Tariq homeopathic clinic and store

Tariq homeopathic clinic and store This is a homeopathic clinic and store we provide a best check up and description and quantity medicine pakistani and german medicine .

04/01/2026

پرانے زمانے کے ایک بادشاہ نے غلاموں کے بازار میں ایک غلام لڑکی دیکھی جس کی بہت زیادہ قیمت مانگی جا رہی تھی۔ بادشاہ نے لڑکی سے پوچھا آخر تم میں ایسا کیا ہے جو سارے بازار سے تمہاری قیمت زیادہ ہے، لڑکی نے کہا؛ بادشاہ سلامت یہ میری ذہانت ہے، جس کی قیمت طلب کی جا رہی ہے۔۔

بادشاہ نے کہا اچھا میں تم سے کچھ سوالات کرتا ہوں،
اگر تم نے درست جواب دیے تو تم آزاد ہو نہیں تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔
لڑکی آمادہ ہوگئی تب بادشاہ نے پوچھا؛

سب سے قیمتی لباس کونسا ہے۔؟؟
سب سے بہترین خوشبو کونسی ہے۔؟؟
سب سے لذیذ کھانا کونسا ہے۔؟؟
سب سے نرم بستر کونسا ہے۔؟؟
اور سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے۔؟؟

لڑکی نے اپنے تاجر سے کہا میرا گھوڑا تیار کرو کیونکہ میں آزاد ہونے لگی ہوں۔ پھر پہلے سوال کا جواب دیا۔

سب سے قیمتی لباس کسی غریب کا وہ لباس ہے جس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا لباس نہ ہو، یہ لباس پھر سردی گرمی عید تہوار ہر موقع ہر چلتا ہے۔

سب سے خوبصورت خوشبو ماں کی ہوتی ہے بھلے وہ مویشیوں کا گوبر ڈھونے والی مزدور ہی کیوں نہ ہو، اس کی اولاد کیلئے اس کی خوشبو سے بہترین کوئی نہ ہوگی۔

لڑکی نے کہا سب سے بہترین کھانا بھوکے پیٹ کا کھانا ہے۔
بھوک ہو تو سوکھی روٹی بھی لذیذ لگتی ہے۔

دنیا کا نرم ترین بستر بہترین انصاف کرنے والے کا ہوتا ہے۔
ظالم کو ململ و کمخواب سے آراستہ بستر پر بھی سکون نہیں ملتا۔

یہ کہہ کر لڑکی گھوڑے پر بیٹھ گئی، بادشاہ جو مبہوت یہ اب سُن رہا تھا اچانک اس نے چونک کر کہا لڑکی تم نے آخری سوال کا جواب نہیں دیا۔۔

سب سے خوبصورت ملک کونسا ہے۔؟؟

لڑکی نے کہا؛ بادشاہ سلامت دنیا کا سب سے خوبصورت ملک وہ ہے جو آزاد ہو، جہاں کوئی غلام نہ ہو اور جہاں کے حکمران ظالم اور جاہل نہ ہوں۔

لڑکی کے اس آخری جواب میں انسانیت کی ساری تاریخ کا قصہ تمام ہوتا ہے۔

بےغیرتی کی سو باتوں سے مرغے کی یہ ایک نصیحت بہتر ہے…ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔ایک دن اس نے مرغے کو ذبح کرنے کا ار...
04/01/2026

بےغیرتی کی سو باتوں سے مرغے کی یہ ایک نصیحت بہتر ہے…
ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔
ایک دن اس نے مرغے کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، مگر بہانہ سوچا۔
کہنے لگا:
“کل سے تم نے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا!”
مرغے نے عاجزی سے کہا:
“آقا! جو آپ کی مرضی…”
صبح اذان کا وقت آیا۔
مرغے نے اذان تو نہ دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑایا۔
مالک نے نیا حکم صادر کیا:
“کل سے پر بھی نہیں مارنے!”
اگلی صبح مرغے نے پر تو نہ ہلائے، مگر لاشعوری طور پر گردن لمبی کر کے اوپر اٹھا لی۔
مالک کو یہ بھی پسند نہ آیا۔
فرمان آیا:
“کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے!”
اب کی بار اذان کے وقت مرغا بالکل خاموش بیٹھا رہا، جیسے مرغا نہیں… مرغی ہو۔
مالک نے سوچا:
یہ تو بات نہیں بنی…
اب اس نے ایسا حکم دیا جو مرغے کے بس سے باہر تھا:
“کل سے تم نے صبح انڈا دینا ہے، ورنہ ذبح!”
یہ سن کر مرغے کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
مالک نے پوچھا:
“موت کے ڈر سے رو رہے ہو؟”
مرغے نے جواب دیا — ایسا جواب جو تاریخ بن گیا:
“نہیں!
میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ
انڈے سے بہتر تھا کہ اذان پر مر جاتا…”
📌 سبق بہت واضح ہے:
پہلا غلط حکم مان لو تو پھر احکام آتے ہی چلے جاتے ہیں،
تعمیل ہوتی رہتی ہے،
اور آخر میں کھال تک اتار لی جاتی ہے۔
✋ اس لیے ضروری ہے:
اپنے اندر ہمت پیدا کریں،
حق کو حق کہنے کی جرأت پیدا کریں۔
❓ کیا ہم متحد ہو کر اپنا حق نہیں لے سکتے؟
❓ جس رفتار سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، اسی رفتار سے ہم کیوں کمزور ہو رہے ہیں؟
❓ ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ “ہم اس فیصلے کو نامنظور کرتے ہیں”؟
یا پھر مان لیں کہ:
ہم ایمان کی طاقت سے محروم ہو چکے ہیں؟
🤲 یا اللہ! اس ریوڑ کو ایک قوم بنا دے۔ آمین

کَرناٹک میں ایک فیملی کورٹ کے باہر، ایک بیوی نے مجمع کے سامنے اپنے شوہر کو مارا پیٹا۔ اس نے اسے بار بار تھپڑ مارے، اس کے...
31/12/2025

کَرناٹک میں ایک فیملی کورٹ کے باہر، ایک بیوی نے مجمع کے سامنے اپنے شوہر کو مارا پیٹا۔ اس نے اسے بار بار تھپڑ مارے، اس کے بال کھینچے، گالیاں دیں اور سب کے سامنے مسلسل تشدد کرتی رہی۔

حیران کن بات یہ تھی کہ شوہر مار کھاتے ہوئے بھی مسکراتا اور ہنستا رہا۔ ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ یہ سب برداشت کر رہا ہے — بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اس سے لطف اندوز ہو رہا ہو۔ گویا وہ کہہ رہا ہو:
“اور مارو، میں مسکراتا رہوں گا۔”
ہر تھپڑ کے بعد وہ اپنی بیوی کی طرف مسکرا کر دیکھتا۔

شوہر کو مار کھاتے ہوئے مسکراتا دیکھ کر بیوی اور زیادہ چڑ گئی۔ جتنا وہ غصے میں آتی گئی، اتنا ہی زیادہ اسے مارتی رہی — اور اتنا ہی زیادہ وہ مسکراتا اور لطف لیتا رہا۔

اس معاملے کا پس منظر یہ تھا:
ان کا طلاق کا کیس عدالت میں چل رہا تھا۔ بیوی نے ماہانہ 6 لاکھ روپے نان و نفقہ (الیمونی) کا مطالبہ کیا تھا، حالانکہ وہ خود اچھی طرح تعلیم یافتہ ہے اور ایک تکنیکی شعبے میں کام کرتی ہے۔

حتمی فیصلے سے پہلے، شوہر نے اپنی ساری جائیداد اپنی ماں کے نام منتقل کر دی۔ قانونی طور پر وہ کسی چیز کا مالک نہیں رہا — صفر۔ جب عدالت نے اس کی آمدنی اور اثاثے چیک کیے تو اس کے نام پر کچھ بھی نہیں نکلا۔ چنانچہ عدالت نے نان و نفقہ کی رقم صفر مقرر کر دی۔
ماہانہ 6 لاکھ سے سیدھا صفر۔

فیصلے کے بعد، جیسے ہی وہ عدالت سے باہر نکلے، بیوی نے اپنا سارا غصہ شوہر پر نکال دیا۔ اس کی چیخ و پکار، گالیاں اور مار پیٹ شوہر کو ایک عجیب سی تسکین دے رہی تھیں۔ جب بھی وہ اسے مارتی، وہ اور زیادہ سکون سے مسکراتا اور بڑے اطمینان سے اس کی طرف دیکھتا۔

ایک مرد کو اتنا خوش دیکھنا، جبکہ وہ خود شدید غصے میں تھی، بیوی کو اور زیادہ طیش دلا رہا تھا۔ ہر تھپڑ کے بعد شوہر کی مسکراہٹ جیسے یہ کہہ رہی ہو:

“بیبی، یہ چالاکی اور چالبازی میں نے تم ہی سے سیکھی ہے۔ اگر آج تم اپنی ‘گرو فیس’ وصول کر رہی ہو تو میں خوشی خوشی کیوں نہ ادا کروں؟”

Respect 😎

ایک تجربے میں چاول کے دانوں سے بھرے مرتبان کے اوپر ایک چوہا رکھا گیا تھا۔وہ اپنے اردگرد اتنا کھانا پا کر اتنا خوش تھا کہ...
31/12/2025

ایک تجربے میں چاول کے دانوں سے بھرے مرتبان کے اوپر ایک چوہا رکھا گیا تھا۔

وہ اپنے اردگرد اتنا کھانا پا کر اتنا خوش تھا کہ اسے ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

اب وہ آخر کار اپنی زندگی بغیر کسی پریشانی اور کوشش کے گزار سکتا ہے۔

چند دنوں کے مزے لینے کے بعد جب چاول ختم ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو مرتبان کے نیچے پاتا ہے۔

اس وقت، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ پھنس گیا ہے اور وہ باہر نہیں نکل سکتا۔

اب زندہ رہنے کے لیے وہ مکمل طور پر کسی پر منحصر ہے کہ وہ گھڑے میں دانہ ڈالے۔

اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اسے جو دیا جائے، اگر اسے دیا جائے تو کھا لے۔

اس طرح غلام پیدا ہوتا ہے۔

ایک غلام جس نے ہمیشہ رضامندی دی۔

سبق

1) قلیل مدتی لذتیں طویل مدتی جال کا باعث بن سکتی ہیں۔

2) اگر چیزیں آسان ہیں اور آپ آرام دہ ہیں، تو آپ اپنے آپ کو ایک لت میں پھنسا رہے ہیں۔

3) جب آپ اپنی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کر رہے ہیں، تو آپ اپنی صلاحیتوں سے زیادہ کھو دیں گے۔

آپ انتخاب کرنے کی صلاحیت اور اپنی آزاد مرضی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

4) آزادی آسانی سے حاصل نہیں کی جاتی ہے، لیکن اسے جلد کھو دیا جا سکتا ہے

20/12/2025
17/12/2025

یہ اکثر صبح ناشتہ بهی نہیں کرتے کہ کہیں گاڑی ہی چهوٹ نہ جائے
ناشتہ نظر انداز کرکے کہتے ہیں " کام کی جگہ پہ پہنچ کر کچھ کها لیں گے"

جب کام کی جگہ پہ پہنچ جاتے ہیں تو کام کے دباو کی وجہ سے ناشتہ کرنا پهر بهول جاتے ہیں۔
سوچتے ہیں چلو دوپہر لنچ ٹائم ہی کچھ کهالیں گے۔۔۔

لنچ ٹائم میں بهی اکثر یہ بچارے پردیسی مزدور بهوکے رہ جاتے ہیں کہ اکثر کام کے لوڈ کی وجہ سے اوور ٹائم کا لالچ بیچ میں آجاتا ہے کہ اس بار چلو گهر کچھ ہزار زیادہ چلے جائے گے۔
گهر کے معاملات اور خوش اسلوبی سے طے پالے گے۔

بریک کے ٹایم یہ مزدور جن پہ آپکو ناز ہوتا ہے کہ وہ دبئی، شارجہ، بحرین,سعودیہ، قطر، کویت دنیا کے کسی کونے میں ہی کیوں نہ ہو جن پہ آپکو فخر ہوتا ہے کہ میرا بهائی تو بیرون ملک ہوتا ہے،
بریک ٹائم یہ کوئی کارٹن کا پیس اٹها کر کوئی پلاسٹ کچہرے کے ڈیر سے اٹها کر اسکو جهاڑ کر وہی بچهاتے ہوئے سو جاتے ہیں۔
کچہرے کے ڈیر میں پڑا گندہ بدبودار پلاسٹ یا کارٹن کا پیس

جی ہاں ۔۔۔!!!
وہ خود گهتوں پہ سوتے ہیں اور آپ کو گدوں پہ سلاتے ہیں۔

صبح 5 بجے سے لیکر رات شام 7 بجے تک مسلسل خون و پسینے کا ایک ایک قطرہ بہایا جاتا ہے ریال, درہم, دینار کے لئے

جلا دینے والی گرمی دماغ کو ابال کر رکھ دیتی ہے۔ پینے کو گرم پانی،
گرم ترین ہوا جیسے کہ تندور سے اٹهی ہو،
صحراوں میں گرد و غبار کے خوفناک ترین طوفان،
58ویں چھت کے سکفولڈنگ پہ کهڑے زندگی اور موت کی یہ جنگ صرف دینار اور آپکی خوشیوں کے لئے پردیس میں ہر دن ہر صبح ہر وقت ہر سیکنڈ لڑی جاتی ہے۔
پردیس میں ایک پردیسی پہ کیا گزرتی ہے آپ اسکا اندازہ بهی نہیں لگا سکتے۔

نہایت طاقتور جسمانی وجود کے مالک کو ایک معمولی دبلا پتلا انسان بنا کسی بات کے سو سو باتیں سنا دیتا ہے۔
پردیس میں رہنے والا کوئی ایک ایسا مزدور نہیں جو کسی فکر کسی غم کسی پریشانی سے آزاد ہو۔

کبھی اقامے کی فکر،
کبھی کفالے کی بهاگ دوڑ،
کبھی کفیل کی ٹینشن،
کبھی جوازات کے مسائل،
کبھی کمپنی کی مصیبتیں،
کبھی تبادلے کی تشویشیں،
کبھی تنخواہ وقت پہ نہ آنا،
کبھی کام ہونے نہ ہونے کی تکالیف،
کبھی سالن نہ بنانے پہ لڑائی جهگڑے،
کبھی روم رینٹ کی فکر،
کبھی روم سے نکالنے کی دهمکیاں اور کبھی آپ سب کی فرمائیشیں۔۔۔!!!

یہ جو پردیسی ہیں نا۔۔۔!!!
یہ ایک ایک حلالہ (سعودی, بخرینی, قطری, کویتی, دوبئ پیسہ) بچاتے ہیں۔

10/12/2025

*مفت کھانا کھائیں*
جگہ جگہ یہ لکھا دیکھ کر خیال آتا ہے، ایسا بینر کہیں نہیں نظر آتا جس پر لکھا ہو:
مفت ویلڈنگ سیکھیں
مفت پلمبرنگ سیکھیں
مفت گاڑی مستری بنیں
مفت انجینئرنگ سیکھیں
مفت کمپیوٹر سیکھیں
مفت چائینی، کورین، جاپانی، انگلش لینگویج کورس کریں
مفت درزی بنیں وغیرہ وغیرہ۔
خیرات کرنے والے قوم کو نکما اور بھکاری بنا رہے ہیں۔
دو دیگوں پر جتنا خرچہ آتا ہے اتنے پیسوں میں ویلڈنگ کی مشین اور ضروری آلات آجاتے ہیں آپ تنخواہ پر ایک استاد رکھ لیں اور صرف ایک ہفتے کی ویلڈنگ لرننگ کلاس دیں اور آخر میں دس ہزار کی ایک ویلڈن مشین ہر سیکھنے والے کے حوالے کریں آئندہ کے لئے وہ خود کفیل ہو جائے گا۔ اور تاحیات عزت کی روزی روٹی کمائے گا۔
قوم کو بھکاری نہیں ہنر مند بنائیں، یہ کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے، آپ سے ایک ضرورت مند نے سوال کیا تو آپ نے اسے کلہاڑا لے کر دیا اور فرمایا جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو۔
ہم سب کو بھی یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔غربت ختم کریں نہ کہ کسی کی عزت نفس

05/12/2025

*سموگ کی وجہ سے گلے کی خراش اور علاج*

سموگ کی وجہ سے ہونیوالی گلے کی خراش سے بچنا چاہتے ہیں؟ تو یہ 4 چیزیں استعمال کریں اور حیران کن رزلٹ دیکھیں۔

آج کل دنیا کے کئی شہر اسموگ کی لپیٹ میں ہیں جن میں بھارت اور پاکستان سرِ فہرست ہے، پاکستان کا لاہور اور ملتان دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر ہیں۔

سموگ سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خود کو محفوظ رکھنے کیلئے کیا کریں؟

ماہرین صحت نے بھی شہریوں کو ماسک لازمی پہننے کی تجویز دی ہے، اس کے علاوہ ماہرین کے مطابق لوگ اسموگ میں زیادہ باہر نہ نکلیں کیونکہ اس سے پھیپھڑوں سمیت مختلف بیماریاں ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
اس موسم میں سب سے زیادہ گلا خراب اور پھر کھانسی، نزلہ اور بخار عام ہے، آج ہم آپ کو کچھ ایسی غذائیں بتائیں گے جسے استعمال کرکے آپ گلے کے انفیکشن سے محفوظ رہ سکیں گے۔

1) گرم شہد اور لیموں کا پانی

گلا خرابی کا ایک عام علاج جو تقریباً تمام گھروں میں ہوتا ہے، وہ یہ کہ گرم پانی کے ساتھ شہد اور لیموں کا نچوڑ آرام فراہم کر سکتا ہے۔ شہد میں قدرتی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہوتی ہیں اور یہ گلے کے درد کو ختم کرسکتا ہے، جب کہ لیموں وٹامن سی سے مالا مال ہوتا ہے۔

2) سوپ یا یخنی

سوپ، خاص طور پر یخنی یا سبزیوں کا سوپ آپ کے گلے کو ہائیڈریشن اور گرمائش فراہم کر سکتا ہے۔ سوپ گلے کی تکلیف کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

3) ہربل چائے

گرم جڑی بوٹیوں والی چائے گلے کی سوزش کے لیے ناقابل یقین حد تک سکون بخش ہو سکتی ہے، کیمومائل، ادرک، پیپرمنٹ، یا لیکورائس کی چائے گلا خرابی میں ضرور پیئں۔ یہ چائے نہ صرف گرم ہوتی ہیں بلکہ گلے کی تکلیف کو کم کرنے کے لیے ان میں سوزش ختم کرنے کی خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔

4) دودھ میں ہلدی ملا کر پیئں

ہلدی میں سوزش ختم کرنے اور سکون فراہم کرنے جیسی خصوصیات ہیں۔ ایک چٹکی ہلدی، ایک عدد کالی مرچ، اور شہد کا ایک چمچ دودھ میں ملائیں اور یہ مشروب پیئں۔

علامات کے مطابق ہومیوپیتھی ادویات کا استعمال کریں
طبیعت زیادہ خراب ھونے کی صورت میں کلینک تشریف لائیں ۔ شفاء کاملہ یقینی ھوگئی ۔انشاءاللہ
ڈاکٹر محمد طا ر ق 03406690060

خاموشی کا قانون زہریلے انسان کو بنا لڑائی کے کیسے کمزور کر دیا جاتا ہے؟ زہریلا انسان تمہیں نقصان پہنچا کر نہیں جیتتا…وہ ...
04/12/2025

خاموشی کا قانون زہریلے انسان کو بنا لڑائی کے کیسے کمزور کر دیا جاتا ہے؟

زہریلا انسان تمہیں نقصان پہنچا کر نہیں جیتتا…
وہ تب جیتتا ہے جب تم ردعمل دیتے ہو
جب تم غصہ دکھاتے ہو، وضاحتیں دیتے ہو، گھبراہٹ میں پڑتے ہو، اپنے آپ کو ثابت کرنے لگتے ہو
اسے تمہاری موجودگی نہیں چاہیے… اسے تمہارا اندر کا ہل جانا چاہیے

یہی جگہ آتا ہے سب سے طاقتور اصول
خاموشی کا قانون یعنی اندر سے اس کی طاقت کھینچ لینا، بغیر کوئی لفظ بولے

یہ قانون زہریلے انسان کو ایسے توڑتا ہے کہ اسے سمجھ ہی نہیں آتی، اس کا زور کہاں گیا۔
پورا طریقہ سن لو

1️⃣ اصل سمجھو زہریلا پن طاقت نہیں… بھوک ہے

زہریلا انسان سچ نہیں چاہتا… حل نہیں چاہتا…
وہ تمہاری منفی کیفیت چاہتا ہے۔
جب تم اندر سے ہلتے ہو، وہ خود کو جیتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
بس یہ بات سمجھ جاؤ… اس کا غصہ “زور” نہیں، بلکہ “کمزوری” کی چیخ ہے۔

2️⃣ پہلے اس کی ہوا بند کرو… پھر فاصلہ رکھو

دوری فوراً نہیں آتی…
پہلے اس کا “ایندھن” چھینو
غصہ نہیں
وضاحت نہیں
بحث نہیں
جذبات نہیں
کھیل نہیں

جب تمہارا ردعمل بجھ جاتا ہے
اس کا “سارا اثر” بجھ جاتا ہے۔
تم دور نہیں جا رہے…
تم صرف خود کو اس کے ہاتھ سے نکال رہے ہو

3️⃣ خود کو خاموش لیکن موجود رکھو

نہ زیادہ نرم
نہ زیادہ سخت
بس سیدھے، سادہ، خاموش
ایسے کہ وہ سمجھ نہ سکے تم سوچ کیا رہے ہو
زہریلا انسان اسی وقت پھنستا ہے… جب اسے سمجھ نہ آئے کہ تمہارے دل میں کیا ہے۔

4️⃣ خاموشی سب سے بڑا وار

خاموشی لفظوں کی کمی نہیں
خاموشی مطلب اس کا “کنٹرول” واپس لے لینا۔
جب اسے پتہ نہ چلے کہ تم کیا سوچ رہے ہو…
وہ اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے
خاموشی بھاگنا نہیں…
خاموشی حکمت ہے

5️⃣ صاف حدیں بنا دو

لمبے لیکچر نہیں…
بس دو تین سخت جملے

میں اس بات میں نہیں پڑوں گا
یہ گفتگو میرے لیے ختم ہے
اس لہجے میں بات نہیں ہو سکتی

زیادہ بولنا دروازہ کھولتا ہے
حدیں دروازہ بند کر دیتی ہیں۔

6️⃣ اپنی چالیں کبھی ظاہر نہ کرو

مت بتاؤ کہ تم بدل گئے ہو
مت سمجھاؤ کیوں خاموش ہو
مت کہو کہ تم ہٹ رہے ہو

جتنا کم وہ جانے گا
اتنا زیادہ اندر سے ہلے گا

7️⃣ اس کے گرنے کی اصل وجہ تمہارا نہ ہلنا

زہریلا انسان تمہارے جانے سے نہیں ٹوٹتا
بلکہ اس سے ٹوٹتا ہے کہ تم اسے اب چلنے نہیں دیتے
وہ تم سے روز کی “خوراک” مانگتا ہے
جب اسے کچھ نہیں ملتا
وہ گھبراہٹ میں، پھر غصے میں، پھر اندرونی ٹوٹ پھوٹ میں چلا جاتا ہے
اور آخر میں… کسی اور کو ڈھونڈ لیتا ہے۔

اور تم؟
تم مکمل طور پر اس کی دنیا سے آزاد ہو چکے ہوتے ہو۔

دو تہذیبوں کا فرق؟دونوں تہذیبوں کے بزرگ کم و بیش ہم عمر ہیں۔ ایک تہذیب نے تعلیم کو نظر انداز کیا غیر تعلیم یافتہ رہی۔ فا...
04/12/2025

دو تہذیبوں کا فرق؟
دونوں تہذیبوں کے بزرگ کم و بیش ہم عمر ہیں۔ ایک تہذیب نے تعلیم کو نظر انداز کیا غیر تعلیم یافتہ رہی۔ فارغ وقت میں بٹیروں کی لڑائی ان کی سب سے بڑی تفریح ہے۔ اگلی نسل میں کرائے کے جنگجو پیدا ہوئے۔

دوسری تہذیب نے اپنی عوام کو تعلیم کی روشنی دی۔ فارغ وقت میں مطالعہ اور حالات حاضرہ سے باخبر رہنا ان کی سب سے بڑی تفریح ہے۔ اگلی نسل میں پروفیسر ڈاکٹر سائنٹسٹ پیدا ہوئے۔

غربت کی  15 حیران کرنے والی وجوہات۔ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام...
04/12/2025

غربت کی 15 حیران کرنے والی وجوہات۔

ہمارے معاشرے کے گریبان میں جھانکتی ہوئی ۱۵ بے رحم وجوہات، جو بتاتی ہیں کہ یہاں کا عام آدمی غربت کے دلدل سے کیوں نہیں نکل پاتا۔ یہ میٹھی باتیں نہیں، کڑوی گولیاں ہیں۔اس کو پڑھنے سے پہلے دل پر ہاتھ رکھ لیں۔

۱۔ "سرکاری نوکری" کا نشہ
پاکستانی نوجوان کی جوانی کے بہترین ۱۰ سال "سرکاری نوکری" کے انتظار میں گل سڑ جاتے ہیں۔ وہ پچیس ہزار کی پرائیویٹ نوکری یا چھوٹا کاروبار کرنے کو توہین سمجھتے ہیں اور ۳۰ سال کی عمر تک والدین کے ٹکڑوں پر پلتے ہیں۔ نتیجہ؟ جب ہوش آتا ہے تب تک وقت اور عمر دونوں ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔

۲۔ دکھاوے کی شادیاں (امیروں کی نقل)
جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، مگر شادی پر ۱۰ لاکھ کا کھانا اور ۵ لاکھ کا جہیز دینا "ناک" کا مسئلہ ہے۔ یہ قوم اپنی زندگی کی کل جمع پونجی صرف ۴ گھنٹے کی تقریب میں لوگوں کو کھانا کھلا کر برباد کر دیتی ہے، اور پھر اگلے ۵ سال قرضہ اتارتی رہتی ہے۔

۳۔ ڈگری زدہ جاہل
ہاتھ میں ماسٹرز کی ڈگری ہے مگر ایک پروفیشنل ای میل لکھنی نہیں آتی۔ ہمارے تعلیمی نظام نے صرف "نوکر" پیدا کیے ہیں، ہنر مند نہیں۔ ڈگری کو قابلیت سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، کیونکہ مارکیٹ ڈگری کو نہیں، "سکل" (Skill) کو پیسے دیتی ہے۔

۴۔ ایک کمائے، دس کھائیں
مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family) کی یہ کڑوی سچائی ہے کہ اگر ایک بھائی کمانے لگ جائے تو باقی سب "پیر پسار" کر لیٹ جاتے ہیں۔ یہاں "Parasite" (مفت خورے) بننے کا رواج ہے، جس کی وجہ سے کمانے والا بھی کبھی امیر نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کا پیسہ سرمایہ کاری میں نہیں، دوسروں کا پیٹ بھرنے میں لگ جاتا ہے۔

۵۔ کمیٹی کلچر (مردہ پیسہ)
پاکستانیوں کو انویسٹمنٹ سے ڈر لگتا ہے مگر "کمیٹی" ڈالنے کا شوق ہے۔ کمیٹی "مردہ پیسہ" (Dead Money) ہے۔ دو سال بعد جو ایک لاکھ ملے گا، مہنگائی کی وجہ سے اس کی قدر ۶۰ ہزار رہ چکی ہوگی۔ یہ بچت نہیں، اپنے پیسے کی قدر گرانے کا طریقہ ہے۔

۶۔ انا کا بت (میں یہ کام کروں گا؟)
"میں چوہدری کا بیٹا ہوں، میں ریڑھی لگاؤں گا؟"
اس جھوٹی انا نے لاکھوں گھر اجاڑ دیے۔ یہاں لوگ بھوکے مر جائیں گے لیکن کوئی چھوٹا کام شروع کرنے میں شرم محسوس کریں گے۔ یاد رکھیں، کام چھوٹا نہیں ہوتا، بندے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔

۷۔ صحت کی تباہی (خودکشی)
ہم وہ قوم ہیں جو ۴۰ سال کی عمر تک تیل اور چینی ٹھونس کر اپنا جسم برباد کرتے ہیں اور پھر ۵۰ سال کی عمر کے بعد اپنی ساری کمائی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو دے دیتے ہیں۔ صحت کو نظر انداز کرنا غربت کا سیدھا راستہ ہے۔

۸۔ شارٹ کٹ کی تلاش
ہمیں امیر بننا ہے، لیکن محنت کے بغیر۔ کبھی ڈبل شاہ، کبھی کرپٹو کے فراڈ اور کبھی لاٹری۔ پاکستانی قوم پروسیس (Process) پر یقین نہیں رکھتی، اسے "معجزہ" چاہیے۔ اور معجزے کے انتظار میں نسلیں غریب رہ جاتی ہیں۔

۹۔ الزام تراشی (Victim Mentality)
"حکومت خراب ہے، نواز شریف کھا گیا، عمران خان نے کیا کر لیا، فوج نہیں چھوڑتی۔۔۔"
یہ وہ چُورن ہے جو ناکام لوگ روز بیچتے ہیں۔ یہ ماننے کے بجائے کہ "میں نالائق ہوں"، وہ اپنی ناکامی کا ملبہ سسٹم پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔

۱۰۔ ادھار پر عیاشی
ہم وہ لوگ ہیں جو "آئی فون" قسطوں پر لیتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو متاثر کر سکیں جو ہمیں پسند بھی نہیں کرتے۔ غیر ضروری چیزوں (Liabilities) کے لیے قرض لینا مالی خودکشی ہے، جو یہاں کا ہر دوسرا بندہ کر رہا ہے۔

۱۱۔ سیکھنا بند (The Know-it-all)
ڈگری ملتے ہی کتاب بند۔ پاکستانی اوسطاً سال میں ایک کتاب بھی نہیں پڑھتا۔ جب آپ اپنے دماغ پر انویسٹ کرنا بند کر دیتے ہیں، تو آپ کی جیب خود بخود خالی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

۱۲۔ اولاد بطور انشورنس پالیسی
غربت کی ایک بڑی وجہ "بے تحاشا بچے" ہیں۔ غریب آدمی بچے اس لیے پیدا کرتا ہے کہ "یہ بڑے ہو کر کمائیں گے"۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ وسائل کے بغیر پلنے والے بچے "سرمایہ" نہیں، معاشرے اور والدین پر "بوجھ" بنتے ہیں۔

۱۳۔ رسک فوبیا (Risk Aversion)
"پیسہ ڈوب نہ جائے"۔ اس ڈر سے لوگ پیسہ بینک میں سڑنے دیتے ہیں یا پلاٹ لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ کاروبار کرنے کا، رسک لینے کا حوصلہ ہی نہیں ہے۔ اور جو رسک نہیں لیتا، وہ کبھی ترقی نہیں کرتا۔

۱۴۔ حاسدانہ رویہ
امیر آدمی کو دیکھ کر یہ سیکھنے کے بجائے کہ "یہ کیسے امیر ہوا؟"، ہم کہتے ہیں "ضرور حرام کا کمایا ہوگا۔" امیروں سے نفرت کر کے آپ کبھی امیر نہیں بن سکتے، کیونکہ لاشعوری طور پر آپ وہ بننا ہی نہیں چاہتے جسے آپ برا سمجھتے ہیں۔

۱۵۔ وقت کا قتلِ عام
چائے کے ڈھابوں پر گھنٹوں سیاست پر بحث، ٹک ٹاک پر اسکرولنگ اور فضول محفلیں۔ غریب آدمی کے پاس پیسے کے علاوہ سب سے قیمتی چیز "وقت" ہوتی ہے، اور وہ اسی کو سب سے زیادہ بے دردی سے ضائع کرتا ہے۔

اپنی بدحالی کا ملبہ حکومت یا تقدیر پر ڈالنا بند کریں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی جیب خالی نہیں بلکہ آپ کا دماغ بنجر ہے۔ جب تک آپ اپنی ”جھوٹی انا“ اور ”سستی“ کا جنازہ نہیں نکالیں گے، غربت آپ کی نسلوں کو اسی طرح چاٹتی رہے گی۔

04/12/2025

آسٹریلیا 🇦🇺 میں تقریباً 90 فیصد طلبہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ملازمت بھی کرتے ہیں جس کے کئی اہم فوائد ہیں:

• پیشہ ورانہ مہارت (Professionalism)
عملی کام کے ذریعے طلبہ میں پروفیشنل ازم پیدا ہوتا ہے، جو مستقبل کی کیریئر لائف میں بے حد معاون ثابت ہوتا ہے۔

• پبلک ڈیلنگ اور کمیونیکیشن اسکلز
ملازمت کے دوران مختلف لوگوں سے رابطہ بڑھتا ہے، یوں گفتگو، معاملات سنبھالنے اور لوگوں سے ڈیل کرنے کی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے۔

• مالی خود کفالت اور پیسے کی قدر کا احساس
خود کمائے ہوئے پیسے سے طلبہ نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ انہیں آمدن، خرچ اور بچت کی اہمیت کا عملی شعور بھی ملتا ہے۔

• وقت کی مینجمنٹ
پڑھائی اور کام دونوں کو ساتھ لے کر چلنے سے وقت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

• والدین کا سہارا بننا
ملازمت کرنے والے طلبہ اپنے والدین کا بوجھ کم کرتے ہیں، جس سے گھر میں ذہنی سکون اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔

Address

Shahi Road
Khanpur
64000

Telephone

03006727493

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tariq homeopathic clinic and store posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Tariq homeopathic clinic and store:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category