Ali HealthCare Clinic

Ali HealthCare Clinic A Model and Excellent Centre Of Treatment Of Severe Diseases. Like Hemorrhoid,(Piles)Gastritis,Joints Pain, Sexua Weakness,Leucorrhoea,Hair Fall Etc

A model and excellent centre for treatment of Severe Diseases like Hemorrhoid(Piles) Gastritis,Joints Pain,Sexual Weakness,Leucorrhoea,Male & Female Infertility.

12/10/2017

مشت زنی کے نقصان
حالیہ عرصے میں کئی سروے رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں فحش فلمیں دیکھنے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اس قبیح لت کے جہاں کئی اور نقصانات ہیں وہیں اب ماہرین نے ایک ایسے نقصان کا انکشاف کر دیا ہے کہ اس لت میں پڑے لوگ ہمیشہ کے لیے اس سے تائب ہو جائیں گے۔ ”فحش فلمیں دیکھنے سے مردانہ قوت شدید متاثر ہوتی ہے اور فحش مواد دیکھنے والا ہر دس میں سے ایک نوجوان اس مرض کا شکار ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ لت مردوں کو ازدواجی تعلق سے بے نیاز کر دیتی ہے اور بیوی میں ان کی دلچسپی باقی نہیں رہتی جس سے ان کی ازدواجی زندگی ختم ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
”اس وقت انٹرنیٹ پر فحش موادکی بھرمار کے باعث اس تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کے اس لت میں مبتلا ہونے کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں تیزی کے ساتھ وہ جنسی مسائل سے دوچار ہو رہے ہیں۔ اس تحقیق میں اس لت میں پڑے جتنے لڑکوں سے بھی میں ملا ہوں ان میں واضح اکثریت کی عمریں 13سے 25سال کے درمیان تھیں۔ اگر کوئی 5سال تک روزانہ 15 منٹ تک فحش فلمیں دیکھتا ہے اور اس دوران خودلذتی کے عمل سے گزرتا ہے تو پانچ سال بعد وہ بالکل بے حس ہو جائے گا اور شدید مسائل سے دوچار ہو کر وہ ازدواجی تعلق کے بہت حد تک قابل نہ رہے گا۔“

علاج کے لیے ابھی رابطہ کریں.
0333 2476425
03157762818

11/10/2017

A Model and Excellent Centre Of Treatment Of Severe Diseases. Like Hemorrhoid,(Piles)Gastritis,Joints Pain, Sexua Weakness,Leucorrhoea,Hair Fall Etc

11/10/2017

ہائی بلڈ شوگرکو نارمل کر نے کے لئے نسخہ.

بلڈشوگر کو بلڈ گلوکوز ( Blood Glucose ) بھی کہتے ہیں ۔ ہمارا جسم میں گلوکوز نہ صرف کاربوہائیڈریٹس ( Carbohydrates) سے حاصل کرتا ہے بلکہ پروٹین ( Protein) اور چکنائی ( Fats ) وغیر ہ سے بھی گلوکوز جذب کرتا ہے اور اگر گلوکو ز کی مقدار ایک خاص حد سے تجاوز کر جائے تو جسم کا سارا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس لئے گلوکوز کا ہمارے جسم میں متوازن اور نارمل ہونا ازحد ضروری ہے۔
گلوکوز انتڑیوں سے براہ راست ، خون( Blood Stream ) میں داخل ہوتا ہے اور اگر خون میں اس کی مقدار زیادہ ہوجائے تو بلڈ شوگر بڑھ جاتی ہے یعنی بلڈ شوگر ایک ایسی حالت ہے جس میں خون میں گلوکوز کی زیادتی یا کمی ہو جاتی ہے۔ ہائی بلڈ شوگر کی وجہ سے بہت سے امرا ض جنم لیتے ہیں مثلاً آنکھوں کی خرابی ، گردوں کی خرابی اور جلد وغیرہ متاثر ہوتی ہے۔ ہائی بلڈ شوگر کو نارمل کرنے کے لئے ایک زبردست نسخہ درج ذیل ہے جس کے ایک ہفتے کے استعمال سے ہی شوگر کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

ہائی بلڈشوگر سے چھٹکارے کے لئے زبردست نسخہ

بڑی آلائچی : ا پائو
ترکیب اور طریقہ استعمال

ایک پائو بڑی آلائچی کو توڑ‌ کر اس کے دانے نکال لیں اور ان دانوں‌کو کسی بند ڈھکن والے جار میں رکھ لیں. اب روزانہ صبح نہار منہ سات دانے ایک گلاس تازہ پانی کے ساتھ کھائیں۔اس کا ایک ہفتے کا استعمال ہی ہائی بلڈ شوگر کو نارمل کر دے گا اور اس کے لگاتار استعمال سے شوگر جڑ سے ختم ہو جائے گی۔
شوگر کے مریضوں کو روزانہ صبح سات دن تک چائے کے قہوے کی چھوٹی پیالی پلائیں۔ سات دن کے بعد ایک دن کا ناغہ ڈال کر پئیں اور دوسرا ہفتہ پورا ہونے پر استعمال بند کر دیں۔اس کا استعمال ہائی بلڈ شوگر کو جادوئی طور پر نارمل کر دے گا۔ اس کے علاوہ روزانہ 15 منٹ یا ایک گھنٹے تک چہل قدمی کریں اس سے ایک تو آپ کا وزن بھی نارمل رہے گا اور دوسرا جسم میں انسولین کی مزاحمت کو ٹھیک کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

اسلام علیکمصبح بخیر
09/10/2017

اسلام علیکم
صبح بخیر

07/10/2017

پیٹرولیم جیلی تقریباً تمام ہی گھروں میں استعمال کی جاتی ہے۔یہ پیٹرولیم جیلی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔عام طورپراسکا استعمال موئسچرائزر کے طورپرکیاجاتاہے۔لیکن اس کے کچھ استعمال ایسے بھی ہیں جوجلد کوموئسچرائز تو رکھتے ہیں ساتھ ساتھ دیگر مسائل بھی حل کردیتے ہیں۔لیکن یاد رکھیں جب بھی ویسلین کااستعمال کریں توکوشش کریں کہ وہ کیمیکل سے پاک اورمیڈیکیٹڈ ہو۔

۱۔پکنک اورڈارک اسکن
گرمی کاموسم ہواورموسم گرماکی تعطیلات تو ایساتوممکن ہی نہیں کہ پکنک کااہتمام نہ کیاجائے۔لیکن پکنک پرجانے سے اسکن بہت ڈارک ہوجاتی ہے۔سن برن کے باعث جلد کواپنی اصلی حالت میں آنے میں کافی وقت لگ جاتاہے ۔ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے اگر آپ پکنک پرجانے سے پہلے چہرے اورہاتھوں پراچھی طرح سے ویسلین لگاکرٹشوپیپر سے خشک کرکے نارمل پاوڈرلگالیں تو اسکن ڈارک ہونے سے بچ جائے گی اورآپ جیسے پکنک پرجائیں گے ویسے ہی جلد کے ساتھ واپس آجائیں گے۔

۲۔جوئیں
بالوں میں جوئیں ہوں تو بڑی پریشانی لاحق ہوجاتی ہے۔لیکن آپ اگران سے نجات کے لئے صحیح طریقہ کاانتخاب کریں تو بغیرکچھ خرچ کئے آپ ان سے نجات پاسکتے ہیں۔اگربالوں میں ہلکی ہلکی پیٹرولیم جیلی لگاکرکنگھی کی جائے توجووں کے ساتھ ساتھ لیکھیں بھی نکل جاتی ہیں ۔بعد میں شیمپوکرنے سے ویسلین صاف ہوجاتی ہے۔

۳۔خارش
خارش ایک عام مسئلہ ہے جوگرمی ہویاسردی کسی بھی موسم میں سراٹھانے لگتاہے ۔اگر خارش مسلسل رہے اورٹھیک نہ ہوتوآپ ڈاکٹر سے تو رجوع کریں لیکن ساتھ ہی اگر آپ اس جگہ پیٹرولیم جیلی لگاکرآزمالیں تو آپ کامسئلہ حل ہوسکتاہے۔

۴۔میک اپ ریموور

میک اپ ریموو کرنے کے بہت سے پروڈکٹ ہیں لیکن اگر جلدی میں آپ کوکچھ نہ ملے تو ویسلین کی مدد سے بہترین طریقے سے میک اپ ریموو کیاجاسکتاہے۔مائلڈ اورسوفٹ ہونے کی وجہ سے پیٹرولیم جیلی محفوظ طریقے سے میک اپ صاف کرکے جلد کوموئسچرائز رکھتی ہے۔

۵۔لپ اسٹک کے داغ
لپ اسٹک کے داغ کپڑوں پرلگ جائیں تو انھیں صاف کرنامشکل ہوجاتاہے لیکن اگر ان پرپیٹرولیم جیلی لگادی جائے اورپھراسکے بعد اسے دھویاجائے تو داغ غائب ہوجاتے ہیں۔

۶۔خوشبورکھیں برقرار
عموماً پرفیوم وغیرہ کے استعمال کے کچھ دیربعد ہی خوشبوآناختم ہوجاتی ہے۔خوشبوآپ کوایک خوشگواراحساس دیتی ہے۔اگر کسی بھی پرفیوم کے استعمال سے پہلے گردن وغیرہ پرہلکی سی پیٹرولیم جیلی لگالی جائے تو اسپرے کے بعد خوشبواورآپ کاساتھ برقرار رہتاہے۔

۷۔چمکدارپالش
چمڑے کی یادیگر اشیاءکچھ عرصے کے استعمال کے بعد ماند پڑجاتی ہیں۔ان کی چمک بحال کرنے کے لئے اگر آپ ان پرکاٹن کی مدد سے پیٹرولیم جیلی لگاکرٹشویاململ کے کپڑے سے صاف کرلیں تووہ پہلے جیسی نئی ہوجاتی ہیں۔

زخم اورریشز
جب زخم لگ جائے یاریشز ہوجائیں توفوری طورپرکچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ایسی صورتحال میں اگر فوری طورپر پیٹرولیم جیلی کااستعمال کرلیاجائے زخم اورریشز کی جلن فوری ختم اوروہ جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں۔بچوں کو نیپی پہنانے سے پہلے ہلکی سی پیٹرولیم جیلی کااستعمال ا نہیں نیپی ریش سے محفوظ رکھتاہے۔

05/10/2017

اختلاج و گھبراہٹ کی وجوہات اور علاج

اختلاج اور گھبراہٹ ایک ایسا مرض ہے جس میں دل کی دھڑکنیں تیز اور بے قائدہ ہونے لگتی ہیں ۔ دل کا مقصد جسم کے مختلف اعضا میں خون کی روانی کو یقینی بنانا ہے ۔ دل میں موجود ایک الیکٹرک سسٹم دل کے پٹھوں کو اس طرح حرکت کرنے میں مدد کرتا ہے کہ خون کی ایک خاص مقدار جسم میں دوڑتی رہے ۔ اختلاج تب ہوتا ہے جب دل کے پٹھوں کی حرکت میں کسی قسم کا ردو بدل یا خرابی پیدا ہونے لگتی ہے اور دل ایک خاص رفتار سے تیز یا ہلکے دھڑکنے لگتا ہے ۔ اکثر دل کی دھڑکنوں میں تبدیلی معمولی نوعیت کی ہوتی ہے اور اس کا احساس نہیں ہو پاتا ۔ ایسی تبدیلی سے جسم یا دل کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ البتہ اگر یہ ردوبدل شدید نوعیت کا ہو تو مریض گھبراہٹ اور بے اطمینانی محسوس کرنے لگتا ہے ۔ اختلاج سینے، حلق اور گردن میں بے چینی کا سبب محسوس ہوتا ہے ۔

اختلاج کی وجوہات

*اختلاج کسی ذہنی دباؤ یا پریشانی کے باعث ہوسکتا ہے ۔

*بعض اوقات کیفین، نیکوٹین یا الکوہل کا استعمال بھی اختلاج کی وجہ بنتا ہے ۔

*حاملہ خواتین اکثر اختلاج کی شکایت کرتی ہیں ۔ جسم میں پیدامیں ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں کے باعث حمل کے دوران دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوجاتی ہیں ۔

*کبھی کبھی اختلاج اور گھبراہٹ ہونا دل میں پیدا ہونے والی کسی خرابی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے ۔اگر اس کے ساتھ ساتھ مریض کوبے ہوشی، سینے میں درد اور سانس پھولنے کی بھی شکا یت ہو تو ضرور کسی ڈاکٹر سے مشورہ کریں ۔

*شدید جسمانی مشقت کے بعد بھی دل کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں اور گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی ہے ۔

*جن امراض میں اختلاج محسوس ہوتا ہے ان میں تھائی رائیڈکا مرض، شوگر لیول کم ہونا، بخار، خون کی کمی ، بخار یا پانی کی کمی شامل ہیں ۔
*چند دوائیں گھبراہٹ اور اختلاج کا سبب بن سکتی ہیں ۔ جیسے کہ وزن کم کرنے والی ادویات، ایستھما یا امراض قلب کی دوائیں ۔
*کوئی چیز کھا کر اگر اختلاج محسوس ہونے لگے تو اس کا ممکنہ مطلب ہے کہ آپ اس کھانے کی چیز سے الرجک ہیں ۔

اختلاج کا علاج
اس کا علاج بھی اس کی وجہ پر منحصر ہے ۔ عموماًاختلاج کا ہونا کسی بڑے خطرے کی علامت نہیں ہوتا اور اکثر یہ خود ہی ٹھیک بھی ہوجا تا ہے ۔ ایسے کیس میں علاج کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اختلاج دو ر کرنے کے لیے ڈاکٹر عام طور پر مندرجہ ذیل تراکیب آزمانے کا مشورہ دیتے ہیں :

*اسٹریس اور ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ ذہن کو پر سکو ن رکھنے کے لیے کسی بھی پریشان کردینے والی با ت کے بارے میں زیادہ دیر تک نہ سوچیں۔ ذہن ہٹانے کے لیے ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ ایسے میں ہلکی پھلکی ورزش جیسے کہ یوگا یا اروما تھیراپی کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے ۔

*معدے میں تیزابیت کے باعث بھی اختلاج ہو سکتا ہے ۔ جب یہ تیزابیت حلق سے اوپر کی طرف آتی ہے تو گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں جلن دور کرنے کے لیے کوئی دوا لی جاسکتی ہے ۔

*ایسی غذائیں جنھیں کھا کر اضطرابی کیفیت محسوس ہونے لگے ان سے پرہیز کرنا چاہیے ۔

*ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو اختلاج کی شکایت ہونے پر شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا چاہیے۔

*بعض اوقات ہربل ادویات یا کھانسی اور سردی کی دواؤں سے بھی اختلاج کی شکایت ہو سکتی ہے۔ ایسا ہو تو ان سے گریز کرنا ضروری ہے ۔

اگر ان تدابیر سے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو معالج ذہنی سکون اور دل کی دھڑکن کنٹرول کرنے کی ادوایت کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں ۔

گھریلو نسخے

اختلاج دور کرنے کے لیے ان گھریلو ٹوٹکوں کو بھی آزمایا جاسکتا ہے :

کھانسی: جی ہاں!کہتے ہیں کہ جب دل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے لگیں توچند منٹوں تک زور زور سے کھانسنا اختلاج کو کم کردیتا ہے اور دل کی دھڑکنوں کو نارمل کردیتا ہے ۔

*لمبی لمبی سانسیں لینا: دل میں ہونے والے اختلاج پر قابو پانے کا یہ ایک بہترین نسخہ ہے ۔
اس سے جسم کوآکسیجن فراہم ہوتی ہے اور ذہن بھی پرسکون ہوجاتا ہے ۔

*ٹھنڈا پانی:جسم میں سیال کی کمی کی وجہ سے بھی دل کی دھڑکنیں کم یا زیادہ ہو سکتی ہیں ایسے میں اگر ایک گلاس ٹھنڈا پانی پی لیا جائے تو حالت بہتر ہو جاتی ہے ۔اس سے آپ کا اعصابی نظام بھی نارمل رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ ٹھنڈے پانی سے نہانہ بھی فائدے مند ہو سکتا ہے ۔

*اگر معدے میں جلن یا تیزابیت کی وجہ سے گھبراہٹ محسوس ہو تو تھوڑے سے دودھ میں زیادہ سا ٹھنڈا پانی ڈال کر تھوڑی تھوڑی دیر میں پئیں ۔

*میگنیشیم کی کمی دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کرسکتی ہے ۔ اس کے لیے میگنیشیم سے بھرپور غذائیں مثلاًپالک، دیگر ہری سبزیاں، بادام، کیلے، ڈارک چاکلیٹ ا ور دہی کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

03/10/2017

صحت کے 9مسائل پائوں کے مساج سے دور...

پیروں کا مساج پر سکون نیند کے لئے بہترین ہے۔ پیروںکے مساج سے پورے دن کی بھاگ دوڑ سے ہونے والی تھکن اتر جاتی ہے اور بد قسمتی سے ہم میں سے زیادہ ترافراد پاؤں کی جانب توجہ نہیں دیتے۔ ترقی یافتہ ممالک میں فٹ مساج بہت مقبول ہے۔ رات کو سونے سے پہلے اگر پاؤں کا مساج کر لیا جائے تو یہ صحت کے لئے کتنا مفید ہے آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں:

١. رات کو سونے سے پہلے اگر پاؤں کا مساج کر لیا جائے تو جسم میں خون کی روانی متاثر نہیں ہوتی آکسیجن جسم کے تمام حصوں تک پہنچ جاتی ہے۔

٢. پاؤں کا مساج پرسکون نیند کے لئے بہت ضروری ہے یہ ذہنی دبائو، بے خوابی کو دور کر کے دماغ کو پر سکون کر دیتا ہے۔

٣. زیادہ تر کھڑے ہو کر کام کرنے والے افراد یا حاملہ خواتین کے پاؤں میں سوجن ہو جانا ایک عام بات ہے۔ اگر سونے سے پہلے پاؤں کا مساج کر لیا جائے تو سوجن صبح تک ختم ہو جاتی ہے۔

٤. پاؤں کے انگوٹھوں کے دونوں جانب اگر مساج کر لیا جائے تو یہ آپکی بھوک کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہو تاہے۔

٥. اگر آپکے دانت میں تکلیف ہے تو پاؤں کی دوسری، تیسری اور چوتھی انگلیوں کے مساج سے دانت کے درد میں آرام پہنچتا ہے۔

٦. کان میں درد ہونے کی صورت میں پاؤں کی چھوٹی انگلی کا مساج فائدے مند ثابت ہوتا ہے۔

٧. دن بھر کی تھکن کے بعد رات کو پاؤں کا مساج پورے جسم کی تھکن کو کم کر کے آرام پہنچاتا ہے۔

٨. انگوٹھے کے نیچے والی جگہ کو دبایا جائے تو یہ تھارائیڈ گلینڈ کو میں آرام فراہم کرے گا ۔تھارائیڈ گلینڈ کی کارکردگی میں بہتری آنے سے آپ کے ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی۔اگر آپ مسلسل تناؤ کا شکار ہیں تو اس جگہ کو ضرور دبائیں۔

٩. اگر آپ ایڑھیوں کے درمیان والی جگہ کو دبائیں گے تو یہ جسم سے تمام زہریلے مادوں کو نکالنے میں بہت مدد دے گا۔ایسے افراد کو تمباکو نوشی کرتے ہیں انہیں اس جگہ دبانے سے کافی سکون ملتا ہے۔

03/10/2017

ٹانگوں کے درد کی شکایت ہر عمر کے لوگوں میں ہوسکتی ہے۔ یہ ہلکے درد سے شدید درد تک ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک یا دونوں ٹانگوں میں ہوسکتا ہے ۔
بعض ٹانگوں میں صرف بے چینی ہوتی ہے اور کبھی یہ درد اتنا شدید ہوتا ہے کہ چلنا پھرنا بھی محال ہوجاتا ہے۔
تھکن یا کمزوری کی وجہ سے ہونے والے درد پر گھریلو ٹوٹکوں کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے اگر یہ درد شدید ہو اور زیادہ عرصے تک رہے تو ڈاکٹر کو دکھانا نہایت ضروری ہوجاتا ہے۔
ٹانگوں کے درد کے لیے گھریلو ٹوٹکے:
1۔ٹھنڈی سکائی:
اگر ٹانگوں کا درد بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے ہوا ہے تو اس کے لیے برف کی سکائی کی جاسکتی ہے اس طرح متاثرہ جگہ سن ہوجائے گی اور سوجن اور سوزش پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
۔ برف کے ٹکڑوں کو تولیے میں لپیٹ لیں ۔
۔اس پیک کو ۱۰ سے ۱۵ منٹ کے لیے متاثرہ جگہ پر رکھیں اس دوران ٹانگ کو اوپر رکھیں۔
۔ دن میں کئی مرتبہ کریں۔
2۔مساج:
مسلز کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ہونے والے درد کے لیے مساج بہترین ہے۔ ورزش کے بعد ۱۰ منٹ کا مساج ٹانگوں کے درد میں کمی کرتا ہے۔
اس کے علاوہ مساج سے دوران خون تیز ہوتا ہے جس سے اسٹریس اور اینزائٹی میں آرام آتا ہے۔
۔ متاثرہ جگہ پر نیم گرم زیتون ، ناریل یا سرسوں کے تیل کی مالش کریں۔
۔ سخت ہاتھ سے ۱۰منٹ تک ٹانگ پر ملیں۔
۔ روزانہ دن میں ۲سے ۳ مرتبہ کریں۔
3۔ہلدی:
ہلدی اینٹی اوکسی ڈنٹ ہونے کے ساتھ درد ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
۔ ایک چمچ ہلدی کو تل کے گرم تیل میں ملا کر پیسٹ بنالیں ۔ متاثرہ جگہ پر لگا کر آہستہ آہستہ ملیں ۔ ۳۰ منٹ لگا دینے دیں پھر نیم گرم پانی سے دھولیں ۔ دن میں ۲ مرتبہ لگائیں۔
۔ گرم دودھ میں ہلدی ملا کر دن میں ایک یا دو مرتبہ پئیں۔
4۔سیب کا سرکہ:
ٹانگوں کے درد خاص طور پر جوڑوں کے درد میں سیب کا سرکہ بہت مفید ہے ۔ اس میں موجود الکلائن خون میں شامل یورک ایسڈ کے کرسٹلز کو ختم کرتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم ، کیلشیم اور دوسرے منرلز درد اور سوزش میں آرام پہنچاتے ہیں۔
ْ۔ سیب کا کچا سرکہ ایک دو کپ نیم گرم پانی کے باتھ ٹب میں ڈالیں۔ جس ٹانگ میں درد ہواسے ۳۰ منٹ تک اس میں ڈبو کر رکھیں کچھ دنوں تک روزانہ روزانہ کریں ۔
۔ایک سے دو چمچ سیب کا سرکہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں شامل کریں تھوڑا سا شہد بھی ملا لیں روزانہ دن میں دو مرتبہ پیئں ۔
5۔اپسم سالٹ:
اپسم سالٹ میں میگنیشئم اور ایک اہم الیکٹرولائٹ موجود ہے جو نروز کے سگنلز کو درست کرتا ہے،یہ درد میںکمی کرکے پٹھوں کوسکون پہنچاتا ہے اور سوجن اور سوزش کو کم کرتا ہے۔
۔گرم پانی کے باتھ ٹب میں آدھا کپ اپسم سالٹ ڈال کر اچھی طرح ملائیں۔
۔اس پانی میں ۱۵ منٹ تک اپنی ٹانگ بھگو کر رکھیں۔
۔ہفتے میں دو یا تین مرتبہ کریں۔
6۔وٹامن ڈی:
اکثر لوگوں کو ٹانگوں میں دردوٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔درد کو کم کرنے کے لئے روزانہ صبح ۱۰ سے ۱۵ منٹ کے لئے دھوپ میں بیٹھیں۔دھوپ کی مدد سے آپ کا جسم وٹامن ڈی بنائے گا۔اس کے علاوہ وٹامن ڈی سے بھرپور غذائیں بھی اپنی خوراک میں شامل کریں اس میں سالمن اور سرڈائن مچھلی ،فورٹیفائڈ دودھ، کینو کا رس اورسیریلز شامل ہیں ۔ڈاکٹر کے مشورے سے وٹامن ڈی سپلیمنٹ بھی لیا جا سکتا ہے۔
7۔پوٹاشیئم:
پوٹاشیئم کی کمی بھی درد کا باعث بنتی ہے نروز اورمسلز کی کارکردگی کے لئے پوٹاشیئم اہم ہے۔یہ پانی کی کمی کو بھی دور کرتا ہے ۔ٹانگ کے درد کو دور کرنے کے لئے پو ٹاشیئم سے بھرپور غذائوں میں بیکڈ آلو،شکرقندی،کیلا ،آلو بخارا،کشمش اور ٹماٹر شامل ہیں

02/10/2017

نیم میں چھپا کئی مسائل کا حل

قدرت کے بیش بہا تحائف میں سے ایک تحفہ نیم کا درخت بھی ہے، جس کا ایک ایک ذرّہ ہمارے لیے فوائد کا حامل ہے۔ خواہ وہ اس کے پھل ہوں، پتّے ہوں یا ڈالیاں۔ نیم اینٹی بیکٹیریل ہے اس میں وٹامن سی ہونے کی وجہ سے یہ جلدی امراض میں بھی نہایت مفید ہے۔یہ قدرت کی نعمتوں میں سے ایک ایسی نعمت ہے جس میں صرف فائدے ہی فائدے ہیں نقصان کوئی نہیں۔ درج ذیل مضمون میں ہم آپ کو ایسے ہی کچھ فائدے بتا رہے ہیں ۔

۱۔نیم چہرے کے داغ دھبے اور دانوں کو ختم کرنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ نیم کے چند خشک پتوں کو پیس کر سفوف کی شکل دیدیں، پھر اس میں عرق گلاب یا پانی ملا کر اپنے چہرے پر لگائیں اور چند منٹ کے بعد ٹھنڈے پانی سے دھو لیں۔ یہ ہر قسم کے کیل مہاسوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

۲۔ ایک لیٹر پانی میں نیم کے مٹھی بھر پتے ڈال کر اُبال لیں۔ جب پانی ہراہوجائے تو اسے چھان کر کسی بوتل میں رکھ لیں اور سونے سے پہلے اس سے ٹونر کی طرح چہرہ صاف کریں تو کچھ ہی عرصے میں بلیک ہیڈز، وائٹ ہیڈز، داغ دھبے چھائیاں اور سیاہ حلقے ختم ہوجائیں گے۔

۳۔بازار میں نیم کا تیل بھی دست یاب ہے۔ اسے روزانہ رات کو اپنے چہرے پر لگائیں اور صبح ٹھنڈے پانی سے منہ دھولیں تو جلد ہی اس کے مثبت نتائج دیکھیں گی۔اگر ناخنوں میں فنگس انفیکشن ہوتوچند قطرے نیم کے تیل سے ناخنوں کی مالش کریں اس سے انفیکشن ختم ہوجائے گا۔

۴۔اگر آپ کی جلد بہت حساس ہے اور بلیک ہیڈز آسانی سے ختم نہیں ہورہے تو نیم کے تیل کے دو تین قطرے پانی میں حل کرکے بلیک ہیڈز پر لگائیں، روزانہ کے استعمال سے بلیک ہیڈز جھڑ جائیں اور دوبارہ نہیں ہوں گے۔

۵۔ نیم ہمارے جسمانی امراض کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ روزانہ نیم کی ایک نبولی پانی کے ساتھ کھانے سے جوڑوں کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ اسے چوسنے سے خون صاف ہونے کے علاوہ قبض بھی دور ہوتی ہے۔

۶۔اگر مسوڑھوں میں انفیکشن ہو تو نیم کے ابلے ہوئے پانی سے کلّیاں کرنے سے بہت افاقہ ہوتا ہے۔


۷۔ اگر بال بہت زیادہ جھڑتے ہوں اور خشکی بھی ہوتو شیمپوکرنے کے بعد نیم کا ابلا ہوا ٹھنڈا پانی آخر میں بالوں میں ڈال لیں۔یہ پانی بالوں کی جڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔آپ اپنے بالوں کے لیے جو بھی تیل استعمال کرتے ہوں اس میں تھوڑا سا نیم کا تیل ملاکر سر کی مالش کریں ، اس سے آپ کے بال تیزی سے بڑھیں گے۔

۸۔بعض لوگوں کو گرمی دانے بہت زیادہ نکلتے ہیں اور انھیں خارش بھی بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ ان کے دانوں میں تھوڑی تھوڑی پیپ بھی پڑ جاتی ہے۔ اس کے لیے نیم کے پتے249 پودینے کے پتے اور سونف ہم وزن لے کر گرم پانی میں ڈال دیں جب وہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس میں سفیدے کے پتے شامل کریں۔ نہانے کے بعد ململ کا کپڑا اس مکسچر میں بھگو کر گرمی دانوں پر لگانے سے آرام آجائے گا۔

۹۔ چہرے کی رونق نکھارنے اورچہرہ پُررونق بنانے کے لیے نیم کے پتّے دھوکر سُکھالیں پھر اس کا پیس کرپاؤڈر بنالیں۔پھر اِس پاؤڈر میں گلاب کی پتیوں کا پاؤڈر، دہی اور تھوڑا سا دودھ شامل کرکے پیسٹ بنالیں۔اس پیسٹ کو چہرے پر لگانے کے پندرہ منٹ بعد پانی سے دھولیں۔

۱۰۔خون کی صفائی کے لیے 8 سے 10 عدد نیم کے تازہ پتے، 2 سے 3 چمچ گْڑ اور 8 سے 10 عدد کالی مرچیں لے کر اِس حد تک پیس لیں کہ یہ تمام چیزیں یکجان ہوجائیں۔ اب اس میں گوند کیکر ڈال کر کو پانی بھگو لیں۔ اس کے بعد اس مکسچر کی چنے کی دال کے برابر گولیاں بنالیں اور یہ گولیاں گرمیوں سے قبل نہار منہ دودھ کے ساتھ کھائیں۔بچوں کو آدھی گولی دیں جبکہ بڑے پوری گولی کھائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ پوری گرمیاں گزر جائیں گی لیکن آپ کو گرمیوں کی بیماریاں نہیں ہوں گی جس میں گرمی دانے بھی شامل ہیں۔

۱۱۔ تازہ پتوں کو پیس کر لیپ بنالیں، آگ کے جلے ہوئے پر یہ لیپ کرنے سے انفیکشن نہیں ہوتا اور کوئی بھی زخم ہو چاہے وہ معمولی ہو یا خطرناک ا اس زخم پر اگر نیم کا تیل لگایا جائے تو یہ زخم جلدہی بھرجاتا ہے۔

۱۲۔نیم کے درخت پر تا زہ اُگنے والے ننھے پتوں کو کھانے سے نہ صرف چیچک بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خسرہ بھی نجا ت پائی جا سکتی ہے۔

۱۳۔نیم کے پتوں میں ایسے قدرتی اجزا پا ئے جا تے ہیں جو جسم کے اندر داخل ہو کر خون اور جگر کو صاف کرنے کے ساتھ خارش اور کھجلی کو بھی ختم کرتے ہیں۔

Address

Dist Gujrat Teh Kharian
Kharian
75080

Telephone

03332476425

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali HealthCare Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ali HealthCare Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category