25/08/2023
بچوں میں سانس روکنا ایک بہت عام مسلہ ہے جس میں بچے کو بار بار نیلے پن کےدورےپڑتے ہیں۔
یہ عام طور پر چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو متاثرکرتے ہیں۔
ان کی اہم علامت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ کسی نہ کسی محرک سے شروع ہوتے ہیں جیسے بچے کو درد ہونا، چڑچڑاپن، اچانک گرنا، بچوں کی خواہش کو پورا نہ کرنا وغیرہ۔
جب بچہ سو رہا ہو یا آرام سے کھیل رہا ہو تو وہ کبھی سانس روکنے کا مسلہ نہیں ہوگا اور اگر ایسا ہوتا تو یہ نیلے پن یا سانس روکنے کے دورے نہیں مرگی ہوسکتی ہے۔
یہ زیادہ تر بے ضرر ہوتے ہیں اور بچے تھوڑی دیر میں خود سے معمول کے مطابق سانس لینا شروع کر دیتے ہیں لیکن والدین کے لیے یہ یقینی طور پر بہت خوفناک ہوتا ہے کیونکہ دیکھنے والے کو یہی لگتا ہے کہ بچے نے سانس لینا بند کر دیا ہے۔ اکثر والدین گھر میں بچے کی چھاتی دبانا یا سی پی آر(CPR) بھی شروع کر دیتے ہیں۔
ش*ذ و نادر صورت میں اگر سانس روکنے کا دورا طویل ہو جاۓ تو وہ بچے کو آکسیجن کی کمی سے جھٹکے بھی لگ سکتے ہیں۔
اس حالت کی صحیح وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہے لیکن چند عوامل اس کو فروغ دے سکتے ہیں جیسے فولاد کی کمی.ایک یہ بھی خیال کیاجاتا ہے کہ یہ چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کا دماغ ناپختہ اور ابھی وقت کے ساتھ ساتھ نشوونما پانے والا ہوتا ہےجو اسکا سبب بنتاہے۔
والدین کو ان سانسوں روکنے کے دوروں کے دوران صبر وہمت سے کام لینا چاہیے ۔ یادرکھیں آپ کا بچہ چند سیکنڈز کے بعد خود سے سانس مکمل بہال کرلے گا۔ اگر کھبی بچے کو اس دوران جھٹکے لگتے ہیں ہیں تو آپ کو بچے کے منہ میں کوئی بھی چیز ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے، بچے پر نظر رکھیں، کروٹ کے بل لٹاٸیں ,اگر یہ جھٹکے رکتے نہیں تو ایمرجنسی میں بچے کو لے جاٸیں۔
علاج میں اگر بچے کو خون کی کمی ہو تو فولاد کا شربت تجویز کیا جاتا ہے۔ پیراسیٹم (PIRACETAM)جیسی دوائیوں کا کردار ریسرچ میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
ایسے بچوں کی بحالی بہترین ہے اور پانچ سال کی عمر کے بعد تمام بچے ٹھیک ہو جاتےہیں۔