31/03/2026
لیڈی ولنگٹن کے واقعے میں عوام نے اتنا شور مچایا کہ چھے لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں، یہاں تک کہ ایم ایس تک کو معطل کر دیا گیا۔
لیکن اصل شکوہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے کئی ڈاکٹرز نے بھی اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
عوام تو ویسے ہی کافی تھی—اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ خود ہی پھانسی تک دے دیتی۔
آپ لوگوں کی طرف سے مزید ہوا دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اگر آپ لوگ اس معاملے کو مزید نہ بڑھاتے تو بھی عوام اپنا کام کر لیتی،
مگر آپ نے بھی اپنا حصہ ڈال کر اس آگ کو اور بھڑکایا
کوئی قربانی کر رہا ہو تو کیا تم لوگ شور مچانا شروع کر دو گے ؟
“او بھائی، تم کیا کر رہے ہو؟ تم کسی کو کاٹ رہے ہو، کسی کی جان لے رہے ہو…”
کیا کسی ڈرائیور سے کہا جاتا ہے:
“او بھائی، تم گاڑی چلا رہے ہو، زندگی اور موت کے درمیان ٹرکوں اور بسوں کے بیچ سفر کر رہے ہو اور گانے سن رہے ہو؟”
کیا کسی پائلٹ سے کہا جاتا ہے:
“تم ہوا میں ہو، سینکڑوں جانوں کی ذمہ داری تم پر ہے اور تم آرام سے چائے پی رہے ہو؟”
بات یہ ہے کہ نہ کوئی تحقیق ہے، نہ سمجھ—بس جذبات ہیں، وہ بھی عقل کی جگہ۔
کیا قیامت آ گئی ہے کہ اب صرف معطلی بھی کافی نہیں لگتی؟ کچھ لوگ تو پھانسی تک کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
او لعنتیوں، اپنے پورے خاندان میں ایک ڈاکٹر جیسا دماغ ڈھونڈ کر تو دکھاؤ۔
وہ ماں باپ بھی دکھاؤ جو سب کچھ چھوڑ کر صرف فیسیں بھرتے ہیں۔
وہ وقت بھی لا کر دکھاؤ جب تم لوگ ناچ گانا، فیملی ٹائم اور سوشل زندگی انجوائے کر رہے ہوتے ہو…
اور ایک ڈاکٹر زندہ لاش کی طرح ڈیوٹی کر رہا ہوتا ہے۔
یہ سب کچھ ہونے کے باوجود، ایک ویڈیو نے تمہارے لیے سب کچھ خراب کر دیا؟
جبکہ ہمارے قاتل زندہ ہیں، بے خوف ہیں، آزاد ہیں… اور آج بھی اپنی نوکریاں کر رہے ہیں۔
(تحریر ڈاکٹر حافظ محمد عمر )