02/04/2026
ایک 7 سالہ بچی کو والدین ھماری نیورولوجی او پی ڈی میں لے کر آئے۔ والدین کافی پریشان تھے کیونکہ بچی کا رویہ کچھ عرصے سے عجیب سا ہو گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بچی اکثر دھوپ میں سورج کی طرف مسلسل دیکھتی رہتی ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے انگلیاں ہلاتی رہتی ہے۔ ان لمحوں میں وہ کچھ سیکنڈز کے لیے اردگرد سے بے خبر ہو جاتی ہے، آواز دینے پر جواب نہیں دیتی، اور پھر اچانک بالکل نارمل ہو جاتی ہے۔ بعد میں اسے خود یاد بھی نہیں ہوتا کہ ابھی کیا ہوا تھا۔
ابتدا میں والدین کو لگا کہ شاید یہ صرف ایک عادت یا کھیل ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ کیفیت بڑھنے لگی، خاص طور پر باہر کھلی دھوپ میں۔ خود بچی نے بتایا کہ اسے انگلیوں کے ساتھ روشنی کو دیکھنا اچھا لگتا ہے، اور اسے لگتا ہے جیسے روشنی ناچ رہی ہو۔ اساتذہ نے بھی سکول میں نوٹس کیا کہ بچی کبھی کبھی کلاس کے دوران اچانک “کھو سی جاتی ہے” اور چند لمحوں بعد دوبارہ توجہ دینے لگتی ہے۔
یہ تمام علامات ایک خاص اور نایاب قسم کی مرگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے سن فلاور سنڈروم کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جیسے سورج مکھی کا پھول سورج کی طرف رخ کرتا ہے، اسی طرح اس کیفیت میں مبتلا بچے روشنی، خاص طور پر سورج کی تیز روشنی، کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔
اس بیماری میں عام طور پر بچے سورج کی طرف دیکھتے ہیں، آنکھوں کے سامنے ہاتھ یا انگلیاں ہلاتے ہیں، اور اسی عمل سے اُن میں دورہ خود ہی شروع ہو جاتا ہے۔ یہ دورے زیادہ تر چند سیکنڈز کے ہوتے ہیں، جن میں بچہ وقتی طور پر بے خبر ہو جاتا ہے، بالکل ایبسنس فٹس کی طرح۔ تیز روشنی اس بیماری کا سب سے بڑا محرک ہوتی ہے۔
ایسے بچوں میں درست تشخیص بہت ضروری ہوتی ہے۔ عام طور پر دماغ کا ای ای جی ٹیسٹ کروایا جاتا ہے، خاص طور پر روشنی دے کر (فوٹک اسٹیمولیشن کے ساتھ)، تاکہ بیماری کی تصدیق ہو سکے۔ علاج کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی بہت اہم ہے، جیسے تیز دھوپ سے بچاؤ، باہر جاتے وقت ٹوپی یا سن گلاسز کا استعمال، اور روشنی کے سامنے جان بوجھ کر ایسے حرکات نہ کرنا۔ بعض کیسز میں مخصوص دوائیں بھی دی جاتی ہیں جو دوروں کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
والدین کے لیے یہ پیغام بہت اہم ہے کہ ایسی حرکات کو صرف عادت یا شرارت سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ اگر بچہ بار بار روشنی کی طرف دیکھے، انگلیاں ہلائے اور ساتھ بے خبری کے دورے ہوں، تو خود تشخیص کرنے کے بجائے لازمی طور پر ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کریں۔ بروقت پہچان اور درست علاج سے بچے کی زندگی بالکل نارمل رکھی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ
ایگزیکٹو کلینک، فاطمہ میموریل ہسپتال، لاہور