Dr. Sidra Noreen

Dr. Sidra Noreen Consultant Dermatologist

14/08/2025
پاکستان میں فارمولا کریمیں: خوبصورتی کا فریب اور صحت کے خطراتپاکستان میں رنگ گورا کرنے والی "فارمولا کریمیں" بہت عام ہیں...
25/05/2025

پاکستان میں فارمولا کریمیں: خوبصورتی کا فریب اور صحت کے خطرات

پاکستان میں رنگ گورا کرنے والی "فارمولا کریمیں" بہت عام ہیں۔ ان کریموں کو عام طور پر بیوٹی پارلرز میں یا بغیر کسی ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کریمیں مختصر مدت میں جلد کی رنگت کو گورا کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے انتہائی خطرناک اور دیرپا مضر اثرات ہوتے ہیں جو جلد اور مجموعی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

فارمولا کریموں میں شامل خطرناک اجزاء:

ان کریموں میں عام طور پر ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں جو سخت کیمیکل سمجھے جاتے ہیں اور ان کا استعمال طبی نگرانی کے بغیر نہیں ہونا چاہیے:

سٹیرائیڈز (Corticosteroids): یہ جلد کی سوزش اور خارش کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن لمبے عرصے تک استعمال سے جلد پتلی ہو جاتی ہے، اس پر نشانات پڑ جاتے ہیں، اور مہاسے، رگوں کا نمایاں ہونا (telangiectasia)، اور جلد کا سرخ ہو جانا (rosacea) جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات ان کا استعمال جسم میں سٹیرائیڈ کے منفی اثرات (systemic steroid effects) کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
ہائیڈروکوینون (Hydroquinone): یہ ایک ایسا کیمیکل ہے جو جلد میں رنگ پیدا کرنے والے خلیوں (melanocytes) کی سرگرمی کو کم کرتا ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال جلد پر سیاہ دھبے (ochronosis) اور شدید جلن کا باعث بن سکتا ہے۔ بہت سے ممالک میں ہائیڈروکوینون پر مشتمل کریموں کو صرف ڈاکٹر کے نسخے پر ہی فروخت کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
مرکری (Mercury): پارا یا مرکری ایک زہریلی دھات ہے جو جلد کی رنگت کو عارضی طور پر گورا کرتی ہے، لیکن اس کے استعمال سے جلد پر خارش، دانے، رنگت کا خراب ہونا، اور گردوں کو نقصان پہنچنے جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے یہ خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ یہ بچوں میں بھی اعصابی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
کوجک ایسڈ (Kojic Acid): یہ بھی جلد کی رنگت کو ہلکا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن اس سے بھی جلد میں سوزش اور حساسیت پیدا ہو سکتی ہے۔

مضر اثرات:

فارمولا کریموں کے استعمال سے درج ذیل مضر اثرات سامنے آ سکتے ہیں:

جلد کا پتلا ہو جانا: سٹیرائیڈز کے مسلسل استعمال سے جلد بہت پتلی اور نازک ہو جاتی ہے، جس سے اس پر آسانی سے زخم اور نشانات پڑ سکتے ہیں۔
سوجن اور لالی: کیمیکلز کی وجہ سے جلد پر شدید جلن، سرخی اور سوجن ہو سکتی ہے۔
مہاسے اور دانے: ان کریموں کے استعمال سے چہرے پر شدید مہاسے اور دانے نکل سکتے ہیں۔
جلد کا خراب ہونا: طویل عرصے تک استعمال سے جلد کی قدرتی رنگت خراب ہو جاتی ہے اور اس پر گہرے بھورے یا سیاہ دھبے پڑ سکتے ہیں۔
گردوں کو نقصان: مرکری جیسے زہریلے اجزاء جسم میں جذب ہو کر گردوں اور اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
حساسیت: جلد سورج کی روشنی اور دیگر موسمی اثرات کے خلاف بہت زیادہ حساس ہو جاتی ہے۔
خود اعتمادی میں کمی: جب یہ کریمیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور جلد خراب ہو جاتی ہے، تو خواتین میں خود اعتمادی کی شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات حالات اس قدر خراب ہو جاتے ہیں کہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں صورتحال:

پاکستان میں رنگ گورا کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے، اور اسی وجہ سے فارمولا کریمیں کھلے عام دستیاب ہیں۔ بہت سے بیوٹی پارلرز اور عام دکانوں پر یہ کریمیں بغیر کسی نسخے اور مناسب رہنمائی کے فروخت کی جاتی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) ایسے کاسمیٹکس پر نظر رکھتی ہے جو طبی اجزاء پر مشتمل ہوں، لیکن غیر قانونی اور مضر صحت کریموں کی روک تھام ایک بڑا چیلنج ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی ان کریموں کے مضر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور مرکری کی زیادہ مقدار کو جلد کے کینسر کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

نتیجہ:

فارمولا کریمیں خوبصورتی کا ایک فریب ہیں جو صحت کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ان کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور جلد کے مسائل کے لیے ہمیشہ کسی مستند جلد کے ڈاکٹر (Dermatologist) سے رجوع کرنا چاہیے۔ صحت مند اور چمکدار جلد کے لیے متوازن غذا، مناسب پانی کا استعمال، اور ایسے پروڈکٹس کا انتخاب ضروری ہے جن کے اجزاء محفوظ اور تصدیق شدہ ہوں۔

**منہ کے چھالے** (Mouth Blisters) چھوٹے، دردناک زخم ہوتے ہیں جو منہ کے اندر، جیسے کہ گالوں کے اندر، زبان، ہونٹوں یا مسوڑ...
21/05/2025

**منہ کے چھالے** (Mouth Blisters) چھوٹے، دردناک زخم ہوتے ہیں جو منہ کے اندر، جیسے کہ گالوں کے اندر، زبان، ہونٹوں یا مسوڑھوں پر بن سکتے ہیں۔ یہ عام طور پر سفید، پیلے یا سرخ رنگ کے ہوتے ہیں اور کھانے، پینے یا بات کرنے میں تکلیف دیتے ہیں۔

# # # **منہ میں چھالوں کی وجوہات:**

1. **زخمی ہونا یا چوٹ لگنا:**

* زبان یا گال کو کاٹ لینا
* سخت برش کرنا
* دانتوں کی صفائی کے دوران زخم
* بریکٹس یا دانتوں کی ساخت کی رگڑ

2. **وٹامنز کی کمی:**

* وٹامن B12، آئرن یا فولک ایسڈ کی کمی

3. **خوراک سے حساسیت:**

* مرچ مصالحے والے، کھٹے یا نمکین کھانے
* مخصوص غذاؤں سے الرجی (جیسے خشک میوہ جات یا چاکلیٹ)

4. **ذہنی دباؤ یا ہارمونی تبدیلیاں:**

* ٹینشن یا نیند کی کمی
* خواتین میں حیض کے دوران تبدیلیاں

5. **انفیکشنز:**

* وائرس (جیسے ہرپیز وائرس)
* بیکٹیریا یا فنگس کی موجودگی

6. **طبی بیماریاں:**

* قوت مدافعت کی بیماریاں (جیسے لیوپس، کروہن بیماری یا سیلیک بیماری)

7. **ادویات کے اثرات:**

* مخصوص اینٹی بائیوٹکس یا درد کی دوائیں
* کیموتھراپی

8. **منہ کی صفائی کا خیال نہ رکھنا:**

* دانت صاف نہ کرنا یا غیر معیاری ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا

اگر منہ کے چھالے دو ہفتے سے زیادہ رہیں، بار بار بنیں یا بہت زیادہ تکلیف دیں، تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے...
05/04/2025

رسول الله ﷺ نے فرمایا:
”قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا“
تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے“۔
سنن ابی داود: حدیث نمبر 4297
یہ حدیث مسند احمد (22397)
صحیح الجامع الصغیر (8183)

One Sky, Two Realities
31/12/2024

One Sky, Two Realities

سکیبیر کی خارش۔۔۔۔۔پبلک سروس میسج موسم تبدیل ہونا شروع ہوا ہے تو اس بیماری نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ خاص طور پر...
29/12/2024

سکیبیر کی خارش۔۔۔۔۔پبلک سروس میسج

موسم تبدیل ہونا شروع ہوا ہے تو اس بیماری نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ خاص طور پر مدرسوں ہوسٹلوں میں رہنے والے طالب علم اور کمبائن فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔۔۔

پہلے سمجھیں بیماری ہے کیا ۔اگر بیماری کو سمجھ لیا تو گھر سے نکالنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔۔۔۔

سکیبیز کی خارش، خارش کی ایک ایسی قسم ہے جو ہمارے ہاں بہت عام ہے ۔ اور اس کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے طویل عرصے تک لوگ خارش کا عذاب برداشت کرتے رہتے ہیں ۔ لوگوں کی طرف سے مرض کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ٹائیفائیڈ اور نمونیا کا علاج تو آسان ہے لیکن سکیبیز کا نہیں کیونکہ یہ بیماری فرد واحد کی نہیں بلکہ پورے گھرانے کی ہے۔ بلکہ پورے معاشرے کی کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا

سکیبیز (خارش) کیا ہے؟

سکیبیز خارش کی ایک قسم ہے جو ایک کیڑے کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس کی مادہ انسانی جلد میں سوراخ بنا کر انڈے دیتی ہے۔تین سے چار دن پر لاروا نکل کر بڑا ہوتا ہے اور نئی جگہیں تلاش کرکے انڈے دیتا رہتا ہے اور یوں جسم میں اس کی افزائش نسل جاری رہتی ہے۔ خارش کے عمل کے دوران اس کا کیڑا کپڑوں میں گر جاتا ہے اور ان کپڑوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچ جاتا ہے یا خارش کے عمل کے دوران ہاتھوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر کیڑا بستر پر گر جائے تو جسم سے باہر بھی چوبیس سے چھتیس گھنٹے زندہ رہ سکتا ہے۔

خارش کا آغاز سکیبیز کا کیڑا جسم میں داخل ہونے کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد شروع ہوتا ہے۔ اسلئے جب تک بیماری کا علم ہوتا ہے سارا گھر متاثر ہوچکا ہوتا ہے۔کیڑے سے متاثر بستر اور کپڑے بیماری کے فروغ کی ایک بڑی وجہ بن جاتے ہیں ۔

سکیبیز سے کون لوگ زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔
یہ کیڑا کسی کے بھی جسم میں ڈیڑے ڈال سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ مرض ان لوگوں میں زیادہ پھیلتا ہے ۔جوایک دوسرے کے زیادہ قریب رہتے ہیں۔ جیسے ہوسٹلوں میں رہنے والے طالب علم، دینی مدارس، کلاس روم، کمبائن فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد ۔۔اور ایسے گھروں میں رہنے والے لوگوں میں بھی جہاں دھوپ کم آتی ہے نمی کا تناسب زیادہ رہتا ہے اور صفائی کا خیال کم رکھا جاتا ہے۔ ۔خارش والے مریض کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے کیڑا صحت مند جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔

علامات
سب سے واضح علامت خارش ہوتی ہے۔ جو دن بھر تنگ کرنے کے بعد، رات کو زیادہ ہوجاتی ہے۔ کمبل، رضائی لینے سے جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو خارش بھی بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ مصالحے دار کھانے کے ساتھ بھی خارش کی شدت کو زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔ اور اکثرلوگ گوشت کی الرجی سمجھ کر گوشت کھانا چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔
بڑوں میں زیادہ تر خارش ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان، کلائیوں پر، کہنیوں کے پیچھے اور بغلوں میں ہوتی ہے۔ عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے اور مردوں میں پیشاب والی نالی کے اوپر خارش کے نشانات کافی واضح ہوتے ہیں ۔ چہرہ عام طور پر محفوظ رہتا ہے۔ بچوں میں پورا جسم متاثر ہوسکتا ہے۔جس میں پاؤں اور پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جگہ بھی شامل ہوتی ہے ۔۔

مناسب لائٹ کے ساتھ خارش والی جگہوں کو دیکھیں تو باریک باریک سوراخ نظر آئیں گے۔ یہ وہ پناہ گاہیں ہیں جن میں کیڑا انڈے دیتا ہے۔ جو خارش کی وجہ سے دانوں یا زخم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

بہت سے مریضوں میں بار بار خارش کرنے کی وجہ سے بیکٹرییل انفیکشن داخل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پیپ والے دانے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جو اکثر اوقات زخم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں

علاج
علاج سے پہلے ضروری ہے کہ ان رستوں کو بند کیا جائے، جہاں سے کیڑا مریض تک منتقل ہوا ہے
سکول جانے والے بچوں کے یونیفارم کی صفائی میں بہت زیادہ احتیاط برتی جائے۔ گھر واپسی پر پہلا کام یہ کریں کہ یونیفارم تبدیل کروا کر یا تواسے دھو ڈالیں یا پھر استری کرکے اگلے دن کیلئے تیار کریں
ہوسٹل یا مدرسوں میں رہنے والے لوگ خارش والے لوگوں سے دور رہیں۔ اپنا تولیا صابن، بستر ہر چیز دوسروں سے الگ رکھیں۔
بستروں کی چادریں جلدی تبدیل کریں، تولیئے جلدی دھوئیں ہوسکے تو الگ الگ تولیا اور بستر استعمال کریں
سارے بستر ، رضائیاں، کمبل سرھانے، قالین، اور پردوں کو دھوپ لگوائیں تاکہ ان میں موجود کیڑا مر سکے
بچوں کے کپڑے دن میں دو تین بار بدلیں ، اور بڑے افراد بھی روزانہ تبدیل کریں
کپڑے جب بھی پہنیں استری کرکے پہنیں۔۔

اگر جسم پر زخم یا دانے موجود ہیں تو انٹی الرجی یا انٹی بائیوٹک استعمال کرکے پہلے زخموں اور دانوں کو بہتر بنا لیں۔
کیڑے کو مارنے کیلئے بہت سی کریمیں لوشن دستیاب ہیں جن کو جسم پر ملا جاتا ہے۔ جیسے پرمیتھرین، سلفر پلس کروٹامیٹون یا پھر صرف سادہ سلفر کسی لوشن میں ملا کر لگایا جاتا ہے۔
پرمیتھرین کو چونکہ ہر عمر کیلئے محفوظ سمجھا جاتا ہے اور اگر صحیح طرح استعمال کیا جائے تو صرف ایک بار لگانے سے سارے کیڑوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اسلیئے اس کا استعمال مناسب بھی ہے اور محفوظ بھی ۔
لوشن کو جسم پر لگانے سے پہلے درج ذیل باتوں کو دھیان میں رکھیں
ایک تو لوشن لگانے سے پہلے اگر جسم پر کوئی زخم وغیرہ موجود ہے تو اس کا پہلے علاج کروا لیں
دوسرا لوشن استعمال کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کے سب افراد دستیاب ہوں اور لوشن لگانے پر راضی بھی۔ بے شک کسی کو خارش ہے یا نہیں۔۔ یا پہلے تھی اب نہیں ، وہ بزرگ ہے یا کوئی شیر خوار بچہ ۔۔

ایک ہی دن سب لوگ لوشن لگائیں

لوشن لگانے سے پہلے نہائیں
نہانے کے بعد جسم کو تولیئے سے تھوڑا سا خشک کرکے سارے جسم پر لوشن کو ملیں
اس بات کو یقینی بنائیں کہ جسم کا کوئی حصہ بغیر دوائی کے نہ رہ جائے ۔ خاص طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان، بغلوں میں ، (عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے)، پیشاب والی جگہ پر ، پخانے والی جگہ کے ارد گرد، پاؤں کے تلوئوں پر۔چار سے پانچ منٹ تک دوائی کو جسم میں جذب ہونے کا موقع دیں۔۔۔۔
جس دن دوائی جسم پر لگائی جائے تو پہلی دفعہ آئورمیکٹن کی تین گولیاں سب کو کھلا دی جائیں تو کیڑے کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔۔۔

دوائی لگانے کے بعد صاف ستھرے کپڑے پہنیں جو استری شدہ ہوں ۔
دوائی کو کم ازکم بارہ گھنٹے ورنہ مناسب ہوگا کہ چوبیس گھنٹے جسم پر لگا رہنا دیں
اگر اس دوران کہیں سے دوائی اتر جائے تو فوری طور پردوبارہ لگائیں
چوبیس گھنٹے بعد اچھی طرح صابن سے نہا کر دوائی کو صاف کر دیں اور صاف کپڑے پہن لیں
اتارے گئے کپڑوں کو گرم پانی سے دھوئیں اور اچھی طرح سے دھوپ لگوا دیں۔۔

دوائی ملنے سے لیکر صفائی کے اہتمام کو تین دن تک دھراتے رہیں۔۔۔

جب ایک بار اس سارے عمل سے گزر جائیں تو اس کیڑے کو گھر میں دوبارہ گھسنے سے روکنے کے لئے صفائی کا خاص رکھیں۔۔۔۔

10/12/2024

scabies
ایک انتہائی متعدی جلد کی حالت ہے جو ایک tiny parasite کی وجہ سے ہوتی ہے جسے Sarcoptes scabiei کہتے ہیں۔ یہ ذرات جلد کی اوپری تہہ میں گھس جاتے ہیں، جس کی وجہ سے شدید خارش ہوتی ہے اور پمپل جیسے دانے ہوتے ہیں۔ یہ حالت بنیادی طور پر کسی متاثرہ شخص کے ساتھ جلد سے جلد کے رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے، لیکن یہ آلودہ لباس، بستر یا فرنیچر کے ذریعے بھی پھیل سکتی ہے۔

خارش (scabies) کی علامات:
شدید خارش، خاص طور پر رات کے وقت۔
سرخ، پمپل جیسے ٹکڑے یا چھالے۔
کیڑوں کی وجہ سے جلد پر پتلی، بے قاعدہ لکیریں۔

متاثرہ جگہ:
انگلیوں اور انگلیوں کے درمیان
کلائیاں
کہنیاں
بغل
کمر کی لکیر
کولہوں

علاج:
پرمیتھرین پر مشتمل کریم یا لوشن یا آئیورمیکٹین عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
علامات سے نجات: خارش کو دور کرنے کے لیے antihistamine یا corticosteroids کریم تجویز کی جا سکتی ہیں۔
ماحولیاتی تدابیر:
احتیاتی تدابیر:
گرم پانی میں کپڑے، بستر اور تولیے دھونے اور انہیں زیادہ گرمی پر خشک کرنے سے کیڑوں کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں۔
اچھی حفظان صحت اور صفائی کو برقرار رکھیں۔
خارش خطرناک نہیں ہے لیکن اگر ضرورت سے زیادہ کھرچ جائے تو یہ بیکٹیریل انفیکشن جیسی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ فوری طور پر طبی علاج حاصل کرنا ضروری ہے۔

13/08/2024

Happy Independence day

27/07/2024

دُھوپ چہرے پرجھریوں، چھائیوں اور فائن لائنز کی وجہ اور جِلد کو بوڑھا ہونے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟
دھوپ کے جہاں بہت سے فائدے ہیں وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں خصوصاً جلد کے مسائل کے حوالے سے۔

ماہرین کے مطابق جہاں صبح کے وقت سورج کی نرم کرنوں کو وٹامن ڈی کے حصول کے لیے معاون کہا جاتا ہے وہیں صبح 11 بجے سے دوپہر تین بجے تک کی دھوپ اپنے جوبن پر ہوتی ہے اور اس دوران بغیر کسی حفاظتی تدبیر کے باہر نکلنا جلد کے لیےکافی نقصاندہ ہو سکتا ہے۔

