Dr. Gul Asim

Dr. Gul Asim Health for all 24/7 Emergency

26/07/2025
17/04/2025

اینٹی بائیوٹکس: ایک قیمتی مگر خطرے میں پڑی نعمت

آج کے دور میں ہم اینٹی بائیوٹکس کو ایک "نان رینیوایبل ریسورس" یعنی غیر قابل تجدید وسائل کی طرح دیکھتے ہیں، جیسے تیل، گیس یا معدنیات۔ مطلب یہ کہ یہ ختم تو نہیں ہوتیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کی مؤثریت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے: اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس۔

سیدھی زبان میں کہا جائے تو جب بیکٹیریا ہمارے جسم میں انفیکشن کرتے ہیں، تو ہم اینٹی بائیوٹک لیتے ہیں تاکہ ان کا خاتمہ ہو۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیکٹیریا اپنی جینیاتی ساخت میں ایسی تبدیلیاں (میوٹیشنز) پیدا کر لیتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹک ان پر اثر ہی نہیں کرتی۔

یہ عمل مکمل طور پر قدرتی ہے، لیکن انسانی مداخلت نے اسے خطرناک حد تک تیز کردیا ہے۔
بیکٹیریا کس طرح اینٹی بائیوٹک کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے؟
بیکٹیریا میں جینیاتی تبدیلیاں یا میوٹیشنز رونما ہوتی ہیں، جن میں سے کچھ اسے اینٹی بائیوٹک سے بچاؤ کے قابل بنا دیتی ہیں۔ اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کے بنیادی چار طریقے ہیں:

1. انزائمز بنانا: جیسے beta-lactamase، جو پینسلین جیسی اینٹی بائیوٹکس کو ناکارہ کرتا ہے۔
2. ریسپٹرز میں تبدیلی: بیکٹیریا وہ جگہ ہی بدل لیتے ہیں جہاں اینٹی بائیوٹک اثر انداز ہوتی ہے۔
3. ایفلوکس پمپس: یہ اینٹی بائیوٹکس کو بیکٹیریا سے باہر نکال دیتے ہیں۔
4. میٹابولزم میں تبدیلی: بیکٹیریا اپنی اندرونی سرگرمیاں اس طرح ڈھال لیتا ہے کہ دوا بے اثر ہو جائے۔
ایک قدرتی مگر تیز رفتار خطرہ
اینٹی بائیوٹکس قدرتی طور پر فنجائی یا بیکٹیریا ہی سے حاصل کی جاتی ہیں۔ مطلب یہ کہ دنیا میں اینٹی بائیوٹکس اور ان کے خلاف مدافعت رکھنے والے بیکٹیریا دونوں ہزاروں سالوں سے موجود ہیں۔ 2011 میں ملنے والے 30 ہزار سال پرانے بیکٹیریا میں بھی ریزسٹنس جینز پائے گئے۔
مسئلہ تب پیدا ہوا جب انسان نے ان دواؤں کو بے تحاشا اور بے احتیاطی سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

پاکستان میں صورتحال

پاکستان جیسے ممالک میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ یہاں تقریباً ہر میڈیکل سٹور پر اینٹی بائیوٹکس بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے آسانی سے مل جاتی ہیں۔ کسی کو بخار ہو، کھانسی ہو، یا زکام، فوراً اینٹی بائیوٹک تجویز کر دی جاتی ہے، اور لوگ خود بھی دوا خرید لیتے ہیں۔ جب کہ بین الاقوامی ممالک میں اینٹی بائیوٹک صرف ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے پر ہی دی جاتی ہے، وہ بھی محدود مقدار میں، اور مکمل نگرانی کے تحت۔
مسئلہ صرف انسانوں تک محدود نہیں
اینٹی بائیوٹکس کا استعمال صرف انسانوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ جانوروں کی خوراک میں بھی اسے شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ جلدی بڑے ہوں یا بیمار نہ پڑیں۔ لیکن یہ دوا ان کے گوشت، دودھ، اور انڈوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو جاتی ہے، جس سے ہمارے جسم میں بھی اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کے امکانات بڑھتے ہیں۔
اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کے نتائج
2019 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 7 لاکھ افراد اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد ایک کروڑ سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ وہ بیماریاں جو پہلے عام دوا سے ٹھیک ہو جاتی تھیں، اب جان لیوا بن رہی ہیں۔

