17/04/2025
اینٹی بائیوٹکس: ایک قیمتی مگر خطرے میں پڑی نعمت
آج کے دور میں ہم اینٹی بائیوٹکس کو ایک "نان رینیوایبل ریسورس" یعنی غیر قابل تجدید وسائل کی طرح دیکھتے ہیں، جیسے تیل، گیس یا معدنیات۔ مطلب یہ کہ یہ ختم تو نہیں ہوتیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کی مؤثریت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے: اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس۔
سیدھی زبان میں کہا جائے تو جب بیکٹیریا ہمارے جسم میں انفیکشن کرتے ہیں، تو ہم اینٹی بائیوٹک لیتے ہیں تاکہ ان کا خاتمہ ہو۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ بیکٹیریا اپنی جینیاتی ساخت میں ایسی تبدیلیاں (میوٹیشنز) پیدا کر لیتے ہیں کہ اینٹی بائیوٹک ان پر اثر ہی نہیں کرتی۔
یہ عمل مکمل طور پر قدرتی ہے، لیکن انسانی مداخلت نے اسے خطرناک حد تک تیز کردیا ہے۔
بیکٹیریا کس طرح اینٹی بائیوٹک کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے؟
بیکٹیریا میں جینیاتی تبدیلیاں یا میوٹیشنز رونما ہوتی ہیں، جن میں سے کچھ اسے اینٹی بائیوٹک سے بچاؤ کے قابل بنا دیتی ہیں۔ اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کے بنیادی چار طریقے ہیں:
1. انزائمز بنانا: جیسے beta-lactamase، جو پینسلین جیسی اینٹی بائیوٹکس کو ناکارہ کرتا ہے۔
2. ریسپٹرز میں تبدیلی: بیکٹیریا وہ جگہ ہی بدل لیتے ہیں جہاں اینٹی بائیوٹک اثر انداز ہوتی ہے۔
3. ایفلوکس پمپس: یہ اینٹی بائیوٹکس کو بیکٹیریا سے باہر نکال دیتے ہیں۔
4. میٹابولزم میں تبدیلی: بیکٹیریا اپنی اندرونی سرگرمیاں اس طرح ڈھال لیتا ہے کہ دوا بے اثر ہو جائے۔
ایک قدرتی مگر تیز رفتار خطرہ
اینٹی بائیوٹکس قدرتی طور پر فنجائی یا بیکٹیریا ہی سے حاصل کی جاتی ہیں۔ مطلب یہ کہ دنیا میں اینٹی بائیوٹکس اور ان کے خلاف مدافعت رکھنے والے بیکٹیریا دونوں ہزاروں سالوں سے موجود ہیں۔ 2011 میں ملنے والے 30 ہزار سال پرانے بیکٹیریا میں بھی ریزسٹنس جینز پائے گئے۔
مسئلہ تب پیدا ہوا جب انسان نے ان دواؤں کو بے تحاشا اور بے احتیاطی سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔
پاکستان میں صورتحال
پاکستان جیسے ممالک میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ یہاں تقریباً ہر میڈیکل سٹور پر اینٹی بائیوٹکس بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے آسانی سے مل جاتی ہیں۔ کسی کو بخار ہو، کھانسی ہو، یا زکام، فوراً اینٹی بائیوٹک تجویز کر دی جاتی ہے، اور لوگ خود بھی دوا خرید لیتے ہیں۔ جب کہ بین الاقوامی ممالک میں اینٹی بائیوٹک صرف ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے پر ہی دی جاتی ہے، وہ بھی محدود مقدار میں، اور مکمل نگرانی کے تحت۔
مسئلہ صرف انسانوں تک محدود نہیں
اینٹی بائیوٹکس کا استعمال صرف انسانوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ جانوروں کی خوراک میں بھی اسے شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ جلدی بڑے ہوں یا بیمار نہ پڑیں۔ لیکن یہ دوا ان کے گوشت، دودھ، اور انڈوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہو جاتی ہے، جس سے ہمارے جسم میں بھی اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کے امکانات بڑھتے ہیں۔
اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کے نتائج
2019 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 7 لاکھ افراد اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد ایک کروڑ سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ وہ بیماریاں جو پہلے عام دوا سے ٹھیک ہو جاتی تھیں، اب جان لیوا بن رہی ہیں۔
حل کیا ہے؟
اینٹی بائیوٹکس کا صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔
مکمل کورس ختم کریں، درمیان میں چھوڑنا خطرناک ہے۔
وائرس (جیسے زکام، نزلہ) پر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرتیں، بلاوجہ نہ لیں۔
جانوروں میں بھی دوا کا استعمال کنٹرول ہونا چاہیے۔
حکومت کو قانون سازی کرنی چاہیے تاکہ اینٹی بائیوٹک صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی دی جائے۔
امید کی کرن
سائنسدان نئی اینٹی بائیوٹکس پر کام کر رہے ہیں۔ جیسے "Augmentin"، جس میں amoxicillin کے ساتھ clavulanic acid ہوتا ہے، جو بیکٹیریا کے بنائے گئے انزائم کو ناکارہ کرتا ہے۔ مگر یاد رہے:
"احتیاط علاج سے بہتر ہے۔