Pakistani Dawakhana

Pakistani Dawakhana Pakistani Dawakhana is working for human health and promote Natural Cures with Normal foods.
(1)

کیکر کی گوند (Acacia Gum)کیکر کی گوند کو ہندی گوند، عربی گوند، عقاقیہ گوند جبکہ اردو میں گوند خدر یا گوند ببول بھی کہا ج...
31/01/2026

کیکر کی گوند (Acacia Gum)
کیکر کی گوند کو ہندی گوند، عربی گوند، عقاقیہ گوند جبکہ اردو میں گوند خدر یا گوند ببول بھی کہا جاتا ہے۔ حکمت شناسی کے مطابق یہ ایک قدیم اور کثیر المقاصد قدرتی مادہ ہے جس کا استعمال صدیوں سے جاری ہے۔
تاریخی طور پر یہ گوند عرب خطے، مغربی ایشیا، سوڈان اور افریقہ کے ساحلی علاقوں میں سینیگال سے صومالیہ تک پائی جاتی ہے۔ تجارتی ضرورت کے لیے آج بھی زیادہ تر یہ گوند جنگلی درختوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وسطی و مغربی افریقہ اور شمال مغربی ہندوستان کے علاقوں خصوصاً ہریانہ، گجرات اور راجستھان کی پہاڑیوں میں بھی پائی جاتی ہے۔
عقاقیہ کا درخت تقریباً 6 میٹر تک بلند اور کانٹوں والا ہوتا ہے۔ مناسب افزائشی حالات میں اس کے فلیم (Phloem) خلیات سے گوند بنتی ہے۔ جب تنے پر گوند کے قطرے آنسوؤں کی صورت ظاہر ہوتے ہیں تو انہیں احتیاط سے جمع کر لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں گوند کو ریت اور دیگر آلائشوں سے صاف کیا جاتا ہے اور قدرتی چمک کے لیے کئی ماہ دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔
یہ گوند چھوٹے بڑے شفاف یا نیم شفاف کرسٹل نما ذرات کی شکل میں ہوتی ہے، جس کا رنگ ہلکا بھورا اور چمکیلا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی خاص خوشبو نہیں پائی جاتی، البتہ ذائقہ قدرے ترش ہوتا ہے۔ یہ پانی میں آسانی سے حل ہو جاتی ہے، مگر الکوحل اور دیگر محللات میں حل نہیں ہوتی۔
کیمیائی طور پر اس میں کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم کے نمکیات شامل ہوتے ہیں، جو عربی تیزاب کے اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں۔
ادویاتی استعمال کے ساتھ ساتھ یہ گوند صنعتوں میں بھی بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ پرنٹنگ، پینٹ، میک اپ مصنوعات، جوتوں کی پالش، ڈاک ٹکٹ، لفافے، سگریٹ پیپر، سریش اور مختلف چپکنے والی اشیاء میں اس کا استعمال عام ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں رنگوں کے ساتھ شامل کر کے کپڑوں کے رنگ کو دیرپا بنایا جاتا ہے۔
اب تک اس کے مقابلے کی کوئی متبادل چیز دریافت نہیں ہو سکی۔ پرنٹنگ پریس میں استعمال ہونے والی ایلومینیم پلیٹس کی آکسیڈیشن میں بھی یہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چیونگم، مٹھائیوں، ٹائلوں کی چمک اور آتش بازی کے مواد میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ گوند غذائی فائبر اور حل پذیر پیچیدہ پولی سیکرائیڈز پر مشتمل ہوتی ہے، اگرچہ اس کی کیلوریز کے حوالے سے واضح سائنسی تحقیق دستیاب نہیں۔

✦ Sanasi Hikmat House
#کیکر
Acacia Gum
Acacia gum is also known as Hindi gound, Arabic gound, अकाकीया गोंड and in Urdu as gound khadr or gound babol. According to philology, it is an ancient and multipurpose natural substance that has been used for centuries.
Historically, this gum is found in the Arabian region, West Asia, Sudan and the coastal areas of Africa from Senegal to Somalia. Even today, this gum is mostly obtained from wild trees for commercial purposes. It is also found in the hills of Central and West Africa and Northwestern India, especially Haryana, Gujarat and Rajasthan.
The acacia tree is about 6 meters tall and thorny. Under suitable growing conditions, its phloem cells produce gum. When drops of gum appear on the stem in the form of tears, they are carefully collected. Later, the glue is cleaned of sand and other impurities and kept in the sun for several months for natural shine.
This glue is in the form of small transparent or translucent crystal-like particles, which are light brown and shiny in color. It has no special odor, but the taste is slightly sour. It is easily soluble in water, but insoluble in alcohol and other solvents.
Chemically, it contains salts of calcium, magnesium and potassium, which are components of arabic acid.
Along with medicinal uses, this glue is also of great importance in industries. It is commonly used in printing, paints, makeup products, shoe polish, stamps, envelopes, cigarette paper, adhesives and various adhesives. In the textile industry, the color of clothes is made long-lasting by adding it to dyes.
So far, no alternative has been discovered to compare to it. It also helps in the oxidation of aluminum plates used in printing presses. It is also used in chewing gum, sweets, tile glitter, and fireworks.
This gum contains dietary fiber and soluble complex polysaccharides, although there is no clear scientific research available regarding its calories.

✦ Sanasi Hikmat House
​​
#کیکر









English /







پپیتہ پاکستان میں پپیتہ کی کاشت سندھ اور پنجاب کے گرم علاقوں میں بہترین ہے۔ پنجاب میں ریڈ لیڈی مشہور ورائٹی ہے اور کاشت ...
27/01/2026

پپیتہ
پاکستان میں پپیتہ کی کاشت سندھ اور پنجاب کے گرم علاقوں میں بہترین ہے۔ پنجاب میں ریڈ لیڈی مشہور ورائٹی ہے اور کاشت کے لیے آسان الفاظ میں یہ رہنمائی ہے۔

بہترین علاقےپاکستان میں پپیتا سندھ کے نواب شاہ، سانگھڑ، سکھر، ٹھٹھہ، بدین اور پنجاب کے گرم مرطوب علاقوں جیسے فیصل آباد، ساہیوال میں اچھا ہوتا ہے۔ یہ جگہیں گرم اور مرطوب ہوتی ہیں جو پپیتے کے لیے موزوں ہیں۔
پنجاب میں ورائٹی پنجاب میں ریڈ لیڈی ورائٹی سب سے مشہور اور کامیاب ہے۔ یہ اچھے پھل دیتی ہے اور بیماریوں سے مزاحم ہے۔ سنٹا بھی اچھی ہے مگر ریڈ لیڈی زیادہ استعمال ہوتی ہے۔

بیج تیار کرناپکے پپیتے سے بیج نکالیں، بہتے پانی سے دھوئیں تاکہ جیلا ہٹ جائے، اور 1-2 دن سوکھائیں۔ پھر ریت یا کائی میں بوئیں۔ یہ طریقہ انکرن بڑھاتا ہے۔

کاشت کا فاصلہپودے سے پودے 9 فٹ اور قطار سے قطار 8 فٹ رکھیں۔ ایک ایکڑ میں 800-900 پودے لگتے ہیں۔
دھوپ اور پانیروزانہ 6 گھنٹے براہ راست دھوپ چاہیے۔ پانی باقاعدہ دیں مگر تنے پر نہ لگے، بیڈ بنا کر دیں تاکہ جڑیں صحت مند رہیں۔

بیماریوں سے بچاؤفنگس سے بچنے کے لیے تنے کو پانی سے بچائیں، بورڈو مائع سپرے کریں۔ میلی بگ وغیرہ سے بایوکنٹرول استعمال کریں اور صاف مٹی رکھیں۔

بونسائی گملے کا سائزبونسائی کے لیے 8-12 انچ قطر کا گملہ شروع میں اچھا ہے۔ جڑوں کے لیے اچھی نکاسی والی مٹی استعمال کریں۔
پھل بڑے کرنے کی کھادپوٹاشیم والی کھاد جیسے SOP (12 بوری فی ایکڑ سالانہ)، یوریا اور DAP دیں۔ ہر 2 مہینے بعد حصوں میں ڈالیں، گوبرکی کھاد بھی اچھی ہے۔
پھل دینے کا وقت کاشت کے 9-10 مہینے بعد پھل دیتا ہے۔ بیج جون-جولائی میں لگائیں تو اگست-ستمبر میں منتقل کریں۔
جڑوں کی حفاظتبارش میں زمین کے اوپر مٹی اٹھا کر ڈھانپ دیں تاکہ پانی جمع نہ ہو اور جڑیں سڑ نہ جائیں۔ اچھی نکاسی والی مٹی رکھیں۔
پنجاب میں بہترین وقتجون-جولائی میں بیج لگائیں، اگست-ستمبر میں کھیت منتقل کریں۔ فروری-مارچ یا ستمبر-اکتوبر بھی اچھا ہے

*گھریلو طریقے*
کیلے کے چھلکے پانی میں بھگو کر اس سے پودے کو سیراب کریں، پوٹاشیم سے پھل موٹے ہوتے ہیں
دودھ پانی میں ملا جڑوں میں دیں، کیلشیم پھلوں کی نشوونما بڑھاتا ہے
۔الوویرا کا جوس پتوں پر سپرے کریں، نشوونما کے ہارمونز پھل بڑا کرتے ہیں

۔گوبرکی کھاد (10 کلو فی پودا) جڑوں میں ملا دیں، غذائی اجزاء پھلوں کو مضبوط بناتے ہیں
۔ہلدی پاؤڈر کا ماضی تنے پر لگائیں، انفیکشن روک کر پھل کی نشوونما بڑھتی ہے
۔پپیتے کے پتوں کو کاٹ کر فرمینٹ کرکے پانی بنائیں اور دیں، قدرتی ہارمون پھل موٹا کرتے ہیں
۔ملچنگ (سُکھی پتیاں یا چاول کی بھوسی) جڑوں کے ارد گرد لگائیں، نمی برقرار رکھ پھل بڑا ہوتا ہے
ناریل کا پانی ہفتے میں ایک بار دیں، پوٹاشیم اور معدنیات سے سائز بڑھتا ہے
چونا تنے پر لگائیں، مٹی کا pH بیلنس ہو کر غذائی اجزاء جذب ہوتے ہیں
۔پھلوں کی تعداد کم کریں (تھننگ)، باقی پھل بڑے اور موٹے ہوتے ہیں

*کیمیکل طریقے*
پوٹاشیم نائٹریٹ (13:0:45) 310-315 دن پر دیں، پھلوں کی کوالٹی اور سائز بڑھتی ہے
۔جینک سلفیٹ (ZnSO4 0.5%) سپرے کریں، زن کی کمی دور ہو پھل بڑا ہوتا ہے
۔بورک ایسڈ (H2BO3 0.1%) پتوں پر دیں، فُل سیٹنگ بہتر ہو سائز بڑھتا ہے
۔کیلشیم نائٹریٹ جڑوں میں ملا دیں، پھلوں کی شکل موٹی بنتی ہے

۔جیبرلیک ایسڈ (GA3 50-100 ppm) پھلوں پر سپرے، ہارمون سے فوری نشوونما
SOP (سالانہ 12 بوری فی ایکڑ) دیں، پوٹاشیم پھلوں کو بڑا کرتا ہے
۔میگنیشیم سلفیٹ 280 دن پر، پتوں کی صحت بہتر ہو پھل موٹا ہوتا ہے
۔فاسفورس (DAP 8 بوری) ابتدائی مرحلے میں، جڑیں مضبوط ہو سائز بڑھتا ہے
۔بھیم پلس 310 دن پر، پھلوں کی کوالٹی اور حجم بڑھاتا ہے
۔NPK 20.20.20 ہر 6 مہینے، متوازن غذائیت سے پھل بڑے ہوتے ہیں

جائفل اپنی بھینی خوشبو کی وجہ سے تمام مصالحوں میں ایک الگ اہمیت رکھتی ہے ۔ جائفل کو بہت سے کھانوں میں استعمال کیاجاتا ہے...
26/01/2026

جائفل اپنی بھینی خوشبو کی وجہ سے تمام مصالحوں میں ایک الگ اہمیت رکھتی ہے ۔ جائفل کو بہت سے کھانوں میں استعمال کیاجاتا ہے ۔ ایک چٹکی جائفل آپ کے کھانوں میں ایک زبردست خوشبو پیدا کرتی ہے ۔ جائفل کو بہت سی ڈشز میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن جائفل کو بہت سے طبی فوائد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
جہاں اس کے بہت سے طبی فوائد ہیں ، وہیں آپ یہ جان کر بھی خوش ہوں گے کہ جائفل آپ کی جلد کے لیے بھی بہت مفید ہے۔

چھائیوں کا خاتمہ :
جائفل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جائفل کے اندر چھائیوں اور uneven skin toneکو درست کرنے کے تمام اجزاء موجود ہیں ۔ جھائیاں یا پھر سورج کی تیز شعاعوں سے خراب جلد کو واپس اصلی حالت میں لا کر رنگت نکھارتی ہے ۔یہ آپ کی اسکن ہارمونز کو بہتر کرتی ہے اور ایجنگ کے اثرات بھی کم کرتی ہے ۔

اجزاء :
جائفل
لیموں کا رس
دھی

بنانے کا طریقہ :
تمام اجزاء کو مکس کرکے اپنے چہرے پر لگائیں ۔
8سے 10منٹ تک لگا رہنے دیں ۔
اس کے بعد چہرہ ٹھنڈے پانی سے دھولیں اور کوئی بھی کریم لگائیں ۔
بہترین نتائج کے لیے ہفتے میں تین سے چار مرتبہ یہ عمل دھرائیں ۔

چکنی جلد کے لیے :
اگر آپ اپنی چکنی جلد سے پریشان ہیں تو اس کا بہترین حل جائفل میں موجود ہے ۔ یہ آپ کو چہرے کے مسام کو بند کرکے کر آئل آنے سے روکتی ہے ، اسی کے ساتھ یہ ایک انتہائی اینٹی بیکٹیریا بھی ہے جو آپ کی جلد کو صاف اور شفاف رکھتی ہے ۔

اجزاء :
جائفل
شہد

بنانے کا طریقہ :
دونوں اجزاء کو ملا کر اپنے چہرے پر لگائیں اور 5سے 10منٹ کے لیے چھوڑ دیں ۔
پھر اپنا چہرہ دھولیں ۔
شہد اور جائفل ایک بہترین اینٹی بیکٹیریا ہیں جو آپ کی جلد سے چکنائی ختم کرے اور ایکنی ہونے سے بچائے ۔

جلد کو جوان رکھنے کے لے :
جائفل میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس آپ کی جلد کے مرد ہ سیلز کو ختم کرکے جلد کو جوان اور خوبصورت رکھنے میں مدد کرتے ہیں ۔ ذہنی تناؤ کی وجہ سے جلد پر لائنیں آجاتی ہیں ۔ جائفل میں موجود اجزاء اسٹریس کو ختم کرکے آپ کے چہرے سے یہ لائنیں ختم کرتے ہیں اور جلد کو جوان رکھتے ہیں ۔

اجزاء :
جائفل
دھی
شہد

طریقہ :
تمام اجزاء کو مکس کرکے اپنے چہر ہ پر لگائیں ۔
10 منٹ بعد چہرہ دھولیں ۔
آپ نتائج دیکھ کر حیران رہ جائیں گے ۔
ہفتے میں تین بار استعمال کریں۔
'

شلجم کے فوائد کیلشم سے بھرپور۔۔۔ بچوں کی جسمانی کمزوری دور کرنے کے لئےشلجم اور چقندر زمین کے اندر کی سبزی ہے یہ بھی تمام...
24/01/2026

شلجم کے فوائد
کیلشم سے بھرپور۔۔۔ بچوں کی جسمانی کمزوری دور کرنے کے لئے
شلجم اور چقندر زمین کے اندر کی سبزی ہے یہ بھی تمام ممالک میں بہت شوق سے کھائی جاتی ہے یہ بہت طاقت پہنچاتا ہے سردیوں میں پیدا ہوتا ہے مگر اس کی تاثیر گرم و تر ہوتی ہے اس کی برادری کا شلجم بھی ہوتا ہے شلجم میں چکندر سے زیادہ کیلشیم ہوتا ہے اس کے عرق میں وٹامن سی بہت ہوتا ہے یہ گلے کی خراش کو ٹھیک کرتا ہے سینے کے بلغم کو چھانٹ دیتا ہے اور گلے وسینہ کی تمام بیماریوں کو ٹھیک کر دیتا ہے دق کے مرض میں بھی یہ بہت مفید ہوتا ہے کچا شلجم سلاد کے طور پر کھانے سے بہت فائدہ کرتا ہے اس کا عرق خون کو صاف کرتا ہے اور اس کو اس سنگترے کی جگہ بچوں کو پلایا جاتا ہے اس کو دینے سے بچوں کے دانت آسانی سے نکل آتے ہیں اس کے فوائد اور غذائی کیفیت چکندر سے ملتی جلتی ہے

*اگر آپ کو کھانسی ہو تو شلجم کے رس کو جوش دے کر تھوڑا ٹھنڈا کریں نیم گرم ہونے پر شہد ملا کر پی لیں کھانسی کا خاتمہ ہوجائے گا

*شلجم میں کاربوہائیڈریٹس نہیں ہوتے اس لیے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے
ذیابیطس کے مریض کو شلجم ابال کر کھلانے چاہیے

*بچوں کی جسمانی کمزوری دور کرنے کے لیے بچوں کو شلجم کا رس کچا یا پکا کر پلانا چاہیے شلجم بھی کچے یا پکے کھلانے سے کمزوری کا شکار بچوں کے لیے مفید ہیں کیونکہ شلجم کے رس میں کیلشیم وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے شلجم کا چھلکا بھی مفید ہے شلجم کچے چھلکے سمیت بطور سلاد استعمال کریں صحت کے لیے بے حد فائدہ مند ہے

مردانہ طاقت کا سرچشمہھوالشافی۔ثعلب مصری ۔۔۔۔۔۔10 گرامثعلب پنجا ۔۔۔۔۔۔۔۔10 گرام موصلی سفید ۔۔۔۔10 گرام تخم اوٹنگن ۔۔۔۔۔10...
22/01/2026

مردانہ طاقت کا سرچشمہ
ھوالشافی۔
ثعلب مصری ۔۔۔۔۔۔10 گرام
ثعلب پنجا ۔۔۔۔۔۔۔۔10 گرام
موصلی سفید ۔۔۔۔10 گرام
تخم اوٹنگن ۔۔۔۔۔10 گرام
ستاور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔10 گرام
اسکند ناگوری ۔۔۔10 گرام
گوند کتیرا ۔۔۔۔۔۔۔10 گرام
مصر ی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سو گرام
سب چیزوں کا سفوف بنا کر محفوظ کرلیں ایک بڑا چمچ صبح نہار منہ ایک بڑاچمچ رات کو سوتے وقت دودھ کے ساتھ لیں 20 دن استعمال کرنا ہے،،،

اکثر لوگ دل، فالج اور بلڈ پریشر کی بات تو کرتے ہیں مگر خون کے گاڑھا ہونے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔خون جب گاڑھا ہونے لگتا ...
16/01/2026

اکثر لوگ دل، فالج اور بلڈ پریشر کی بات تو کرتے ہیں مگر خون کے گاڑھا ہونے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

خون جب گاڑھا ہونے لگتا ہے تو دل کو زیادہ زور لگانا پڑتا ہے اور رگوں میں دباؤ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

دیسی باورچی خانے میں ایک عام سی چیز ہے جو اس مسئلے میں خاموشی سے مدد کرتی ہے مگر لوگ اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔

یہ چیز لہسن ہے، جو روز مرہ کھانوں میں ذائقہ تو بڑھاتا ہے مگر فائدہ اس سے کہیں زیادہ رکھتا ہے۔

لہسن خون کی روانی کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے اور رگوں کے اندر غیر ضروری جمنے کے رجحان کو کم کرتا ہے۔

اسی وجہ سے دل پر بوجھ کم رہتا ہے اور اچانک دباؤ یا بھاری پن کے امکانات گھٹتے ہیں۔

لہسن جسم میں چکنائی کے توازن میں بھی مدد دیتا ہے جس سے خون کی نالیاں نسبتاً کھلی رہتی ہیں۔

کن کو فائدہ ہوتا ہے وہ افراد جنہیں بلڈ پریشر، دل کی کمزوری یا ہاتھ پاؤں میں سن ہونا محسوس ہوتا ہو۔

کن کو احتیاط کرنی چاہیے وہ لوگ جو پہلے ہی خون پتلا کرنے والی دوائیں استعمال کر رہے ہوں۔

مزاج کے لحاظ سے لہسن گرم اور خشک تاثیر رکھتا ہے، اس لیے حساس مزاج والوں کو مقدار کم رکھنی چاہیے۔

بہترین وقت صبح خالی پیٹ یا کھانے کے ساتھ ہے تاکہ معدہ اسے آسانی سے قبول کر لے۔

مقدار ایک یا دو جوے کافی ہوتے ہیں، زیادہ استعمال فائدے کے بجائے جلن پیدا کر سکتا ہے۔

لہسن کو کچل کر شہد یا نیم گرم پانی کے ساتھ لینا زیادہ موافق سمجھا جاتا ہے۔

چند ہفتوں میں جسم میں ہلکاپن، سر کی بھاری کیفیت میں کمی اور توانائی میں بہتری محسوس ہو سکتی ہے۔

یہ دیسی چیز دوا کا متبادل نہیں مگر روزمرہ عادت کے طور پر بڑی حفاظت فراہم کرتی ہے۔

اگر یہ بات کسی ایک دل کو مضبوط رکھ لے تو یہی اصل فائدہ ہے۔

*اکسیر معدہ + ایچ پائیلوری + سوزش معدہ + جلن تیزابیت + معدہ کے تمام امراض کے لیے اکسیر خاصایچ پائیلوری ایک جراثیم (بیکٹی...
15/01/2026

*اکسیر معدہ + ایچ پائیلوری + سوزش معدہ + جلن تیزابیت + معدہ کے تمام امراض کے لیے اکسیر خاص
ایچ پائیلوری ایک جراثیم (بیکٹیریا) ہے*
جو کہ معدہ کے السر کا سبب مانا جاتا ہے

آ ج کل کے دور میں یہ مرض بڑی تیز شدت اختیار کر چکا ہے

ہر تیسرا چوتھا بندہ اس کا شکار نظر آتا ہے
بے تحاشہ مرغن غذائیں ، چٹ پٹے کھانے ، فاسٹ فوڈ ،
تلی ہوئی اشیاء ، کاربونیٹد ڈرنکس کا کثرت استعمال اس مرض کی بنیادی وجہ ہے

انسانی معدہ ایک بھٹی کی مانند ہے
اگر بھٹی ٹھیک کام کرے گی تو اس میں ڈالا گیا
مال صحیح طور پر پراسس ہو پائے گا جس سے نہ صرف کہ اگلے مراحل میں پراڈکٹ بنانے میں آسانی رہے گی بلکہ پراڈکٹ بھی معیاری بنے گی

اس شدت آمیز دور میں انسانی بدن کی اس بھٹی کے ساتھ جو ظلم کئے جا رہے ہیں اس کی لسٹ بہت لمبی ہے

ناخالص خوراک اور بد پرہیزی اوپر سے فوراً ٹھنڈا پانی اور غیر معیاری اجزاء سے بنی کیمیکل والی چائے پینا جتنی نقصان دہ ہے شاید ہی
اور کوئی چیز ہو

*خالص خوراک*
خالص دیسی گھی ، مکھن ، خالص دودھ تو تقریباً ناممکن ہو چکے ہیں

یہی ناخالص خوراک اور بد پرہیزی معدہ میں خشکی اور غیر طبعی گرمی کا سبب بنتی ہیں

معدہ میں تیزابیت انتہا کی بڑھ جاتی ہے
یہ گرمی اور خشکی والا ماحول ایچ پائیلوری نامی جراثیم کے لئے بہت سازگار ہوتا ہے
اس ماحول میں یہ جراثیم خوب پھلتا پھولتا ہے
یہ سب وجوھات معدہ میں السر کا سبب بنتی ہیں
اس سٹیج پر اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ السر ، کینسر وغیرہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے
اس کا شکار مریض عام طور پر قے ، متلی ، سینے میں جلن، پیٹ درد ، گھبراہٹ
اور دل ڈوبنے کی شکایت کرتا ہے

بے چینی ، سستی کاہلی ، بے جا خوف ، شدید گبھراہٹ ، وہم ، جنونی کیفیت ، دماغی بوجھ ، ڈپریشن سٹریس ، نفسیاتی بیماریاں ، نیند کی کمی
حد درجے کی جسمانی خشکی و دماغی خشکی
بے لذتی
لوگوں سے بے جا خوف ڈر
اعصاب میں تحریک کی خواہ مخواہ زیادتی
اعصاب کا حد درجے کمزوری
اعصاب کی کمزوری کی وجہ سے عضلات کی کمزوری اور تحریک بڑھ جانا
پٹھوں میں کھنچاؤ
جسمانی دردیں
اچانک وزن بڑھنا
یا کم ہونا
وغیرہ اور دیگر مسائل کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے

*نسخہ حاضر خدمت ہے*
سونف رومی 100 گرام ، ریوند خطائی 80 گرام ، الائچی کلاں 50 گرام ، سنڈھ 50 گرام ، گل سرخ ایرانی 50 گرام ، فلفل سیاہ 50 گرام ، سنامکی 100 گرام ، ہریڑہ 150 گرام ، بہڑہ 150 گرام ، کاسنی 50 گرام ، دارچینی 50 گرام ، کوزہ مصری 400 گرام

*طریقہ تیاری*
ہریڑہ اور بہیڑہ کو دیسی گھی میں بھون لیں
باقی تمام کا پاؤڈر کرلیں

*مقدار خوراک*
چھوٹی چمچ صبح و دوپہر شام ہمراہ نیم گرم پانی یا دودھ کے ساتھ استعمال کروائیں

کیکر کی پھلی کا قیمتی نسخہ بس ایک چٹکی کھالیں زندگی بھر دعا دوگے،طریقہ استعمال-کیکر کی پھلی کاایک بہت کارآمد اور اثر دار...
14/01/2026

کیکر کی پھلی کا قیمتی نسخہ بس ایک چٹکی کھالیں زندگی بھر دعا دوگے،
طریقہ استعمال-
کیکر کی پھلی کاایک بہت کارآمد اور اثر دار نسخہ بتاؤں گا۔ اس علاج کو چند دن استعمال کرنے سے گھٹنوں سے چکناہٹ کی کمی، جوڑوں کا درد، کمرمیں مہروں کا درد، جسم اور ہڈیوں میں درد اور جوڑوں سے ٹک ٹک کی آوازیں آنا۔ انشاءاللہ یہ تمام تر تکالیف ختم ہوجائیں گیں۔ اس کے علاوہ یہ نسخہ مردوں اور خواتین کی پوشیدہ کمزوری کے لیے بے حد ضروری ہے ۔
اس کے علاج کے استعمال سے خواتین کو تھکاوٹ اورسستی نہیں ہوتی۔ آئیے جانتے ہیں اس نسخے کو بنانے اور استعمال کرنے کا آسان طریقہ۔ کیکر کا درخت جسے ببول کا درخت بھی کہتے ہیں۔یہ ہمارے ارد گر د سڑکوں کے کنارے پاس اور کھیتوں میں ہرجگہ موجود ہوتا ہےاس درخت کی چھال اس کے پتے اس کی گوند اور اس کی پھلی دار بیج ہر چیز میں ہمارے جسم کی بہت سی بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ لیکن آج ہم جانیں گے کیکر کی پھلی کا ایک بہت زبردست استعمال ھوالشافی۔۔ کیکر سے ان پھلیوں کو توڑ لیں۔ اور ان کو سائے میں خشک کرلیں۔ جب پھلیاں خشک ہوجائیں تو ان کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔ اور کسی ہوا بند جار میں محفوظ کرلیں۔ آپ اس سفوف کو استعمال کرنے کے دوطریقے ہیں۔
اگر آپ کے جسم میں کسی بھی حصے میں درد ہوتو جیسا کہ جوڑوں کادرد ہو، ہڈیوں کادرد ہو، کمرکا درد ہو، گھٹنوں کا تکلیف کا ، ہڈیوں کا کوئی بھی مسئلہ ہو تو صبح اور شام ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ کیکر کی پھلی کا سفوف اور ایک چمچ شہد ملا کر استعمال کریں ۔ آپ کی ہڈیوں کی کمزور اور خشک جوڑ اور جوانی جیسے لیسدار اور مضبوط ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ اگر آپ پوشیدہ کمزوری کا شکا ر ہیں۔ چاہےتو وہ مرد اور یا عورت۔ انہیں چاہیے کہ پچاس کیکرکےپھلی کے پاؤڈر میں بیس گرام مصری ملاکر مکس کرلیں ۔ اب اس سفوف کو صبح اور شام ایک گلاس نیم گر م پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
میرے ایسے بہن بھائی جن کے سپرمز مرچکے ہیں یا پھر کمزور ہیں۔ اس طریقہ علاج سے انشاءاللہ شفاء ہوگی ۔ مگر یاد رکھیں اس علاج کو بیس سال کے بعد ہی استعمال کریں ۔ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں تو مصری اور شہد کے بغیر استعمال کریں۔ اس کے علاوہ اس علاج کا کوئی نقصان نہیں

اکسیر سپرمز جن لوگوں کے اولاد کے جراثیم اسپرمز کم ھیں ان کے لیے انتہائی مجرب  نسخہہوالشافی مغز جیہ پوتہ 50 گرام دھماسہ ب...
01/12/2025

اکسیر سپرمز
جن لوگوں کے اولاد کے جراثیم اسپرمز کم ھیں ان کے لیے انتہائی مجرب نسخہ
ہوالشافی
مغز جیہ پوتہ 50 گرام
دھماسہ بوٹی پاؤڈر 50 گرام
گوکھرو پاؤڈر 50 گرام
زعفران 10گرام
ترکیب تیاری ۔۔۔جیہ پوتہ کا اوپر والا چھلکا اتار کر باریک پیس کرپوڈر کرکے مکس کرلیں اور 00زیرو کا کیپسول بھرلیں ا کیسول صبح شام پانی کے ساتھ کھائیں
ایک مہینہ استعمال کریں انشاءاللہ تعالی جراثیم اسپرمز پورے ھو جائیں گے
صارم دواخانہ پنسار سٹور کھاریاں 03338448041

کریس سیڈ (تخم ہلیون)( امراض معدے سے لے کر کینسرجیسے جان لیوا مرض تک حیران کن نتائج دینے والا چھوٹا سا بیج)کریس سیڈ یا تخ...
24/11/2025

کریس سیڈ (تخم ہلیون)
( امراض معدے سے لے کر کینسرجیسے جان لیوا مرض تک حیران کن نتائج دینے والا چھوٹا سا بیج)

کریس سیڈ یا تخم ہلیون آسانی سے دستیاب انتہائی سستے بیج ہیں دنیا بھر میں گارڈن کریس پر ہونے والی تحقیق کے نتیجے میں اس چھوٹے سے بیج کو ” مکمل فارمیسی“قراردیا گیا ہے کیونکہ اس میں پائے جانے منفرداجزا‘وٹامن ‘منرلز معدے کی خرابی سے لے کر کینسرجیسے جان لیوا مرض سے بچاﺅ کے لیے مفید پائے گئے ہیںسب سے اہم اور متنوع پودوں میں سے ایک گارڈن کریس ہے، جس میں پروٹین، فیٹی ایسڈ، معدنیات اور وٹامنز کی بڑی مقدار ہوتی ہے اس میں بائیو ایکٹیو اجزاءکی بھی ایک وسیع رینج شامل ہے جن میں کیمپفیرول گلوکورونائیڈ، گیلک ایسڈ، پروٹوکیچوک ایسڈ، کومرک ایسڈ، کیفیک ایسڈ، ٹیرپینز، گلوکوزینولیٹس شامل ہیں کریس سیڈ اینٹی آکسیڈینٹ، تھرموجینک، ڈیپریوٹیو، چشم، اینٹی اسکاربیوٹک، اینٹی اینیمک سمیت متعددخصوصیات کے حامل ہیںگارڈن کریس غذائیت سے بھرپور پودا ہے جس میں میکرو اور مائیکرو نیوٹرینٹس دونوں کی نمایاں مقدار ہوتی ہے۔ اس کے بیجوں میں اچھی کوالٹی کی پروٹین اور ضروری فیٹی ایسڈز ہوتے ہیں جبکہ پتوں میں کیلشیم، آئرن، میگنیشیم اور زنک جیسے معدنیات ہوتے ہیں گارڈن کریس کا تعلق Cruciferae یا Brassicaceae خاندان سے ہے اور اس کے تمام حصے استعمال کیئے جاتے ہیں- اس کی جڑکا قہوہ کھانسی اور سانس کی امراض کے لیے مفید ماناجاتا ہے‘خون کی کمی کا شکار لوگوں کے لیے اس کے بیج معجزاتی اثررکھتے ہیں ‘آدھا چائے کاچمچ بیج شیشے یا مٹی کے برتن میں ایک گلاس پانی ڈال کے بھگو دیں ایک سے دو گھنٹوں کے بعد کسی شربت یا ویسے ہی پانی کے ساتھ پی جائیں (خشک بیج نگلنے سے گریزکریں کیونکہ یہ بہت کم وقت میں بہت زیادہ پانی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے انہیں خشک نگلنے سے اجتناب کرنا چاہیے)کریس سیڈ استعمال کرتے ہوئے پانی زیادہ پئیں‘چائے‘کافی‘لسی وغیرہ میں شامل کرکے نہ پیئیں ‘کریس سیڈ میں پروٹین بھی بہت زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہے اس لیے جو لوگ گوشت کھانا افورڈ نہیں کرتے یا طبی وجوہات کی بنا پر نہیں کھا سکتے وہ کریس سیڈ سے پروٹین حاصل کرسکتے ہیں‘عالمی اداروں نے اب تک جو تحقیق کی ہے کریس سیڈ میں پائی جانے والی پروٹین کا مرکب انتہائی منفردہے اس میں گوشت ‘مچھلی اور خشک میوہ جات میں پائی جانی مختلف پروٹینز کا مرکب ایک ہی بیج کے اندر موجود ہے اسی لیے دل ‘بینائی‘جگر‘کیلسٹرول کے امراض میں مفید ہے کریس سیڈ پر دنیا کے بے شمار اداروں نے تحقیق کی ہے اور کئی جاری رکھے ہوئے ہیں اگر اب تک سامنے آنے والے حقائق پر بات کی جائے تو کئی کتابوں کا مواد بن جائے گا-طب کی دنیا میں اسے سپرفوڈ قراردیا جارہا ہے اس میں موجود پروٹین کا مواد پٹھوں کی نشوونما اور ٹشو کی مرمت کے لیے بھی مفید ہے اس میں موجود(24.2) پروٹین، (30.7)کاربوہائیڈریٹ، (11.9) فائبر سے اس کی غذائی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے گارڈن کریس وٹامن سی ‘ ascorbic ایسڈ ‘کیلشیم، میگنیشیم‘پوٹاشیم ‘فاسفورس اور آئرن کا بھی اچھا ذریعہ ہے‘تحقیق میں پایا گیا ہے کہ اس میں پالک سے زیادہ مقدار میں آئرن اور کیلے سے زیادہ پوٹاشیم پایا گیا ہے‘بیج میں پایا جانے والا تیل دماغ اور یادداشت کے لیے مددگار ہے ماہرین کریس سیڈ میں موجود غذائی اجزاءکی بنا پر اسے سونے کی کان کہتے ہیں -کریس سیڈ پر ہونے والی تحقیق کے حوالے سے آپ آن ریسرچ پیپرزسے استفادہ کرسکتے ہیں‘دو‘تین سو روپے کے بیج ایک فرد کے مہینے بھر کے استعمال کے لیے کافی ہیں)

20/11/2025
قدیم طبی کتابوں میں نیم کی زبردست اہمیت بتاتے ہوئے اسے شفا سے بھرپور ایک دواخانہ قرار دیا گیا ہے جب کہ ماہرین کے مطابق ی...
20/11/2025

قدیم طبی کتابوں میں نیم کی زبردست اہمیت بتاتے ہوئے اسے شفا سے بھرپور ایک دواخانہ قرار دیا گیا ہے جب کہ ماہرین کے مطابق یہ منہ کی بدبو دور کرنے کے ساتھ ساتھ زخموں کو جراثیم سے پاک کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

٭ زخم مندمل کرے

نیم کے پتوں کا پیسٹ زخم کے جراثیم اور انفیکشن فوری طور پر ختم کرتا ہے۔ اسی بنا پراسے زخم مندمل (بھرنے) کرنے والی جادوئی دوا کہتے ہیں۔ نیم کے تازہ پتوں کو پیس کر پانی ملائیں اور اس کا ایک پیسٹ بنا لیں اور اسے زخم پر لگائیں، یہ نہ صرف زخم کو جلدی بھرے گا بلکہ جادوئی انداز میں جراثیم کا خاتمہ بھی کر دے گا۔

٭ جلد کی حفاظت

نیم کو جلد کا ٹونر کہا جاسکتا ہے، اس کی مدد سے پھوڑے پھنسیاں، مہاسے، سیاہ کیلیں اور دھبے دور کیے جاسکتے ہیں، اس کے پتوں سے نکالا گیا رس کئی طرح کے جلدی امراض کو دور کرسکتا ہے کیونکہ اس میں بیکٹیریا کے خلاف لڑنے والے اجزا پائے جاتے ہیں۔

٭ جلد کی نمی

نیم کے پتے جلد کو نمی فراہم کرنے اور فنگس سے بچانے کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔ نیم وزن گھٹائے نیم کے پھولوں کا رس وزن کم کرنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔

٭ میٹابولزم

نیم کے پھولوں کا رس جسمانی استحالہ (میٹابولزم) کو تیز کرتا ہے اور چربی گھلاتا ہے، پھولوں کے رس کو لیموں یا شہد کے ساتھ ملا کر پینے سے فوری نتائج ملتے ہیں۔ بالوں کی حفاظت نیم بالوں کی جوؤں کا سخت دشمن ہے اور جراثیم پیدا نہیں ہونے دیتا۔

٭ سر کی خشکی

اس کے علاوہ سر کی خشکی دور کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ منہ کی صحت نیم کی مسواک منہ کے لیے بہت مفید ہے۔

٭ منہ کی بیماریاں

ایک جانب تو یہ منہ میں موجود جراثیم اور بیکٹیریا کا خاتمہ کرتی ہے تو دوسری جانب لعاب میں الکلائن کی سطح کو برقرار رکھتی ہے۔ نیم دانتوں کو اجلا بناتا ہے اور مسوڑھوں کو انفیکشن سے بچاتا ہے۔ منہ کے زخم اور بدبو کو بھی ختم کرتا ہے۔

Address

Chandani Choke Main Bazaar Kharian
Kharian

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923338415760

Website

https://www.instagram.com/pakistaniduwa?igsh=MXJjc2luM3lyOXFkZA%3D%3D

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistani Dawakhana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Pakistani Dawakhana:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram