Al Shafa Dawakhana Hakeem Mushtaq Ahmad Attari

Al Shafa Dawakhana Hakeem Mushtaq Ahmad Attari For business only

31/01/2021
سنگھاڑا'مفید پھل ہی نہیں دوا بھیسنگھاڑا پانی میں کیچڑ کے نیچے اگنے والا مخروطی شکل کا پھل ہے اور اپنی اس شکل کی وجہ سے ن...
11/12/2020

سنگھاڑا'
مفید پھل ہی نہیں دوا بھی

سنگھاڑا پانی میں کیچڑ کے نیچے اگنے والا مخروطی شکل کا پھل ہے اور اپنی اس شکل کی وجہ سے ناپسندیدہ لفظ کے طور پر بولا جاتا ہے۔اس پھل کو اردو میں سنگھاڑا اور انگریزی میں Water Chestnut کہتے ہیں۔سردیاں شروع ہوتے ہی منڈیوں اور بازار میں دکانوں پر گاہکوں کی نظر میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔جنوبی ایشیامیں عام طور پر اس میوے یا پھل کو سنگھاڑا کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ پانی پھل سمیت اس کے متعدد نام ہیں۔

سنگھاڑا پودے کی جڑوں میں اگتا ہے (آلو کی فصل کی طرح) اس کی سبز رنگ کی ٹہنیوں پر پتے نہیں اگتے اور یہ ٹہنیاں ایک سے پانچ میٹر اونچائی تک جاتی ہیں۔اس کے اندر کا گودا سفیدرنگ کا ہوتا ہے جسے عام طور پر کچا یا ابال کر کھایا جاتا ہے اور پیس کر آٹا بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چائنیز کھانوں میں سنگھاڑا کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔

سنگھاڑے سردیوں میں منہ چلانے کے لیے بہترین چیز ہے۔ چونکہ یہ ہلکے بہتے پانیوں پر اُگتا ہے اس لیے پھل میں اس وقت کچھ نقصان دہ مواد ہوسکتا ہے جب اسے تازہ تازہ فروخت کیا جائے مگر مناسب طریقے سے دھونے کے بعد اس کا توازن بحال ہوجاتا ہے۔اس کے چھلکے اُتارنے یا کسی مشروب میں ٹکڑے کرکے ڈالنے، سلاد میں اضافے، سوپ، سالن یا کری میں ڈالنے سے قبل سات منٹ تک اُبالا، بھونا یا بھاپ میں رکھا جائے تو بہتر ہے۔ اسے پیزا کی اوپری سجاوٹ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ پورے چکن میں بھرا جاسکتا ہے، اسے پاؤڈر بناکر کیک اور پڈنگز بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ اچار کے طور پر ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔

سنگھاڑے میں کاربوہائیڈریٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں، پروٹین، وٹامن بی، پوٹاشیم اور کاپر بھی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کچا سنگھاڑا ہلکا میٹھا اور خستہ ہوتا ہے جب کہ اُبلا ہوا سنگھاڑا اور بھی زیادہ مزیدار اور ذائقہ دار ہو جاتا ہے۔ سنگھاڑے کا ذائقہ (Taste) بالکل منفرد ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے بھوک میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ سنگھاڑے میں موجود کیلوریز دوسری سبزپتوں والی سبزیوں کی نسبت کم ہوتی ہیں تاہم اس میں موجود آئرن، پوٹاشیم، کیلشیم، زنک اور فائبر کی مقدار اس کے استعمال میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔

سنگھاڑے کے استعمال سے تھکاوٹ دور ہوتی اور جسم میں خون کی ترسیل بہتر ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد عورت کے لیے سنگھاڑے کے آٹے کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے کے آٹے کو گوندھ کر جسم کی سوجھی ہوئی جگہ پر لیپ کرنے سے تکلیف رفع ہوتی ہے۔ سنگھاڑے کے گودے سے بنایا ہوا سفوف کھانسی سے نجات دلاتا ہے۔ پانی میں ابال کر پینے سے قبض کی شکایت دور ہوتی ہے۔ معدے اور انتڑیوں کے زخم کے لیے مقوی ہے۔ سنگھاڑے کے استعمال سے بڑھاپے میں یادداشت کم ہونے کے امکانات گھٹ جاتے ہیں۔

سنگھاڑا پوشیدہ امراض کے شکار مرد و خواتین کیلئے تحفہ خدا ہے۔یہ کمزور مردوں اور خواتین کے ماہانہ نظام کے لیے بھی مفید ہیں۔سنگھاڑے کے سفوف میں دودھ یا دہی ملا کر استعمال کرنے سے پیچش سے آرام آتا ہے۔ ان کے استعمال سے دانت چمکدار اور مسوڑھے صحت مند ہوتے ہیں۔

نومبر کے دوسرے ہفتے سے فروری تک سردی پڑتی ہے ، اس میں بھی سنگھاڑا زکام او ر سردی کا مقابلہ کرنے میں معاون بنتا ہے۔ پیشاب کی زیادتی بڑے بوڑھوں کو بہت تنگ کرتی ہے۔ خصوصاً سردی کے موسم میں بار بار اٹھنا بہت تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس کیفیت میں چھٹانک پھر ابلے ہوئے سنگھاڑے کھائیے ، آہستہ آہستہ مقدار بڑھا دیجیے مگر تین چھٹانک سے زیادہ نہ کھائیں۔ دو تین ہفتے تک کھا لیجیے۔ اس سے بدن میں طاقت آئے گی اور بار بار پیشاب کی حاجت ختم ہو جائے گی ، تازہ نہ ملیں تو تولہ بھر سوکھے سنگھاڑے کا سفوف کھائیے۔

آج کل نوجون لڑکے چٹ پٹے بازاری کھانے اور بھنا گوشت بہت کھاتے ہیں۔ اس سے ان کا معدہ خراب ہوتا اور جسم میں گرمی بھی بڑھ جاتی ہے۔ پھر وہ جعلی حکیموں کے پاس جا کر علاج کراتے ہیں جس سے اور نقصان ہوتا ہے۔ جسمانی کمزوری بڑھتی جاتی ہے۔ طاقت بالکل نہیں رہتی۔ اعصاب ہر وقت تھکن کا شکار رہتے ہیں۔ کام کاج کرنے اور پڑھنے لکھنے میں دل نہیں لگتا بدن کھوکھلے کر دینے والے مادے صحت کو زنگ لگا دیتے ہیں۔ چڑ چڑا پن بڑھ جاتا ہے۔ نقاہت کسی کام کا نہیں چھوڑتی دماغی کمزوری کام نہیں کرنے دیتی۔ ان تمام خرابیوں کو دور کرنے کیلئے سنگھاڑا ایک نعمت ہے۔ صرف سات آٹھ دانے اُبلے ہوئے سنگھاڑے ناشتے میں کھائیے۔

سنگھاڑے کے دیگر فوائد
*سنگھاڑے کے استعمال سے دانت مضبوط اور چمک دار ہو جاتے ہیں۔ اس سے مسوڑھے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
*زخموں سے خون بہنے کو روکتا ہے۔ اسے اندرونی اور بیرونی طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بیرونی طور پر سفوف سنگھاڑا زخموں پر چھڑکا جاتا ہے۔
*گردے کی خرابی کی وجہ سے کھانسی کو فوراً روکتا ہے اور گردے کی اصلاح کرتا ہے۔
*دودھ بیچنے والے سنگھاڑے کے آٹے کو دودھ میں ملا کرابالتے ہیں تاکہ ملائی زیادہ آئے۔
* سنگھاڑے کا آٹا تین تولے، گھی چھ تولے لے کر آٹے کو اچھی طرح گھی میں بھون لیں۔ بعد ازاں چھ تولہ چینی پانی میں حل کرکے چاشنی بنائیں اور بھنے ہوئے آٹے میں ملا دیں۔ بس سنگھاڑے کا حلوہ تیار ہے۔ جو بے حد مقوی باہ ہوتا ہے۔
*نشے اور خمار کو سنگھاڑاادرست کرتا ہے۔
*جریان کے علاج میں سنگھاڑے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
*اسے زیادہ مقدار میں کھانے کی صورت میں قولنج یا درد شکم کی شکایت ہو جاتی ہے۔
*حلق کی خشکی کو دور کرتاہے۔
*امراض قلب میں سنگھاڑے کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
* جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور جسم کو فربہ کرتا ہے۔
*گردہ اور مثانہ کی پتھری کو توڑتا ہے۔
* صفراوی بخار میں چھ ماشہ سفوف سنگھاڑا ہمراہ پانی کھانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
* تپ دق، سل کو روکنے اور بیماری کی صورت میں سنگھاڑا کھانا مفید ہوتا ہے۔
*خونی پیچش آنے کی صورت میں سنگھاڑے کا استعمال بے حد مفید ہے۔ اگر تازہ نہ ملے تو خشک سنگھاڑا ایک تولہ رگڑ کر صبح دوپہر اور شام ہمراہ پانی لینے سے فوراً فائدہ ہوتا ہے۔ اسے دہی کے ساتھ بھی کھایاجا سکتا ہے۔

