Dr M Saleem khara health tips

Dr M Saleem khara health tips Alternative medicine excercise nutrition therapy spiritual therapy health care conceling and consultancy , medicine consultancy ,health care cpnsultancy

OUR ALL SERVICES ACCORDING DRAP ACT 2012 & ALTERNATIVE MEDICINE AND PHARMACY SERVICES

12/02/2026
06/02/2026



میڈیکل سائینس اس بات کی تصدیق کرتی ھے کہ پیدل چلنے والے نہ صرف یہ کہ ذیابیطس ، بلڈ پریشر ، ھائی کولیسٹرول ، امراض قلب ، ...
30/01/2026

میڈیکل سائینس اس بات کی تصدیق کرتی ھے کہ پیدل چلنے والے نہ صرف یہ کہ ذیابیطس ، بلڈ پریشر ، ھائی کولیسٹرول ، امراض قلب ، ھڈیوں کی کمزوری ، فالج اور بہت سے دیگر امراض سے بچے رھتے ہیں بلکہ صحتمند اور چاک و چوبند زندگی گزارتے ہیں ۔

موجودہ دور میں تیز رفتار زندگی نے انسان کو ،، مفلوج ،، کردیا ھے ۔ اب لوگوں کا پیدل چلنا بہت کم ہو گیا ھے ۔
پروفیشنل زندگی ایسی ہو گئی ہے کہ اکثر لوگ سارا دن بیٹھے رھتے ہیں ، کہیں آنا جانا ہو تو چھوٹے چھوٹے فاصلے بھی بائیک یا گاڑیوں میں طے کرتے ہیں ۔
اس طرز زندگی کے بھیانک نتائج کسی بیماری ، خاص طور پر بڑھاپے میں نکلتے ہیں ۔

آجکل ایسے بوڑھوں کی تعداد میں مسلسل بڑھ رھی ہے جو 60 سال کی عمر کے بعد اپنی باقی زندگی وھیل چئیر پہ گزارتے ہیں ، اور آخر دم تک دوسروں کے سہارے رھتے ھیں ۔
ایسا کیوں ھے ؟
اسکی وجہ یہ ھے کہ انسانی جسم میں 50٪ مسلز اور ھڈیاں ٹانگوں میں ھوتی ھیں ۔اسی طرح 50٪ اعصاب ، اور 50٪ خون کی نالیاں بھی ٹانگوں میں ہوتی ہیں ۔
ھماری ٹانگیں گردش خون کا سب سے بڑا نیٹ ورک ھیں ۔ ھماری پنڈلیاں ھمارا دوسرا دل ھیں ۔دل صاف خون کو جسم میں پمپ کرتا ھے تو ھماری پنڈلیاں نچلے دھڑ سے ناصاف خون کو واپس دل کی طرف پمپ کرتی ہیں ۔
اس طرح جب ھم چلتے ہیں تو ھمارے جسم میں گردش خون مکمل اور تیز تر رھتی ھے ، اور جسم کے ایک ایک خلیے کو بذریعہ خون غذائیت اور آکسیجن ملتی رھتی ھے ۔ اور ھمارا جسم تندرست و توانا رھتا ھے ۔
جب ھم اپنی ٹانگوں کو حرکت نہیں دیتے تو ھم اپنے جسم کی گردش خون کو سست کر دیتے ہیں ، جب ٹانگوں کے مسلز اور اعصاب کی حرکت کم رھتی ہے تو یہ بے حس اور کمزور ہونے لگتے ہیں ، ٹانگوں کے مسلز کمزور ہوکر سکڑنے لگتے ہیں ، دل پر خون پمپ کرنے کا بوجھ اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔

اگر ھم کسی وجہ سے صرف دو ھفتے تک اپنی ٹانگوں پہ جسم کا بوجھ نہ ڈالیں ، انہیں حرکت نہ دیں تو ھماری ٹانگوں کے مسلز اور اعصاب کی کار کردگی 5٪ کم ہو جاتی ھے ۔

ھمارے جسم میں غذا کو توانائی میں تبدیل کرنے کا 70٪ عمل ھماری ٹانگیں اور پیر ہی سر انجام دیتے ہیں ۔ جب ھم اپنے پیروں اور ٹانگوں کو متحرک نہیں رکھتے تو اضافی کیلوریز ھمارے جسم میں جمع ہوتی رھتی ھیں جو کہ موٹاپے کا باعث بنتی ہیں ، کچھ لوگوں کی توند نکل آتی ھے اور موٹاپا انکیلیے وبال جان بن جاتا ھے ۔

یاد رھے کہ 50 سے ساٹھ سال کی عمر کے بعد موٹاپا کم کرنا نا ممکن ھے ، خواہ آپ فاقے کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس عمر میں پہنچ کر آپکی ٹانگوں کے کمزور مسلز آپکے بھاری بھرکم جسم کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رھتے ۔ نتیجہ آپ پہلے لاٹھی کا سہارا لیں گے اور پھر وھیل چئیر پہ آجائیں گے۔

بڑھاپے میں معذوری اور محتاجی سے بچنا ھے تو پیدل چلیں ، خواہ آپکو کانٹوں پہ چلنا پڑے۔

ٹانگوں کے مسلز کے سکڑ کر دبلا اور چھوٹے ہو جانے کے عارضے کو طبی اصطلاح میں سارکو پینیا (Sarcopenia) کہتے ہیں ۔ چالیس پچاس سال کی عمر کے بعد اسکا کوئی علاج نہیں ، آپ لاکھ خوراکیں کھائیں ، جتن کریں یہ کمی پوری ہونے والی نہیں سوائے اسکے جو مسلز بچے ہیں انکی کار کردگی بحال رکھی جائے۔
دوسرا بھیانک نتیجہ آپکی ہڈیوں کے کمزور ہوجانے کی شکل میں نکلتا ھے ، آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بوڑھے افراد جب گرتے ہیں تو انکی ران کی ہڈی یا کولہے کا جوڑ ٹوٹ جاتا ھے ، جو پھر نہیں جڑتا اور انکی باقی ساری زندگی بستر یا وھیل چئیر پہ گزرتی ہے۔
لکھنے کو اس موضوع پہ پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے ، اس تھوڑے لکھے کو ہی بہت جانیے۔
اگر آپ صحتمند رھنا چاھتے ہیں ، چالیس ، پچاس سال کی عمر کے بعد ، مفلوج کردینے والے خطرات سے بچنا چاھتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ چلیے ، اپنے جسم کا بوجھ ٹانگوں پہ ڈالیے ، اپنے پیروں کو متحرک رکھیے ۔
پیدل چلنے کا سٹینڈرڈ یہ ہے کہ اپ دس ہزار قدم روز چلیں ۔ تاکہ آپکی ٹانگوں اور پیروں کے مسلز مضبوط ، لچکدار اور طاقتور بنے رھیں ۔
چالیس سال کی عمر کے بعد آپ بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں ، اس وقت یہ مت دیکھیں کہ آپکے بال کتنے سفید ہو گئے ہیں ، چہرے اور جلد پہ کتنی جھریاں نمو دار ہو گئی ھیں بلکہ یہ دیکھیں کہ آپکی ٹانگیں اور انکے مسلز اور اعصاب کتنے کمزور ہو گئے ہیں ۔ یوں سمجھیے کہ بڑھاپا ،، ٹانگوں ،، سے شروع ہوتا ھے ۔ کمزوری ٹانگوں سے بالائی جسم میں آتی ھے ۔
زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کی عادت ڈالیں ۔ چھوٹے چھوٹے فاصلے پیدل طے کریں بائیک یا گاڑی لمبے سفر کیلیے استعمال کریں ، پیدل نہیں چلنا پسند تو سائیکل لے لیجئیے۔
اسی طرح اپنے گھر کے بزرگوں کو بستر پہ مت لیٹا رھنے دیں ، انہیں چلنے کی تحریک دیں ، سہارا دیکر چلائیں ، بیٹھ سکتے ہیں تو انہیں کھڑا کریں ، کھڑے نہیں ہو سکتے تو اٹھا کر بٹھائیں ، ٹانگوں پہ بوجھ ڈالنے کی تلقین کریں ، ٹانگوں کی ورزش کروائیں ۔
چلنے پھرنے کے قابل ھیں ، تو انہیں متحرک رکھیں ، ادھر ادھر چھوٹے چھوٹے فاصلے پیدل طے کرنے کی ترغیب دیں ۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس AI بہت جلد میڈیکل پروفیشنز میں انقلاب برپا کردے گا. اور تقریباً 30 سے 50 فیصدجابز کھا جائے گا. اس انق...
28/01/2026

آرٹیفیشل انٹیلیجنس AI بہت جلد میڈیکل پروفیشنز میں انقلاب برپا کردے گا. اور تقریباً 30 سے 50 فیصدجابز کھا جائے گا. اس انقلاب سے چھوٹی جابز یعنی ٹیکنیشن ڈسپنسر وغیرہ سب سے زیادہ متاثر ہونگے. ڈگری والے کم متاثر ہونگے. لیکن متاثر وہ ڈگری ہولڈر ہونگے جو ٹیکنالوجی میں کوئی مہارت نہیں رکھتے...
ٹیم ڈاکٹر آف فارمیسی

🐞 بیر بہوٹی(Aramia Coccinia)🔬 لاطینی / سائنسی نامMutilla occidentalis🏷️ دیگر معروف نام🕌 عربی: کاغنہ🇮🇷 فارسی: کِرمِ عروسک...
28/01/2026

🐞 بیر بہوٹی(Aramia Coccinia)

🔬 لاطینی / سائنسی نام

Mutilla occidentalis

🏷️ دیگر معروف نام

🕌 عربی: کاغنہ

🇮🇷 فارسی: کِرمِ عروسک

🇵🇰 سندھی: مینھن، وساوڑد

🧵 عوامی نام: کِرمِ مخمل، مخملی کیڑا

🌧️ تعارف و ماہیت

بیر بہوٹی ایک خوبصورت سرخ رنگ کا کیڑا 🐞 ہے جو شکل و صورت میں سرخ مخمل 🧣 کی مانند نرم، ملائم اور باریک روئیں دار ہوتا ہے۔

یہ زیادہ تر موسمِ برسات (ساون، بھادوں) 🌦️ کے آغاز میں زمین سے نکلتا ہے اور نمی والی زمین، باغات 🌱 اور کھیتوں میں پایا جاتا ہے۔

قدیم حکیموں کے نزدیک اس میں خاص حرارت اور تاثیر 🔥 پائی جاتی ہے، اسی وجہ سے اسے مخصوص امراض میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

⚖️ مزاج

گرم 🔥 و خشک 🌵 — درجہ دوم

📜 طبِ یونانی میں مقام

طبِ یونانی میں بیر بہوٹی کو ادویاتِ حیوانی 🧬 میں شمار کیا جاتا ہے۔

حکیموں کے مطابق بعض حیوانی ادویات میں ایسی قوتِ خاص ⚡ ہوتی ہے جو نباتاتی ادویات میں کم پائی جاتی ہے، اسی بنا پر بیر بہوٹی کو قوتِ باہ ❤️‍🔥 کے لیے استعمال کیا گیا۔

🧴 طریقۂ استعمال

1️⃣ بیرونی استعمال

✋ طَلا (لگانا)

🩹 ضماد (مرہم کی صورت میں)

یہ طریقہ زیادہ محفوظ ✅ سمجھا جاتا ہے اور زیادہ تر عضوِ خاص کی تقویت کے لیے کیا جاتا ہے۔

2️⃣ اندرونی استعمال

بعض اطباء محدود مقدار میں تقویتِ باہ 💪 کے لیے اندرونی استعمال بھی کراتے ہیں،

⚠️ مگر یہ صرف ماہر حکیم کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

3️⃣ چیچک میں استعمال

قدیم اطباء کے مطابق چیچک کی وہ حالت جس میں دانے اندر کی طرف دب جائیں 😷،

بیر بہوٹی انہیں ظاہر کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

🌟 نفعِ خاص

❤️‍🔥 مقویِ باہ

اعصابِ تناسل کو طاقت

سرد مزاجی میں افاقہ

کمزوریِ خاص میں مفید

✅ فوائد (تفصیل سے)

مردانہ کمزوری میں قوت بخش 💪

اعصابی کمزوری میں مفید 🧠

جنسی رغبت میں اضافہ

خون کی روانی میں تحریک (حکمی نظریہ) 🩸

❌ نقصانات

🔥 گرم مزاج افراد کے لیے مضر

زیادہ مقدار جلن اور سوزش کا سبب

بغیر اصلاح استعمال نقصان دہ

👶 بچوں کے لیے مناسب نہیں

🚫 مضر افراد

گرم مزاج

زیادہ گرمی والے علاقوں کے رہائشی ☀️

حرارت کی شکایات والے افراد

🛠️ مصلح (اصلاح کرنے والی اشیاء)

🍯 شہد

🫒 روغنِ زیتون / روغنِ بادام

🔄 بدل

🌰 مال کنگنی

💊 مقدارِ خوراک

نصف عدد ➖ سے ایک عدد ➕ تک

⚠️ صرف ماہر حکیم کے مشورے سے

👨‍👩‍👧 عمر کے لحاظ سے استعمال

👶 بچے: استعمال نہ کریں

🧑 بالغ: نصف عدد سے آغاز

👴 معمر افراد: کم مقدار + مصلح لازمی

🏺 قدیم حکیموں کا طریقہ

پرانے زمانے کے حکیم:

🍯 شہد میں ملا کر

🧴 روغنی مرہم کی صورت میں

🕰️ مخصوص ایام میں

استعمال کرواتے اور پرہیز کو لازمی سمجھتے تھے۔

🧪 جدید دور کے حکیم

بیرونی استعمال کو ترجیح ✅

اندرونی استعمال محدود ⚠️

جدید متبادل ادویات کو فوقیت

🔬 جدید تحقیق

جدید سائنس میں اس پر محدود تحقیق موجود ہے،

تاہم اعصابی تحریک 🧠⚡ اور خون کی روانی 🩸 پر اثرات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

📖 قرآن و حدیث کی روشنی

بیر بہوٹی کا براہِ راست ذکر قرآن و حدیث میں نہیں،

لیکن اسلام میں علاج اور شفا کی تلاش 🕊️ کی اجازت دی گئی ہے:

"اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کی دوا پیدا فرمائی ہ

Address

Khushab
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr M Saleem khara health tips posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr M Saleem khara health tips:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram