TOCHI Medical Laboratory

TOCHI Medical Laboratory TOCHI MEDICAL LABORATORY Offer Best Reliable Services in Diagnostic Pathology.

 خواتین میں آئرن کی کمی کیوں ہوتی ہے اور یہ کیسے دور ہوسکتی ہے؟ خواتین میں خون کی کمی اب کوئی عام بات نہ رہی کیونکہ جس ط...
26/10/2020


خواتین میں آئرن کی کمی کیوں ہوتی ہے اور یہ کیسے دور ہوسکتی ہے؟

خواتین میں خون کی کمی اب کوئی عام بات نہ رہی کیونکہ جس طرح کا ہمارا رہنا سہنا ، کھانا پینا اور روزمرہ کا لائف سٹائل بن گیا ہے اس میں کب کیسے، کس وقت آپ کا جسم کمزوری یا خون کی کمی کا شکار بن رہا ہے یہ ہمیں خود ہی معلوم نہیں ہے۔ اور پھر خواتین کے لیئے چونکہ خون انتہائی اہم ہے کہ اگر ان کے جسم میں خون نہ ہو تو بچوں کی صحت پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے اور ان کے اپنے لیئے پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔ خواتین میں بنیادی طور پر خون کی کمی یعنی اینیمیا ‘ آئرن کی کمی کے باعث ہو جاتی ہے۔ خون میں موجود لال خلیے کم ہونے کی وجہ سے ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔

ماہرینِ غذائیت کے مطابق:

'' خون میں موجود ہیموگلوبن (ریڈ بلڈ سیلز) کی کمی جسم میں آئرن کی کمی کی وجہ سے پیش آ تی ہے، پروٹین پر مشتمل ہیموگلوبن جسم کے پٹھوں میں آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے۔جسم میں وٹامنز اور منرلز کی کمی بھی آئرن کی کمی کا سبب بنتے ہیں، ہیموگلوبن بنانے کے لیے جسم کو آئرن کی بہت ضرورت ہوتی ہے، اس کی کمی کے باعث جسم میں آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے خصوصاً خواتین میں اس کی وجہ سے کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔''

آئرن کی کمی کی علامات :

آئرن کی کمی کی چند ایک وجوہات ہم بھی آپ کو بتا رہے ہیں اگر آپ کو ان میں سے کوئی ایک بھی مسئلہ خود میں دکھائی دے رہا ہے تو پہلی فرصت میں اپنےمعالج کے پاس ضرور جائیں تاکہ اپنے ساتھ اپنے بچوں کی صحت کو بھی برقرار رکھ سکیں: • آئرن کی کمی کے سبب جسم میں کمزوری، ہر وقت درد، چہرے کا رنگ اُڑ جانا، سانس کا پھولنا، چکر آنا، ہاتھوں اور پاوؤں میں سنسناہٹ محسوس ہونا، زبان میں درد یا سوجن کا آجانا، پاؤں اور ہاتھوں کا ٹھنڈا رہنا، ناخنوں کا ٹوٹنا، سر کے بالوں کا گرنا یا پتلا ہونا، سر میں درد کی شکایت رہنا، بار بار بھوک لگنا، کھانا کھانے کے بجائے کچے اناج کھانے کا دل چاہنا، ناخنوں میں پیلاہٹ آنا وغیرہ ہیں ۔

آئرن کی کمی کی وجوہات :

آئرن کی کمی کی بڑی وجہ غذا کا بہت کم استعمال کرنا، اپنی غذا میں گوشت، انڈے اور ہرے پتے والی سبزیوں کا استعما ل نہ کرنا ، معدہ خراب رہنا اور آنتوں کا صحت مند نہ ہونا بھی شامل ہے۔

آئرن کن غذائوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔۔۔ ؟

گوشت:
بھیڑ، مرغی اور گائے کے گوشت کا استعمال کیا جائے، غذا میں پھلیاں، کدو اور اس کے بیج، کشمش و دیگر خشک میوہ جات، انڈے ، مچھلی، دلیہ کا استعمال کریں۔

پھل:
وٹامن سی سے بھر پور غذائیں جو خون بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ جیسے کے مالٹے، انگور، چکوترے، اسٹرابیریز، کیوی، امرود ، اناناس، خرپوزہ، کیلا، پپیتا اور آم کھائیں۔

سبزیاں:
خواتین سبزیوں میں بروکولی ، لال اور ہری شملہ مرچ، پھول گوبھی ، ٹماٹر اور ہرے پتے والی سبزیوں کا استعمال بڑ ھا دیں۔

اس کی لوری کیلیے لفظ کہاں سے لاؤںسارے عالم کے مقدر کو جگایا جس نےجس کے جھولے پہ ملائک نے ترانے چھیڑےقیصرو قصری کے منڈیرو...
24/10/2020

اس کی لوری کیلیے لفظ کہاں سے لاؤں
سارے عالم کے مقدر کو جگایا جس نے

جس کے جھولے پہ ملائک نے ترانے چھیڑے
قیصرو قصری کے منڈیروں کو ہلایا جس نے

وہ کھلونوں سے نہیں .. شمس و قمر سے کھیلے
جس پہ سایا پرے جبریل کیا کرتے تھے

گود میں لے گزرتی تھی حلیمہ جس سمت
خار اس راہ کو خوشبو سی دیا کرتے تھے

❤ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ❤ .......

 کولیسٹرول درحقیقت ایک طرح کا لیپیڈ  (چربی) ہوتا ہے ۔یہ دو طرح کا ہوتا ہے ،لوڈینسٹی لیپوپروٹین (ایل ڈی ایل)اور ہائی ڈینس...
21/10/2020


کولیسٹرول درحقیقت ایک طرح کا لیپیڈ (چربی) ہوتا ہے ۔یہ دو طرح کا ہوتا ہے ،لوڈینسٹی لیپوپروٹین (ایل ڈی ایل)اور ہائی ڈینسٹی لیپوپروٹین (ایچ ڈی ایل)۔یہی وہ چیز ہے،جسے اچھا کو لیسٹرول اور بُرا کولیسٹرول کہتے ہیں ۔اچھے کولیسٹرول کو ایچ ڈی ایل اور برے کو ایل ڈی ایل کہا جاتا ہے۔
اچھے کا کام ہے جسم کے خلیوں کو مضبوط کرنا اور ایل ڈی ایل کے حملوں کو روکنا جبکہ بُرے کاکام ہے ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہنا کہ کوئی کام سنورنے نہ پائے۔

اگر کولیسٹرول بڑھنے لگے تو جسم پر کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی ،البتہ آنکھوں کے گرد اور کہنیوں پر دھبے سے بن جاتے ہیں ۔

خون کا نمونہ لے کر اس کا لیبارٹری میں معائنہ کیا جاتا ہے ۔اگر بہتر نتیجہ حاصل کرنا ہو تو خون کا نمونہ لینے سے آٹھ گھنٹے پہلے کچھ نہ کھایا پیا جائے۔

۔کولیسٹرول کا دل،جگر اور گردوں کی بیماریوں سے گہرا تعلق ہے ۔اس کے علاوہ بلڈ پریشر اور بالواسطہ طور پر ذیابیطس سے بھی اس کا تعلق ہے ۔چناں چہ جن افراد کا کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے یا خون میں شکر قابو میں نہ رہے تو انھیں امراضِ قلب ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

ولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے گھی ،گائے کا گوشت ،روغنی اشیاء ،بالائی ،مکھن اور پنیر سے پرہیز کریں ۔زیتون کا تیل ،مچھلی کا تیل اور خشک میوہ کم مقدارمیں کھایا جا سکتاہے۔سبزیاں ،پھل اور دالیں زیادہ سے زیادہ کھائیں ،ان سے آپ کا وزن کم ہو سکتا ہے ۔سلاد کھا کر بھی وزن کم کیا جا سکتاہے۔
کھانے کی ابتدا سلاد سے کریں۔ جب اس سے پیٹ خوب بھر جائے تو اس کے بعد کھانا کھائیں ۔کھانے میں ریشے دار غذائیں زیادہ کھایا کریں


  💢گردوں کے مریض کےخون میں یوریا کی مقدار بڑھ جانا۔💢👈 بلڈ یوریا نائٹروجن۔ BUN*گردوں کے مریض بلڈ یوریا سے واقف ہوتے ہیں۔ ...
19/10/2020


💢گردوں کے مریض کےخون میں یوریا کی مقدار بڑھ جانا۔💢

👈 بلڈ یوریا نائٹروجن۔ BUN*

گردوں کے مریض بلڈ یوریا سے واقف ہوتے ہیں۔ یعنی خون میں یوریا کی مقدار بڑھ جانا۔
خون میں یوریا کی نارمل مقدار پائی جاتی ہے اگر یہ مقدار بڑھ جائے تو گردوں کے ساتھ دیگر کئی امراض کا سبب بنتی ہے۔
👈 یوریا کیا ہے ؟؟؟؟
Metabolisیوریا دراصل پروٹین کے
کے بعد بچ جانے والا اضافی مادہ ہے۔ ھاضمے کے دوران پروٹین کو امائنوایسڈز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ امائنوایسڈز میں یوریا پایا جاتا ہے۔یوریا جگر میں ذخیرہ ہوتا ہے اور خون میں شامل ہوجاتا ہے۔ فالتو یوریا بزریعہ گردے پیشاب سے خارج ہوجاتا ہے۔ اس کی مقدار گردوں میں جانچی جاتی ہے۔ جس مقصد کیلیئے رینل فنکشن ٹیسٹ RFT
کیا جاتا ہے۔

گردوں کے کئی امراض میں بلڈ یوریا بڑھ جاتا ہے۔ نیز جن مریضوں کو ڈی ہائیڈریشن ہوئی ہو یا جن کے معدہ و امعاء میں خون چلاگیا ہو۔ یا جگر کی خرابی سے بھی بلڈ یوریا بڑھ جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ خون سے کیا جاتا ہے۔

👈 بلڈ یوریا بڑھنے کے تین اہم اسباب۔۔۔۔۔۔

💥1۔ پری رینل PRE-RENAL
اس درجہ میں ابھی گردے کے افعال میں کوئی زیادہ خرابی پیدا نہیں ہوئی ہوتی۔ گردے اپنا فعل بخوبی انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ اس درجہ میں درج زیل علامات پائی جاتی ہیں۔
💫بہت زیادہ پروٹین کھانا۔
💫پروٹین پہ کیٹابولزم کا عمل تیز ہونا
💫آنتوں اور معدہ میں خون جاری ہونا۔
💫بہت عرصے تک بخار رہنا۔
💫صدمہ
💫بہت زیادہ ورزش کرنا
💫کسی دوا کے بد اثرات وغیرہ

💥2۔ رینل RENAL
اس درجہ میں گردے پیشاب بنانے کا عمل بخوبی نہیں کرتے جس کی وجہ سے بلڈ یوریا بڑھ جاتا ہے۔

💥3۔ پوسٹ رینل POST RENAL

اس درجہ میں پہنچنے والے مریض کے گردے اس حد تک بیکار ہوچکے ہوتے ہیں کہ ان کا فعل نہایت کمزور ہوجاتا ہے۔ اور گردے خون سے یوریا کا مکمل اخراج نہیں کرپاتے۔
بلڈ یوریا کی نارمل مقدار۔۔۔۔
خون میں بلڈ یوریا کی نارمل مقدار سات تا بیس مل گرام فی ڈیسی لیٹر تک پائی جاتی ہے۔ مردوں میں بلڈ یوریا کی مقدار خواتین کی نسبت کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ نیز خواتین میں دوران حمل یوریا کی مقدار 25% تک بڑھ جاتی ہے۔ جبکہ نومولد میں یہ مقدار نارمل سے قدرے کم ہوتی ہے۔

یورک  ایسڈ...یورک ایسڈ ایک تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کا اصل کام انسانی جسم میں گرمی کو پیدا کر...
19/10/2020

یورک ایسڈ...

یورک ایسڈ ایک تیزابی مادہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس کا اصل کام انسانی جسم میں گرمی کو پیدا کرنا ہے۔
خوراکی لحاظ سے غذائیں جو جسم میں پیورین پیدا کرتی ہیں جس سے کہ یورک ایسڈ جسم میں بنتا ہے۔ جیسے کھٹی، گوشت والی اور گہری سبز سبزیاں۔ اس کے علاوہ کینسر اور جنسی اور پٹوں کی طاقت کی ادویات، گردوں میں سوزش یا /اور پتھری، بھی جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔

یورک ایسڈ پانی میں حل پذیر ہے۔ لیکن کسی بھی وجہ سے اس کی مقدار جسم میں بڑھ جائے تو جسم میں دردیں، جوڑوں خاص طور پر پاؤں، گٹھنوں، ایڑھیوں، ہاتھ اور انگلیوں کے جوڑوں، اور کہنی میں سوجن، جلن اور گرمی بڑھ جاتی ہے۔
یورک ایسڈ کے بڑھنے کی وجہ میں کھٹی اور گوشت کی خوراک زیادہ استعمال، ورزش نہ کرنا، محنت سے دل چرانا، گردوں کی کمزوری، کینسر یا کیسر کا علاج، طاقت کی ادویات کا استعمال وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے اختیاط لازم ہے۔

اس تکلیف میں گرمی ہو یا سردی زیادہ پانی پینے کا احتمام کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یورک ایسڈ پانی میں حل ہو کر نکل جاتا ہے۔
اس کی زیادہ تر دوایاں پیشاب آور اثر رکھتی ہیں۔ جن کے ساتھ پانی زیادہ پینے کی تاکید کی جاتی ہے۔ تا کہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔

انسانی جسم میں موجود خون کی نالیوں کی مجموعی لمبائی 60 ہزارمیل کے برابر ہے۔ بے شک ہمارا خالق ج  ہی بہترین مصور ہیں
14/10/2020

انسانی جسم میں موجود خون کی نالیوں کی مجموعی لمبائی 60 ہزارمیل کے برابر ہے۔ بے شک ہمارا خالق ج ہی بہترین مصور ہیں

انسانی خون کے بارے میں اہم معلومات۔اگر انسانی خون کے ایک قطرے کو خردبین سے دیکھا جائے تو اس میں بے شمار چپٹے جسیمے یا خل...
09/10/2020

انسانی خون کے بارے میں اہم معلومات۔

اگر انسانی خون کے ایک قطرے کو خردبین سے دیکھا جائے تو اس میں بے شمار چپٹے جسیمے یا خلیے ہلکے پیلے سیال مادہ میں، جسے پلازما کہتے ہیں، تیرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ 55 فیصد خون پلازما پر مشتمل ہوتا ہے۔ پلازما زیادہ تر پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں انزائمز، معدنی نمکیات اور دیگر اجزا ہوتے ہیں۔ پلازما میں سرخ اور سفید خون کے خلیے اور پلیٹلٹس ہوتے ہیں۔ سرخ خلیے انسانوں میں گول، پرندوں میں بیضوی اور حیوانوں میں مخروطی شکل کے ہوتے ہیں۔ ہاتھوں اور ٹانگوں کی لمبی ہڈیوں کے گودے میں سرخ خلیے بنتے ہیں۔ ایک صحت مند انسان کے ایک مربع انچ خون میں 55 لاکھ سرخ خلیے ہوتے ہیں۔ سرخ خلیوں میں ایک رنگ دار مادہ ہوتا ہے جو ہیموگلوبن کہلاتا ہے۔ اس رنگ دار مادے کی یہ خصوصیت ہے کہ یہ آکسیجن کو فوراً جذب اور خارج کرتا ہے۔ اسی وجہ سے سرخ خلیے پھیپھڑوں کی ہوا میں سے آکسیجن لے کر جسم کے تمام حصوں کو پہنچاتے ہیں۔ ایک ہزار سرخ خلیوں کے مقابلے میں ایک سفید خلیہ ہوتا ہے۔ مگر سفید خلیے جسامت کے اعتبار سے سرخ خلیوں سے بڑے ہوتے ہیں۔ یہ اپنی شکل تبدیل کر سکتے ہیں اور امیبا کی طرح ایک سے دو اور دو سے چار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ بیماریوں کے جراثیم اور دیگر زہریلے مادوں کو اپنے اندر ہڑپ کر جاتے ہیں۔ جب کسی بیماری کے جراثیم خون میں شامل ہو جاتے ہیں تو یہ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خون میں بیماری کے جراثیم داخل ہونے پر خون میں سفید خلیوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے۔ خون کی شریانوں کی دیواروں میں لچکدار بافتیں ہوتی ہیں۔ یہ شریانیں دوران خون میں بڑا کام کرتی ہیں۔ شریانوں میں ہر وقت خون بھرا رہتا ہے جس کی وجہ سے شریانوں کی دیواروں پر دباؤ پڑتا رہتا ہے۔ یہ دباؤ خون کا دباؤ کہلاتا ہے۔ جب دل سکڑتا ہے تو اس حالت کو systole کہتے ہیں اور جب دل پھیلتا ہے تو یہ حالت Diastole کہلاتی ہے۔ خون کا دباؤ ان دونوں حالتوں میں مختلف ہوتا ہے۔ نارمل بالغ آدمی کے خون کا دباؤ دل کے پھیلنے کی حالت میں 120 ملی میٹر اور سکڑنے کی حالت میں 80 ملی میٹر ہوتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ انسانی جسم کی باریک ترین جلد آنکھ کا پردہ ہے۔۔۔۔
09/10/2020

کیا آپ جانتے ہیں کہ انسانی جسم کی باریک ترین جلد آنکھ کا پردہ ہے۔۔۔۔

"فنگر پرنٹس"انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں تب نمودار ہونے لگتی ہیں جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے یہ لکیری...
06/10/2020

"فنگر پرنٹس"

انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں تب نمودار ہونے لگتی ہیں جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے
یہ لکیریں ایک ریڈیایی لہر کی صورت میں گوشت پر بننا شروع ہوتی ہیں
ان لہروں کو بھی پیغامات ڈی۔۔این۔۔اے دیتا ہے
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑنے والی لکیریں کسی صورت بھی اس بچے کے جد امجد اور دیگر روئے ارض پر موجود انسانوں سے میل نہیں کھاتیں
گویا لکیریں بنانے والا اس قدر دانا اور حکمت رکھتا ہے کہ وہ کھربوں کی تعداد میں انسان جو اس دنیا میں ہیں اور جو دنیا میں نہیں رہے ان کی انگلیوں میں موجود لکیروں کی شیپ اور ان کے ایک ایک ڈیزائن سے باخبر ہے
یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز کا ڈیزائن اس کی انگلیوں پر نقش کر کے یہ ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔
کہ ہے کوئ مجھ جیسا ڈیزائنر ؟؟؟
کوئ ہے مجھ جیسا کاریگر ؟؟؟
کوئ ہے مجھ جیسا آرٹسٹ ؟؟؟
کوئ ہے مجھ جیسا مصور ؟؟؟
کوئ ہے مجھ جیسا تخلیق کار ؟؟؟
حیرانگی کی انتہاء تو اس بات پر ختم ہوجاتی ہے کہ اگر جلنے زخم لگنے یا کسی وجوہات کی بنیاد پر یہ فنگر پرنٹ مٹ بھی جائے تو دوبارہ ہو بہو وہی لکیریں جن میں ایک خلیے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی ظاہر ہو جاتی ہیں۔۔۔۔
پس ہم پر کھلتا ہے کہ پوری دنیا بھی جمع ہو کر انسانی انگلی پر کسی وجوہات کی بنیاد پر مٹ جانے والی ایک فنگر پرنٹ نہیں بنا سکتی

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے
وہی خدا ہے وہی خدا ہے وہ ہی خدا ...❤❤

06/10/2020

Trichomonas vaginalis. . A sexualy Transmitted Parasite .. In this video you can see Trichomonas vaginalis moving under Microscope. This Urine sample are collected from Female Patient..

Address

Khetab Market KTM Road, Nehur Chongi No7 KOHAT
Kohat

Telephone

03369078352

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when TOCHI Medical Laboratory posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram