Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist

Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist FCPS Paediatrics🥇
FCPS Paediatric Neurology
Fatima Memorial Hospital, Lahore
5:00-7:00 Pm (Monday- Saturday)
For Appointment : 0343 6883859
(1)

ایک 7 سالہ بچی کو والدین ھماری نیورولوجی او پی ڈی میں لے کر آئے۔ والدین کافی پریشان تھے کیونکہ بچی کا رویہ کچھ عرصے سے ع...
02/04/2026

ایک 7 سالہ بچی کو والدین ھماری نیورولوجی او پی ڈی میں لے کر آئے۔ والدین کافی پریشان تھے کیونکہ بچی کا رویہ کچھ عرصے سے عجیب سا ہو گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بچی اکثر دھوپ میں سورج کی طرف مسلسل دیکھتی رہتی ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے انگلیاں ہلاتی رہتی ہے۔ ان لمحوں میں وہ کچھ سیکنڈز کے لیے اردگرد سے بے خبر ہو جاتی ہے، آواز دینے پر جواب نہیں دیتی، اور پھر اچانک بالکل نارمل ہو جاتی ہے۔ بعد میں اسے خود یاد بھی نہیں ہوتا کہ ابھی کیا ہوا تھا۔
ابتدا میں والدین کو لگا کہ شاید یہ صرف ایک عادت یا کھیل ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ کیفیت بڑھنے لگی، خاص طور پر باہر کھلی دھوپ میں۔ خود بچی نے بتایا کہ اسے انگلیوں کے ساتھ روشنی کو دیکھنا اچھا لگتا ہے، اور اسے لگتا ہے جیسے روشنی ناچ رہی ہو۔ اساتذہ نے بھی سکول میں نوٹس کیا کہ بچی کبھی کبھی کلاس کے دوران اچانک “کھو سی جاتی ہے” اور چند لمحوں بعد دوبارہ توجہ دینے لگتی ہے۔
یہ تمام علامات ایک خاص اور نایاب قسم کی مرگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے سن فلاور سنڈروم کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جیسے سورج مکھی کا پھول سورج کی طرف رخ کرتا ہے، اسی طرح اس کیفیت میں مبتلا بچے روشنی، خاص طور پر سورج کی تیز روشنی، کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔
اس بیماری میں عام طور پر بچے سورج کی طرف دیکھتے ہیں، آنکھوں کے سامنے ہاتھ یا انگلیاں ہلاتے ہیں، اور اسی عمل سے اُن میں دورہ خود ہی شروع ہو جاتا ہے۔ یہ دورے زیادہ تر چند سیکنڈز کے ہوتے ہیں، جن میں بچہ وقتی طور پر بے خبر ہو جاتا ہے، بالکل ایبسنس فٹس کی طرح۔ تیز روشنی اس بیماری کا سب سے بڑا محرک ہوتی ہے۔
ایسے بچوں میں درست تشخیص بہت ضروری ہوتی ہے۔ عام طور پر دماغ کا ای ای جی ٹیسٹ کروایا جاتا ہے، خاص طور پر روشنی دے کر (فوٹک اسٹیمولیشن کے ساتھ)، تاکہ بیماری کی تصدیق ہو سکے۔ علاج کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی بہت اہم ہے، جیسے تیز دھوپ سے بچاؤ، باہر جاتے وقت ٹوپی یا سن گلاسز کا استعمال، اور روشنی کے سامنے جان بوجھ کر ایسے حرکات نہ کرنا۔ بعض کیسز میں مخصوص دوائیں بھی دی جاتی ہیں جو دوروں کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
والدین کے لیے یہ پیغام بہت اہم ہے کہ ایسی حرکات کو صرف عادت یا شرارت سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ اگر بچہ بار بار روشنی کی طرف دیکھے، انگلیاں ہلائے اور ساتھ بے خبری کے دورے ہوں، تو خود تشخیص کرنے کے بجائے لازمی طور پر ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کریں۔ بروقت پہچان اور درست علاج سے بچے کی زندگی بالکل نارمل رکھی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

02/04/2026

نوزائیدہ بچوں میں قبض کا مسلہ اور والدین کے لیے ہدایات !
ڈاکٹر ارشد محمود - کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

آج ہماری نیورولوجی او پی ڈی میں ایک چھے سالہ بچی آئی، جسے نیند سے جاگتے ہی اچانک عجیب و غریب چیزیں نظر آناشروع ہو گئیں۔ ...
31/03/2026

آج ہماری نیورولوجی او پی ڈی میں ایک چھے سالہ بچی آئی، جسے نیند سے جاگتے ہی اچانک عجیب و غریب چیزیں نظر آناشروع ہو گئیں۔ بچی کے مطابق اس کے ہاتھ، جسم کے دوسرے حصے اور آس پاس کی چیزیں غیر معمولی طور پر چھوٹی چھوٹی نظر آنے لگیں۔ کبھی کبھی چیزیں بڑی بھی محسوس ہوئیں۔ یہ حالت تقریباً ایک گھنٹے تک رہی اور پھر اسے سر میں درد شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ بچے کو کوئی جھٹکے، چکر، یا کمزوری نہیں ہوئی، اور وہ عام طور پر بالکل ٹھیک محسوس کر رہی تھی، لیکن والدین بہت پریشان تھے۔

یہ علامات Alice in Wonderland Syndrome کے مطابق ہیں، جو ایک بہت کم دیکھی جانے والی دماغی کیفیت ہے۔ اس میں بچے کو اپنی آنکھوں سے چیزوں کا سائز یا شکل ابنارمل نظر آتا ہے، یا اپنے جسم کے سائز کے بارے میں عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اھم چیز یہ ہیں کہ بچے کو چیزیں چھوٹی یا بڑی دکھائی دیں، یا ہاتھ اور پاؤں کا سائز بدلتا ہوا محسوس ہو۔ کبھی کبھی فاصلے یا وقت کا اندازہ بھی غلط ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت عام طور پر عارضی ہوتی ہے اور خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ بار بار بھی ہو سکتی ہے۔

اس کیفیت کے پیچھے مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، مگر بچوں میں سب سے زیادہ عام وجہ مائیگرین ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مرگی، یا دیگر دماغی مسائل بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے اگر بچے کو بار بار ایسی چیزیں آئیں یا اس کے ساتھ شدید سر درد ہو، تو اس کی مناسب جانچ ضروری ہے۔

زیادہ تر کیسز میں یہ علامات خود ختم ہو جاتی ہیں، مگر اگر یہ بار بار ہو یا ساتھ میں دیگر علامات ہوں تو پھر مزید ٹیسٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تشخیص کے لیے بچے کی مکمل ہسٹری اور جسمانی معائنہ ضروری ہوتا ہے۔ بعض اوقات دماغ کا سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی (CT /MRI) اور ای ای جی (EEG) بھی کرایا جاتا ہے تاکہ بنیادی مسئلے کو دیکھا جا سکے۔

علاج بنیادی طور پر وجہ پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر ما ئیگرین ہو تو اسکی کی دوائیں، اگر انفیکشن ہو تو اس کا علاج، اور اگر مرگی ہو تو مرگی کی دوائیں دی جاتی ہیں۔ بعض بچوں میں صرف نیند، خوراک اور روزمرہ کی عادات میں تبدیلی سے بھی بہت فرق آ جاتا ہے۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسی صورت میں خود سے تشخیص نہ کریں اور خود علاج نہ کریں۔ اگر بچے میں بصری تبدیلیاں یا عجیب احساسات ہوں تو چائلڈ نیورولوجسٹ سے ضرور رجوع کریں تاکہ درست تشخیص اور علاج ہو سکے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

بچے فطری طور پر بہت ایکٹو ہوتے ہیں، اسی وجہ سے گھر میں بستر، سیڑھیوں، فرنیچر یا چھت وغیرہ سے گرنے کے واقعات عام ہیں۔ گرن...
29/03/2026

بچے فطری طور پر بہت ایکٹو ہوتے ہیں، اسی وجہ سے گھر میں بستر، سیڑھیوں، فرنیچر یا چھت وغیرہ سے گرنے کے واقعات عام ہیں۔ گرنے کی صورت میں سب سے زیادہ تشویش سر پر لگنے والی چوٹ کی ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے زیادہ تر بچوں میں جسم کی لچک اور کھوپڑی کی ساخت کی وجہ سے سنگین چوٹ نہیں لگتی، لیکن بعض حالات میں سر کی چوٹ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ کن علامات کی موجودگی میں فوراً ایمرجنسی میں بچے کو دکھانا چاہیے۔

اس پوسٹ میں ہم ان خطرے کی علامات پر بات کریں گے جنہیں گھر پر گرنے کے بعد والدین کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ عمومی اصول یہ ہے کہ سر پر چوٹ لگنے کی صورت میں ہر بچے کو ماہرِ اطفال کو دکھانا بہتر ہوتا ہے، لیکن اگر درج ذیل میں سے کوئی علامت موجود ہو تو فوری ایمرجنسی چیک اپ ضروری ہے۔ ایسے کیسز میں میں خود بھی ہمیشہ چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کرتا ہوں تاکہ بچے کی دماغی حالت اور علامات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

اگر گرنے کے بعد بچے کو جھٹکے (fits) لگنا شروع ہو جائیں، بچے کا ہوش کم ہو جائے یا وہ غیر معمولی طور پر بے جان نظر آئے، بچے کے جسم کا کوئی حصہ کام نہ کرے یا سن ہو جائے، یا ایک سال سے کم عمر کے بچے میں سر پر پانچ سینٹی میٹر سے زیادہ نیل پڑ جائے یا کٹ لگ جائے، تو یہ خطرے کی علامات ہیں اور فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح اگر سر کو ہاتھ لگانے پر فریکچر محسوس ہو، یا ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں سر کا نرم حصہ (فونٹینیلا) ابھرا ہوا محسوس ہو، تو یہ بھی تشویشناک ہے۔ سر کی ہڈی کے فریکچر کی کچھ خاص نشانیاں بھی ہوتی ہیں، جیسے آنکھوں کے گرد نیلاہٹ، کان کے پیچھے نیلاہٹ، کان سے خون آنا، یا ناک سے صاف پانی جیسا مائع آنا۔ یہ علامات اس بات کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں کہ دماغ کو اندرونی چوٹ لگی ہے۔

اگر کسی بچے میں گرنے کے بعد مندرجہ بالا علامات موجود ہوں تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ بچے کو دماغی انجری ہوئی ہے، جو بعض اوقات جان لیوا بھی ہو سکتی ہے، جیسے دماغ کے اندر خون کی نالی کا پھٹ جانا۔ ایسے حالات میں ایمرجنسی میں دماغ کا سی ٹی اسکین کروانا ضروری ہو جاتا ہے۔

ان واضح علامات کے علاوہ کچھ اور نشانیاں بھی ہیں جو اگر ایک سے زیادہ اکٹھی نظر آئیں تو دماغی انجری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بچہ غیر معمولی غنودگی کا شکار ہو، تین یا اس سے زیادہ بار الٹی کرے، گرنے کے بعد پانچ منٹ یا اس سے زیادہ بے ہوش رہے، یا گرنے کے بعد پانچ منٹ سے زیادہ یادداشت متاثر رہے۔ اسی طرح اگر بچے کو خون جمنے کی کوئی بیماری ہو جیسے ہیموفیلیا، یا وہ خون پتلا کرنے والی دوائیں استعمال کر رہا ہو (جیسے ڈسپرین یا وارفرین)، تو معمولی چوٹ بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں والدین کے لیے یہی پیغام ہے کہ بچے کے گرنے کو کبھی بھی مکمل طور پر نظر انداز نہ کریں۔ بروقت پہچان اور صحیح وقت پر ایمرجنسی میں رجوع کرنا بچے کی جان بچا سکتا ہے۔ شک کی صورت میں انتظار کرنے کے بجائے فوراً ماہرِ اطفال یا ایمرجنسی سروس سے رابطہ کریں۔

ہمیشہ یاد رکھیں: اگر آپ کے بچے کو گرنے کے بعد کوئی غیر معمولی علامات محسوس ہوں تو خود تشخیص نہ کریں اور خود علاج شروع نہ کریں۔ ایسے کیسز میں ہمیشہ چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کریں۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

ہمارے کلینکس میں بہت سے ایسے بچے لائے جاتے ہیں جن کے بارے میں والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بول چال میں تاخیر ہے۔ حی...
27/03/2026

ہمارے کلینکس میں بہت سے ایسے بچے لائے جاتے ہیں جن کے بارے میں والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بول چال میں تاخیر ہے۔ حیرت انگیز طور پر، ان میں سے بہت سے کیسز میں وجہ کوئی بیماری نہیں ہوتی بلکہ ایک نہایت سادہ مگر نظر انداز کی جانے والی حقیقت ہوتی ہے، یعنی والدین کا بچوں کو مناسب وقت نہ دے پانا۔

اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ والدین مصروفیت کی وجہ سے بچے کو موبائل، ٹی وی یا کارٹون کے سامنے بٹھا دیتے ہیں اور خود اس سے بات چیت کم کر دیتے ہیں۔ بچے زبان اسکرین سے نہیں سیکھتے بلکہ انسانوں سے سیکھتے ہیں۔ جب ایسے بچوں کے والدین کو سمجھایا جاتا ہے کہ وہ روزانہ بچے کے ساتھ بات کریں، اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کریں، اس کے ساتھ کھیلیں اور اس کے الفاظ کو توجہ سے سنیں، تو بہت سے بچوں میں چند ہی ہفتوں یا مہینوں میں نمایاں بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے۔

زندگی کے پہلے دو سال بچے کی زبان، سمجھ اور شخصیت کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس دوران والدین کی آواز، لمس، توجہ اور وقت بچے کے دماغ کے لیے سب سے قیمتی محرک ہوتے ہیں۔ موبائل، ٹی وی اور کارٹون اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے، بلکہ بعض اوقات بول چال میں مزید تاخیر کا سبب بن جاتے ہیں۔

اس کے باوجود یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہر بولنے میں تاخیر کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر بچہ عمر کے مطابق الفاظ نہیں بول رہا، آوازوں پر ردِعمل کم ہے، یا بات چیت میں دلچسپی نہیں لیتا، تو صرف انتظار کرنے کے بجائے بروقت کسی ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بعض بچوں میں بولنے کی تاخیر کسی نیورولوجیکل، سماعت کے مسئلے یا نشوونما کے عارضے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

لہٰذا اگر آپ کو اپنے بچے کی بول چال کے بارے میں کوئی بھی تشویش ہو تو ضرور کسی مستند چائلڈ نیورولوجسٹ یا ماہرِ اطفال سے مشورہ کریں۔ بروقت تشخیص اور رہنمائی بچے کے مستقبل پر گہرے مثبت اثرات ڈال سکتی ہے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

چھوٹے بچوں کے لیے نیند کے ڈراپس کے حوالے سے والدین میں کافی سوالات اور الجھن پائی جاتی ہے، اس لیے اس موضوع کو سائنسی بنی...
25/03/2026

چھوٹے بچوں کے لیے نیند کے ڈراپس کے حوالے سے والدین میں کافی سوالات اور الجھن پائی جاتی ہے، اس لیے اس موضوع کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنا بہت ضروری ہے۔

میلاٹونن ایک قدرتی ہارمون ہے جو انسانی دماغ کے ایک نہایت چھوٹے مگر انتہائی اہم غدود پائنئیل گلینڈ سے خارج ہوتا ہے۔ یہ ہارمون ہمارے جسم کی قدرتی نیند اور جاگنے کے نظام، جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے، کو کنٹرول کرتا ہے۔ رات کے وقت میلاٹونن کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے دماغ کو یہ پیغام ملتا ہے کہ سونے کا وقت ہے، جبکہ دن کے وقت اس کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے۔

ادویاتی شکل میں دستیاب میلاٹونن، جیسے کہ اورل ڈراپس یا ٹیبلٹس، میں یہی ہارمون شامل ہوتا ہے اور اسے مخصوص حالات میں نیند کے مسائل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دوا بعض بڑے بچوں میں، خاص طور پر آٹزم یا اے ڈی ایچ ڈی کے شکار بچوں میں نیند کی خرابی کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بالغ افراد میں جیٹ لیگ یا شفٹ ورک کی وجہ سے نیند کے مسائل میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

جہاں تک نقصان یا سائیڈ ایفیکٹس کا تعلق ہے، بالغ افراد اور بڑے بچوں میں اس کے فوری طور پر کوئی خطرناک اثرات ثابت نہیں ہوئے۔ تاہم چھوٹے بچوں، خاص طور پر نوزائیدہ اور کم عمر شیرخوار بچوں میں اس کے طویل مدتی اثرات کے بارے میں تحقیق ابھی محدود ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ طویل عرصے تک میلاٹونن دینے سے بچوں کے ہارمونل یا تولیدی نظام پر اثر پڑ سکتا ہے، لیکن اس حوالے سے حتمی سائنسی ثبوت ابھی موجود نہیں۔

اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دو یا تین ماہ کے بچے کو نیند کے لیے میلاٹونن ڈراپس دی جا سکتی ہیں۔ سائنسی طور پر یہ بات واضح ہے کہ زندگی کے ابتدائی چند مہینوں میں بچے کا نیند اور جاگنے کا قدرتی نظام ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتا۔ اس عمر میں بچے کے دماغ کو دن اور رات کا واضح فرق سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ ایسے میں میلاٹونن دینا نہ صرف غیر ضروری ہوتا ہے بلکہ قدرتی عمل میں مداخلت بھی سمجھا جاتا ہے۔

بچوں میں نیند کے مسائل کی صورت میں سب سے پہلا اور اہم قدم غیر دوائی طریقے اختیار کرنا ہے۔ رات کے وقت روشنی کم رکھنا، شور شرابے سے بچنا، ٹی وی اور موبائل اسکرین بند کرنا، سونے کا ایک باقاعدہ وقت مقرر کرنا اور والدین کا خود پرسکون رہنا بچے کی نیند میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہی اقدامات کافی ثابت ہوتے ہیں۔

اگر ان تمام تدابیر کے باوجود نیند کا مسئلہ برقرار رہے، یا بچہ کسی مخصوص طبی مسئلے کا شکار ہو، تو اس صورت میں صرف ماہرِ اطفال یا چائلڈ نیورولوجسٹ کے مشورے سے دوا کے استعمال پر غور کیا جانا چاہیے۔ خود سے یا سوشل میڈیا کے مشوروں پر کسی بھی دوا کا آغاز کرنا بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

آخر میں یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ یہ تحریر صرف معلومات اور آگاہی کے لیے ہے۔ کسی بھی بچے کے لیے دوا شروع کرنے یا بند کرنے کا فیصلہ ہمیشہ مستند ڈاکٹر کے معائنے اور مشورے کے بعد ہی ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

25/03/2026

Approach to pediatric CNS demyelinating disorders

Dr Arshad Mehmood
Consultant child Neurologist
Fatima memorial hospital, Lahore

23/03/2026

حال ہی میں ایک نوزائیدہ بچے کو کلینک لایا گیا۔ والدین بہت زیادہ پریشان تھے اور ان کا خیال تھا کہ بچے کو مرگی کے جھٹکے پڑ رہے ہیں، کیونکہ نیند کے دوران بچے کے بازوؤں اور ٹانگوں میں بار بار جھٹکے آ رہے تھے۔ جب بچے کا معائنہ کیا گیا تو یہ بات واضح ہوئی کہ یہ حرکات صرف نیند کے دوران ہو رہی تھیں، جیسے ہی بچے کو جگایا گیا تو یہ جھٹکے فوراً ختم ہو گئے، اور بچہ جاگتی حالت میں بالکل نارمل، ہوش میں اور فعال تھا۔ بچے کی عمومی نشوونما، دودھ پینا اور رویہ سب ٹھیک تھا۔ اس پر والدین کو تفصیل سے سمجھایا گیا اور ان کی تشویش دور کی گئی۔

یہ کیفیت جس میں نوزائیدہ بچوں کو صرف نیند کے دوران جھٹکے آتے ہیں، بینائن نیونیٹل سلیپ مائیوکلونس کہلاتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک عارضی اور بے ضرر کیفیت ہے جو اکثر زندگی کے ابتدائی ہفتوں یا مہینوں میں نظر آتی ہے اور وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ دیکھنے میں خوفناک لگ سکتی ہے لیکن اس سے بچے کے دماغ یا مستقبل کی نشوونما کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ والدین خود سے یہ فیصلہ نہ کریں کہ بچے کو جھٹکے نارمل ہیں یا بیماری کی علامت ہیں۔ یہ تحریر صرف آگاہی کے لیے ہے، تشخیص کے لیے نہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں کچھ غیر معمولی حرکات واقعی نارمل ہوتی ہیں، لیکن کچھ صورتوں میں یہی حرکات مرگی یا کسی اور اعصابی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہیں۔

جب بھی کسی بچے میں غیر معمولی حرکت، جھٹکے یا جسم کی سختی محسوس ہو تو بہتر ہے کہ اس کی ویڈیو بنا لی جائے اور کم از کم ایک مرتبہ ضرور چائلڈ نیورولوجسٹ کو دکھایا جائے، تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ یہ جھٹکے مرگی کے دورے نہیں ہیں۔ خود سے تشخیص کرنا یا صرف تسلی پر چھوڑ دینا بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

بروقت ماہرِ اطفال یا چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع والدین کو غیر ضروری خوف، غلط علاج اور بچے کو غیر ضروری دواؤں سے بچا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

گاؤں کی مٹی میں ایک انوکھا سکون ہے 🌾آپ سب کو عید کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ❤️
21/03/2026

گاؤں کی مٹی میں ایک انوکھا سکون ہے 🌾
آپ سب کو عید کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ❤️

بچوں میں سر درد ایک عام مسئلہ ہے اور زیادہ تر صورتوں میں یہ کسی معمولی اور بے ضرر وجہ سے ہوتا ہے، جیسے نیند کی کمی، پانی...
20/03/2026

بچوں میں سر درد ایک عام مسئلہ ہے اور زیادہ تر صورتوں میں یہ کسی معمولی اور بے ضرر وجہ سے ہوتا ہے، جیسے نیند کی کمی، پانی کم پینا، زیادہ اسکرین ٹائم، امتحانی دباؤ، ذہنی تناؤ یا کھانا وقت پر نہ کھانا۔ ایسے سر درد عموماً وقتی ہوتے ہیں اور آرام، مناسب نیند اور روزمرہ روٹین بہتر بنانے سے خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

لیکن بچوں میں سر درد کی ایک اہم وجہ مائیگرین بھی ہو سکتی ہے۔ مائیگرین دماغ کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دماغ کے اعصاب غیر معمولی طور پر حساس ہو جاتے ہیں،دماغ میں خون کی نالیاں پھول جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید سر درد کے دورے پڑتے ہیں۔ عام طور پر اسے بڑوں کی بیماری سمجھا جاتا ہے مگر یہ بچوں میں بھی ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ کم عمری میں بھی، اور اکثر خاندان میں اور لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

بچوں میں مائیگرین کی مختلف
علامات ہو سکتی ہیں۔ بعض بچوں میں سر کے ایک طرف درد ہوتا ہے جبکہ بعض میں پورے سر میں۔ درد کے ساتھ متلی، قے، روشنی یا آواز سے بے چینی، تھکن، چڑچڑاپن اور درد کے دوران لیٹ جانے کی خواہش ہو سکتی ہے۔ چھوٹے بچے اپنے درد کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے، اس لیے وہ خاموش ہو جاتے ہیں، کھیل چھوڑ دیتے ہیں یا رونے لگتے ہیں۔ ایسے بچے اکثر اسکول میں توجہ نہیں دے پاتے اور ان کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔

جب بچے کو مائیگرین کا دورہ پڑے تو فوری طور پر اسے پرسکون اور خاموش ماحول فراہم کرنا چاہیے۔ لائٹ بند کر کے بچے کو پرسکون جگہ پر لٹائیں، پانی پلائیں اور موبائل یا ٹی وی سے دور رکھیں۔ ہلکے یا درمیانے درجے کے درد میں سادہ درد کی ادویات، جیسے پیراسیٹامول یا آئبوپروفن، ڈاکٹر کے مشورے سے دی جا سکتی ہیں۔ ہر سر درد پر یا بار بار خود سے دوا دینا درست نہیں کیونکہ اس سے سر درد مزید بڑھ سکتا ہے اور دوا کے عادی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

یہ جاننا بھی والدین کے لیے بہت ضروری ہے کہ اگر بچے کو سر درد بہت زیادہ بار بار ہونے لگے، اگر درد کے دورے بہت لمبے ہو جائیں، یا اگر سر درد بچے کی روزمرہ زندگی، اسکول حاضری، پڑھائی یا کھیل کود کو واضح طور پر متاثر کرنے لگے، تو صرف وقتی درد کی ادویات کافی نہیں ہوتیں۔ ایسی صورت میں ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ کی نگرانی میں روٹین کے ساتھ روزانہ دوائ دی جاتی ہے۔ اسکا مقصد سر درد کے دوروں کی تعداد، شدت اور مدت کو کم کیا جا سکے۔ یہ دوائیں مہینوں تک دی جا سکتی ہیں اور ہر بچے کے لیے دوا کا انتخاب اس کی عمر، وزن اور علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یہ علاج ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی شروع اور بند کیا جانا چاہیے۔

مائیگرین کے علاج میں دوا کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی میں بہتری نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچے کو روزانہ مناسب اور وقت پر نیند دینی چاہیے، کھانے کے اوقات باقاعدہ ہونے چاہئیں اور دن میں مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ روزانہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی، کھیل کود اور اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا مائیگرین کے دوروں کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ والدین اگر سر درد کی ایک سادہ ڈائری رکھیں، جس میں درد کا وقت، دورانیہ اور ممکنہ وجہ نوٹ کریں، تو علاج میں بہت آسانی ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس، بچے کو دیر تک جاگنے، کھانا چھوڑنے، بہت زیادہ موبائل یا ٹی وی دیکھنے، فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور کیفین والی اشیاء کے زیادہ استعمال سے بچانا چاہیے۔ ہر سر درد پر فوراً دوا دینا یا بغیر مشورے کے مختلف دوائیں آزمانا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بچے کے سر درد کو لاپرواہی یا بہانہ سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ بروقت تشخیص سے بچے کی زندگی کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اگر بچے کو سر درد کے ساتھ بار بار قے ہو، نظر کا مسئلہ ہو، جسم کے کسی حصے میں کمزوری آئے، دورے پڑیں، یا اس کی پڑھائی اور رویے میں واضح تبدیلی آ جائے، تو فوراً ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ درست ہسٹری، مکمل معائنہ اور ضرورت پڑنے پر مناسب ٹیسٹس کے ذریعے ہی بہترین علاج کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

صحیح تشخیص، مناسب علاج اور والدین کے تعاون سے مائیگرین ایک قابلِ کنٹرول مسئلہ ہے، اور زیادہ تر بچے ایک نارمل، فعال اور خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

19/03/2026

Febrile seizures and EEG

Dr Arshad Mehmood
Consultant Child Neurologist
Fatima Memorial Hospital Lahore

ہم روزمرہ پریکٹس میں ہکلانے یا اٹک کر بولنے والے بہت سے بچوں کو دیکھتے ہیں۔ اکثر بچوں میں یہ مسئلہ عارضی ہوتا ہے اور چند...
18/03/2026

ہم روزمرہ پریکٹس میں ہکلانے یا اٹک کر بولنے والے بہت سے بچوں کو دیکھتے ہیں۔ اکثر بچوں میں یہ مسئلہ عارضی ہوتا ہے اور چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر خود بخود بہتر ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب بچے کو پرسکون ماحول، وقت اور اعتماد دیا جائے۔ ایسے زیادہ تر بچوں میں کسی دوا یا خاص علاج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم کچھ بچوں میں اگر وقت کے ساتھ بہتری نہ آئے، ہکلانا بڑھتا جائے یا بچے کی روزمرہ زندگی، اسکول یا اعتماد پر اثر انداز ہونے لگے تو ایسے بچوں کو اسپیچ تھراپسٹ کے پاس ریفر کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

ہکلانا، اٹک کر بولنا یا رک رک کر بات کرنا ایک پیچیدہ مگر عام مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں بچوں اور بڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے بارے میں معاشرے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جو نہ صرف مسئلے کی درست سمجھ میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ متاثرہ بچے کے اعتماد کو بھی مجروح کر سکتی ہیں۔ سائنسی طور پر یہ بات واضح ہے کہ ہکلانے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ جینیاتی، نیورولوجیکل اور ماحولیاتی عوامل کے امتزاج سے ہو سکتا ہے۔

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہکلانا والدین کی تربیت یا سختی کی وجہ سے ہوتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہکلانے کی جڑیں اکثر جینیاتی ہوتی ہیں۔ اگر خاندان میں کسی فرد کو ہکلانے کا مسئلہ رہا ہو تو بچے میں اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح یہ خیال بھی درست نہیں کہ ہکلانا ذہانت یا جذباتی کمزوری کی علامت ہے۔ ہکلانے والے بچے عموماً نارمل یا حتیٰ کہ غیر معمولی طور پر ذہین ہوتے ہیں۔

یہ بھی ایک عام تاثر ہے کہ ہکلانا ایک نفسیاتی بیماری ہے، جبکہ تحقیق بتاتی ہے کہ یہ بولنے سے متعلق دماغی نیٹ ورک کی فعالیت میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ہکلانے کی وجہ سے گھبراہٹ یا شرمندگی پیدا ہو سکتی ہے، جس پر توجہ دینا علاج کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ ہکلانے کا ذہانت سے کوئی تعلق نہیں، اور دنیا کی کئی کامیاب شخصیات اس کی واضح مثال ہیں۔

اسی طرح دو زبانیں سیکھنے سے ہکلانا ہونے کا تصور بھی درست نہیں۔ اگرچہ دو لسانی بچوں میں بولنے کا انداز مختلف ہو سکتا ہے، لیکن یہ ہکلانے کی وجہ نہیں بنتا۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہکلانا مکمل طور پر ناقابلِ علاج نہیں۔ بروقت اسپیچ تھراپی، رویّاتی تھراپی اور درست رہنمائی سے ہکلانے میں واضح بہتری لائی جا سکتی ہے۔

سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ ہکلانا کسی کی غلطی نہیں۔ نہ یہ بچے کی کوتاہی ہے اور نہ والدین کی ناکامی۔ ایسے بچوں کو دباؤ، ٹوکنے یا بار بار درست کرنے کے بجائے صبر، حوصلہ افزائی اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب ریفرل بچے کی بول چال، خود اعتمادی اور مستقبل کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ
چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور

Address

Lahore

Telephone

+923436883859

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Arshad Mehmood - Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category