تسخیر #نکاح #خاندان #محبت

قمر درعقرب۔۔۔تمام نیک کاموں کے لیے نحس وقت۔۔۔شادی بیاہ۔۔۔افتتاح۔۔۔بڑی خریداری۔۔۔منگنی۔۔۔۔تبادلہ۔۔۔تعمیر۔۔۔۔بڑا سفر۔۔۔سب ...
07/03/2026

قمر درعقرب۔۔۔تمام نیک کاموں کے لیے نحس وقت۔۔۔شادی بیاہ۔۔۔افتتاح۔۔۔بڑی خریداری۔۔۔منگنی۔۔۔۔تبادلہ۔۔۔تعمیر۔۔۔۔بڑا سفر۔۔۔سب چیزوں کے لیے بہت نامناسب وقت۔۔۔۔اگر مجبوری ہے تو اس وقت کے خالق سے دونفل اور صدقہ دے کر مدد مانگیے۔۔۔ورنہ پرانی روٹین جاری رکھیے۔۔۔پھر بھی صدقہ دیجیے۔۔۔
#عقرب #قمردرعقرب

حروف و اعداد اور بچوں کی نفسیاتتحریر: محمد اکمل خان ماہر علوم مخفی علم الاعداد کی روشنی میں اپنے بچے کی نفسیات جانیے:  ا...
06/03/2026

حروف و اعداد اور بچوں کی نفسیات
تحریر: محمد اکمل خان ماہر علوم مخفی
علم الاعداد کی روشنی میں اپنے بچے کی نفسیات جانیے:

السلام علیکم معزز قارئین! سلامت وشاد رہیے۔ عدد ایک سے نو تک بچوں کی نفسیات٬ عادات و اطوار٬ تعلیمی قابلیت اور فطری میلانات جانیے علم الاعداد کے حساب سے۔ گزشتہ تحریروں میں عدد ایک اور دو کے بچوں کی عمومی نفسیات کا ذکر کر چکے ہیں۔ لہذا یہاں پر عدد 3 کا ذکر کیاجاتا ہے۔
عدد 3 کے بچے:
ہر مہینے کی 3٫12٫21٫30 کو پیدا ہونے والے بچے عدد 3 کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
عمومی نفسیات: ایسےبچے بہت ایکٹو٬ چست اور پھرتیلے ہوتے ہیں۔ ہر ایک سے فورا گھل مل جاتے ہیں۔ ان کےمزاج میں عدد ایک جیسی اکڑ اور عدد دو جیسی نرمی بیک وقت پائی جاتی ہے۔ یہ ہمیشہ خود کو سب سے نمایاں اور منفرد سمجھتے ہیں۔ علوم و فنون کا بہت شوق ہوتا ہے۔مزاج میں بے پروائی اوردلیری بہت پائی جاتی ہے۔طبیعت میں جھجھک نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایک وقت میں کئی کام کرتے رہتے ہیں۔ ایسے بچے بہت ذہین ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی بہت آرام پرست ہو جاتے ہیں۔ جب چڑچڑے ہوں تو کسی کو معاف نہیں کرتے۔ گالیاں دینے اور مارنے کی عادت میں جلد مبتلا ہوجاتے ہیں۔ بہت خوشامدپسند ہوتے ہیں اور اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں۔ ایسے بچے پیدائشی فن کار ہوتے ہیں۔ مصوری کی طرف طبعی رجحان ہوتا ہے۔ ان کے مزاج میں دوسروں کو ہنسانے کی عمدہ صلاحیت ہوتی ہے۔ بے ساختہ مزاح پیدا کرتے ہیں۔ ان کو توجہ اور عزت نہ دی جائے تو شدید ردعمل دکھاتے ہیں۔ مزاج میں قربانی دینے کی بہت صلاحیت ہوتی ہے۔ کلاس فیلوز اور دوسرے بچوں سے تعلقات بنانے میں تاخیر سے کام نہیں لیتے۔ ایسے بچے بڑوں سے بھی دوستی کر لیتے ہیں۔ عدد ایک کی طرح یہ بھی اپنی ذات کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں۔ دوسروں سے بہت توقعات رکھتے ہیں۔ ان کے مزاج میں اصول پسندی اور ضد ہوتی ہے۔ بلا کے انا پرست ہوتے ہیں۔ تجسس ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے اور معاملات کی تہہ تک جاتے ہیں۔ تفصیلی بات جرنا اور مختصر بات سننا پسند کرتے ہیں۔ پیدائشی لیڈر ہوتے ہیں۔ جذباتیت٬ حساسیت٬ نرگسیت٬خوداعتمادی٬ سیکھنے کی صلاحیت ان میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کو ڈانٹنے کی بجائے ریسپیکٹ دے کر اکیلے میں سمجھایا جائے تو فوری رسپانس دیتے ہیں۔ والدین٬ اساتذہ اور دوستوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں۔ بے پناہ سخی ہوتے ہیں اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کر کے خوش ہوتے ہیں۔بولنے اور اظہار کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
#اولاد #محبت #تسخیر #خاندان

Address

Karor Lal Isa

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madinaturruhaniat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Madinaturruhaniat:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram