Ghulam Sabir Clinic

Ghulam Sabir Clinic An organized medical service offering diagnostic, therapeutic and preventive outpatient services.we also cater home nursing care services.

02/10/2025
12/04/2024

ڈاؤن سنڈروم (Down syndrome) ۔ بنیادی معلومات
آپ نے اکثر ایسے بچے دیکھے ہوں گے جو آپس میں کوئ تعلق نہ ہونے کے باوجود بھی ظاہری شکل و صورت میں کافی مماثلت رکھتے ہیں ۔ انکے قد چھوٹے ، وزن زیادہ چہرہ چپٹا ، جبڑا چھوٹا اور زبان بڑی نظرآتی ہے ۔
ایسے شخص یا بچے چاہے کسی دنیا کے حصے میں ہوں انکی شکل و صورت میں کافی مماثلت پائ جاتی ہے ۔
جہاں یہ دیکھنے میں مختلف نظر آتے ہیں وہیں انکی چال ڈھال، سمجھنے کا انداز اور ذہانت باقی لوگوں سے مختلف ہوتی ہے۔
کچھ بیماریاں ہیں جو ان میں دوسروں لوگوں کے مقابلے میں زیادہ پائ جاتی ہیں۔
اس جنیاتی مسلے کی سائنسئ وجہ ، بچاو ، علامات اور کونسی بیماری کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہے وغیرہ وغیرہ تفصیل کے ساتھ ویڈیو میں بیان کیا گیا ہے ۔
ویڈیو کا لنک کیمنٹس سیکشن دیا گیا ہے ۔دوسروں کے ساتھ بھی شیر کریں اور ھمیں فالو کریں ۔۔

25/08/2023

بچوں میں سانس روکنا ایک بہت عام مسلہ ہے جس میں بچے کو بار بار نیلے پن کےدورےپڑتے ہیں۔
یہ عام طور پر چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو متاثرکرتے ہیں۔
ان کی اہم علامت یہ ہے کہ یہ ہمیشہ کسی نہ کسی محرک سے شروع ہوتے ہیں جیسے بچے کو درد ہونا، چڑچڑاپن، اچانک گرنا، بچوں کی خواہش کو پورا نہ کرنا وغیرہ۔
جب بچہ سو رہا ہو یا آرام سے کھیل رہا ہو تو وہ کبھی سانس روکنے کا مسلہ نہیں ہوگا اور اگر ایسا ہوتا تو یہ نیلے پن یا سانس روکنے کے دورے نہیں مرگی ہوسکتی ہے۔
یہ زیادہ تر بے ضرر ہوتے ہیں اور بچے تھوڑی دیر میں خود سے معمول کے مطابق سانس لینا شروع کر دیتے ہیں لیکن والدین کے لیے یہ یقینی طور پر بہت خوفناک ہوتا ہے کیونکہ دیکھنے والے کو یہی لگتا ہے کہ بچے نے سانس لینا بند کر دیا ہے۔ اکثر والدین گھر میں بچے کی چھاتی دبانا یا سی پی آر(CPR) بھی شروع کر دیتے ہیں۔
ش*ذ و نادر صورت میں اگر سانس روکنے کا دورا طویل ہو جاۓ تو وہ بچے کو آکسیجن کی کمی سے جھٹکے بھی لگ سکتے ہیں۔
اس حالت کی صحیح وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہے لیکن چند عوامل اس کو فروغ دے سکتے ہیں جیسے فولاد کی کمی.ایک یہ بھی خیال کیاجاتا ہے کہ یہ چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کا دماغ ناپختہ اور ابھی وقت کے ساتھ ساتھ نشوونما پانے والا ہوتا ہےجو اسکا سبب بنتاہے۔
والدین کو ان سانسوں روکنے کے دوروں کے دوران صبر وہمت سے کام لینا چاہیے ۔ یادرکھیں آپ کا بچہ چند سیکنڈز کے بعد خود سے سانس مکمل بہال کرلے گا۔ اگر کھبی بچے کو اس دوران جھٹکے لگتے ہیں ہیں تو آپ کو بچے کے منہ میں کوئی بھی چیز ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے، بچے پر نظر رکھیں، کروٹ کے بل لٹاٸیں ,اگر یہ جھٹکے رکتے نہیں تو ایمرجنسی میں بچے کو لے جاٸیں۔
علاج میں اگر بچے کو خون کی کمی ہو تو فولاد کا شربت تجویز کیا جاتا ہے۔ پیراسیٹم (PIRACETAM)جیسی دوائیوں کا کردار ریسرچ میں بھی دیکھا جارہا ہے۔
ایسے بچوں کی بحالی بہترین ہے اور پانچ سال کی عمر کے بعد تمام بچے ٹھیک ہو جاتےہیں۔

Dietry plan for lactating mothers 👍
07/07/2023

Dietry plan for lactating mothers 👍

04/07/2023

ایک ماہر اطفال ہونے کے ناطے ہم والدین سے چیک اپ کےدوران انکے بچوں کی مناسب تشخیص اور علاج کے لیے ان چیزوں کی توقع کرتے ہیں۔ براہ کرم ان پر عمل کریں کیونکہ یہ آپ کے بچے کےعلاج کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔
1. ماؤں کو ہمیشہ بچے کے ساتھ چیک اپ کے لیے آنا چاہیے کیونکہ ماں ہی زیادہ تر وقت بچے کی دیکھ بھال کرتی ہے اور وہ بیماری کی تمام تفصیلات جانتی ہے۔
2. بچوں کا تمام سابقہ ​​میڈیکل ریکارڈ لائیں بشمول ٹیسٹ رپورٹس اور میڈیسن ۔ اس سے ہمیں کم ٹیسٹ کروانے اور مناسب ادویات کا مشورہ دینے میں مدد ملتی ہے نہیں تو سب کچھ شروع سے کروانا پڑتا ہے جس کا نقصان آپ کو ہو گا۔
3. کبھی بھی ڈاکٹر کےلفظ کو بچوں کو ڈرانے کے لیے استعمال نہ کریں، خاص طور پر ڈاکٹر اور انجیکشن کو نہ ملاٸیں۔ ایک پرسکون بچے کے مقابلے میں روتے ہوئے چڑچڑے بچے کا صحیح طریقے سے معاٸنہ کرنا مشکل ہوتا ہے۔
4. چیک اپ کے لیے آنے سے پہلے بچوں کو خاص طور پر ٹائٹ جینز پہنانے سے گریز کریں۔ معاٸنہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
5. چیک اپ کے لیے آنے سے پہلے اپنے خیالات کو منظم کریں کہ آپ کے خیال میں آپ کا بچہ کن مسائل سے دوچار ہے۔اس سے تشخیص میں آسانی ہوتی ہے۔
6. اگر بچے کو بخار ہے تو بچے کا درجہ حرارت ریکارڈ کریں اورریکارڈ ساتھ لاٸیں۔ یہ بہت ضروری ہے۔
7. کئی بار جب ہم والدین سے کسی مسئلے کی تفصیلات کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ وہاں بچوں سے ان چیزوں کے بارے میں سوال کرنا شروع کر دیتے ہیں، تمام تفصیلات کے ساتھ آنا آپ کی ذمہ داری ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ماٶں کو ساتھ آنے کا بولتے ہیں کیونکہ وہ بچے کے متعلق تمام باتیں جانتی ہیں۔
8. چیک اپ کرتے وقت پورے خاندان کو ساتھ نہ لائیں، صرف والدین ہی کافی ہیں ۔سب اپنے اپنے سوال پوچھیں گے اور یہ چیک اپ کے معیار کو متاثر کرے گا۔
9. تشخیص اور علاج کے بارے میں خود کے فیصلے کے ساتھ نہ آئیں جیسے ڈاکٹر صاحب یہ ٹیسٹ کروائیں یا یہ دوا شروع کریں۔ آپ کا ڈاکٹراسے اچھا نہیں سمجھے گااور یہ چیک اپ کے معیار کو متاثر کرے گا۔ ڈاکٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاج اور لیبارٹری ٹیسٹ کا مشورہ دیں نہ کہ آپ۔
10. چیک اپ کے بعد اپنے ڈاکٹروں پر بھروسہ کریں۔ خود ڈاکٹر مت بنیں. کچھ لوگ مکمل مشورے پر عمل نہیں کرتے اور اپنی مرضی کی ٹیسٹ رپورٹس کروا لیتے ہیں اور جو دل کرے میڈیسن لیتے ہیں باقی چھوڑ دیتے ہیں .اس عمل سے صرف آپ کے بچے کے علاج پر اثر پڑے گا , ڈاکٹر کو کوئی اثر نہیں ہوگا

20/05/2023

سوال: بچے کو 1 سال کے بعد کتنا دودھ دینا چاہیے؟

جواب :: امریکناکیڈمی آف پیڈیاٹریکز تجویز کرتی ہے کہ 12 سے 24 ماہ کے چھوٹے بچوں کو روزانہ 2سے 3 کپ (16–24 اونس) دودھ استعمال کریں ۔

2 سے 5 سال کی عمر کے بچے2سے 2.5 کپ (16–20 اونس) کم چکنائی والا دودھ پییں۔

اگر دودھ زیادہ دیا جائے تو بچے میں قبض، خون کی کمی کا سبب بن سکتا ہے

Address

Kasur
50550

Telephone

+923338193033

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghulam Sabir Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ghulam Sabir Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram