Eʅ Mҽԃιƈσ Oϝϝιƈιαʅ

Eʅ Mҽԃιƈσ Oϝϝιƈιαʅ ᴍᴅ ᴄᴜʙᴀ ʟᴀᴛɪɴ-ᴀᴍᴇʀɪᴄᴀ🇨🇺
𝐇𝐞𝐚𝐥𝐭𝐡, 𝐄𝐧𝐭𝐞𝐫𝐭𝐚𝐢𝐧𝐦𝐞𝐧𝐭 & 𝐏𝐨𝐥𝐢𝐭𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐅𝐨𝐫𝐮𝐦☑️
(6)

31/03/2026

لیڈی ولنگٹن کے واقعے میں عوام نے اتنا شور مچایا کہ چھے لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں، یہاں تک کہ ایم ایس تک کو معطل کر دیا گیا۔
لیکن اصل شکوہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے کئی ڈاکٹرز نے بھی اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
عوام تو ویسے ہی کافی تھی—اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ خود ہی پھانسی تک دے دیتی۔
آپ لوگوں کی طرف سے مزید ہوا دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اگر آپ لوگ اس معاملے کو مزید نہ بڑھاتے تو بھی عوام اپنا کام کر لیتی،
مگر آپ نے بھی اپنا حصہ ڈال کر اس آگ کو اور بھڑکایا

کوئی قربانی کر رہا ہو تو کیا تم لوگ شور مچانا شروع کر دو گے ؟
“او بھائی، تم کیا کر رہے ہو؟ تم کسی کو کاٹ رہے ہو، کسی کی جان لے رہے ہو…”
کیا کسی ڈرائیور سے کہا جاتا ہے:
“او بھائی، تم گاڑی چلا رہے ہو، زندگی اور موت کے درمیان ٹرکوں اور بسوں کے بیچ سفر کر رہے ہو اور گانے سن رہے ہو؟”
کیا کسی پائلٹ سے کہا جاتا ہے:
“تم ہوا میں ہو، سینکڑوں جانوں کی ذمہ داری تم پر ہے اور تم آرام سے چائے پی رہے ہو؟”
بات یہ ہے کہ نہ کوئی تحقیق ہے، نہ سمجھ—بس جذبات ہیں، وہ بھی عقل کی جگہ۔
کیا قیامت آ گئی ہے کہ اب صرف معطلی بھی کافی نہیں لگتی؟ کچھ لوگ تو پھانسی تک کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
او لعنتیوں، اپنے پورے خاندان میں ایک ڈاکٹر جیسا دماغ ڈھونڈ کر تو دکھاؤ۔
وہ ماں باپ بھی دکھاؤ جو سب کچھ چھوڑ کر صرف فیسیں بھرتے ہیں۔
وہ وقت بھی لا کر دکھاؤ جب تم لوگ ناچ گانا، فیملی ٹائم اور سوشل زندگی انجوائے کر رہے ہوتے ہو…
اور ایک ڈاکٹر زندہ لاش کی طرح ڈیوٹی کر رہا ہوتا ہے۔
یہ سب کچھ ہونے کے باوجود، ایک ویڈیو نے تمہارے لیے سب کچھ خراب کر دیا؟
جبکہ ہمارے قاتل زندہ ہیں، بے خوف ہیں، آزاد ہیں… اور آج بھی اپنی نوکریاں کر رہے ہیں۔

(تحریر ڈاکٹر حافظ محمد عمر )

30/03/2026

‏اسرائیل کے پاس دُنیا کا بہترین ائیر ڈیفینس ہے
لیکن اس کے باوجود یہ ایران کے جدید میزائلوں کے آگے ناکام ہو رہا ہے۔ یہ ایرانی میزائل انٹرسیپٹرز کو چکما دے کر راستہ تبدیل کر لیتے ہیں اور کامیابی سے ٹارگٹ کو ہٹ کر رہے ہیں۔

30/03/2026

"اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا"
میرے خیال میں ڈاکٹرز کو ایک دن میں اتنے ہی مریض دیکھنے چاہئیں جتنے کیسز ایک جج ایک دن میں سنتا ہے۔

سالہا سال سے ڈاکٹرز اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کی قیمت پر ایک دن میں سینکڑوں مریض دیکھتے آ رہے ہیں۔ ایک مہذب معاشرے کی طرح ڈاکٹرز کو بھی ایک دن میں محدود تعداد میں مریض دیکھنے چاہئیں۔

پوری قوم تین دن کے ورک شیڈول سے لطف اندوز ہو رہی ہے جبکہ ڈاکٹرز بدستور معمول کے مطابق دستیاب ہیں—تو ڈاکٹرز یہ اضافی کام کیوں کریں؟ کیا انہیں اس کا اضافی معاوضہ دیا جاتا ہے؟ یا حکومت انہیں مفت پٹرول فراہم کر رہی ہے؟

میں یہاں عدلیہ کی مثال دے رہا ہوں کہ لاکھوں مقدمات زیر التوا ہونے کے باوجود وہ اپنی معمول کی گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں بھی لیتے ہیں اور اضافی مراعات بھی حاصل کرتے ہیں، اور انہیں اس بات کی زیادہ پرواہ نہیں ہوتی کہ کتنے کیسز باقی ہیں۔ وہ بھی انسان ہیں—تو کیا ڈاکٹر انسان نہیں؟

ایک سادہ سی کہاوت ہے:
"جو گدھا زیادہ محنت کرتا ہے، اسی پر زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا ہے"

اور:
"اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا"
اور ڈاکٹرز یہ اضافی محنت کیوں کریں جب
30 فیصد ڈاکٹرز مفت کام کر رہے ہیں،
اور جنہیں تنخواہ ملتی بھی ہے، وہ بھی عدلیہ اور پارلیمنٹ میں کام کرنے والے ایک چپڑاسی سے کم ہوتی ہے؟

ڈاکٹرز یہ اضافی بوجھ کیوں اٹھائیں جب وہ روزانہ ہزاروں جانیں بچاتے ہیں مگر اس کا کوئی اعتراف نہیں ہوتا، بلکہ ایک معمولی سا واقعہ (جس میں دو نوجوان انٹرنز ٹک ٹاک طرز پر ہلکی پھلکی کمنٹری کر رہے تھے جبکہ ڈاکٹرز پیشہ ورانہ مہارت سے جانیں بچا رہے تھے) بھی اس نام نہاد بے حس معاشرے میں اخلاقی پولیسنگ کا طوفان کھڑا کر دیتا ہے؟

جب ایک خاتون ڈاکٹر کو دن دہاڑے ایک جاہل تیماردار کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا ہے تو اس قوم کو کوئی درد کیوں محسوس نہیں ہوتا؟

جب ہر کسی کے پاس ہیلتھ انشورنس ہے، حتیٰ کہ میٹرک فیل مافیا جرنلسٹس کے پاس بھی، تو جانیں بچانے والے ڈاکٹرز اس سہولت سے کیوں محروم ہیں؟

ڈاکٹرز یہ اضافی محنت کیوں کریں جب ان کی مخلصانہ کوششوں کو لالچ کا نام دیا جاتا ہے اور انہیں “قصائی” جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے؟

میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈاکٹرز کو “مسیحا” نہیں بلکہ ایک سروس پرووائیڈر کے طور پر تسلیم کیا جائے تاکہ وہ اس معاشرتی بلیک میلنگ سے بچ سکیں۔

ڈاکٹرز یہ اضافی محنت کیوں کریں جب ان کی اپنی جان اور حفاظت خطرے میں ہو اور مشکل وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دیا جائے؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے ڈاکٹرز، جو اپنے ہی ساتھیوں کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں، انہیں اس صورتحال کی سنگینی کا احساس دلایا جائے۔ ہم نے کبھی عدلیہ، صحافت یا وکلا برادری کے سینئر افراد کو اپنے ہی لوگوں کو اس طرح کھلے عام سرزنش کرتے نہیں دیکھا۔

مزید یہ کہ انتظامی عہدوں پر موجود ڈاکٹرز کو بلند اخلاقی معیار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی آقاؤں کی خوشامد کرنے کے بجائے انہیں چاہیے کہ وہ ہسپتال کے دستیاب انسانی وسائل کے مطابق ہی کام کا بوجھ رکھیں اور اسی حد تک ذمہ داری قبول کریں۔

از طرف: ڈاکٹر محمد وسیم

لاہور میں آپریشن تھیٹر کی وائرل ہونے والی ویڈیو ایک نہایت افسوسناک واقعہ ہے جس میں مریض کی پرائیویسی کو واضح طور پر نظر ...
28/03/2026

لاہور میں آپریشن تھیٹر کی وائرل ہونے والی ویڈیو ایک نہایت افسوسناک واقعہ ہے جس میں مریض کی پرائیویسی کو واضح طور پر نظر انداز کیا گیا، حالانکہ طب ایک ایسا پیشہ ہے جہاں مریض کی عزت اور رازداری کو اولین حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اس پر تنقید اور احتساب بالکل درست ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہی معیار ہر ایک پر یکساں لاگو ہوتا ہے؟ اگر ڈاکٹرز کی غلطی پر انہیں سخت تنقید اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر دیگر بااثر افراد، خصوصاً بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو اسی پیمانے پر کیوں نہیں پرکھا جاتا؟ ان جیسے کیسز میں، اور اسی طرح کی کئی دیگر ویڈیوز بھی موجود ہیں جہاں سرکاری افسران ہسپتالوں میں نازک حالت کے مریضوں کے سامنے سوشل میڈیا کے لیے مواد بناتے نظر آتے ہیں، یہ لوگ جب وزٹ پر آتے ہیں تو اس ٹائم کیمرامین سے لے پوری ٹیم ایمرجنسی سے لے کر او ٹی میں گھسی ہوتی ہے جہاں انکے جانے کا تک نہیں بنتا مگر ان پر وہی ردعمل دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اگر مریض کی پرائیویسی کی خلاف ورزی جرم ہے تو یہ اصول سب پر برابر لاگو ہونا چاہیے، چاہے وہ ڈاکٹر ہو یا کوئی سرکاری افسر۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ احتساب عہدے یا اثر و رسوخ کو دیکھ کر نہیں بلکہ عمل کی بنیاد پر کیا جائے، اور ہر اس فرد کو جوابدہ ٹھہرایا جائے جو پیشہ ورانہ اور اخلاقی حدود کو پامال کرے۔۔
موبائل کیمرا اور ویڈیو جتنا ڈاکٹرز کے لئے ہسپتالوں میں غلط ہے اتنا ہی بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کے بھی۔۔
لیکن ہماری قوم کو صرف موقع ملے ڈاکٹرز پر تنقید کا باقی سب ٹھیک ہے ان کے لئے۔۔۔۔۔

28/03/2026

‏ٹرمپ مکمل طور پر پاگل ہوچکا ہے!
آبنائے ہرمز کا نام بدل کر, آبنائے ٹرمپ رکھ دیا🤣
پیچواڑے سے دھواں نکالنا باقی ہے, ورنہ تو ایران نے ٹرمپ کو بلکل پاگل بنادیا ہے!!

28/03/2026

جونیئر ڈاکٹروں نے ویڈیو بنائی، جو کہ آپریشن تھیٹر کے اندر سے بنانا غلط تھا، لیکن اس میں نہ تو مریض کی کوئی پرائیویسی متاثر ہوئی اور نہ ہی مریض کے بارے میں کوئی ایسی چیز نظر آ رہی ہے۔

جو چیز واضح طور پر نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹرز ایک ہی آپریشن تھیٹر میں درمیان میں پردہ لگا کر دو آپریشن کر رہے ہیں، اور کام کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ تمام ڈاکٹر ایک ہی وقت میں مصروف ہیں۔ وہ ایک ہی آپریشن تھیٹر میں دو مریضوں کا آپریشن کر کے زیادہ سے زیادہ مریضوں کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس بات کو کسی نے سراہا نہیں۔ ویڈیو بنانے والی ڈاکٹرز سب سے جونیئر ہیں، جبکہ آپریشن کرنے والی ڈاکٹرز سکون کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہیں اور مریض بھی ٹھیک ہیں، بعد میں بھی انہیں کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔

لیکن معاشرے میں اس قدر پستی آ چکی ہے کہ مشی خان جیسی عمر رسیدہ اور غیر تعلیم یافتہ خواتین، اسد طور جیسے گھٹیا اور کم فہم صحافی، اور بہت سے دیگر لوگوں نے اس معاملے پر ایسا شور مچایا جیسے خدا نخواستہ مریضوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہو یا انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔

اگر ویڈیو بنانے سے واقعی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس پر قانون کے مطابق تادیبی کارروائی کر لیں۔ کوئی کہتا ہے ان کو گرفتار کر لیا جائے، کوئی کہتا ہے ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں، اور کوئی کہتا ہے انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جائے۔

اے ظالمو، اے محض ویوز لینے کے لیے حد سے گزر جانے والے لوگوں! کیا اس سے بھی تمہیں تسلی نہیں ہوگی؟ کیا تم چاہتے ہو کہ انہیں چوک میں کھڑا کر کے پھانسی دے دی جائے یا توپوں کے سامنے کھڑا کر کے اڑا دیا جائے؟

ایک ایسی قوم جو ایک SHO یا MNA/MPA کے سامنے ذلیل ہوتی ہے، وہ انہی ڈاکٹروں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔

جتنا کسی کا قصور ہے، اس کے مطابق ضرور تادیبی کارروائی کریں، مگر اس شدت پسند ذہنیت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے نام نہاد صحافی اس معاشرے میں آزاد گھومنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔

📢 ڈاکٹروں کے ساتھ ناانصافی بند کرو!پنجاب کے ڈاکٹر شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرول کی قیمتوں میں ...
27/03/2026

📢 ڈاکٹروں کے ساتھ ناانصافی بند کرو!

پنجاب کے ڈاکٹر شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، اور روزمرہ اخراجات میں بے پناہ اضافہ—
لیکن تنخواہیں وہی کی وہی!

⚠️ کیا ایک ڈاکٹر، جو دن رات عوام کی جان بچاتا ہے،
اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے بھی پریشان رہے؟

⚠️ کیا یہی صلہ ہے برسوں کی محنت، تعلیم اور قربانیوں کا؟

📉 حقیقت یہ ہے کہ:
ڈاکٹرز کو غربت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے
اور ان کے جائز مطالبات پر سنجیدہ غور کرنے کے بجائے
پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے دباؤ اور کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

⚖️ ایک تلخ حقیقت:
ججوں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور دیگر سرکاری افسران کو
✔ فری پٹرول
✔ بے شمار مراعات اور سہولیات
✔ مالی تحفظ اور مراعات یافتہ نظام

جبکہ دوسری طرف—
❗ ڈاکٹرز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر مریضوں کی خدمت کرتے ہیں
لیکن ان کے لیے نہ مناسب تنخواہ، نہ سہولیات، نہ تحفظ!

❗ ہم مطالبہ کرتے ہیں:
✔ تنخواہوں میں فوری اور خاطر خواہ اضافہ
✔ مہنگائی کے تناسب سے الاؤنسز
✔ ڈاکٹروں کے لیے مراعات اور تحفظ
✔ عزت اور انصاف پر مبنی رویہ

🚨 اب مزید خاموشی نہیں!
ڈاکٹرز اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں گے۔

ڈاکٹرز کو عزت دو — صحت کا نظام بچاؤ!

🚨 کیوبا میں انسانیت سسک رہی ہے… 🇨🇺آج Cuba اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے…بجلی کا نظام بیٹھ چکا ہے، اور اس کے ساتھ ہی زندگی کی ڈ...
27/03/2026

🚨 کیوبا میں انسانیت سسک رہی ہے… 🇨🇺
آج Cuba اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے…
بجلی کا نظام بیٹھ چکا ہے، اور اس کے ساتھ ہی زندگی کی ڈور بھی کمزور پڑ رہی ہے۔
ہسپتالوں میں علاج رک گیا ہے، آپریشن ملتوی ہو رہے ہیں، اور وہ مریض جو مشینوں کے سہارے سانس لے رہے تھے… ان کے لیے ہر لمحہ قیامت بن چکا ہے۔
ادویات خراب ہو رہی ہیں، امیدیں ٹوٹ رہی ہیں، اور پورا ملک ایک خاموش کرب میں مبتلا ہے۔
اس بحران کے پیچھے ایک بڑی وجہ ایندھن کی شدید قلت بھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق United States کی جانب سے Venezuela کے ساتھ کشیدگی اور پابندیوں کے باعث تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس سے کیوبا اندھیرے میں ڈوب گیا ہے۔ �
The Guardian +1
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
بجلی صرف سہولت نہیں… زندگی ہے۔
اللہ سب پر رحم فرمائے اور اس آزمائش کو آسان کرے۔ 🤲

27/03/2026

واہ کیا عوامی مقبولیت ہے کہ کرکٹر کے اکاوئنٹ سے ہیکر کے ایک ٹوئیٹ نے پورے تخت کو ہلا کر رکھ دیا ہے!!