حكيم مشتاق احمد عطارى

09/12/2020
08/09/2020

نٸے FTJ اور BEMS اطبا ٕمطب کلینیکل پریکٹس کیسے شروع کریں؟؟

جو طالبعلم FTJ یا BEMS کر رھے ھیں آج کی یہ میری پوسٹ ان اطبا ٕ حضرات کے لیےھے جو حکمت کی تعلیم حاصل کر چکےھیں۔
یعنی وہ FTJ یا بی ای ایم ایس کے امتحانات پاس کر چکے ھیں۔ لیکن اس تحریر سے استفادہ وہ اطبا ٕ بھی حاصل کر سکیں گےجنہوں نے ایف ٹی جے یا بی ای ایم ایس کر تو لیا ھے لیکن پریکٹس کی ھمت نہی کر پا رھے ۔
میں حکمت کو جائین کرنے والے ھر طالب علم کو ھمیشہ یہ کہتا ھوں کہ اگر آپ نے حکمت کو سیکھنا ھے اور اسکی پریکٹس کرنی ھے تو اس کو مکمل اڈاپٹ کیجئے اسے پارٹ ٹائم کے طور پہ مت لیں آج کل بڑی بڑٰی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد زندگی سی ویز(Cvs) بھیجتے نوکری کے لیے اپلائی کرتے انکی فوٹو کاپیاں کرتے کراتے لوگوں کی گزر رھی ھے پروفیشنل ڈگری پروفیشنل تعلیم نہ ھونے کے باعث لوگ نوکری کے بنا کچھ کر ھی نہیں سکتے ۔لہذا ایک معزور ایک اپاہج کی طرح ہم بے سروسامانی، پریشانی اورپشیمانی کا شکار ھوتےھیں کہ اتنی تعلیم حاصل کرنے کےبعد بھی اس معیار کی انکو نوکری نہی مل پاتی ۔

حکمت کو اگر دل سے جو سیکھتا ھے اور اسکے فن کا فنکار بن جاتا ھے اسے نوکری کرنی ھی نہیں پڑھتی اسکی مثال اک خوشبودار پھول کے جیسی ھوتی ھے وہ جدھر جاتا ھے اپنی مہک چھوڑتا ھے اپنی خوبصورتی اپنے علم اپنے اعتماد اور بہترین دست شفا کی وجہ سے ھمیشہ نمایاں رھتا ھے لوگ اسکی مہک لینے کے منتظر رھتے ھیں ۔

لہذا میری طلبا سے پھر گزارش ھے کہ حکمت کو مکمل طور پہ اپنائیں اور اپنے آپ کو پوری طرح حکیم اور طبی کمیونٹی سے منسلک کریں اپنی اک پہچان بنائیں اس سے آپ کو اک حوصلہ ملے گا علم ملے گا اور اعتماد میں اضافہ ھوگا اگر آپ حکیم ھونے کے با وجود حکیم اور طبی کمیونٹی سے دور ھیں تو آپ کو مطب کلینک بنانے کا کوئی فائدہ نہی ھوگا اور نہ ہی آپ سے لوگوں کوفائدہ ھوگا کیونکہ اللہ مریض بھی اسی کے پاس بھیجتا ھے۔ جہاں رب نے شفا رکھ چھوڑی ھوتی ھے وہ شفا اسکے علم اسکے اخلاق اسکے اپنے فن سے وفا و ھمدردی کی بدولت ملتی ھے لہذا آپ سب سے پہلے اپنے فن سے وفا کرنا سیکھیں ا اسکو پوری طرح سیکھیں اپنے فن کو عزت دیں یہ پھر بدلے میں آپ کو عزت ،وقار اور رزق دے گا ۔

طلبا طب و حکمت کے لیے انہتائی ضروری ھے کہ اک طرف وہ کالج ریگولر جا کر تعلیم حاصل کریں
وھاں شام کو کسی اچھے پروفیشنل حکیم کے پاس جاکر بیٹھیں اس سے بھی کچھ سیکھیں صرف جا کہ دیکھیں کہ وہ اپنے مریضوں کو کیسےڈیل کر رھا ھے کس قسم کے امراض کے مریض أ رھےھیں کیس ٹیکنگ(Case taking) اور تشخیص (Diagnosis) کیسے کی جا رھی ھے ۔ اسی طرح جو اطبا ٕ کالج سے فارغ التحصیل ھو چکے ھیں - FTJ کو 6 ماہ اور BEMS کو 1سال کی ہاٶس کسی بھی اچھے حکیم کے پاس مکمل کرنا چایئے یہ 6 ماہ یا 1سال طب کو عملی طور پر سیکھنے کے لیے کافی ھیں جس میں جو اس نے کالج میں پڑھا ھوا ھے اس کا عملی مشاھدہ ھوتا ھے اور پریکٹس کا بھی تجربہ ھونا شروع ھو جاتا ھے جب وہ مختلف قسم کے امراض کے مریضوں کو دیکھتا ھے انکی کیس ٹیکنگ اور تشخیص اور نسخہ نویسی کامشاھدہ کرتا ھے دیکھتا ھے کہ حکیم صاحب نے کیسے اک مریض کی ہسٹری لی مریض نے کیا کیا بتایا وہ خود بھی مشاھدہ کرتا ھے یہ 6 ماہ یا سال کی عملی پریکٹس اسکے علم فن اور تجربہ میں اضافہ کرتی ھے جس میں آپ کا اعتماد اور بڑھتا ھے۔
ھ
جب آپ کی ھاوس جاب مکمل ھو جاتی ھے تو پھر آپ نے اپنےمطب کلینک کے لیے اچھی لوکیشن دیکھنی ھے جو ایسے چوراھے پہ ھو کسی ایسی جگہ پہ ھو جو کسی ایک محلے ایک گاؤں کے لیے نہ ھو بلکہ ایسی جگہ پہ ھو کہ ایک دو دیہات یا دو چار محلوں کے لوگ اس جگہ سے گزرتے ھوں ، شہر میں مطب کلینک کسی ایسی جگہ ھو جو مختلف دیہاتوں قصبوں کے لوگوں کی گزرگاہ کے پاس ھو تا کہ آپ کسی گلی یا محلے تک محدود نہ ھوں بلکہ آپ کے مطب کلینک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی نگاہ کا مرکز بنے ۔

لوگ کرایہ سے ڈر کہ گی محلے کی نکر یا سائیڈ پر مطب کلینک کے لیے جگہ لیتے ھیں. جہاں پر لوگوں کا گزرنا بھی نہیں ھوتا اور نہ ھی اپنے کوئی خاص پبلک ریلیشنز ھوتے ہیں۔ جسکی وجہ سے وہ اس جگہ پہ کامیاب نہیں ھو پاتے ، اگر آپ کی جان پہچان نہیں تو پھر مطب کلینک کسی ایسی جگہ پہ ھو جو عام لوگوں کی نظر میں ھو جہاں سے روزانہ سینکڑوں ھزاروں لوگوں کا گزر ھو تو آپ پھر کرایہ کی فکر نہ کریں ، گلی محلے میں تو عطاٸی یا ڈسپنسرز بیٹھتے ھیں ایک کوالیفاٸیڈ حکیم کو گلی محلے میں مطب کلینک کی بجاۓ گاؤں اور قصبے کی سطح پہ مکمل پروفیشنل مطب کلینک بنانا چاہیئے۔
جہاں مطب کے تمام ضروری لوازمات پورے کٸے جا سکتے ہوں۔ لہذا اچھی لوکیشن کا انتخاب سب سے اھم ھے۔ پارٹ ٹائم مطب کلینک کےلیے آپ گلی محلے یا گھر کے ڈراٸنگ روم میں بھی بیٹھ سکتےھیں لیکن فل ٹائم مطب کلینک کے لیے آپکو ایسی لوکیشن درکار ھے جو نامی گرامی مارکیٹ ، سڑک یا مقام ھو اچھی لوکیشن پر کرایہ زیادہ بھی ھو تو نکل آتا ھے اس صورت میں آپ کو اپنے اور اپنے فن کے اوپر مکمل گرفت اعتماد اور اپنےرب پر مکمل توکل اور بھروسہ ہونا ضروری ھے ۔

حکمت کی پریکٹس کو ھم کاروبار تو نہیں کہ سکتے لیکن اک پرائیویٹ مطب تو ضرور ھے جس کے اپنے ماہانہ اور روزانہ کے اخراجات ھوتے ھیں لہذا پرائیویٹ پریکٹس وہ ھی شروع کرے جسکو اپنی اھلیت قابلیت پہ اعتماد ھے جس نے اپنے فن کو سیکھا ھوا ھے اور اپنےکلینک کو پورا ٹائم دینےکی صلاحیت رکھتاھے جو لوگ مطب کو وقت نہیں دے سکتے انکو مطب کلینک کھولنے کی ضرورت نہی ھےکیونکہ پہلے تین سال آپ کو مطب کلینک کو فل ٹائم دینا ھے اسکے بعد آپ مارننگ (Morning)اور ایوننگ (Evening)میں دو مختلف جگہوں پہ مطب کلینک بنا سکتے ھیں لیکن پہلے آپ کو فل ٹائم دینا ھوگا ۔

کلینک کا کرایہ کتنا قابل قبول ھونا چایئے ؟
آپ کی کلینک کا کرایہ 5 سے20 ھزار تک ماہانہ ہو تو آپ ایسی جگہ کلینک کے لیے لے سکتےھیں۔ لیکن یاد رکھیں زیادہ کرایہ اسی وقت قابل قبول ھونا چایئے جب وہ دوکان شہر کے مرکزی مقام پہ ھو جہاں آپ کا کلینک پورے شہر کے لوگوں کی مرکز نگاہ میں ھو ، اگر آپ کی اپنے علاقہ میں جان پہچان نام پہلے سےبنا ھوا ھے تو آپ کسی بھی بیسمنٹ یا دوسری تیسری منزل پہ بھی مطب کلینک بنا سکتےھیں اور اچھا مطب بنا سکتے ھیں لیکن آپ کی جان پہچان اک حکیم کے طور پہ اس علاقہ میں نہیں ھے اورنہ آپ مارکیٹنگ کااتنابجٹ رکھتےھیں تو پھر آپ کو مطب کلینک شہریا گاٶں کے مرکزی مقام پہ ھی بنانا چایئے جب آپ کے نام کی شہرت بن جاۓ تو آپ پھر کسی بھی سائیڈ کے مقام پہ پہلے سے ذیادہ بڑی اور کھلی جگہ شفٹ ھو سکتےھیں ۔

کلینک کا سائز کتنا ھونا چایئے ؟
اک معیاری کلینک کا سائز Ft12فٹ بائی Ft20 فٹ ھونا چایئے جس میں آپ کا مشورہ روم، ڈسپنسری ، سٹور اور ویٹنگ روم، باتھ روم ھینڈ واش سینٹیشن پورا سیٹ اپ بن سکتا ھو۔ اس سے چھوٹا مطب کلینک گلی محلےکا تو ھو سکتا ھے لیکن شہر کا کلینک اسے کم سائز کا بہتر نہیں ھےجہاں پر آپکو مریض کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھنا ھوتا ھے۔ایسا نہیں کہ اندر کیبن میں مریض کی ہسٹری ٹیکنگ ھو رھی ھو اور باتوں کی آواز باھر آ رھی ھو ۔

حکیم کا کنسلٹیشن روم کلینک کے آخر میں ھو جہاں شور شرابا نہ ھو مریض اندر آتے ھی آرام اور سکون سےبیٹھ کری آپ کو اپنی تکلیف بتا سکے ۔ اگر آپ کےمطب کی جگہ کم بھی ھو تو بھی مشورہ روم ایسا ھو کہ اندر بیٹھے آپ کی آواز باہر مریضوں تک نہ پہنچے مریض کی پرائیویسی کا سب سے پہلے خیال کیجئے اور حکیم اورمریض کی تمام گفتگو ریکارڈ یا میڈیکل رپورٹس کسی سے شیئر مت کیجئے۔

ڈسپنسری میں ادویات کون کون سی ھونی چایئیں ؟

مختلف مریضوں کی مختلف امراض کی سٹیجز اور بیماریوں کی نوعیت اور اسباب کے لحاظ سے ادویات کا انتخاب کیا جاتا ھے ۔

کس کمپنی کی ادویات زیادہ موثر ھیں ؟

قرشی ،ہمدرد،اجمل،اشرف،مرحبا ٕ،لاثانی،أفتاب قرشی اور ہربیونی کے علاوہ بھی کافی سارے اچھے دواساز ادارے موجود ہیں۔جن کی ادویات کو پورے اعتماد سے استعمال کروایا جا سکتا ھے۔



کتنی مالیت کی ادویات کلینک کے لیے کافی ھیں ؟
گلی محلےکے مطب کلینک کے لیے تو 20 تیس ھزار کی ادویات بھی کافی ھوتی ھیں لیکن آپ اک بہتر اور معیاری مطب کلینک بنانا چاھتے ھیں تو ایک دو لاکھ کی ادویات آپ کے مطب کلینک ڈسپنسری کے لیے کافی ھونگی لیکن اگر آپ سٹور بنانا چاھتے ھیں تو پھر جتنی اینوسٹمنٹ کریں کم ھے لیکن یہ اینویسٹمنٹ وہ ھی کرے جس کا 5 سے دس سال کا تجربہ ھو۔

کیا سپیشلائزڈ پریکٹس بہتر ھے یا جنرل پریکٹس بہتر ھے ؟
سب سے پہلے آپ آغاز جنرل پریکٹس سے کیجئے اور جب آپ کے کلینک کو 5 سال ھو جائیں تو پھر آپ دیکھیں کہ آپ کو اللہ نے کس مرض کے علاج میں دسترس دے رکھی ھے کون سے امراض آپ سے شفایاب زیادہ ھو رھے ھیں آپ پھر سپیشلائزڈ کلینک بنا سکتے ھیں ۔

کیا حکمت علاج کا کوئ سکوپ ھے ؟
حکمت میں پوٹینشل ھے تو آج یہ سینکڑوں سال سے یونیورسٹیز اور کالجز میں پڑھائی جا رھی ھے یہ کوئی تکا نہی تھا جو کسی سے لگ گیا یہ اک سائنس ھے اک فن ھے اسکی جڑیں ھیں یہ اک پورا سسٹم ھے اسکی اپنی ایک فلاسفی کلیات ھے اگر آپ چاھتے ھیں کہ آپ اک کامیاب حکیم بنیں اور ایسے حکیم بنیں جس کا نام رھتی نسلوں تک قائم رھے جو علم کا مینار بنے توالحمد للہ حکمت وہ راستہ ھے جو سیدھا کامیابی کی طرف جاتا ھے آج تک میں نے کوئ ایسا حکیم نہیں دیکھا جو اچھی پریکٹس کرتا ھو اور اسکے نام کا ڈنکہ کسی دوسرے شہر نہ بجتا ھو۔ آپ کو اپنے اوپر اینویسٹمنٹ کی ضرورت ھے جتنی بہتر تعلیم جتنے بہتر سکلز آپ کے پاس ھونگے اتنے اچھے معالج ھونگے لہذا سیکھنے کا سلسلہ تا مرگ ختم نہی کرنا ھے ھم روز سونف پڑھ رھے ھوتے ھیں اور ھمیں روز کوئ نئی بات پتا چلتی ھے علم اک سمندر ھے ھم بس چلو بھر ھی اس سے پی پاتے ھیں لہذا سیکھتے رھیں سکھاتے رھیں دیئے سے دیا جلاتے رھیں ۔

اک اچھا معالج ہسٹری ٹیکنگ میں ماھر ھوتا ھے لیکن اس سے پہلے آپ کو اناٹومی فزیالوجی پتھالوجی کلیات قانون اور تمام 26 علوم میں دسترس حاصل ھونی چایئے انسانی جسم اللہ کی اشرف تخلیق ھے انسان اللہ کی اشرف مخلوق ھے اسکا معالج ھونا لوگوں کا علاج صدق دل سے کرنا بھی عبادت ھے لہذا اللہ کی اس تخلیق اور مخلوق کو سمجھنے میں تمام تر اپنی توانائی صرف کریں جتنی بہتر دسترس اتنا جلد آپ مرض کی تشخیص اور اسکے اسباب کو سمجھ سکتے ھیں کیونکہ جب تشخیص اور اسباب کا مرحلہ مکمل ھو جاتا ھے تو راہ شفا ملتی ھے۔

حکیم مشتاق احمد عطاری

19/04/2020

🌺 *اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے!*

🔹 *جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں ، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے ؛ نہ ان کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کوئی غم پہنچے گا ۔*🔹
📗«سورۃ البقرۃ-262»

06/04/2020

Address

Main Bazaar Qasoor Pura Near Nasir Flour Mills
Lahore

Telephone

+923220164246

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Shafa Dawakhana Hakeem Mushtaq Ahmad Attari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Al Shafa Dawakhana Hakeem Mushtaq Ahmad Attari:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram