حکیم میاں عمرفاروق درگاہی

حکیم میاں عمرفاروق درگاہی حکیم میاں عمر فاروق درگاہی بن حکیم محمد فاروق حسن صدیقی بن حکیم میاں غلام رسول درگاہی
کوالیفائد اینڈ سرٹیفائد ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب

حکیم میاں عمر فاروق درگاہی بن حکیم محمد فاروق حسن صدیقی درگاہی بن حکیم میاں غلام رسول درگاہی بن حافظ محمود درگاہی
کوالیفائد اینڈ سرٹیفائد ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات
فیضان مدینہ دواخانہ گنجہ ضلح گجرات
درگاہی دواخانہ بیگہ مہروج پور تخصیل کھاریاں ضلح گجرات
0302-8510458

19/12/2022
27/08/2022

*جلدی امراض ان کے اسباب کیا ہیں ؟*
ان کے علاج پر بات کرتے ہیں Scabies *خارش ۔*

جدید طب میں

جراثیم کے باعث پیدا ہوتی ہے ۔ اس جراثیم کو سبارکوپٹس سکے بیائ کہتے ہیں

*اسباب*

یہ مرض چھوت دار ہے۔ جس میں شدت کی خارش ہوتی ہے اور سوزش ہو کر جا بجا پھنسیاں اور چھالے پیدا ہوجاتے ہے۔ گندے پانی میں نہانی، میلاکچیلا رہنا، عورتوں میں حیض کی خرابی اور ذیابیطس اس کے اسباب ہیں۔ خون کی خرابی۔

*علامات*

جسم میں شدید خارش ہونا
پھنسیاں نکلیں گی
جسم میں بدبو آنا
ہاتھوں کے اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خارش اور سوزش پیدا ہوتی ہیں

*علاج*

خون کو صاف کرنے کے لیے دوائی کی ضرورت ہوتی ہے
گرم پانی میں غسل کرنے کے لیے خاص طور پر انتظام کیا جائے
ج**ع سے پرہیز کریں۔ اور حجامہ کروانے سے مزید فائدہ حاصل کریں۔

ہلیلہ، بلیلہ ، آملہ، کے صرف پوست گندھک آملہ سار مصفی
سب ہم وزن لے کر سفوف بنا لیں
پانی کے ساتھ 3 گرام د یں 12 دن۔

گندھک آملہ سار اور کافور ہم وزن لے کر سفوف بنا لیں سرسوں کے تیل میں ملا کر ایک مرتبہ جسم پر لگائیں

بعد میں یہ دے
برگ سنامکی۔ برگ حنا ۔ برگ جل نیم ۔ اور فلفل سیاہ
ہم وزن لے کر سفوف بنا لیں۔ 3 ٹائم پانی کے ساتھ لیں۔
حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
فاضل طب والجراحت کوالیفائیڈ اینڈ سرٹیفائیڈ ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات
+923028510458

18/01/2022

*بے پناہ امساک ٹائمنگ کا طوفان*
*ذکاوتِ حس اور سرعتِ انزال کا حتمی علاج*
نفس کوسختی و طاقت دیتی ہے
اور ٹائمنگ میں اضافہ کرتی ہے
جوانی کے ولولے کو واپس لوٹا دینے
گرمی سردی ھر موسم میں شاندار رزلٹ بغیر کسی مضر اثرات کے ۔ Whastapp 0302-8510458۔۔
حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
فاضل طب والجراحت کوالیفائیڈ اینڈ سرٹیفائیڈ ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات
www.fmdawakhana.com Whastapp 0302-8510458

10/08/2021

*ٹھنڈا پانی پینے کے آٹھ نقصانات*

گرمیوں میں ٹھنڈا یخ پانی پینااکثریت کی خواہش ہوتی ہے۔اگر یوں کہاجائے کہ کچھ لوگ تو سردیوں میں بھی ٹھنڈاپانی پینابند نہیں کرتے تو غلط نہیں ہوگا۔ ٹھنڈا پانی پینے کے نقصانات اگر آپ جوانی میں نظر نہیں آئیں تو بڑھاپے میں آپ کا اس سے بچنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے۔

برف کا ٹھنڈا یخ پانی کسی بھی انسان کوبیماری کے سوا کچھ نہیں دے سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے نقصانات سے بچنے کے لئے اس سے اجتناب برتیں اورصحت کوبرقرار رکھیں۔

*نظام ہاضمہ کی خرابی*

ٹھنڈا پانی نظام ہضم کی خرابی کاسبب بنتاہے۔وقت کے ساتھ ساتھ معدہ کے مسائل زیادہ بڑھتے جارہے ہیں اسکی وجہ کچھ اورنہیں بلکہ ہماری بڑھتی ہوئی خواہشات اوربگڑی ہوئی عادات ہیں۔ٹھنڈا پانی اوریخ ٹھنڈے مشروبات ہاضمہ کی خرابی میں اہم کردار اداکرتے ہیں۔

*وزن میں اضافہ*

ٹھنڈایخ پانی جسم کے درجہ حرارت کوکم کردیتاہے جسکے باعث کیلوریز برن نہیں ہوپاتی اوروزن میں اضافہ ہوتاجاتاہے۔ٹھنڈے پانی کی بدولت فیٹ آپکے جسم میں اپنی جگہ مضبوط بنا لیتا ہے جس کے باعث اسے ختم کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔

*قبض*

سادہ پانی نظام ہضم کودرست رکھنے میں معاون ثابت ہوتاہے جبکہ ٹھنڈ اپانی قبض کاسبب بنتاہے۔ٹھنڈے پانی کی بدولت کھانے کاآنتوں سے گزرنے کاعمل متاثرہوتا ہے۔جس کی وجہ سے قبض کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

*گلے کے مسائل*

گلے کی خرابی اورگلے کے بڑھتے ہوئے مسائل کاسبب بنتاہے۔آواز میں بھداپن عمر سے پہلے آواز میں تبدیلی کاباعث بنتاہے۔سادہ پانی آپ کوگلے کی تکلیف سے بچاتاہے۔

*تیزابیت کاسبب*

ٹھنڈے پانی کے استعمال سے آپ کووقتی سکون توملتاہے لیکن یہ جسم میں کئی مسائل کاسبب بنتاہے جن میں سے ایک تیزابیت بھی ہے۔معدہ میں خرابی دیگر بیماریوں کادروازہ کھول دیتی ہے۔

*دل کے مسائل*

یہ دل پراضافی بوجھ کاسبب ہے کیونکہ ٹھنڈا پانی پینے سے دل کی دھڑکن کم ہوسکتی ہے۔ ٹھنڈے پانی کے استعمال سے جسم کادرجہ حرار ت نیچے آجاتاہے تواسے واپس نارمل ہونے میں وقت لگتاہے۔

*بالوں کے مسائل*

بالوں پر ٹھنڈے پانی کے نہایت حیران کن اثرات ہوتے ہیں۔بالوں کاگرنا،وقت سے پہلے سفید ہونا ٹھنڈے پانی کے باعث بھی ہوتاہے۔یہ پورے جسم کے ساتھ ساتھ بالوں کوبھی متاثرکرتاہے۔

*جوڑوں کا درد*

جوڑوں کے درد کی بڑی وجہ ٹھنڈاپانی ہوتاہے۔ٹھنڈے پانی کی وجہ سے جسم کانظام متاثرہوتاہے۔ہڈیوں کے لئے ٹھنڈک نقصان دہ ثابت ہوتی ہے جسکے باعث جوڑوں کے درد کی شکایت ہوسکتی ہے

حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
کوالیفائیڈ اینڈ سرٹیفائیڈ ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات

09/08/2021

*آڑو کے طبی فوائد*

آڑو کو عربی میں خوخ، فارسی میں شفتالو، سندھی میں شفتالو اور انگریزی میں Peach کہا جاتا ہے۔ آڑو کی دو اقسام ہوتی ہیں۔ ایک چپٹا اور دوسرا لمبا گول مخروطی شکل کا۔ اس کا رنگ سبز قدرے سرخی مائل ہوتا ہے جبکہ اس کا ذائقہ شیریں اور مزاج سرد اور تر دوسرے درجے میں ہوتا ہے۔
اس کی مقدار خوراک سات دانہ تک ہے۔ اس کے حسب ذیل فوائد ہیں۔
آڑو کے اجزا میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، وٹامن اے اور سی، کیلشیم، فولاد اور فاسفورس شامل ہیں۔
مقوی معدہ اور جگر ہے۔
خون کے جوش کو کم کرتا ہے۔
پیاس کو تسکین دیتا ہے۔
ذیابیطس میں مفید ہے۔
آڑو صفراوی بخار میں مفید ہے۔
اس کی گٹھلی کا روغن بواسیر، کان کے درد اور بہرے پن میں مفید ہے۔ کان درد کی صورت میں صرف دو قطرے مذکورہ روغن کے کافی ہیں۔
پیٹ کے کیڑے ختم کرنے کیلئے اس کے پتوں کو رگڑ کر، چھان کر پلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
آڑو کا رس دانتوں پر ملنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔
آڑو کے استعمال سے گرمی کا بخار ٹھیک ہو جاتا ہے۔
آڑو ہرنیا کے ابتدائی مرض میں بے حد مفید ہے۔ دو تولہ آڑو کے پتے پانی میں جوش دے کر دو تولہ شہد ملا کر دن میں تین بار پینے سے ہرنیا وہیں رک سکتا ہے۔
منہ کی بدبو کو دور کرتا ہے۔
آڑو مصفی خون، مقوی معدہ، مقوی جگر اور مقوی طحال ہوتا ہے۔
آڑو کے گودے کی چٹنی بھی بنائی جاتی ہے جو بے حد لذیذ ہوتی ہے۔
آڑو کے اڑھائی پتے اور ایک کالی مرچ کو رگڑ کر پینے سے پرانے سے پرانا بخار بھی دور ہو سکتا ہے۔
آڑو گرم اور بلغمی مزاج والوں کیلئے بالخصوص مفید ہے۔
آڑو کے پتے تین تولہ اور پانی ڈھائی تولہ رگڑ کر اس شخص کو پلانے سے جسے سانپ چاند کے چاند یا پھر پورے سال بعد کاٹتا ہو اس عذاب سے نجات دلانے میں مفید ہے۔
دماغ کی گرمی کو دور کرتا ہے۔ اس میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھل ہمیشہ پکا ہوا اور تازہ کھانا چاہیے۔ سرد مزاج والوں کیلئے یہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
بعض اوقات اس سے فالج، لقوہ، رعشہ اور اعصابی کمزوری کا احتمال ہوتا لہٰذا سرد مزاج والے اسے احتیاط سے استعمال کریں۔

حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
فاضل طب والجراحت کوالیفائیڈ اینڈ سرٹیفائیڈ ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات

07/08/2021

*وہ بہترین غذائیں جو توند کی چربی جلد گھٹانے کے لیے انتہائی موثر*

کیا پیٹ اور کمر کے بڑھتی چربی یا آسان الفاظ میں توند سے نجات میں مشکل کا سامنا ہے؟ تو آپ اکیلے نہیں، دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو اس تجربے کا سامنا ہوتا ہے۔

ڈائٹنگ سے لے کر جم جانے تک متعدد طریقوں سے لوگ توند سے نجات پانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس اضافی چربی کو جلدازجلد گھلایا جاسکے۔

طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور ورزش کو معمول بنانا توند کی چربی گھٹانے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔

تاہم کچھ غذائیں بھی ایسی ہیں جن کا استعمال عادت بنانا نکلے ہوئے پیٹ کو سپاٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

جو اور گریاں:
توند کی چربی گھٹانے کا ایک موثر ذریعہ ایسے فائبر کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ہے جو کہ آسانی سے جذب ہوسکے اور یہ عام طور پر دلیہ اور سبزیوں وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ ایسی غذاﺅں میں جو کا دلیہ، گریاں قابل ذکر ہیں اور اس فائبر کا روزانہ 25 سے 35 گرام کرنا چاہئے جو کہ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس سے بھی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

کیلے:
کیلے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے والا جز ہے جبکہ اس میں موجود وٹامنز بے وقت کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔ کیلے کھانے سے میٹابولزم ریٹ بھی بڑھتا ہے جو کہ توند کی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

تربوز:
تربوز بھی ایسا پھل ہے جس میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ واٹر ویٹ سے نجات میں مدد دیتا ہے، عام طور پر ایک بالغ فرد کے جسمانی وزن کا 50 سے 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس سے زیادہ مقدار کو واٹر ویٹ کہا جاتا ہے جو کہ پیٹ پھولنے اور سوجن کا باعث بن کر لوگوں کو زیادہ موٹا دکھاتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تربوز کا شربت پینے سے جسمانی چربی گھلتی ہے جبکہ کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے۔

دہی:
پروبائیوٹک غذاﺅں میں صحت کے لیے فائدہ مند ایسے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔ کینیڈا میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب موٹاپے کے شکار افراد کو روزانہ ایک کپ دہی کھلائی گئی تو ان کی جسمانی چربی میں 3 سے 4 فیصد کمی آئی۔ محققین کا کہنا تھا کہ دہی کو روزانہ کھانا نظام ہاضمہ کو صحت مند بنا کر توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

کھیرے:
اگر آپ کو بے وقت بھوک کے دوران نمکین یا میٹھی چیزیں کھانے کی عادت ہے تو توند کی اضافی چربی سے حیران ہونے کی ضرورت نہیں، چپس کے پیکٹ کو کھولنے کی خواہش پر قابو پانے کے لیے کھیرے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کھیروں میں پانی کی زیادہ مقدار اور کیلوریز کی کمی اسے بے وقت منہ چلانے کے لیے بہترین انتخاب بناتا ہے، جبکہ اس میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھ کرتیزی سے چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔

پپیتا:
اکثر افراد کو علم نہیں مگر پپیتا موٹاپے سے نجات کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث پپیتا کھانے کی عادت پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتی ہے جبکہ بے وقت کھانے کی خواہش سے نجات ملتی ہے، اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی وزن میں کمی لاتے ہیں جو کہ توند گھلانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح یہ پھل نظام ہاضمہ بہتر کرتا ہے جو کہ توند سے نجات کے لیے بہت ضروری ہے۔

پودینہ:
کیا پیٹ پھولنے کی شکایت رہتی ہے ؟ تو پودینے کی چائے پی کر دیکھیں، پودینے کا استعمال گیس کم کرتا ہے جس سے ہاضمہے کے مسائل بہتر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ پودینے کو سونگھنا بھی بھوک کو کم کرکے بسیار خوری سے بچاتا ہے۔

گل بابونہ کی چائے:
ذہنی تناﺅ اکثر جسمانی وزن میں اضافے خصوصاً توند نکلنے کا امکان بڑھتا ہے، گل بابونہ یا Chamomile چائے جسم کو قدرتی طور پر پرسکون کرکے پیٹ پھولنے کی تکلیف کو کم کرتی ہے۔ جسم میں پانی کی مناسب مقدار توند کی چربی گھٹانے کے لیے ایک موثر طریقہ ہے جبکہ یہ چائے جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

ڈارک چاکلیٹ:
ڈارک چاکلیٹ میں کوکو کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی شرح بھی کافی زیادہ ہوتی ہے، جس سے جسمانی ورم کم ہوتا ہے جبکہ میٹھے کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاکلیٹ کھانا معمول بنانے والوں کا جسمانی وزن دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، تاہم اس میٹھی سوغات کو اعتدال میں رہ کر کھانا ہی فائدہ پہنچاتا ہے۔

دالیں:
دالوں میں پروٹین اور فائبر کافی زیادہ ہوتے ہیں جو کہ سہ پہر کو چربی والی اشیاءکھانے کی خواہش کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں، اس کے علاوہ دالوں کو کھانے سے آئرن جسم کا حصہ بنتا ہے جو کہ میٹابولزم کے افعال کو ہموار رکھتا ہے۔

ہری مرچیں:
اپنے کھانے کو ہری مرچوں سے بھردیں اور یقین کریں کہ اس عادت سے آپ بہت تیزی سے توند کی چربی گھلاسکتے ہیں، ہری مرچوں سے نہ صرف میٹابولزم بہتر ہوتا ہے بلکہ اس میں موجود اجزا بسیار خوری سے روکنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ آملیٹ یا کسی بھی غذا میں ہری مرچوں کو شامل کرکے آپ پیٹ سپاٹ کرنے کے مقصد کو جلد حاصل کرسکتے ہیں۔

بادام:
باداموں کی کچھ مقدار کو روز کھانا جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناکر موٹاپے اور توند سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ بہت تیزی سے چربی گھلاتا ہے۔ یہ گری دل کی صحت کو بہتر کرنے کے ساتھ بے وقت بھوک کو کنٹرول میں رکھتی ہے، اس میں موجود مونوسچورٹیڈ فیٹس توند گھٹانے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ چند گرام بادام کھانا بہت تیزی سے جسمانی وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سبز چائے:
اگر آپ کو سبز چائے پینا پسند ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ مشروب کمر اور پیٹ کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی توانائی بڑھانے، ہاضمہ بہتر کرنے اور چربی گھلانے کا عمل تیز کرتا ہے۔ سبز چائے پینے سے موٹاپے سے نجات کی رفتار کو تیز کیا جاسکتا ہے اور ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اسے پینے سے چند دنوں میں ڈیڑھ کلو تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
فاضل طب والجراحت کوالیفائیڈ اینڈ سرٹیفائیڈ ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات
www.fmdawakhana.com Whastapp 0302-8510458

20/03/2021

*ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟*
*ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ؟*

ﻣﺎﺩﮦ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﯽ ﺍﻗﺴﺎﻡ:

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺑﮍﯼ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮨﯿﮟ :
‏( 1 ‏) ﻣﻨﯽ ‏( 2 ‏) ﻣﺬﯼ ‏( 3 ‏) ﻭﺩﯼ

ﺍﻭﻝ : ﺗﻮ ﺗﻮﻟﯿﺪ ﺣﯿﻮﺍﻧﯽ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮧ ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﻧﺘﺸﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺩ ﮐﺮ ﻇﮩﻮﺭ ﭘﺰﯾﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﮨﻠﮑﮯ ﭘﮭﻠﮑﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﺣﺎﻟﺖ بیدﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﺳﺘﺮﺍﺣﺖ ﻣﯿﮟ ۔
ﺩﻭﻡ : ﯾﮧ ﺍﻭﻝ ﺍﻟﺬﮐﺮ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺺ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﻣﻨﯽ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﻣﻘﺪﺍﺭﻣﯿﮟ ﻧﻤﻮ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﺳﻮﺋﻢ : ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﻝ ﺍﻟﺬﮐﺮ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺺ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ،ﯾﮧ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺍﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﻣﺬﯼ ﻭ ﻭﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺿﺢ ﻓﺮﻕ
ﻣﺬﯼ ﻣﻨﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺎﺹ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﺩﯼ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺎﺹ ﮨﮯ ۔ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﺻﻮﻝ ﺫﮬﻦ ﻧﺸﯿﻦ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﻢ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺬﯼ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﻢ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻻﺯﻡ ﻣﻠﺰﻭﻡ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻘﯿﮧ ﮐﻮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ۔
ﺍﯾﮏ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﺯﺍﻟﮧ
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﻮﺟﻮﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺟﺴﻢِ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﺳﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻧﻤﻮ ﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺭﺍً ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺷﺎﯾﺪ ﺩﺱ ﭘﺮﺳﻨﭧ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﺟﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﺳﻨﺎ ﮐﺮ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﮐﮧ ﻣﺘﺼﻮﺭ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﻓﻘﻂ ﮔﺎﮌﮬﮯ ﻣﺎﺩﮦ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﻗﻄﻌﺎً ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔

ﻣﺰﯾﺪ ﻭﺿﺎﺣﺖ:
ﻧﻈﺎﻡ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺮ ﺟﺐ ﻣﺎﺩﮦ ﺳﮯﻣﻼﭖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﻧﻮﮞ ﻃﺮﻓﮧ ﺗﻮﻟﯿﺪﯼ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﻘﺎﺭﺑﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﺩﮦ ﻧﻤﻮ ﭘﺰﯾﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮨﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺟﺴﻢ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻣﺬﯼ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ، ﺍﺣﺘﻼﻡ ، ﺭﻗﺖ ﺍﻧﺰﺍﻝ ، ﺑﮯ ﺍﻭﻻﺩﯼ ، ﺑﺎنجھ ﭘﻦ ، ﻣﻘﺎﺭﺑﺖ ﻣﺘﻠﺬﺫ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ ،ﻓﺮﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺳﯿﭩﺴﻔﺎﺋﮉ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ، ﻋﻨﺎﻧﯿﺖ ‏( ﻧﺎﻣﺮﺩﯼ ‏) ، ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻭﺩﯼ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﺸﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻗﺒﻞ ﺍﻟﺒﻮﻝ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﺍﺯ ﺑﻮﻝ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﻣﺎﺩﮦ ﺫﮐﺮﯾﻦ ﻣﯿﻦ ﺍٓﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣﺎﺩﮦ ﻧﮧ ﺍٓﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﺽ ﺟﻨﻢ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ،ﺑﻮﻝ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻔﺮﺍﺵ،ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺑﻮﻝ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ،ﺑﻮﻝ ﺩﻣﻮﯼ،ﻗﻠﺖ ﺑﻮﻝ،ﺫﮐﺮ ﮐﺎ ﺳﮑﮍﻧﺎ،ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ !
ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮐﮯ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺬﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﺩﯼ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﻄﺮﯼ ﻋﻤﻞ ﺗﮭﮯ ﯾﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﮨﯽ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﮔﺮ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﺮﺗﮯ ﻧﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ۔
ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﺭﻑ
ﺟﺮﯾﺎﻥ SPERMATORRHOEA
ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﻐﻮﯼ ﻣﻌﻨﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺠﺎﻣﻌﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺑﻼ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻣﻨﯽ ' ﻣﺬﯼ ﯾﺎ ﻭﺩﯼ ﮐﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﮐﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺷﮩﻮﺍﻧﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﯾﺎ ﻗﺒﺾ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺑﻐﯿﺮ ﻗﺒﺾ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﻼ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﻋﻀﻮ ﻣﺨﺼﻮﺹ ‏( P***S ‏) ﺳﮯ ﻣﻨﯽ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﮑﺲ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺣﺎﻟﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻠﺸﯿﻢ ﺍﮔﺰﯾﻠﯿﭧ ' ﻓﺎﺳﻔﻮﺭﺱ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺒﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ' ﺿﻌﻒ ﮔﺮﺩﮦ ﯾﺎ ﺫﯾﺎﺑﯿﻄﺲ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺑﻌﺾ ﻧﯿﻢ ﺣﮑﯿﻢ ﻟﻮﮒ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﺗﺸﺨﯿﺺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺮﯾﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﻨﺪﺭﺟﮧ ﺑﺎﻻ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ -
ﯾﮩﯽ ﻣﺮﺽ ﮐﭽﮫ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺑﮩﺖ ﺗﺒﺪﻟﯽ ﺳﮯ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﻃﺒﺎﺀ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻟﯿﮑﻮﺭﯾﺎ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

ﺗﺸﺨﯿﺺ :
ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺮﺽ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ . ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺎﺩﮦِ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﮨﻢ ﺳﺒﺐ ﮨﮯ . ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﻧﺎ، ﻗﺒﺾ ﺳﮯ ﭘﺎﺧﺎﻧﮧ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﺍﻡِ ﻣﻨﯽ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﺮﺽ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺭﮔﮍ، ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺻﻨﻒ ﻧﺎﺯﮎ ﮐﻮ ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﻦ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻋﻤﻮﻣﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮﺍﻧﺰﺍﻝ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻋﻼﻣﺎﺕ
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺳﯿﺎﮦ ﺣﻠﻘﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭘﺘﻨﮕﮯ ﻭ ﭼﻨﮕﺎﮌﯾﺎﮞ ﺍﮌﺗﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻏﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﭘﭽﮑﻨﺎ ، ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﯾﺎﮞ ، ﻣﻌﺪﮦ ﮐﯽ ﺧﺮﺍﺑﯽ ، ﺗﺰﺍﺑﯿﺖِ ﻣﻌﺪﮦ، ﻧﻈﺮ ﮐﻤﺰﻭﺭ ، ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﺎ ، ﭼﮍﭼﮍﺍ ﭘﻦ ، ﺩﻣﺎﻍ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ، ﮐﻤﺮ ﺩﺭﺩ، ﺳﺴﺘﯽ، ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ، ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻧﮧ ﭼﺎﮨﻨﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﮨﯿﮟ۔

ﭘﺮﮨﯿﺰ:
ﺑﺮﮮ ﺧﯿﺎﻻﺕ ، ﮨﺎﺗﮫ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺩﻋﺎ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﯽ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ،ﮔﺮﻡ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰﮐﺮﯾﮟ ۔

جریان کو ختم اور اعصاب کو مضبوط بنائیں:

سفید موصلی
ثعلب پنجہ ایرانی
تودری سرخ
بہمن سفید
بہمن سرخ
اسگندھ ناگوری
گوند کتیرا
گوکھرو خورد
تالمکھانہ
تخم قنب
مصری ہر ایک 50-50گرام
ملا کر پیس لیں پھر صبح شام ایک چمچہ لیںجریان سرعت انزال اور منی کے پتلے

حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
فاضل طب والجراحت کوالیفائد اینڈ سرٹیفائد ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات
www.fmdawakhana.com Whastapp 0302-8510458

20/03/2021

*توند کی چربی گھٹانا بہت آسان*

پیٹ اور کمر کے ارگرد کی چربی یا توند میں کمی جسمانی وزن سے نجات کا ایک عام مقصد ہوتا ہے۔

اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع ہونے والی یہ چربی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے اور طبی سائنس کے مطابق اس کا مختلف بیماریوں جیسے ذیابیطس ٹائپ ٹو اور امراض قلب سے مضبوط تعلق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس چربی کو گھٹانا صحت اور شخصیت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
مردوں میں 40 انچ اور خواتین میں 35 انچ سے زیادہ کمر کا مطلب یہ ہے کہ توند نکل رہی ہے۔

مخصوص حکمت عملیوں کے ذریعے اس چربی کو گھلانا آسان ہوسکتا ہے اور ایسے ہی چند آسان طریقے جانیں جن کی طبی سائنس بھی حمایت کرتی ہے۔

چینی اور میٹھے مشروبات سے گریز کریں:

ایسی غذائیں جن میں چینی کو شامل کیا جاتا ہے، صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں، خاص طور پر اگر ان کا استعمال بہت زیادہ کیا جائے تو وزن بڑھنے لگتا ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چینی سے میٹابولک صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور چینی کا زیادہ استعمال پیٹ اور جگر کے ارگرد چربی کے اجتماع کا باعث بن سکتا ہے۔

کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ یہی چینی کے صحت پر منفی اثرات کا مرکزی جز ہے، یعنی پیٹ اور جگر میں چربی کا اضافہ، جو انسولین کی مزاحمت سمیت متعدد میٹابولک مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
سیال چینی یا میٹھے مشروبات اس حوالے سے بدترین سمجھے جاسکتے ہیں اور دماغ اس سے ملنے والی کیلوریز کو اس طرح رجسٹر نہیں کرتا جس طرح ٹھوس کیلوریز کو کرتا ہے، آسان الفاظ میں جب آپ میٹھے مشروبات پیتے ہیں تو زیادہ کیلوریز جزوبدن بنالیتے ہیں۔
بچوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں مشاہدہ کیا گیا تھا کہ روزانہ ایک اضافی سافٹ ڈرنک سے موٹاپے کا امکان 60 فیصد تک بڑھ گیا۔
یقیناً چینی کو مکمل طور پر چھوڑ دینا تو ممکن نہیں مگر کم از کم استعمال کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے، خاص طور پر میٹھے مشروبات کو جتنا کم ہوسکے پینا عادت بنائیں۔

زیادہ پروٹین غذا کا حصہ بنائیں:

پروٹین جسمانی وزن میں کمی کے لیے ممکنہ طور پر سب سے اہم غذائی عنصر ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ پروٹین سے غذا کی اشتہا کو 60 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے، جبکہ میٹابولزم کو زیادہ متحرک کرکے 80 سے 100 اضافی کیلوریز جلانے اور غذا کی کم مقدار کو جزوبدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔
پروٹین نہ صرف جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے بلکہ دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
پروٹین کو توند کی چربی گھٹانے کے لیے زیادہ موثر سمجھا جاتا ہے اور ایک تحقیق میں معلوم ہوا تھا کہ جو لوگ زیادہ اور بہتر پروٹین کا استعمال کرتے ہیں، ان میں توند کی چربی بھی دیگر سے بہت کم ہوتی ہے۔
ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ پروٹین کے استعمال سے خواتین میں 5 سال کے عرصے کے دوران توند میں چربی جمع ہونے کا امکان کم ہوا۔
زیادہ پروٹین والی غذائیں جیسے انڈے، مچھلی دالیں، گریاں، گوشت اور دودھ کی مصنوعات کا استعمال اس حوالے سے مدد فراہم کرسکتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹس:

(نشاستہ) کا کم استعمال نشاستہ دار غذاؤں کا کم استعمال بھی چربی گھلانے کا ایک موثر طریقہ ہے۔
اس بات کی تصدیق لاتعداد تحقیقی رپورٹس میں ہوئی ہے، جب کاربوہائیڈریٹس کا استعمال کم کیا جاتا ہے تو کھانے کی اشتہا بھی کم ہوجاتی ہے اور جسمانی وزن کم ہونے لگتا ہے۔
2 درجن کے قریب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ کم نشاستہ والی غذائیں سے کم چربی والی غذاؤں کے مقابلے میں جسمانی وزن میں 2 سے 3 گنا کمی لائی جاسکتی ہے۔ نشاستہ کا کم استعمال تیزی سے سیال وزن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے لوگوں کو فوری نتائج ملتے ہیں بلکہ ایک سے 2 دن میں وزن کرنے والی مشین میں فرق نظر آنے لگتا ہے۔ خاص طور پر ریفائن کاربوہائیڈریٹس جیسے چینی، ٹافیاں ، سفید ڈبل روٹی اور سفید چاول کا کم از کم استعمال کرنا چاہیے۔

فائبر سے بھرپور غذاؤں کا زیادہ استعمال:

غذائی فائبر کے فوائد تو متعدد طبی رپورٹس میں سامنے آچکے ہیں اور اس غذائی جز کا زیادہ استعمال جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے مگر کس قسم کی فائبر کا استعمال کریں وہ اہمیت رکھتا ہے۔
حل ہوجانے والی اور لیس دار فائبر جسمانی وزن میں کمی میں مدد دینے والی اقسام ہیں، یہ اقسام پیٹ میں ایک گاڑھے جیل جیسی شکل اختیار کرلتی ہیں اور نظام ہاضمہ میں غذا کی نقل و حرکت کو ڈرامائی حد تک سست کردیتی ہے، ان سے ہاضمے اور غذائی اجزا کے جذب ہونے کا عمل سست ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے اور کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ اضافی 14 گرام فائبر کو جزوبدن بنانا کیلوریز کی شرح میں 10 فیصد کمی لاسکتا ہے اور 4 ماہ میں 2 کلو تک وزن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ 5 سال تک جاری رہنے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ روزانہ 10 گرام حل ہوجانے والی فائبر کا استعمال توند کے ارگرد 3.7 فیصد چربی گھٹا سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فائبر نقصان دہ توند کی چربی کو گھٹانے کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوسکتی ہے۔ اس قسم کی فائبر سبزیوں، پھلوں اور دالوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں جبکہ جو میں بھی اس کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے۔

ورزش کو معمول بنائیں:

ورزش وہ بہترین ہتھیار ہے جس کی مدد سے طویل اور صحت مند زندگی کا امکان بڑھایا جاسکتا ہے جبکہ توند کی چربی کو گھلانے کے لیے بھی یہ بہت موثر ہے۔
ویٹ ٹریننگ اور کارڈیو ورزشیں پورے جسم میں چربی کو گھٹانے میں مدد دیتی ہیں جبکہ ایروبک ورزشیں جیسے چہل قدمی، جاگنگ اور تیراکی سے بھی توند کی چربی کو نمایاں حد تک گھلایا جاسکتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ورزش کو معمول بنانے سے جسمانی وزن میں کمی کے بعد لوگ توند کو نکلنے سے روک سکتے ہیں۔ ورزش سے جسمانی ورم کم ہوتا ہے، بلڈ شوگر لیول نیچے جاتا ہے اور دیگر میٹابولک مسائل بھی بہتر ہوتے ہیں۔

اپنی غذا پر نظر رکھیں:

بیشتر افراد جانتے ہیں کہ غذا صحت کے لیے بہت اہم ہے مگر بیشتر یہ نہیں جانتے کہ اچھی غذا میں کس قسم کی خوراک کو حصہ بنایا جانا چاہیے۔
ایک فرد یہ تو سوچ سکتا ہے کہ اسے زیادہ پروٹین یا کم نشاستہ دار غذا کھانی چاہیے، مگر ٹریکنگ کے بغیر غذا کو متوازن رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ غذا پر نظر رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ جو کچھ کھائیں اس کی جانچ پڑتال کریں، بس چند روز تک دیکھیں کہ آپ کی غذا کیا ہے اور اس سے یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ کیا تبدیلیاں لائی جانی چاہیے۔
پروٹین کے استعمال کی پہلے سے منصوبہ بندی کریں یعنی روزانہ 25 سے 30 فیصد کیلوریز پروٹین پر مشتمل ہو یا نقصان دہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال کم کریں۔
صلاح کیلئے اپنے ڈاکٹر و حکیم سے رجوع ہوں۔
اللہ پاک ھم سب کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور ہمیں ایک دوسرے کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کا شرف عطاء فرمائے. آمین
حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
فاضل طب والجراحت کوالیفائد اینڈ سرٹیفائد ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات
www.fmdawakhana.com Whastapp 0302-8510458

18/03/2021

درد شقیقہ آدھے سر کا درد

سر درد کی کئی اقسام ہیں جن میں ایک آدھے سر کا درد ہے جسے درد شقیقہ جبکہ جدید ایلوپیتھی اصطلاح میں مائیگرین کہتے ہیں ۔ بعض اوقات یہ پورے سر میں ہوتا ہے مگر آدھے سر میں کم اور آدھے میں زیادہ ہوتا ہے ۔ درد شقیقہ بڑی شدت سے ہوتا ہے اور مریض کو کسی کام کاج کا نہیں چھوڑتا ۔ بھنوؤں کے اوپر اور ملحقہ حصے کا درد بھی شقیقہ ہی کی ایک قسم ہے۔

قدیم طبی کتب میں مشرق وسطیٰ کے پہلی صدی کے طبیب الواطیس نے اسے درد سر کی ایک قسم قرار دیا ۔ جالینوس نے شقیقہ کا نام دیا اس وقت سے اسی نام سے معروف ہے ۔ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے ۔ آدھے سر کا درد عموماً یکایک اور اکثر صبح کے وقت طلوع آفتاب کے ساتھ شروع ہوتا ہے جوں جوں تمازت آفتاب میں اضافہ ہوتا ہے ، درد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب سورج نصف النہار پر ہوتا ہے تو درد میں شدت غیر معمولی ہوتی ہے ۔ زوال آفتاب کے ساتھ ساتھ اس میں کمی آتی جاتی ہے اور غروب آفتاب کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے ۔ اگرچہ یہ درد سر میں ہوتا ہے تاہم پورا جسم اثر پذیر ہوتا ہے ۔ شدت درد سے مریض کو سر پھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے ، آنکھوں کے سامنے چنگاریاں محسوس ہوتی ہیں اور بھنوؤں میں بھی درد ہوتا ہے ۔ دیکھا گیا ہے کہ اس کا دورہ وقفہ وقفہ سے ہوتا ہے ۔ اور بعض لوگوں میں جی متلاتا ہے اور قے آتی ہے ، کبھی تو اس کی شدت درد بھوک کی خواہش ختم کر دیتی ہے ۔ جب دورہ ختم ہو جائے یا درد ختم ہو جائے تو مریض مکمل طور پر اپنے آپ کو صحیح اور پرسکون پاتا ہے ۔

جب درد شقیقہ پرانا ہو جائے تو ذرا مشکل سے جاتا ہے ، درد سر کا مادہ عام طور پر شریانوں میں ہوتا ہے ۔ گاہے یہ مادہ میں پیدا ہوتا ہے اس مرض کی خاص علامت یہ ہے کہ شریانیں تڑپتی ہیں جس سے سخت ٹیس اٹھتی ہے اگر شریانوں کو دبا کر تڑپنے سے روکا جائے تو خون اور فضلات کے بخارات جو درد سر کا سبب بنتے ہیں شریانوں سے دماغ کی طرف نفوذ کر جاتے ہیں ۔

طب مشرقی کا معینہ اور بنیادی اصول علاج یہ ہے کہ اسباب مرض کا مداوا کیا جائے یہی وجہ ہے کہ علاج سے قبل اسباب مرض جاننا ضروری ہوتا ہے ۔ درد شقیقہ کے اسباب میں رات کو نیند سے غفلت برتنے والے کی ایک بڑی تعداد پر اس کا شکار ہوتی ہے ۔ نیند کی کمی سے دماغ اور اعصاب متاثر ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نزلہ زکام کا رہنا ، عام جسمانی کمزوری ، اور فاسد رطوبات کا بند ہونا شامل ہیں ۔ ایک خیال یہ ہے کہ اس مرض میں موروثی اثرات کو بھی دخل ہے ۔ موسم بھی اس کا ایک سبب ہو سکتا ہے ، بے خوابی سے بھی ہو جاتا ہے ۔ جدید تحقیقات کے مطابق رگوں میں تشنج کی وجہ سے وہ ایک طرف سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے دوران خون میں رکاوٹ ہوتی ہے ۔ رگیں پھول کر درد ہوتا ہے ۔

طب مشرقی میں درد شقیقہ کے علاج میں مکمل نیند اور نظام ہضم کی اصلاح کی طرف توجہ دی جاتی ہے ۔ جن حضرات کو یہ درد ہو وہ غذا کم اور زود ہضم استعمال کریں ۔ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں ، گاجریں اور ان کا جوس اس شکایت میں بہت مفید ہے ۔

بعض لوگ درد سے نجات کے لیے درد کی گولیاں یا مسکن ادویہ استعمال کر کے وقتی سکون حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ طرز علاج سراسر منفی و مضرات کا باعث ہے کیونکہ ان کے ما بعد اثرات سے متعدد مسائل جنم لیتے ہیں جن میں مریض کا ان ادویہ کا عادی بن جانا اور اعصاب کا متاثر ہونا ہے ۔
قبض کی صورت میں رات کو گلقند آفتابی دو تولے تازہ پانی سے کھا لیا کریں ۔
ذیل کا نسخہ دردشقیقہ میں مفید ثابت ہوا ہے ۔

ھواالشافی:
کنجد سفید 3 گرام ، اسطخودوس 3 گرام ، کشنیز1 گرام ، مرچ سیاہ 3 دانہ ۔
پانی یا دودھ میں پیس کر چھان کر حسب ضرورت چینی/ کھانڈ کا اضافہ کر کے طلوع آفتاب سے قبل نوش جان کریں کم از کم بیس یوم پی لیں ۔

حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
فاضل طب والجراحت کوالیفائد اینڈ سرٹیفائد ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات
www.fmdawakhana.com Whastapp 0302-8510458

18/03/2021

*بخار کی شدت میں کمی کیسے لائی جائے؟*

بخار کے دوران جسمانی درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھ جاتا ہے، یعنی 98.6 فارن ہائیٹ سے زیادہ۔

آپ بخار میں کمی لانے کے لیے کئی چیزوں کو کرسکتے ہیں جن سے اس مرض کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔

_بخار سے بچا کیسے جائے؟_:
اپنے ہاتھوں کو اکثر دھوئیں اور بچوں کو بھی اس کی عادت ڈالیں، خصوصاً کھانے سے پہلے اور ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد، اسی طرح ہجوم میں رہنے یا کسی بیمار کے قریب رہنے پر بھی ہاتھ دھوئیں، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے سفر کے بعد بھی اس عادت کو اپنائیں ـ
ناک، منہ یا آنکھوں کو بلاوجہ چھونے سے گریز کریں، کیونکہ یہ وائرسز اور بیکٹریا کے جسم میں داخلے اور انفیکشن کے اہم ذرائع بنتے ہیں۔
کھانستے ہوئے اپنے منہ کو ہاتھ سے ڈھانپ لیں جبکہ چھینک آنے پر ناک کو، بچوں کو بھی یہ سیکھائیں۔

_کمی کیسے لائیں؟_:

زیادہ پانی پینا : بخار کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے تو پانی، جوس یا سوپ وغیرہ کا استعمال کریں۔

آرام : آپ کو بخار میں کمی لانے کے لیے آرام کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جسمانی سرگرمیوں کے نتیجے میں جسمانی درجہ حرارت بھی بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

ٹھنڈا رکھیں : ہلکے کپڑے پہنیں اور سونے کے دوران اوڑھنے کے لیے چار یا ہلکے کمبل کا استعمال کریں۔

ڈاکٹر کے پاس کب جائیں؟
اگر بچے کی عمر تین ماہ سے کم ہے اور درجہ حرارت سو فارن ہائیٹ تک پہنچ جائے۔

تین سے چھ ماہ کے بچوں کا جسمانی درجہ حرارت 102 فارن ہائیٹ پر پہنچنے پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

چھ ماہ سے دو سال تک بچوں میں بھی بخار کی یہ شدت ایک دن تک برقرار رہنے پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بالغ افراد 103 فارن ہائیٹ یا اس سے زیادہ ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں یا عام بخار تین دن سے زیادہ رہے تو طبی امداد لی جانی چاہئے۔

اگر بخار کے ساتھ شدید سردرد، گلے میں سوجن، غیرمعمولی جلدی خارش، تیز روشنی سے حساسیت، گردن اکڑنا اور درد، ذہنی الجھن، مسلسل قے آنا، سانس لینے میں مشکل یا سینے میں درد اور معدے میں درد یا پیشاب کرتے ہوئے درد ہونے پر ڈاکٹر سے فوری رجوع کیا جانا چاہئے۔

حکیم میاں عمر فاروق درگاہی
فاضل طب والجراحت کوالیفائد اینڈ سرٹیفائد ہربلسٹ نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان۔
فیضان مدینہ دواخانہ کھاریاں ضلح گجرات

Address

Faizan E Madina Dawakhana Gulyana Road Kharian
Kharian

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حکیم میاں عمرفاروق درگاہی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to حکیم میاں عمرفاروق درگاہی:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram