Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist

Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist FCPS Paediatrics🥇
FCPS Paediatric Neurology
Fatima Memorial Hospital, Lahore
5:00-7:00 Pm (Monday- Saturday)
For Appointment : 0343 6883859
(1)

بعض مریضوں کو اچانک نظر کم ہونے یا مکمل ختم ہونے کی شکایت کے ساتھ ہسپتال لایا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایک آنکھ متاثر ہوتی ہے ...
26/05/2026

بعض مریضوں کو اچانک نظر کم ہونے یا مکمل ختم ہونے کی شکایت کے ساتھ ہسپتال لایا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایک آنکھ متاثر ہوتی ہے جبکہ کبھی دونوں آنکھوں کی نظر متاثر ہو سکتی ہے۔ والدین بتاتے ہیں کہ بچہ اچانک دھندلا دیکھنے لگا، چیزیں پہچاننے میں مشکل ہونے لگی یا چند گھنٹوں سے دنوں کے اندر نظر بہت کم ہو گئی۔ بعض مریضوں کو آنکھ حرکت دینے، خاص طور پر دائیں بائیں دیکھنے پر درد بھی محسوس ہوتا ہے۔ کئی لوگوں میں سر درد بھی ساتھ ہوتا ہے۔

یہ صورتحال والدین کے لیے بہت پریشان کن ہوتی ہے کیونکہ بعض اوقات نظر اس حد تک متاثر ہو سکتی ہے کہ مریض صرف آنکھ کے سامنے ہاتھ کی حرکت یا روشنی محسوس کر پاتا ہے۔ اچانک نظر کم ہونے کی ایک اہم وجہ “آپٹک نیورائٹس” (Optic Neuritis) ہوتی ہے۔

ہماری آنکھ کو دماغ سے ملانے والی ایک اہم “تار” ہوتی ہے جسے Optic Nerve کہا جاتا ہے۔ یہی نرو آنکھ سے تصویری سگنلز دماغ تک پہنچاتی ہے تاکہ ہم دیکھ سکیں۔ جب اس نرو میں سوزش آ جائے تو سگنلز صحیح طرح دماغ تک نہیں پہنچ پاتے اور نظر متاثر ہونے لگتی ہے۔ اسی کیفیت کو Optic Neuritis کہا جاتا ہے۔

بعض بچوں میں یہ مسئلہ کسی وائرل انفیکشن یا پچھلے انفیکشن کے بعد جسم کے مدافعتی نظام کے ردِعمل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ جبکہ بعض مریضوں میں یہ اعصابی بیماریوں جیسے MOGAD یا NMOSD سے بھی جڑا ہو سکتا ہے، اس لیے مکمل جانچ بہت ضروری ہوتی ہے۔

تشخیص کے لیے آنکھوں اور اعصابی نظام کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے۔ مریض کی نظر مختلف طریقوں سے چیک کی جاتی ہے، جیسے صرف روشنی محسوس ہونا، ہاتھ کی حرکت پہچاننا، انگلیاں گننا یا پڑھنے کی صلاحیت۔ رنگوں کی پہچان (Colour Vision) بھی اکثر متاثر ہوتی ہے۔ آنکھوں میں قطرے ڈال کر Fundoscopy کے ذریعے آپٹک نرو کو دیکھا جاتا ہے تاکہ سوجن یا دوسری تبدیلیوں کا اندازہ ہو سکے۔

اس کے علاوہ دماغ اور آنکھوں کا ایم آر آئی (MRI) بہت اہم ٹیسٹ ہوتا ہے کیونکہ اس سے optic nerve کی سوزش اور دماغ میں دوسری ممکنہ تبدیلیوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں مزید خون کے ٹیسٹ یا اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں تاکہ MOGAD یا NMOSD جیسی بیماریوں کی تشخیص ہو سکے۔

زیادہ تر مریضوں کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے جہاں انہیں ہائی ڈوز سٹیرائیڈ انجیکشن دیے جاتے ہیں تاکہ optic nerve کی سوزش کم ہو سکے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اکثر بچوں میں بروقت علاج سے کافی بہتری آ جاتی ہے اور نظر دوبارہ واپس آنا شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم اگر ابتدائی علاج سے مناسب بہتری نہ آئے تو بعض مریضوں میں مزید علاج جیسے پلازما ایکسچینج یا خون کی صفائی جیسے طریقوں کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

اچانک نظر کم ہونا یا ختم ہونا ہمیشہ ایک ایمرجنسی سمجھا جانا چاہیے۔ جتنا جلد علاج شروع کیا جائے، نظر کی مکمل یا بہتر بحالی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر علاج میں تاخیر ہو جائے تو بعض مریضوں میں مستقل نظر کی کمزوری یا حتیٰ کہ نابینائی بھی ہو سکتی ہے۔

اسی لیے اگر کسی میں بھی اچانک نظر کم ہونے، آنکھ حرکت دینے پر درد، رنگ دھندلے نظر آنے یا سر درد کے ساتھ نظر کی کمزوری جیسی علامات آئیں تو فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم یا چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ جلد از جلد تشخیص اور علاج شروع ہو سکے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

20/05/2026

Opsoclonus is characterized by spontaneous, involuntary, chaotic, conjugate eye movements occurring in multidirectional planes.

It is most commonly seen in pediatric Opsoclonus–Myoclonus–Ataxia Syndrome (OMAS) and may be associated with paraneoplastic processes, especially Neuroblastoma.

Associated features include myoclonus, truncal ataxia, behavioral changes, sleep disturbance, and developmental regression. Early recognition is essential for prompt oncologic evaluation and initiation of immunotherapy.
Dr Arshad Mehmood
Consultant child Neurologist
Fatima memorial hospital lahore

زندگی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ ہر دن ہمیں ایک نیا موقع دیتی ہے، خود کو بہتر بنانے کا، اور دل سے جینے کا۔
16/05/2026

زندگی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ ہر دن ہمیں ایک نیا موقع دیتی ہے، خود کو بہتر بنانے کا، اور دل سے جینے کا۔

10/05/2026

🗣️ Approach to a Child with Delayed Speech

Early recognition of red flags and timely intervention can change developmental outcomes significantly.

Watch the video for a practical clinical approach.

Dr. Arshad Mehmood
Consultant Child Neurologist
Fatima Memorial Hospital

بچوں میں سر درد ایک بہت عام شکایت ہے اور ھم اپنے نیورالوجی کلینک میں اکثر ایسے بچے دیکھتے ہیں جو سردرد کی شکایت کے ساتھ ...
09/05/2026

بچوں میں سر درد ایک بہت عام شکایت ہے اور ھم اپنے نیورالوجی کلینک میں اکثر ایسے بچے دیکھتے ہیں جو سردرد کی شکایت کے ساتھ آتے ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں بچوں کا سر درد کسی معمولی اور بے ضرر وجہ کی بنا پر ہوتا ہے، جیسے نیند کی کمی، پانی کم پینا، زیادہ اسکرین ٹائم، آنکھوں پر زور، اسکول کا دباؤ، امتحانی ٹینشن، یا مائیگرین۔ بعض اوقات بخار، نزلہ زکام، یا سائنسز کا انفیکشن بھی سر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ ان وجوہات میں سر درد عموماً عارضی ہوتا ہے اور سادہ احتیاطی تدابیر یا معمولی علاج سے بہتر ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ بات سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ بعض اوقات سر درد کسی خطرناک بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ایسے کیسز کم ہوتے ہیں، مگر انہیں بروقت پہچاننا بے حد اہم ہے، کیونکہ تاخیر بچے کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے والدین کو سر درد کے ساتھ ظاہر ہونے والی کچھ خاص علامات پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

اگر بچے کو اچانک سے بہت شدید سر درد ہو، یا اگر سر درد وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو اور اس کی شدت یا نوعیت بہت جلدی بدلتی جا رہی ہو، تو یہ تشویش کی بات ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر سر درد صرف صبح اٹھتے ہی ہو، یا رات کو نیند سے جگا دے، یا اس کے ساتھ بار بار قے ہو خاص طور پر بغیر متلی یا دل خراب ہونے کے،تو یہ دماغ کے اندرونی پریشر بڑھنے کی علامت ہو سکتی ہے۔

سر درد کے ساتھ اگر بچے میں دورے یا جھٹکے پڑنے لگیں، جسم کے کسی حصے میں کمزوری آ جائے، چلنے میں لڑکھڑاہٹ ہو، نظر دھندلی ہو، دوہرا دکھائی دے، بولنے میں دقت ہو، یا بچہ الجھن، غنودگی یا رویے میں غیر معمولی تبدیلی دکھائے تو یہ علامات کسی سنجیدہ نیورولوجیکل مسئلے کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر بچہ پہلے کی نسبت پڑھائی میں پیچھے جا رہا ہو، یادداشت کمزور ہو رہی ہو، یا اس کی نشوونما میں کمی یا تنزلی نظر آئے تو ان علامات کے ساتھ ہونے والے سر درد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

چھوٹے بچوں میں اگر سر درد کے ساتھ سر کے سائز میں بھی اضافہ ہو رہا ہو تو یہ خطرے کی علامت ہے، سر میں پانی یا کوئ رسولی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بخار، گردن میں اکڑاو یا درد، الٹی ، روشنی اور شور سے بے چینی جیسی علامات سر درد کے ساتھ آرہی ہوں تو یہ گردن توڑ بخار کی طرف نشان دہی کرتی ہیں۔

والدین سے گزارش ہے کہ اگر بچے کے سر درد کے ساتھ ایسی کوئی بھی تشویشناک علامت موجود ہو تو خود سے دوا دینے یا غیر ضروری سی ٹی اسکین کروانے کے بجائے فوراً ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کریں۔ درست تشخیص صرف بچے کی مکمل ہسٹری، تفصیلی جسمانی اور نیورولوجیکل معائنے، اور ضرورت پڑنے پر مناسب ٹیسٹس کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ ہر بچے کو سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کی ضرورت نہیں ہوتی، اور یہ فیصلہ ہمیشہ ماہر ڈاکٹر کو ہی کرنا چاہیے۔

یاد رکھیں، زیادہ تر بچوں کا سر درد بے ضرر ہوتا ہے، لیکن خطرے کی علامات کو پہچاننا اور بروقت درست ڈاکٹر تک پہنچنا والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ بروقت تشخیص نہ صرف بچے کو غیر ضروری ٹیسٹس اور پریشانی سے بچاتی ہے بلکہ کسی ممکنہ سنگین بیماری کو شروع ہی میں قابو میں لانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

ہم اپنے نیورولوجی کلینک اور ہسپتال میں اکثر ایسے والدین کو دیکھتے ہیں جو اپنے بچوں کو سر درد کی شکایت کے ساتھ لے کر آتے ...
06/05/2026

ہم اپنے نیورولوجی کلینک اور ہسپتال میں اکثر ایسے والدین کو دیکھتے ہیں جو اپنے بچوں کو سر درد کی شکایت کے ساتھ لے کر آتے ہیں، اور ان کے ہاتھ میں پہلے سے ایک سی ٹی اسکین موجود ہوتا ہے۔ زیادہ تر یہ سی ٹی اسکین والدین خود ہی کروا لیتے ہیں، یا پھر کسی جنرل پریکٹشنر، دوست، رشتہ دار یا کسی میڈیکل ورکر کے مشورے پر کروا لیا جاتا ہے، اس خیال سے کہ شاید اس سے بچے کی بیماری فوراً پکڑی جائے گی اور مسئلہ واضح ہو جائے گا۔

یہاں ایک بہت اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ بچوں میں سر درد کی اکثریت خطرناک وجوہات کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ زیادہ تر کیسز میں یہ مائیگرین، تھکن، نیند کی کمی، اسکرین ٹائم زیادہ ہونے، پانی کم پینے، یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان حالات میں سی ٹی اسکین کروانے سے نہ تو تشخیص میں خاص مدد ملتی ہے اور نہ ہی علاج بدلتا ہے۔ اس کے باوجود والدین غیر ضروری طور پر اسکین کروا لیتے ہیں، جو اکثر فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

سی ٹی اسکین میں ریڈی ایشن ہوتی ہے، اور بچے اس ریڈی ایشن کے اثرات کے لیے بڑوں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ بار بار یا بلا ضرورت سی ٹی اسکین کروانے سے مستقبل میں صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے دنیا بھر میں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ بچوں میں سی ٹی اسکین صرف اسی صورت میں کروایا جائے جب واقعی اس کی ضرورت ہو اور ڈاکٹر کو کسی سنجیدہ مسئلے کا شبہ ہو۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر سر درد میں سی ٹی اسکین ضروری نہیں ہوتا۔ اصل تشخیص زیادہ تر بچے کی مکمل ہسٹری اور تفصیلی نیورولوجیکل معائنے سے ہوتی ہے۔ ماہرِ نیورولوجسٹ بچے سے اور والدین سے سوالات کر کے یہ جانچ لیتا ہے کہ سر درد کی نوعیت کیا ہے، کب شروع ہوا، کتنی دیر رہتا ہے، کیا اس کے ساتھ قے، دورے، نظر کا مسئلہ، کمزوری یا رویے میں تبدیلی تو نہیں آ رہی۔ انہی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ امیجنگ کی ضرورت ہے یا نہیں۔

سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی عام طور پر اس وقت کروانے کا سوچا جاتا ہے جب سر درد کے ساتھ خطرے کی علامات موجود ہوں، جیسے اچانک بہت شدید سر درد، بار بار قے، صبح اٹھتے ہی سر درد، دورے پڑنا، جسم کے کسی حصے میں کمزوری، چلنے یا بولنے میں مسئلہ، یا سر کا سائز غیر معمولی طور پر بڑھنا۔ ان حالات میں بھی یہ فیصلہ ماہر ڈاکٹر کرتا ہے کہ سی ٹی اسکین بہتر ہے یا ایم آر آئی، کیونکہ کئی صورتوں میں ایم آر آئی زیادہ محفوظ اور معلوماتی ہوتی ہے۔

والدین سے گزارش ہے کہ خود سے یا غیر مستند مشوروں پر بچوں کے سی ٹی اسکین نہ کروائیں۔ پہلے کسی ماہرِ اطفال یا چائلڈ نیورولوجسٹ کو بچے کا مکمل معائنہ کرنے دیں۔ اکثر اوقات صرف تسلی، رہنمائی اور سادہ علاج سے ہی مسئلہ حل ہو جاتا ہے، اور بچے کو غیر ضروری ٹیسٹس اور ریڈی ایشن سے بچایا جا سکتا ہے۔ درست تشخیص کا پہلا اور سب سے اہم قدم اچھا معائنہ اور صحیح مشورہ ہے، نہ کہ فوراً سی ٹی اسکین۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

03/05/2026

بچوں میں قبض کا مسلہ ! کیا غزا کھلائیں ؟

آج نیورالوجی کلینک فاطمہ میموریل یسپتال میں پریشان حال والدیں اپنے ایک سالہ بچے کو لے کر آئے، جسے ایک جنرل فزیشن نے سر ک...
03/05/2026

آج نیورالوجی کلینک فاطمہ میموریل یسپتال میں پریشان حال والدیں اپنے ایک سالہ بچے کو لے کر آئے، جسے ایک جنرل فزیشن نے سر کی ہڈیوں کے وقت سے پہلے بند ہونے (Craniosynostosis) کی بیماری کے شبہے میں مزید تشخیض کے لیے ریفر کیا تھا۔ بچے کی نشوونما عمر کے مطابق بالکل نارمل تھی ۔ بچہ نے خود سے چلنا اور دو لفظ بولنا بھی سیکھ لیا تھا ۔ بچے کا سر کا سائز بھی عمر کے لیے مناسب تھا۔

سر کئ معائنے پر پیشانی کے درمیان ایک ہڈی کی ابھری ہو لکیر محسوس ہوئی، لیکن سر کی شکل میں کوئ بگاڑ نہیں تھا، آنکھوں کے درمیان فاصلہ نارمل تھا، اور ماتھے کا سائز بھی نارمل تھا۔
یہ علامات ایک معمولی اور بے ضرر کنڈیشن کی نشاندہی کرتی ہیں، جس میں صرف ہڈی کا لکیر نما ابھار دکھائ دیتا ہے۔ اسکی وجہ وقت سے سر کی ہڈیوں کے بند ہونے کی بیماری ہر گز نہیں جو کے ایک خطرناک کنڈیشن ہے جس میں بچے کے سر کا سائز چھوٹا رہ سکتا ہے۔

والدین کو تفصیل سے سمجھایا اور تسلی دی کہ اس سے نہ تو بچے کی شکل میں کوئ بگاڑ آئے گا اور نہ ہی دماغی گروتھ پر کوئ اثر پڑے گا۔ اس کے لیے کسی سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس Craniosynostosis یا وقت سے پہلے سر کی ہڈیوں کے بند ہونے کی بیماری میں علامات بچے کی پیدائش کے چھ مہینے کے اندر ظاہر ہوتی ہے، اور اس میں پیشانی کا تنگ اور مثلث نما ہونا، سر کے اطراف کا چوڑا ہونا، اور آنکھوں کے درمیان کم فاصلے جیسی علامات شامل ہوتی ہیں، جس کے لیے سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ چہرے کی بناوٹ میں خرابی اور دماغی نشوونما کے مسائل سے بچا جا سکے۔

تمام والدین کے لیے پیغام ہے کہ اگر آپکو بچے کی سر کی شکل میں خرابی ، ٹھیڑاپن ، ابھار محسوس ہو تو ہمیشہ اپنے چائلد نیورولوجسٹ سے مشورہ کریں تاکہ درست تشخیص ہو سکے اور پریشانی سے بچاجا سکے ۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

بچوں میں بعض اوقات والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ بچے کے سر کی شکل وقت کے ساتھ گول اور برابر رہنے کے بجائے ایک طرف سے چپٹی ...
29/04/2026

بچوں میں بعض اوقات والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ بچے کے سر کی شکل وقت کے ساتھ گول اور برابر رہنے کے بجائے ایک طرف سے چپٹی یا قدرے ٹیڑھی ہونے لگتی ہے۔ یہ کیفیت "پوزیشنل" یا "ڈیفارمیشنل پلیجیوسفیلی" کہلاتی ہے۔ ھم اس طرح کے بچے اکثر اپنے نیورولوجی کلینک میں دیکھتے ہیں۔ زیادہ تر یہ سر کی شکل میں خرابی کسی بیماری یا سنگین مسئلے کی وجہ سے نہیں بلکہ بچے کے زیادہ دیر تک ایک ہی پوزیشن میں رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔

اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ سب سے عام وجہ یہ ہے کہ والدین بچے کو دن بھر زیادہ وقت کمر کے بل لٹائے رکھتے ہیں اور پیٹ کے بل کھیلنے کا وقت نہیں دیتے، جسے "ٹمی ٹائم" کہا جاتا ہے۔ مسلسل کمر کے بل رہنے سے سر کے پچھلے حصے پر دباؤ بڑھتا ہے اور وہ چپٹا ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح اگر بچہ ہمیشہ پیٹھ کے بل سوئے اور دن کے وقت بھی زیادہ تر اسی حالت میں رہے تو اس کے سر کی شکل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ بعض بچوں میں پیدائش کے وقت یا بعد میں گردن کے پٹھے سخت ہو جاتے ہیں، جسے "ٹورٹی کولس" کہتے ہیں۔ ایسے بچے ہمیشہ ایک ہی طرف دیکھتے ہیں، اور مسلسل دباؤ کی وجہ سے سر ایک طرف سے چپٹا ہو جاتا ہے۔ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے اس مسئلے کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں کیونکہ ان کی اپنی ایکٹوٹی کم ہوتی ہے۔

اس مسئلے سے بچنے کے لیے والدین چند احتیاطی تدابیر اپنا سکتے ہیں۔ بچے کو روزانہ کچھ وقت جاگتے ہوئے پیٹ کے بل نرم جگہ پر لٹائیں تاکہ نہ صرف سر کی شکل بہتر رہے بلکہ گردن اور جسم کے پٹھے بھی مضبوط ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچے کو ہمیشہ ایک ہی طرف نہ لٹائیں بلکہ باری باری بائیں، دائیں اور سیدھی پوزیشن میں رکھیں تاکہ دباؤ برابر تقسیم ہو۔ اگر بچے کی گردن ٹیڑھی ہو تو ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ کی ہدایت کے مطابق گردن کی ورزشیں کروانی چاہئیں۔ بچے کو گود میں زیادہ وقت دینا بھی مفید ہے کیونکہ اس سے سر پر مستقل دباؤ نہیں پڑتا۔ اسی طرح دودھ پلاتے وقت کبھی ایک بازو پر اور کبھی دوسرے بازو پر لیں تاکہ بچہ بار بار ایک ہی طرف نہ دیکھے۔

اکثر اوقات یہ حالت وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتی ہے، خاص طور پر جب بچہ خود سے بیٹھنا اور رینگنا شروع کرتا ہے۔ تاہم، اگر سر کی شکل میں خرابی زیادہ ہو یا والدین کو لگے کہ بچہ صرف ایک ہی طرف دیکھ رہا ہے تو فوراً ماہر اطفال یا فزیوتھراپسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بعض صورتوں میں، جب مسئلہ زیادہ نمایاں ہو اور عام تدابیر سے درست نہ ہو، تو ڈاکٹر "ہیلمٹ تھراپی" کی تجویز دے سکتے ہیں۔ اس میں بچے کو ایک خاص ڈیزائن کا ہیلمٹ پہنایا جاتا ہے جو آہستہ آہستہ سر کی شکل کو درست کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مختصر یہ کہ پوزیشنل پلیجیوسفیلی زیادہ تر احتیاط اور صحیح عادات سے روکی جا سکتی ہے۔ اگر والدین شروع ہی سے بچے کو پیٹ کے بل وقت دینا، پوزیشن میں تبدیلی کرنا اور زیادہ دیر تک ایک ہی حالت میں نہ رکھنے جیسی باتوں کا خیال رکھیں تو یہ مسئلہ عموماً پیدا نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو زیادہ تر خود ہی بہتر ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

27/04/2026

We recently evaluated a child in our neurology clinic at Fatima Memorial Hospital with a history of forearm trauma. The child had visible scar marks over the forearm along with a claw-like deformity of the hand, flexion at the interphalangeal joints, restricted finger movements, and limited wrist extension. This clinical picture is highly suggestive of Volkmann ischemic contracture (VIC), a serious complication most commonly seen after forearm fractures complicated by compartment syndrome. In our setting, it is frequently associated with delayed treatment, tight circumferential bandaging/casts, or management by untrained bone setters leading to compromised circulation and muscle ischemia.

Volkmann ischemic contracture results from increased compartment pressure in the forearm, causing ischemic damage to muscles and nerves. Depending on severity and duration, the median, ulnar, and radial nerves may all become involved, producing mixed neurological deficits such as clawing of the hand, weakness of finger and wrist extension, sensory loss, and muscle wasting.

Nerve conduction studies and electromyography (NCS/EMG) performed in this child demonstrated a severe axonal pattern of injury involving the median, ulnar, and radial nerves, consistent with ischemic and compressive neuropathy secondary to compartment syndrome.

Management of such cases requires a multidisciplinary approach, including urgent evaluation by orthopedic and plastic/reconstructive surgery teams for assessment of tendon release, contracture correction, tendon transfer, or nerve repair where indicated. Early physiotherapy, occupational therapy, splinting, and rehabilitation are essential to prevent further deformity and optimize long-term functional recovery.

Dr. Arshad Mahmood
Consultant Cardiologist
Fatima Memorial Hospital

آج نیورالوجی  او پی ڈی فاطمہ میموریل ہسپتال میں  ایک دس سالہ بچی کو چیک کیا۔ والدین کی سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ بچی ک...
26/04/2026

آج نیورالوجی او پی ڈی فاطمہ میموریل ہسپتال میں ایک دس سالہ بچی کو چیک کیا۔ والدین کی سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ بچی کو چلنے میں دشواری پیش آ رہی ہے اور وہ بار بار گر جاتی ہے۔ ساتھ ہی وہ بار بار یہ شکایت بھی دہراتے رہے کہ "ڈاکٹر صاحب، ہماری بچی کے پاؤں چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔" مزید پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اس بچی کے ایک بھائی اور ایک بہن کو بھی بالکل اسی طرح کی علامات تقریباً سات سال کی عمر سے شروع ہوئیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے بھی پاؤں چھوٹے دکھائی دینے لگے۔
معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بچی کی ٹانگوں کے پٹھوں میں سختی (spasticity) موجود تھی، جس کی وجہ سے اس کے قدم آسانی سے نہیں اٹھتے تھے۔ یہی سختی چلنے میں رکاوٹ ڈالتی اور بار بار گرنے کا باعث بنتی تھی۔ تاہم، بازوؤں کے پٹھے بالکل نارمل تھے اور ان میں کوئی کمزوری یا سختی محسوس نہیں ہوئی۔
یہ تمام علامات اس بیماری کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے Hereditary Spastic Paraplegia (HSP) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک موروثی مرض ہے جو جینیاتی طور پر والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو ٹانگوں کی حرکت اور پٹھوں کی نرمی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر مریض میں ٹانگوں کی سختی، کمزوری، چلنے میں دشواری اور بار بار گرنے جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ والدین کو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے بچوں کے پاؤں "چھوٹے ہو رہے ہیں"، جبکہ حقیقت میں یہ پٹھوں کے سکڑاؤ (contractures) اور ٹانگوں کی غیر فطری سختی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اگرچہ اس بیماری کا مکمل علاج فی الحال موجود نہیں، لیکن فزیوتھراپی، اسٹریچنگ ورزشیں، اور بعض اوقات مخصوص دوائیں علامات کو کم کرنے اور بچے کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ صحیح تشخیص والدین کی بے چینی کو کم کرنے کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ اکثر اوقات علاج ممکن نہ ہونے کے باوجود صرف بیماری کی شناخت اور والدین کو درست و جامع معلومات فراہم کرنا ان کی بڑی تشویش دور کر دیتا ہے۔ یہ جان لینا کہ آخر بچے کو کیا بیماری ہے، اور مستقبل میں اس کے ساتھ کیا توقع رکھنی چاہیے، والدین کے ذہنی دباؤ کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے اور انہیں بحالی کے اقدامات میں اعتماد بخشتا ہے۔
یہ کیس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ والدین کی بظاہر غیر معمولی یا عجیب لگنے والی شکایات کو ہمیشہ سنجیدگی سے لینا چاہیے، کیونکہ انہی میں اکثر کسی بڑے مرض کی اصل حقیقت چھپی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

Address

Lahore

Telephone

+923436883859

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category