16/01/2026
آج شیئر ہونے والی حدیث سے متعلق ایک سوال کا جواب
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
استاذ محترم امید ہے آپ اللّٰہ پاک کے فضل و کرم سے بخیر و عافیت ہونگے ۔انشا اللّٰہ
معلوم یہ کرنا تھا کہ کچھ فقیر بھی جو کہ ہٹے کٹے ھوتے ہیں مگر کوئی کام کاج بھی نہیں کرتے اور بس اللّٰہ کے نام سے مانگ لوگوں سے مانگ کر گزارا کرتے ہیں اور اچھا خاصا کما لیتے ہیں ایسے افراد کے لیے کیا حکم ہے براہ کرم راہنمائی فرمایۓ ۔
جزاک اللہ خیرا
وعلیکم السلام
یہ ایک حدیث ہے۔ دین کے کسی بھی حکم کو سمجھنے کے لیے اس سے متعلق تمام نصوص کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ہم سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ نبی ﷺ کی عملی سنت یہ تھی کہ
کبھی مانگنے والے کو دیتے تھے
کبھی دعا دے کر رخصت فرماتے
اور کبھی محنت کی طرف رہنمائی فرماتے۔
ایک شخص کو سوال سے روک کر کلہاڑی لا کر کام پر لگایا۔ یہ بھی سنت ہے۔
یہ بھی حدیث میں ہے کہ آپ نے سوال کرنے والے کو باقاعدہ منع کیا کہ سوال کرنے سے بہتر ہے محنت مزدوری کریں۔
اس لیے اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص واقعی میں محتاج ہو اور دینے والے کے پاس استطاعت ہو اور پھر بھی کچھ مدد بھی نہ کرے تو یہ حکم ہوگا۔ بصورت دیگر ایسا نہیں۔
جہاں تک پیشہ ور بھکاریوں کی بات ہے تو ان کو دینے سے منع کیا گیا ہے۔ ان کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے اور ان کو قانون کے شکنجے میں دینا چاہیے۔