16/03/2026
بنی اسرائیل کی ایک بدکار اور فاحشہ عورت کا واقعہ ہے،
راستے سے گزرتے ایک کنویں کی منڈیر پر اس نے ایک کتے کے بچے کو پیاس سے چکر کاٹتے دیکھا قریب تھا کہ وہ کتا پیاسا مر جاتا،
اس نے اپنے ڈوپٹے سے اپنے موزے کو باندھ کر کنویں سے پانی نکالا اور اس کتے کو پلا دیا،
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اللہ تعالی نے اسے اس عمل کی وجہ سے بخش دیا،
صحیح بخاری
دوسری عورت ایک بلی کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی،
جسے اس نے باندھ رکھا تھا، نہ اسے کچھ کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اور نہ ہی اسے آزاد کرتی تھی کہ خود کچھ کیڑے مکوڑے کھا لے، حتی کہ وہ بلی مر گئی،
رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اس عمل کی وجہ سے وہ عورت جہنم میں چلی گئی
صحیح مسلم
جب جانوروں کے ساتھ حسن سلوک اور بد سلوکی سے جنت و جہنم کے فیصلے ہو رہے ہیں تو آپ سوچیں حقوق العباد کی اہمیت کیا ہو گی،
صحابہ کرام نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! کیا جانوروں کی وجہ سے بھی ہمیں اجر و ثواب ملتا ہے؟
آپ نے فرمایا
: ’’ہر زندہ چیز کی وجہ سے اجر و ثواب ہے‘‘۔
صحیح بخاری