Dr Abdul Aziz Skin Specialist

Dr Abdul Aziz Skin Specialist Dermatologist & Skin Specialist 03004768520

*ھائی بلڈ پریشر کی علامات اور پرھیز۔۔۔*ھائی بلڈ پریشر (Hypertension) ایک عام مگر خاموش بیماری ھے جو طویل عرصے تک بغیر عل...
14/02/2025

*ھائی بلڈ پریشر کی علامات اور پرھیز۔۔۔*
ھائی بلڈ پریشر (Hypertension) ایک عام مگر خاموش بیماری ھے جو طویل عرصے تک بغیر علامات کے رہ سکتی ھے، تاھم، اگر علامات ظاھر ھوں، تو وہ درج ذیل ھو سکتی ھیں:

*علامات:*
1. سر درد (خصوصاً صبح کے وقت)
2. چکر آنا یا بے ھوشی کا احساس
3. نظر دھندلا ہونا
4. دل کی دھڑکن تیز یا بے ترتیب
5. سینے میں درد یا دباؤ
6. سانس لینے میں دشواری
7. تھکن یا کمزوری محسوس کرنا
8. ناک سے خون آنا (ش*ذ و نادر)

*پرھیز:*
1. نمک کا استعمال کم کریں: زیادہ نمک بلڈ پریشر بڑھا سکتا ھے۔۔۔ روزمرہ کی خوراک میں نمک کا محدود استعمال کریں۔۔۔
2. چکنائی والی غذا سے گریز کریں: فاسٹ فوڈ، تلی ھوئی اشیاء اور مکھن جیسے چکنائی والے کھانے سے پرھیز کریں۔۔۔
3. چینی کا کم استعمال کریں: میٹھی اشیاء اور مصنوعی مٹھاس سے بچیں۔۔۔
4. کیفین اور الکحل سے گریز کریں: زیادہ چائے، کافی، اور دیگر کیفین والے مشروبات نقصان دہ ھو سکتے ھیں۔۔۔
5. پروسسڈ فوڈ سے پرھیز کریں: ڈبہ بند خوراک، سوڈا اور فریز شدہ کھانے میں نمک اور چکنائی زیادہ ھوتی ھے۔۔۔
6. ذھنی دباؤ کم کریں: تناؤ بلڈ پریشر کو بڑھا سکتا ھے، لہٰذا ریلیکسیشن تکنیکس جیسے مراقبہ اور یوگا کو اپنائیں۔۔۔
7. تمباکو نوشی ترک کریں: یہ نہ صرف بلڈ پریشر بلکہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو بھی بڑھاتا ھے۔۔۔
8. وزن کو کنٹرول میں رکھیں: وزن زیادہ ھونے سے بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ زیادہ ھوتا ھے۔۔۔

*صحت مند طرز زندگی:*
باقاعدگی سے ورزش کریں (کم از کم 30 منٹ روزانہ)
سبزیوں، پھلوں، اور فائبر والی غذا کا زیادہ استعمال کریں۔۔۔
پانی زیادہ پئیں اور جسم کو ھائیڈریٹ رکھیں۔۔۔
ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کریں۔۔۔

اگر ھائی بلڈ پریشر کی تشخیص ھو چکی ھے تو ڈاکٹر کی دی گئی دوائیاں وقت پر لینا ضروری ھے، کسی بھی نئی علامت پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں
ایڈمن ڈاکٹر عبدالعزیز 03004768520

*ایچ پائلوری   H.Pylori**معدہ کی جراثیمی بیماری ہے جیسے ٹائیفائیڈ کی طرح نظرانداز کردیا جاتا ہے اور اسکی  طرف توجہ اس ٹا...
14/02/2025

*ایچ پائلوری H.Pylori*

*معدہ کی جراثیمی بیماری ہے جیسے ٹائیفائیڈ کی طرح نظرانداز کردیا جاتا ہے اور اسکی طرف توجہ اس ٹائم ہی دی جاتی ہے جب معدہ کے شدید مسائل جیسا کہ السر وغیرہ ہو جائے۔*

H.Pylori bacterium

اس کا مکمل نام ہیلوبیکٹر پائلوری( Helobector Pylori ) ہے۔ یہ بیکٹیریا اپنے گروپ بندی کے لحاظ سے گرام نیگٹو بیکٹیریا میں آتا ہے۔ جسکا مسکن معدہ ہے۔ دنیا کی 50% آبادی H.Pylori کا شکار ہے۔

ہمارے معدہ میں تیزابیت سے بچاؤ کے لئے اللہ تعالی نے ایک مخصوص نمکیات والے مائع کی تہہ بنا رکھی ہے جو کہ معدہ کو تیزاب اور طاقتور انزائمز کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے جسے میوکس ممبرین کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ بیکٹیریا اس میوکس ممبرین کو توڑ کر معدہ کی دیواروں تک پہنچ جاتا ہے اور السر کا باعث بھی بنتا ہے۔

*اقسام :*
اس بیماری کی 2 اقسام دورانیے کے لحاظ سے ہیں۔
*1۔ ایکیوٹ H.Pylori*
*2۔ کرونک H.Pylori*

*1۔ ایکیوٹ H. Pylori*
یہ ابتدائی کنڈیشن ہے جس میں بیماری اپنا کام شروع کرتی ہے۔

*2۔ کرونک H.Pylori*
اگر بروقت علاج نہ کیا جائے اور یہ مسئلہ کافی پرانہ ہوجائے تو ایسی حالت کرونک کہلائے گی۔

لیکن دو صورتوں میں علامات میں فرق پایا جاتا ہے۔

*ایکیوٹ H.Pylori کی علامات:*
*1۔ گیسٹرائیٹس یعنی معدہ کی سوزش*
*2۔ معدہ کی درد*
*3۔ متلی ہونا*

*کرونک H.Pylori کی علامات:*
*1۔ معدہ کی دائمی سوزش*
*2۔ بدہضمی رہنا*
*3۔ معدہ کی دائمی دردیں*
*4۔ متلی*
*5۔ معدہ میں گیس کیوجہ سے سوزش*
*6۔ معدہ کا سخت پن*
*7۔ بار بار قے آنا*
*8۔ سیاہ پاخانا*
*9۔ السر*
*10۔ معدہ میں گیس*

ایچ پائلوری سے متاثرہ افراد پیپٹک السر کا چانس 10% سے 20% اور 1% سے 2% چانس معدہ کے کینسر کے ہو سکتے ہیں۔ اسکی وجہ سے انتڑیوں میں سوزش اور کینسر بھی ہو سکتا ہے۔

مزید براں اسکی وجہ سے مقعد کا کینسر بھی ہو سکتا ہے جسکی وجہ سے یہ علامات ظاہر ہوگئی ۔
*1۔ جسم میں تھکاوٹ*
*2۔ پاخانہ میں خون آنا*
*3۔ وزن میں کمی*

*عام علامات:*
اسکی عام علامت درج ذیل ہیں۔
*1۔ سینے میں جلن*
*2۔ متلی*
*3۔ بخار*
*4۔ بھوک کی کمی*
*5۔ غیر متوقع وزن میں کمی*
*6۔ ڈکار زیادہ آنا*
*7۔ معدہ کی گیس*

*علاج:*
یہ قابل علاج مرض ہے مکمل ٹریٹمنٹ کروانے سے یہ مرض ختم ہو جاتا ہے خود سے کوئی بھی دوا استعمال نہ کریں
اپنے معالج کے مشورے سے دوا کا استعمال کریں.
*ایڈمن ڈاکٹر عبدالعزیز*

*ہرپیز سمپلکس وائرس  - Herpes Simplex Virus**ہرپس سمپلکس وائرس (HSV) ایک عام وائرل انفیکشن ہے جو بنیادی طور پر جلد اور ج...
14/02/2025

*ہرپیز سمپلکس وائرس - Herpes Simplex Virus*

*ہرپس سمپلکس وائرس (HSV) ایک عام وائرل انفیکشن ہے جو بنیادی طور پر جلد اور جھلی دار حصوں (mucous menbranes) کو متاثر کرتا ہے۔*

*⬅️ اقسام*

*• ہرپیز سمپلکس وائرس ٹائپ 1 (HSV-1)*

*• ہرپیز سمپلکس وائرس ٹائپ 2 (HSV-2)*

یہ دونوں اقسام جسم کے مختلف حصوں کو متاثر کرتی ہیں اور علامات کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں کچھ مشابہت بھی پائی جاتی ہے اور ایک قسم کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔

*⬅️ ہرپس سمپلکس وائرس ٹائپ 1 (HSV-1)*

ٹائپ 1 HSV خو عام طور پر "اورل ہرپیز" کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ زیادہ تر منہ، ہونٹوں، اور چہرے پر ہوتا ہے۔

*علامات*

• ہونٹوں یا منہ کے ارد گرد پانی بھرے چھوٹے چھالے (cold sores)
• چھالے بعض اوقات ناک کے گرد اور اندر بھی ہو سکتے ہیں۔
• جلن یا خارش
• چھالے پھٹنے کے بعد زخم بننا
• بعض اوقات بخار اور جسمانی کمزوری

- *پھیلاؤ کے طریقے:*

• متاثرہ شخص کا بوسہ لینا (بچوں میں بے حد عام ہے، اکثر بچوں کو بخار کے دوران ہونٹوں پر چھالے نکل آتے ہیں )
• برتن، تولیہ، یا دیگر ذاتی اشیاء کا اشتراک
• وائرس منہ کے ذریعے جنسی اعضاء کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

*⬅️ ہرپس سمپلکس وائرس ٹائپ 2 (HSV-2)*

ٹائپ 2 HSV کو "جینیٹل ہرپیز " کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ زیادہ تر جنسی اعضاء اور ان کے گرد ہوتا ہے۔

- *علامات:*
•جنسی اعضاء یا مقعد کے ارد گرد چھوٹے چھالے یا زخم جن میں جلن ، درد اور خارش ہوتی ہو
• پیشاب کرتے وقت تکلیف یا جلن
• ابتدائی انفیکشن میں بخار، کمزوری، اور غدود کی سوجن ہو سکتی ہے۔

- *پھیلاؤ کے طریقے:*

• جنسی تعلقات کے دوران متاثرہ شخص کے ساتھ جلد کا براہ راست رابطہ
• ماں سے بچے میں پیدائش کے دوران
• متاثرہ شخص کے جسم پر ایکٹیو چھالے یا زخم موجود ہوں تو منتقلی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لیکن وائرس اس وقت بھی پھیل سکتا ہے جب کوئی علامات ظاہر نہ ہوں۔ (ایسیمپٹومیٹک سٹیج)

⬅️ یہ وائرس ایک مرتبہ لگ جائے تو خاموش چھپی ہوئی سٹیج میں چلا جاتا ہے۔ جب بھی بیمار ہوں ، جیسے کوئی اور انفیکشن، بخار یا کمزور مدافعتی نظام، تو یہ وائرس ایکٹیو ہو جاتا ہے اور منہ پر چھالے نکل آتے ہیں ۔ بعض اوقات بغیر بیمار ہوئے بھی دانے نکل سکتے ہیں۔

*ہرپیز سمپلیکس کا علاج*

ہرپیز سمپلکس وائرس کا مکمل علاج ممکن نہیں ہے، لیکن اس کی علامات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ دوائیاں علامات کو کم کرنے، انفیکشن کو کنٹرول کرنے، اور دوبارہ ہونے والے حملوں کو کم کرتی ہیں۔

- *گھر پر علاج:*

• متاثرہ جگہ کو صاف اور خشک رکھیں۔
• درد کے لئے ٹھنڈی پٹیاں یا آئس پیکس استعمال کریں تاکہ جلن کم ہو۔
مرہم ، ویسلین یا لپ بام کا استعمال کریں (خاص طور پر HSV-1 کے لیے)۔

*⬅️ احتیاطی تدابیر*

• متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں، خاص طور پر اگر چھالے یا زخم موجود ہوں۔
• جنسی تعلقات کے دوران احتیاط کریں۔
• اپنی ذاتی اشیاء (جیسے برتن، تولیہ، لپ بام، لپ سٹکس) دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
• قوت مدافعت مضبوط رکھنے کے لیے متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی اپنائیں۔
• اگر آپ کو ہرپیز کی تشخیص ہو چکی ہے، تو باقاعدہ علاج کروائیں اور اپنے شریک حیات کو آگاہ کریں۔

ہرپیز سمپلکس وائرس ایک عام وائرل انفیکشن ہے جو منہ، ہونٹوں، اور جنسی اعضاء کو متاثر کر سکتا ہے۔HSV-1 اور HSV-2 دونوں اقسام کے وائرس زندگی بھر جسم میں موجود رہتے ہیں، لیکن مناسب علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے ان کے اثرات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ یا آپ کے قریبی کسی کو ہرپیز کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج ممکن ہو اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔


اگر آپ کے اس وائرس کے بارے میں مزید کوئی سوال ہوں تو آپ کمنٹ یا انباکس میں پوچھ سکتے ہیں۔

ایڈمن ڈاکٹر عبدالعزیز

*سائنوسائٹس Sinusitis؟*اگر آپ نے کبھی چہرے میں دباؤ، ناک بند، منہ سے سانس لینے یا مسلسل سر درد جیسی پریشان کن حالت کا سا...
14/02/2025

*سائنوسائٹس Sinusitis؟*

اگر آپ نے کبھی چہرے میں دباؤ، ناک بند، منہ سے سانس لینے یا مسلسل سر درد جیسی پریشان کن حالت کا سامنا کیا ھے، تو شاید آپ کو سائنوسائٹس ھو چکا ھو
آئیے سمجھتے ھیں:

*یہ کیوں ھوتا ھے؟*
*اس کا علاج کیسے کیا جائے؟*
*سائنوسائٹس کیا ہے؟*
سائنوسائٹس دراصل سائنوسز کی سوزش یا انفیکشن ھے
سائنوسز ھوا سے بھرے ھوئے خالی خانے ھیں جو ماتھے، گالوں اور آنکھوں کے ارد گرد پائے جاتے ھیں، یہ خانے بلغم کو صاف کرنے کیلئے ناک کے ذریعے باھر نکالتے ھیں، جس سے ناک صاف اور صحت مند رھتی ھے
جب یہ خانے بلاک ھو جائیں یا بھر جائیں تو یہ جراثیم کی افزائش کیلئے موزوں ماحول فراھم کرتے ھیں، جس سے سائنوسائٹس ھوتا ھے
سائنوسائٹس کی اقسام
مدت کے لحاظ سے، سائنوسائٹس کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ھے:

*ایکیوٹ (Acute):*
چار ھفتوں سے کم وقت تک رھتا ھے
عام طور پر وائرل انفیکشن جیسے نزلہ زکام کی وجہ سے ھوتا ھے

*سب-ایکیوٹ (Sub-Acute):*
چار سے بارہ ھفتوں تک جاری رھتا ھے
عام طور پر حل نہ ھونے والے ایکیوٹ انفیکشن کی وجہ سے ھوتا ھے

*کرونک سائنوسائٹس (Chronic):*
12 ہفتے یا اس سے زیادہ وقت تک رھتا ھے
زیادہ تر بیکٹیریا انفیکشن کی وجہ سے ھوتا ھے

*ریکَرِنٹ سائنوسائٹس (Recurrent):*
سال میں کم از کم چار بار سائنوسائٹس ھونے کی حالت

*سائنوسائٹس کی وجوھات*
سب سے عام وجہ وائرل انفیکشن ھے۔۔۔
دیگر وجوھات میں شامل ھیں:
بیکٹیریا انفیکشن
فنگل انفیکشن
الرجی
ساختی مسائل
دھواں، آلودگی یا کیمیکل جیسے ماحولیاتی عناصر

*علامات*
سائنوسائٹس کی عام علامات درج ذیل ہیں:

آنکھوں، ماتھے یا گالوں کے ارد گرد درد یا دباؤ
ناک سے سانس لینے میں دشواری
موٹی، زرد یا سبز ناک کی رطوبت
شدید سر درد
سونگھنے کی حس کا کم یا ختم ھو جانا
کھانسی
بخار
کمزوری

*کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ھے؟*
جنہیں قدرتی طور پر الرجی ھو،
دمہ کے مریض،
جن کی ناک میں پولپس ھوں
جن کا سیپٹم (ناک کا درمیان والا حصہ) ٹیڑھا ھو۔۔۔
کمزور قوت مدافعت والے افراد
سگریٹ نوشی کرنے والے

*علاج کے طریقے*

ھلکے کیسز کیلئے:
بھاپ لیں تاکہ بلغم نرم ھو جائے
سالائن اسپرے (نمکین پانی کا محلول) استعمال کریں
چہرے کے درد کیلئے گرم کمپریس استعمال کریں
پانی زیادہ پئیں تاکہ بلغم پتلا ھو

*ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟*
اگر علامات 10 دن سے زیادہ رھیں
بخار کے ساتھ آنکھوں کی سوجن ھو
بار بار انفیکشن کا سامنا ھو
یاد رکھیں، سائنوسائٹس کا بروقت علاج آسان ھے اور اسے اچھی صفائی اور ماحولیاتی عناصر سے بچ کر روکا جا سکتا ھے
پانی زیادہ پئیں
ھوا کو نم رکھیں
صحت مند رھیں!

*بچاؤ کے طریقے*
پانی کا زیادہ استعمال
ھوا کو نم رکھنے کیلئے ھیمیڈیفائر کا استعمال
دھواں، کیمیکل اور آلودگی سے پرھیز
صابن اور پانی سے ھاتھ دھونا
زیادہ دیر تک ڈی کنجسٹنٹس کے استعمال سے گریز
الرجی کو اینٹی ھسٹامینز کے ذریعے کنٹرول کریں

*ایڈمن ڈاکٹر عبدالعزیز*
03004768520

*فیٹی لیور کیا ھے؟* *اس کی اقسام، علاج، پرھیز اور احتیاطی تدابیر*فیٹی لیور ایک ایسی حالت ھے جس میں جگر کے خلیوں میں ضرور...
14/02/2025

*فیٹی لیور کیا ھے؟*
*اس کی اقسام، علاج، پرھیز اور احتیاطی تدابیر*

فیٹی لیور ایک ایسی حالت ھے جس میں جگر کے خلیوں میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ھو جاتی ھے۔ جگر کا بنیادی کام جسم سے زھریلے مادوں کو نکالنا اور غذائی اجزاء کو پروسیس کرنا ھے، لیکن چربی کی زیادہ مقدار جگر کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ھے، یہ بیماری عام طور پر طرز زندگی، غذائی عادات اور بعض طبی حالتوں سے منسلک ھوتی ھے

*فیٹی لیور کی اقسام:*

*نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز (NAFLD):*
وہ لوگ جن کا وزن زیادہ ھو یا جو موٹاپے، ذیابیطس، یا کولیسٹرول کے مسائل کا شکار ھوں، انہیں یہ مسئلہ ھو سکتا ھے
الکحل کے استعمال کے بغیر جگر میں چربی جمع ھو جاتی ھے

*الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز (AFLD):*
الکحل کا زیادہ استعمال جگر میں چربی کے جمع ھونے کا باعث بنتا ھے۔

*نان الکحلک اسٹیٹو ھیپاٹائٹس (NASH):*
یہ نان الکحلک فیٹی لیور کی سنگین قسم ھے جس میں جگر کی سوزش (inflammation) ھوتی ھے، جو بعد میں جگر کی خرابی یا جگر کے سکڑنے (cirrhosis) کا باعث بن سکتی ھے

*فیٹی لیور کے اسباب:*
زیادہ کیلوریز والی غذا، جنک فوڈ یا تلی ھوئی اشیاء کا زیادہ استعمال
موٹاپا اور جسمانی غیر فعالیت
ذیابیطس اور انسولین کے مسائل
کولیسٹرول اور ٹرائگلیسرائیڈز کی زیادتی
زیادہ الکحل کا استعمال
کچھ دوائیاں جیسے اسٹیرائڈز یا اینٹی بایوٹکس
تیزی سے وزن کم کرنا

*علامات:*
اکثر فیٹی لیور کی ابتدائی حالت میں کوئی واضح علامات نہیں ھوتیں، لیکن درج ذیل مسائل ھو سکتے ھیں:
دائیں طرف پیٹ میں بھاری پن یا ہلکا درد
تھکن اور کمزوری۔۔۔
وزن میں غیر متوقع کمی
بھوک کم لگن
جگر کا سوج جانا۔

*تشخیص:*
فیٹی لیور کی تشخیص عام طور پر درج ذیل طریقوں سے کی جاتی ھے:

*الٹراساؤنڈ:*
جگر میں چربی کا پتہ لگانے کیلئے۔۔۔

*بلڈ ٹیسٹ:*
جگر کے انزائمز کی سطح چیک کرنے کیلئے

MRI یا CT *اسکین: جگر* کی حالت کا تفصیلی جائزہ۔
*بایوپسی:*
جگر کے خلیوں کی تفصیل سے جانچ۔۔۔

*علاج اور احتیاطی تدابیر:*
فیٹی لیور کا علاج طرز زندگی اور غذائی عادات میں تبدیلی سے ممکن ھے:

*احتیاطی تدابیر:*
دوا لینے سے پہلے کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
خود سے دوا کا انتخاب نہ کریں کیونکہ غلط دوا سے مرض بگڑ سکتا ھے۔
علاج کے ساتھ متوازن غذا اور طرز زندگی اپنانا ضروری ھے

*اھم نوٹ:*
فیٹی لیور ایک سنگین حالت ھو سکتی ھے، خاص طور پر اگر یہ بڑھ جائے۔ اس لئے علاج کو ھمیشہ معالج کے مشورے اور دیگر ضروری طبی اقدامات کے ساتھ استعمال کریں
وزن کم کریں
صحت بخش غذا کھائیں، جیسے سبزیاں، پھل، اور فائبر سے بھرپور اشیاء
جنک فوڈ، شکر، اور چکنائی سے پرھیز کریں
ورزش کو معمول بنائیں
الکحل کا استعمال ترک کریں
طبی مشورے سے دوائیں استعمال کریں

فیٹی لیور کا بروقت علاج ضروری ھے تاکہ یہ مزید سنگین مسائل جیسے جگر کی خرابی یا جگر کے کینسر میں تبدیل نہ ھو

فیٹی لیور کے مریضوں کو اپنی غذا میں کچھ خاص پرھیز اور احتیاط برتنی چاھیئے تاکہ بیماری کو بڑھنے سے روکا جا سکے اور جگر کی صحت بہتر ھو، یہاں کچھ اھم تجاویز دی گئی ھیں

*پرھیز:*

*چکنائی والی غذائیں:*
تلی ہوئی چیزیں، جنک فوڈ، اور زیادہ چکنائی والے گوشت سے پرھیز کریں۔۔۔

*چینی اور میٹھے مشروبات:*
شکر، سافٹ ڈرنکس، اور میٹھی ڈیزرٹس کو محدود کریں۔۔۔

*پراسیسڈ اور ریفائنڈ فوڈز:*
# سفید آٹا، سفید چاول، اور پیک شدہ کھانوں سے گریز کریں۔۔۔

*الکحل:*
# فیٹی لیور کے مریضوں کو مکمل طور پر الکحل سے اجتناب کرنا چاھیئے۔۔۔

*زیادہ نمک:*
# زیادہ نمک کے استعمال سے پرھیز کریں کیونکہ یہ جگر کو نقصان پہنچا سکتا ھے۔۔۔

*تجویز کردہ غذائیں:*
سبزیاں اور پھل:
بروکلی، پالک، بند گوبھی، گاجر، سیب، اور بیریز کا استعمال کریں۔۔۔

*پروٹین کے صحت مند ذرائع:*
مچھلی، چکن (بغیر چکنائی)، انڈے کی سفیدی، اور دالیں۔۔۔

*اومیگا-3 فیٹی ایسڈز:*
مچھلی (سامن، میکریل)، اخروٹ، اور فلیکس سیڈ۔۔۔

*فائبر سے بھرپور غذائیں:*
# دلیہ، براؤن چاول، اور مکمل اناج۔۔۔

*زیتون کا تیل:*
کھانا پکانے کیلئے زیتون کے تیل کا استعمال کریں۔۔۔

*پانی:*
جسم کو ھائیڈریٹ رکھنے کیلئے کافی مقدار میں پانی پئیں۔۔۔

*طرزِ زندگی کی تبدیلیاں:*
روزانہ ورزش کریں، کم از کم 30 منٹ واک یا ایروبک ایکسرسائز کریں۔۔۔
وزن کو متوازن رکھیں، اور آھستہ آھستہ وزن کم کریں۔۔۔
تمباکو نوشی سے پرھیز کریں- یہ تجاویز آپ کی حالت کے مطابق مختلف ھو سکتی ھیں،
ایڈمن ڈاکٹر عبدالعزیز

لبلبے کی سوزش  - Acute Pancreatitis ⬅️ لبلبے کی سوزش ایک ایسی حالت ہے جس میں لبلبے میں تھوڑے عرصے میں سوجن اور شدید سوزش...
04/01/2025

لبلبے کی سوزش - Acute Pancreatitis

⬅️ لبلبے کی سوزش ایک ایسی حالت ہے جس میں لبلبے میں تھوڑے عرصے میں سوجن اور شدید سوزش ہو جاتی ہے۔ لبلبہ(pancreas) ایک چھوٹا عضو ہے، جو معدے کے پیچھے واقع ہوتا ہے اور ہاضمے میں مدد کرتا ہے۔

یہ سوزش عام طور پر بالغ افراد میں ہوتی ہے ۔ لیکن بچوں میں بھی ہو سکتی ہے اور تشخیص میں مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ علامات میں پیٹ میں درد ، بخار اور الٹی ہو سکتے ہیں جسے باآسانی گیسٹرو اینٹرائیٹس سمجھا جا سکتا ہے۔

⬅️ وجوہات:

• پتے میں پتھری
• شراب نوشی
• خون میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ زیادہ ہونا
• حادثاتی طور کسی لبلبے کو نقصان پہنچانا جیسے کہ پتے کہ پتھری کے آپریشن کے دوران
کسی دوا کا سائیڈ ایفیکٹ
• وائرل انفیکشن جیسے ممز یا میزلز (خسرہ)
خون میں زیادہ کیلشیم
• آٹو امیون
• وزن زیادہ ہونا

• لبلبے کی سوزش کی اہم علامت:

• پیٹ کے بیچ میں اچانک شدید درد ، جو مسلسل بدتر ہوتا جاتا ہے اور کمر کی طرف جاتا ہے۔
• الٹی، متلی بدہضمی
• بخار - 38C یا اس سے زیادہ درجہ حرارت
• یرقان : آنکھوں کی سفیدی اور جلد کا پیلا ہونا
• پیٹ کو ہاتھ لگانے پر درد اور سوجن
• دل کی دھڑکن تیز ہونا یا تیز سانس لینا
• کھانے پینے سے اچانک طبیعت خراب ہو جانا

• آگے کی طرف جھکنا درد کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اپنی پیٹھ کے بل لیٹنا اکثر اسے مزید تیز دیتا ہے۔
• پتے کی پتھری کی وجہ سے ہونے والی لبلبے کی سوزش عام طور پر زیادہ یا بھاری کھانا کھانے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
اگر یہ حالت الکحل کی وجہ سے ہوتی ہے تو، درد • اکثر شراب کی زیادہ مقدار پینے کے 6 سے 12 گھنٹے بعد پیدا ہوتا ہے۔

⬅️ ڈاکٹر سے مشورہ کب حاصل کرنا ہے؟

اگر آپ کے پیٹ میں اچانک شدید درد ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھائیں۔

⬅️ تشخیض:
مریض کی ہسٹری ، معائنہ، خون کے ٹیسٹ (امائیلیز، لائیپیز) ، الٹراساؤنڈ، سی-ٹی سکین اور ایم-آر-آئی کی بنا پر ہوتی ہے۔

⬅️ علاج:

لبلبے کی سوزش کا علاج علامات کے مطابق ممکن ہے

• کھانے کے لئے نرم غذا

⬅️ لبلبے کی سوزش کتنی دیر میں ٹھیک ہوتی ہے؟

ہلکی نوعیت کی سوزش میں ایک ہفتے میں مریض بہتر محسوس کر سکتے ہیں اور ہسپتال سے چھٹی مل سکتی ہے ۔
تاہم شدید نوعیت کی سوزش میں آئی-سی-یو میں بھی داخل ہونا پڑ سکتا ہے۔

لبلنے کی سوزش اکثر پتے کی پتھری یا شراب نوشی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ ان وجوہات کو دور کرنا اہم ہے۔

اوسٹیو آرتھرائٹس -   Osteoarthritis اوسٹیو آرتھرائٹس ایک عام بیماری ہے جو جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں جوڑوں کی کارٹلی...
04/01/2025

اوسٹیو آرتھرائٹس - Osteoarthritis

اوسٹیو آرتھرائٹس ایک عام بیماری ہے جو جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں جوڑوں کی کارٹلیج (جو ہڈیوں کو آپس میں رگڑنے سے بچاتی ہیں) خراب ہو جاتی ہے یا گھِس جاتی ہے جس کی وجہ سے ہڈیاں ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کھاتی ہیں۔ یہ مسئلہ عام طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور جوڑوں میں درد، اکڑن، اور سوجن کا سبب بنتا ہے۔

یہ دنیا میں آرتھرائٹس کی سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے اور زیادہ تر گھٹنوں، کولہوں، اور ہاتھوں کے جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔
یہ بیماری بڑھتی عمر کے ساتھ عام ہے، لیکن وزن زیادہ ہونے، چوٹ لگنے یا جوڑوں پر اضافی دباؤ ڈالنے والے افراد میں جلد بھی ہو سکتی ہے۔

⬅️ علامات:

• جوڑوں میں درد اور اکڑن، خاص طور پر حرکت کرتے وقت۔
• جوڑوں میں چرچراہٹ یا کریک پڑنے جیسی آواز۔
• حرکت میں کمی اور سختی۔
• جوڑوں کا سوج جانا۔
• یہ علامات آتی جاتی رہتی ہیں اور جسمانی سرگرمی یا موسم سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
• سنگین صورتوں میں یہ علامات مسلسل رہ سکتی ہیں۔
• اگر آپ کو اوسٹیو ارتھرائٹس کی مسلسل علامات کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بیماری کی تشخیص ہو اور علاج شروع کیا جا سکے۔

⬅️ گھٹنوں کا اوسٹیو آرتھرائٹس:

• عام طور پر دونوں گھٹنے متاثر ہوتے ہیں، سوائے اس کے کہ کسی چوٹ یا مخصوص حالت کی وجہ سے صرف ایک گھٹنا متاثر ہو۔
• سیڑھیاں چڑھتے یا اترتے وقت درد زیادہ ہو سکتا ہے۔
• متاثرہ جوڑ کو حرکت دینے پر ہلکی آواز یا چرچراہٹ سنائی دے سکتی ہے۔

⬅️ کولہے کا اوسٹیو آرتھرائٹس:

• کولہے کے جوڑوں کو حرکت دینا مشکل ہو جاتا ہے، مثلاً جوتے پہننا یا گاڑی میں بیٹھنا۔
• کولہے کے باہر یا اندر والی سائیڈ میں درد جو حرکت کے دوران بڑھ سکتا ہے۔

⬅️ ہاتھ کا اوسٹیو آرتھرائٹس:

یہ عام طور پر ہاتھ کے تین حصوں کو متاثر کرتا ہے:
• انگوٹھے کی جڑ
• انگلیوں کے آخری جوڑ
• انگلیوں کے درمیانی جوڑ
• علامات میں انگلیوں کا اکڑاو، درد، سوجن اور جوڑوں پر گانٹھیں بننا شامل ہیں۔ وقت کے ساتھ درد کم ہو سکتا ہے لیکن گانٹھیں باقی رہ سکتی ہیں۔

⬅️ علاج:
اوسٹیو ارتھرائٹس کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن اس کی علامات کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں:

1. طرز زندگی میں تبدیلیاں:

• ورزش:
باقاعدہ ورزش جو پٹھوں کو مضبوط اور جوڑوں کو فعال رکھے، علامات کو کم کرتی ہے۔ آپ کے ڈاکٹر آپ کے لیے ورزش کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔

• وزن کم کرنا:
اضافی وزن جوڑوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے، اس لیے وزن کم کرنے سے علامات میں بہتری آ سکتی ہے۔

2. دوائیں:

• درد کش ادویات:
ڈاکٹر درد کم کرنے کے لیے دوائیں تجویز کر سکتے ہیں۔

3. معاون علاج:

• گرم یا ٹھنڈے پیک کا استعمال:

متاثرہ جوڑوں پر گرم یا ٹھنڈے پانی کی بوتل کپڑے میں لپیٹ کر رکھنے سے درد کم ہو سکتا ہے۔

• سہارے کے آلات:

چلنے میں آسانی کے لیے بیساکھی، چھڑی، یا خصوصی جوتے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

4. سرجری:

• اگر دیگر علاج مؤثر نہ ہوں تو جوڑ کو بدلنے، مضبوط کرنے یا فکس کرنے کے لیے سرجری کی جا سکتی ہے۔

• جوڑ بدلنا (Arthroplasty): مصنوعی جوڑ لگایا جاتا ہے۔

• جوڑ کو مستقل پوزیشن میں رکھنا (Arthrodesis): جوڑ کو حرکت سے روک کر مضبوط کیا جاتا ہے۔

⬅️ احتیاط:

• خود سے کوئی دوا یا علاج شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
• ورزش اور وزن کم کرنے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رہنمائی لیں۔

پتے کی پتھری  -   Gall stones پتا جگر کے باکل نیچے موجود ہوتا ہے جس کی شکل تھیلی جیسی ہوتی ہے۔  پتے میں 'بائل' نامی سیال...
04/01/2025

پتے کی پتھری - Gall stones

پتا جگر کے باکل نیچے موجود ہوتا ہے جس کی شکل تھیلی جیسی ہوتی ہے۔ پتے میں 'بائل' نامی سیال موجود ہوتا ہے جو کہ کھانے میں موجود چکنائی کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر یہ چکنائی ہضم نہ ہو تو جمع ہو کر ان کے کرسٹل یا پتھریاں بن سکتی ہیں۔

پتے کی پتھری کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
پہلی قسم کو کولیسٹرول سٹون یا پتھری کہا جاتا ہے جو کہ جسم میں کولسیٹرول کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے بنتی ہے، جب کہ دوسری قسم کو پگمنٹ سٹون کہا جاتا ہے جو کہ بیلیروبن کی سطح میں اضافے کی وجہ سے بنتی ہے۔ پتھریاں مٹی کے ذرات جتنی چھوٹی ہو سکتی ہیں یا ٹیبل ٹینس کہ گیند جتنی بڑی ہو سکتی ہیں۔

⬅️ پتے کی پتھری کی وجوہات

• کولیسٹرول زیادہ ہونا
- تقریبا 75 فیصد پتے کی پتھریاں کولیسٹرول سے بنی ہوتی ہیں ۔ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہائی کولیسٹرول پتے کی پتھری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ خون میں ہائی کولیسٹرول کہ وجہ سے بائل میں بھی کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ آپ کا جگر خون سے کولیسٹرول کو بائل میں بھیجتا ہے جہاں بائل میں موجود انزائم لیسیتھن اور بائل میں موجود نمکیات اسے جذب کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر کولیسٹرول بہت زیادہ مقدار میں ہو تو بائل اسے جذب نہیں کر پاتا اور نتیجتا پتھریاں بن جاتی ہیں۔

• موٹاپا
•ذیابیطس

ہائی کولیسٹرول کی دو عام وجوہات موٹاپا اور ذیابیطس ہیں۔ ان دونوں کا شکار افراد میں پتے کی پتھری عام ہے۔

• پتے کی باقی 25 فیصد پتھریاں پگمنٹ سٹونز یعنی بیلیروبن سٹونز پر مشتمل ہیں ۔ انفیکشن، خون یا جگر کے مسائل میں یہ پتھریاں بن سکتی ہیں۔

• پتے میں بائل کا جمع ہو جانا ۔
پتا سکڑ کر بائل کو آنتوں میں دھکیلتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے پتا ٹھیک سے نہ کام کرے تو بائل مکمل طور پر خارج ہونے کی بجائے تھوڑا سا پتے میں رہ جاتا ہے ۔ یہ گاڑھا ہو کر ذرات اور پتھریاں بناتا ہے۔

⬅️ پتے کی پتھری کن افراد میں زیادہ ہوتی ہے؟

• موٹے افراد
• خواتین (خاص طور پر اگر آپ کے بچے ہیں یا آپ ہارمونل پلز لے رہی ہیں ۔
• 40 یا اس سے زیادہ عمر کے افراد (خطرہ آپ کی عمر بڑھنے کے ساتھ بڑھتا ہے)

⬅️ پتے کی پتھری کا علاج

• اگر شروع میں پتے کی پتھری کا علاج کروایا جائے تو پتھری تحلیل ہو سکتی ہے،

• علامات جیسے پیٹ میں درد ہونا (عام طور پر پیٹ کے دائیں اور اوپر کی طرف پسلیوں کے نیچے
• دائیں کندھے کی درد
• پیچیدگیاں، جیسے یرقان، جگر کے اندر بلڈ پریشر زیادہ ہو یا شدید لبلبے کی سوزش
• پتے میں زیادہ مقدار میں کیلشیم ہونا ، کیونکہ اس سے پتے کے کینسر کا رسک بڑھ سکتا ہے۔

ان صورتوں میں کی ہول سرجری کے ذریعے پتے کو نکال دیا جاتا ہے ۔ جسے لیپروسکوپک cholecystectomy کہا جاتا ہے۔ اسے انجام دینے میں نسبتاً آسان ہے اور اس میں پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

پتے کے بغیر معمول کی زندگی گزارنا ممکن ہے۔ آپ کا جگر پھر بھی کھانا ہضم کرنے کے لیے بائل پیدا کرے گا، لیکن یہ پتے میں جمع ہونے کی بجائے چھوٹی آنت میں مسلسل ٹپکتا رہے گا۔

⬅️ خوراک اور پتے کی پتھری سے بچاؤ

• کم چکنائی والی غذا لیں
• تازہ پھل اور سبزیاں کھائیں
• وزن زیادہ ہو تو کم کریں

ہیموگلوبن ٹیسٹ  -   Haemoglobin Testیہ ٹیسٹ خون میں موجود "ہیموگلوبن" کی سطح کی پیمائش کے لیے کیا جاتا ہے۔ ہیموگلوبن ایک...
04/01/2025

ہیموگلوبن ٹیسٹ - Haemoglobin Test

یہ ٹیسٹ خون میں موجود "ہیموگلوبن" کی سطح کی پیمائش کے لیے کیا جاتا ہے۔ ہیموگلوبن ایک پروٹین ہے جو خون کے سرخ خلیوں میں پائی جاتی ہے اور جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچانے کا کام کرتی ہے۔

⬅️ اس ٹیسٹ کی اہمیت ہے؟

1. انیمیا کی تشخیص
ہیموگلوبن کی کم سطح انیمیا (خون کی کمی) کی علامت ہے، جو عام طور پر آئرن، وٹامن بی 12، یا فولک ایسڈ کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ تھیلاسیمیا بھی ایک اہم وجہ ہے۔

2. صحت کا عمومی جائزہ
ہیموگلوبن لیول جسم میں مجموعی صحت اور خون کے معیار کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ ٹیسٹ جسمانی کمزوری، تھکن، یا سانس لینے میں دقت کی وجوہات جانچنے میں مدد کرتا ہے۔

3. دائمی بیماریوں کی تشخیص
یہ ٹیسٹ کینسر، گردوں کے مسائل، اور دیگر دائمی بیماریوں کی تشخیص کے لیے بھی کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ بیماریاں ہیموگلوبن لیول کو متاثر کر سکتی ہیں۔

4. خون کی زیادتی یا کمی کا جائزہ
ہیموگلوبن کی زیادہ سطح (پولیسیائتھیمیا) یا کم سطح (انیمیا) مختلف بیماریوں جیسے دل یا پھیپھڑوں کے مسائل کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔

5. علاج کے اثرات کا معائنہ
یہ ٹیسٹ انیمیا کے علاج یا دیگر بیماریوں کے علاج کے دوران مریض کی حالت کا جائزہ لینے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

6. حمل کے دوران اہمیت
حمل کے دوران خواتین کے ہیموگلوبن لیول کی جانچ بہت ضروری ہے تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔

7. سرجری سے پہلے
سرجری سے پہلے ہیموگلوبن ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مریض سرجری کے دوران خون کی کمی سے محفوظ رہے۔

⬅️ نارمل ہیموگلوبن لیول

• مرد: 13 سے 17 (g/dL)
• خواتین: 12 سے 15
• بچے: 11–16

⬅️ ہیموگلوبن کی کمی (انیمیا) کی علامات

ہیموگلوبن کی کمی جسم کو آکسیجن کی کمی کا شکار کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

• تھکن اور کمزوری
مستقل تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری کا احساس۔

• سانس لینے میں دشواری
ہلکی سی محنت یا ورزش کے دوران بھی سانس پھولنا۔

•جلد کی زرد رنگت
جلد، ناخن اور ہونٹوں کی رنگت پھیکی یا زرد ہو جاتی ہے۔

• چکر آنا یا بے ہوشی
دماغ تک آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سر چکرانا یا بے ہوشی محسوس ہونا۔

• دل کی دھڑکن کا تیز ہونا
دل کی دھڑکن بے قاعدہ یا تیز ہو سکتی ہے۔

• سر درد
آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بار بار سر درد رہنا۔

• ہاتھوں اور پیروں کا ٹھنڈا ہونا
دوران خون میں کمی کی وجہ سے۔

• ناخنوں کا کمزور ہونا

⬅️ ہیموگلوبن کی زیادتی (پولیسیٹھیمیا) کی علامات

ہیموگلوبن کی زیادتی خون کو گاڑھا کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم میں آکسیجن کی گردش متاثر ہو سکتی ہے اور مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

1. سر درد
خون کے گاڑھے ہونے کی وجہ سے دماغ کو مناسب آکسیجن نہیں ملتی، جس سے بار بار سر درد رہتا ہے۔

2. چکر آنا
دوران خون میں خرابی کے باعث چکر آنا یا بے ہوشی محسوس ہونا۔
3. جلد کی سرخی
چہرے، ہاتھوں، اور دیگر حصوں کی جلد پر غیر معمولی سرخی یا گلابی رنگت آ سکتی ہے۔

4. تھکن اور کمزوری
جسمانی تھکن، سستی، اور کمزوری کا احساس۔

5. خارش
خاص طور پر نہانے یا گرم پانی کے استعمال کے بعد جلد پر خارش کا ہونا۔

6. بلڈ پریشر کا بڑھ جانا
خون کے زیادہ گاڑھے ہونے کی وجہ سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔

7. سانس لینے میں دشواری
تھوڑا سا محنت کرنے پر یا آرام کے دوران بھی سانس لینے میں مشکل ہو سکتی ہے۔

8. نظر کے مسائل
آنکھوں تک آکسیجن کی کمی یا خون کی ناقص گردش کی وجہ سے دھندلا دیکھنا یا نظر کے مسائل۔

9. ہونٹ اور ناخنوں کی رنگت بدلنا
ہونٹ اور ناخن گہرے یا نیلے رنگ کے ہو سکتے ہیں۔

10. دل کی دھڑکن بے قاعدہ
خون کی گاڑھی کیفیت دل پر دباؤ ڈالتی ہے، جس سے دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہو سکتی ہے۔

11. خون جمنے (کلوٹنگ) کا خطرہ
گاڑھے خون کی وجہ سے شریانوں میں خون جم سکتا ہے، جس سے سٹروک یا دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

نوٹ:
اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ہیموگلوبن کی زیادتی عام طور پر کسی بیماری جیسے پولیسائتھیمیا ویرا یا دیگر طبی مسائل کی علامت ہو سکتی ہے، جس کا بروقت علاج ضروری ہے۔

⬅️ ہیموگلوبن (Hb) عام طور پر CBC ٹیسٹ کا حصہ ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار صرف Hb الگ سے بھی کروایا جاتا ہے۔

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے-  Dark circles ⬅️ وجوہات حلقے بنیادی طور پر نیند کی کمی یا زیادتی ، وٹامن کی کمی، خون کی کمی، ہا...
07/04/2024

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے- Dark circles

⬅️ وجوہات

حلقے بنیادی طور پر نیند کی کمی یا زیادتی ، وٹامن کی کمی، خون کی کمی، ہائپر پگمنٹیشن، چائے، کافی، سگریٹ نوشی، مٹھائیوں، چکنائی والی خوراک، تناؤ، پانی کی کمی، الرجی، ایکزیما، ناک کی بندش، آنکھ میں انفیکشن کی وجہ سے ہوسکتے ہیں۔

⬅️ علاج

سب سے مؤثر علاج وجہ کا خاتمہ ہے۔ یہ خاندانی یا موروثی بھی ہو سکتے ہیں اور ایسی صورت میں آپ کچھ خاص علاج نہیں کر سکتے۔

• حلقوں کو کم کرنے کے لیے آپ کو کافی مقدار میں پانی پینا چاہیے، • اچھی طرح سے سونا چاہیے، اپنے ڈاکٹر سے مکمل چیک اپ کروائیں، تمباکو نوشی چھوڑیں، کیفین کو کم کریں۔

• آنکھوں کے نیچے ہلکے ہاتھ سے مساج کرنے سے مدد مل سکتی ہے کیونکہ اس سے خون گردش بڑھ جاتی ہے۔

• رات کو وٹامن سی کریم لگانے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔
• کچھ گھریلو علاج جیسے کھیرے کا رس لگانا، آلو کا رس، دودھ، سبز چائے کے استعمال شدہ ٹی بیگز بھی مدد کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام گھریلو علاج ہیں جو سائنسی طور پر ثابت نہیں ہیں۔ لیکن اندازہ یہ ہے کہ ان چیزوں میں بلیچنگ کی خصوصیات ہوسکتی ہیں یا یہ سبز چائے کے فائدہ مند اثرات ہو سکتے ہیں)

سیاہ حلقوں کی وجہ معلوم کریں، چاہے یہ ایکزیما، زیادہ دھوپ یا ہارمونل عدم توازن کی وجہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔ اسی کے مطابق علاج کریں۔

•سن گلاسز/سن بلاک لگا کر سورج کی غیر ضروری روشنی سے گریز کریں۔

• آئی کون کریم وٹامن سی کریم رات کو متاثرہ جگہوں پر۔

•اعلی درجے کی صورتوں میں کاسمیٹکسکے ذریعے کیمیکل پیل یا لیزر ٹریٹمنٹ لیے جا سکتے ہیں۔

#ایڈمن


#حلقے

اب مزید ڈائیلاسز نہیں، سائنسدانوں نے ایک بایونک کڈنی تیار کر لیا! اب مزید ڈائیلاسز نہیں، سائنسدانوں کے پاس مصنوعی گردے م...
07/04/2024

اب مزید ڈائیلاسز نہیں، سائنسدانوں نے ایک بایونک کڈنی تیار کر لیا!

اب مزید ڈائیلاسز نہیں، سائنسدانوں کے پاس مصنوعی گردے مصنوعی گردوں کے بایونک کڈنی بائیونک رینل ڈائیلاسز ڈپریشن کوئی ڈائیلاسز نہیں ریگولر رینل ڈیزیز مینجمنٹ گائیڈ لائنز بشمول مختلف ادویات، علاج کے آپشنز یا انتہائی طاقتور ڈائیلاسز میں ضروری ہیں۔ لیکن ایسے حالات بھی آتے ہیں جب ہمیں جدید ٹیکنالوجی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ڈائیلاسز کے مریض بغیر علاج کے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن ان کی تکلیف تصور سے باہر ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو گردے کی پیوند کاری کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور معمول کے مطابق زندگی گزارنا پڑتا ہے، بظاہر افق پر کوئی دوسرا حل نظر نہیں آتا۔ تاہم، آخر کار اندھیری سرنگ میں روشنی آگئی - سان فرانسسکو، امریکہ میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے دنیا کا پہلا بایونک کڈنی تیار کیا ہے جو خراب شدہ گردوں کو آسانی اور مؤثر طریقے سے بدل سکتا ہے۔ بایونک کڈنی ہمارے گردوں کی ایک بہترین نقل ہے۔ یہ مصنوعی گردہ متعدد مائیکرو چپس پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے دل کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ عام گردوں کی طرح، یہ خون سے فضلہ اور زہریلے مادوں کو فلٹر کرنے کے قابل ہے۔ اس منصوبے کی نقاب کشائی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے ولین وینڈربلٹ فسلز اور شوو رائے نے کی، جس سے گردوں کے ڈائیلاسز کے لاکھوں مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہوئی۔ اب، آپ میں سے کچھ سوچ رہے ہوں گے کہ "لیکن، کیا ہوگا اگر جسم اسے مسترد کردے؟"، لیکن، سائنسدان ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ مسترد ہونے کے امکانات صفر ہیں! ناقابل یقین، ٹھیک ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بایونک کڈنی گردوں کے خلیوں سے بنتا ہے۔ پہلا پروٹو ٹائپ کافی کپ کا سائز ہے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتے ہوئے جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی سطح کو متوازن کر سکتا ہے۔ یہ منصوبہ کسی بھی ڈائیلاسز کے مریض کے لیے شاندار خبر ہے۔ شروع میں (نومبر 2015)، سائنس دانوں کو انسٹی ٹیوٹ آف بائیو میڈیکل امیجنگ اینڈ بائیو انجینیئرنگ سے 6 ملین ڈالر ملے، اور یہ کہنا محفوظ ہے کہ یہ رقم اچھی طرح خرچ ہوئی۔ سائنسدانوں کو بایونک کڈنی سے بہت زیادہ امیدیں ہیں اور اس کے سرکردہ محقق ڈاکٹر وکٹر گورا کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس صرف 2 سال میں فروخت کے لیے دستیاب ہو گی۔

بواسیر  -   Haemorrhoids (Piles)⬅️ بواسیر کیا ہوتا ہے؟ بواسیر دراصل مقعد میں پائی جانے والی خون کی رگوں کے گچھے ، رسولی ...
06/04/2024

بواسیر - Haemorrhoids (Piles)

⬅️ بواسیر کیا ہوتا ہے؟

بواسیر دراصل مقعد میں پائی جانے والی خون کی رگوں کے گچھے ، رسولی یا رسولیاں ہوتی ہیں ،جو ان پر لگاتار خون کے دباؤ پڑنے کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہیں ، خاص طور پر جب یہ دباؤ پیٹ اور جسم کے نچلے حصے میں موجود خون کی رگوں پر پڑ رہا ہو تو کوئی نہ کوئی رگ اس دباؤ کو برداشت نہ کرنے کی وجہ سے پھول جاتی اور مسّے کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔

⬅️بواسیر کی اقسام اور سٹیجز

بواسیر کی 3 اقسام ہیں- اندرونی، درمیانی اور بیرونی۔

• مسّوں کے لحاظ سے اندرونی بواسیر کی 4 سٹیجز ہیں:

1۔ پہلی سٹیج

پہلی یا اندرونی بواسیر میں مسّے گہرائی میں اندر کی طرف ہوتے ہیں اور انھیں عام حالت میں دیکھا یا محسوس نہیں کیا جاسکتا ۔ان میں درد یا تکلیف زیادہ نہیں ہوتی ۔

2۔ دوسری سٹیج

دوسری سٹیج میں مسّے دباؤ کی وجہ سے باہر کی طرف آ سکتے ہیں لیکن خود بخود اندر چلے جاتے ہیں ۔

3۔ تیسری سٹیج

مسّے باہر کی جانب ہوں تو دبا کر یا دھکیل کر اندر کئے جا سکتے ہیں، خود سے نہیں جاتے۔

4۔ چوتھی سٹیج

مسّے دھکیل کر بھی اندر نہیں جاتے۔

یہی حالت بیرونی بواسیر میں ہوتی ہے ،مگر اس صورت میں مسّوں سے خون کا اخراج ہوتا رہتا ہے ۔ درمیانی بواسیر میں درد، سوزش اور خون کا اخراج تینوں چیزیں زیادہ ہوتی ہیں ۔

• بیرونی بواسیر میں بیٹھنے ،سواری پر چڑھنے یا فضلے کی رگڑ کی وجہ سے انفیکشن ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔اگر انفیکشن ہو جائے تو سوزش بڑھ جاتی اور تکلیف اور درد میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مسّوں کو اندر کرنا دشوار ہوجاتا ہے ۔ عام الفاظ میں
ایسے مسّے جن سے خون کا اخراج ہوتا ہے ،خونی بواسیر پیدا کرتے ہیں اور وہ مسّے جن سے خون کا اخراج نہیں ہوتا بادی بواسیر پیدا کرتے ہیں ۔

⬅️ بواسیر کی وجوہات:

1۔ غذا

یہ مرض عام طور پر ان لوگوں کو لاحق ہوتا ہے ،جو بہت تیز مرچ مصالحوں والی غذائیں کھاتے ہیں اور روغنی و نشاستے (کاربوہائیڈریٹ ) والی ،خصوصاً میدے سے بنی ہوئی غذاؤں کے عادی ہوتے ہیں ۔یہ لوگ گوشت زیادہ کھاتے ہیں ۔سبزیاں ان کی غذا میں شامل نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی بھی ہیں تو بہت کم مقدار میں ۔

2۔ قبض

بواسیر ہونے کا ایک اہم سبب قبض ہے ۔ چونکہ قبض کی وجہ سے مقعد میں خون کی رگوں پر مسلسل دباؤ پڑتا رہتا ہے ،لہٰذا دورانِ خون میں رکاوٹ پیدا ہو کر رگیں پُھول جاتی ہیں اور مسّے بن جاتے ہیں ۔ پھر قبض کی صورت میں سخت اور خشک فضلہ خارج ہوتا ہے ۔اس کی رگڑ اور خراش سے خون کی رگوں کے منہ کھل جاتے ہیں اور زخم پیدا ہو کر خون خارج ہونے لگتا ہے ،جو بعد میں مسّے کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔

3۔ پیٹ کے کیڑے

پیٹ کے کیڑے بھی اس مرض کی اہم وجہ ہیں ۔چونکہ وہ آنت کے نچلے حصے میں ہی رہتے ہیں اور رات کو مقعد میں انڈے دینے کا سلسلہ شروع کرتے ہیں اور کاٹتے ہیں ،جس کی وجہ سے مقعد میں سخت بے چینی اور خارش ہوتی ہے۔ ان کے کاٹنے اور مریض کے کھجانے سے مقعد میں زخم ہوجاتے ہیں اور مستقل خراش رہنے سے بواسیر کاخدشہ رہتا ہے ۔

4۔ چوٹ

بعض اوقات چوٹ لگنے ،زخم ہوجانے کے بعد بھی بواسیر ہوجاتی ہے۔

5۔ دست

زیادہ دنوں تک دستوں کا آنا بھی اس کے اسباب میں شامل ہے،خاص طور پر جب تیز اثرات والی ادویہ زیادہ عرصے تک کھائی جائیں یا دستوں میں ایسے تیز مادّے خارج ہورہے ہوں ،جو جلن وخراش پیدا کرتے ہیں ۔

6۔ جگر کے مسائل

جگر کے امراض کے نتیجے میں بھی بواسیر ہو سکتی ہے ،خصوصاً جب جگر کا فنکشن سست ہوجائے اور اس سے متعلقہ خون کی رگوں میں دورانِ خون سست ہو کر خون اکٹھا ہونے لگے ۔

7۔ شراب نوشی

ایسے افراد جو شراب نوشی کرتے ہوں ،وہ بھی بواسیر کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔

8۔ خاندان میں

کبھی یہ مرض ایک ہی خاندان کے افراد میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے ۔اس کی بڑی وجہ ان کی غذائی عادات اور رہن سہن کے طریقے ہوتے ہیں ۔
مثال کے طور پر بعض خاندان یا خاص علاقے کے لوگوں میں تیز مرچ مصالحے کھانے کا رواج ہوتا ہے ۔بعض لوگ چکنائی اور گوشت زیادہ کھاتے ہیں ۔کچھ لوگوں کو کھیل کود اور ورزش سے دلچسپی نہیں ہوتی ۔

9۔ طرز زندگی

بعض طبقے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے ،حتیٰ کہ ان کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ انھیں زیادہ وقت بیٹھنا پڑتا ہے اور وہ گاڑی سے ہی دفتر اور گھر آتے جاتے ہیں ،جس کی وجہ سے انھیں پیدل چلنے کے مواقع نہیں ملتے ۔

کبھی یہ مرض موروثی طور پر والدین سے بچوں میں بھی منتقل ہوجاتا ہے ۔

ان لوگوں میں بھی بواسیر پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے ،جو گیلی جگہ پر بہت دیر تک بیٹھے رہیں ،استنجے کے بعد نمی دیر تک برقرار رہے اور پوری طرح سے صفائی کا خیال نہ رکھیں۔

10۔ دوران حمل

اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتوں میں دورانِ حمل بواسیر کی شکایت ہوجاتی ہے ۔
جوں جوں بڑا ہوتا ہے ، رحم کا دباؤ آس پاس کی خون کی رگوں پر پڑنے سے وہاں خون رکنے لگتا ہے ۔خون کی رکاوٹ رگوں پر دباؤ ڈال کر مسّے پیدا کردیتی ہے ۔اس طرح کی بواسیر اکثر بچے کی پیدائش کے بعد دور ہوجاتی ہے ، مگر کبھی کبھی یہ بعد میں بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔ پہلے حمل میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ،اس وقت جب بچہ غیرمعمولی طور پر وزن میں زیادہ ہو، جڑواں بچوں کی پیدایش متوقع ہو، ماں موٹاپے کی طرف مائل ہو یا دورانِ حمل اسے شدید قبض کی شکایت رہے ۔

⬅️ تشخیص

بعض اوقات بواسیر برسوں رہتی ہے ،مگر اس کا پتہ نہیں چلتا ۔ایسا عموماً بادی بواسیر میں ہوتا ہے ۔اس کی تشخیص اسی وقت ممکن ہوتی ہے ،جب خون خارج ہویا درد اور تکلیف بہت زیادہ بڑھ جائے ۔کبھی کبھی کسی دوسرے مرض کی تشخیص کے لے ،جب آنتوں کا معائنہ کیاجاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ بواسیر کے مسّے بھی موجود ہیں ۔بواسیر کی وہ اقسام ،جن میں مسّے اندرونی اور درمیانی سطح پر ہوتے ہیں ،وہ نظر نہیں آتے یا محسوس نہیں ہوتے ، ان کی تشخیص دیر سے ہوتی ہے ۔

بواسیر کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ رفع حاجت کے بعد بھی یہ احساس باقی رہتا ہے کہ ابھی پیٹ صاف نہیں ہوا اور آنتوں میں مزید فضلہ رکا ہوا ہے ۔اسی احساس کی وجہ سے مریض کو بار بار بیت الخلا جانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔یہ مسّے جس سبب سے پیدا ہوتے ہیں ،اس کے دور ہوجانے کے بعد ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں ،مثلاً قبض دور ہوجائے ،خون کی نچلی رگوں میں خون کا دباؤ کم ہوجائے یا روزانہ کھائی جانے والی غذاؤں کو تبدیل کر لیا جائے ،یعنی قبض ختم کرنے والی غذائیں کھائی جائیں ۔

⬅️ علاج

علامات کے مطابق علاج کرنے سے اس مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے اس کے علاؤہ کچھ پیچیدہ کیسز میں
ٹیکینیکس اور تھراپی کا استعمال کیا جاسکتا ہے
• بینڈ لگانا (Band ligation):
• سکلیروتھراپی ( Sclerotherapy):
الیکٹرو تھراپی ( Electrotherapy):
• انفراریڈ کوایگولیشن (Infrared Coagulation):
• ہیموررائڈیکٹومی ( Haemorrhoidectomy):
• سٹیپلڈ ہیموررائیڈوپیکسی (Stapled haemorrhoidopex):
• ہیمورائیڈل آرٹری لائگیشن (Haemorrhoidal artery ligation)

⬅️ یہ معلومات صرف آگاہی کے لئے ہیں۔



#بواسیر

Address

Pattoki
Kasur

Opening Hours

Monday 09:00 - 18:00
Tuesday 09:00 - 18:00
Wednesday 09:00 - 18:00
Thursday 09:00 - 18:00
Friday 09:00 - 18:00
Saturday 09:00 - 18:00
Sunday 09:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Abdul Aziz Skin Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Abdul Aziz Skin Specialist:

Share

Category