31/05/2026
ہر حمل صرف خوشی نہیں لاتا 😭😨… کچھ حمل ماں کے دل میں ایسا درد چھوڑ جاتے ہیں جو زندگی بھر نہیں جاتا 💔ہر چیز پر صبر نہیں آتا
وہ ایک امید سے بھری عورت تھی۔ شادی کے کئی سال بعد جب اسے پہلی بار ماں بننے کی خبر ملی تو گھر میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ ہر آنکھ میں خواب تھے، ہر دل میں آنے والے بچے کے لیے دعائیں تھیں۔ وہ خود بھی ہر لمحہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مسکراتی رہتی، جیسے زندگی نے اسے نیا مطلب دے دیا ہو۔
شروع کے دن آسان نہیں تھے، مگر وہ ہر تکلیف کو خوشی سمجھ کر سہہ لیتی۔ صبح کی متلی ہو یا رات کی بےچینی، وہ ہر درد کو یہ سوچ کر برداشت کرتی کہ اس کے اندر ایک نئی زندگی پل رہی ہے۔ ڈاکٹر نے احتیاط بتائی تھی، آرام کا کہا تھا، اور گھر والوں نے بھی اسے ہر کام سے روک دیا تھا۔
وقت گزرتا گیا اور حمل کے مہینے آگے بڑھتے گئے۔ اب وہ زیادہ محتاط ہو چکی تھی۔ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتی، ہر چیز کھانے سے پہلے سوچتی۔ مگر اندر کہیں ایک خوف بھی تھا جو وہ کسی کو بتا نہیں پاتی تھی۔
ایک دن اچانک اسے پیٹ میں تیز درد محسوس ہوا۔ پہلے اس نے اسے معمولی سمجھا، مگر درد بڑھتا گیا۔ گھر والے گھبرا گئے اور فوراً اسے اسپتال لے جایا گیا۔ راستے میں وہ بار بار اپنے بچے کے لیے دعا کرتی رہی، آنکھوں سے آنسو بہتے رہے مگر ہونٹ خاموش تھے۔
اسپتال پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے اسے فوراً اندر لے لیا۔ کئی ٹیسٹ ہوئے، کئی گھنٹے انتظار میں گزر گئے۔ باہر بیٹھے گھر والے ہر آنے والے لمحے سے ڈرتے تھے۔ وقت جیسے رک سا گیا تھا۔
پھر ڈاکٹر باہر آیا… اس کے چہرے کی سنجیدگی سب کچھ کہہ رہی تھی۔ ایک لمحے میں پوری دنیا جیسے ٹوٹ گئی۔ بچے کی دھڑکن رک چکی تھی۔ وہ ماں جو کئی مہینوں سے اپنے خوابوں کو سنبھال رہی تھی، اچانک خالی ہاتھ رہ گئی۔
وہ خاموش تھی… نہ چیخ، نہ آواز، بس آنکھوں سے آنسو تھے جو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ دل جیسے جسم سے نکل گیا ہو۔ ہر خواب، ہر امید ایک لمحے میں ختم ہو گئی۔
گھر واپسی کا راستہ بہت لمبا لگ رہا تھا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی مگر کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ سب کچھ دھندلا گیا تھا۔ لوگوں کی باتیں، تسلیاں، سب بے معنی لگ رہی تھیں۔
دن گزرتے گئے مگر درد کم نہ ہوا۔ وہ اکثر اپنے ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھتی، جیسے اب بھی کسی زندگی کی امید باقی ہو۔ مگر اب وہاں صرف خاموشی تھی۔
وقت نے اسے چلنا تو سکھا دیا، مگر جینا نہیں۔ وہ ہنس تو دیتی تھی مگر دل اندر سے اب بھی ٹوٹا ہوا تھا۔
اور وہ بار بار یہی سوچتی تھی… کیا ہر ماں کو اپنے خوابوں کی قیمت اتنی بڑی ادا کرنی پڑتی ہے؟ 💔