09/05/2026
کل کے وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے بعد پیٹرول کی قیمت 415 روپے فی لیٹر ہو چکی ہے، ابھی بھی زیادہ تر سرکاری و نیم سرکاری ادارے ورک فرام ہوم کر رہے ہیں، جبکہ فزیکلی کام ہفتے میں صرف چار دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اب ڈاکٹرز بیچارے برے پھنسے ہوئے ہیں۔ پیر سے ہفتے تک بلاناغہ ڈیوٹیاں، وارڈ کالز و ایمرجینسی ڈیوٹی اور پھر او پی ڈی، اتوار کو ہاٹ سنڈے لگ جاتا، جبکہ کسی عام تعطیل کے دن ڈیوٹی لگ گئی تو وہ بھی آپ نے کرنی ہی کرنی ہے۔ عید کی ڈیوٹیاں الگ۔ یہ سب کام کرنے کے باوجود، ایک عام ڈاکٹر کی تنخواہ اتنی ہی ہے، جتنی آج سے 5 سال قبل تھی۔ 5 سال قبل ڈالر کی قیمت اور آج کی قیمت میں زمین آسمان تک کا فرق ہے، جبکہ ڈاکٹرز کی تنخواہیں اسی 5 سال قبل والے ڈالر کی قیمت میں مل رہی ہیں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ، کیا ڈاکٹرز کی گاڑیاں و موٹر سائیکلز پیٹرول کی بجائے پانی پر چلتی ہیں؟ کیا ڈاکٹرز کو گرمی نہیں لگتی کہ ان کو گرمیوں کی چھٹیاں ملیں؟ کیا ڈاکٹرز کا دل نہیں کرتا کہ وہ عید اپنے خاندان کے ساتھ منائیں؟ کیا اس مہنگائی سے عام ڈاکٹر متاثر نہیں ہوا؟
ایک عام PGR، جس کا ماہانہ stipend ایک لاکھ دس ہزار روپے ہے، جبکہ اس کا ورک لوڈ باقیوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے، تو وہ اس تنخواہ سے کیسے گزارہ کرے گا؟ کیسے اپنے خاندان کو پالے گا؟
ڈاکٹرز کے لئے کوئی سروس اسٹرکچر موجود ہی نہیں۔ قائد اعظم کا قول “کام، کام اور کام” کیا صرف ڈاکٹرز پر ہی لاگو ہوتا ہے؟ اگر پیٹرول کی قیمتوں سے باقی طبقے متاثر ہوئے ہیں تو ڈاکٹرز بھی اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جن کی تنخواہ تو پہلے جتنی ہی ہے، لیکن ہر چیز کی قیمت ٹرپل ہو چکی ہے۔
سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ڈاکٹرز کا ہاؤس رینٹ، conveyance allowance آج بھی اتنا ہے جتنا 2018 میں تھا۔
جب تک اس پیٹرول کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں، تب تک ڈاکٹرز کو بھی ہفتے میں چار دن ڈیوٹی پر بلایا جائے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سرکار، ڈاکٹرز کے سروس سٹرکچر کو از سر نو مرتب کرے۔ پبلک ہالیڈیز و عیدین پر ڈیوٹی کرنے والوں کو سپیشل الاؤنس دیا جائے۔ HOs, PGRs کے stipend میں فی الفور اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، جبکہ ٹیچنگ فیکلٹی اور جنرل کیڈر ڈاکٹرز کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔
ہسپتالوں میں انسانیت سوز ڈیوٹی روسٹر کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ کم تنخواہ، زیادہ ورک لوڈ، اور hectic ڈیوٹی روسٹر کی وجہ سے ڈاکٹرز انزائٹی کا شکار ہو رہے ہیں، جس پر بھی اربابِ اختیار کو لازمی سوچنا چاہیے۔
بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی وجہ سے میڈیکل شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے، اوپر سے سرکاری ہسپتالوں میں ہر روز کی فضول چیکنگ و چھاپے، اب کیمروں سے surveillance، موبائل پر ایکسرے دیکھنے کی وجہ سے نوکری سے نکال دینا، ضروری دوائی باہر سے منگوانے پر نوکری سے برخاستگی جیسے فیصلوں کی وجہ سے آج کا ڈاکٹر، اس ملک سے اور اس نظام سے مایوس ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا کنسلٹنٹ باہر SHO کی جاب بھی کرنے کو تیار ہے۔ تھوڑا نہیں، زیادہ سوچیے۔۔
ہر ینگ ڈاکٹر کی آواز
وائے ڈی اے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور
میڈیا سیل، وائے ڈی اے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور۔