17/11/2025
Full support from Every chapter of YDA
پریس ریلیز — YDA پنجاب
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی، چیئرمین ڈاکٹر مدثر اشرفی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر حسیب تھند اور مرکزی و جنرل کونسل نے حکومتِ پنجاب اور اسپیشلائزڈ ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ Central Induction Policy January 2026 کو شدید تشویش، گہری مایوسی اور مکمل عدم اعتماد کے ساتھ یکسر مسترد کر دیا ہے۔
وائی ڈی اے پنجاب کے مطابق یہ پالیسی اپنی موجودہ صورت میں غیر منطقی، غیر منصفانہ اور ڈاکٹر برادری کے حقوق، کیریئر اسٹرکچر اور پوسٹ گریجوئیٹ ٹریننگ کے پورے نظام پر براہِ راست حملہ ہے۔ اچانک نفاذ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ پالیسی سازی کے بنیادی تقاضوں — مشاورت، شفافیت اور زمینی حقائق — کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔
وائی ڈی اے پنجاب نے اس بات پر بھی شدید اعتراض اٹھایا کہ راتوں رات پالیسی تبدیل کرنا اور صرف ایک ماہ بعد اسے نافذ کر دینا کسی بھی قانونی، انتظامی یا اصولی ضابطے میں نہیں آتا۔ دنیا بھر میں اصول یہ ہے کہ کسی بھی پالیسی پر عملدرآمد سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے، ایک واضح ٹائم لائن دی جائے، اور ایک یکساں (uniform) پالیسی وضع کی جائے۔ اگر موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی درکار تھی، تو اسے متعلقہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ڈسکس کیا جاتا، اور پھر انہیں پیشگی اور بروقت اطلاع دی جاتی کہ — “آج سے دو سال بعد یا تین سال بعد یہ نئی پالیسی نافذ ہو گی۔” اس طرح کا پری انفارمڈ، ساختہ طریقہ ہی کسی بھی نظام کو مضبوط اور شفاف بناتا ہے۔
صدر ڈاکٹر شعیب خان نیازی نے واضح کیا کہ تجربہ مارکس کا مکمل خاتمہ, وہ بھی بغیر کسی ٹرانزیشن پیریڈ کے, پورے سروس اسٹرکچر اور ادارہ جاتی ہائرارکی کو غیر مستحکم کرنے والا فیصلہ ہے۔ وہ ڈاکٹرز جنہوں نے موجودہ پالیسی پر اعتماد کرتے ہوئے BHUs، RHCs، THQs، DHQs، PESSI، Jail Hospitals اور دیگر اداروں میں انتہائی مشکل حالات میں خدمات انجام دیں، آج خود کو شدید دھوکا دیا گیا محسوس کر رہے ہیں۔ اس اچانک تبدیلی نے ان کی برسوں کی محنت، سروس اور قربانیوں کو عملاً بے قیمت بنا دیا ہے، جو نہ انتظامی اصولوں کے مطابق ہے اور نہ اخلاقی معیار کے۔
وائی ڈی اے پنجاب کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کسی بھی نئی پالیسی کے نفاذ کے لیے مرحلہ وار عملدرآمد، واضح ٹائم لائن اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے براہِ راست مشاورت بنیادی تقاضے ہیں۔ لیکن موجودہ فیصلہ “عدم مشاورت، بدانتظامی اور غیر ذمہ دارانہ حکمتِ عملی” کی واضح مثال ہے۔ ایسے اقدامات اداروں میں بے اعتمادی پیدا کرتے ہیں اور پورے ہیلتھ کیئر نظام کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
تنظیمی عہدیداران نے کہا کہ یہ پالیسی نہ سرکاری گریجوئیٹس کے لیے قابلِ قبول ہے، نہ پرائیویٹ گریجوئیٹس اس کو مانتے ہیں، اور نہ ہی وہ ڈاکٹرز جو مستقبل میں پوسٹ گریجوئیٹ ٹریننگ کے خواہشمند ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پالیسی پوری میڈیکل کمیونٹی کے لیے غیر واضح، غیر منصفانہ اور نقصان دہ ہے، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں بے چینی، اضطراب اور نظام پر عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔
آخر میں، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب نے اس پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ:
• حکومت فوری طور پر اس غیر منصفانہ فیصلے پر نظرثانی کرے
• تجربہ مارکس فوری بحال کیے جائیں
• اور کسی بھی نئی پالیسی کے لیے واضح ٹائم لائن، مشاورت اور ٹرانزیشن اسٹرکچر فراہم کیا جائے
اگر حکومت نے ڈاکٹر برادری کے اس جائز مطالبے کو نظرانداز کیا تو YDA پنجاب صوبے بھر کے ڈاکٹروں سے مشاورت کے بعد اپنا آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی، جس کی مکمل ذمہ داری محکمہ صحت پنجاب پر عائد ہو گی۔
⸻
متحد رہیں
مضبوط رہیں
وائ ڈی اے پنجاب