Health Companion by Dr Irfan

Health Companion by Dr Irfan Health Companion by Dr Irfan is a platform where you can learn new things about health. You can boost your knowledge and get valuable information.

So Join this platform for your better health and knowledge

05/03/2026

Celebrating my 1st year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

26/02/2026

Cow Milk is Dangerous
G*i kay doodh ka nuksan
گائے کا دودھ بچے کو دینے کا نقصان
fans Medical Medium

آمدن کیسے بڑھائیں؟(قاسم علی شاہ)گرانٹ کارڈون ایک ارب پتی، رئیل اسٹیٹ انویسٹر اور معروف ٹرینر ہیں جوکہ خوش حال زندگی اور ...
26/02/2026

آمدن کیسے بڑھائیں؟
(قاسم علی شاہ)
گرانٹ کارڈون ایک ارب پتی، رئیل اسٹیٹ انویسٹر اور معروف ٹرینر ہیں جوکہ خوش حال زندگی اور کاروبار میں ترقی کے گر بتانے میں مہارت رکھتے ہیں اور اس میدان میں شان دار خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ”اگر آپ کی تنخواہ آپ کی آمدن کا واحد ذریعہ ہے، تو آپ غربت سے صرف ایک قدم دور ہیں۔“اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ صرف ایک ہی ذریعہ آمدن پر زندگی گزاررہے ہیں تو یہ چیز آپ کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، اس طرح سے کہ اگر خدانخواستہ کسی دن یہ ذریعہ آمدن نہیں رہا تو اسی دن آپ دوسروں کے محتاج بن جائیں گے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں نوکری کی سوچ بہت عام ہے۔ بچہ ابھی ابتدائی جماعت میں پڑھ رہا ہوتا ہے جب ماں باپ اس کے ذہن میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ اچھی طرح پڑھو تاکہ تمھیں نوکری مل جائے۔یہ ذہن سازی اس کے پورے تعلیمی سفر میں جاری رہتی ہے۔ یونیورسٹی پہنچ کر بڑے بڑے اساتذہ بھی اسے یقین دلاتے ہیں کہ شان دار جی پی اے کا مطلب شان دار نوکری کا موقع ملنا ہے، یوں ہمارے نوجوان نوکری کو ہی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنالیتے ہیں اور اس سے آگے سوچتے ہی نہیں۔

میں نوکری کے خلاف نہیں ہوں، یہ رزق کمانے کااہم ذریعہ ہے، لیکن میں چھوٹی سوچ کے خلاف ہوں کیوں کہ نوکری انسان کی سوچ کو محدود کر دیتی ہے۔ وہ اسے ایک دائرے میں قید کردیتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو منجمد کردیتی ہے۔نوکری کرتے کرتے وہ مکمل طورپر تنخواہ کا محتاج بن جاتاہے۔وہ روزمرہ اخراجات میں ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگرکبھی کوئی غیر متوقع مسئلہ پیش آجائے،بچہ بیمار پڑجائے،بجلی کا بل زیادہ آجائے یامہمان آجائیں تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں،اس کا معاشی نظام ہل کر رہ جاتاہے۔یہ سوچ سوچ کر وہ پریشان ہوتاہے کہ اب اضافی رقم کا بندوبست کہاں سے کیاجائے،نتیجتاً وہ ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوجاتاہے اور قرض لینے پر مجبور ہوجاتاہے۔قرض سے جہاں ایک طرف وہ دوسرے فرد کا احسان مند بن جاتاہے وہیں دوسری طرف یہ اضافی فکر بھی لاحق ہوجاتی ہے کہ اب قرض چکانا کیسے ہے۔کئی ماہ مشکل میں گزارنے کے بعدوہ پہلا قرض ادا کرتاہے تودوسرامسئلہ اس کے سامنے آکھڑا ہوتاہے اورایک بار پھر وہ سوچتاہے، اب کس سے قرض لوں؟ذرائع آمدن زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی تمام زندگی اسی پریشانی میں گزرجاتی ہے۔

اس تحریر میں ہم چند ایسے طریقوں پر بات کریں گے جنھیں اختیار کرنے سے آپ اپنی آمدن بڑھاسکتے ہیں۔

خود کوسنوارنا
کسی انسان کی معاشی ترقی نہیں ہورہی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان خود کو اپ گریڈ نہیں کررہا اوروہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نہیں نکھار رہا۔ آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے خود کو قیمتی نہیں بنایا جس کی وجہ سے وہ سستا ہوگیا۔اگرو ہ مہنگا ہونا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی قدر(Value)بڑھائے اور اپنی قدر بڑھانے کا آسان طریقہ خود پر محنت کرناہے۔مثال کے طورپربازار میں موجودایک درزی ایک جوڑاسینے کے ہزار روپے لیتا ہے۔اس طرح ایک اور درزی ہے جس کاکام پہلے والے سے بہترہے،وہ ایک جوڑا سینے کے 1500 روپے لیتا ہے لیکن ان دونوں کے علاوہ ایک درزی ایسا بھی ہے جس سے کپڑے سلوانے کے لیے آپ کو کئی دن تک انتظار کرنا پڑتاہے۔وہ آپ کو یہ بھی بتاتا ہے کہ آپ پر کون سا کپڑا جچے گا۔وہ کپڑوں کے رنگ منتخب کرنے کے بارے میں بھی آپ کومشورہ دیتا ہے اور تمام کاروائی مکمل ہونے کے بعدبڑے ماہرانہ انداز میں آپ کے لیے کپڑے تیار کرتاہے۔ ایسا ممکن ہے کہ اس درزی کا معاوضہ پانچ ہزار روپے ہواور آپ بہ خوشی اسے مطلوبہ رقم دے دیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک جوڑا سینے کے وہ پانچ ہزار کیوں لے رہا ہے؟
اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اس درزی نے اپنی قابلیت اتنی بڑھائی کہ وہ مہنگا ہوگیا۔اب اگر ہزار روپے لینے والا درزی پانچ ہزار روپے لینے والے درزی سے پوچھے کہ آپ ایک جوڑے کا اس قدر زیادہ معاوضہ کیسے لے رہے ہیں تو پانچ ہزار والا درزی بتائے گا کہ ”پہلے میں بھی ہزار روپے لیتا تھا لیکن میں نے آہستہ آہستہ اپنی قابلیت بڑھائی اور اپنی محنت سے آج اس مقام پر پہنچا ہوں۔ میں اپنے گاہکوں کو اچھے طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔میں ان کی ضروریات اور خواہش کے مطابق کام کرکے دیتا ہوں۔میں دِل و جان سے اپنی خدمات دیتاہوں،اس وجہ سے میں بازار کامہنگا درزی بن گیا ہوں۔“

اضافی آمدن کے ذرائع
ایک زمانہ تھا جب ایک نوکری زندگی بھر کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی، مگر آج ایک آمدنی پر انحصار کرنا ایسے ہے جیسے ایک ہی ستون پر چھت کھڑی کرنا،جوایک ہی جھٹکے میں زمین پر آجائے گی۔اس لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ انسان متعدد ذرائع آمدن بنائے تاکہ وہ اسے مالی تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی دیں۔ضروری نہیں کہ اضافی آمدن کے یہ ذرائع بہت بڑے کاروبار سے وابستہ ہوں بلکہ کوئی شخص اپنی مہارت کے مطابق فری لانسنگ کرسکتا ہے، آن لائن تدریس شروع کرسکتا ہے، کسی ہنر کو پارٹ ٹائم سروس میں بدل سکتا ہے یا کسی چھوٹے پیمانے کی تجارت کا آغاز کرسکتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کے پاس وقت کتنا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آپ اپنی مہارت کو کتنے طریقوں سے منافع میں بدل سکتے ہیں۔خوش حال افراد کی آمدنی ایک تنخواہ تک محدود نہیں ہوتی۔ وہ اپنے وقت، مہارت اور سرمایے کو مختلف راستوں میں بانٹ دیتے ہیں جس سے ان کی آمدن بڑھ جاتی ہے۔

سرمایہ کاری
محنت کرکے کمانا ابتدائی مرحلہ ہے لیکن دولت بنانے کا اصل راز سرمایہ کاری میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص صرف کماتا ہے ایک دن وہ تھک جاتا ہے، مگر جو سرمایہ کاری کرتا ہے اس کا پیسہ اس کے لیے کام کرنے لگ جاتا ہے۔ اس مقام پر آپ کی محنت حکمت عملی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔سرمایہ کاری کا مطلب صرف اسٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگانانہیں، بلکہ ہر وہ چیز جو مستقبل میں آپ کے لیے آمدنی پیدا کرے، وہ آپ کااثاثہ ہے۔ جائیداد، کاروبار میں شراکت، تعلیم پر خرچ کیا گیا سرمایہ، یا کوئی ایسی مہارت جو وقت کے ساتھ قیمتی ہوتی جائے یہ سب آپ کے اثاثے ہیں۔

معیشت کا ایک اصول ہے:”پیسہ اس کے پاس جاتا ہے جو اسے سنبھالنا جانتا ہے۔“اگر آمدنی کا ایک حصہ باقاعدگی سے بچا کر کسی کاروبار میں لگایاجائے تو وقت کے ساتھ وہ معمولی رقم بھی بڑے سرمایے میں بدل سکتی ہے۔ یاد رکھیں، امیر لوگ زیادہ کمانے سے پہلے بہتر طریقے سے لگانا سیکھتے ہیں۔ سرمایہ کاری صبر،مہارت اورمستقل مزاجی کا کھیل ہے مگر یہی کھیل معاشی آزادی کی بنیاد ہے۔

ڈیجیٹل مہارتیں
ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں دنیا کی سب سے بڑی منڈی موبائل کی صورت میں آپ کے دسترس میں ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے سرحدیں ختم کردی ہیں۔ آج ایک نوجوان اپنے کمرے میں بیٹھ کر بین الاقوامی مارکیٹ کو اپنی خدمات فراہم کرسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نئے زمانے کی مہارتیں سیکھ رہے ہیں؟ڈیجیٹل مہارتیں صرف پروگرامنگ تک محدود نہیں۔ کانٹینٹ رائٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، سوشل میڈیا مینجمنٹ، آن لائن تدریس اور ای کامرس یہ سب شعبے ہیں جہاں قابل لوگوں کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز نے صلاحیت کو براہِ راست خریدار تک پہنچا دیا ہے۔ اب سفارش سے زیادہ مہارت بولتی ہے۔اگر کوئی شخص اپنے آپ کو ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لے تو اس کی آمدنی کے امکانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔ آنے والا وقت ان لوگوں کا ہے جو ٹیکنالوجی سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔

ذاتی برانڈنگ
بازار میں صرف مصنوعات نہیں بکتی، شخصیات بھی بکتی ہیں۔ ذاتی برانڈنگ کامطلب اپنے آپ کو ایسے انداز میں پیش کرنا ہے کہ لوگ آپ کو یاد رکھیں، آپ پر اعتماد کریں اور آپ کی خدمات کو ترجیح دیں۔ اگر دو افراد مہارت میں ایک جیسے ہوں توکامیابی اس کا مقدر بنے گی جس کی مارکیٹ میں شناخت ہوگی۔
ذاتی برانڈنگ کا مطلب دکھاوا نہیں بلکہ اپنی مہارت، مستقل مزاجی اور کردارکو بہتر انداز میں پیش کرنا ہے۔ آپ کس موضوع پر مہارت رکھتے ہیں؟ آپ کی خاص پہچان کیا ہے؟ لوگ آپ کو کس خوبی سے یاد کرتے ہیں؟ جب ان سوالوں کے جواب مل جائیں تو آپ کی پیشہ ورانہ قدر خود بخود بڑھنے لگتی ہے۔

معاشی نظم و ضبط
اگرآپ معاشی نظم وضبط کے بنیادی اصولوں سے بے خبر ہیں توآپ اپنی آمدن نہیں بڑھاسکتے۔یہاں بہت سے لوگ ایسے موجو دہیں جوزیادہ کماتے ہیں مگر پھر بھی تنگ دستی کا شکار رہتے ہیں، کیوں کہ وہ معاشی منصوبہ بندی نہیں کرسکتے۔

معاشی نظم و ضبط کا پہلا اصول یہ ہے کہ خرچ کرنے سے پہلے بچایا جائے۔ اگر آمدنی کا ایک مخصوص حصہ باقاعدگی سے الگ رکھا جائے تو وہی رقم مستقبل کے لیے ڈھال بن جاتی ہے۔ بجٹ بنانا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا اور ترجیحات طے کرنایہ سب چھوٹے مگر طاقتور اقدامات ہیں۔معاشیات کا ایک سادہ اصول یہ بھی ہے کہ”جو پیسہ بچایا نہیں جاتا، وہ بڑھتابھی نہیں۔“بچت صرف رقم جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ذہنی تربیت ہے۔ یہ انسان کو وقتی خواہشات پر قابو پانا سکھاتی ہے اوراسے طویل المدتی اہداف کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یاد رکھیں، دولت اچانک نہیں بنتی بلکہ آپ روزمرہ زندگی میں کتنا خرچ کرتے ہیں، کتنا بچاتے ہیں، کس قدر مستقل مزاجی سے کام لیتے ہیں اور کس طرح کے فیصلے کرتے ہیں،یہ تمام چیزیں مل کر آپ کی دولت بڑھاتی یا کم کرتی ہیں۔

سخاوت
یہ بات ہر اہل ایمان کو سمجھنی چاہیے کہ رزق کا بڑھنا اللہ نے سخاوت اور صدقے میں رکھا ہے۔ہمارے معاشرے میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ ہم خیرات نہیں کرتے اور اگرکریں بھی تو وہ روح سے خالی ہوتی ہے۔ صدقہ اور خیرات اتنی زبردست چیز ہے کہ کوئی بھی انسان جب اسے اپناتا ہے تو یہ چیز اس کے لیے گارنٹی کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے کہ اس کا رزق بڑھے گا۔ظاہری آنکھ سے دیکھا جائے تو اس سے مال میں کمی ہوتی ہے۔دنیا کے تمام کیلکولیٹرز بھی یہی کہتے ہیں کہ صدقے سے مال گھٹ جاتا ہے لیکن رب کا نظام یہ ہے کہ جب بھی انسان خیرات کرتا ہے تواس کا رزق بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔

صلہ رحمی
ہمارے رزق کا بڑا گہرا تعلق رشتے داروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے بھی ہے۔صلہ رحمی کی بدولت عمر کے ساتھ ساتھ انسان کا رزق بھی بڑھتاہے۔رشتوں میں خواتین رشتے دار جیسے بہن،ماں، بیٹی، خالہ اور پھوپھی وغیرہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے، ان کی دعاؤں کی بدولت اللہ تعالیٰ آپ پر رزق کے دروازے کھول دے گا۔

دوست احباب
انسان جن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ان کی وجہ سے بھی اس کے رزق پراثر پڑتا ہے۔جیک کین فیلڈ اپنی کتاب ”The Success Principles“ میں بتاتاہے کہ انسان جن پانچ لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، ان کی آمدن کا اگر اوسط نکالا جائے تو اس انسان کی آمدن بھی اتنی ہوگی۔اس بات کو میں نے بڑی حد تک درست پایا ہے۔ انسانی نفسیات اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ جیسے وہ خود ہے،اسی طرح کے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھے۔چنانچہ پست ذہن کاحامل انسان اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنے میں مزہ محسوس کرتاہے۔اس کے برعکس اعلیٰ اقدار کا مالک انسان بڑے لوگوں کے ساتھ تعلق بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔جب بھی انسان اچھے لوگوں کے ساتھ تعلق بناتاہے توان لوگوں کی اچھی صفات بھی اس میں پیدا ہوجاتی ہیں۔
یاد رکھیے، آمدنی قسمت سے نہیں بڑھتی بلکہ قابلیت، کردار، سماجی تعلق، سخاوت اور صلہ رحمی سے بڑھتی ہے۔ جو خود کو مہنگا اور منفرد بنالیتا ہے، دنیا اسی کو ترجیح دیتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کی قیمت ادا کرتی ہے۔

Defensive Medicine. Save Yourself First Then Patientایک خاموش تبدیلی 🧐پاکستان میں ایک خاموش تبدیلی رونما ہوئی ہے — مگر ش...
23/02/2026

Defensive Medicine. Save Yourself First Then Patient
ایک خاموش تبدیلی 🧐

پاکستان میں ایک خاموش تبدیلی رونما ہوئی ہے — مگر شاید ہم نے اس پر واقعی توجہ نہیں دی۔

آج کل بہت سے ڈاکٹرز صرف مریض کا علاج کرنے کے بارے میں نہیں سوچتے، بلکہ اپنے آپ کی حفاظت کے بارے میں بھی غور کرتے ہیں۔
دنیا میں اسے Defensive Medicine یعنی “احتیاطی میڈیسن” کہا جاتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ طبی فیصلے صرف مریض کی ضروریات کی بنیاد پر نہیں کیے جاتے، بلکہ ممکنہ شکایات، مقدمات، سوشل میڈیا پر تنقید، یا انتظامی دباؤ سے بچنے کے لیے بھی کیے جاتے ہیں۔

پہلے یہ عجیب لگ سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب نظام میں اعتماد کمزور ہو جاتا ہے، تو فیصلے خوف کی بنیاد پر کیے جانے لگتے ہیں، نہ کہ طبی اصولوں کی بنیاد پر۔

حال ہی میں پاکستان میں:
ہسپتالوں پر حملے،
ڈاکٹروں پر تشدد،
سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے الزامات،
فوری سزا کے مطالبات

نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں ہر فیصلے سے پہلے ڈاکٹر خود سے یہ سوال کرتا ہے:
"اگر نتیجہ توقع کے مطابق نہ رہا تو کیا ہوگا؟"

اس کے نتائج:

غیر ضروری ٹیسٹ بڑھ جاتے ہیں — کیونکہ "کچھ بھی چھوٹنا نہیں چاہیے"
مریض جلد ریفر کیے جاتے ہیں — کیونکہ "کوئی خطرہ نہیں لینا"
پیچیدہ کیسز سے بچا جاتا ہے — کیونکہ "خطرہ بہت زیادہ ہے"
ظاہر میں یہ احتیاط لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ نہ صرف مریض بلکہ پورے نظام صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔

عالمی تجربات بتاتے ہیں کہ:

Defensive medicine سے صحت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
غیر ضروری ٹیسٹ، اضافی داخلے، اور بار بار ریفرلز مریض پر مالی بوجھ ڈالتے ہیں اور ہسپتال کی گنجائش پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ایمرجنسی وارڈز میں بھیڑ بڑھ جاتی ہے، انتظار کے اوقات بڑھ جاتے ہیں، اور واقعی ضرورت مند مریض پیچھے رہ جاتے ہیں۔

سب سے خطرناک نتیجہ اعتماد کا ٹوٹنا ہے۔
جب ڈاکٹر خوف کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں اور مریض علاج میں شک کے ساتھ شامل ہوتے ہیں، تو طبی تعلقات انسانی رشتے کی بجائے قانونی لین دین میں بدل جاتے ہیں۔
میڈیسن — جو کبھی ہمدردی اور اعتماد پر مبنی تھی — آہستہ آہستہ احتیاطی عمل میں بدل جاتی ہے۔

کامیاب صحت کے نظام نے یہ مسئلہ کیسے حل کیا؟

قوانین کے ذریعے نہیں، بلکہ توازن کے ساتھ:

واضح طبی پروٹوکولز
آزاد میڈیکل ریویو بورڈز
ڈاکٹروں کے لیے قانونی تحفظ
مریضوں کے لیے شفاف شکایتی نظام

تاکہ انصاف یقینی بنایا جائے بغیر خوف پیدا کیے۔

پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ جوابدہی موجود نہ ہو۔
جوابدہی ضروری ہے۔ لیکن جب جوابدہی نظام کی بجائے ہجوم، دباؤ یا جذبات سے چلائی جائے، تو حتیٰ کہ بہترین ڈاکٹر بھی ضروری خطرہ لینے میں ہچکچاتے ہیں۔

اور میڈیسن میں کبھی کبھی زندگی بچانے کے لیے خطرہ لینا ضروری ہوتا ہے۔

اگر ہم واقعی بہتر صحت کا نظام چاہتے ہیں، تو ہمیں ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا:

کیا ہم ایسا ماحول بنا رہے ہیں جہاں ڈاکٹر بہترین طبی فیصلہ کر سکے؟
یا ایسا ماحول جہاں وہ صرف محفوظ ترین فیصلہ کر سکے؟

کیونکہ محفوظ ترین فیصلہ ہمیشہ بہترین علاج نہیں ہوتا۔

جب ڈاکٹر خوف میں کام کریں، تو نظام مہنگا اور کمزور ہو جاتا ہے۔
اور جب اعتماد واپس آئے، تو علاج بہتر ہوتا ہے — اور انسانیت بھی۔

ہماری ترجیحات میں صحت کیوں نہیں؟ہم سب ایک بات پر متفق ہیں کہ"جان ہے تو جہان ہے"لیکن عملی زندگی میں ہمارا رویہ کچھ اور ہی...
10/02/2026

