25/05/2025
پاکستان میں فارمولا کریمیں: خوبصورتی کا فریب اور صحت کے خطرات
پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی "فارمولا کریمیں" بہت عام ہیں۔ ان کریموں کو عام طور پر بیوٹی پارلرز میں یا بغیر کسی ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کریمیں مختصر مدت میں جلد کی رنگت کو گورا کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے انتہائی خطرناک اور دیرپا مضر اثرات ہوتے ہیں جو جلد اور مجموعی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
فارمولا کریموں میں شامل خطرناک اجزاء:
ان کریموں میں عام طور پر ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو سخت کیمیکل سمجھے جاتے ہیں اور ان کا استعمال طبی نگرانی کے بغیر نہیں ہونا چاہیے:
سٹیرائیڈز (Corticosteroids): یہ جلد کی سوزش اور خارش کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن لمبے عرصے تک استعمال سے جلد پتلی ہو جاتی ہے، اس پر نشانات پڑ جاتے ہیں، اور مہاسے، رگوں کا نمایاں ہونا (telangiectasia)، اور جلد کا سرخ ہو جانا (rosacea) جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات ان کا استعمال جسم میں سٹیرائیڈ کے منفی اثرات (systemic steroid effects) کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
ہائیڈروکوینون (Hydroquinone): یہ ایک ایسا کیمیکل ہے جو جلد میں رنگ پیدا کرنے والے خلیوں (melanocytes) کی سرگرمی کو کم کرتا ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال جلد پر سیاہ دھبے (ochronosis) اور شدید جلن کا باعث بن سکتا ہے۔ بہت سے ممالک میں ہائیڈروکوینون پر مشتمل کریموں کو صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی فروخت کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
مرکری (Mercury): پارا یا مرکری ایک زہریلی دھات ہے جو جلد کی رنگت کو عارضی طور پر گورا کرتی ہے، لیکن اس کے استعمال سے جلد پر خارش، دانے، رنگت کا خراب ہونا، اور گردوں کو نقصان پہنچنے جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے یہ خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ یہ بچوں میں بھی اعصابی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
کوجک ایسڈ (Kojic Acid): یہ بھی جلد کی رنگت کو ہلکا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن اس سے بھی جلد میں سوزش اور حساسیت پیدا ہو سکتی ہے۔
مضر اثرات:
فارمولا کریموں کے استعمال سے درج ذیل مضر اثرات سامنے آ سکتے ہیں:
جلد کا پتلا ہو جانا: سٹیرائیڈز کے مسلسل استعمال سے جلد بہت پتلی اور نازک ہو جاتی ہے، جس سے اس پر آسانی سے زخم اور نشانات پڑ سکتے ہیں۔
سوجن اور لالی: کیمیکلز کی وجہ سے جلد پر شدید جلن، سرخی اور سوجن ہو سکتی ہے۔
مہاسے اور دانے: ان کریموں کے استعمال سے چہرے پر شدید مہاسے اور دانے نکل سکتے ہیں۔
جلد کا خراب ہونا: طویل عرصے تک استعمال سے جلد کی قدرتی رنگت خراب ہو جاتی ہے اور اس پر گہرے بھورے یا سیاہ دھبے پڑ سکتے ہیں۔
گردوں کو نقصان: مرکری جیسے زہریلے اجزاء جسم میں جذب ہو کر گردوں اور اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
حساسیت: جلد سورج کی روشنی اور دیگر موسمی اثرات کے خلاف بہت زیادہ حساس ہو جاتی ہے۔
خود اعتمادی میں کمی: جب یہ کریمیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور جلد خراب ہو جاتی ہے، تو خواتین میں خود اعتمادی کی شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات حالات اس قدر خراب ہو جاتے ہیں کہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں صورتحال:
پاکستان میں رنگ گورا کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے، اور اسی وجہ سے فارمولا کریمیں کھلے عام دستیاب ہیں۔ بہت سے بیوٹی پارلرز اور عام دکانوں پر یہ کریمیں بغیر کسی نسخے اور مناسب رہنمائی کے فروخت کی جاتی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) ایسے کاسمیٹکس پر نظر رکھتی ہے جو طبی اجزاء پر مشتمل ہوں، لیکن غیر قانونی اور مضر صحت کریموں کی روک تھام ایک بڑا چیلنج ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی ان کریموں کے مضر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور مرکری کی زیادہ مقدار کو جلد کے کینسر کا باعث قرار دیا گیا ہے۔
نتیجہ:
فارمولا کریمیں خوبصورتی کا ایک فریب ہیں جو صحت کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ان کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور جلد کے مسائل کے لیے ہمیشہ کسی مستند جلد کے ڈاکٹر (Dermatologist) سے رجوع کرنا چاہیے۔ صحت مند اور چمکدار جلد کے لیے متوازن غذا، مناسب پانی کا استعمال، اور ایسے پروڈکٹس کا انتخاب ضروری ہے جن کے اجزاء محفوظ اور تصدیق شدہ ہوں۔