26/02/2025
جانئیے اندر کی سائنس
سیپیا خواتین کی دوا ھی کیوں ؟؟؟
سیپیا کیوں خواتین کے امراض میں زیادہ فایدہ مند ؟؟؟
سیپیا کیسے کام کرتی ھے ...؟
سیپیا ٹانگ پر ٹانگ کیوں رکھتی ھے ؟؟؟
سیپیا کیا ھے اور کیسے اور کیوں خواتین کے لیے موثر ؟؟
سیپیا اور نیٹرم میور میں کیا رشتہ ھے ؟؟؟
سمندر میں پائ جانے والی cattle fish اپنے بچاؤ کے لیے اک خاص قسم کی سیاھی حملہ اور سے بچنے کے لیے ھنگامی پور پر ریلیز کرتی ھے اسے Sepia ink کہا جاتا ھے اسی سے ڈاکٹر ھانمن ھے #سیپیا کی proving کی جسے اک کل ھم sepia ھومیوپیتھک دوا کے طور پر جانتے ھیں یہ مایع سیاھی زیادہ تر کیلشیم کاربونیٹ ، میگنیشیم و دیگر منرلز پر مشتمل ھوتی ھے دوران proving اسکا دائرہ اثر Portal system پر زیادہ دیکھا گیا جہاں یہ خون کی سرکولیشن کو cellular level تک سست کرتی ھے جس کی وجہ سے سیپیا مریضہ کی جلد کی تکالیف ، داغ دھبے ، خارش ، خشکی جیسے مسائل پیش آتے ھیں ۔
سیپیا کو خواتین کی دوا کے طور پر بھی جانا جاتا ھے کیونکہ ھارمونز کے مسائل ھوں ، آوری یا یوٹرس کے مسائل ھوں ، جگر کے ایشوز ھوں سیپیا بہت موثر انداز میں کام کرتی ھے۔ خواتین کی جتنی مخصوص ھومیوپیتھک ادویات ھیں زیادہ تر منرل کنگڈم سے تعلق رکھتی ھیں۔ منرلز و وٹامنز کی کمی خواتین میں زیادہ پای جاتی ھے خاص کر شادی شدہ خواتین ، بچوں والی خواتین کے روز مرہ کے مسائل میں اکثریت سیپیا کی مریضہ ھوتی ھیں، جلدی مسائل ھوں hormonal balance ھو ،PCOS ھوں سیپیا بہت بہتر کام کرتی ھے وجہ نمکیات وٹامنز کی کمی ھوتی ھے ھارمونز کے مسائل ھوتے ھیں ۔۔۔۔ کچھ معالجین مرد نماز خواتین کی دوا سیپا قرار دیتے ھی....
سیپیا جس مچھلی سے حاصل ھوتی اسے کیٹل فش کہتے ھیں جو اپنے آپ اک عجوبہ سے کم نہی یہ ایسا جاندار ھے جس کے تین دل ھوتے ھیں ھر حصے کے لیے الگ بلڈ سرکولیشن کا نظام اور الگ دل صرف کیٹل فش کا خاصہ ھے اسکی ھڈی بھی دوا کے طور پر صدیوں سے استعمال ھو رھی ھے جو مکمل کیلشیم کاربونیٹ ھوتی ھے اسے عام طور پر پرندوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا جاتا ھے تا کہ ان کے اندر کیلشیم کی کمی دور کی جا سکے اسی طرحٹی ا سیپیا براؤن سیاھی بھی صدیوں سے استعمال ھو رھی ھے اسی کو بانی ھومیوپیتھی ڈاکٹر ھانمن نے proving کی اور ھومیوپیتھک دوا کے طور پر میٹیریا میڈیکا میں ایڈ کیا جو آج Sepia کے نام سے جانی پہچانی ھومیوپیتھک دوا ھے یہ اسی طرح خواتین کی دوا ھے جیسے پلانٹ کنگڈم کی پلسٹیلا خواتین کی خصوصی دوا ھے بلکل اسی طرح یہ ایسی خواتین کی خاص دوا ھے جو زچگی کے دور سے گزر رھی ھوں ، حاملہ ھوں ، دودھ پلانے والی ھوں یا سن یاس سے گزر رھی ھوں ، ھارمونز کے مسائل سے دو چار ھوں ۔۔
میں کل خواتین کی تمام خاص ادویات کامطالعہ کر رھا تھا اک بات مجھے بہت ھی خاص لگی کہ اکثر ادویات mineral kingdom سے تعلق رکھتی ھیں یا اگر وہ پلانٹ یا animal kingdom سے بھی ھیں تو بھی دیکھا گیا کہ ڈرگ کیمسٹری منرل کنگڈم جیسی ھی ھے جیسا کہ سپیا ھے جو حاصل تو cattle fish سے کی جاتی ھے لیکن sepia ink کی ڈرگ کیمسٹری 80 سے 85 فیصد کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل ھے اور اس کے ساتھ دیگر منرلز کا بھی تناسب موجود ھے جب کہ اس کے علاؤہ سوڈیم کلورائیڈ ، کیلشیم فاسفیٹ میگنیشیم و دیگر منرلز بھی موجود ھوتی ھے ۔
عام طور پر سب جانتے ھیں کہ سیپیا نیٹرم میور کے ساتھ اچھا کام کرتی ھے اس کی اندر کی سائنس بھی یہ ھے کہ سیپیا سیاھی کے اندر کیلشیم کے بعد دوسرا بڑا تناسب سوڈیم کلورائیڈ کا پایا جاتا ھے جس کی وجہ سے نیٹرم میور اور سیپیا کے ساتھ معاون ھے ، vaginal dryness آپ نیٹرم میور میں بھی دیکھتے ھیں اور سیپیا کے اندر بھی ویجاینل ڈراینس پائ جاتی ھے سوئیاں چبھنے جا احساس پایا جاتا ھے وجہ سوڈیم کلورائیڈ کا تناسب ھے جو سیپیا کے اندر موجود ھوتا ھے ۔
نمک کے بارے ھم جانتے ھیں کہ خون کی شریانوں کو تنگ کرتا ھے جس کی وجہ سے بلڈ پریشر بھی ھوتا ھے اور سیپیا کے اندر نمک کا تناسب capillaries level پر خون کی گردش کو سست کرتا ھے جس سے اعضا سست خون کی گردش سے متاثر ھوتے ھیں یہ پتھالوجیکل تبدیلیاں سیپیا سیاھی سے انسانی جسم انسانی اعضا خون کی نالیوں میں وقوع پزیر ھوتے ھیں، آپ دیکھتے ھیں سیپیا بواسیر میں بھی کام کرتی ھے اندر کی سائنس یہ ھے کہ یہ خون کی سست روانی کو بہتر کرتی ھے جس سے پھولی رگوں میں بہاؤ اور تناؤ دونوں بہتر ھوتے ھیں ۔
جب ھم ڈاکٹر ویلیم بورک کا میٹریا میڈیکا میں سیپیا کو پڑھتے ھیں تو پہلی لائن میں ھی لکھا ھے کہ یہ دوا اس نظام پر اثر انداز ھوتی ھے جس کے تحت عروق شعریہ یعنی کیپلریز اور وینیولز جہاں خون کی منتقلی ھوتی ھے وھاں کام کرتی ھے اس خون کی کمی سست روی سے یوٹرس کمزور ھو جاتی ھے اس پاس کے پٹھے pelvic floor muscles جو یوٹرس کو سہارا دیتے ھیں کمزور ھو جاتے ھیں جو مریضہ کو احساس دلاتے کہ سب کچھ نیچے جاتے ھوے ویجاینہ سے باھر جاینگے یعنی ثابت ھوا کہ یہ دوا جہاں uterus پر کام کرتی ھے وھاں pelvic floor مسلز پر بھی کام کرتی ھے یعنی خون کی روانی بہتر ھونے سے pelvic floor مسلز میں جان آجاتی ھے ، یاد رھے کہ پیلوک فلور مسلز خواتین میں یوٹرس اور مثانے و ویجاینہ کو سہارا دیتے ھیں جیسے مردوں میں پینس کے اس پاس سہارا دیتے ھیں لہذا جب ھم سیپیا دیتے ھیں تو یوٹرس اور pelvic floor muscles کی خون کی روانی بہتر ھوتی ھے پھر تولیدی صحت بہتر ھوتی ھے ، ھارمونز بہتر کام کرتے ھیں ۔۔۔
یہ ھی وجہ ھے کہ سیپیا خواتین پر بہت اچھا کام کرتی ھے کیونکہ خواتین زیادہ تر منرلز و وٹامنز کی کمی کا شکار ھی رھتی ھیں جسے سیپیا دور کر دیتی ھے اس کمی سے ھارمونز کے مسائل ھوں ، زھنی مسائل ھوں ، جسمانی مسائل ھوں لیکن وجہ منرلز یا وٹامنز کی کمی ھو تو سیپیا اسے دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ھے جسمانی نظام سیپیا کے زیر اثر minerals absorption بڑھ جاتی ھے یہ ھے اس دوا کے اندر کی سائنس کہ سیپیا کیوں خواتین کی دوا ھے کو میں اپنے محدود علم تجربہ و تحقیق سے سیکھا ھوں اور آپ س شئیر کر رھا ھوں ۔
آپ دیکھتے ھیں سیپیا جلدی امراض میں بھی کام کرتی ھے ایسے جلدی امراض جو ھارمونز کے بگاڑ ، جگر کے بگاڑ ، گردوں کے بگاڑ یا منرلز و وٹامنز کی کمی سے ھوتے ھیں ، چہرے کے داغ دھبے چھائیوں کے لیے بھی دیتے ھیں اس کو تجویز کرنے مقصد یہ ھوتا جسم منرلز و وٹامنز کو بہتر طور پر جزب کرے ، ھارمونز کو بہتر کرے ، جگر کے نظام ، تولیدی نظام کو بہتر کرے اور یہ کرتی ھے ۔۔۔
زھنی صحت مایوسی ڈپریشن ، سردرد ، ایسی ڈپریشن جو وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ھو وھاں بھی سیپیا بہترین کام کرتی ھے کیونکہ اس کی سائنس یہ ھے کہ یہ بنیادی طور پر منرلز و وٹامنز کی کمی کو بہتر کرتی ھے intestinal absorption, gut health , portal system , liver وغیرہ کو بہتر کرتی ھے ۔۔۔
مریضہ کو جسمانی کمزوری کے سبب اندر ایسا احساس رھتا کہ اندر سے کچھ نیچے باھر نہ آجاے اور اس طرح وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتی ھے اس کی اک وجہ یہ بھی ھوتی ھے کہ سیپیا کی تکالیف جو یوٹرس یا دیگر متعلقہ اعضا کی ھوں دردیں ھوں وہ بیٹھنے سے بڑھتی ھیں اسی لیے وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اپنی تکلیف کو میںنج کرنے کی کوشش کرتی ھے ، تیسری وجہ میں بیان پہلے کر دی کہ پیلوک فلور مسلز کمزور ھو جاتے ھیں جو یوٹرس کو سہارا دیتے ھیں آپ نے کہ بھی پڑھا ھو گا کہ رحم کی بے قائدگیوں کی سیہیا بڑی دوا ھے رحم کا ٹل جانا ، یعنی یوٹرس کو پیوک فلور مسلز سہارا دیتے جیسے ڈایا فرام کے مسلز پھیپڑوں کو سہارا دیتے ، پیلوک فلور نیچے کا ڈایا فرام ھوتا ھے جو تولیدی اعضاء کو سہارا دیتے جب کمزور ھو جاتے تو یوٹرس اپنی جگہ سے ٹل جاتی ھے یہ ھای وجہ ھے جب ھم ایسی مریضہ کو سیپیا تجویز کرتے ھیں تو سیپیا اس کے اندر سے منرلز کی کمی تو دور کرتی ھی ھے وھاں خون کی روانی بھی بہتر ھوتی ھے ، آنتوں میں absorption غذائ اجزا کی بہتر ھوتی ھے ، خون کی روانی بہتر ھوتی ھے جس سے ھارمونز بہتر ھوتے ، جلد و جلدی امراض بہتر ھوتے داغ دھبے چھائیوں کا علاج ھوتا ھے یہ ھے اندر کی سائنس دوستو ۔۔۔
ھم یہ بھی دیکھتے ھیں کہ سیپیا کی مریضہ کو انتہائ بدبودار پسینہ آتا ھے اور بکثرت آتا ھے جب کہ پیشاب کو دیکھیں تو اس میں سرخ چپکنے والے ریت کے ذرات آتے ھیں ، مثانہ کی سوزش ، پیشاب کا ازخود نیند میں نکل جانا جیسی علامات پیشاب بہت اھستہ آہستہ اترتا ھے گویا گردوں میں بھی گردش خون کم ھوتی ھے جس کی وجہ سے فاضل مادے پیشاب میں نکل نہی سکتے ان کو نکالنے کے لیے جسم پسینہ کے زریعہ ان فاضل مادوں کو نکالنے کی کوشش کرتا ھے جس سے بکثرت پسینہ آتا ھے اور شدید بدبو بھی آتی ھے گردے ٹھیک سے کام کریں تو یہ فاضل مادے پیشاب کے زریعے کھل کر نکلیں جو نہی نکلتے مجبوری میں جسم پسینہ کے زریعے فاضل مادے نکالنے کی کوشش کرتا ھے جس کی وجہ سے پسینہ زیادہ آتا ھے اور بدبودار آتا ھے ۔۔۔ یہ ھو گی اک اور اندر کی سائنس ۔۔