26/05/2026
بعض مریضوں کو اچانک نظر کم ہونے یا مکمل ختم ہونے کی شکایت کے ساتھ ہسپتال لایا جاتا ہے۔ بعض اوقات ایک آنکھ متاثر ہوتی ہے جبکہ کبھی دونوں آنکھوں کی نظر متاثر ہو سکتی ہے۔ والدین بتاتے ہیں کہ بچہ اچانک دھندلا دیکھنے لگا، چیزیں پہچاننے میں مشکل ہونے لگی یا چند گھنٹوں سے دنوں کے اندر نظر بہت کم ہو گئی۔ بعض مریضوں کو آنکھ حرکت دینے، خاص طور پر دائیں بائیں دیکھنے پر درد بھی محسوس ہوتا ہے۔ کئی لوگوں میں سر درد بھی ساتھ ہوتا ہے۔
یہ صورتحال والدین کے لیے بہت پریشان کن ہوتی ہے کیونکہ بعض اوقات نظر اس حد تک متاثر ہو سکتی ہے کہ مریض صرف آنکھ کے سامنے ہاتھ کی حرکت یا روشنی محسوس کر پاتا ہے۔ اچانک نظر کم ہونے کی ایک اہم وجہ “آپٹک نیورائٹس” (Optic Neuritis) ہوتی ہے۔
ہماری آنکھ کو دماغ سے ملانے والی ایک اہم “تار” ہوتی ہے جسے Optic Nerve کہا جاتا ہے۔ یہی نرو آنکھ سے تصویری سگنلز دماغ تک پہنچاتی ہے تاکہ ہم دیکھ سکیں۔ جب اس نرو میں سوزش آ جائے تو سگنلز صحیح طرح دماغ تک نہیں پہنچ پاتے اور نظر متاثر ہونے لگتی ہے۔ اسی کیفیت کو Optic Neuritis کہا جاتا ہے۔
بعض بچوں میں یہ مسئلہ کسی وائرل انفیکشن یا پچھلے انفیکشن کے بعد جسم کے مدافعتی نظام کے ردِعمل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ جبکہ بعض مریضوں میں یہ اعصابی بیماریوں جیسے MOGAD یا NMOSD سے بھی جڑا ہو سکتا ہے، اس لیے مکمل جانچ بہت ضروری ہوتی ہے۔
تشخیص کے لیے آنکھوں اور اعصابی نظام کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے۔ مریض کی نظر مختلف طریقوں سے چیک کی جاتی ہے، جیسے صرف روشنی محسوس ہونا، ہاتھ کی حرکت پہچاننا، انگلیاں گننا یا پڑھنے کی صلاحیت۔ رنگوں کی پہچان (Colour Vision) بھی اکثر متاثر ہوتی ہے۔ آنکھوں میں قطرے ڈال کر Fundoscopy کے ذریعے آپٹک نرو کو دیکھا جاتا ہے تاکہ سوجن یا دوسری تبدیلیوں کا اندازہ ہو سکے۔
اس کے علاوہ دماغ اور آنکھوں کا ایم آر آئی (MRI) بہت اہم ٹیسٹ ہوتا ہے کیونکہ اس سے optic nerve کی سوزش اور دماغ میں دوسری ممکنہ تبدیلیوں کا پتہ چل سکتا ہے۔ بعض مریضوں میں مزید خون کے ٹیسٹ یا اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں تاکہ MOGAD یا NMOSD جیسی بیماریوں کی تشخیص ہو سکے۔
زیادہ تر مریضوں کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے جہاں انہیں ہائی ڈوز سٹیرائیڈ انجیکشن دیے جاتے ہیں تاکہ optic nerve کی سوزش کم ہو سکے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اکثر بچوں میں بروقت علاج سے کافی بہتری آ جاتی ہے اور نظر دوبارہ واپس آنا شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم اگر ابتدائی علاج سے مناسب بہتری نہ آئے تو بعض مریضوں میں مزید علاج جیسے پلازما ایکسچینج یا خون کی صفائی جیسے طریقوں کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
اچانک نظر کم ہونا یا ختم ہونا ہمیشہ ایک ایمرجنسی سمجھا جانا چاہیے۔ جتنا جلد علاج شروع کیا جائے، نظر کی مکمل یا بہتر بحالی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر علاج میں تاخیر ہو جائے تو بعض مریضوں میں مستقل نظر کی کمزوری یا حتیٰ کہ نابینائی بھی ہو سکتی ہے۔
اسی لیے اگر کسی میں بھی اچانک نظر کم ہونے، آنکھ حرکت دینے پر درد، رنگ دھندلے نظر آنے یا سر درد کے ساتھ نظر کی کمزوری جیسی علامات آئیں تو فوری طور پر ماہرِ امراضِ چشم یا چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ جلد از جلد تشخیص اور علاج شروع ہو سکے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور