13/02/2026
انسانی جسم کا زہر اور اصل بیماری
انسانی جسم میں بننے والا “زہر” صرف جراثیم کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ غلط خوراک، رکے ہوئے فضلات اور بگڑے ہوئے جذبات اس کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ مشہور حکیم صابر ملتانیؒ اور قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق جب جسم کا قدرتی صفائی کا نظام کمزور پڑ جائے تو فاسد مادّے جمع ہونے لگتے ہیں اور یہی آگے چل کر بڑی بیماریوں حتیٰ کہ رسولیوں اور کینسر کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
حکمت کے مطابق جسم میں تین بڑے زہریلے نظام پائے جاتے ہیں۔
آتشکی زہر زیادہ تر دماغ اور اعصاب کی کمزوری سے بنتا ہے۔ ٹھنڈی اور بے جان غذائیں، مسلسل خوف، تنہائی اور مایوسی اعصاب کو کمزور کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہڈیوں کا درد، بالوں کا گرنا، یادداشت کی کمزوری اور دل کی گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کا علاج جگر اور غدود کو طاقت دے کر جسم میں معتدل حرارت پیدا کرنا ہے۔
بواسیری زہر دل اور پٹھوں کی خشکی سے جنم لیتا ہے۔ خشک، کڑوی اور تیزابی غذائیں، دیرینہ قبض اور شدید غصہ اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کے نتیجے میں بواسیر، جلدی دانے، سخت مزاجی اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے۔ علاج کا اصول دماغ و اعصاب میں نرمی، جسم میں تری اور روانی پیدا کرنا ہے۔
سوزاکی زہر جگر اور غدود کی سوزش سے بنتا ہے۔ بہت زیادہ گرم، مصالحے دار غذائیں، حد سے بڑھی ہوئی گرمی اور جلد بازی اس کو بڑھاتی ہیں۔ پیشاب میں جلن، پیپ، جوڑوں کا درد اور جسمانی حدت اس کی نمایاں علامات ہیں۔ علاج میں دل و عضلات کا توازن اور فاسد مادّوں کا اخراج ضروری ہے۔
حکمت کا ایک گہرا اصول یہ ہے کہ جذبات بھی خوراک کی طرح ہوتے ہیں۔ خوف اعصاب کو توڑ دیتا ہے، غم اور غصہ خشکی اور سودا پیدا کرتا ہے جو رسولیوں کی بنیاد بن سکتا ہے، جبکہ حد سے زیادہ جوش اور لذت جگر کو بگاڑ دیتی ہے۔ قدرت کا نظام یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک زہر دوسرے زہر کو کم کر دیتا ہے، مگر اگر بچے کھچے زہریلے مادّے خون ختم نہ کر سکے تو یہاں طبیب کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ بیماری صرف دوا سے نہیں بنتی اور نہ ہی صرف دوا سے جاتی ہے۔ خوراک، جذبات اور طرزِ زندگی سب مل کر صحت یا مرض بناتے ہیں۔ صبر، اعتدال، سادہ غذا اور ذہنی سکون وہ بنیادی دوا ہیں جن کے بغیر کوئی علاج مکمل نہیں ہوتا۔