Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist

Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist MBBS🥇FCPS(Peads)🥇
FCPS Peads Neurology
Children Hospital and UCHS Lahore
(1)

نوزائیدہ بچوں کے بارے میں چند دلچسپ معلومات اور حقائق:پیدائش کے وقت بچے کی ہڈیاں مکمل طور پر جڑی ہوئی نہیں ہوتیں، جس سے ...
04/01/2026

نوزائیدہ بچوں کے بارے میں چند دلچسپ معلومات اور حقائق:
پیدائش کے وقت بچے کی ہڈیاں مکمل طور پر جڑی ہوئی نہیں ہوتیں، جس سے دماغ کو بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔
نوزائیدہ بچے پیدائش کے فوراً بعد ماں کی آواز اور خوشبو کو پہچان سکتے ہیں۔
یہ تصاویر ان حقائق کو آسان انداز میں واضح کرتی ہیں۔
یہ معلومات دوسرے والدین کے ساتھ بھی ضرور شیئر کریں۔

مزید معلومات کے لیے ہمیں فالو کریں:
ڈاکٹر ارشد محمود، چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ پیڈیاٹرک نیورولوجسٹ، چلڈرن ہسپتال، لاہور

بچوں کو چائے پلانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔چائے میں موجود کیفین بچوں کی نیند، بھوک اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، ...
03/01/2026

بچوں کو چائے پلانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
چائے میں موجود کیفین بچوں کی نیند، بھوک اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ یہ آئرن کے جذب میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔
تصاویر اس موضوع کو بہتر انداز میں واضح کرتی ہیں کہ بچوں کے لیے چائے کیوں نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
براہِ کرم یہ معلومات دوسرے والدین کے ساتھ بھی ضرور شیئر کریں۔

مزید معلومات کے لیے ہمیں فالو کریں:
ڈاکٹر ارشد محمود، چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ پیڈیاٹرک نیورولوجسٹ، چلڈرن ہسپتال، لاہور

سوال !!! ڈاکٹر صاحب بچے کو دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلوانا کیوں ضروری ہے ؟ڈکار بچوں کو کیسے دلوائیں؟؟  کس عمر تک بچے کو ڈک...
02/01/2026

سوال !!! ڈاکٹر صاحب بچے کو دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلوانا کیوں ضروری ہے ؟ڈکار بچوں کو کیسے دلوائیں؟؟ کس عمر تک بچے کو ڈکار دلوانا چاہیے؟
جواب چھوٹے بچے جب دودھ پیتے ہیں چاہے وہ ماں کا دودھ پی رہے ہوں یا ڈبے کا تو دودھ پینے کے دوران وہ ہوا بھی اپنے اندر لے کے جاتے ہیں ۔جب یہ ہوا معدے میں جاتی ہے تو معدے کو پھلا دیتی ہے , اس کے لیے ڈکار دلوانا ضروری ہوتا ہے ۔
اگر اپ بچے کو ڈکار نہیں دلوائیں گے اور بچہ معدے میں ہوا لے کے جا رہا ہے تو جو ہوا معدہ میں جمع ہو جائے گی اس سے بچہ مزید دودھ نہیں پی پائے گا حالانکہ اس کو بھوک ہوگی ۔دوسرا یہ ہے کہ ایسے بچے میں زیادہ چانسز ہوتے ہیں کہ دودھ پینے کے بعد وہ فورا الٹی کر دے کیونکہ اس کا معدہ ضرورت سے زیادہ پھولا ہوا ہوتا ہے۔ تیسرا یہ کہ ایسے بچوں کو پیٹ درد اور گیس کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔ ان تمام کا حل یہ ہے کہ اپ بچوں کو جب دودھ پلائیں تو اس کے بعد ایک ڈکار دلوائیں۔
اب ڈکار دلوانا کس عمر تک ضروری ہے تو ڈکار دلوانا عموما چار سے پانچ ماہ تک ضروری ہوتا ہے اس کے بعد بچہ سیکھ جاتا ہے کیسے اس نے بغیر ہوا کو اندر لیے دودھ پینا ہے ۔

ڈکار دلوانا کیسے ہے تو اس کے لیے اس پوسٹ میں تصویریں دکھائی گئی ہیں اپ کو اس کے مطابق بچے کی دودھ پینے کے بعد پوزیشن بنائیں اور اس کو ڈکار دلوائیں۔ بچے کی کمر پر ہاتھ پھیریں , اس کے پیٹ پہ ہاتھ پھیریں اور ان پوزیشن میں بچے کو رکھیں گے تو خود گیس معدہ سے نکل کے منہ کے راستے باہر چلی جائے گی۔

ڈاکٹر ارشد محمود( ایم بی پی ایس -ایف سی پی ایس) کنسلٹنٹ چائلڈ سپیشلسٹ
چلڈرن ہسپتال لاہور

01/01/2026

Subdural tap procedure explained

ایک مشہور کہاوت ہے کہ ”بچے وہ نہیں کرتے جو والدین کہتے ہیں بلکہ وہ جو والدین کرتے ہیں “بچے کی عادات ,غلط صیح میں فرق کی ...
01/01/2026

ایک مشہور کہاوت ہے کہ ”بچے وہ نہیں کرتے جو والدین کہتے ہیں بلکہ وہ جو والدین کرتے ہیں “
بچے کی عادات ,غلط صیح میں فرق کی تفریق اور مہذب پن کا تعین والدین کے طور طریقوں سے ہوتا ہے۔
ہم بچوں کے لیے مادی وراثت چھوڑ جانے کی توبہت تگودو کرتے ہیں لیکن بچوں کے کام آنے والی بہترین وراثت اولاد کی اچھی اور نیک تربیت ہے ۔
اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں سوچنا چاہیے کا ہم کتنا اسکا حق ادا کررہے ہیں کیونکہ اسکا بھی ھم سے پوچھا جاۓ گا ۔جزاك الله

بہت سے والدین اپنے بچوں کی نشوونما کے بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں اور جانن چاہتے ہیں کہ آیا ان کے بچے عمر کے مطابق بڑھ...
31/12/2025

بہت سے والدین اپنے بچوں کی نشوونما کے بارے میں بہت فکر مند ہوتے ہیں اور جانن چاہتے ہیں کہ آیا ان کے بچے عمر کے مطابق بڑھ رہے ہیں یا نہیں!!
میں اس پوسٹ میں کوشش کروں گا کہ بچوں کی عمر کے حوالے سے ان کی عام نشوونما کے سنگ میل (Developmental Mile stones)کو مختصراً بیان کروں۔

قبل از وقت (Premature) پیدا ہونے والے بچے مکمل مدت کے بچوں سے نشونما کے یہ مراحل تھوڑی دیر بعد حاصل کر سکتے ہیں لیکن زیادہ سے زیادہ دو سال کی عمر تک انکے برابر آجاتے ہیں۔
وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کی درست عمر کا حساب ان ہفتوں یا مہینوں کی تعداد کو گھٹا کر لگایا جاتا ہے جتنا وہ 37 ہفتوں یا نو مہینوں سے پہلے پیدا ہوا جو حمل کا نارمل دورانیہ ہے۔
لہذا اگر ایک 9 ماہ کا بچہ جو 3 ماہ قبل ازوقت پیدا ہوا تھا تو اس حساب سے اسکی عمر چھے ماہ بنتی ہے ,لہذا اس بچے سے توقع کی جائے گی کہ وہ مکمل مدت کے حمل والے 6 ماہ کے بچے نشونما کے سنگ میل کو پورا کرے ۔

بچے کی عمر کے لحاظ سے بیٹھنے,چلنے پھرنے کے سنگ میل!!
1. تین ماہ میں گردن سنبھالنا
2. سہارے جیسے تکیے کے ساتھ چھ ماہ پر بیٹھنا
3. سات مہینے سہارے کے بغیر خود سے بیٹھنا
4. نو ماہ میں زمین پر رینگنا
5. دس ماہ کی عمر میں چیزیں پکڑ کر کھڑاہونا جیسے فرنیچر پکڑ کر
6. انگلی پکڑ کر چلنا گیارہ ماہ
7. ایک سال میں خود سے چلنا
8. دوڑنا اور ایک گیند کو کک مارنا دو سال پر
9. تین سال تک تین پہیوں والی سائیکل کی چلا لینا۔
10. ایک پاؤں پر کھڑا ہو لینا چار سال
11. پانچ سال پر رسی پھلانگنا

عمر کے لحاظ سے بول چال کے سنگ میل !!
1. آٹھ ماہ میں ماما دادا لالا بابا جیسے بولنا
2. ایک سال پر پہلا لفظ بولنا۔
3. دو الفاظ جوڑنا ہے جیسے ”ماما پانی “ دوسال میں
4. تین الفاظ جوڑتا ہے جیسے ”مجھے پانی دو“ تین سال
5. بعد میں بچے کی بول چال گھر سے باہر کے لوگوں کو سمجھ میں آنا شروع ہو جاتی ہے، بچہ اپنا نام, عمر اور جنس جانتا ہے اور چار سے پانچ سال کی عمر میں کہانیاں بھی سنا سکتا ہے۔

باریک کام کرنے کی مہارات !!
1. نو ماہ میں تین انگلیوں کا استعمال کرتے ہوئے چیزیں پکڑنا
2. ایک سال میں انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کا استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو پکڑنا
3. پندرہ ماہ میں پنسل پکڑ کر لاٸنیں مارنا
4. دو سال میں ایک سیدھی لائن کاپی کرنا
5. تین سال پر دائرہ کاپی کرنا
6. چار سال میں ایک مربع (square ) کاپی کرنا

اہم سماجی (Social) سنگ میل!!!
1. ایک مہینے میں مسکراہٹ کے جواب میں مسکرانا شروع کرنا
2. سات مہینے میں اجنبی سے ڈرنا
3. تیس ماہ کی عمر میں پاخانے اور پیشاب پر کنٹرول کر لینا

اہم بات یہ ہے کہ یہ طے شدہ چیزیں نہیں ہیں، ان مراحل میں دو سے تین ماہ کی رینج ہوسکتی ہے۔

بچوں کی صحت سے متعلق مزید معلومات کے لیے !!

ڈاکٹرارشد محمود
چلڈرن ہسپتال لاہور

اکثر والدین ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کا بچہ اپنی عمر کے مطابق گروتھ کررہا ہے یا نہیں؟؟اس سوال کو ہم تفصیل سے دیکھتے ہی...
30/12/2025

اکثر والدین ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کا بچہ اپنی عمر کے مطابق گروتھ کررہا ہے یا نہیں؟؟
اس سوال کو ہم تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
تمام والدین اپنے بچے کے لیے سے پہلے مشاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بچے کی گروتھ انکی عمر سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں اور انہیں کب چائلڈ سپیشلسٹ سے چیک اپ کروانا چاہیے۔
میں ریڈ فلیگ( Red Flag) کہلانے والے اہم نکات پر بات کروں گا جو جب بھی کسی بچے میں نظر آٸیں تو فوری طور پر قریبی ماہر اطفال سے چیک اپ کروائیں۔ یہ علامات بچے میں گروتھ اور بڑھوتری کی ایمرجینسی ہیں کیونکہ آپ پہلے ہی بہت وقت گزار چکے ہیں اور مزید تاخیر بچے کی مستقبل کی صلاحیتوں کو متاثر کرے گی۔

1..کسی بھی عمر میں اگر بچے میں کوئی ایسی مہارت ہو جو پہلے بچہ سیکھ چکا ہو وہ بھول جاۓ جیسا کہ بچہ پہلے بیٹھتا تھا اور اب بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔
2.کسی بھی عمر میں والدین دیکھتے ہیں کہ بچہ انسانی چہرے یا چیزوں پر فوکس نہیں کر پاتا یا انکی طرف نہیں دیکھتا۔
3.کسی بھی عمر میں والدین محسوس کریں کے بچہ صیح سن نہیں پا رہا یا آوازوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
4. اگر اٹھارہ ماہ کی عمر تک کوٸ لفظ نہ بولے
5. بچہ شروع سے ایک ہی ہاتھ استعمال کرے ۔ عمومأ داٸیں یا باٸیں ہاتھ کی عادت تین سال کے بعد آتی اگر ایک سال سے پہلے آجاۓ تو مطلب دوسری ساٸڈ کی کمزوری ہے
6. بچہ سرف پنجوں کے بل چلے اور مکمل پاٶں زمین پر نہ رکھے
7. بچے کے سر کا سائز بہت بڑا ہو یا بہت چھوٹا
8. بارہ ماہ تک مکمل بیٹھ نہ سکے
9.بچہ اٹھارہ ماہ تک نہ چلے یا یا بچیوں میں چلنا دو سال تک نہ شروع ہو
10. ڈھائی سال پر بچہ دوڑ نہ سکے

دوسروں کو بھی آگاھ کریں ,یہ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاک اللہ
اللہ ہم سب کے بچوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے !!! آمین!!!!
ڈاکٹر ارشد محمود
چاٸلڈ اسپیشلیسٹ۔چلڈرن ہسپتال لاہور

بچوں کے لیے انڈا ! کب کیسے اور کیوں دیں ۔انڈا ایک مکمل اور متوازن غذا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں اس کے حوالے سے مختلف توہم...
29/12/2025

بچوں کے لیے انڈا ! کب کیسے اور کیوں دیں ۔

انڈا ایک مکمل اور متوازن غذا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں اس کے حوالے سے مختلف توہمات پائی جاتی ہیں۔ اکثر والدین اس الجھن میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بچے کو انڈہ کب سے دینا چاہیے، کتنی مقدار میں دینا مناسب ہے، اور کیا یہ الرجی یا جسم میں "گرمی" پیدا کرتا ہے؟ آئیے ان سوالات کے سادہ، سائنسی اور مستند جوابات جانتے ہیں

انڈا کیوں ضروری ہے؟
۔ انڈا ایک مکمل غذا ہے جو اعلیٰ معیار کی پروٹین، وٹامن B12، وٹامن D، آئرن، کولین اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے (National Institutes of Health, USA)۔
۔ کولین بچے کے دماغ کی نشوونما، یادداشت اور نیورونل فنکشن کے لیے نہایت اہم ہے۔
۔ یہ اجزاء بچے کی جسمانی نشوونما اور ذہنی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

بچے کو انڈہ کس عمر سے دینا چاہیے؟
۔ بچے کو چھ ماہ کی عمر سے انڈہ دینا محفوظ اور مفید ہے۔
۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ انڈے میں تاخیر الرجی سے بچا سکتی ہے، لیکن LEAP Study (2015) اور AAP (American Academy of Pediatrics) کی تحقیق کے مطابق، انڈے سمیت ممکنہ الرجینز کو ابتدائی عمر میں دینا الرجی کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی 6 ماہ کی عمر سے ٹھوس غذاؤں کی شروعات کی حمایت کرتا ہے۔


انڈہ کیسے تیار کر کے دیں؟
۔ انڈے کو اچھی طرح ابال کر دیں، یہاں تک کہ زردی اور سفیدی دونوں مکمل طور پر سخت ہو جائیں۔
۔ بچے کو انڈے کے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر کھلائیں۔
۔ کچا، ہاف بوائل یا فرائی انڈہ نہ دیں کیونکہ اس میں سالمونیلا بیکٹیریا موجود ہو سکتا ہے، جو ٹائیفائیڈ جیسی بیماری کا باعث بنتا ہے (CDC – Centers for Disease Control and Prevention)۔

انڈہ کتنی مقدار میں دیا جائے؟
۔ آغاز میں ایک سے دو چائے کے چمچ ہفتے میں دو سے تین بار دینا مناسب ہے۔
۔ بچے کی عمر اور ہضم کی صلاحیت کے مطابق مقدار بتدریج بڑھائی جا سکتی ہے۔

گھر میں انڈے کو خراب ہونے سے کیسے بچائیں؟

انڈوں کو ہمیشہ ریفریجریٹر میں محفوظ کریں تاکہ وہ جراثیم سے محفوظ اور تازہ رہیں (FDA guidelines)۔

انڈے سے الرجی کی علامات کیا ہیں ؟
۔انڈے سے الرجی تقریباً 2–4٪ بچوں میں دیکھی جاتی ہے، جو عام طور پر وقتی ہوتی ہے اور عمر کے ساتھ ختم ہو سکتی ہے۔ علامات میں شامل ہیں:
- جلد پر دھپڑ، سرخی یا چھپاکی
- سینے کی بندش، سانس کی دقت
- قے، پیٹ درد یا دست
نوٹ: اگر ایسی علامات ظاہر ہوں، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

گرمیوں میں انڈہ دینا چاہیے یا نہیں؟
یہ ایک غلط فہمی ہے کہ انڈہ گرمی پیدا کرتا ہے۔ سائنسی طور پر، انڈے کا گرمی یا سردی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ اگر انڈہ صحیح طریقے سے پکایا جائے تو یہ ہر موسم میں محفوظ ہے۔

اگر خاندان میں دمہ یا الرجی ہو تو کیا انڈہ دیا جا سکتا ہے؟
اگر بچے یا خاندان کے کسی فرد کو الرجی یا دمہ ہو، تب بھی بچے کو انڈہ دینا محفوظ ہے، جب تک کہ پہلے سے کوئی شدید الرجک ریکشن نہ دیکھا گیا ہو۔

انڈہ ایک غذائیت سے بھرپور، سستی اور مفید غذا ہے۔ اگر اسے محفوظ طریقے سے تیار کر کے مناسب وقت پر دیا جائے، تو یہ بچے کی صحت اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

28/12/2025

Counseling of Parents with a Down Syndrome Baby

سیلیک بیماری (Celiac Disease) ایک خاص قسم کی بیماری ہے جس میں جسم کا اپنا مدافعتی نظام (جو ہمیں بیماریوں سے بچاتا ہے) گن...
28/12/2025

سیلیک بیماری (Celiac Disease) ایک خاص قسم کی بیماری ہے جس میں جسم کا اپنا مدافعتی نظام (جو ہمیں بیماریوں سے بچاتا ہے) گندم میں موجود گلوٹن نامی پروٹین پر غلط ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ گلوٹن گندم، جو، اور جئی میں پایا جاتا ہے۔ جب کوئی بچہ جسے سیلیک بیماری ہو، گلوٹن کھاتا ہے تو اس کی چھوٹی آنت کے اندرونی نرم حصے (جنہیں "ولی" کہا جاتا ہے) خراب ہو جاتے ہیں۔ یہ ولی خوراک کو جسم میں جذب کرنے کا کام کرتے ہیں۔ جب یہ خراب ہو جائیں تو کھانے کی غذائیت جسم میں جذب نہیں ہوتی اور ضائع ہو جاتی ہے۔

بچے کو اس وجہ سے خوراک پوری نہیں لگتی، وہ کمزور ہوتا جاتا ہے، وزن نہیں بڑھتا اور قد بھی رک سکتا ہے۔ علامات میں بدبودار پاخانے، قے، پیٹ کا پھولنا، درد، گیس، خون کی کمی، بار بار بیمار ہونا، یا کچھ بچوں میں قبض بھی ہو سکتی ہے۔

اس بیماری کا کوئی علاج دوا سے ممکن نہیں۔ صرف گلوٹن والی چیزوں سے مکمل پرہیز ہی اس کا حل ہے۔ یعنی گندم، جو، جئی اور ان سے بنی ہر چیز جیسے ڈبل روٹی، بسکٹ، میدہ، سوجی، رس اور سویاں نہیں کھانی چاہئیں۔

جو چیزیں دی جا سکتی ہیں ان میں چاول، مکئی، باجرہ، بیسن، سبزیاں، دالیں، گوشت، انڈے، مچھلی، پھل اور گھر کے بنے جوس شامل ہیں۔ کھانے کی ہر چیز صاف ستھری ہونی چاہیے اور بازار سے کچھ لیتے وقت یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ اس میں گلوٹن تو شامل نہیں۔

پرہیز پوری زندگی کے لیے ضروری ہے تاکہ بچہ صحت مند زندگی گزار سکے اور کوئی سنگین مسئلہ پیدا نہ ہو۔

کیا بچوں کے لیے ٹھنڈی یا گرم خوراک کا پرہیز ضروری ہے؟ہمارے گھروں میں کئی نسلوں سے ایک مشہور جملہ گونجتا آ رہا ہے:"آئس کر...
27/12/2025

کیا بچوں کے لیے ٹھنڈی یا گرم خوراک کا پرہیز ضروری ہے؟

ہمارے گھروں میں کئی نسلوں سے ایک مشہور جملہ گونجتا آ رہا ہے:
"آئس کریم مت دو، گلا خراب ہو جائے گا!"
"سردی میں دہی نہ کھاؤ!"
"انڈا گرمیوں میں نقصان دیتا ہے!"

ایسی باتیں اکثر نیک نیتی سے کہی جاتی ہیں، مگر سوال یہ ہے:
کیا ان باتوں کی کوئی سائنسی بنیاد بھی ہے؟ یا یہ صرف روایت پر مبنی احتیاطیں ہیں؟

آئیے چند عام غذائی مفروضات پر سائنسی روشنی ڈالتے ہیں:

1. آئس کریم یا ٹھنڈی اشیاء سے گلا خراب ہونا
حقیقت: اگر بچہ صحت مند ہے، تو آئس کریم یا ٹھنڈی اشیاء سے عموماً کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف تب پیدا ہوتا ہے جب مدافعتی نظام کمزور ہو یا پہلے سے گلا حساس ہو۔

2. دہی سردی میں نقصان دہ ہے
حقیقت: دہی ایک مفید probiotic ہے، جو نظامِ ہضم اور مدافعتی نظام کو بہتر بناتا ہے۔
مناسب مقدار میں دیں تو سردیوں میں بھی فائدہ مند ہے۔

3. انڈا گرمیوں میں نہیں کھانا چاہیے
حقیقت: انڈا تمام موسموں میں فائدہ مند ہے۔ اعتدال میں استعمال کیا جائے تو کوئی مضر اثر نہیں۔ بچوں کے لیے پروٹین کا بہت اھم زریعہ ہے۔

4. مچھلی اور دودھ ایک ساتھ لینے سے سفید دھبے (برص) ہو جاتے ہیں
حقیقت: سائنسی تحقیق کے مطابق اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ دونوں غذائیں صحت کے لیے مفید ہیں اور ان کا ایک ساتھ استعمال نقصان دہ نہیں۔

نتیجہ:

خوراک کے حوالے سے بہت سے مفروضے وقت، مشاہدے اور ثقافت سے جنم لیتے ہیں، مگر ہر بات پر عمل کرنے سے پہلے ہمیں موجودہ طبی و سائنسی تحقیق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے جسمانی مزاج، قوتِ مدافعت، موسم، اور صحت کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خوراک کا انتخاب کریں۔

نہ سختی سے روکنا درست ہے، نہ ہر چیز کی اجازت۔
اعتدال، مشاہدہ، اور سائنسی شعور ہی اصل راہ ہے۔

جب  بچوں کا سینہ جب خراب ھو جاتا ھے تو کچھ مائیں بچوں کا سینہ کپڑے سے مضبوطی کےساتھ باندھ لیتے ھیں۔ یہ ایک انتہائ خطرناک...
26/12/2025

جب بچوں کا سینہ جب خراب ھو جاتا ھے تو کچھ مائیں بچوں کا سینہ کپڑے سے مضبوطی کےساتھ باندھ لیتے ھیں۔ یہ ایک انتہائ خطرناک عمل ھے اس سے بچے کی جان جا سکتی ھے۔ یہ بچے کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچاتی ھے کیونکہ جب سینہ خراب ہوجاتا ھے تو فطری عوامل انسان کو موت سے بچانے کے لئے متحرک ھو جاتے ھے جیسے سانس کا پھولنا اور چھاتی کا تیز تیز حرکت شروع کرنا تاکہ زیادہ سے زیادہ آکسیجن کھینچ سکے ۔ لہذہ سینہ باند ھنے سے آکسیجن کھینچنے میں مزید دشواری ھو جاتی ھے اور بچے کی تکلیف میں مزید اضافہ ھو جاتا ھے۔ اسلئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں...
سینہ خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر بچوں کے ڈاکٹرز سے چیک کروائیں۔
بچوں کی صحت سے متعلق مزید معلومات کے لیے !
ڈاکٹر ارشد محمود - چائلڈ اسپیشلیسٹ۔چلڈرن ہسپتال لاہور

Address

Lahore

Telephone

+923436883859

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category