تو موسم بدلنے کے ساتھ ہی تپتی دھوپ کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے جلد کی حفاظت کے لیے کیا کِیا جائے جو گرمی سمیت ہر موسم میں ہماری سکن کو گلو(چمک اور تازگی) دے سکے
مطلع ابر آلود ہو یا دھوپ نکلی ہو، ہماری جلد کے لیے سورج سے نکلنے والی یو وی (الٹرا وائلٹ ریز) نقصان دہ ہیں جس سے حفاظت کے لیے سن بلاک لگانا لازمی ہے۔

تاہم دھوپ کا جو سب سے فوری نقصان ہوتا ہے،اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کی سکن ٹون کیا ہے۔ دھوپ کے جلد پر نقصانات کا اثر دیر تک قائم رہنا ہے اور چھائیاں، جھریاں فائن لائنز نمودار ہونے سے ’ایجنگ‘ ہوتی ہے۔

گہری یا سانولی رنگت تھوڑی سی دھوپ کے فوری نقصان سے محفوظ رہتی ہے، جبکہ فیئر ٹون(گوری رنگت) پر دھوپ کا نقصان فوری اور کہیں ذیادہ ہوتا ہے، اس میں سب سے پہلے جلد کی ٹیننگ ہوتی ہے۔ تو سب سے پہلے اس پر رنگ تھوڑا خراب ہو کر ٹین ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

اگر ہم اپنی سکن کی بات کریں تو سن پروٹیکشن لگانا بہت ضروری ہے تاکہ ایجنگ کے اثرات سے بچ سکیں۔

’جلد کی حفاظت کے لیے سن بلاک کا استعمال بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں سورج کی شعاعیں بہت تیز ہوتی ہیں اور آپ کا ذیادہ وقت باہر گزرتا ہے تو سن بلاک کا استعمال بہت ضروری ہو جاتا ہے۔‘

’سن بلاک کا استعمال سورج کی ان شعاعوں سے بچاتا ہے جو جلد میں کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ الٹرا وائلٹ ریز، جن سے جلد پرچھائیاں، جھریاں اور گہرے دھبے وغیرہ نمایاں ہونے لگتے ہیں، ان سے بھی سن بلاک بچاتا ہے۔ سورج کی یہ شعاعیں بہت سے لوگوں میں ایگزما کو بڑھا دیتی ہیں تو کچھ کی جلد میں سوزش سمیت محتلف مسائل کو سامنے لے آتی ہیں۔‘

ایسے افراد جن کو جلد کی کوئی سیریس بیماری ہو،ان کا ایس پی ایف تو ان کا ڈاکٹر ہی تجویز کرے گا البتہ جن کو کوئی سکن ڈزیز نہیں اور سورج کی شعاعوں سے بچنا مقصود ہو ان کے لیے ایس پی ایف 30 سے 50 تک کافی ہوتا ہے۔
ڈرائی سکن (خشک جلد) والوں کو لوشن کی صورت میں دستیاب سن بلاک لگانا چاہیے ورنہ کریم کی صورت میں ملنے والا سن بلاک ان کی جلد پر چپک کر بدنما دکھائی دیتا ہے۔
بعض سن بلاکس کے اوپر لکھا ہوتا ہے سیبم کنٹرول ،تو یہ چکنی یا آئلی سکن کے لیے ہوتے ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر وہ آئل اورایکنی کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔
کمبینیشن یا نارمل سکن کے لیے کریم اور جیل دونوں سن بلاک لگائے جا سکتے ہیں۔
بہتر حفاظت کے لیے ہر دو سے تین گھنٹے بعد سن بلاک کو ری اپلائی کرنا ہوتا ہے جو اچھی پروٹیکشن فراہم کرتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے اپنے ڈرمٹالوجیسٹ سے مشورہ کریں ۔

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Sidra Noreen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Sidra Noreen:

Share

Category