ہماری ترجیحات میں صحت کیوں نہیں؟
ہم سب ایک بات پر متفق ہیں کہ
"جان ہے تو جہان ہے"
لیکن عملی زندگی میں ہمارا رویہ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔
ہم موبائل کا نیا ماڈل آئے تو فوراً بدل لیتے ہیں،
موٹر سائیکل میں ذرا سی آواز آئے تو فوراً مکینک کے پاس،
گاڑی پر خراش لگ جائے تو دل ٹوٹ جاتا ہے،
مگر اگر ہمارا بلڈ پریشر بڑھ جائے، شوگر ہو جائے، یا سانس پھولنے لگے تو ہم کہتے ہیں:
"کوئی بات نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا!"
یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے۔
خرچ ہر چیز پر، سوائے صحت کے
ہم شادیوں پر لاکھوں خرچ کر دیتے ہیں،
موبائل پیکجز، نئے کپڑے، مہنگے جوتے، باہر کا کھانا،
ہر مہینے کوئی نہ کوئی "ضروری" خرچہ نکل آتا ہے۔
لیکن جب بات آتی ہے:
لیب ٹیسٹ
ڈاکٹر کو دکھانے
ورزش
صحت مند غذا
تو فوراً جواب ہوتا ہے:
"ابھی پیسے نہیں ہیں" 😅
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں وہی پیسے ہم
ہسپتال، انجکشن، ڈرِپ، اور ایمرجنسی میں کئی گنا زیادہ خرچ کر دیتے ہیں۔
ہم بیماری کو دعوت دیتے ہیں
ہم دن رات موبائل پر لگے رہتے ہیں،
واک نہیں کرتے،
بازاری کھانا کھاتے ہیں،
نیند پوری نہیں کرتے،
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ
"ہم بیمار کیوں ہو گئے؟"
یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ خود آگ لگائیں اور پھر فائر بریگیڈ کو الزام دیں۔
جب جسم جواب دے دیتا ہے
جسم اللہ کی دی ہوئی ایک امانت ہے۔
جب یہ تھک جاتا ہے تو نہ دولت کام آتی ہے،
نہ عہدہ، نہ شہرت۔
تب ہم کہتے ہیں:
"کاش پہلے خیال رکھا ہوتا…"
لیکن اس وقت اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
اصل دانشمندی کیا ہے؟
عقل مند وہ نہیں جو مہنگا فون رکھتا ہو،
بلکہ وہ ہے جو:
وقت پر ڈاکٹر کو دکھائے
روز تھوڑی واک کرے
فاسٹ فوڈ کم اور گھر کا کھانا زیادہ کھائے
نیند پوری کرے
یہ سب مفت یا بہت سستا ہے،
مگر فائدہ انمول ہے۔
نتیجہ
ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔
اگر صحت نہیں ہوگی تو
نہ کمائی سے لطف آئے گا،
نہ زندگی سے۔
صحت کوئی خرچ نہیں، بلکہ سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
آج خیال رکھیں،
تاکہ کل ہسپتال میں پچھتاوا نہ ہو۔


بے عزتی کا واحد جواب 'فاصلہ' ہے۔""ردِعمل نہ دیں، بحث نہ کریں اور نہ ہی ڈرامے بازی کا حصہ بنیں۔""بس خاموشی سے اپنی موجودگ...
27/01/2026

بے عزتی کا واحد جواب 'فاصلہ' ہے۔"
"ردِعمل نہ دیں، بحث نہ کریں اور نہ ہی ڈرامے بازی کا حصہ بنیں۔"
"بس خاموشی سے اپنی موجودگی وہاں سے ختم کر لیں۔"
​وضاحت و تشریح
​اس قول کا مقصد ہمیں ذہنی سکون اور اپنی عزتِ نفس (Self-respect) کی حفاظت کا طریقہ سکھانا ہے۔ اس کی چند اہم نکات میں وضاحت یہ ہے:
​بحث سے بچنا: جب کوئی آپ کی بے عزتی کرتا ہے، تو وہ اکثر آپ کو مشتعل (Provoke) کرنا چاہتا ہے۔ اگر آپ آگے سے بحث کریں گے یا لڑیں گے، تو آپ اپنا وقار کھو دیں گے اور معاملہ مزید بگڑے گا۔
​خاموشی کی طاقت: "ری ایکٹ" نہ کرنا کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی خود اعتمادی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا سکون کسی دوسرے کے بدتمیز رویے کا محتاج نہیں ہے۔
​موجودگی ختم کرنا (Withdrawal): اگر کسی جگہ آپ کی قدر نہیں ہو رہی، تو وہاں سے خاموشی سے ہٹ جانا ہی بہترین احتجاج ہے۔ آپ کا ان سے دور ہو جانا انہیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ آپ کے وقت اور توجہ کے لائق نہیں ہیں۔
​ذہنی سکون: دوسروں کو بدلنا مشکل ہے، لیکن خود کو اس ماحول سے نکالنا آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ فاصلہ اختیار کرنے سے آپ منفی توانائی سے بچ جاتے ہیں۔
​خلاصہ: یہ قول سکھاتا ہے کہ بدتمیز لوگوں کو جواب دے کر اپنا معیار گرانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائیں اور انہیں پیچھے چھوڑ دیں


تاریخ میں پہلی دفعہ پنجاب میں پرائیوٹ میڈیکل کالجز میں پانچویں لسٹ لگنے کے باوجود 426 سیٹیں خالی جارہی ہیں ۔ 109 امیدوار...
25/01/2026

تاریخ میں پہلی دفعہ پنجاب میں پرائیوٹ میڈیکل کالجز میں پانچویں لسٹ لگنے کے باوجود 426 سیٹیں خالی جارہی ہیں ۔ 109 امیدواروں نے ایم۔بی۔بی۔ایس میں داخلہ نہی لیا اور 317 داخلہ لینے کے باوجود چھوڑ گئے ۔
والدین کے پریشر کے باوجود Z جنریشن کو سمجھ آگئی کے مسقبل میں اس شعبے میں رسوائی کے سوا کچھ نہی ۔
ڈیڑھ کروڑ لگا کے بے روز گار ہونا رسوائی ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 20 سے 30 ہزار کے قریب ڈاکٹرز بے روزگار ہیں ۔

,

ڈاکٹراور لنڈے کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ۔۔۔۔مظفرآباد سے ڈاکٹر راشد الیاس  کی آپ بیتیاس تحریر کا مقصد کسی کی دلازاری نہیں ہے ...
20/01/2026

ڈاکٹراور لنڈے کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ۔۔۔۔
مظفرآباد سے ڈاکٹر راشد الیاس کی آپ بیتی
اس تحریر کا مقصد کسی کی دلازاری نہیں ہے بلکہ
*تصویر کا دوسرا رخ* دیکھانا ہے۔
جس میں ڈاکٹرز کے مقدس پیشے کو ہر so called افلاطون آ کر بدنام کرتا ہے۔
آجکل آزاد کشمیر میں بالعموم اور جہلم ویلی میں بالخصوص ہر دوسرا شخص جس کو دو چار حرف لکھنے آ گے ہیں اور ایک عدد موبائل جیب میں ہے پارسائی اور انسانیت کا لبادہ اوڑھے شتر بے مہار کی طرح ڈاکٹرز پر اپنی نفرت کم علمی اور کم عقلی کے نشتر چلانا فرض عین سمجھتا۔
اور تو اور ایک نئی مخلوق بھی معرض وجود میں آگئی ہے خود ساختہ سوشل میڈیا وی لاگرز یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ۔پتا نہیں کس حثیت میں اور کس خوش فہمی غلط فہمی یا خام خیالی میں یہ بیک وقت اپنے آپ کو نعوذ باللہ فرشتے ،ولی اللہ، جج، تھانیدار، ڈاکٹر۔ وکیل سب کچھ سمجھنے لگے ہیں۔پتا نہیں کون سا ذہنی مرض لاحق ہے انہیں جو اپنے علاوہ ریاست کے ہر شہری اور ریاست کے ہر ملازم کو چور ڈاکو خائن کرپٹ بد ذات کم ذات کم عقل بے غیرت بے شعور اور بد کردار سمجھنے لگے ہیں۔
میں ان کی اوقات پہ بات نہیں کروں گا کہ بات نکلی تو دور تلک جائے گی
میں ان لنڈے کے ایکٹیوسٹس اور ویلاگروں کو تصویر کا صرف وہ رخ دکھانا چاہتا ہوں جو انہیں شاید ان کے حد درجہ بڑھی ہوئی آگہی و دانائی کی وجہ سے کبھی نظر نہیں آیا۔
محترم میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میں اس ریاست کا پڑھا لکھا درجہ اول شہری ہوں بحثیت درجہ اول شہری اس ریاست میں میرے بھی وہی حقوق ہیں جو آپ جیسی عظیم ہستیوں کے ہیں یا شاید ایک آفیسر ہونے کے ناطے ریاست نے میرے حقوق آپ سے زیادہ رکھے ہوں میرے منہ میں خاک گستاخی کی پیشگی معذرت قبول کیجیے
۔بتانا یہ ہے کہ
۔میرے پاس ایک ہنر ہے جو میری ریاست مجھ سے روپوں کے عوض خریدتی ہے
میں اس ریاست کا ایک باعزت سرکاری ملازم ہوں میں کسی فرد کسی جتھے یا کسی گروہ کا قطعی ملاذم نہیں ہوں یہ غلط فہمی جتنی جلدی دور کر لیں آپ کی صحت کے لیے اور عزت کے لیے اچھا رہے گا
میں اس ریاست کی عوام بھی ہوں اور آپ کی طرح خواص بھی ہوں۔ ریاست کا شہری ہونے کے ناطے میں روز مرہ ضرویات کی چیزوں پر ریاست کی طرف سے لاگو ٹیکس بالکل اسی طرح ادا کرتا ہوں جس طرح ریاست کے باقی تمام عوام اور آپ جیسے خاص ادا کرتے ہیں البتہ میں ایک سرکاری ملازم ہونے کے ناطے اس ریاست کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی تنخواہ سے سالانہ اتنا ٹیکس ادا کرتا ہوں جتنا شاید بہت سے غریب لوگ سالانہ کماتے بھی نہ ہوں۔ لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میری کمائی بہت زیادہ ہے اس ریاست میں مجھ سے کہیں زیادہ کمانے والے بڑے بڑے بزنس مین بلیک منی وائٹ کالر ٹھکیدار دھندہ دار اور کئی ہیں جو ایک دن میں اتنا کماتے ہوں گے جتنا میں شاید پورے سال میں نہ کما سکوں لیکن ان میں اور مجھ میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اس ریاست کی عوام کی بہتری کے لیے ایک ٹکہ بھی ٹیکس کی مد میں نہیں دیتے جبکہ ریاست میری تنخواہ سے ہر ماہ باقاعدگی سے ایک مخصوص مقدار میں ٹیکس مجھ سے بغیر پوچھے کاٹ لیتی ہے۔
فرق ان میں اور مجھ میں یہ بھی ہے کہ وہ انگوٹھا چھاپ صاحب ہیں سر ہیں جب کہ میں ایک قصائی چور قاتل جعلی ڈاکٹر
فرق یہ بھی ہے کہ مجھ پر ہر نورا گاما گھسیٹا الزام تراشی کر سکتا دست درازی کر سکتا لیکن ادھر اونچی آواز میں بولنے کا تصور بھی شاید نہ کر سکے۔
یہ بتانا مقصود نہیں تھا کہ کیا کریں ہر لنڈے کا آ کر یہ طعنہ" میرے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیتے ہو" ایسے دیتا جیسے موصوف ابھی ابھی کڑکتے نوٹوں کی دتھی میرے ہاتھوں میں تھما کر گے ہوں
بحثیت ڈاکٹرز ہمارا مرض اور مریضوں سے چولی دامن کا ساتھ رہتا ہے۔ روز مرہ کی روٹین میں وہ بیمار بھی آتے جنہیں اپنی مرض کی بہت تشویش ہوتی لیکن ہم مطمئن ہوتے اور ایسے تندرست بھی آتے جن کے مرض کی فکر ان سے زیادہ ہمیں ہوتی
ایسے امیر بھی آتے جنہیں 20 روپے کی پرچی لینا بھی موت نظر آتی اور ایسے غریب بھی آتے جو بغیر بحث کیے اپنے مریض کے لیے ہر ہر دوائی مہیا کرتے
ایسے پڑھے لکھے بھی آتے جو گاڑی بالکل ایمرجنسی میں لگا کر ایبمولینس اور ایمرجنسی سٹریچر کا راستہ بند کرنا اپنی مردانگی یا بہادری سمجھتے اور ایسے ان پڑھ اور سلیقہ شعار بھی آتے جن کے ایک ایک لفظ سے شائستگی ٹپک رہی ہوتی۔
ایسے فلاسفرز بھی آتے جو ڈاکٹر سے زیادہ خود کو ڈاکٹر سمجھتے ہوئے بار بار اپنی لچ تلنے پر جب تک عزت افزائی نہ کروا لیں ان کو سکون نہیں آتا
اور ایسے شرفا علم کے سمندر بھی آتے جو بہت کچھ پتا ہونے کے باوجود بھی فضول بحث سے اجتناب کرتے ہوئے اپنا اور ڈاکٹر دونوں کا قیمتی وقت بچاتے۔
اب آتے ہیں ان لنڈے والوں کی طرف
ہسپتالوں میں یہ روز کا معمول ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا غریب اور لاچار مریض ضرور ہی آجاتا جس کے پاس اپنے مریض کے علاج کے لیے پھوٹی کوڑی نہیں ہوتی جبکہ مرض ایسا ہوتا کہ علاج میں ناغہ بھی نہیں ہو سکتا تو اس وقت یہی قصائی جعلی ڈاکٹرز نرسز پیرامیڈکس اور دیگر چھوٹے ملازم جو اپنی انتہائی کم تنخواہ ہونے کے باوجود بھی نہایت فراخدلی سے اس کار خیر میں حصہ لیتے
لیکن لنڈے کے فلاسفرز کو کئی بار اسی وارڈ میں اسی ایمرجنسی میں اپنے مریض یا کسی اور وجہ سے موجود ہونے کے باوجود بھی کبھی اس کار خیر میں حصہ لینے کی توفیق نہیں ہوئی
محترم ! گھر میں بیٹھ کر گرم بستر میں گھس کر خود کو تیس مار خان سمجھنا بھی آسان ہے اور دوسروں پر الزام تراشی بھی کوئی مشکل کام نہیں لیکن۔ جس دن ایک الزام ثابت کرنا پڑ گیا یا پلٹ کر کسی نے وار کر دیا تو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔
اس ہسپتال میں مرض بھی ٹھیک ہوتے ہیں اور مریض بھی
بہت سے قریب المرگ مریض بھی ان جعلی ڈاکٹروں نے بچائے بھی ہیں اور انشااللہ آگے بھی اللہ کے حکم سے بچائیں گے بھی لیکن کیا کریں کہ تصویر بنا کر سوشل میڈیا پہ ڈال کر تشہیر والا نہ ڈاکٹرز کا شیوا ہے نہ ضرورت اور نہ تربیت
اور آخری بات جس جس فلاسفر کو اس ہاسپٹل کے ڈاکٹرز نالائق جعلی اور قصائی لگتے ان سے گزارش ہے کہ انہوں نے گھر میں جو ڈاکٹر بنا کر صندوق میں سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں انہیں نکال لیں اور ان سے ہی علاج کروائیں کہ ہم اپ جیسی عظیم ہستیوں کے شان شایان نہیں

پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیں

13/01/2026

پاکستان میں ہم Evidence Based Medicine نہیں،
Poverty Based Medicine
پریکٹس کرتے ہیں
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں
Evidence Based Medicine مریض کا حق ہے،
جبکہ پاکستان میں
یہ ایک Luxury بن چکی ہے۔
یہاں ڈاکٹر صرف بیماری کا علاج نہیں کرتا،
یہاں ڈاکٹر مریض کی معاشی حیثیت،
گھر کے حالات،
بچوں کی فیس،
اور مہینے کے راشن کو
ذہن میں رکھ کر نسخہ لکھتا ہے۔
میڈیکل کی کتاب کہتی ہے:
"This is the drug of choice"
لیکن مریض کی خاموشی کہتی ہے:
"ڈاکٹر صاحب، سستی دوا لکھ دیں"
یہ وہ لمحہ ہے
جہاں علم اور ضمیر آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں،
اور اکثر جیت انسانیت کی ہوتی ہے۔
ہمیں معلوم ہے
کون سی دوا بہتر ہے،
کون سا ٹیسٹ ضروری ہے،
کون سا پروٹوکول عالمی معیار کا ہے،
لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ
غربت ان سب سے زیادہ طاقتور ہے۔
پاکستان میں بیماری صرف پیتھالوجی نہیں،
یہ سیاسی ناکامی کا نتیجہ ہے۔
یہ خالی ہسپتال،
یہ ٹوٹا ہوا ہیلتھ سسٹم،
یہ ادویات کی عدم دستی،
یہ لمبی قطاریں—
یہ سب کسی ڈاکٹر کی نااہلی نہیں
بلکہ ریاست کی بے حسی کا ثبوت ہیں۔
جب سیاست دان
علاج کو بزنس بنا دیں،
جب بجٹ میں صحت کو آخری نمبر پر رکھا جائے،
جب عوام کو بنیادی سہولت بھی میسر نہ ہو—
تو پھر ڈاکٹر
Evidence Based Medicine نہیں
Survival Based Medicine کرتا ہے۔
بدقسمتی سے
غصہ ہمیشہ غلط جگہ نکلتا ہے۔
گالی سیاست دان کو نہیں،
ڈاکٹر کو دی جاتی ہے۔
حالانکہ
ڈاکٹر وہ واحد شخص ہے
جو اس ٹوٹے ہوئے نظام میں بھی
آخری دیوار بن کر کھڑا ہے۔
ہم کم فیس لیتے ہیں،
زیادہ وقت دیتے ہیں،
اور محدود وسائل میں
اپنی پوری صلاحیت لگاتے ہیں۔
ہم طب بھی جانتے ہیں
اور درد بھی۔
اس لیے گزارش ہے:
ڈاکٹر کو نہیں،
اس نظام کو کٹہرے میں کھڑا کریں
جس نے صحت کو حق نہیں،
مراعات بنا دیا۔
یہ لڑائی
ڈاکٹر اور عوام کے درمیان نہیں،
یہ لڑائی
عوام اور اس ظالم، ناکام نظام کے خلاف ہے
جس نے غربت کو بیماری
اور بیماری کو جرم بنا دیا۔

ہم Evidence Based Medicine کے خلاف نہیں،
ہم Poverty کے قیدی ہیں۔

منقول

Medical Medium

رات کے بارہ بج کر پانچ منٹ... جب دنیا گہری نیند سو رہی ہوتی ہے، ایک دیہی مرکزِ صحت (RHC) کے ایمرجنسی وارڈ میں ایک مریض ل...
05/01/2026

رات کے بارہ بج کر پانچ منٹ... جب دنیا گہری نیند سو رہی ہوتی ہے، ایک دیہی مرکزِ صحت
(RHC)
کے ایمرجنسی وارڈ میں ایک مریض لایا جاتا ہے۔ مریض کی حالت دیکھ کر ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ زندگی کی ڈور بہت کمزور پڑ چکی ہے۔ وہ شوگر، گردوں کے آخری درجے کے عارضے (ESRD) اور پھیپھڑوں میں پانی بھر جانے جیسے سنگین مسائل کا شکار تھا۔
میڈیکل پروٹوکول کے مطابق فوری چیک اپ شروع ہوا۔ نہ نبض تھی، نہ بلڈ پریشر، نہ سانس کی آمد و رفت۔ آنکھ کی پتلیاں پھیل چکی تھیں اور روشنی پر کوئی ردِعمل نہیں دے رہی تھیں۔ ای سی جی کی مشین پر چلنے والی لکیر بالکل سیدھی ہو چکی تھی— وہ خاموش لکیر جو اعلان کرتی ہے کہ انسان اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
ٹھیک 12:15 پر جب موت کا باقاعدہ اعلان ہوا، تو تماشہ شروع ہوا۔ وہی لوگ جو ہسپتال میں داخل ہوتے ہی کہہ رہے تھے کہ "بس ڈیتھ ڈکلیئر کر دیں"، اچانک جلاّد بن گئے۔
"ہمارے مریض کو آپ نے مارا ہے، کیونکہ آپ آکسیجن سلنڈر لے کر نہیں آئے؟"
یہ جملہ صرف ایک ڈاکٹر کی توہین نہیں، بلکہ اس جاہلانہ سوچ کی عکاسی ہے جو ہر ناکامی کا ملبہ اس جونیئر ڈاکٹر پر ڈال دیتی ہے جو محدود وسائل میں اپنی جان لڑا رہا ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم اس نہج پر کیسے پہنچے؟
آج کا جونیئر ڈاکٹر صرف مریض کا علاج نہیں کر رہا، بلکہ وہ اس تلخی کا خمیازہ بھی بھگت رہا ہے جو گزشتہ دہائیوں میں پیدا ہوئی
ہمارے سینیئرز نے برسوں تک نظام کی خرابیوں پر خاموشی اختیار کی، حکومتوں سے ذاتی مراعات لیں لیکن جونیئر ڈاکٹرز کے لیے ایک محفوظ ورکنگ انوائرمنٹ نہیں مانگا۔ ان کی سرکاری صحت کے نظام کی طرف لاپرواہی والی اپروچ نے عوام اور ڈاکٹرز کے درمیان خلیج پیدا کر دی۔
حکومتوں نے ہسپتالوں کو صرف عمارتیں سمجھا، وہاں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنا کبھی ترجیح نہیں رہی۔
عوام کا غصہ ان پالیسی سازوں پر نہیں نکلتا جو دوائیاں اور سٹاف فراہم نہیں کرتے، بلکہ اس فرنٹ لائن ڈاکٹر پر نکلتا ہے جو تنِ تنہا پورے ہسپتال کا بوجھ اٹھائے کھڑا ہوتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ
آج کا جونیئر ڈاکٹر جذباتی طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ وہ مسیحائی کرنا چاہتا ہے، لیکن جب اسے قاتل قرار دیا جاتا ہے، جب اس کی محنت کو گالی دی جاتی ہے، تو وہ صرف ہسپتال نہیں چھوڑتا، وہ یہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس قوم کو عقل و فہم نصیب فرمائے اور ہمیں یہ سمجھنے کی توفیق دے کہ ڈاکٹر زندگی بچانے کی کوشش تو کر سکتا ہے، لیکن موت کو ٹالنے کا اختیار صرف اللہ کے

CROUP THE BARKING COUGH                  Medical Medium  Medical Daily
30/12/2025

CROUP THE BARKING COUGH


Medical Medium Medical Daily

Bronchiolitis is caused by a virus very dangerous disease                 Medical Medium Aproko Doctor
29/12/2025

Bronchiolitis is caused by a virus very dangerous disease

Medical Medium
Aproko Doctor

Address

Kotli Sarsawa

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Health Companion by Dr Irfan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram