03/12/2025
یہ حقیقت کہ جھوٹی مسکراہٹ بھی اصل خوشی کے ہارمون پیدا کرتی ہے باقاعدہ سائنسی تحقیق سے ثابت شدہ ہے۔ نیوروسائنس کے مطابق جب انسان اپنے چہرے کے عضلات کو مسکراہٹ کی شکل میں لاتا ہے، چاہے دل سے خوش نہ بھی ہو، تو دماغ اسے “خوشی کا سگنل” سمجھتا ہے۔ اسے Facial Feedback Hypothesis کہا جاتا ہے، جسے پہلی بار Charles Darwin نے تجویز کیا، اور بعد میں University of Kansas (Kraft & Pressman, 2012) کی تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ مسکرانے والے افراد میں دل کی دھڑکن کم ہوئی اور کارٹی سول stress hormone (cortisol) میں نمایاں کمی آئی۔ اسی طرح Strack et al. 1988 کی مشہور قلم-منہ تحقیق میں پایا گیا کہ زبردستی مسکرانے والوں کے دماغ میں dopamine، serotonin اور endorphins کی مقدار بڑھ گئی، جو اصل خوشی کی کیفیت میں بھی پیدا ہوتے ہیں۔ fMRI اسٹڈیز سے بھی معلوم ہوا کہ جعلی مسکراہٹ amygdala اور reward centers کو اسی طرح activate کرتی ہے جیسے حقیقی خوشی میں۔مطلب یہ ہے کہ جسم اصل اور جھوٹی خوشی میں فرق نہیں کرتا، چہرے کا تاثر بدلتے ہی دماغ فوراً خوشی کا کیمیکل پروگرام چلا دیتا ہے، جس سے موڈ بہتر ہوتا ہے، ٹینشن کم ہوتی ہے، اور انسان خود کو زیادہ پُرسکون محسوس کرتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسکراہٹ صرف جذبات کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ جذبات کو پیدا بھی کرتی ہے۔