حل کیا ہے؟

اینٹی بائیوٹکس کا صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔
مکمل کورس ختم کریں، درمیان میں چھوڑنا خطرناک ہے۔
وائرس (جیسے زکام، نزلہ) پر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرتیں، بلاوجہ نہ لیں۔
جانوروں میں بھی دوا کا استعمال کنٹرول ہونا چاہیے۔

حکومت کو قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ اینٹی بائیوٹک صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی دی جائے۔
امید کی کرن

سائنسدان نئی اینٹی بائیوٹکس پر کام کر رہے ہیں۔ جیسے "Augmentin"، جس میں amoxicillin کے ساتھ clavulanic acid ہوتا ہے، جو بیکٹیریا کے بنائے گئے انزائم کو ناکارہ کرتا ہے۔ مگر یاد رہے:
"احتیاط علاج سے بہتر ہے۔

Common issues regarding  ramazan
18/04/2022

Common issues regarding ramazan

It's actual story ....
30/01/2022

It's actual story ....

19/11/2021

حالیہ ویکسینیشن کیمپین:........

بہت سے لوگ حالیہ سرکاری ویکسینیشن کیمپین کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں Measles & Rubella ویکسین لگائی جا رہی ہے. اس سے متعلق مندرجہ ذیل نکات کو ذہن نشین کر لیں:

1. یہ ویکسین ہے کیا؟

یہ ویکسین 2 بیماریوں کے خلاف ہے:. خسرہ (Measles). جرمن میزلز (Rubella)

خسرہ سے تو آپ لوگ واقف ہی ہیں. جرمن میزلز بھی وائرس سے ہونے والی، خسرہ سے ملتی جلتی بیماری ہے. فرق یہ ہے کہ اسکی شدت کم ہوتی ہے اور اس میں جب جلد پر سرخ نشان(rash) ابھرتے ہیں تو بخار ٹوٹ جاتا ہے جبکہ خسرہ میں rash کے ساتھ بخار مزید تیز ہو جاتا ہے.

2. انکے خلاف ویکسین کیوں ضروری ہے؟

یاد رکھیں کہ یہ دونوں بیماریاں خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہیں. خصوصاً ان بچوں میں جنکی قوت مدافعت کمزور ہو. اور آجکل کے دنوں میں کوئی پتہ نہیں کہ کورونا نے ہماری اور بچوں کی قوت مدافعت پر مجموعی طور پر کیا اثرات مرتب کئیے ہیں. لہٰذا یہ ویکسین ضرور لگوائیں.

انکی ممکنہ پیچیدگیوں کی ہلکی سی جھلک دکھاتا ہوں:
. خسرہ کے وائرس کی وجہ سے شدید اسہال، شدید نمونیا، گردن توڑ بخار، جھٹکے، قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے دیگر خطرناک انفیکشنز اور کچھ بچوں میں کئی سال بعد مستقل اور خطرناک ذہنی معذوری SSPE کے امکانات ہوتے ہیں. اور ہمارے ہاں خوراک کی کمی کا شکار بچوں میں خسرہ کی صورت میں اسہال، نمونیا اور انفیکشنز تو بہت ہی عام ہیں اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں.
. روبیلا کا وائرس عموماً مریض کے اپنے لیے تو خطرناک نہیں ہوتا لیکن حاملہ خواتین میں حمل کے شروع میں یہ انفیکشن ہو تو بچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایسے بچے کئی پیدائشی معذوریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں. لہٰذا بچیوں میں تو اسکی ویکسین انتہائی ضروری ہے.

3. روٹین ویکسینیشن اور حالیہ کیمپین:

پاکستان میں بہت عرصے سے خسرہ کا حفاظتی ٹیکہ روٹین ویکسینیشن پروگرام میں شامل ہے. پہلے اسکی صرف ایک ڈوز لگتی تھی، 9 ماہ پر. پھر چند سال پہلے اسکی تعداد 2 کر دی گئی اور دوسری خوراک 15 ماہ پر دی جاتی ہے. پہلے MMR صرف پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں میں لگتا تھا اور اسکی قیمت 2 سے 4 ہزار تک ہے. یہ بھی 9ماہ(کچھ ڈاکٹر پہلی خوراک 12 ماہ پر لگاتے ہیں. وہ بھی ٹھیک ہے) اور 15 ماہ پر لگتا ہے.
یہاں یہ جان لیں کہ MMR ویکسین میں خسرہ اور روبیلا کے علاوہ، کن پیڑے یعنی Mumps کے خلاف ویکسین بھی شامل ہے. کن پیڑے یعنی ممپس کا وائرس عموماً چند دن کے بخار اور کان کے نیچے، لعاب پیدا کرنے والے غدود Parotid Glands کی سوجن کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے. لیکن کچھ بچوں میں گردن توڑ بخار، (لڑکوں میں) خصیوں یا (لڑکیوں میں) بیضہ دانی کی سوزش کر سکتا ہے. اور سب سے خطرناک وہ پیچیدگی ہے جس میں یہ لبلبے یعنی pancreas کی سوزش کرتا ہے اور شدید بیماری کے علاوہ بعد میں شوگر کا باعث بھی بن سکتا ہے.

یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ اب سرکاری طور پر Measles اور Rubella کی ویکسین دستیاب ہو گئی ہے اور عوام کو مفت لگائی جا رہی ہے. (ممپس والی فی الحال اس میں شامل نہیں)

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکا بوسٹر، یعنی تیسری ڈوز 4 سے 6 سال کی عمر کے دوران لگنا چاہیے جو کہ پہلے سرکاری طور پر تو بالکل نہیں لگتا تھا اور پرائیویٹ طور پر بھی اکثر لوگ بھول جاتے تھے. جن بچوں کو یہ تیسری خوراک نہ لگی ہو وہ 15 سال کی عمر تک بھی یہ لگوا سکتے ہیں. لہٰذا اب سکول جانے والے 15 سال تک کے بچوں کیلئے سنہری موقعہ ہے کہ وہ اس کیمپین سے فائدہ اٹھائیں.
اور یہ حالیہ کیمپین خسرہ سے بچاؤ کیلئے بہت اہم ہے کیونکہ ہر سال موسم سرما میں اسکی وبا پھوٹ پڑتی ہے. اور جیسا کہ پہلے عرض کی اس بار پہلے ہی کورونا کی وجہ سے قوت مدافعت کی صورتحال کا کوئی علم نہیں. لہٰذا اسکی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے. اور اس مقصد کیلئے صرف خسرہ کی ویکسین کی بجائے M&R کا انتخاب تو بہت ہی مستحسن فیصلہ ہے.

4. شیڈول:

سب سے زیادہ سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ جن بچوں کو خسرہ کی ویکسین لگ چکی ہے یا لگنے والی ہے، انکا کیا کیا جائے؟ اس بارے میں درج ذیل باتیں سمجھ لیں:
. وبائی صورتحال میں یا وباء سے بچنے کیلئے متعلقہ بیماری کی ویکسین کی اضافی خوراک کو وسیع پیمانے پر لگانا ایک معمول کی بات ہے. خدارا اسے کسی سازشی تھیوری سے نہ جوڑیں.
. تو جن بچوں کو خسرہ کی ابھی 1 ہی ڈوز لگی ہے اور اسے 4 ہفتے سے اوپر ہو چکے ہیں، انہیں اس کیمپین کے تحت دوسری ڈوز لگوا لیں.
جن بچوں کو دونوں خوراکیں پہلے سے لگ چکی ہیں، اور دوسری خوراک کو 4 ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، وہ بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں اور اضافی خوراک کا کوئی نقصان نہیں. بلکہ فائدہ یہ ہے کہ پہلے صرف خسرہ کے خلاف مدافعت تھی تو اب روبیلا کے خلاف بھی ہو جائے گی.
. جو بچے پہلے ہی پرائیویٹ طور پر MMR لگوا رہے ہیں، انکو اگر پہلے ایک خوراک لگی ہے اور دوسری لگنے والی ہے تو انکی مرضی ہے کہ خواہ وہیں سے لگوا لیں جہاں سے پہلے لگوائی ہے، خواہ سرکاری کیمپین سے لگوا لیں. جن بچوں کو دونوں خوراکیں MMR کی لگ چکی ہیں اور انکی عمر 4 سال سے کم ہے، بہتر ہے کہ وہ ابھی نہ لگوائیں اور 4 سال کی عمر کا انتظار کریں اور پھر تیسری ڈوز لگوائیں. البتہ اگر دوسری ڈوز کو 4 ہفتے سے اوپر کا عرصہ گزر گیا ہو اور آپ نے کیمپین میں اضافی ڈوز لگوا لی ہو تو بھی کوئی مضائقہ نہیں.
. سکول جانے والے، 15 سال سے چھوٹے، وہ تمام بچے جنہیں (صرف) خسرہ یا MMR کی تیسری خوراک نہیں لگی، وہ اس سرکاری کیمپین کے تحت سکول میں ویکسین لگوانے کی اجازت بلا خوف و خطر دے دیں.
البتہ جو معدودے چند لوگ پرائیویٹ طور پر MMR کی تیسری ڈوز لگوا چکے ہیں، وہ یہ اضافی خوراک نہ بھی لگوائیں تو کوئی بات نہیں. البتہ اگر تیسری خوراک کو چند سال گزر چکے ہیں تو لگوا لینا بہتر ہے.

5. موانع اور سائیڈ افیکٹس:

جن بچوں میں کسی وجہ سے قوت مدافعت میں کمی ہے، مثلاً جو کسی بیماری کیلئے سٹیرائیڈز لے رہے ہیں، یا جو کینسر کا علاج کروا رہے ہیں، یا جن میں پیدائشی طور پر قوت مدافعت کی کمی ہے، یا جنہیں کسی ویکسین سے الرجی ہے... یہ سب اپنے اپنے سپیشلسٹ کے مشورے کے بغیر یہ ویکسین نہ لگوائیں.
اسکے سائیڈ افیکٹس عموماً بہت کم اور معمولی سے ہوتے ہیں. زیادہ تر بچوں میں ٹیکے کی جگہ پر (یہ ٹیکہ جلد کے نیچے لگتا ہے) معمولی سوجن اور ہلکا بخار ہو سکتا ہے. اس صورت میں بس پیناڈول کا استعمال کریں. سوجن خود ہی ٹھیک ہو جائے گی. کچھ بچوں میں معمولی سا ریش (جلد پر سرخ نشان) بھی دیکھنے میں آیا ہے. یہ بھی کوئی تشویشناک بات نہیں اور خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے.

Important issues regarding ramazan
18/04/2021

Important issues regarding ramazan

Ramzan Mubarak to every one.Dr Gull Asim
13/04/2021

Ramzan Mubarak to every one.
Dr Gull Asim

10/04/2021

Address

Kasur

Opening Hours

Monday 10:00 - 14:00
Tuesday 10:00 - 14:00
Wednesday 10:00 - 14:00
Thursday 10:00 - 14:00
Friday 10:00 - 14:00

Telephone

+923204626868

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Gul Asim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Gul Asim:

Share