🤦🤦🤦

دنیا کے تین پستہ قد ڈاکٹرز بھارت کے سب سے چھوٹے قد کے ڈاکٹر *گنیش برائیہ* ہیں (گجرات)۔ وہ تقریباً *3 فٹ 4 انچ* (تقریباً ...
26/03/2026

دنیا کے تین پستہ قد ڈاکٹرز
بھارت کے سب سے چھوٹے قد کے ڈاکٹر *گنیش برائیہ* ہیں (گجرات)۔ وہ تقریباً *3 فٹ 4 انچ* (تقریباً 101-102 سینٹی میٹر) لمبے ہیں اور ڈورفزم کی وجہ سے 72 % لوکوموٹر ڈس ایبیلٹی رکھتے ہیں۔

- NEET پاس کرنے کے بعد میڈیکل کونسل آف انڈیا نے ابتدا میں ان کی درخواست قد کی بنیاد پر مسترد کر دی، لیکن سپریم کورٹ نے 2018 میں فیصلہ دیا کہ انہیں داخلہ ملنا چاہیے۔
- انہوں نے 2019 میں MBBS شروع کیا، 2024 میں ڈگری مکمل کی اور بھاؤنگر کے سر-ٹی ہسپتال میں انٹرن شپ کی۔ اب وہ میڈیکل آفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
- انہیں غیر رسمی طور پر "دنیا کے سب سے چھوٹے ڈاکٹر" کہا جاتا ہے؛ گنیز ریکارڈ میں ابھی سرکاری اندراج نہیں، لیکن بھارت میں یہی سب سے چھوٹے قد کے ڈاکٹر مانے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر مائیکل اے آئن ایک امریکی پیڈیاٹرک آرتھوپیڈک سرجن ہیں، جنہیں اکثر دنیا کے چند "لٹل پرسن" ڈاکٹروں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ وہ اچونڈروپلیزیا (dwarfism) کے ساتھ پیدا ہوئے—قد تقریباً 4 فٹ 3 انچ۔

- 20-30 میڈیکل اسکولوں سے ابتدائی طور پر رد کیا گیا کیونکہ انٹرویو لینے والوں کو شک تھا کہ وہ مریضوں کے بیڈ تک پہنچ پائیں گے یا سرجری کر سکیں گے۔
- آخرکار البنی میڈیکل کالج نے انہیں قبول کیا؛ بعد میں انہوں نے جانز ہاپکنز میں پیڈیاٹرک آرتھوپیڈکس میں فیلوشپ کی اور وہیں تین دہائیوں تک کام کیا، خاص طور پر اسکیلیٹل ڈس پلیزیا اور ریڑھ کی خرابیوں پر۔
- وہ گرین برگ سینٹر فار اسکیلیٹل ڈس پلیزیا میں مریضوں کو دیکھتے رہے، تحقیق اور تدریس بھی کی، اور متعدد سائنسی مقالے شائع کیے۔
- اب وہ کلینیکل پریکٹس سے ریٹائرڈ ہیں، لیکن ان کی کہانی رکاوٹوں کے خلاف استقامت کی مثال سمجھی جاتی ہے۔
چین کے سب سے چھوٹے قد کے ڈاکٹر کے طور پر اکثر *زیاؤ جیو لین* (Xiao Jiulin) کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ جیانگشی صوبے کے دیہی علاقے میں کام کرنے والے دیہی ڈاکٹر ہیں:

- قد تقریباً *90 سینٹی میٹر* (3 فٹ سے کم) ہے، بچپن کی بیماری کی وجہ سے نمو رک گئی۔
- 1989 سے گاؤں کی کلینک میں دیہی ڈاکٹر کے طور پر خدمات دے رہے ہیں؛ 30 سال سے زیادہ عرصے میں 2,000 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا۔
- ان کی اہلیہ ہوانگ شوزین انہیں گھر-گھر جانے کے لیے پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتی ہیں، کیونکہ وہ خود چلنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
- کم فیس، قرض کی اجازت، اور بزرگوں کے مفت چیک-اپ جیسے طریقوں سے گاؤں میں ان پر اعتماد بڑھا۔ انہیں "چین کے سب سے چھوٹے ڈاکٹر" کے طور پر میڈیا میں نمایاں کیا گیا۔
, ,
,

26/03/2026

‏میں پٹواریوں سے معافی مانگتا ہوں، ہم سجھتے تھے کہ صرف شہبازے کی اُتلی بتی گُل ہے، پر اے ٹرمپ دا تے پورا ٹرانسفارمر ہی پھُڑکا ہوا ہے!

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں ایرانیوں نے اپنا نیا سپریم لیڈر بننے کا کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا! 🤷‍♂️🤦‍♂️😂

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Eʅ Mҽԃιƈσ Oϝϝιƈιαʅ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram